Ayahs 55:74–75[ 58] حُوران جنت کی ایک اور خاص صفت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا ان کو اہل جنت سے پہلے کسی جن یا انسان نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ بالکل کنواری اور باکرہ ہوں گی، طمث کے اصل معنی خروج الدم یعنی خون نکلنے کے آتے ہیں، یہاں پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، کہ ان عورتوں کو کسی نے چھوا تک نہیں ہوگا، اسی لئے حیض کے خون کو طمث کہا جاتا ہے، اور پھر اس کو کنایہ کے طور پر باکرہ یعنی کنواری سے جماع کے لئے استعمال کیا جانے لگا، اور پھر مطلق جماع کے لئے، [ روح، محاسن، مراغی، وغیرہ ] اور یہاں پر اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ وہ ہر جماع کے بعد باکرہ ہی رہیں گی جماع سے ان کی بکارت زائل نہیں ہوگی [ محاسن التاویل للقاسمی (رح) وغیرہ ] سو یہ بھی اہل جنت کے ان امتیازی اوصاف اور خصوصیات میں سے ایک امر ہوگا جس کا اس دنیا میں کوئی وجود نہیں، کہ وہاں کی ہر نعمت بےمثال و لاجواب ہوگی، والحمدللہ رب العالمین، اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ اور دنیا کی اس کارگاہ حیات میں ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayahs 55:76–77[ 59] اہل جنت کے سکون و اطمینان کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ جو کہ علامت و نشانی ہے آرام و راحت، اور سکون و اطمینان کی، اور یہ نعمت اہل جنت کو وہاں پر بدرجہء تمام و کمال نصیب ہوگی، اللہ ہمیں بھی محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ اس قسم کی جنتوں میں سبز فرشوں اور خوبصورت و نادار قالینوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، اور طاہر ہے کہ جب ان کو ماضی کے عموم و غموم اور مستقبل کے مخاوف و اندیشوں سے مامون کردیا گیا ہوگا، تو ان سے بڑھ کر سکون و اطمینان اور کسی کو نصیب ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں انہی میں سے بنا دے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک فی کل حال من الاحوال، سبحانہ و تعالیٰ ۔
[ 60] لفظ " عبقری " کا معنی و مفہوم :
" عبقریٍ منسوب ہے " عبقر " کی طرف اور " عبقر " اصل میں زمانہء جاہلیت کے عرب افسانوں میں جنوں کے دار السلطنت کا نام تھا [ روح، خازن، قرطبی وغیرہ ] اسی کی طرف نسبت کرکے عرب لوگ ہر ایسی چیز کو عبقری کہا کرتے تھے، جو بہت عمدہ و نایاب اور نفیس و نادر قسم کی ہو، جس طرح اردو میں اس کے لئے پرستان یا پریوں کے دیس وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، یعنی یہ چیز ایسی خارق عادت قسم کی عمدہ اور نفیس و نادر چیز ہے، گویا کہ یہ پرستان یا پریوں کے دیس کی چیز ہے، اسی لئے عربی محاروات میں آج بھی ایسے شخص کو عبقری کہا جاتا ہے، جو غیر معمولی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا مالک ہو، اس طرح عبقری بالکل اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس معنی میں انگریزی لفظ Genius استعمال ہوتا ہے جو کہ اصل میں Genii سے ماخوذ ہے اور وہ بھی جن ہی کے ہم معنی ہے۔ اسی لئے یہاں پر اہل عرب کے اس ذوق اور محاورہ کے مطابق اس لفظ کے ذریعے اہل جنت کے سرو سامان کی غیر معمولی خوبی اور نفاست کا تصور دلایا گیا ہے، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں وہ بڑی ہی خوبصورت اور نادر و نایاب قسم کی عمدہ قالینوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ جو ان کے آرام و راحت کی معراج ہوگی، اللہ نصیب فرمائے اور حیات دنیا کی فرصت محدود و مختصر کو اپنی رضا کی راہوں میں صرف کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل حینٍ من الاحیان، بمحض منک وکرمک اوحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان
Ayah 55:78[ 61] اللہ تعالیٰ کا نام بڑا ہی برکت والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی برکت والا ہے نام تمہارے رب کا، سو جب اس کا نام اس قدر برکت والا ہے تو پھر خود وہ ذات اقدس و اعلیٰ کس قدر برکت والی ہوگی، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کا اندازہ کرنا بھی کسی بشر کے لئے ممکن نہیں، اور بشر جیسی محدود الادارک مخلوق کے لئے یہ ممکن ہو بھی کس طرح سکتا ہے، پس سچ کہا کہنے والے نے " ماعرف اللّٰہ الا اللّٰہ " یعنی اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی عظمت شان اور جلالت قدر کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، سو برکت دینے والی ذات اسی وحدہ لاشریک کی ذات ہے، پس یہیں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو لوگ برکت علی اور برکت حسین وغیرہ جیسے شرکیہ نام رکھتے ہیں وہ شرکیہ عمل کا ارتکاب کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ پھر ان میں سے جو لوگ ایسے شرکیہ نام بغیر سوچے سمجھے یونہی جہالت و نادانی کی بناء پر رکھ لیتے ہیں، وہ تو پھر بھی ایک حد تک معذور ہیں، لیکن جو جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں اور ایسے نام رکھتے ہیں وہ یقینا بڑے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو برکت سب کی سب اللہ پاک ہی کے پاس اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل زمانٍ ومکان، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ایادائم الفضل والاحسان، تبارک وتعالیت،
[ 62] اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس بڑی ہی عظمت والی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا جو بڑا ہی عظمت والا اور احسان والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کی برکت بھی عظیم الشان اور اس کا احسان اور کرم بھی لامحدود اور ناپیدا کنار ہے، پس ہم پر ہر اس چیز کی تعظیم و تکریم لازم اور فرض ہے، جس میں اس کا نام پاک موجودہو، بلکہ ہر ایسی چیز کی تعظیم و تکریم بھی جو کہ اس سے نسبت وتعلق رکھتی ہو، سبحانہ وتعالیٰ ۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں وارد ہے کہ حضرت نبیء معصوم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا۔ ان اجلال اللّٰہ تعالیٰ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القران غیر الغالی فیہ ولا الجافی عنہُ ۔ یعنی " اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تکریم اور اس کے اجلال و اکرام میں سے یہ بھی ہے کہ سفید بالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے، اور قرآن حکیم کے ایسے حامل کی بھی جو کہ نہ تو اس میں کسی طرح کے خلو سے کام لیتا ہو، اور نہ اس سے دور ہو، یہاں سے اس امر کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اس رب ذوالجلال والاکرام پر ایمان و یقین سے محروم ہیں، وہ کس قدر بدنصیب اور محروم لوگ ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک فی کل حال من الاحوال، وفی کل حینٍ من الاحیان، بمحض منک وکرمک اوحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ رب کا نام اور اس کی ذات بڑی ہی بابرکت ذات ہے، آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں حسی اور معنوی جتنی بھی نعمتیں موجود ہیں وہ سب اسی کی برکتوں کا مظہر ہے، اور اس کی برکتوں اور رحمتوں و عنایتوں کا اصل اور کامل ظہور آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جو اس دنیا کے بعد ظہور پذیر ہوگا۔ اسی لیے یہاں پر سزا و جزا کی تفصیلات سنانے کے بعد اس آیت کریمہ کا اعادہ فرمایا گیا ہے کہ چونکہ تمہارے رب کی ذات بڑی ہی خیر و برکت والی اس لیے اس کی یہ تمام برکتیں لازماً ظاہر ہوں گی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کا موقع و محل آخرت کا وہ جہان ہی ہوگا جو اس دنیا کے بعد آئیگا، جو کہ ابدی اور سرمدی ہوگا، اور جسکے قوانین و ضوابط بھی ابدی ہوں گے اور اس کی وسعتیں ہی ہونگی جن میں اس وحدہٗ لاشریک کی برکتوں کا کامل ظہور ہوسکے گا، کہ دنیاء دوں کے ظرف محدود و مختصر میں اس کی گنجائش اور اس کا امکان ہی نہیں کہ اس کی برکتوں کا کامل ظہور ہوسکے۔ پس جو لوگ اس جہان غیب، اس کی خیرات و برکات، اور اس کے تقاضوں سے غافل و لاپرواہ ہیں، وہ بڑے ہی خسارے میں مبتلا ہیں مگر ان کو اپنے اس انتہائی ہولناک خسارے کا احساس و ادراک اسوقت ہوگا جبکہ وہ جہان غیب اپنی برکتوں کے ساتھ ظہور پذیر ہوگا، تب ان کی آتش یاس و حسرت کی کوئی حد اور انتہاء نہیں ہوگی، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الکفر والشرک، والخسران والنکران، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل زمانٍ ومکان، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ایادائم الفضل والاحسان، وھو الھادی الی سواء السبیل، سبحانہ و تعالیٰ ،