Ayah 57:20[ 75] دنیاوی زندگی محض ایک کھیل، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہء حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ دنیاوی زندگی محض، ایک کھیل اور تماشہ ہے۔ لعب [ کھیل ] اصل میں اس عمل کو کہتے ہیں جس میں انسان کو اپنی تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہ ہو [ خازن، مدارک، صفوہ اور مراعی وغیرہ ] جیسے چھوٹے بچے مختلف قسم کے کھیل کھیلتے ہیں جن سے وقت کے ضیاع اور جسمانی تھکان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، سو اسی طرح ابناء دنیا جو دنیا ہی کے لئے جیتے ہیں وہ دنیا جوڑنے اور جمع کرنے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں، مگر آخر کار جب یہ یہاں سے جائیں گے تو خالی ہاتھ جائیں گے، سب کیا کرایا، اور جوڑا بنایا، یہیں رہ جائے گا، اور فرصت عمر کی جو نعمت اور پونجی ان کو درحقیقت آخرت ہی کے بنانے کے لئے دی گئی تھی اس کو ان لوگوں نے دنیا کے متاع فانی اور اس کے حطام زائل کے جوڑے بنانے میں ضائع کردیا ہوگا، جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی سو یہی ہے خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
[ 76] متاع دنیا محض ایک لہو اور تماشا، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی محض ایک کھیل اور تماشہ ہے۔ لہو دراصل ہر ایسے مشغلے کو کہتے ہیں جو کسی کو اس کے اصل مقصد سے غافل کردے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، جیسا کہ سکول جاتے کوئی بچہ کسی مداری کا کھیل دیکھنے میں مصروف ہو کر سکون جانے کے اپنے اصل مقصد کو بھول جائے، پس اسی طرح یہ دنیا اور اس کا متاع فانی ہے جو کہ انسان کو اپنے رب کی یاد اور دارآکرت سے غافل کردیتی ہے، جو کہ اس کا اصلی حقیقی اور دائمی گھر ہے، سبحان اللّٰہ ! ایمان اور اہل ایمان کے زاویہء نگاہ کی وسعتوں کے کیا کہنے ؟ کہ وہ دنیا جو کہ ابناء دنیا کے لئے منتہاء مقصود ہے، ایک مومن صادق کے نزدیک اس پوری دنیا کی حیثیت و حقیقت ایک کھیل تماشا سے زیادہ کچھ نہیں، بلکہ اس کے سامنے اصل مقصود اور حدف آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کی کامیابی ہے، اور دنیا کی یہ زندگی اس کو دراصل آخرت کی کمائی ہی کیلئے دی گئی ہے، سو دنیاوی زندگی ایک عارضی اور فانی زندگی ہے جس کی بہار بھی عارضی اور فانی، اور اس کی خزاں بھی عارضی اور فانی، جس کو ایک تنگ ظرف انسان اپنی تنگ ظرفی کی بنا پر اپنا مصمح نظر اور منتہائے مقصود بنا لیتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ آخرت کی اپنی اصل منزل کو بھول کر ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے جو کہ سب سے بڑا اور خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال،
[ 77] دنیاوی زندگی سامان زیب وزینت اور بس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی محض زیب وزینت کا سامان ہے۔ جس سے فرزندان دنیا اپنی تسکین کا سامان کرتے، اور اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں، کہ اچھے سے اچھا لباس، عمدہ سے عمدہ مکان، اور زیادہ سے زیادہ اسباب راحت حاصل کیے جاس کیں اور بس، اور اس تگ و دو اور دوڑ دھوپ میں لگ کر وہ آخرت کی اپنی اصل حقیقی اور ابدی منزل کو بھول جاتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ۔ جبکہ پیغمبر فرماتے ہیں مجھے اس دنیا سے کیا لگے، میری مثال تو اس مسافر کی سی ہے جس نے کسی درخت کے نیچے کچھ آرام کیا اور پھر اٹھ کر چل دیا، لیکن ابنائے دنیا آج بھی دنیا کو اس کے مادی پہلو اور وقتی فوائد و منافع کے اعتبار ہی سے منتہائے مقصود بنائے ہوتے ہیں اور دن رات معیار زندگی [ Standard of living ] اپ کرنے کے نام و عنوان اور ایسے خوشنما الفاظ و کلمات سے اسی کے لیے تحریض و ترغیب کے لیے لگے رہتے ہیں اور اپنی آخرت کے تقاضوں سے غافل و لاپرواہ ہیں۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین، یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 78] ابناء دنیا کی روش تفاخر و تکاثر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتلانا، اور تکاثر میں مبتلا ہونا ہے، نیز اپنی بڑائی ظاہر کرنا اپنے حسب و نسب اور مال وغیرہ میں، اور اسی میں مست مگن ہو کر ابناء دنیا اپنی آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں، اور یہی بیماریوں کی بیماری اور خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو اس سے زرپرست دنیا داروں کو یہ بتانا مقصود ہے اور ان کیلئے اس میں یہ تنبیہ اور تذکیر ہے کہ دنیاوی زندگی ہی کو اصل مقصد بنادینا اور اسی میں الجھ کر رہ جانا کوئی خوش انجام سرگرمی نہیں، یہ محض دھوکے کا سامان ہے اس کی مثال تو اس کھیتی کی سی ہے جو چند دن لہلہانے اور کسانوں کا دل لبھانے کے بعد چورا چورا ہو رک خم ہوجاتی ہے، اور پھر تم لوگوں کو آخرت میں دوبارہ اٹھ کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اسکا صلہ وبدلہ پانا ہے، سو تنگ ظرف انسان اپنی تنگ ظرفی اور کوتاہ نظری کی بنا پر ایک طرف تو متاع دنیا اور اس کی زیب وزینت اور ٹیپ ٹاپ کو اصل چیز سمجھ کر اپنی آخرت کو بھول جاتا ہے، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، اور دوسری طرف اس دنیاوی مال و متاع کی بنا پر کبر و غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق بات کو سننے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا جس سے وہ نور حق و ہدایت سے محروم سے محروم تر اور دور سے دور تر ہوتا چلا جاتا ہے، اور ایسا اور اس طور پر کہ اس کو اپنی اس محرومی اور حرمان نصیبی کا احساس تک نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں وہ خسارہ در خسارہ اور ہلاکت در ہلاکت کے ہولناک گڑھے میں گر جاتا ہے اور پھر وہ مزید از مزید گرتا چلا جاتا ہے مگر اس کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں ہوتا۔ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم جل وعلا،
[ 79] متاع دنیا کی فنا و بےثباتی کی مثال :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے بارش سے اگنے والی پیداوار جو دل موہ لیتی ہے کافروں کے۔ کفار جمع ہے کافر کی جس کے معنی منکر حق کے ہوتے ہیں اور اس کا اطلاق بطور مجاز کسان [ زراع ] پر بھی ہوتا ہے کیونکہ کفر کے اصل معنی چھپانے اور پوشیدہ رکھنے کے ہوتے ہیں، اور کسان بھی چونکہ بیج کو زمین میں چھپاتا ہے اس لئے اس کو بھی کافر کہا جاتا ہے، اس لئے یہاں پر " کفار " کے معنی عام طور پر زُرّاع ہی کے کیے گئے ہیں، یعنی کسان، لیکن ہم نے یہاں پر لفظ " کفار " کو اپنے ظاہرہی پر رکھا ہے، ایک تو اس لئے کہ یہاں پر اس لفظ کے استعمال سے ایک خاص معنی و مفہوم کا افادہ مقصود ہے، جو " زراع " کے لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا، اسی لئے یہاں پر " زُرّاع " نہیں " کفار " فرمایا گیا ہے، حالانکہ " زُرّاع " بھی عربی زبان کا لفظ ہے، اور دوسرے مقام پر اس لفظ کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے، سو اس کے باوجود " زُرّاع " کی بجائے جو کفار کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہاں پر ایک خاص معنی اور مفہوم ادا کرنا مقصود ہے اس لئے یہاں پر اس لفظ کو اپنے ظاہر پر رکھنا ہی بہتر ہے، اور دوسرے اس لئے کہ اس صورت میں تمثیل کے معنی مقصود کی توضیح اور زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے، کیونکہ دنیا کی چمک دمک پر یہ فریفتگی کفار و منکرین میں ہی زیادہ پائی جاتی ہے، کیونکہ ان کی نظروں میں دنیا ہوتی ہے، جبکہ ایماندار کسان کی شان یہاں بھی علیحدہ اور ممتاز ہوتی ہے، بہرکیف اس تمثیل سے دنیا کی بےثباتی آشکار ہوجاتی ہے، جس کیلئے یہاں پر یہ مثال بیان فرما دی گئی ہے۔ جس سے ان لوگوں کا خسارہ واضح ہوجاتا ہے جو اسی دنیا کو اپنا اصل مقصود اور معبود قرار دیتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 80] دنیا کے انجام کی مثال کھیتی کی طرح :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بارش سے اگنے والی وہ کھیتی اول تو اپنی سرسبزی اور شادابی سے کفار کے دل موہ لیتی ہے لیکن پھر وہ زرد پڑ کر بالآخر پورا چورا ہوجاتی ہے، پس سو اسی طرح یہ دنیا، اور اس کی یہ چمک دمک، سب کچھ عارضی فانی اور چند روزہ ہے، پس اس میں لگ کر اور اس کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی آخرت اور اس کی حقیقی اور ابدی زندگی کو کبھی فراموش نہیں کرنا یہ بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور تنبیہ وتحذیر کے اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر اور بیان فرمایا گیا ہے۔ { ان وعد اللّٰہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللّٰہ الغرور۔ } [ لقمٰن :33 پ 21] اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دنیا کی اس دھوکہ دہی سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ جس دنیاوی زندگی اور اس کی چمک دمک پر ابناء دنیا پھولے نہیں سماتے، اور اسی کو انہوں نے قبلہء توجہ اور منتہائے مقصود بنا رکھا ہے، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک اچھی بارش ہوجائے جس سے فصل لہلہا اٹھے اور اس کو دیکھ کر ناشکرے لوگ پھولے نہ سمائیں، لیکن وہ کچھ ہی دنوں کے بعد سوکھ کر زرد ہوجائے اور پھر چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجائے، سو یہی حشر تم لوگوں کی ان سرگرمیوں کا ہونے والا ہے اے منکرو، اور غافلو، جو تم لوگ اس دنیا کو حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کیلئے کر رہے ہو، ان میں سے کوئی بھی چیز نہ باقی رہنے والی ہے، اور نہ تمہارے ساتھ قبر میں جانے والی ہے، کہ وہاں کام آنے والی چیز اپنا ایمان و عمل و کردار ہی ہے۔ سو مومن کیلئے اصل میدان مسابقہ یہی ہے، یعنی اعمال تکبیر وفی ذلک فلینافس المتنافسون بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں کی کامیابی اصل کامیابی ہے، اور وہاں کا عذاب بھی بڑا سخت عذاب ہے اور انتہائی ہولناک۔ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اپنی زندگی کفر و باطل اور معاصی وذنوب کے اندھیروں میں گزرای ہوگی، والعیاذ باللّٰہ، یعنی تم لوگوں نے تو اپنی نادانی سے دنیا کی اس فانی زندگی اور اس کی عارضی اور وقتی لذتوں ہی کو اپنا اصل مقصود بنادیا، تم نے اور اپنی تمام مساعی کا حاصل اور محور اسی کو قرار دے دیا، لیکن یہ سب سرمایہ غرور، اور دھوکے کا سامان ہے، جبکہ اصل چیز آخرت ہے، اور وہاں پر ان دو میں سے ایک سے ضرور سابقہ پیش آنا ہے، منکروں اور سرکشوں کیلئے عذاب شدید، اور مومنوں اور اطاعت گزاروں کیلئے مغفرت و رضوان۔ سو کامیابی اور ناکامی کے دونوں راستے اور ان کے انجام تمہارے سامنے رکھ دیے گئے۔ اس کی روشنی میں ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کس راستے پر گامزن ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
[ 81] اصل چیز بخشش و رضائے خداوندی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت میں بڑا سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور رضاء خوشنودی بھی۔ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اپنی دینوی زندگی اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کی طلب و تلاش میں گزاری ہوگی، اور انہوں نے ادنیا کے مطامع اور وقتی ملذات و منافع کو قربان کرکے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش اور اس کی رضاو خوشنودی کے حصول کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین قرار دیا ہوگا، سو ایسے خوش نصیب اپنے رب کی طرف سے ایسے سرفراز ہوں گے، اور ان کو حقیقی اور دائمی کامیابی نصیب ہوگی، وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم و بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے جو کہ حقیقی بھی ہے اور ابدی بھی، جہاں کے فوائد و منافع بھی عظیم اور مستقل ہیں، اور مضارو نقصانات بھی عظیم اور مستقل ہیں۔ سو جس کو وہاں پر اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش اور خوشنودی نصیب ہوگئی اس کو وہ ابدی، حقیقی، اور دائمی کامیابی نصیب ہوگئی جس کے سامنے دنیا ساری کی نعمت اور حکومت بھی صفر ہے اور جو وہاں کے اس عذاب شدید میں گرفتار ہوگیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ وہ سب سے بڑے خسارہ والا ہے، اگرچہ وہ دنیا بھر کی دولت کا مالک کیوں نہ رہا ہو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ آخرت کی کامیابی ہی کو اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنایا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق۔
[ 82] دنیاوی زندگی محض دھوکے کا سامان۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور نفی و اثبات کے اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ پس جس طرح کھوٹے مگر بظاہر چمکیلے سامان سے مشتری کو دھوکہ لگ جاتا ہے، اور وہ اپنی پونجی اس کے عوض لٹا بیٹھتا ہے اسی طرح اہل دنیا دنیاوی زندگی کی چمک دمک اور اس کی ریل پیل میں پھنس کر آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں سے غافل ہو کر متاع دنیا کے حطام فانی و زائل کو ہی اپنا مقصد حیات اور مطمح نظر بنا لیتے ہیں، اور حیات مستعار کی فرصت محدود کو اسی میں گنوا کر، ابناء و دنیا ہمیشہ کے اس سب سے بڑے اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، اور یہ ایسا خسارہ ہے کہ جس کی پھر تلافی وتدارک بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، مگر واضح رہے کہ دنیا کی یہ حقارت اور ذلت اسی صورت میں ہے جبکہ یہ آخرت سے غفلت کا باعث بنے ورنہ یہ تو آخرت کی کامیابی وفائز المرامی سے سرفرازی کا وسیلہ و ذریعہ ہے چناچہ حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دنیا اگر تم کو طلب آخرت سے روکے تو یہ متاع غرور یعنی دھوکے کا سامان ہے، لیکن اگر یہ طلب آخرت اور رضا الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنے تو پھر یہ بڑا عمدہ متاع اور بہترین وسیلہ ہے " فنعم المتاع ونعم الوسیلہ " [ التفسیر الکبیر وغیرہ ] اللہ ہمارے لیے اس دنیا کو ایسا ہی بنائے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رہنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین ویاکرم الاکرمین،
Ayahs 57:21–22[ 83] اصل میدان مسابقہ کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگو دوڑ وتم سب اپنے رب کی بخشش کی طرف یعنی ان اعمال کی طرف جو کہ تمہارے رب کی بخشش کا ذریعہ اور اس کی جنت کا سبب ہیں، کہ باہمی مسابقے اور مقابلے کا اصل میدان اور اصل چیز دراصل یہی ہے، نہ کہ دنیا کا وہ متاع فانی و زائل جس کو ابناء دنیانے سب کچھ رکھا ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو اہل کفر و باطل کے سامنے تو دنیا ہی دنیا اور اس کے وقت مفادات اور عارضی منافع و ملذات ہیں، لیکن اہل ایمان کا مقصد اور نصب العین جنت اور آخرت ہی ہونا چاہئے، وباللہ التوفیق۔ سو آخرت سے منہ موڑ کر اور اس کے تقاضوں سے آنکھیں بند کرکے صرف دنیا کے وقتی اور عارضی فائدوں کیلئے جینا اور انہی کو اپنا نصب العین اور مطمح نظر بنا لینا بڑی محرومی اور ہولناک خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 84] جنت کی عظمت شان و ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور دوڑو تم لوگ اس عظیم الشان جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے برابر ہے۔ اور جس کی چوڑائی اس قدر ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی مجموعی وسعت کے برابر ہے، تو پھر اس کی لمبائی جو کہ چوڑائی سے زیادہ ہی ہوتی ہے وہ کس قدر ہوگی ؟ اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے اور جس کا طول و عرض یہ ہوگا اس کی حقیقت و عظمت کے کہنے ہی کیا، سو اصل جدوجہد اور کوشش و محنت آخرت کی کامیابی، اور جنت کے حصول کیلئے کرنی چاہئے، اللہ نصیب فرمائے، آمین، سو عقل سلیم اور فطرت مستقیم دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اسی جنت کے حصول کو اپنا اصل نصب العین اور حقیقی مطمع نظر بنائے، اور دنیا بقدر ضرورت و کفایت حاصل کرے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کامیاب ہوگیا وہ انسان جو اسلام لایا اور اس کو کفایت و ضرورت کے مطابق روزی بھی مل گئی اور اس کو اللہ کے دیے پر قناعت بھی حاصل ہوگئی [ قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللّٰہ بما آتاہ ] اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 85] جنت کی تیاری اہل ایمان ہی کیلئے :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو تیار کیا گیا ہے ایمان والوں کیلئے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جنت مخلوق اور موجود ہے، کیونکہ اس کے لئے یہاں پر " اعدت " ماضی مجہول کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا معنی اور ترجمہ ہے کہ اسے تیار کرلیا گیا ہے، سو وہ تیار اور موجود ہے اور اس کے حصول کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا ایمان ہے، جیسا کہ دوزخ بھی تیار موجود ہے اور وہ بنیادی طور پر کفار و مشرکین کے لئے تیار کی گئی ہے، " وقد مر ھذا غیر مرہ " سو تم لوگ اس کو کوئی دور کی چیز نہ سمجھو۔ وہ تیار و موجود اور ایمان والوں کے لئے اتنی قریب ہے کوچوں ہی اس دنیا کا امتحان ختم ہوا، ہر ایک کے سامنے اس کی جنت بےنقاب ہوجائے گی، پس تم لوگ اسی کو اپنا نصب العین اور مطمح نظر بناؤ، اور اس کیلئے عمل کرو، وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، کہ اس سے انسان کو اس دنیا میں بھی حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 86] جنت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کا فضل ہے، پس جنت کا حصول اپنے عمل سے نہیں بلکہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہوگا، البتہ اس کے اس فضل وکرم سے مشرف و سرفراز ہونے کا ذریعہ و وسیلہ اپنے ایمان صادق اور عمل صالح کی پونجی ہی ہوگے " اللہم زدنا منہ وثبتنا علیہ " پس بند عمل کرتا جائے اور اپنے رب سے اس کے فضل و کرم کی امید رکھے، کہ یہی ہے سرفرازی اور فائز المرای کی راہ، اور ایمان خوف اور جاہ دونوں کے درمیان ہے، پس اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کی پوری امید بھی رکھی جائے اور اس کے عذاب کا ڈر اور خوف بھی، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 87] اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے، اتنا بڑا کہ انسان کے تصور سے بھی باہر ہے۔ پس وہ جس کو چاہے جتنا چاہے اور جو چاہے عطا فرمائے، نہ اس کے فضل و کرم کی کوئی حدو انتہا ہے، اور نہ اس سے کوئی پوچھنے والا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ کون اس کے لائق اور اس کا حق دار ہے، اور یہ اسی کے فضل و کرم کا ایک عظیم الشان مظہر اور ثبوت ہے کہ وہ واہب مطلق جل جلالہ انسان کی زندگی کے گنتی کے دنوں کی نیکیوں کے صلے میں اس کو جنت کی ان سدا بہار نعمتوں اور ابدی بادشاہی سے نوازے گا، فللہ الحمد رب العالمین سو تم لوگ اس بات پر تعجب نہ کرنا کہ زندگی کی فرصت محدود میں کیے جانے والے محدود و مختصر اعمال کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ایسی عظیم الشان اور بےمثال و ناپیدا کنار جنتوں سے کس طرح نوازے گا ؟ کیونکہ وہ بڑا ہی فضل والا ہے۔ اور اتنا بڑا کہ انسان کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس وہ جس کو چاہے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، اللّٰہم فکن لنا ولا تکن علینا، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ویادائم الفضل والاحسان،
Ayah 57:23[ 93] تقدیر کا فلسفہ اور اس کا فائدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو یہ حقیقت بتادی کہ تاکہ نہ تو تم لوگ کسی فوت شدہ چیز پر غم کھاؤ، اور نہ ہی اس کے ملنے پر اتراؤ، کیونکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا وہ تمہارے نصیب میں تھا ہی نہیں، اور جو تمہیں ملا وہ اس نے تمہارے لئے پہلے سے ہی لکھ رکھا تھا جو اس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں عطا فرمایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ، سو نہ تم کو ماضی کا غم اور نہ مستقبل کا خوف، اور نہ اترانا اور نہ تکبر کرنا، سو تقدیر کے اس عقیدہء صافیہ کی بناء پر انسان میں کبر و غرور، فتنہ، اور جزع اور غم والم کی بجائے صبر و شکر کی وہ پاکیزہ صفات نشوونما پاتی ہیں، جن سے وہ خیر اور بھلائی کی طرف بڑھتا اور معالی میں ترقی کرنا چلا جاتا ہے، اور اس طرح اس کی ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، سو ایسے کسی موقع پر اترانے یا غم کھانے کی بجائے تم لوگ صبر وشکر سے کام لو، اس طرح تمہارے لئے اس میں سکون قلب اور راحت بال ایک عظیم الشان سامان ہے، جیسا کہ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جو بھی کوئی مصیبت مجھ پر آتی ہے میں اس کے اندر تین نعمتیں محسوس کرتا ہوں، ایک یہ کہ یہ مصیبت میرے دین میں نہیں، والحمد للہ، دوم یہ کہ اپنے سے پہلے والی مصیبت سے بڑھ کر نہیں، والحمدللہ، اور سوم یہ کہ اس پر مجھے اجر عظیم ملنے والا ہے، والحمدللہ [ صفوۃ وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! کیسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے یہ ایمان یقین کہ اس کی بناء پر مومن صادق کیلئے ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے، وللہ الحمد جل وعلا، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
[ 94] اکڑنا اوع اترانا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کسی بھی " مختال " یعنی اترانے والے کی یعنی کسی بھی ایسے شخص کو جو اپنے جی میں اپنے آپ کو کوئی بری چیز سمجھتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل سوء وشر، سو اللہ تعالیٰ کسی ایسے مختال اور خود پسند شخص کو پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے نفرت کرتا ہے، والعیاذ باللّٰہ، پس نعمت ملنے پر اترانے اور شیخی بگھارنے کے بجائے اس پر اللہ تعالیٰ کا دل و جان سے شکر بجالانا چاہیے، جس نے محض کرم سے اس نعمت سے نوازا ہے، یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ " پسند نہیں کرتا " کے الفاظ اگرچہ بظاہر بڑے نرم معلوم ہوتے ہیں، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ بہت سخت ہیں، کیونکہ اس طرح کے انداز و اسلوب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو برا اور مبغوض سمجھتا ہے، لیکن اس بات کو صاف لفظوں میں کہنے کی بجائے اپنے تیوروں اور اپنے لب و لہجہ سے اس کی شدت و نفرت کا اظہار کردیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
[ 95] شیخی بازی ایک مذموم صفت۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پسند نہیں کرتا کسی شیخی باز کو جو دوسروں پر فخر جتلاتا ہو۔ یعنی جو دوسروں کے مقابلے میں اپنی برائی اور بزرگی جتلاتا ہے، اور اس طرح ایک طرف تو وہ دوسروں کی تحقیر ہے اور دوسری طرف وہ خود کبر و غرور اور عجب و خود پسندی میں مبتلا ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، اور عجب و خود پسندی کی اس بیماری کا منشاء مصدر یہ ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی نعمت کی اس مالک کا فضل و کرم سمجھنے کی بجائے اس کو اپنا کمال اور اپنی محنت اور چالاکی کا نتیجہ اور ثمرہ سمجھنے لگتا ہے، جس کے لازمی نتیجے اور طبعی تقاضے کے طور پر وہ حضرت واہب مطلق جل جلالہ کے شکر کے شرف سے محروم ہوجاتا ہے جو کہ ایک بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کیونکہ شکر نعمت سے حضرت واہب مطلق جل مجدہ کی طرف سے عنایت مزید اور نعمت میں اضافے اور برکت کی سعادت اور سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت باعث محرومی اور عذاب شدید کا موجب ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ { واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لا زید نکم و لئن کفرتم ان عذابی لشدید } [ ابراہیم : 7 پ 13] یعنی اگر تم لوگ شکر کرو گے تو میں تم کو نعمت بڑھا کر دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو پھر یقینا میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، جل وعلا۔
Ayahs 57:24–25[ 96] بخیلوں کی نفسیات کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان :
یعنی یہ کہ ایسے لوگ دوسروں کو بھی بخیل کی تعلیم و تلقین گرتے ہیں تاکہ اس طرح خود ان کے بخل پر پردہ پڑا ہے، چناچہ ان کی اس صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ اس طرح خود ان کے بخل و کنجوسی پر پردہ پڑا رہے، جیسا کہ کئی لوگ خیر خواہ اور سمجھدار بن کر کہا کرتے تھے، کہ صاحب مال جوڑ کر رکھو کہ آڑے وقت میں کام آئے گا، آئندہ اولاد و آرام و راحت سے کھائے گی، کبھی بھی مشکل وقت پیش آسکتا ہے، اس وقت یہ کام مال دے گا اگر اس کو یونہی غریبوں مسکینوں میں بانٹتے رہے تو آئندہ کیا کرو گے، وغیرہ وغیرہ، سو اس طرح کنجوس لوگ دوسروں کے حوصلے پست کرتے وران کو بھی انفاق فی سبیل اللہ سے روکتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 97] اللہ تعالیٰ کی طرف سے منہ موڑنے والے خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور بخل سے کام لینے والوں کو تہدید آمیز تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے منہ موڑے گا وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا یعنی جو اس کی اطاعت و بندگی سے منہ موڑے گا اور اس کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کرنے سے کنی کترائے گا والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ تو وہ یقینا خود اپنا ہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کہ وہ ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی اور بےنیاز ہے، سو وہ جو بندوں سے انفاق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ خود ہی ان کے بھلے اور فائدے کیلئے کرتا ہے، کہ وہ غنی اور بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم بھی ہے سبحانہ وتعالیٰ ، اس لئے وہ چاہتا ہے کہ یہ اس کے نام پر اور اس کی رضا کے لیے خرچ کرکے خود اپنی بہتری اور بھلائی کا سامان کریں، اور دنیا کے متاع فانی کو اس کے بینک میں جمع کراکر " اضعافاً مضاعفۃ " صلہ و بدلہ پائیں، اور ابدی بادشاہی کی نعمت بےمثال سے بہرہ مند و سرفراز ہوں۔ اللّٰہم فخذنا بنواصنا الی ما فیہ حبک ورضاک، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام،
[ 98] اللہ تعالیٰ ہر کسی سے اور ہر لحاظ سے بےنیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی روگردانی کرے گا یعنی اس وحدہٗ لاشریک کی طرف سے تو وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا کہ یقینا اللہ بڑا ہی بےنیاز ہے ہر خوبی کا مالک۔ پس اس کیلئے کسی قسم کے نفع یا نقصان کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، سبحانہ وتعالیٰ ، اور وہ جو بھی کچھ چاہتا اور فرماتا ہے وہ اپنے بندوں ہی کے نفع و فائدہ کے لئے فرماتا ہے، اور اس کے احکام وارشادات کو ماننے اور اپنانے میں خود بندوں کا ہی بھلا ہے، ورنہ وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی وبے نیاز اور ہر خوبی کا مالک ہے۔ فایاک نسال اللہم التوفیق لذالک والسداد والثبات علیہ۔ سو وہ بندوں کو انفاق کی جو دعوت دیتا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی ہے، بلکہ اس لیے یہ دعوت دیتا ہے کہ اس طرح ان کو اپنے افضال اور عنایات سے نوازے اور سرفراز فرمائے، اور اس کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے دیئے گئے ان خرف ریزوں کو وہ ایک لازوال خزانے میں تبدیل کر کے ان کو واپس کرے اور ایسا کرنا اس کی شان اور اس کے کرم کا تقاضا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اللہ کی راہ میں دئیے بخشے کا صلہ و بدلہ بندوں کو کہیں زیادہ بہتر اور عمدہ اجر کی شکل میں ملے گا، چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واقرضوا للہ قرضا حسناط وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ ہو خیرواعظم اجرا واستغفروا اللہ ان اللہ غفور رحیم }[ المزمل :20 پ 29] یعنی جو بھی کچھ تم لوگ خود اپنی جانوں کے لئے آگے بھیجو گے اس کو تم اللہ کے یہاں کہیں بہتر شکل میں اور بہت بڑے اجر کی صورت میں موجود پاؤ گے اور وہ تمہیں موت کے بعد والی ابدی زندگی میں سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ملے گا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 57:26[ 105] تمام انبیاء ورسل کا مشن ومقصد ہمیشہ ایک ہی رہا :
سو اس ارشاد سے اس امر کو واضح فرمادیا گیا کہ تمام انبیاء ورسل کا مشن ومقصد اور ان یعنی لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کو قائم کرنا کیونکہ اس کائنات کے خالق ومالک جل جلالہ وعم نوالہ کی شان اور صفت " قائما بالقسط " کی شان اور صفات ہے اور اس کائنات کا تکوینی نظام پورے کا پورا غایت درجہ عدل وقسط اور توازن پر مبنی اور قائم ہے، اور اس طور پر کہ اگر اس میں ذرہ برابر بھی خلل واقع ہوجائے تو یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے، اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اس کا تشریعی نظام بھی عدل وقسط ہی پر قائم ہو۔ کا نصب العین ہمیشہ ایک ہی رہا اور شریعی نظام کی اساس و بنیاد چونکہ انسان کے ارادہ واختیار پر ہے اس لئے اس نے اپنے بھیجے ہوئے انبیاء ورسل اور اپنی اتاری ہوئی کتب وشرائع کے ذریعے انسانوں کو عدل وقسط کے قیام ہی کی دعوت دی کہ یہی تقاضاء ِ عقل ونقل ہے اور اسی میں خود انسان کا اپنا بھی بھلا ہے، اور مجموعی طور پر اس کائنات کی بہتری بھی اسی میں ہے اور یہاں پر حضرات انبیاء ورسل میں سے صرف دو ہستیوں کے ناموں کی تصریح فرمائی گئی، یعنی حضرت نوع (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے، کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی حیثیت آدم ثانی کی ہے۔
Ayah 57:27[ 106] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری کا ذکر وبیان :
سو گزشتہ انبیاء ورسل کے ذکر کے بعد اب آخر میں اس ارشاد سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے انہی گزشتہ انبیاء ورسل کے نقش قدم پر اپنے رسولوں کو بھیجا ان سب کے آخر میں [ یعنی آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ] عیسیٰ بیٹے مریم کو بھی بھیجا اور ان کو بھی حق اور ہدایت کی روشنی سے نوازنے کے لئے انجیل عطا کی، تاکہ اس کی روشنی میں آنجناب بھی حق و ہدایت کی اسی راہ پر چلیں جس پر ان سے پہلے کے انبیاء ورسل چلے تھے کہ راہ حق تو بہرحال ایک ہی ہے جس کو سب ہی حضرات انبیاء و رسل نے اپنایا اور اسی میں جہاد کا حکم بھی داخل ہے، کیونکہ دفع شروفساد، اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کے لئے اس کا ہونا ضروری اور ایک طبعی امر ہے، البتہ اتنی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ اپنی زندگی میں جہاد کا موقع نہیں ملا۔ اس وجہ سے آپ نے اس پر عمل نہیں فرمایا، ورنہ اگر آپ کو بھی اس کا موقع ملتا جس طرح کہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کو ملا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی بھی اشدائُ علی الکفار رحمائُ بینھم کا نمونہ پیش کرتے یعنی کفار کے مقابلے میں بہت سخت، اور آپس میں نہایت نرم اور مہربان، مگر چونکہ آنجناب کو اپنی مختصر سی فرصت حیات میں اس کا موقع نہیں ملا، اسلئے آپ حکم نہ کرسکے اس کے بعد کے ناخلفوں نے جہاد کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا، اور اپنے بڑوں کی رافت و رحمت کو رہبانیت کے خود ساختہ، من گھڑت اور خلاف فطرت دین کی بنیاد اور دلیل بنادیا، اور اس طرح وہ ضلوا فاضلوا کے مصداق بن گئے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ،
[ 107] رہبانیت کی بدعت کا حوالہ و ذکر :
سو اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ رہبانیت کی جس بدعت کو انہوں نے اپنایا تھا اسے ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی، اور الا ابتغاء رضوان اللّٰہ [ مگر اب اللہ کی رضا جوئی ] کے اس جملے کے یہاں پر دو مطلب بن سکتے ہیں، ایک یہ کہ۔ رہبانیت کی اس بدعت کو انہوں نے ایجاد کیا تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہی کے لئے کیا تھا مگر تھی یہ بہرحال ایک بدعت اور بدعت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایجاد نیکی کی نیت اور اسی کی بنیاد پر کی جاتی ہے، پہلے بھی یہی تھا، اور آج بھی یہی ہے، اور ترجمہ کے اندر بین القوسین کے الفاظ سے ہم نے اسی مفہوم کی طرف کو، اور بض ثقہ اہل علم نے اسی قول و احتمال کو قول واحد کے طور پر ذکر کیا ہے، بہرکیف اس سے اس بات کی تصریح فرما دی گئی ہے کہ رہنانیت کو ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا یہ سراسر ان لوگوں کو اپنی ایجاد و اختراع تھی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
[ 108] رہبانیت کی حقیقت کا ذکر وبیان :
واضح رہے کہ یہ لفظ " رھب " کی طرف مضاف و منسوب ہے جس کے معنی خوف کے کرتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر بنی اسرائیل اور اہل کتاب، خاص کر یہود کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا۔ { ویای فارھبون } [ البقرۃ : 40] یعنی تم لوگ خاص مجھ ہی سے ڈرو، اور اس کا تلفظ " رھبانیت " یعنی را کی زبر سے بھی کیا جاسکتا ہے اور رہبانیت یعنی را کے ضمے کے ساتھ بھی، سو پہلی صورت میں اس کی نسبت رہب کی طرف ہوگی، جس سے اس کا معنی ہوگا خوف کا مذہب، اور دوسری صورت میں اس کی نسبت رھبان کی طرف ہوگی جس سے اس کا معنی ہوگا راھبوں یعنی خوف زدہ لوگوں کا مذہب، سو ان لوگوں نے خوف کو اپنے اوپر اس قدر غال اور حاوی کردیا تھا کہ انہوں نے دنیا کی 2 جائز اور مباح لذتوں کو بھی اپنے اوپر حرام اور ممنوع قرار دے دیا تھا، چناچہ ان لوگوں کے نزدیک ترک دنیا اور تجرد و تنہائی کو اخلاقی آئیڈیل کا درجہ حاصل تھا۔ شادی بیاہ اور دنیاوی امور میں مشغول ہونا اور کاروبار کرنا ان لوگوں کے نزدیک ممنوع اور محفوظ تھا، خاص کر تجرد کو انہوں نے تقدس کے ہم معنی قرار دے رکھا تھا، سو قدیم زمانے کی مشرک سوسائٹی میں۔ شہوانیت، بدکرداری اور دنیا پرستی جس شدت کے ساتھ پھیل چکی تھی، اس کے توڑ اور مقابلے کے لئے مسیحی علماء نے توسط و اعتدال کی راہ کو اپنانے کی بجائے غلو اور انتہاء پسندی کو اپنایا اور عفت و پاکیدامنی پر ایسا انتہاء پسند انہ رویہ اختیار کیا کہ مرد اور عورت کے باہمی تعلق کو نجس قرار دے دیا گیا خواہ وہ نکاح ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو، اور دنیا پرستی کے خلاف انہوں نے اتنی شدت اختیار کی کہ ایک دیندار شخص کیلئے کسی قسم کا مال و دولت رکھنا ہی گناہ قرار دے دیا گیا، اور ان کے یہاں اخلاقی معیار اور بزرگی و ولایت کا درجہ یہ قرار دیا گیا کہ آدمی بالکل مفلس اور قلاش بن کر رہے، خواہشات کا قلع قمع کردینا، اخلاق کا مقصود اور نشان قرار دے دیا گیا، اور اخلاقی عروج و سربلندی کے حصول کے لئے جسم کو طرح طرح کی اذیتیں دینا ضروری قرار دے دیا گیا، اور اس چیز کو روحانیت کا کمال اور اس کا ثبوت سمجھا جانے لگا، جسم کو اذیت دینت کے لئے بڑی بھاری بوجھ اپنے ا پر اٹھائے رکھتا، گلا سڑا اناج کھانا، کسی سے بات نہ کرنا، اپنے آپ کو کسی چٹان پر باندھ کر رکھنا، جنگلوں اور صحراؤں میں مارا مارا پھرنا، گھاس پھونس کھا کر گزارہ رکنا، اپنے اعضاء وجوارح کو طوق وسلال سے جکڑے رکھنا، جانوروں کے بھٹوں، خشک کنوؤں کے ا ندر رہنا، قبروں کے اندر بسیرا کرنا وغیرہ وغیرہ، مسیحی اولیاء کے خاص کمالات میں شمار کیا جاتا تھا، اس طرح کے تذکرے مسیحی تاریخ کے اس دور میں جابجا پھیلے بکھرے ملتے ہیں اور ان کی چلہ کشیوں کی لرزہ خیر داستانوں سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے جو کہ رہبانیت کے ہولناک مظاہر تھے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، یہاں سے یہ اہل اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ نور حق سے محرومی اتنی بڑی اور اس قدر ہولناک محرومی ہے کہ یہ انسان کے فطری کمالات کو بھی باعث عذاب بنا دیتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، چناچہ یہاں پر حضرت مسیح علیہالسلام کے اولین پیروکاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے اندر رأفت اور رحمت رکھ دی تھی اور ظاہر ہے کہ دونوں بڑی اہم خوبیاں ہیں جو ان لوگوں کی فطرت میں پیوست کردی گئی تھیں، کیونکہ ان دونوں خوبیوں کی بناء پر اور ان کے نتیجے میں انسان دوسروں کے لئے خیر کا وجود اور نفع انسانی کا ذریعہ بن جاتا ہے، کیونکہ رؤفت اس نرمی اور قت قلبی کو کہا جاتا ہے جو کسی کی تکلیف اور مصیبت کو دیکھ کر انسان کے دل کے اندر پیدا ہوتی ہے، اور رحمت اس خیر خواہی اور ہمدردی کو کہا جاتا ہے جو اس رقت قلبی کے نتیجے میں انسان کے اندر دوسروں کیلئے پیدا ہوتی ہے، سو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اولین پیروکاروں کے اندر یہ دونوں ہی عمدہ صفتیں موجود تھیں، مگر بعد میں جب ان کے اخلاف اور جانشینوں کو رہبانیت کے خود ساختہ اور من گھڑت دین کی دلیل اور بنیاد بنا لیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہ دین فطرت سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جاگرے اور سرے سے راہ راست ہی سے محروم ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ، سو یہی نتیجہ ہوتا ہے دین حق و ہدایت کی روشنی سے اعراض و روگردانی کا، کہ اس سے انسان راہ حق سے محروم ہو کر طرح طرح کے مہالک میں اور جاگرتا ہے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، اسی لئے دین حنیف نے بدعت کی ایجاد سے سختی کے ساتھ روکا اور منع فرمایا ہے اور ایجاد بدعت کو ھدم دین یعنی دین کی عمارت کو ڈھادینے کے مترادف قرار دیا ہے، اور بدعت کو باطل و مردو قرار دیا گیا ہے، چناچہ صحیحین کی روایت میں ارشاد فرمایا گیا من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھوردٌ یعنی جس نے ہمارے دین میں کسی ایسی بات کو شامل کیا جو اس میں ثابت نہیں تو وہ مردود ہے یعنی اس کو بدعتی شخص کے منہ پر مارا جائے گا والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، اور مسیحیت محرّقہ کے پیرو کاروں نے رہبانیت کی بدعت کو ایجاد کرکے جہاد فی سبیل اللہ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ چیز رحمت کے خلاف ہے، حالانکہ رأفت و رحمت عدل وقسط کے منافی نہیں بلکہ رحمت خداوندی کا اصل اور اولین تقاضا عدل و قسط کا قیام ہی ہے، اسی لئے قرآن مجید میں دوسرے مقام پر قیام قیامت کو جو کہ عدل کامل کے ظہور کا دن ہوگا خداوند قدوس کی صفت رحمت ہی کے ایک لازمی نتیجے اور تقاضے کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ { قل لمن ما فی السموت والارض ط قل اللّٰہ ط کتب علی نفسہ الرحمۃ ط لیجمعنکم الی یوم القیمیۃ لاریب قیہط الذین خسروآ انفسہم فہم لا یؤمنون } [ الانعام : 12 پ 7] یعنی اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر رکھا ہے کہ وہ تم سب کو قیامت کے دن کیلئے ضرور جمع کرے گا، اور حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جو جہاد نہیں کا تو وہ اسلئے کہ ان کو اس کا موقع نہیں ملا، ورنہ ان کو اگر اس کا موقع ملتا تو وہ ضرور جہاد کرتے جیسا کہ ابھی کچھ ہی اوپر قدرے تفصیل سے گزرا۔ اور یہ اسلئے کہ جہاد دین فطرت کا ایک اہم تقاضا ہے، کہ دفع شر اور قمع فساد اسی پر موقوف ہے، اس لئے یہ قیامت تک ہمیشہ باقی رہے گا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 109] پیروان مسیحیت کے اچھے اور برے دونوں گروہوں کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے تھے ان کو ہم نیت ان کے اس اجر وثواب سے نوازا جس کے وہ اپنے صدق و اخلاص کی بناء پر مستحق تھے یعنی حضرت مسیح کے پیروکاروں میں سے جو لوگ آنجناب کی اصل اور حقیقی تعلیمات پر استوار و کار بند ہے، ان کو تو ہم نے ان کے حصے کا اجر وثواب دے دیا، لیکن ان کی اکثریت بدکاروں ہی کی تھی جو اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں اپنے کیفر کردار کو صحیح کر رہے اور آنجناب (علیہ السلام) کے سچے پیروکاروں یعنی " الذین اٰمنوا " سے مراد وہی لوگ ہیں جو حضرت مسیح کے سچے خلیفہ شمعون اور ان کے نقش قدم پر چلے، جو ہم قسم کی مشکلات کے باوجود اصل دین پر قائم رہے، یہاں تک کہ جب اسلام کی دعوت بلند پوئی تو انہی خوش نصیبوں کو آگے بڑھ کر اس کو اپنانے اور قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، اور قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر ان لوگوں کی حق پرستی کی تعریف و توصیف کی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس " کثیر منھم فاسقون " سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے پال اور اس کے پیروکاروں کی پیروی میں عیسائیت محرفہ کو گلے لگایا اور انہوں نے ہی تثلیث کے کفر اور رہبانیت کی بدعت کو اپنا کر دین مسیحی کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا، اور انہوں نے ہی رومیوں کی تمام ضالتوں کو دین میں گھسایا اور گھسیڑا، اور " ضالین و مضلین " کے اسی گروہ کو اکثریت حاصل ہوگئی یہاں تک کہ اصل دین مسیحیت کو جاننے والے بہت تھوڑے رہ گئے اور اس طرح خواہشات کے ان بندوں نے جو اکثریت میں تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ دین حق کو جو کہ توحید و وحدانیت خداوندی پر مبنی دین سماوی تھا اس کو انہوں نے تثلیث جیسے کفریات اور رہبانیت جیسی بدعات کا ملغویہ بنادیا، اور اس طرح وہ " ضلوا فاضلوا " کے مصداق بن کر ہمیشہ کی محرومی اور انتہائی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ سو اس سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بدعت کس طرح دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دینے والی چیز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء الصراط، جل و علا۔
Ayah 57:28[ 110] نصاریٰ کو ایمان کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو ایسے لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ڈرو اللہ سے اور ایمان لاؤ اللہ کے رسول پر، اس کے نتیجے میں اللہ تم لوگوں کو اپنی رحمت سے دوہرا حصہ بھی عطاء فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بھی عطا فرمائے گا جس کے ساتھ اور اس کی روشنی میں تم لوگ چلو گے، اور تمہاری بخشش بھی فرمائے گا۔ سو " الذین اٰمنوا " [ جو ایمان لائے ] سے یہاں پر مراد ہی نصاریٰ ہیں جن کا ابھی ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں " فاتینا الذین اٰمنوا منھم اجرھم " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے سو انہی نصاریٰ سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، یعنی حضرت خاتم الانبیاء علیہ وعلہیم الصلوٰۃ والسلام پر، جن کے بارے میں پیشگوئی ان کی کتابوں کے اندر موجود تھی، اور جن کے بارے میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا " ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " یعنی مجھے اس عظیم اللہ نے رسول کی بشارت و خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو میرے بعد آج آئے گا اور ان کا نام نامی احمد ہوگا اور اس نبیء آخر الزمان پر ایمان لانا اگرچہ ان لوگوں کے اپنے دین و ایمان لانے کی ضرورت پر یہ سب لوگ ان کے مخالف ہو جائینگے اور ان کے پیچھے لگ جائیں گے اس لئے ان کو دعوت ایمان سے پہلے اس بات کی یہ ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اللہ سے ڈر و یعنی لوگوں کے خوف اور ڈر کی بجائے تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی گرفت و پکڑ کر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اور ان کو دوہرے اجر وثواب کی خوشخبری اس لئے سنائی گئی کہ ان کو دو بڑے امتحانوں سے گزرنا پڑا اور یہ ان دونوں ہی میں کامیاب رہے ایک اپنے رسول پر ایمان کے امتحان میں اور دوسرے نبی آخر الزمان کا (علیہ السلام) پر ایمان کے سلسلے میں، اور اس ایمان و اخلاص کے نتیجے میں ان کو اس عظیم الشان نور سے سرفرازی نصیب ہوگی جس کی روشنی میں یہ لوگ اس دنیا میں راہ حق و صواب پر چلیں گے، اور اسی کی روشنی میں وہ آخرت میں جنت کی طرف جائینگے، جیسا کہ اسی سورة کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا۔ { یوم تری المؤمنین والمؤمنت یسعی نورھم بین ایدھم وبایمانھم } یعنی اس روز تم دیکھو گے کہ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کا نور اور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا اور اس موقع پر ان کو اس عظیم الشان خوشخبری اور صدائے دلنواز سے نوازا جائے گا۔ { بشرکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیہا ذلک ھو الفوز العظیم } [ الحدید : 12 پ 27] یعنی خوشخبری ہو تم سب کو [ اے خوش نصیبو !] ایسی عظیم الشان جنتوں کی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہیں طرح طرح کی عظیم الشان نہرین۔ جہاں تمہیں ہمیشہ اپنا نصیب ہوگا۔ یہی ہے بڑی کامیابی، سو نبیء آخر الزمان پر ایمان کے نتیجے میں میدان قیامت میں مومنین صادقین کو اس عظیم الشان نور سے سرفراز کیا جائے گا جس کی روشنی میں وہاں پر یہ خود بھی چلیں گے اور وہ سب لوگ بھی جنہوں نے دنیا میں ان کی پیروی کی ہوگی، جبکہ کافر اور منافق لوگ وہاں پر گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوں گے والعیاذ باللّٰہ العظیم اور انصاریٰ میں سے یہی وہ سچے ایماندار ہیں جن کا ذکر پ 20 سورة القصص کی آیت نمبر 52 تا 54 میں فرمایا گیا ہے اور وہاں پر بھی ان کیلئے ارشاد فرمایا گیا۔ { الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون۔ واذا یتلی علیہم قالوا آمنا بہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین۔ اولئک یؤتون اجرھم مرتین بما صبروا ویدرء ون بالحسنۃ السیئۃ ومما رزقنھم ینفقون } کہ ان کو ان کا دوسرا اجر ملے گا اس بناء پر کہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور یہاں پر ان خوش نصیبوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کی بخشش بھی فرمائے گا اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ اور اتنا بڑا کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ ہے، اور نہ اس کی رحمت و عنایت کا، رب اغفر وارحم فانک انت لا عزالاکرم، مغفرتک اوسع من ذنوبنا۔
Ayah 57:29[ 111] دین حق پر ایمان کی ترغیب اور یہود پر تعریض کا ذکر وبیان :
یہاں پر اہل الکتاب کا لفظ اگرچہ عام ہے جو اپنے ظاہر اور عموم کے اعتبار سے یہود اور نصاریٰ دونوں کو شامل ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں پر اس سے مراد یہود من حیث الجماعت ہیں کیونکہ اصل میں یہی لوگ اس خبط میں مبتلا تھے کہ یہی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے انعام کے وارث ومورث اور اس کے اجارہ دار ہیں اور ان کا گمان یہ تھا کہ نبوت اور رسالت ہمارا موروثی حق ہے، ہمارے سوا اور کسی کو یہ شرف مل سکتا ہی نہیں اور اسی زعم و گھمنڈ اور پندار کی بناء پر انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا، بلکہ یہ اس کے سخت مخالف بن گئے اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی مخالفت کے علی الرغم حق کی یہ دعوت بڑھتی اور پھیلتی پھولتی جارہی ہے اور یہاں تک کہ ان کی اپنی صفوں سے بھی بہت سے اخیار ٹوٹ کر اس کو قبول کرتے اور اس کے جان نثار بنتے جا رہے ہیں تو ان پر حسد کا ایسا بخار چڑھا جو ان کو ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں اتار کر ہی رہا، حالانکہ نبوت و رسالت اور سیادت و امانت اللہ تعالیٰ کی بخشش و عطا، اور اس کا انعام و احسان ہے، وہ جس کو چاہے اس سے نوازے، اس سے متعلق کسی کے جلنے مرنے اور سوال و اعتراض کا کیا موقع ہوسکتا ہے۔ " واللّٰہ یختص برحمتہ من یشائ " سو ایسے میں سچے نصاریٰ کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ سچے سل سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئیں کہ اس فضل عظیم سے بہرہ مند ہوں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے پر موقوف و منحصر ہے، اور یہود کو ان کے حسد کی آگ میں جلتا چھوڑ دیں اور اس طرح یہ اس دوہرے اجر کے مستحق بنیں جو اس پر ان کو ملنے والا ہے اور یہود اگر اپنے حسد اور حماقت ہی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں وہ اپنے کیے کرائے کا مزہ خود چکھ لینگے اور اس کا بھگتان وہ خود بھگتیں گے سو اپنے آپ کو محض خاندانی اور نسلی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی تمام سرفرازیوں کا حقدار سمجھنا خرابیوں کی خرابی، اور محرومیوں کی محرومی ہے، اسی چیز نے یہود کو اس قدر ہولناک انجام سے دوچار کیا۔ اور اس کے نتیجے میں نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے اور " مغضوب علیہم " قرار پائے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 112] اللہ کے فضل و کرم کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی فضل والا ہے اور وہ وحدہٗ لاشریک جل جلالہ اس قدر عظیم الشان فضل و کرم والا ہے کہ اس کی بخشش اور اس کے فضل وعطاء کی کوئی حد ہے نہ کنارہ، وہ جس کو جو چاہے اور جتنا چاہے اور جیسے چاہے عطا فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ یہود و نصاریٰ اور اہل ایمان کی شان اور ان کے باہمی فرق و تفاضل کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ تمہاری [ اے مسلمانوں ] اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسے ہے جیسا کہ ایک شخص نے کچھ مزدوروں کو کام پر لگایا، اور ان سے کہا کہ جو میرے لئے صبح سے دوپہر تک کام کرے گا اس کو ایک ایک قیراط مزدوری دی جائے گی، تو یہود نے ایسے کیا، اور کہا کہ جو میرے لئے ظہر سے عصر تک کام کریں گے نا کو بھی ایک ایک قیراط مزدوری ملے گی تو نصاریٰ نے اس کے مطابق کام کیا، اور کہا کہ جو عصر سے مغرب تک کام کریں گے ان کو دو و دو قیراط دے جائیں گے، سو وہ تم ہو [ اے مسلمانو !] اس پر یہود و نصاریٰ نے غصے ہو کر اعتراض کیا کہ ہم نے کام بھی زیادہ کیا اور مزدوری بھی کم ملی، ایسے کیوں ؟ تو اس پر ان سے کہا گیا کہ کیا ہم نے تم سے کوئی زیادتی کی ؟ اور تمہارا کوئی حق مارا ؟ انہوں نے کہا نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی تو اس شخص نے کہا کہ پھر تمہیں کوئی اعتراض کس طرح ہوسکتا ہے یہ تو میرا فضل اور میری مہربانی ہے میں جس کو چاہوں عطا کروں، [ ابن کثیر، ابن جریر، مراغی وغیرہ ] یہ روایت امام احمد (رح) کی ہے اور امام بخاری (رح) کی روایت میں اس مضمون کو بھی اور زیادہ وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے، جس کو طوالت کے خدشے کی بناء پر یہاں ذکر نہیں کیا جاسکتا، انشا اللہ اس کو اپنی مفصل تفسیر میں ذکر کریں گے۔ وباللّٰہ التوفیق وھو الموفق لکل خبرٍ ، والمیسر لکل عسیر، فللّٰہ الحمد ولہۃ الشکر، قبل کل شیئٍ وبعد کل شیئ، اللّٰہم یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین، عاملنا بلطفک واحسانک، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ولا تکلنا الیٰ انفسنا طرفۃ عینٍ ، ولا الیٰ من خلقک بحال من الاحوال، یا ذا الجلال والاکرام، یامن بیدہ ملکوت کل شیئٍ ، وھو یجیر ولا یجار علیہ، یامن رحمتہٗ وسعت کل شیئٍ ، ولا حد لجودہٖ وکرمہٖ واحسانہٖ ،