Ayah 56:41[ 38] بائیں بازو والوں اور ان کی بدبختی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور تہویل کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا اور بائیں بازو والے کتنے ہی بدنصیب لوگ ہوں گے وہ بائیں باز ووالے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ استفہام تہویل اور تفظیع کے لئے ہے۔ یعنی ان بدبختوں کا حال ایسا برا اور اس قدر مہیب اور ہولناک ہوگا کہ بیان سے باہر ہے۔ ای ہم فی حال لا یستطاع وصفھا [ المراغی، الصفوۃ، وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہاں سے ان بدبختوں کا حال بدبیان فرمایا جا رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں ان کو وہاں کے ہولناک عزاب میں مبتلا ہونا ہوگا، والعیاذ باللّٰہ سو دین حق سے منہ موڑنا اور بغاوت و سرکشی کی راہ پر چلنا سب سے بڑا خسارہ اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، جل وعلا،
Ayahs 56:42–43[ 39] ان کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوکی لپٹ اور کھولتے پانی میں ہوں گے۔ سموم دراصل اس ہوا کو کہا جاتا ہے جو مسام جان کے اندر گھس گھس جائے " ای ینفذ المسام " [ المراغی، المحاسن وغیرہ ] سو جس کافر و باطل پرست کا مآل و انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا سو اصل اور حقیقی دولت ایمان و یقین اور حق و ہدایت کی دولت ہے جس سے سرفرازی کے بعد انسان کو اس طرح کے ہولناک اخروی انجام سے بچ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوئی ہے۔ فالحمدللّٰہِ الذی شرقنا بھذہ النعمۃ الکبری بمحض منہ وکرمہ واحسانہ اللّٰہم زدنا منھا وثبتنا علیہا بہرکیف اس سے ان کے ہولناک انجام کو بیان فرمایا گیا کہ وہ لوکی لپٹ اور کھولتے پانی میں ہوں گے اور یہاں پر آگ کو ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کے اصول پر گرم ہوا اور اس کی لو کو ذکر فرمایا گیا ہے کہ ہوا اور پانی دونوں ٹھنڈی چیزیں ہوتی ہیں اور صرف ٹھنڈی نہیں بلکہ سب سے ٹھنڈی اور ٹھنڈک بخش چیزیں ہوتی ہیں۔ سو جب ان کی ان ٹھنڈی چیزوں کی گرمی کا یہ حال ہوگا تو پھر اس کی آگ کا کیا حال ہوگا [ تفسیر المراغی ] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 56:44[ 40] اہل دوزخ کے ہولناک سائے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سیاہ دھوئیں کے ایسے ہولناک سائے میں ہوں گے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ سائے میں اصل میں دو ہی فائدے ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گرمی اور تیش سے بچاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کا منظر اچھا اور پیارا ہوتا ہے، اور اس میں بیٹھنے سے انسان آرام و سکون اور خوشی و اطمینان محسوس کرتا ہے، سو دوزخ کے اس سائے میں ان دونوں میں سے کوئی فائدہ بھی موجود نہیں ہوگا، کہ وہ سایہ دراصل دوزخ کے ایک بڑے ہی ہولناک اور سیاہ دھوئیں کا سایہ ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { انطلقوآ الیٰ ظلٍ ذی ثلث شعبٍ لاظلیلٍ ولا یغنی من اللھب۔ انھا ترمی بشررٍ کالقصر۔ کأنہٗ جملت صفر ویل یؤمئذ للمکذبین } [ المرسلت : 34-30] اور جہاں کے سائے کا عالم یہ ہوگا وہاں کی آگ کیا کچھ ہوگی ؟ [ المراغی، الخازن، الصفوہ وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف وہ سیاہ دھوئیں کا ایک ایسا ہولناک سایہ ہوگا جو ان تمام خوبیوں سے خالی اور محروم ہوگا جو سائے میں موجود اور مطلوب ہوتی ہیں، اور اس کی گرمی اور تپش بہرحال نہایت تیز اور جھلسا دینے والی ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،
Ayah 56:45[ 41] دوزخیوں کے عذاب کے سبب اور باعث کا ذکر وبیان :
سو دوزخیوں کے اس ہولناک انجام کے سبب اور اس کے باعث کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں مست ومگن رہا کرتے تھے، اور اپنی خواہشات نفس ہی کو انہوں نے اپنا قبلہء مقصود بنا رکھا تھا، یہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے تھے، اور کلمہ حق ان کو سننا اور قبول کرنا گوارا نہیں تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ اپنے مال و دولت اور عیش و رفاہیت میں مست رہا کرتے تھے اور حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مال و دولت اور سامان عیش و عشرت سے اس لیے نوازا تھا کہ یہ لوگ اس کے شکر گزار بن کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں، لیکن یہ الٹا اس کی بناء پر اعراض و استکبار میں مبتلا ہو کر سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور یہ اسی طرح عیش کرتے رہیں گے۔ یحسب ان مالہ اخلدہٗ اور یہ کہ اگر ان کا طریقہ صحیح نہ ہوتا تو ان کو یہ دنیاوی مال و دولت کیوں ملتا۔ سو دنیاوی مال و دولت کو پانے کے بعد اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کی بجائے یہ لوگ الٹا تکبر میں مبتلا ہوگئے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے اور " خسر الدنیا والآخرۃ " کا مصداق بن گئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 56:46[ 42] منکرین کے تمرّد اور ان کی سرکشی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کے ہولناک انجام کا دوسرا بڑا سبب ان لوگوں کا تمردو سرکشی تھا۔ والعیاذ باللّٰہ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور یہ سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔ یعنی حدود و بندگی سے نکل کر تمرود و سرکشی کے اس سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک گناہ پر اصرار کرتے تھے جس کی کو کھ سے آگے کفر و شرک اور الحادو بےدینی جیسے کئی بڑے اور ہولناک جرائم جنم لیتے ہیں اور کفر و شرک کے اس گناہ عظیم پر جو کہ تمام گناہوں کی جڑ بنیاد ہے، اور جس کے ساتھ کوئی بھی نیکی قابل قبول نہیں، کہ شرک در حقیقت بگاوت ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے، والعیاذ باللّٰہ، " حنث " کے معنی گناہ کے ہیں اس کی صفت یہاں پر عظیم آئی ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ " حنث " سے یہاں پر مراد شرک ہے، کیونکہ فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن حکیم نے اس کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { ان الشرک لظلم عظیمٌ} اللہ ہمیشہ اور ہر قسم کے زیغ و ضلال سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
Ayahs 56:47–49[ 43] منکرین کے بعث بعد الموت پر استعجاب کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ استفہام تعجب وانکار کیلئے ہے، کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کہ جب ہم مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، تو ہم کو ازسر نو پھر زندہ کر کے اٹھا دیا جائے، سو یہی تعجب واستبعاد ہمیشہ انسان کیلئے دولت ایمان سے محرومی کا باعث بنا، کل بھی اس قاصر الفہم اور کوتاہ بین انسان کا یہی حال تھا، اور آج بھی یہی ہے، اور بنیادی غلط فہمی ایسے لوگوں کی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ حضرت قادر مطلق سبحانہ وتعالیٰکو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں کہ جب ان کے اعتبار سے اور ان کی نظر میں یہ کام انہونا، اور ناممکن ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا، اور اس طرح یہ لوگ نورحق و ہدایت سے اور دور ہوتے گئے، اور جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح محروم سے محروم تر ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 56:50[ 45] منکرین کے انکارو استعجاب کا جواب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ان اگلوں پچھلوں سب نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال اکٹھے ہو کر رہتا ہے اور اس کے لئے ہمیں زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ بلکہ صرف ہمارے ایک حکم کی دیر ہے۔ [ فانماھی زجرہ واحدۃ فاذا ہم بالساھرہ ] اور صرف یہی نہیں کہ تم سب کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا اور بس، بلکہ اگلوں پچھلوں کی بےحدوحساب تمام مخلوق کو زندہ کرکے ایک ساتھ ایک میدان میں جمع کردیا جائے گا، اور کسی کی یہ جان نہیں ہوگی کہ وہ اس سے انکار کرسکے، یا کسی طرح کی کوئی اینکڑی پینکڑی دکھا سکے، بلکہ سب کے سب بےچون وچرا موجود ہوں گے، اور اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کی جوابدہی اور بدلہ پانے کیلئے سرافگندہ کھڑے ہوں گے، یہاں پر " لمجموعون " کے بعد " الی " کا صلہ یہ معنی و مفہوم رکھتا ہے کہ قیامت کے یوم موعود اور وقت مقرر تک مرنے والوں جمع کیا جاتا رہے گا اور اس وقت موعود کے آنے پر ان سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا۔ مطلب یہ کہ جو لوگ مرجاتے ہیں ان کے بارے میں تم لوگ یہ نہ سمجھو کہ وہ جس طرح تمہارے یہاں سے ختم ہوگئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہاں سے بھی ختم ہوگئے۔ نہیں بلکہ ان سب کو اللہ تعالیٰ کے ذخیرے میں جمع کیا جارہا ہے اور سزا وجزا کے یوم موعود پر ان سب کو اٹھایا جائے گا خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے۔
Ayahs 56:51–52[ 46] منکرین و مکذبین کو براہ راست خطاب ان کی تحقیر و تذلیل کیلئے۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو مکذبین و منکرین کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم سب کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا جو زندگی بھر جھٹلاتے رہے حق و حقیقت کی اس دعوت صادقہ کو، جو حضرات انبیاء ورسل اور ان کے اتباع اور سچے پیروکاروں کی طرف سے تمہیں دی جاتی رہی، سو حضرات انبیاء ورسل اور ان کے وارثین و جانشین علماء حقانیین کی دعوت وپکار کی تکذیب اور اس سے انقطاع و انحراف جڑ بنیاد ہے تمام فتنہ و فساد اور ہلاکت و تباہی کی، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو مکذبین و منکرین کو خطاب کر کے متنبہ فرمایا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ تم باز آجاؤ اپنے اس انکار اور تکذیب سے، ورنہ تیار ہوجائے اس ہولناک انجام کیلئے جو آگے تم لوگوں کو پیش آنے والا ہے، جو کہ بڑا ہی ہولناک ہوگا اور جس سے بچنے اور نکل بھاگنے کی پھر کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین، اللہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحبا فیک وخشوعا، وخذنا بنواصینا الٰی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک احسانک، یا ذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان۔
Ayah 56:53[ 47] دوزخیوں کا کھانا زقوم۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا پھر تمہیں کھانا ہوگا زقوم کے درخت سے اور وہ بھی اس طور پر کہ تم لوگوں کو اسی سے بھرنا ہوگا اپنے پیٹوں کو، اور یہ سب کچھ بھوک کی شدت اور اس کے غلبے کی بناء پر ہوگا، ورنہ اس قدر تلخ اور بدبودار درخت سے کون کھا سکتا ہے ؟ لیکن تم لوگوں کو بھوک کے ہاتھوں لاچار اور مجبور ہو کر اس میں سے کھانا پڑے گا۔ سو اس سے ان کی بدبختی اور مجبوری و لاچاری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور کھانا بھی اتنا اور ایسا کہ تمہیں اس سے اپنے پیٹوں کو بھرنا ہوگا، حالانکہ زقوم کا وہ درخت خار دار سخت کڑوے پھلوں اور پتوں والا اور نہایت کر یہ المنظر اور بدبودار ہوگا، یہاں پر ان لوگوں کو " ضالون " اور " مکذبون " کی دو صفتوں سے جو خطاب فرمایا گیا ہے وہ ان کے ان دو جرموں کے اعتبار سے ہے جو اوپر ذکر فرمائے گئے ہیں۔ سو اوپر ان کے شرک اور تکذیب آخرت کے دو جرموں کا ذکر ہوا ہے۔ انہی کے لحاظ سے یہاں پر ان کو ان دو صفتوں سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ سو یہ لوگ اللہ کی توحید کے بارے میں گمراہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے اور آخرت کو جھٹلا کر اس سے نچنت اور بےفکر ہو کر یہ حیوان محض بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئے تھے اور اسی کے نتیجے میں یہ لوگ اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل مرض من الامراض، ومن کل نوع من انواع العذاب، ومن کل زیغ وضلال، ومن کل سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھوالعزیز الوھاب، سبحانہ وتعالیٰ ،
Ayah 56:54[ 48] دوزخیوں کا پینا کھولتے پانی سے ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تمہیں پینا ہوگا کھولتے پانی سے۔ جو ایسا ہولناک اور اس قدر کھولتا ہوگا کہ مونہوں کے سامنے جاتے ہی ان کو بھون کر رکھ دے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وقل الحق من ربکم فمن شآء فلیؤ من ومن شآء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سرادقھاط وان یستغیثوا یغاثوا بمآء کالمھل یشوی الوجوہ ط وسآءت مرتفقا۔}[ الکہف :29 پ 15] اور پھر پینے کے بعد وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کمن ہو خالد فی النار وسقوا مآء حمیما فقطع امعاء ہم }[ محمد :15 پ 26] والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو، بہر کیف یہ نتیجہ اور انجام ہوگا اور لوگوں کا جو حق کا انکار کرتے اور دعوت حق کو جھٹلاتے رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف،
Ayah 56:55[ 49] دوزخیوں کے پینے کی ہولناک کیفیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم کو پینا ہوگا وہ کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ " ہیم " جمع ہے " اھیم " کی جو مشتق و ماخوذ ہے " ہیام " سے ‘ جو نام ہے اونٹوں کی ایک ایسی بیماری کا جس کے بعد وہ پانی پیتے جاتے ہیں، مگر سیر نہیں ہوتے،[ قرطبی، مدارک، محاسن، ابن کثیر، خازن، وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل مرض من الامراض ومن کل نوع من انواع العذابسو منکروں اور حق کی تکذیب کرنے والوں کو تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح وہ کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا، جس کو وہ پیتے جائیں گے مگر ان کی پیاس نہیں بجھے گی۔ سو یہ ایک ہولناک عذاب ہوگا،
Ayah 56:56[ 50] دوزخیوں کی اولین مہمانی اور اس کی ہولناکی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اولین مہمانی ہوگی ان کی بدلے کے اس دن میں۔ نزل نزول سے ماخوذومشتق ہے جس کے معنی اترنے اور پہنچنے کے ہیں۔ سو نزل دراصل اس مہمانی کو کہا جاتا ہے جو مہمان کے نزول اور قدوم کے موقع پر سب سے پہلے اس کو اولین ضیافت کے طور پر پیش کی جاتی ہے، پس اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو ان لوگوں کے لیے تہکم واستہزا ہے، کہ تمہاری تکریم اور مہمان نوازی ان چیزوں سے کی جائے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ذق انک انت العزیز الکریم } [ الدخان :49 پ 25] اور دوسری طرف اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب ابتدائی مہمانی کا یہ عالم ہوگا تو پھر آگے کی اس اصل مہمانی کا کیا حال ہوگا، جو تمہارے لئے تیار کی گئی ہوگی، جب کہ دوزخ میں تمہیں ہمیشہ ہمیش کیلئے رہنا ہوگا، سو جن بدبختوں کی اولین مہمانی زقوم و تھوہر پر اور کھولتے پانی سے ہوگی ان کے بارے میں کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کے بعد ان کے سامنے کچھ پیش آئے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 56:57–58[ 51] منکرین کے قلوب وضمائر پر ایک دستک کا ذکر وبیان :
سو منکرین کے قلوب وضمائر پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ جب ہم ہی نے پیدا کیا تم سب کو تو پھر تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی اس حقیقت کی کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، اور بطریق اولیٰ پیدا کرسکتا ہے، کہ اعادہ تو ایجاد سے بہرحال سہل اور آسان ہوتا ہے، سو جب ہم تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے قاصر نہیں رہے تو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ جبکہ عام ضابطہ کے مطابق دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ کے پیدا کرنے کی بنسبت زیادہ آسان ہوتا ہے، سو تم لوگوں کی یہ کیسی عجیب اور ٹیڑھی منطق ہے کہ تم پہلی مرتبہ پیدا کرنے کو تو مانتے ہو جو نسبتاً اور عام ضابطہ اور قاعدہ کے مطابق زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن دوبارہ پیدا کرنے کو تم ناممکن قرار دیتے ہو، حالانکہ وہ بالبداہت آسان ہوتا ہے، آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگا، اور تمہاری مت کہاں اور کیسے ماردی گئی ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو انسان کا وجود بذات خود ایک عظیم الشان درسگاہ ہے ان لوگوں کیلئے جو صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لیتے ہیں مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہی ہے کہ انسان اور مادہ پرست اور دنیا دار انسان صحیح طریقے سے سوچتا اور غور کرتا ہی نہیں، بلکہ وہ مادہ ومعدہ کا غلام اور بطن وفرج کے خواہشات کو بندہ بن کر رہ جاتا ہے، اور اپنی عقل وفکر کی قوتوں اور صلاحیتوں کو اسی کے پیچھے لگا دیتا ہے جس کے نیتجے میں وہ حیوان محض بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر " شر البریۃ " [ بدترین مخلوق ] بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayah 56:59[ 52] خلقت انسانی میں دعوت غور و فکر :
سو انسان کی خلقت کے بارے میں دعوت غورفکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس بارے میں بھی غور و فکر سے کام لیا کہ جو منی تم گراتے ہو کیا اس سے بچہ تم لوگ پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ اس کو جواب ایک اور یقینا ایک ہی ہے، کہ یہ سب کچھ از اول تا آخر ہماری ہی قدرت و کارستانی کا نتیجہ ہے، ورنہ تمہیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ نطفہئِ منی اور قطرہئِ آب کہاں پہنچا اور بطن مادر میں اس پر کیا کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اور وہ قطرہ آب کن کن مرحلوں سے گزرتا ہے اور خود اس ماں کو بھی اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی جس کے پیٹ کے اندر اور اس کے رحم میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔ سو جب ہم اس طرح تمہیں ابتداء ً نعمت وجود بخش سکتے ہیں تو پھر دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے ؟ اور جب تمہیں اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ پہلی مرتبہ ہم پیدا کرتے اور عدم سے وجود میں ہم ہی لاتے ہیں، تو پھر ہماری طرف سے دوبارہ پیدا کیے جانے اور " بعث بعد الموت " کا آخر تم لوگ کیوں کیسے انکار کرتے ہو، سو تمہارا یہ وجود بذات خود بعث بعد الموت پر دلیل اور اس کا ایک بین اور واضح ثبوت ہے [ قرطبی، وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد میں انسان کو اس کی فطرت کی طرف متوجہ کر کے دعوت غور فکر دی گئی ہے کہ تم لوگ ذرہ سوچو کہ تم لوگ اتنا ہی تو کرتے ہو کہ پانی کی ایک بوند عورت کے رحم میں ٹپکا کر الگ ہوجاتے، آگے اس بوند کو تاریکیوں کے اندر گوناگوں مراحل سے گزار کر ایک بھلے چنگے بچے کی صورت میں مکمل کر کے عورت کے پیٹ سے باہر لانا، اور پھر اس کو بچپن، بلوغ، جوانی، اور بڑھاپے، کی مختلف منازل سے گزار کر اس کے آخری انجام تک پہنچانا آخر کس کا کام ہے ؟ سو جس قادر مطلق کی ذات یہ سب کچھ کرسکتی ہے اور بالفعل ایسا ہی کر رہی ہے، تو آخر اس کے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کردینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ؟ جبکہ اس کی شان تو " کن فیکون " کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحبا فیک وخشوعا، وخذنا بنواصینا الٰی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذالجلال والاکرام،
Ayah 56:60[ 53] موت اور اس کا وقت بہر حال مقدر ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی تمہارے درمیان مقدر کیا موت کو۔ اپنی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کی بنا پر، اور اس طرح کہ تم لوگ اپنی موت کے اسی مقررہ وقت سے لمحہ بھر نہ آگے بڑھ سکتے ہو نہ پیچھے ہٹ سکتے ہو، اور اس طرح تم دیکھو کہ کس عجیب و غریب اور حیرت انگیز طریقے سے اگلے قومیں اور نسلیں مٹتی اور دوسری ان کی جگہ آتی گئیں، اور مسلسل و لگاتار آتی جارہی ہیں، سو یہ سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے مگر تم ہو کہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتے، سو ہم نے لوگوں کے درمیان موت کا ایسا جال بچھا رکھا ہے، جس نے ان سب کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، کوئی اس سے بچ نہیں سکتا، ہر چھوٹے بڑے، امیروغریب، اور حاکم و محکوم، نے اپنے مقرر پر بہرحال موت کے شکنجے میں آنا ہے، اور اس طرح ہم سب کو قیامت کے روز کی پیشی کے لئے جمع کر رہے ہیں، جیسا کہ آگے مزید وضاحت آرہی ہے۔ سو اس ارشاد سے ایک تو یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ موت سے کسی کیلئے کسی مفر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر شخص نے بہرحال اس کی گرفت وپکڑ اور اس کے شکنجے میں آکر رہنا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کل نفس ذائقۃ الموت ط وانما تو فوں اجورکم یوم القیمۃ ط }[ الایۃ ][ آل عمران : 175 پ 4] اور دوسری اہم بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح انسان کی پیدائش اور اس کی تخلیق وآغاز اس کے بس میں نہیں، اسی طرح اس کی موت کے آنے یا اس کو روکنے اور ٹالنے کا یارا بھی کسی میں نہیں۔ وہ اپنے وقت پر بہرحال مقرر ہے، جو اٹل ہے اور اس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر رہنا ہے۔ پس جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل شائبۃ من شوائب الزیغ والضلال، جل و علا،
Ayah 56:61[ 54] اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا حوالہ وذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم قادر ہیں اس پر کہ تم لوگوں کو پیدا کردیں کسی بھی ایسی شکل میں جس کو تم لوگ نہیں جانتے۔ کہ تم کو بندر یا خنزیر وغیرہ بنادیں، جیسا کہ پچھلی قوموں میں ایسے ہوچکا ہے، [ صفوہ، جامع، معارف، اور روح وغیرہ ] اس صورت میں یہ مثل کی جمع ہوگی، یعنی میم کے کسرہ اور ثاء کے سکون کے ساتھ، جس کے معنی صفت اور حالت کے آتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ تم جیسے لوگوں کو پیدا کردیں جو تم سے کہیں بڑھ کر ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اس صورت میں یہ مثل کی جمع ہوگی جس کے معنی مانند اور مشابہ وغیرہ کے ہوتے ہیں، اور یہ ارشاد تہدید اور وعید کے معنی میں ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد گرمایا گیا۔ { الم تر ان اللہ خلق السموت والارض بالحق ط ان یشا یذہبکم ویات بخلق جدید وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ [ ابراہیم :19 ۔ 20 پ 13] اور بعینہ یہی ارشاد سورة فاطر میں بھی فرمایا گیا، ملاحظہ ہو سورة فاطر آیت نمبر 16 ۔ 17 پ 22] نیز یہ کہ ہم تمہیں دوسری ایسی صفات و کیفیات پر پیدا کردیں جو تمہاری موجودہ صفات و کیفیات سے مختلف ہوں، جیسا کہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں فی الواقع ایسے ہوگا، مثلاً یہ کہ آج تمہاری صرف زبان بولتی ہے، مگر اس دن تمہارے ہاتھ پاؤں بھی بولیں گے، اور تمہاری کھالوں کا ایک ایک حصہ بھی بولے گا، اور مثلاً یہ کہ آج تم ایک محدود عمر پانے کے بعد مرجاتے ہو، مگر وہاں تم ہمیشہ کے لئے زندہ رہو گے، مثلاً یہ کہ آج تم کچھ ہی وقت جلنے بعد مرجاتے ہو، مگر وہاں تم دوزخ کی ہولناک آگ میں لگاتار چلتے رہنے کے باوجود نہیں مرو گے، وغیرہ وغیرہ، سو آیت کریمہ کے الفاظ و کلمات کا عموم ان سب ہی مفاہیم کو شامل اور عام ہے، اور حضرات مفسرین کرام نے بھی یہی کچھ بیان کیا ہے کسی نے مختصراً اور کسی نے تفصیل سے، [ روح، مدارک، قرطبی، جامع، خازن وغیرہ وغیرہ ] مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں، وباللہ التوفیق وھو المیسر لکل عسیرسو جب پیدا کرنا اور مارنا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے تو آخر ہم تمہاری جگہ تمہارے ہی مانند پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہوجائیں گے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ، جل شاہ وعم نوالہ۔
Ayahs 56:62–67[ 55] پہلی پیدائش دوسری پیدائش کا ثبوت اور اس کی دلیل :
سو ارشاد فرمایا گیا اور منکریں کے دلوں پر دستک اور ان کو دعوت غور وفکر دیتے ہوئے اور شاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہو تو پھر تم سبق کیوں نہیں لیتے ؟ کہ جو خدا اس حیرت انگیز طریقے سے پہلی بار پیدا کرسکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، سو اس میں قیاس کی صحت کی دلیل موجود ہے، کہ یہاں دوسری پیدائش پر قیاس کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، [ حاشیہ مع البیان، وغیرہ ] سو جو خالق اپنی قدرت و حکمت سے تمہیں اس دنیا میں لایا ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے، اور اس کی حکمت و ربوبیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ایسا کرے، ورنہ اس دنیا کا وجود عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا، جو اس خالق حکیم کی حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اس جہان رنگ و بو میں اپنی اس شکل و صورت میں موجود ہو تو اس سے تم یہ سبق کیوں نہیں لیتے کہ جو خالق حکیم تم لوگوں کو عدم محض سے نکال کر اس طرح حیطہء وجود میں لاسکتا ہے اور بالفعل لا چکا ہے تو آخر وہ تم کو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا ؟ جب کہ اس کے دائرہء قدرت سے کوئی بھی چیز باہر نہیں، اور اس کی شان ربوبیت و حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ سب لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اس کائنات کی تخلیق کی تکمیل ہو سکے۔ ورنہ حکمتوں بھری اس کائنات کا وجود ہی عبث اور بےکار ہو کر رہ جائیگا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو انسان کی موجودہ پیدائش خود اس کی دوسری پیدائش کی دلیل ہے۔ اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان،
Ayahs 56:68–69[ 58] پانی کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پانی کو بھی دیکھا یعنی اس کے بارے میں بھی کبھی سوچا اور گور کیا جو تم لوگ پیتے ہو، اور دن رات پیتے ہو، اور جس پر تمہاری زندگی کا مدارو انحصار ہے، کیا اس کو بادلوں سے تم نے اتارا یا ہم ہی ہیں اس کو اتارنے اور برسانے والے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ رب ذوالجلال ہی کا کرم اور اسی کی قدرت و عنایت ہے جس میں تمہارے یا کسی اور کے عمل دخل کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، تو پھر تم اس وحدہٗ لاشریک کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے ؟ جو اس طرح بادلوں کے اس پُر حکمت نظام سے تمہیں ایسا صاف ستھرا اور عمدہ و میٹھا پانی عطا کرتا ہے، جس پر تمہاری زندگی کا مدارو انحصار ہے، وہ تم کو اس عظیم الشان نعمت سے نوازتا ہے، اور بغیر کسی عوض و معاوضہ کے نوازتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر بھی اس سے غفلت اور ناشکری، آخر کیوں ؟ بہرکیف غذائی نعمتوں کے بعد اب اس ارشاد سے پانی کی نعمت کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے، کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پانی کے بارے میں بھی غور کیا، جو تمہاری زندگی کی ایک انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت ہے، کیا اس کو تم نے اتارا ہے یا اس کے اتارنے والے ہم ہی ہیں ؟ تو پھر تم لوگ اس واہب مطلق کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے جس نے تم کو ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے اور محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayahs 56:70–71[ 59] میٹھے پانی کی نعمت محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم :
سو اس نعمت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل کڑوا بنا کر رکھ دیں۔ جو نہ تمہارے پینے کے کام آسکے، اور نہ تمہاری کھیتی باڑی کے، اور صرف یہی نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ کھاری پانی تمہاری زمین کو کلر اور شور بنا دے، جس سے کچھ پیدا ہی نہ ہوسکے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میٹھے پانی کا یہ عطیہ جو قدرت نے نہایت ہی پُر حکمت طریقے سے اپنی مخلوق کو بخشا ہے، کس قدر عظیم الشان عطیہ ہے، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب پانی پیتے تو یوں دعا فرماتے " الحمد للّٰہ الذی سقانا عذبًا فراتًا برحمتہٖ ولم یجعلہۃ ملحًا اجاجا بذنوبنا " [ اخرجہ ابن ابی حاتکم وغیرہ، روح، ابن کثیر، ابن جریر وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! پیاری دعا ہے جو نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی امت کو بتائی ہے اور کیسی عمدہ تعلیم ہے یہ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی امت کو سرفراز فرمایا ہے، جس سے دنیا بھی دین بن جاتی ہے، اور وہ طبعی امور بھی عبادت میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جو کہ مومن و کافر سب کرتے ہیں، فالحمد اللّٰہ رب العالمین بہرکیف میٹھے پانی کی اس عظیم الشان نعمت کی عظمت شان کی تذکیر و یاد دہانی کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کو ایسا تلخ اور کھاری بنادیں کہ یہ تمہارے کچھ کام نہ آسکے بلکہ الٹا تمہارے لیے عذاب اور وبال جان بن جائے اور تمہاری زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے تو پھر تم لوگ اپنے اس رب رحمان و رحیم کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے ؟ جس نے تم لوگوں کو ایسی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے ؟ اور تمہارے کسی استحقاق کے بغیر نوازا ہے۔ اللہم لک الحمد الک الشکر حتی ترضی، ولک الحمد والشکر بعد مارضیت۔ سو غور و فکر سے کام لینے والوں کیلئے پانی کی یہ نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ جل شانہ و عم نوالہ۔
Ayah 56:72[ 60] آگ کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر :
سو پانی کی نعمت کے بعد آگ کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس آگ کے بارے میں بھی غور کیا جس کو تم لوگ اپنی طرح طرح کی ضرورتوں کیلئے جلاتے سلگاتے ہو۔ کیا اس کے درخت کو تم لوگوں نے اغایا ہے، یا ہم ہی اس کے اگانے والے ؟ جیسا کہ قدیم زمانے میں عرب مرخ اور عفار نامی دو درختوں کی سبز شاخوں کو رگڑ کر ان سے آگ نکالا کرتے تھے، سو یہ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان مظہر ہے، کہ اس نے اس طرح ہرے بھرے اور سبز درختوں میں آگ کا جوہر اس حکمت سے رکھ دیا، سبحانہ وتعالیٰ نیز اس لکڑی اور پتھر کے وہ عظیم الشان ذخائر پیدا فرما دئیے جو آگ کیلئے ایندھن بنتے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بیشمار مخلوق کی طرح طرح کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، سو یہ آگ قدرت کا کس قدر عظیم الشان عطیہ و احسان ہے، مگر غافل اور ناشکرے انسان نے اس اصل حقیقت کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے غفلت اور ناشکری ہی کی روش کو اپنایا، اور یہاں تک کہ ان میں سے کتنے ہی بدبخت ایسے ہوئے ہیں اور آج بھی ہیں جنہوں نے اسی آگ کی پوجا شروع کردی، اور آج بھی کر رہے ہیں، اور اس طرح انہوں نے ظلم بالائے ظلم کا ارتکاب کیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اسی مضمون کو سورة یٰسین میں اس طرح بیان فرمایا گیا کہ۔ { الذی جعل لکم من الشجر الاخضر ناراً فاذآ انتم منہ تو قدون } [ یٰسین : 80 پ 23] یعنی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ کا انتظام فرمایا جس کو تم لوگ جلاتے ہو۔ سو ہر طرح کی حمد و ثنا کی مستحق وہی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا۔
Ayah 56:73[ 61] آگ ایک عظیم الشان ذریعہ تذکیر و یاد دہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو تذکیر و یاد دہانی کا ایک عظیم الشان ذریعہ بنادیا یعنی ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ سو اس میں تذکیر و یاد دہانی کے کئی پہلو ہیں، ایک یہ کہ جس خالق ومالک نے آگ کے اس عظیم الشان جوہر کو تمہارے لئے پیدا فرمایا جس سے تمہاری زندگی کی طرح طرح کی ضرورتیں وابستہ ہیں، اور اس نے اس کو تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر محض اپنے فضل وکرم سے از خود پیدا فرمایا ہے، وہ کتنا عظیم کتنا حکیم اور کس قدر رحیم و کریم اور کتنا مہربان ہے اپنے بندوں پر، سبحانہ وتعالیٰ ، نیز وہ جب ناشکرے بندوں کے کفر و شرک اور الحادو انکار کے باوجود ان کو اپنی ایسی ایسی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا، بلکہ عمروں کی عمریں انہیں ڈھیل دیئے چلا جاتا ہے تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر حلیم اور کتنا ستار کریم ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، نیز یہ کہ دنیا کی یہ آگ دوزخ کی اس انتہائی مہیب اور ہولناک آگ کی تذکیر و یاد دہانی ہے، جو مجروموں اور باغیوں و سرکشوں کیلئے تیار کی گئی ہے، کہ جب دنیا کی یہ معمولی اور چھوٹی سی آگ اس قدر اذیت ناک اور نقصان دہ ہے، تو دوزخ کی وہ ہولناک آگ اور اس کی تپش و ہولناکی کیسی اور کیا کچھ ہوگی، جس کے بارے میں بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت مطابق حضرت نبیء معصوم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ وہ اس دنیاوی آگ سے ستر گناہ زیادہ سخت ہوگی، نیز مسند امام احمد (رح) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ دنیا کی یہ آگ دوزخ کی اس ہولناک آگ سے ستر درجے کم ہے، اور اس کے بعد بھی اگر اس کو سمندر سے دو مرتبہ ٹھنڈا نہ کردیا گیا ہوتا، تو اس سے کوئی بھی فائدہ نہ اٹھا سکتا [ ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ ] والعیاذ باللہ جل وعلا۔ نیز اس میں یہ تذکیر اور یاد دہانی بھی ہے کہ یہ آگ جو ہزاروں میل پر پھیلے جنگلوں اور بڑے بڑے شہروں دیہاتوں، دکانوں، مکانوں اور بازاروں، مارکیٹوں وغیرہ کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے کس طرح اللہ تعالیٰ کی تعلیم و حکمت کے نتیجے میں دیا سلائی کی ایک چھوٹی سی ڈبیہ اور اس کی بھی ایک معمولی سی تیلی، اور اس کے بھی سر پر لگے ہوئے معمولی سے مسالے میں بند ہوجاتی ہے، اور ذرہ سی رگڑ کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے، سو اس کے اس مواد کو پیدا کرنا اور انسان کو اس عقل و فکر اور لیاقت و قابلیت سے نوازنا جو اس دہکتی بھڑکتی آگ کو اس طرح بند کردیتی ہے وغیرہ، سو یہ سب کچھ اس وحدہٗ لاشریک کی قدرت و حکمت، اور اس کی رحمت و عنایت کا کتنا بڑا کرشمہ اور کس قدر عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 62] آگ ایک عظیم الشان متاع سفر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بتایا اس کو ایک عظیم الشان ساماں صحرا کے مسافروں کیلئے۔ " مقوین قوائ " سے ماخوذ ہے جس کے معنی صحرا اور چٹیل میدان کے آتے ہیں، اور باب افعال کے خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہء کہ اس میں مادہ مجرد میں دخول کے معنی پائے جاتے ہیں، جیسے " اصحر " کے معنی ہیں " دخل الصحرائ " یعنی وہ صحرا میں داخل ہوا۔ اور " اسحر " کے معنی ہوں گے " دخل السحر " یعنی وہ سحری کے وقت میں داخل ہوا، اور " اضحی " کے معنی ہوں گے کہ وہ ضحی یعنی چاشت کے وقت میں داخل ہوگیا، اسی طرح " اصبح " اور " امسی " وغیرہ وغیرہ، سو اس اعتبار سے " اقویٰ " کے معنی ہوں گے وہ قواء یعنی صحرا میں داخل ہوگیا اور " مقوین " کے معنی ہوں گے صحرا میں اترنے اور داخل ہونے والے لوگ، پھر صحرا میں داخل ہونے والا شخص چونکہ دوسروں کی نسبت آگ کا زیادہ محتاج ہوتا ہے، کیونکہ اس کو کھانے پکانے اور آگ تاپنے وغیرہ کی عمومی ضرورتوں کے علاوہ اس کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ آگ جلا کر ایک طرف تو جنگلی درندوں اور دوسرے موذی جانوروں کی ایذاء رسانیوں سے بچ سکے، اور دوسری طرف چلتے مسافروں اور راہگیروں کو بھی اپنے وجود کا پتہ دے سکے، تاکہ اس طرح وہ اپنی دوسری کئی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرسکے، تو اس طرح اس " مقوی " کے معنی مطلق ضرورت مند کے ہوگئے، سبحان اللّٰہ ! کیسی باریکیاں ہیں عربی زبان کو، والحمد للّٰہ رب العالمین۔ بہرکیف آگ کی اس نعمت کو قدرت نے تذکیر و یاددہانی کا ایک عظیم الشان ذریعہ بنایا تاکہ اس کے ذریعے لوگ اپنے خالق ومالک کی معرفت کے شرف سے مشرف ہو سکیں، اور اس طرح یہ آگ ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بن جائے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ہے کہ جو نہ صرف اس شرف سے محروم اور غافل و بیخبر ہے بلکہ کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جنہوں نے اسی آگ کو اپنا معبود قرار دے کر اس کی پوجا شروع کردی، اور اس طرح انہوں نے دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک راہ کو اپنایا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 56:74[ 63] اپنے رب کے نام کی تسبیح و تمہید کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا پس تم تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی جو کہ بڑا ہی عظمت والا ہے۔ جس نے یہ سب نعمتیں اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمائیں، اور بلاشرکت غیر کے پیدا فرمائیں، اور از خود اپنی رحمت و عنایت سے پیدا فرمائیں، اور اس طرح اپنی مخلوق کو ان نعمتوں سے نوازا ہے، سو بحث کے آخر میں اس ارشاد سے پیغمبر کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعیء حق کو اس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں کہ آپ ﷺ بہرحال حق پر ہیں، جہاں تک دلائل کا تعلق ہے تو وہ سب آپ ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی پشت پر ہیں، لیکن خواہشات کے پجاری جو اندھے بہرے بن کر اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، وہ حق بات کو سننے ماننے کیلئے تیار نہیں ہو رہے، تو آپ ﷺ ان کی پرواہ کیے بغیر رب کی تسبیح کرتے رہیں، کہ یہ اس کا حق اور اس کی عظمت شان کا تقاضا بھی ہے، اور اسی سے آپ کو اس کی نصرت و امداد اور حمایت بھی حاصل ہوگی۔ فسبحان اللّٰہ وبحمدہ و سبحان اللّٰہ العظیم یہاں پر لفظ اسم اس حقیقت کا سراغ دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندے کے تعلق اور توسل کا ذریعہ اس کے اسماء حسنی ہی ہیں۔ انہی کی معرفت سے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت سے سرفراز و سرشار ہوسکتا ہے، جو کہ اصل سرچشمہ ہے صحیح علم و عمل کا۔ وباللّٰہ التوفیق اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی تسبیح و تقدیس کے شرف و شاد کام رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
Ayahs 56:75–77[ 64] قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا پس نہیں معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ ان منکروں نے سمجھ رکھا ہے۔ یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا کہ اس قرآن حکیم کے بارے میں تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، کہ کبھی تم اس کا شعر کہتے ہو، کبھی کہانت قرار دیتے ہو، اور کبھی اسے پہلے لوگوں کی کہانیاں اور افسانے بتاتے ہو، کبھی کہتے ہو کہ اسے محمد [ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ] از خود گھڑ کر لاتے ہیں، اور کبھی کہتے ہو کہ کوئی اور نا کو سکھا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اس پُر حکمت کائنات کے خالق ومالک کا اترا ہوا کلام ہے۔ سو یہ مطلب ہے " لا اقسم " میں موجود اس لاء نافیہ کا، کہ اس میں نفی اس مضمون کی ہو رہی ہے جو کہ فحوائے کلام سے مفہوم ہو رہا ہے، اور یہ بلاغت کا ایک ایسا واضح اور معروف اسلوب ہے جو دنیا کی ہر زبان اور محاورے میں پایا جاتا ہے، خود ہماری زبان میں ابھی اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں، چناچہ ہمارے یہاں لوگ کہتے ہیں نہیں۔ قسم اللہ کی بات ایسے نہیں وغیرہ۔ اس لیے اس لا کے بارے میں جو عام طور پر تفسیروں میں کہا جاتا ہے کہ لازائد ہے وہ صحیح نہیں، پتہ نہیں ایسے مفسرین کرام ایسے صاف اور واضح اسلوب کو بھول کر ایسی بات کس طرح کہہ دیتے ہیں، جو کہ امر واقع کے خلاف ہے، اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ کلمہ زائد اور بےمعنی ہے والعیاذ باللّٰہ تو پھر اس کو کلام حکیم قرآن مجید میں لانے کا فائدہ ہی کیا ؟ بہرکیف اس لاء فافیہ سے منکرین و مخالفین کے ان مزاعم باطلہ کی تردید فرما دی گئی جو وہ قرآن حکیم کے بارے میں رکھتے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
[ 65] مواقع نجوم کی قسم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی۔ سو ان کا اس طرح ڈوبنا زوال اثر اور وجود موثر کی واضح دلیل اور کھلی نشانی ہے، یعنی یہ سب کچھ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی کرشمہ سازی ہے اور یہ سب کچھ اس نے یونہی عبث اور بےکار نہیں بنایا، بلکہ اس میں نہایت اعلیٰ درجے کی حکمت، اور کامل معقولیت اور مقصدیت کار فرما ہے، اور اسی کی رہنمائی کیلئے اس نے اپنا وہ رسول مبعوث فرمایا جو تمام انبیاء و رسل کا مقتداء و پیشوا اور سب کا خاتم ہے، اور اس پر اس نے اپنا یہ کلام صدق نظام نازل فرمایا، جو کہ سراسر تنزیل اور ایک عظیم الشان و بےمثال اور زندہ وجاوید معجزہ ہے، جس پر ایمان لانے اور اس کی تعلیمات کو اپنانے میں تمام بنی نوع انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، اور اسی پر دارین کی فوز و فلاح کا مدارو انحصار ہے، اور اس سے روگردانی و انحراف، دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی سے روگردانی و انحراف ہے، جس سے بڑھ کر دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز " مواقع النجوم " کا مصداق شیاطین کے وہ ٹھکانے اور ان کی وہ کمین گاہیں ہیں جن پر بیٹھ کر وہ ملاء اعلیٰ کے بھید معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے، اور ان کو شباب پھینک کر وہاں سے بھگایا جاتا تھا اور نزول قرآن کے زمانے میں وحی الٰہی کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ اہتمام فرمایا تھا کہ جو شاطین ان کمین گاہوں میں بیٹھنے کی کوشش کرتے تھے ان کو شہاب ثاقت مار کر وہاں سے بگایا جاتا جیسا کہ سورة جن میں خود جنوں کی زبان سے ان کو یہ اعتراف نقل فرمایا گیا ہے۔ سو مواقع نجوم کی یہ قسم ایک بڑی عظیم الشان قسم ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 56:78[ 67] عظمت قرآن کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ بڑا ہی بلند پایہ قرآن ہے جو محفوظ و مندرج ہے ایک محفوظ کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں، جو کہ ہر طرح کے شیاطین کی رسائی سے بالا و محفوظ ہے، اسی لئے اس کی طرف کوئی تبدیلی راہ نہیں پاسکتی، سو یہ ایک بڑا ہی محفوظ و مبارک اور عظیم الشان کلام ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک ایسی عظیم الشان کتاب میں محفوظ ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی اور کوئی رسائی نہیں ہوسکتی، اس کو ملائکہ مقربین کے سوا کوئی چھو بھی نہیں سکتا، جنات اور شیاطین وہاں نہیں بھٹک سکتے، اور یہی وہ کتاب عظیم ہے جس میں انسان کیلئے دنیا و آخرت کی فوذ و فلاح اور صلاح و اصلاح کا سامان ہے، اس کے فوائد و منافع کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ، اور اس سے محرومی سعادت دارین سے محرومی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے عظمت قرآن کو واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ بڑی ہی باعزت اور نہایت ہی برتر و بلند پایہ کلام ہے، جس سے کاہنوں اور شیطانوں کے القاء کا کوئی تعلق ہی نہیں ہوسکتا، ملائکہ مقربین کے سوا اس کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ اور یہ شان اس کتاب حکیم کے سوا اور کسی کتاب کی نہ ہوئی نہ ہوسکتی ہے، پس اس سے اعراض و روگردانی سعادت دارین سے محرومی اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayahs 56:79–80[ 68] عظمت قرآن کے ایک اور اہم اور خاص پہلو کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو بھی نہیں سکتا یعنی اس قرآن حکیم کو جو کہ مصحف کی سورت میں موجود ہے اس کو وہی لوگ چھو سکتے ہیں جو کہ جنابت اور حدت سے پاک ہوں اور نفی اس صورت میں نہی کے معنی میں ہوگی، پس طہارت کے بغیر قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں اور یہی قول ہے جمہور فقہاء و مفسرین کا جیسے حضرت علی ؓ ، ابن مسعود ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، سعید بن زید ؓ ، عطا (رح)، وہ زہری (رح)، نخعی (رح)، حماد (رح)، اور فقہاء اربعہ کا، اور اسی کی تائید بعض روایات سے بھی وہتی ہے جیسا کہ لا یمس القرآن الا طاھرٌ اور حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے لا تمس القرآن الا و انت طاھرٌ جب کہ ابن عباس ؓ ، اور شعبی (رح) وغیرہ کچھ دوسرے حضرات کے نزدیک یہاں ضمیر کا مرجع قرآن کریم نہیں لوح محفوظ ہے، اور " مطھرون " سے مراد فرشتے ہیں پس ان کے نزدیک " محدث " کے لئے مس قرآن ممنوع نہیں، اور اس رائے کے حامی بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اگر قرآن پاک کو ہاتھ لگانے یا اس کی کسی سورت یا آیت کی تلاوت کرنے یا حوالہ دینے کے لئے بھی اگر آدمی کا طاہر اور مظہر ہونا لازمی قرار دیا جائے تو یہ غلو پر مبنی اور تکلیف مالایطاق کے قبیل سے ہوگا جو دین فطرت کے مزاج کے خلاف ہے، اور سیاق وسباق سے اسی قول و احتمال کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں پر " مطھرون " سے مراد فرشتے ہیں، والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔