56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

تو کیا تم لوگ اسی کلام (صدق نظام) سے لاپرواہی برت رہے ہو ؟1

[ 69] منکرین قرآن کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے رویے پر تعجب اور افسوس کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اس کلام کے بارے میں لاپرواہی برتتے ہو ؟ کہ کوئی اس کی توہین و تکذیب کرے اور تمہیں ٹس سے مس نہ ہو، کیا ایسے لازوال و بےمثال اور عظیم الشان کلام کا متقضاء یہی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، " مدھنون، ادھان " سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی چیز کے بارے میں اغماض، لاپرواہی، بےنیازی، اور سہل انگاری برتنے کے آتے ہیں، سو قرآن حکیم کی عظمت شان کو واضح کرنے کے بعد بانداز تعجب یہ سوال کیا گیا کہ کیا تم لوگ اس کلام حق ترجمان کے بارے میں ایسی لاپرواہی برتت ہو اور اس کو تم کاہنوں کی طرح کا کلام قرار دے کر نظر انداز کرتے ہو، تم لوگ کتنے بدذوق، بےبصیرت، اور بےانصاف اور ناشکرے لوگ ہو، اور اپنے اس طرز عمل سے تم لوگ اپنے لیے کس قدر سخت محرومی اور ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہو ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکرین کے رویے پر اظہار افسوس و تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس کتاب کو تمہارے رب نے اس قدر اہتمام کے ساتھ اور تمہاری ہدایت و راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے اس سے تم لوگ اس طرح منہ موڑتے اور لاپرواہی برتتے ہو۔ یہ کس قدر بےقدری اور کتنی بڑی ناشکری اور محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayahs 56:82–83

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور تم نے اپنی روزی ہی یہ بنا رکھی ہے کہ تم اسے جھٹلاتے جاؤ ؟

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

سو کیوں نہیں ہوتا (اس وقت) جب کہ روح (جان کنی کے موقع پر) حلق کو پہنچ جاتی ہے

[ 70] انکار و تکذیب حق پر منکرین کی تحمیق و تجہیل کا ذکر وبیان : سو منکرین سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے اس کی تکذیب کو اپنی روزی بنا رکھا ہے اور تم لوگ اس کے جھٹلانے پر ہی کمر بستہ ہو تو کیا اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی بخشش و عطا اور اپنے منعم حقیقی کی نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہی ہے کہ تم اس کے کلام کی تکذیب کرو ؟ یا روق کے معنی یہاں پر " حظ " اور نصیب کے ہیں۔ یعنی کیا قرآن پاک کے بارے میں تم نے اپنا حصہ اور نصیب یہی بنا رکھا ہے کہ بجائے ماننے اور ایمان لانے کے تم اس کی تکذیب کرو ؟ [ محاسن، خازن، ابن کثیر، وغیرہ ] نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ رزق سے مراد خود وحی الٰہی یعنی قرآن حکیم ہے۔ کیونکہ یہ قلب و روح کی غذا اور روزی ہے اور قدیم صحیفوں میں وحی الٰہی کو جگہ جگہ روق ہی سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور خود قرآن حکیم میں بھی اس کے کئی ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ جیسا کہ سورة انفال کی چوبیسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ لبیک کہو " تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر جبکہ وہ تم کو بلائے اس چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے "۔ سو اس صورت میں آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مائدہ آسمانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تم حیات جادواں پاس کو مگر تم ہو کہ اس کو جھٹلاتے ہو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وھو الھادی الیٰ سواء الصراط۔
Ayahs 56:84–86

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت (پاس بیٹھے) دیکھ رہے ہوتے ہو ؟

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم (اس وقت) اس کے تم سے بھی کہیں زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

سو اگر واقعی تمہارا کوئی حساب کتاب ہونے والا نہیں

[ 71] وقت نزع کی تذکیر و یاددہانی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور نزع کے وقت انسان کی بےکسی اور بےبسی کی تصویر کا ذکر وبیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب روح حلق کو پہنچ جاتی ہے اور اس وقت تم دیکھ رہے ہوتے ہو یعنی تم دیکھ رہے ہوتے ہو، جانکنی کے اس منظر اور موت کی اس سختی کو جس سے مرنے والا دوچار ہوتا ہے، مگر تم کچھ نہیں کرسکتے، حالانکہ وہ تمہارے سامنے ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے { والتفت الساق بالساق الیٰ ربک یومئذً ن المساق } اور ہمارے فرشتے تمہارے سامنے اس کی جان قبض کر رہے ہوتے ہیں، اور تم لوگ اس وقت عاجزی اور بےچارگی کی تصویر بنے اس کے پاس کھڑے ہوتے ہو، تو پھر تم لوگ کس طرح کس منہ سے، اور کس اساس و بنیاد پر کہتے ہو کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں، اور ہم دنیا میں جو چاہیں کریں کوئی حساب کتاب ہونے والا نہیں وغیرہ وغیرہ، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، سو تم لوگ خاتمہء حیات اور نزع کے اس وقت کو ہمیشہ یاد رکھو، اور اس کیلئے تیاری کرو، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 56:87

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو تم اس (روح) کو لوٹا کیوں نہیں دیتے اگر تم سچے ہو2

[ 74] منکرین کے عجز اور ان کی بےبسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کے عجز اور بےبسی کے اظہار وبیان کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تملوگ اس جان کو لوٹا کیوں نہیں دیتے اگر تم سچے ہو ؟ یعنی اپنی اس بات میں کہ نہ تم کسی کے محکوم ہو، اور نہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھتا ہے اور نہ کوئی حساب کتاب ہونا ہے، اور جب تم اتنے عاجز اور اس قدر بےبس ہو تو یقین جان لو کہ تمہارے اوپر ایک ایسی قادر مطلق ہستی موجود ہے، جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں تمہاری ہر چیز کی باگ ڈور ہے، پس اس پر ایمان لا کر تم اس کی پکڑ سے بچنے کی فکر کرو، اسی میں تمہاری خیر اور تمہارا بھلا ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ ورنہ اس حقیقت کے انکار سے تم لوگ اپنا ہی نقصان کرو گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 56:88

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر اگر وہ مرنے والا مقربین میں سے ہوگا

[ 75] مقربی کے لیے ابدی راحت و سرور کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مقربین کے لئے ایک عظیم الشان راحت اور ابدی سرور ہوگا یعنی تنوین تعظیم کے لئے ہے سو جو مقربین میں سے ہوگا اس کے لئے ایک ایسی عظیم الشان راحت ہوگی جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ وہاں کی ہر چیز اور ہر نعمت اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان ہوگی کہ اس دنیا میں کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اللہ نصیب فرمائے، آمین، بہرکیف اس سے ان منکرین کا رد فرما دیا گیا جو کہتے ہیں کہ زندگی تو بس دنیاوی زندگی ہے اور بس اس کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ سو اس کے رد میں فرمایا گیا کہ تم لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ جو مرگیا ختم ہوگیا اور اس کا قصہ ہمیشہ کے لئے تمام ہوگیا، سو ایسے نہیں بلکہ اس کے برعکس اصل صورتحال یہ ہے کہ زندگی کا اصل اور حقیقی مرحلہ اس کے بعد ہی آئے گا، پس مرنے والا اگر مقربین میں سے ہوا تو اس کیلئے ابدی راحت و سرور کا سامان اور نعمتوں بھری جنت ہوگی، ریحان کے اصل معنی تو پھول کے ہیں لیکن یہ لفظ اپنے لوازم یعنی خوشبو اور سرور کیلئے بھی استعمال ہے اور یہاں پر یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayahs 56:89–90

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو اس کے لئے ایک عظیم الشان راحت عمدہ روزی اور نعمتوں بھری جنت ہوگی

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ دائیں جانب والوں میں سے ہوگا

[ 76] مقربین کیلئے عمدہ روزی کی بشارت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور عمدہ روزی و سرور بھی۔ ریحان کے معنی روزی کے بھی کیے گئے ہیں اور خوشبو و سرور کے بھی اور جیسا کہ اوپرے حاشیے میں بھی گزرا اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی اللہ پاک کی دو عظیم الشان نعمتیں ہیں، وہ ان سے وہاں پر اپنے فضل و کرم سے اپنے نیک بندوں کو نوازے گا اور سرفراز فرمائے گا جیسا کہ حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت میں ہے کہ انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے اس کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ اے پاکیزہ روح جو کہ اس پاکیزہ جسم میں رہی، تو نے اسے آباد رکھا پس اب تو نکل چل ایک عظیم الشان راحت و روزی اور اپنے اس رب کی طرف جو کہ غصے میں نہیں ہے۔ { فاخرجی الیٰ روحٍ و ریحان ورب غیر غضبان } [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] اور سنن ترمذی (رح) وغیرہ کی روایت میں ہے کہ ملک الموت جب کسی نیک بندے کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ان کے ساتھ پانچ سو ایسے فرشتے ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں خوشبو دار ڈالیوں کے گچھے ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ڈالی پر بیس رنگ ہوتے ہیں، اور ہر رنگ کی خوشبو دوسرے سے مختلف اور جدا ہوتی ہے، سو جنت کی اس خوشبو کے جلو میں ایسے خوش نصی حضرات کی روحیں قبض ہوتی ہیں، [ جامع البیان وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس اکرم الاکرمین کے انعام و اکرام اور بخشش و عطا کے، فلہٗ الحمد ولہ الشکر قبل کل شی وبعد کل شیء اے اللہ ! بےنہایت رحمت اور لامحدود و کرم والے اللہ ! محض اپنے فضل و کرم سے مجھے میرے بیوی بچوں کو اور میرے بہن بھائیوں میرے اساتذہ و مشائخ اور دوسرے تعلق داروں اور جملہ اہل ایمان کو اپنی ان عظیم الشان رحمتوں اور نعمتوں کا اہل بنا دے اور ان سے سرفراز فرما دے اور محض اپنے فضل و کرم سے ان کا اہل بنا دے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، [ 77] نعمتوں بھری جنتوں کی بشارت کا ذکر وبیان : سو مقربین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے نعمتوں بھری جنتیں ہونگی جن میں وہ سب کچھ ہوگا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی اور مقربین سے یہاں پر مراد وہی خوش نصیب ہیں جن کو اس سورة کریمہ کے شروع میں " السابقون " کے وصف کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے، [ القرطبی ] سو ان خوش نصیبوں کو انکے انتقال کے وقت ان تینوں نعمتوں کی خوشخبری سنا دی جائے گی [ جامع البیان وغیرہ ] جس سے وہ اللہ سے ملنا اور اس کے حضور حاضری و پیشی کو پسند کریں گے اور جس کو انتقال کے وقت یہ سعادت نصیب ہوگئی اس کا کام بن گیا، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین کیونکہ حدیث میں فرمایا گیا جو اللہ اس سے ملنا پسند کرے گا اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرے گا اللہ اس سے ملنا پسند کرے گا تو اس پر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اللہ سے ملنا اور اس کے حضور پیشی کا ذریعہ تو مرت ہے اور موت کو تو ہر کوئی طبعی طور پر ناپسند کرتا ہے، تو پھر اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ تو اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک آدمی جو جب وہاں پر ملنے والی نعمتیں دکھائی جاتی ہیں تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ مجھے جلد اللہ کے حضور لے چلو، جبکہ برے آدمی کو وہاں کے عذاب وغیرہ کے مناظر دکھائے جاتے ہیں تو وہ خوف کے مارے کہتا ہے مجھے کہاں لے جا رہے ہو ؟ تو اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 56:91–92

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو (اس سے کہا جائے گا کہ) سلام ہو تم کو کہ تم دائیں جانب والوں میں سے ہو

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا

[ 78] اصحاب یمین کیلئے سلام ہی سلام کی خوشخبری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہوگا تو اس سے کہا جائے گا سلام تمہارے لیے یعنی تمہارے بھائیوں کی جانب سے، نیز یہ کہ تمہارے لئے عذاب سے نجات و سلامتی ہے، اور تیسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سلام ہو آپ کو اے محمد ﷺ ، اصحاب یمین کی طرف سے کہ وہ عذاب سے بچ گئے اور نجات و سلامتی کی نعمت سے سرفراز ہوگئے، لہٰذا آپ ان کی فکر نہ کریں تو اس طرح آپ ﷺ کو خوشی نصیب ہوگی [ کبیر، محاسن، جامع، صفوۃ وغیرہ ] فصلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلیٰ الہٖ وصحبہ وسلم اور اس کا ایک اور مطلب جو بعض اہل علم نے بیان کیا ہے اور جو دل کو زیادہ لگتا ہے یہ ہے کہ یہاں پر کلمہء من کا تعلق سلام سے نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ لَکَ کی ضمیر خطاب کے بیان کیلئے ہے سو اس اعتبار سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ سلامتی ہو تیرے لئے اے صاحب یمین اور اس سلام اور سلامتی کے اندر وہ سب کچھ ہے جو اوپر اصحاب یمین کے مرتبہ سے متعلق بیان ہوا ہے سو اس سے اس کو ان تمام نعمتوں سے سرفرازی کی خوشخبری سنا دی جائے گی جو " اصحاب یمین " کیلئے مقرر ہونگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 56:93

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو اس کے لئے مہمانی ہوگی ایک کھولتے ہوئے ہولناک پانی سے

[ 79] اصحاب شمال کی اولین ضیافت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلانے والوں کیلئے کھولتے پانی کی ضیافت ہوگی۔ جو اس کو زقوم کے کھانے کے بعد پینا ہوگا، سو جس کافر و منکر کا انجام آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر دنیا جہان کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ اور وہ کس قدر محروم اور بدنصیب ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو تکذیب و انکار حق کا جرم بہت بڑا جرم ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک انجام ہوگا لیکن یہاں پر ان کا ذکر اصحاب شمال کے عنوان کی بجائے " المکذبین الضالین " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے تاکہ ان کے انجام کے ساتھ ساتھ اس کے اصل سبب اور باعث کا بھی ذکر ہوجائے جس کے نتیجے میں ان کو اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا اور یہاں پر " نُزُل " کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان بدبختوں کے کھولتے پانی سے یہ تواضح ان کی اولین ضیافت کی طور پر ہوگی اس کے بعد ان کو جہنم کے اصل عذاب میں جھونک دیا جائے گا کیونکہ نُزُل اس اولین ضیافت کو کہا جاتا ہے جو مہمان کے اولین قدوم اور ابتدائی آمد کے موقع پر اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے، حضرات اہل علم اس کی تعریف اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں " النزل ھو اول شی یقدم للضیف عند نزولہ " [ التسہیل لعلوم التنزیل ] سو جن بدبختوں کی نزول اور ان کی اولین ضیافت کا یہ حال ہوگا ان کی شقاوت و بدبختی کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
Ayah 56:94

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور اس کو گھسنا (اور داخل ہونا) ہوگا (دوزخ کی دہکتی) بھڑکتی آگ میں

[ 80] اصحاب شمال کا انجام دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کو گھسنا ہوگادوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جو کہ ان پر چاروں طرف سے چھا رہی ہوگی، اور جس میں ایسے منکروں اور کافروں کو ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا، سو کفر سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں کہ اس میں دارین کہ ہلاکت و تباہی ہے اور ایمان و یقین کی دولت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں کہ یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور واحد ذریعہ و وسیلہ ہیں بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کی اولین ضیافت کھولتے پانی سے ہوگی، اور اس کے بعد اصل عذاب کے لئے ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا جہاں یہ ہمیشہ ہمیش جلتے بھنتے رہیں گے اپنے اس کفر و انکار اور تکذیب و ضلالت کے نتیجے میں جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ سب کچھ (جو کہ ذکر وبیان ہوا) قطعی طور پر حق ہے

[ 81] یہ سب کچھ قطعی طور پر حق ہے : جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ سراسر حق اور یقین ہے اور یہ اضافت موصوف الی الصفۃ کے قبیل سے ہے، " ای الیقین الحق " جیسے " دار الآخرۃ " اور " الدار الآخرۃ " میں پایا جاتا ہے [ محاسن التاویل وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو باتیں اوپر بیان ہوئے ہیں یہ سب قطعی اور یقینی حقائق ہیں، ان میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، جو ہٹ دھرم ان کو نہیں مان رہے وہ اپنی ہی ہلاکت و بربادی اور دائمی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں لوگوں کے درمیان ان کے عقائد و اعمال کے اعتبار سے اس طرح تقسیم ہوگی اور لوگ اسی طرح مختلف گروہوں میں بٹ کر اپنے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پائیں گے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

پس تم تسبیح کرو اپنے رب کے نام (پاک) کی جو کہ بڑا ہی عظمت والا ہے1

[ 82] اپنے رب کے نام کی تسبیح کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی جو کہ بڑا ہی عظیم ہے کہ وہ پاک ہے ہر نقص و عیب سے اور ہر شک اور شرک کے شائبے سے، نیز وہ پاک ہے اس سے کہ اس نے اس کائنات کو یونہی بےمقصد پیدا کر لیاہو فسبحان اللّٰہ وبحمدہ و سبحان اللّٰہ العظیم، سو رب کے نام پاک کی تسبیح ایک تو اس کے حق بندگی کا تقاضا ہے اور دوسری طرف یہ راہ حق میں صبر و استقامت سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بھی ہے، پس منکرین و مکذبین اگر نہیں مانتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اپنے سے لو لگائے رکھو، اور اسی کی تسبیح و تمہید میں مشغول رہا کرو کہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ وقدرت و اختیار میں ہے۔ لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین [ 83] اللہ بڑا ہی عظمت والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تسبیح کرو تم اپنے رب کے نام کی جو بڑا ہی عظمت والا ہے سبحانہ وتعالیٰ اور اتنی عظمت والا ہے کہ اس کی عظمت کا کوئی کنارہ نہیں، روایات میں ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رکوع میں رکھ دو اور جب سبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے سجدہ میں پڑھا کرو اسی لیے رکوع و سجدہ میں یہ دونوں تسبیحات پڑھی جاتی ہیں [ اخرجہ، احمد، و ابو داؤد، ابن ماجہ، عن عقبہ بن عامر الجہنی ؓ وارضا، ابن کثیر، مراغی، روح، قرطبی، وغیرہ ] فسبحان اللّٰہ وبحمدہٖ و سبحان اللّٰہ العظیم عدد ما یحب ویرضاہ سبحانہٗ وتعالیٰ ، والی ان یرت اللہ الارض ومن علیہا جل جلالہ وعم نوالہ۔