Ayah 57:12[ 44] قیامت کے روز نور ایمان کی شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے قیامت کے دن اہل ایمان کے نور ایمان کیفیت اور اس کی شان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جو آج دنیا کے اس دار الامتحان میں نظر نہیں آتا۔ لیکن کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان میں وہ سامنے آجائے گا اور اپنی پوری آن بان اور شان و شوکت کے ساتھ سب کے سامنے آجائے گا، اور اہل ایمان کی امتیازی شان کو بڑھاتا اور ان کے لئے راہ جنت کو منور و روشن کرتا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ایماندار مرودوں اور ایماندار عورتوں کا انور ان کے آگے اور ان کے داہنے دوڑ رہا ہوگا۔ جو کہ اصل میں نور ہوگا ان کے اس ایمان صادق اور عمل صالح کا جس سے وہ دنیاوی زندگی میں بہرہ مند و سرفراز رہے ہوں گے، سو یہ اس اجر کریم اور باعزت صلے کے ایک خاص پہلو کو ذکر وبیان ہے جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، اور جس سے ان خوش نصیبوں کو فصل وتمیز کے اس یوم عظیم میں نوازا جائے گا، سو آج جو لوگ ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہیں اور اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے کی سعادت و توفیق سے بہرہ ور ہیں، اس روز ان کے اس ایمان و انفاق کی روشنی سامنے آجائے گی، اور وہ دن کے آگے اور ان کے داہنے چل رہی ہوگی، اور وہ اسی روشی میں جنت کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس دوسرے لوگ تاریکی میں ڈوبے اور گھرے ہوں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 45] اہل جنت کیلئے سرور بالائے سرور کی خوشخبری :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت کے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ آج خوشخبری ہو تمہیں اس عظیم الشان کامیابی اور سرفرازی کی، یعنی جو اب تمہیں جنت کی سدا بہار نعمتوں کی صورت میں نصیب ہوگئی ہے اور یہ بات ان سے اللہ کے فرشتے کہیں گے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک ان کو خود ہی اس شرف سے نواز، اور ان کو خود ہی اس خوشخبری سے سرفراز فرمادیں، کہ وہ وحدہٗ لاشریک بڑے ہی کرم والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ صورتحال کی تعبیرہو، سو اس طرح ان خوش نصیبوں کو ظاہری نور کے ساتھ باطن کا یہ سرور بھی ملے گا، سو یہ نور عظیم اور اس سے سرفرازی کو ان کے اسی نور ایمان و یقین، اعمال صالحہ، اور خاص کر انفاق فی سبیل اللہ کے نتیجے میں نصیب ہوگی جس سے وہ دنیا میں بہرہ مند و سرفراز رہے ہوں گے اور ایمان کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کی سعادت ایک عظیم الشان سعادت ہے اسی سے نفاق کی جڑ کٹتی ہے اور اسی سے مومن صادق کو وہ نور حکمت و معرفت نصیب ہوتا ہے جو اس دنیا کی تاریکیوں میں بھی اس کی راہنمائی کرتا ہے اور وہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی اس کی رہنمائی کرے گا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 46] اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حصر و قصر کے انداز تاکید و توثیق کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے سب سے بڑیکامیابی۔ جس جیسی دوسری کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی کہ یہ سب سے بڑی حقیقی اور ابدی کامیابی ہوگی، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، سو جن کو اللہ نے مال بخشا ہے، وہ اس کو اس کامیابی کے حصول کیلئے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، تاکہ وہ ان کیلئے قیامت کے دن کی اس عظیم الشان روشنی کے حصول کا ذریعہ بنے، اور یہ اس فوذ عظیم سے سرشار ہو سکیں، سو اللہ کے دیے بخشے مالکا اصل فائدہ اور حقیقی مصرف یہی ہے کہ انسان اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے صرف کرکے اپنی آخرت کو بنانے، سنوارنے اور آخرت کی اس حقیقی کامیابی اور فوز عظیم سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ بنائے۔ اس کے سوا باقی جتنے بھی فائدے ہیں وہ سب عارضی وقتی اور فانی ہیں اور ان کے اندر جو ضرر مخفی و مضمر ہیں وہ سب دائمی اور ابدی۔ والعیاذ باللّٰہ پس عقل و نقل سب کا تقاضا یہی ہے اور اس کے تقاضوں کو آخرت کی کامیابی ہی اصل مقصد اور زندگی کا مقصد بنایا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 57:13[ 47] منافقوں کے حال بد کی تصویر :
سو اس سے اس روز منافقوں کے حال بد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے اور یہ سعداء کے مقابلے یہ اشقیاء کے مآل اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور یہاں پر کھلے کفار کا ذکر اس لئے نہیں فرمادیا گیا کہ وہ میدان حشر ہی میں الگ کر دئیے جائی گے ان کے یہاں تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، بخلاف منافقین کے کہ یہ دھوکہ دہی کی جس پالیسی پر دنیا میں گامزن رہا کرتے تھے آج ان کو خود اسی سے واسطہ پڑے گا، فان الجزآء من جنس العمل۔ یعنی یہ اس بناء پر گا کہ عمل کا بدلہ اور اس کی جزاء اس کی جنس ہی ہوتی ہے، سو یہ لوگ چونکہ صدق و اخلاص اور انفاق فی سبیل اللہ کی سعادت سے محروم رہے ہوں گے، اسلئے یہ روز اس نور سے محروم ہوں گے، اور وہاں کے ہولناک اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں گے۔ اس لیے وہ ایمان والوں سے اس طرح درخواست کریں گے کہ ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ مستفید اور فیضاب ہوسکیں۔
[ 48] منافقوں کی اہل ایمان سے درخواست کا ذکر وبیان :
سو منافقوں نے چونکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنے اندر وہ روشنی پیدا نہیں کیا ہوگی جو ان کو وہاں پر کام آتی اس لیے وہ اہل ایمان سے یہ درخواست کریں کریں گے کہ ہمیں بھی دیکھو اور ہمارا بھی انتظار کرو تاکہ ہم بھی آپ لوگوں کی روشنی سے فائدہ اٹھاس کیں تو اس وقت ان کو یہ جواب ملے گا جس سے ان کی تذلیل و تحقیر مزید آشکارا ہوجائے گی۔ سو منافقوں کے اس سوال کے جواب میں ان سے ایسا کہا جائے گا اور وہ کہنا فرشتوں کی طرف سے ہوگا، یا اہل ایمان کی طرف سے، اور یہ اس لئے کہ ان منافق لوگوں نے دنیا میں ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے اس نور کو حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہوگی، اس لیے اس روز یہ اس سے محروم ہی رہیں گے کہ آخرت کیلئے کا موقع بہرحال دنیاہی میں تھا اور ہے جو ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی سو اس طرح کفار و منافقین ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہو کر رہیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرم،
[ 49] منافقوں کو رسوا کن جواب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ تم پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں جاکر نور تلاش کرو۔ یعنی دنیا میں، جہاں کی کمائی آج اللہ کے کرم سے ہمارے لئے نور بن رہی ہے اور یہ، یہ ان سے تذلیل و تعجیز کے طور پر کہا جائے گا، کیونکہ اب دنیا میں واپسی کیلئے کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، مگر یہ منافق لوگ اپنے پیچھے سے مراد ہی جگہ سمجھیں گے جہاں اہل ایمان نور سے مشرف ہوئے تھے اسلئے وہ اس امید پر جونہی پیچھے مڑیں گے تو ان کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کردی جائے گی، جو انکے تصور میں بھی نہ تھی، اور اس طرح ان کو حق والوں سے ہمیشہ کیلئے الگ کردیا جائے گا، اس دیوار کے اندر ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی طرف رحمت ہی رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہی عذاب، والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف اس وقت اب کی حسرت بھری درخواست کا ان کو یہ رسوا کن جواب ملے گا۔ اور اس جواب سے جو کچھ ان پر بیتے گی اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کی ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
[ 50] اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان دیوار :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ یعنی مومنین مخلصین اور منافقین منکرین کے درمیان، اور اس طرح ان منافقین کے کفر و نفاق کا نتیجہ و انجام ان کے سامنے آجائے گا، اور یہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے، اور اس دیوار کے بارے میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دیوار ایسی ہوگی جس میں ایک ہی دروازہ ہوگا اس کے اندر کے حصے میں رحمت ہوگی اور باہر کے حصے میں عذاب سو اہل ایمان اس دروازے سے رحمت والے حصے میں چلے جائیں گے اور منافق عذاب کے حصے میں رہ جائیں گے، جہاں پر وہ انتہائی ہولناک تاریکیوں میں گھر کر اور انتہائی ہولناک تاریکیوں میں گھر کر اور اپنے انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ سو یہ ہوگا انجام نفاق اور منافقین کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 51] آخرت کی تقسیم ایمان و عقیدہ کے اعتبار سے :
سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کی تقسیم ایمان و عقیدہ کے اعتبار سے ہوگی، اور دنیا کے تمام دوراق و امتیازات سب کے سب مٹ جائیں گے، پس رنگ و نسل اور قوم و قبیلہ وغیرہ کے جو امتیازات اس دنیا میں لوگوں نے ازخود اپنا رکھے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس جہان میں باقی نہیں رہے گا، بلکہ ایمان و عقیدہ کی بنیاد پر اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان دیوار فاصل حائل کردی جائے گی، ایمان و یقین والے اس پار رحمتوں والے جہاں میں پہنچ جائیں گے اور کفر و نفاق والے اس کے بالمقابل عزاب کے حصے میں گھر کر رہ جائیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نور حق و ہدایت سے سرفراز و سرشار اور راہ حق و صواب پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا اکرم الاکرمین،
[ 52] اہل ایمان کے لیے ایک مژدہ جانفرا :
سو اس سے اہل ایمان کیلئے رحمت خداوندی سے سرفرازی کا مژدہ جانفزا سنایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی۔ یعنی جنت جو کہ اس کی رحمت کا کامل مظہر ہوگی۔ اور اس کی لازوال و بےمثال نعمتیں، سو اہل ایمان اس دروازے سے رحمت والے حصے میں چلے جائیں گے، اور منافقین عذاب کی تاریکی میں گھر جائیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس میں اہل ایمان کیلئے جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے بہرہ مندی و سرفرازی کا مژدہ جانفزا ہے۔ اور یہ ایسی بڑی اور اس قدر عظیم الشان بشارت و خوشخبری ہے کہ اس جیسی دوسری کوئی بشارت ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور دنیا میں ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا اکرم الاکرمین،
[ 53] اہل کفر و نفاق کیلئے ہولناک عذاب۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اس کے باہر کی طرف عذاب۔ یعنی منافقوں کی طرف عذاب ہوگا، اور یہ عذاب نتیجہ وثمرہ ان لوگوں کے اس نفاق کا جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا، سو وہ اس وقت اپنی اصل شکل میں سب کے سامنے آجائے گا۔ سو اہل کفر و نفاق کا انجام بڑا ہی ہولناک ہوگا۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی و سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، جبکہ اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی، اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق و ہدایت پر مستقیم رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین ،
Ayah 57:14[ 54] نفاق کا نتیجہ دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نفاق کا نتیجہ دوزخ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقون کے نفاق کا نتیجہ دوزخ اور وہاں پر ہولناک عذاب ہوگا۔ یعنی دوزخ اور اس کی آگ اور دھواں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس وقت انکے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ دنیا میں اپنے جس کفر و نفاق کو یہ لوگ اپنی بڑی چالاکی کی قرار دیتے اور ہوشیاری سمجھتے تھے، وہ اصل میں ان کیلئے درزخ کی آگ اور اس کا سامان تھا، مگر یہ اس بات کو جانتے اور مانتے نہیں تھے، کہ دنیا کے دار الامتحان میں اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا تھا جس سے یہ لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے تھے اور حق اور اہل حق کی بات ماننے کو تیار نہیں ہو رہے تھے، مگر کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں جب سب پردے ہٹ جائیں گے اور حقائق اپنی اصل شکل میں سب کے سامنے آجائیں گے تو ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 55] منافقوں کی فریاد و پکار کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تب یہ لوگ ایمان والوں سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ کہ تمہارے ساتھ نمازیں پڑھتے، حج کرتے، اور دوسرے اجتماعات وغیرہ میں شامل ہوتے تھے، سو جب یہ منافق لوگ دیکھیں گے کہ روشنی کی جو جھلک نظر آئی تھی وہ بھی اوجھل ہوگئی ہے، اور اہل ایمان کے ساتھ انہوں نے دنیا میں اپنی منافقانہ ظاہر داری کو جو رشتہ قائم کر رکھا تھا وہ بھی ختم ہوگیا، اور ان سے ان کا رابطہ بالکل ٹوٹ گیا تو اس وقت یہ ان سے کہیں گے کہ بھائیو کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ تو آج آپ لوگوں نے ہمیں کیوں کاٹ پھینکا ؟ بہرکیف اس روز منافق لوگ اہل ایمان سے اپنے دنیاوی تعلقات جتلائیں گے اور ان سے زور دے کر اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے ؟ روزے نہیں رکھا کرتے تھے ؟ تمہارے ساتھ جمعوں اور جماعات میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے ؟ حج اور زکوٰۃ نہی ادا کرتے تھے ؟ تمہاری مجلسوں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے ؟ وغیرہ وغیرہ، یعنی یہ سب کچھ جب تھا اور یقینا تھا تو پھر آپ لوگوں نے آج ہم سے اس طرح منہ کیوں پھیرلیا ؟ اور ہمیں اندھیروں میں کیوں چھوڑدیا ؟ سو اس سے ان بدبختوں کی بدحالی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 56] منافقین کی فریاد و پکار کے جواب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ منافقوں کو اپنی فریاد و پکار کا اہل ایمان کی طرف سے یہ جواب لے گا کہ ہاں۔ یعنی یہ سب کچھ تو تھا اور ضرور تھا۔ لیکن تم لوگوں نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈال رکھا تھا۔ منافقت، دھوکہ بازی، اور فریب کاری، کے فتنے میں، اس لئے ظاہری اور جسمانی طور پر ساتھ رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا، معلوم ہوا کہ اصل تعلق اور ساتھ وہ ہے جو دل سے اور عقیدہ و ایمان کی بنیاد پر ہ، بہرکیف اہل ایمان کی طرف سے ان منافقوں کو جواب ملے گا کہ تم لوگ ظاہری طور پر اگرچہ ہو ہمارے ساتھ تھے، لیکن تمہارے دل ہمارے ساتھ نہیں تھے، بلکہ تم لوگ انہی فتنوں میں پڑے رہے تھے جن سے اللہ نے تم کو انکالنا چاہا تھا اور تم لوگ ایمان و اسلام کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود صدق دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ تمہاری وفاداریاں کفر اور کفار ہی کے ساتھ تھیں اور تم کفر و اسلام کے درمیان ہی مذبذب اور ڈانوا ڈول رہے تھے۔ ہولناک اور رسوا کن انداز میں، اور اس طور پر کہ ان کیلئے پھر نجات و گلو خلاصی کی کوئی صورت ممکن ہوگی، سو کفر و نفاق محرمیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 57] منافقت شیطان کا دھوکہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس ارشار سے واضح فرمایا گیا کہ اہل ایمان منافقوں سے مزید کہیں گے کہ تم کو اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا تھا اس بڑے دھوکے باز نے : یعنی شیطان نے، اور اس کا دھوکہ یہ کئی طرح سے تھا مثلاً یہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہی نہیں، بلکہ یونہی مٹ جائیں گے، کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اور یہ کہ اگر اٹھنا ہوا بھی تو اللہ ہمیں بخش دے گا کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، اور یہ کہ ہم بڑے اونچے لوگ، سید، اور صاحبزادے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں کوئی عذاب ہوگا ہی نہیں، اور یہ کہ ہم نے فلاں فلاں ہستیوں کے دامن پکڑ رکھے ہیں، ان کے نام کی نذر و نیاز دے دیتے ہیں بس وہ ہمیں کافی ہیں، ہمیں کسی عمل وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں، ان ہستیوں کا دامن گرفتہ ہوجانا ہی ہمارے لئے کافی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ انہی خوش نصیبوں میں فرصت عمر تمام ہوگئی، اور تم وہاں خالی ہاتھ پہنچے، بہرکیف اس سے واضح فرمادیا گیا کہ اہل ایمان اس روز منافقوں کی اس فریاد و پکار کے جواب میں ان سے کہیں گے کہ تم لوگ زندگی بھر شک میں پڑے رہے، ہمیشہ موقع پرستی اور منافقت میں مبتلا رہے، اور ابلیس نے تم لوگوں کو طرح طرح کے فتنوں، فریبوں، اور جھانسوں، میں محورمگن رکھا۔ جس کے نتیجے میں تم لوگ اپنی منافقانہ پالیسی ہی کو صحیح اور درست سمجھتے رہے، یہاں تک کہ تم لوگ اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو اب تم بھگتان بھگتو اپنے لیے کرائے کا کہ اب تمہارے لیے نجات کی بہرحال کوئی صورت ممکن نہیں تب ان کی یاس و حسرت کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ۔
Ayah 57:15[ 58] اہل کفر و نفاق دونوں کا ٹھکانا دوزخ، والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کافروں اور منافقوں دونوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا، والعیاذ باللّٰہ، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز منافقوں سے کہا جائیگا کہ اب نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائیگا اور نہ کھلے کافروں سے، اب تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہارا ساتھی ہے، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے سو وہ اس روز ان دونوں کیلئے روزخ کا اعلان ہوجائے گا تب ان کیلئے کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ قیامت کے روز اللہ پاک ایک کافر سے پوچھے گا کہ اگر تجھے دنیا بھر کی اور اس کے ساتھ کئی گنا اور بھی دولت مل جائے تو کیا تو اسے آج کے اس عذاب کے بدلے میں دینے کے لئے تار ہے ؟ تو وہ عرض کرے گا ہاں ضرور اے میرے رب، اس پر اللہ پاک ارشاد فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے اس سے بہت چھوٹی اور آسان سی بات کہی تھی، اور تجھ سے اس کا عہد بھی لیا تھا جب کہ تم اپنے باپ آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرتا، مگر تو نے اسے نہ مانا [ روح المعانی وغیرہ ] سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شرک کس قدر بڑا گناہ اور کتنا بھیانک اور سنگین جرم ہے، اور اس کے مقابلے میں توحید کا عقیدہ کتنی عظیم الشان نعمت اور کیسی بےمثال دولت ہے، اے اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہمارے جسم و جان کے رگ و ریشے میں توحید کو پیوست فرما دے، اور شرک کے ہر شائبے سے ہمیں ہمیشہ کیلئے اور ہر طرح سے بچائے رکھ، آمین ثم آمین یا رب العالمین بہرکیف اس ارشاد سے اہل کفر و نفاق دونوں کی قطعی مایوسی اور نا امیدی کا اظہار و اعلان فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اب نہ تم لوگوں سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ کھلے کافروں سے، تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جہاں تم سب کو ہمیشہ رہنا ہوگا، اور وہ ہی بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 57:16[ 59] ایمان کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی :
سو اس ارزاد سے ایمان کے تقاضوں کی تذکیر و یاد دہانی اور ایمان کے دعویداروں سے ایمان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تحریک وتحریض فرمائی گئی ہے " یان "، " انا " سے مشتق ہے جس کے معنی وقت کے آتے ہیں باب اس کا ضرب آتا ہے۔ انیٰ یانی واناء وانائً اذا جاء اناہ ۔ یعنی اس کا وقت آگیا۔ [ قرطبی، مراغی، صفوۃ اور محاسن وغیرہ ] سو اس میں ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑا جا رہا ہے جو زبانی کلامی ایمان کے دعوے کرتے ہیں کہ اب تم اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرو، کہ اسکا وقت آگیا ہے، یہاں پر قرآن حکیم کی صفت و شان یعنی ذکر اللہ سے مراد اس کی وہ تنبیہات ہیں جو ان مخاطرہ مہالک سے آگاہ کرنے کیلئے نازل فرمائی گئی ہیں، جن سے ان لوگوں کو دنیا و آخرت دونوں میں لازماً دو چار ہونا پڑے گا، جو حق سے اعراض و روگردانی کیلئے بہانے ڈھونڈتے ہیں، اور حق سے وہ اصول اور کلیات مراد ہیں جن کو قرآن نے ازسر نو باطل سے الگ کر کے اجاگر کیا ہے، والحمدللّٰہ جل وعلا۔ بہرکیف [ الم یان ] کا استفہام تقریر و تحضیض کیلئے ہے یعنی ان کے دلوں کو حق اور اس کے تقاضوں کے آگے جھک جانا چاہیے کہ یہی حق کا تقاضا ہے اور اسی میں خود ان کا بھلا ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی جو کہ اس دنیا کے بعد آنے والا ہے اور جو ابدی اور دائمی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 60] دلوں کا حق کے آگے جھک جانا تقاضائے عقل و نقل :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ جھک جائیں ان کے دل اللہ کے ذکر کے آگے۔ تاکہ اس کی یاد دلشاد اور اس کے نام پاک کی عظمت و خشیت سے ان کے دلوں کی دنیا معمور و آباد ہو سکے، کہ دلوں کی زندگی اسی کی یاد دلشاد سے ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، ذکر اللہ سے یہاں پر مراد، قرؤن حکیم ہے جو کہ اللہ پاک کے ذکر اور اس کی یاددلشاد کا سب سے بڑا اور سب سے عمدہ اور موثر ذریعہ ہے، پس ایمان والوں کو چاہیے کہ ان کے دل اس کے آگے جھک جھک جائیں، یہی تقاضا ہے عقل اور نقل کا اور اسی میں بھلا ہے انسان کا ادنیا کی اس عارضی اور نافی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھیجو اس کے بعد آنے والا ہے ورنہ محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 61] حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جھک جائیں اس حق کے سامنے جو کہ نازل ہوچکا ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی قرآن حکیم کے سامنے جو کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی پھٹ پڑتا، اور اس کے آگے جھکنے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی باگیں اس کے ہاتھ میں دے کر اس کے اوامر نواہی کے عین مطابق چلیں، اور صرف ظاہری طور پر نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہو، عقیدہ و ایمان کی پختگی و مضبوطی کے ساتھ، اور یہی راہ ہے رادین کی سعادت و سرخروئی کی، یہ استفہام انتہاء درجہ کی تحضیض و ترغیب کے طور پر ہے، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نزول قرآن کے تیرہ سال بعد اس آیت کریمہ سے اہل ایمان کو عتاب فرمایا گیا [ جامع و خازن وغیرہ ] تو پھر اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج پندرہ صدی بعد کے مسلمان کس درجہ اس کے مورد و مصداق اور مستحق ہیں ؟ [ تفسیر المراغی وغیرہ ] بہرکیف اس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح اور آشکار ہوجاتی ہے کہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور یہ اب صرف اور صرف قرآن پاک کی صورت ہی میں دنیا میں موجود ہے۔ کیونکہ وحی الٰہی اب صرف قرآن پاک کی صورت ہی میں مل سکتی ہے، اور قرآن حکیم کی شرح اور اس کی اولین تفسیر حدیث رسول ہے، اور قرآن و حدیث کے انہی دو عظیم الشان اور بےمثال ومقدس ذخیروں کا مجموعہ اسلام کہلاتا ہے۔ پس دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اب صرف قرآن پاک اور احادیث رسول کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی سے نصیب ہوسکتی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 62] گمراہوں کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
ارشاد فرمایا گیا اور گمراہوں کے طور طریقوں سے بچنے کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ان لوگوں کی طرف نہ جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ یعنی یہود و نصاری۔ پس تم ان کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے انبیاء کرام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اپنی اہواء اغراض اور خواہشات نفس کی پیروی کو اپنا لیا، سو اس ارشاد سے گمراہوں اور خواہشات نفس کے پجاریوں کے طور طریقوں سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، کہ ایسے گمراہوں اور اتباع ہو و ہوس کے مریضوں کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ جیسا کہ پہلوں کے ساتھ ہوا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
[ 63] قسوت قلب محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی ان کے اور ان کے انبیاء کے درمیان، جس سے یہ غفلت کا شکار ہوگئے، اور اس کے نتیجے میں وہ راہ حق و صواب سے بھٹک گئے، اور اپنے اس مرتبہ و مقام سے محروم ہوگئے، جو حامل کتاب اور دین سماوی کے حامی اور علمبردار ہونے کے اعتبار سے ان کو حاصل تھا، اور اس طرح یہ لوگ دنیاو آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ، سو تم لوگ اے مسلمانو ! کہیں ان محروم اور بدبخت لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا، ورنہ وہی انجام تمہارا بھی ہوگا جو ان لوگوں کا ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے ایک اور سب یکساں لاگو ہوتا ہے۔ سو قسوت قلب محرومیوں کی محرومی ہے۔ اور یہ ایک مستقل سزا ہے جو حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے قانون مجازات کے مطابق ماضی کے ان بدبختوں کو دی گئی جس کا ذکر دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا گیا ہے۔ { فبما نقضہم میثاقھم لعنھم وجعلنا قلوبھم قسیۃً } [ الایۃ ] [ المائدۃ : 13 پ 6] ۔ یعنی " ایسوں کے دلوں کو ہم نے سخت کردیا "۔ یعنی ہمارا قانون و دستور اور ہماری سنت اور طریقہ یہی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں اور ان پر ٹھپ لگا ریتے ہیں جس سے وہ ہر خیر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ حق پر ثابت قدم، اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 64] غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ قسوت قلب۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں پر ایک لمبا زنامہ گزر گیا اور وہاسی غفلت و لاپرواہی میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے دل سخت ہوگئے، اور قسوت قلوب کی بیماری ان کے دلوں کی دنیا پر چھا گئی، اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ قبول حق و ہدایت کی اہلیت اور صلاحیت کی محروم ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، قسوت قلب کا نتیجہ و انجام محرومی و ہلاکت اور بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے، چناچہ یہ لوگ عیش و عشرت اور غفلت و لاپرواہی میں پڑے رہے، اور ان پر ایک لمبی مدت اسی طرح گزرگئی جس کے نتیجے میں انکے دل سخت ہوگئے۔ اور یہ قبولیت حق کی اہلیت ہی سے محروم ہوگئے، اور اس کے نتیجے میں وہ لوگ اپنی کتابوں اور اپنے دین کی تعلیمات مقدسہ کو پس پشت ڈال کر دنیا کے پیچھے لگ گئے، والعیاذ باللّٰہ۔ ان کے دل ایسے سخت ہوگئے کہ حق بات اب کے دلوں میں اترتی ہی نہیں تھی، اور وہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے، یہاں تک کہ وہ خواہشات نفس کے ایسے پیرو اور پرستار بن گئے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو بھی اپنی خواہشات کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ کردیا، اور اس طرح انہوں نے نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے اور دوسروں کو محروم کرنے کے دوہرے جرم کا ارتکاب کیا، اور اس کے نتیجے میں وہ " خسر الدنیا والاخرۃ " کا مصداق بن گئے، جو کہ سب سے بڑا اور حقیقی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کسی امر حق کے بارے میں کسی شبہ اور ترد کا پیدا ہوجانا کوئی تعجب اور اچنبھے کی بات نہیں، اور کچھ عرصے تک ایسی حالت کا باقی رہنا بھی کوئی قابل ملامت چیز نہیں۔ یہ چیز ایک نیک اور صحیح العقیدہ انسان کے اندر بھی پیدا ہوسکتی ہے، لیکن اصل خرابی اس میں ہے کہ کوئی شخص ایسے شبہادت کو اپنے دل میں پکا کرلے اور ان ہی کی آڑ لے کر اپنے اندر حق کی آواز کو دبانا شروع کر دے اور برابر دباتاہی جائے اور باطل سے چمٹے رہنے کیلئے بہانہ جوئی سے کام لینے لگے، تو سنت الٰہی کے مطابق ایسا شخص قبول حق کی صلاحیت ہی سے محروم اور حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے مہر جباریت کا حق دار بن جاتا ہے۔ کیونکہ حق تعالیٰ نعمت حق کی ناقدری کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الکقران والخذلان۔
Ayah 57:17[ 65] بچھونہء ارضی میں دعوت غور و فکر :
سو ارشاد فرمایا گیا اور زور دار انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو تم اے لوگو ! کہ اللہ ہی زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد جسم تو محض اس کے لئے ایک مرکب اور سواری ہے۔ سو اسی طرح وہ مردہ دلوں کو زندگی بخشنے کے لئے وحی کی مقدس بارش نازل فرماتا ہے، جو کہ اس کا بہت بڑا کرم و احسان ہے، کہ اس سے دلوں کی دنیا کی زندگی وابستہ ہے، اور ظاہر ہے کہ جب وہ تمہاری جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس طرح کے پُر حکمت نظام کے تحت یہ ظاہری بارش برساتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضروریات کی تکمیل کے لئے وحی کی روحانی بارش کا انتظام نہ فرمائے ؟ جبکہ جسم و روح میں سے اصل چیز روح ہی ہے، سو اس نے اس کا انتظام فرمایا اور بدرجہء تمام و کمال فرمایا، اب جو لوگ وحی کی اس مقدس و مبارک بارش سے منہ موڑیں گے وہ اپنی ہی تباہی اور ہلاکت و بربادی کا سامان کریں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز زمین کی اس زندگی اور موت سے تمہارے سامنے بعث بعد الموت کے امکان اور اس کے وقوع کا نمونہ بھی بار بار پیش آتا ہے تو پھر تم لوگ دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کیوں کرتے ہو ؟ اور اس کو آخر مستعبد کیوں سمجھتے ہو جبکہ اسکا نمونہ اور مظہر تم لوگ اپنے پیش پا افتادہ اس بچھونائے ارضی میں خود دیکھتے ہو اور کھلی آنکھوں اور بار بار دیکھتے ہو ؟ سو بچھونائے ارضی میں عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت موجود ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے وجود باوجود اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت و عنایت شاملہ پر دلالت کرتے ہیں، مگر ان لوگوں کیلئے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں، اور وہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہونا چاہتے ہیں۔ ورنہ محض حیوانی آنکھوں اور شہوات بطن و فرج کی تکمیل کرنے والی عینک سے دیکھنے والوں کیلئے نہ کوئی درس میں ارشاد فرمایا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { وفی الارض ایاتٌ للموقنین } [ الذاریات : 20] وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayah 57:18[ 66] انفاق فی سبیل اللہ سراسر نفع کا سودا :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انفاق فی سبیل اللہ خسارے کا نہیں سراسر نفعے کا سودا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جو قرض دیں اللہ کو اچھا قرض۔ کہ مال بھی صحیح ہو، اور نیت بھی خالص ہو کہ مقصد صرف اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی ہو، دوسری کسی غرض کا اس میں کوئی شائبہ نہ ہو، اور نہ ہی وہ اس کے بعد اس کا کسی پر احسان جتلائے سو ایسا انفاق قرض حسن کہلائے گا، اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کے اس مضمون کو ایک دوسرے سے پہلو سے اجاگر فرمایا گیا ہے، جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 11 میں آچکا ہے، اور منافقین کو اس پر ابھارا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خسارے کا سودا نہیں، بلکہ یہ ایک نہایت ہی نفع بخش کاروبار ہے، کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کے دئیے کو محفوظ رکھتا ہے اور ان کو کئی گنا بڑھا کر اجر وثواب سے نوازتا ہے۔ سو انفاق فی سبیل اللہ ایک عظیم الشان سعادت ہے جس کا فائدہ خود خرچ کرنے والے کو ملتا ہے اور کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ اور آخرت کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں ملتا ہے جہاں کہ انسان زیادہ محتاج ہوگا۔ اور اس سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے اور کئی صورتوں میں ملتا ہے کہ اس سے مصیبتیں نہیں ٹلتی ہیں، اور برکتیں ملتی ہیں وغیرہ، والحمدللّٰہ رب العالمین۔
[ 67] کئی گنا زیادہ اجر کی عنایت و بشارت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کو کئی گنا بڑھ کردیا جائے گا کہ ایک کا دس گنا، سو گنا، سات سو گنا، اور اس سے بھی کہیں زیادہ، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ بدلہ اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ہے جس کے کرم کی کوئی حد و انتہائی نہیں، سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس کے باوجود جو اس ذات اقدس و اعلیٰ سبحانہ و تعالیٰ ، کو قرض نہ دے اور اس سے کئی کترائے اور ہچکچائے تو، اس سے بڑھ کر محروم اور بدنصیب اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ جل وعلا، یہاں پر اس انفاق کیلئے صدق اور قرض کے دو لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں، سو اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صدقہ تو ایسے حضرات کی مستقل اور دائمی صفت ہوتی ہے، اور قرض کا تعلق کسی ہنگامی ضرورت میں تعاون و امداد سے ہے، سو ایسے لوگ یوں بھی ہمیشہ صدقہ خیرات کرتے ہیں اور کسی ہنگامی ضرورت کیلئے بھی وہ فراخ دلی کے ساتھ تعاون امداد کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، جل و علا،
[ 68] اجر کریم کے وعدہ و انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے ایک بڑا ہی عمدہ اجر بھی ہے۔ یعنی جنت [ فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] جس کی عمدگی اور عظمت شان کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اور جس میں اس اکرم الاکر میں نے اپنے بندوں کیلئے وہ وہ کچھ تیار کر رکھا ہوگا، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوا جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، سو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خسارے کا سودا نہیں بلکہ بڑا ہی نفع بخس کاروبار ہے اور ایسا عظیم الشان نفع اور بےمثال انعام کہ اسی غنی مطلق وحدہٗ لاشریک کے نام پر اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے دیا بخشا ایک ایک پیسہ محفوظ ہوگا، اور وہ اکرم الاکرمین اس کو بڑھاتا جائے گا اور تنا اور اس قدر کہ وہ اس کو ایک عظیم الشان اور لازوال خزانے کی شکل میں واپس کرے گا، اور اس کے علاوہ وہ اس کو ایک اجر کریم سے بھی نوازے گا۔ سو وہ کرم ہی کرم اور کرم بالائے کرم سے نوازے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ، پس اس کے نام پر اور اس کی رضا کیلئے دینے اور دیتے ہی رہنے کی ضرورت ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayah 57:19[ 69] ایمان باللہ سعادت و کامرانی کی اصل اساس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ سچے سل سے ایمان لائے اللہ پر یعنی اس کے وجود باجود اور اس کی وحدانیت مطلقہ پر، اس کی صفات و کمالات پر، اور اس کے حقوق و اختیارات پر، کہ اس ساری کائنات کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی تنہا وہی، اور اس سب پر حکم اور تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے، ان میں سے کسی بھی چیز میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، سو صلاح و فلاح کی اساس و بنیاد ایمان و یقین کی اولین اساس و بنیاد اللہ پر ایمان و یقین ہے، جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس خالق کل اور مالک مطلق پر ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والی دولت ہے جس کے بغیر نہ انسان کی دنیا بن سکتی ہے اور نہ اس کی آخرت سنور سکتی ہے۔ فزدنا اللّٰہم ایمانًا بک ویقنًا وحبا فیک واطاعۃ لک ووفقنا لما تحبت وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین ،
[ 70] ایمان باللہ کا ذریعہ ایمان بالرسل :
سو ارشاد فرمایا گیا اور وہ ایمان لائے اس کے رسولوں پر، کہ وہ سب کے سب سچے تھے، خود بھی اور ان کے پیغام بھی، جن کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا اور حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوگیا، اور اب فلاح و نجات کا دار و مدار صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی اتباع و پیروی ہی میں ہے، کہ آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد گزشتہ تمام انبیاء کرام کی شریعتیں منسوخ ہوگئیں، جس کو دین حنیف میں طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے، مثلاً حضور ﷺ کا ایک ارشاد ہے کہ آج اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، سو ایمان باللہ سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان بالرسل ہی ہے۔ کیونکہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں ہی کے ذریعے معلوم ہوسکتا ہے کہ اللہ کیسا ہے اس کی صفات کیا ہیں، اور اس کے حقوق و اختیارات کیا ہیں، اور اس کی اطاعت و بندگی کے طور طریقے کیا ہیں، ورنہ کسی بھی دوسرے ذریعے سے معرفت خداوندی سے سرفرازی ممکن نہیں۔ اور اب اس کا خلاصہ اس شریعت مقدسہ کی صورت میں موجود ہے جس کا امام الرسل، خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے، اور جو اب قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ سو اب ہدایت و نور کا منبع ومصدر یہی ہے۔ اس کے سوا حق و ہدایت کا دوسرا کوئی ماخذ ومصدر سرے سے ہے ہی نہیں، پس جو لوگ اس سے محروم ہیں وہ نور حق و ہدایت سے محروم اور سراسر اندھیروں میں مستغرق ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، جل وعلا،
[ 71] صدیقین اور شہداء کی نشاندہی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں صدیق اور شہید ان کے رب کے یہاں۔ جیسا کہ امام تفسیر حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں " کل مومن صدیق " [ ہر مومن صدیق ہے ] [ جامع، خازن، کبیر وغیرہ ] یعنی ایسے خوش نصیب حضرات نے صدیقیت اور شہادت فی سبیل اللہ کے مراتب عالیہ کو اپنے لئے جمع کردیا، اور حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے مومن سب کے سب شہید ہیں، مومنو امتی شھدائ۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی [ ابن کثیر، مدارک، صفوہ وغیرہ ] یہاں پر " والشھدآئ " کے عطف کے بارے میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس کا " الصدیقون " پر ہے اور اوپر کی تفسیر اسی احتمال پر مبنی ہے، اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ مبتداء " ھو " اور " عند ربھم " اس کی خبر اور یہ جملہ مستانفہ، ہو اور پہلا جملہ " الصدیقون " پر پورا ہوجائے، یہاں پر یہ سلسلہ گفتگو چونکہ انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں چل رہا ہے اس لئے اس سے ازخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ فراخ دلی سے اپنے مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں وہی دراصل صدیق اور شہیدا اور اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ سو اس صدیقین اور شہیدا کی نشاندہی فرما دی گئی کہ یہ وہ خوش نصیب ہیں جو ان صفات سے موصوف و متصف ہیں بس اصل چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے یہاں قدر و قیمت اور اس کا وزن ہے وہ ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم اور ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین،
[ 72] صدیقین اور شہداء کے اجر وثواب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے انکا اجر ہے ان کے رب کے یہاں، اور ظاہر ہے کہ یہ ایسا عظیم الشان اجر ہوگا جو ان کے مرتبہ و مقام اور ان کے اخلاص و ایمان کے مناسب ہوگا، اور ان کے ایمان و اخلاص کے درجات و مراتب سے ان کا رب پوری طرح آگاہ اور واقف ہے، اس لئے وہ ان کو اسی کے مطابق نوازے گا، سو اللہ تعالیٰ کے یہاں شہداء اور صدیقین کیلئے جو درجات و مراتب مقرر ہیں، وہ ہر داعیء ایمان کو حاصل نہیں ہوجائیں گے، بلکہ یہ انہی نیک بختوں کو نصیب ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا پکا ایمان رکھتے ہوں گے، اور وہ اپنے عمل و کردار سے اپنے دعویء ایمان کا ثبوت پیش کریں گے، یہاں پر جیسا کہ ابھی اوپر ذکر ہوا چونکہ خاص طور پر زیر بحث انفاق فی سبیل اللہ کا معاملہ ہے اس لیے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ دین حق کی نصرت کیلئے فراخ دلی سے اپنے مال خرچ کریں گے، وہی لوگ درحقیقت اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں، اور انہی کو صدیقین اور شہداء کے زمرے میں شریک و شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوگی، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سو بات صرف زبانی کلامی دعو وں کی نہیں بلکہ اس کیلئے عمل و کردار کا ثبوت بھی چاہیے اسی سے دعویء ایمان کی صداقت کا پتہ چلتا ہے۔
[ 73] صدیقین اور شہداء کے لئے ان کے نور کی بشارت :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کے لئے ان کا نور ہوگا : جو ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا جیسا کہ اوپر آیت نمبر 11 اور نمبر 12 میں ارشاد فرمایا گیا ہے اور جو مختلف درجات و مراتب پر ہوگا، ان کے ایمان و یقین کی قوت اور اس کے درجات کے اعتبار سے، اور ان کے ان اعمال کے لحاظ سے جو یہ زندگی بھر کرتے رہے تھے، جیسا کہ اوپر آیت نمبر 11 اور 12 میں پوری تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے سو یہ اجر و نور انہی بندگان صدق و صفا کو نصیب ہوگا، جو اپنے دعویٰ ایمان و یقین میں سچے اور پکے ہوں گے، اور جو اپنے عمل و کردار سے اپنے اس دعوے کی صداقت کا عملی ثبوت فراہم کریں گے، ہر مدعی ان کا حقدار نہیں بن جائے گا۔ سو ایسے ہی مخلص اور صداقت شعار مقصد حق کی شہادت دینے کے اہل ہوتے ہیں اور ایسے ہی مردان حق و صدق سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ابتلاء و آزمائش کے موقع پر شہادت حق کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کردیں گے۔ اسلام میں اس وصف کے سب سے نمایاں مصداق سیدنا صدیق اکبر ؓ ہیں۔ جنہوں نے ہر نازک سے نازک دور میں اپنے ایمان و اقرار کی صداقت اور پختگی کا ثبوت اپنے عمل و کردار سے دیا اور ایسا کہ وہ تاریخ کا ایک روشن باب اور انہی کا حصہ ہے، اور اس کے بعد دوسرے وہ بندگان صدق و صفا بھی جو اپنے اپنے درجات کے مطابق انہی کے نقش قدم پر چلے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کی اتباع اور پیروی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 74] کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دائمی دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہ یار ہوں گے دوزخ کی دیکتی ہوئی آگ کے۔ جس میں ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے رہنا ہوگا کہ وہ ان کے مناسب اور اس کے لائق ہیں، اس لئے کہ انہوں نے ایمان و یقین کی راہ حق و صواب اور نور حق و ہدایت سے منہ موڑا، اور کفر و تکذیب کی راہ کو اپنایا، جو کہ دوزخ کی راہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو کفر و انکار اور تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال دوزخ کی ہولناک آگ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم اور ایسا کہ یہ اس سے کبھی چھوٹنے اور نکلنے بھی نہیں پائیں گے، اور ان کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ کا صاحب اور ساتھی، یعنی یار اور دوست فرمایا گیا ہے، سو جس طرح ایک ساتھی اپنے ساتھی کے ساتھ رہتا ہے، اسی طرح یہ بدبخت دوزخ کے ساتھی اور اس کے یار ہوں گے، اور وہ ان کی ساتھی اور یار ہوگی، نہ وہ ان کو چھوڑے گی اور نہ ہی یہ اس سے کسی طرح الگ ہو سکیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم بہرکیف اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے کفر و انکار سے کام لیا اور انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ سب دوزخی ہیں جہاں ان کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کے نتیجے میں ہمیشہ رہنا پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر موقع کلام دلیل ہے کہ جن لوگوں نے اگرچہ زبان سے تکذیب نہیں کی لیکن اپنے عمل و کردار سے انہوں نے تصدیق بھی نہیں کہ، بلکہ ان کا عمل و کردار اس کے برعکس رہا ہو وہ بھی اسی حکم کے عموم میں داخل ہیں جیسا کہ آج دنیا میں ہو رہا ہے کہ کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جو اسلام کا نام تو لیتے ہیں لین ان کا عمل ان کے پاس دعوائے ایمان کے بالکل خلاف اور برعکس ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ایسے لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے، جگہ جگہ سجدے اور طواف کرتے، غیر اللہ کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے، نماز روزے کا ان کے یہاں کوئی اہتمام نہیں۔ طرح طرح کی محرمات کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔ سو وہ دھڑلے سے کھاتے اور اس کی وکالت اور طرف داری کرتے ہیں، جواء کھیلتے اور شراب پیتے اور توبہ و استغفار سے غافل و لاپرواہ، حق اور اہل حق سے دور نفور وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر ایمان و اسلام کیا ہوا ؟ اور دینداری کس چیز کا نام ہوا ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، جل جلالہ وعم نوالہ۔