55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 55:35

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر خالص آگ کے شعلے اور نرے دھوئیں (کے بادل) اس طرح چھوڑے جائیں گے کہ تم ان سے کسی طرح بچ نہ سکو گے

[ 30] نار دوزخ کے شعلوں اور دھوئیں کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل چھوڑے جائیں گے۔ جس سے نہ تم خود بچ سکو گے اور نہ ہی تمہارے وہ معبود تمہیں چھڑا اور بچا سکیں گے، جنہیں تم اللہ پاک کے سوا پوجتے پکارتے ہو، اور جن کا تمہیں بڑا زعم و گھمنڈ اور بھروسہ و اعتماد ہے، اور تم ہانکے پکارتے کہتے ہو کہ ہم نے تو بس فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے، فلاں کا پٹہ گلے میں ڈال دیا ہے، یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں، [ ھولاء شفعاء ناعند اللہ ] بس ہمیں یہی کافی ہیں، یہ ہمارا سارا کام خود ہی بنادیں گے، ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے، وغیرہ وغیرہ، اور اسی بناء پر تم لوگ دنیا میں حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ بہرکیف دولت ایمان سے محروم اور عمل کی پونجی سے بےبہرہ لوگوں کا حال وہاں پر بہت برا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 55:36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 31] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں کو خطاب کرکے بطور تنبیہ و تذکیر ان سے فرمایا گیا کہ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ اس تہدید وتحذیر کے ذریعے اس نے تمہیں خبردار کردیا، آگے پیش آنے والے اس ہولناک انجام سے اس نے تمہیں اس قدر پیشگی اس سے سابقہ پیش آجائے، اور پھر تم ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو آنے والے عذاب سے پیشگی خبردار کردینا اور اس طرح اصل حقیقت سے آگاہ کردینا قدرت کا ایک عظیم الشان احسان ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ فلا لشیئٍ من نعمائک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ذکر وشکر سے سرشار رکھے اور اس طور پر جو اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ اور مقبول ہو، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 55:37

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر (کیا حال ہوگا اس وقت) جب کہ آسمان پھٹ کر لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا ؟

[ 32] قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا حال ہوگا اس وقت جبکہ آسمان پھٹ کر سرخ ہوجائے گا لال چمڑے کی طرح۔ یعنی آگ کی تپش اور گرمی سے آسمان اس طرح سرخ ہوجائے گا، جیسا کہ سرخ چمڑا [ قالہ ابن عباس، روح، خازن وغیرہ ] اور بعض نے اس کے معنی تیل کی تلچھت کے کیے ہیں، کہ اس روز آسمان اس طرح مختلف رنگ بدلے گا کہ کبھی سرخ ہوگا، کبھی زرد اور کبھی سبز ہوگا۔ [ جامع البیان، ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] بہرکیف اس سے اس روز کی ہیبت و ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور اسی کا ذکر وبیان اور اظہار اس آیر کریمہ کا اصل مقصد ہے۔ دوسری مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واذا السمآء کشطت } [ التکویر : 11] یعنی " جب آسمان کی کھال کھنچ لی جائے گی "۔ " کشط " اصل میں اس کا کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کے اوپر سے کسی ایسی چیز کو ہٹا دیا جائے جس نے اس کو چھپا اور ڈھانھ رکھا ہو۔ اس لیے کسی جانور کی کھال اتار دینے کے لیے بھی اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کھال اتار دینے سے وہ جانور سرخ ہی نظر آئے گا اور چمڑے کے اندر کی سب کیفیت کھل کر سامنے آجائے گی۔ سو دوسرے یہ کہ اس سے عالم غیب کے دو مخفی و مستور حقائق سامنے آجائیں گے جواب پردے کے پیچھے ہیں، کہ آخرت کا وہ جہاں ہوگا ہی کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں، کہ اس میں ہر چیز اپنی اصل اور حقیقی شکل میں نظر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayahs 55:38–39

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس دن نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کسی جن سے

[ 33] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں کو خطاب کرکے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ کہ ان ہولناک مناظر سے تمہیں اس طرح پیشگی خبر دی جا رہی ہے، تاکہ تم اپنے بچاؤ کی فکر کرسکو، اور عمر رواں کی اس محدود مختصر فرصت سے صحیح طور پر کام لے سکو، کہ اس کے بعد آخرت کے اس جہان کیلئے کمائی اور تلافی مافات کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پھل پانا ہوگا نیکی کا بدلہ وہاں کی دائمی نعمتوں اور ابدی آرام و راحت کی صورت میں، اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے آمین، اور برائی کا نتیجہ دائمی عذاب اور ابدی نار جحیم کی شکل میں، والعیاذ باللہ، کہ وہ جہاں درالعمل نہیں دار الجزاء ہے، جہاں پر ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھتگنا ہوگا، سو اس اہم اور بنیادی حقیقت سے تم لوگوں کو اتنا پیشگی اور اس قدر صراحت اور وضاحت کے ساتھ خبر دار کردیا گیا، تاکہ تم اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لو، تو پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کن کن قدرتوں اور شانوں اور اس کے احسانوں کو جھٹلاؤ گے ؟ لا بشیئٍ من بعمائک ربنا نکذب فلک الحمد الک الشکرُ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ذکر و شکر سے سرفراز و سرشار رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 55:40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 35] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں کو مخاطب کرکے ان سے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا جھٹلاؤ گے ؟ کہ مجرم کو ڈرانا اور اسے اس کے انجام سے خبردار کرنا کتنی بڑی نعمت ہے، تاکہ وہ اپنی غلط روش سے باز آجائے اور اپنے رب کی رحمت کی جانب پلٹ جائے، قبل اس سے کہ فرصت حیات ہمیشہ کے لئے اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو انسان کی اپنے انجام سے جہالت اور بیخبر ی محرومیوں کی محرومی ہے، اس لئے اس کو غیب کے ان عظیم الشان حقائق سے اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اس قدر پیشگی آگاہ فرما دیا گیا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ سو یہ اس خالق ومالک کا کتنا احسان اور کس قدر عظیم الشان کرم ہے۔ پھر بھی اس سے غفلت و لاپرواہی ؟ سو یہ کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر کھلی ناشکری ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ فلا بشیء من نعمائک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر کما تحب وترضی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں، اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم اور سلامت رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، جل وعلا۔
Ayah 55:41

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

مجرموں کو وہاں پر پہچان لیا جائے گا ان (کے چہروں) کی نشانیوں سے پھر ان کو (دوزخ میں پھینکنے کے لئے) پکڑا جائے گا ان کی پیشانیوں (کے بالوں) اور پاؤں سے

[ 36] مجرموں کی پہچان ان کے چہروں سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز مجروموں کو پہچان لیا جائے جائے گا ان کے چہروں کی نشانیوں سے۔ کہ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہٌ ج فاما الذین اسودت وجوھھم قف اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون } [ آل عمران : 106] نیز فرمایا گیا۔ { یوم ینفخ فی الصور ونحشر المجرمین یومئذٍ زرقا۔} [ طہ : 102 پ 16] بہرکیف مجرموں کو ان کے چہرے مہروں سے پہچان لیا جائے گا اور ان سے پوچھنے اور سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، رہا وہ سوال جو مجروں کی توبیخ و ملامت یا ان سے طنز و استہزاء کے طور پر کیا جائے گا، تو وہ الگ چیز ہے۔ اس سے اس کی نفی لازم نہیں آتی۔ اور قرآن حکیم میں مجرموں سے جو سوال مذکور ہیں وہ اسی دوسری نوعیت کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ذلت و رسوائی کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور خاص کر اس دن کی رسوائی سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، [ 37] مجرموں کے ہولناک انجام کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے مجرموں کے دوزخ میں پھینکے جانے کی تصویر اور ان کے ہولناک انجام کی ایک جھلک پیش فرمائی گئی ہے۔ سو ان کے قدموں اور پیشانیوں کو باہم جکڑ کر اور ہڈیاں توڑ کر ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا [ قالہ الضحاک والسدی، جامع البیان ] بعض کو پیشانیوں سے اور بعض کو پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹا اور پھینکا جائے گا، بہرکیف اس طرح کے ہولناک عذابوں میں مبتلا کیا جائے گا جن کا یہاں تصور کرنا بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو دوزخ کے کارندے ان کو ان کی پیشانیوں اور ان کے قدموں سے بگڑنے جانے کا ذکر فرمایا گیا لیکن ان کو دوزخ میں پھینکے جانے کے مضمون کو محذوف رکھا گیا ہے کیونکہ ان کے پکڑے اور جکڑے جانے کی جو تصویر پیش فرمائی گئی ہے وہ اس کو خود واضح کر رہی ہے۔ اس لئے اس قرینے کی بنا پر اس مضمون کے اظہار کی ضرورت نہیں تھی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل نوع من انواع العذاب۔
Ayah 55:42

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 38] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں کو خطاب کرکے ان سے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ آخرت میں پیش آنے والے ان جلیل القدر حقائق اور عظیم الشان واقعات کو اس نے تمہارے لئے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اسی دنیا میں بیان فرما دیا ہے، تاکہ تم لوگ ہوش میں آجاؤ، اور ایمان و اطاعت کی دولت کے ذریعے اپنے بچاؤ کا سامان کو سکو، قبل اس سے اس کو موقع ہاتھ سے نکل جائے اور فرصت عمل رخصت ہوجائے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور یہ تمہارے رب کا وہ کام اور اس کی وہ نعمت اور احسان ہے جس کا اور کہیں سے ملنا ممکن ہی نہیں۔ اس کے باوجود اس سے اعراض و روگردانی اور غفلت و لاپرواہی کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ناشکری ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ۔ فلا بشیء من نعمائک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر کما تحب وترضی۔ اللہ تعالیٰ اعراض و انکار، اور روگردانی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayahs 55:43–44

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

(اس وقت ان کی تذلیل اور تجریح مزید کے لئے کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ جہنم جس کو جھٹلایا کرتے تھے مجرم لوگ

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

(وہاں) وہ چکر لگاتے رہیں گے اسی جہنم اور انتہائی کھولتے ہوئے پانی کے درمیان

[ 39] مجرموں کی تحقیر و تذلیل کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کو مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ سو اپنی اس تکذیب کے نتیجے میں، اور اپنے اس کفر و انکار کے بدلے میں اب تم ہمیشہ اس عذاب کا مزہ چکھتے رہو، سو ایسے منکروں کیلئے آج اس کا موقع ہے کہ وہ اس کو جھٹلانے کے بجائے اس سے ڈرنے اور اس سے بچنے کی فکر و کوشش کریں، اور اس کو جھٹلانے کے اس سنگین جرم سے باز آجائیں کہ یہ محرومیوں کی محرومی ہے، اسی لئے قیامت کے روز تجزیح و توبیخ کے طور پر دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے، پس اب اس کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو، والعیاذ باللّٰہ، اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہے اس دوزخ کی تصویر اور اس کی حقیقت، جس کو مجرم لوگ جھٹلا رہے ہیں، اور اس سے غفلت برت رہے ہیں، اور جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر یہ بدبخت اس ہولناک آگ اور کھولتے پانی کے درمیان پھیرے لگاتے رہیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 55:45

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 41] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں سے فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ وہ تم کو دوزخ کے ان احوال و اھوال سے اس دنیا میں اس طرح خبردار کرتا ہے کہ تاکہ تم اس سے بچنے کا سامان کرسکو، لیکن تم ہو کہ پھر بھی اس سے غفلت اور لاپرواہی برتتے ہو، بلکہ تم میں سے کتنے ہیں جو پوری ڈھٹائی اور بیباکی سے اس کا انکار کرتے ہیں، لیکن تم ذرہ سوچو اس بارے غور کرو کہ کل جب قیامت کی وہ حقیقت کبریٰ آپہنچے گی۔ اور یہ احوال و مناظر تمہارے سامنے ہوں گے اور تمہیں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جوابدہی کرنا پڑے گی، اور اس کا خمیاز بھگتنا پڑے گا تو اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا اور تم پر کیا بیتے گی ؟ سو تمہارے رب نے اپنی رحمت و عنایت سے تم لوگوں کو دوزخ کے ان ہولناک عذابوں کی خبر اتنی پیشگی اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ دے دی جن سے علم وآگہی کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن نہیں تاکہ تم لوگ ان سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکو اور اس انتہائی ہولناک انجام و عذاب سے بچ سکو کہ حیات دنیا کے خاتمے کے بعد پھر اس کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، مگر تم لوگ پھر بھی غفلت و لاپرواہی کا شکار ہو۔ سو یہ کتنی بڑی غفلت و ناشکری اور محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 55:46–47

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو کوئی ڈرتا رہے گا اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے (اور اس کے حضور پیشی) سے تو اس کے لئے دو جنتیں ہیں1

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 42] اپنے رب سے ڈرنے والوں کیلئے دو باغوں کی خوشخبری : سو اس ارشاد سے صاف اور صریح طور پر یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے لیے دو باغ مانگے۔ ایک اپنے لئے اور ایک اپنے خدام و متعلقین کے لیے، جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کے لئے ہوتا ہے [ صفوۃ وغیرہ ] یا ایک قلبی و روحانی اور دوسرا ظاہری و مادی، کہ دنیا میں وہ دل سے بھی اللہ پاک سے محبت رکھتا اور اس کے احکام بجالاتا تھا، اور ظاہری طور پر بھی اس کی ناراضگی اور مخالفت کے کاموں سے بچتا رہتا تھا، یا ایک جنت اس کو نیک اعمال کرنے پر، اور دوسری برے اعمال چھوڑنے پر ملے گی۔ سو خوف خداوندی سے سرفرازی دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس ہے، کہ خوف خداوندی ہی وہ واحد چیز ہے جو انسان کو جادہء مستقیم پر پختہ اور استوار رکھ سکتی ہے، ورنہ انسان کو بڑے سے بڑا مجرم بننے سے بھی کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو مجرموں کے انجام کو بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے اس صلہ و بدلہ کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جس سے اللہ سے ڈرنے والوں کو نوازا جائے گا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayahs 55:48–51

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

وہ دونوں جنتیں (طرح طرح کے میووں والی) ڈالیوں سے بھرپور ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 43] ان دونوں باغوں کی شادابی کا ذکر وبیان : سو ان دونوں باغوں کی سرسبزی و شادابی کے بیان کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ دو دونوں باغ ڈالیوں سے بھرپور ہوں گے۔ افنان یا تو جمع ہے فن کی، بمعنی نوع اور قسم، یا یہ جمع ہے فنن کی جس کے معنی شاخ کے آتے ہیں۔ سو ان دونوں باغوں میں قسما قسم کے درخت بھی ہوں گے اور طرح طرح کے پھل بھی، سو اس سے ان دونوں باغوں کی رزخیزی، شادابی اور ان کے برگ و بار کی کثرت کا ظاہر فرمایا گیا ہے، کہ وہ کوئی اجاڑ اور بیاباں قسم کے باغ نہیں ہوں گے، بلکہ وہاں پر ایک ایک درخت شاخوں، ٹہنیوں اور پھلوں کی کثرت سے رشک چمن ہوگا، اور یہ بھی صرف الفاظ کی حد تک ورنہ ان کی اصل حقیقت خدا ہی جانے۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین
Ayahs 55:52–53

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان دونوں جنتوں میں ہر پھل کی دو دو قسمیں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 48] جنت کے پھلوں کی شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں باغوں کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ تاکہ یہ خوش نصیب لوگ لیٹے بیٹھے کھڑے جس طرح اور جب چاہیں ان سے متمتع ہوسکیں۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس جنت اور اس کی ان نعمتوں کے۔ اللہ نسیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں باغون کے اندر پھلوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ سروں پر لٹک رہے ہوں گے، ان کے حاصل کرنے میں کسی کو کوئی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ { فی جنۃٍ عالیۃٍ قطوفھا دانیۃٌ۔ [ الھاقۃ : 22-23 پ 29] یعنی " وہ ایسی عالی شان جنت میں ہوں گے جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے "۔ نیز ایک اور مقام پر فرمایا گیا۔ { ودانیۃً علیہم وذلک قطوفھا تذلیلاً ۔ [ الدھر : 14 پ 29] یعنی " اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کو پوری طرح ان خوش نصیبوں کے اختیار میں کردیا گیا ہوگا "۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین، اللہم اجعلنا منھم بمعحض منک وکرمک، یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayahs 55:54–55

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

وہاں پر وہ (خوش نصیب) ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے ایسے عظیم الشان بچھونوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل جھکے جا رہے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 46] جنتیوں کے آرام و سکون کا ذکر وبیان : سو ارشار فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یعنی وہ انتہائی اطمینان و سکون اور امن و چین سے ہوں گے، کیونکہ اس طرح تکیہ لگا کر امن و سکون سے رہنا اسے نصیب ہوسکتا ہے جو ہر طرح سے مطمئن اور فارغ البال اور خوش باش ہو۔ اللّٰہم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین جنت تو ہوگی ہی امن وامان اور سکون و اطمینان کی جگہ، اور جس ایمان و اسلام سے یہ خوش نصیب اپنی دنیاوی زندگی میں سرفراز و سرشار رہے ہوں گے، اس کے صلے اور بدلے میں ان کو وہاں پر یہ دائمء، ابدی، اور بےمثال امن و سکون نصیب ہوگا، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ وہ وہاں کے ان عظیم الشان بستروں پر ٹیک لگائے نہایت آرام و سکون سے بیٹھے ہوں گے جس سے ان کی خوشحالی اور فارغ البالی صاف ظاہر ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین [ 47] جنتیوں کے بےمثال بچھونوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے ایسے عظیم الشان بچھونوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے۔ اور جب ان کا استر اتنا قیمتی اور عمدہ ہوگا جو کہ عموماً کم درجے کا ہوتا ہے، تو پھر وہ بچھونے باہر سے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے کیا کچھ ہوں گے، اس کو اللہ ہی جان سکتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت گاؤتکیوں سے ٹیک لگائے ایسے عظیم الشان تختوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر استبرق کے ہوں گے،۔ چناچہ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے جب پوچھا گیا کہ جب ان کے استر اس قدر قیمتی ہوں گے تو پھر ان کے ظواہر کا کیا حال ہوگا ؟ تو انہوں نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے۔ { فلا تعلم نفسٌ مآ اخفی لہم من قوۃٍ اعین ج جزائً بما کانوا یعملون }[ السجدۃ : 17 پ 21] یعنی " کوئی نہیں جان سکتا کہ ان کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان مخفی رکھا گیا ہے ان کے ان اعمال کے بدلے میں جو یہ کرتے رہے تھے "۔
Ayahs 55:56–57

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں (ان کے لئے) نیچی نگاہوں والی ایسی (عظیم الشان) بیویاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا نہ کسی جن نے2

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 49] اہل جنت کی بیویوں کی صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں ان کیلئے نیچی نگاہوں والی ایسی بیویاں بھی ہونگی جن کو ان جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے، اور وہ [ قٰصِرٰتُ الطرف ] یعنی " نیچی نگاہوں والی ہونگی "۔ یعنی وہ شرمیلی اور پاکیزہ نگاہوں والی۔ نیز یہ کہ ان کی نگاہیں اپنے شوہروں سے گزر کر اور کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی، یعنی وہ انتہاء درجہ کی وفا شعار ہوں گی۔ نیز ان کی سیرت و صورت کا کمال اس درجہ کا ہوگا کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے علاوہ اور کسی پر پڑنے نہ پائیں گی، اس طرح وہ پاکیزہ بیویاں اپنی نگاہوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہروں کی نگاہوں کو بھی نیچی پاکیزہ اور مطمئن رکھنے کا باعث ہوں گی۔ اور یہ امر حیات زوجیت میں کمال توافق کی دلیل ہے جو کہ حقیقی سعادت اور زوجین کی خوشی و مسرت کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ سو یہ شرف و امتیاز اہل جنت کو بدرجہء تمام و کمال و نصیب ہوگا، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، سو اس میں جنت کی عورتوں کے شرمیلے پن کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ یہی چیز عورت کا اصل اور سب سے بڑا حسن بھی ہے اور اس کے اخلاق و کردار کا سب سے بڑا محافظ بھی۔ کیونکہ جو عورت شرم و حیا کے جوہر سے عاری ہوتی ہے وہ ہر جائی ہوتی ہے، اور ہر جائی کسی کی وفادار نہیں ہوسکتی۔ اور جب وہ وفادار نہیں تو عورت کی حیثیت سے ان کا وجود ہی بےمقصد ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عیش ودوام کے ان باغوں اور وہاں کے عظیم الشان سامانوں کے اندر ان کیلئے ایسی پاکیزہ اور شرمیلی نگاہوں والی بےمثال نازنینیں بھی ہوں گی جن کو ان کے رشتہء زوجیت میں دے دیا گیا ہوگا تاکہ اس طرح وہ خوش نصیب وہاں پر کمال سعادت سے سرفراز و بہرہ مند ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے لطف و کرم سے ہی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا،
Ayahs 55:58–59

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

(صفائی اور خوش رنگی میں ان کا یہ عالم ہوگا کہ) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 50] اہل جنت کی بیویوں کے بےمثال حسن کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی ان بےمثال بیویوں کے بےمثال حسن سیرت کے بیان کے بعد ان کے بےمثال حسن صورت کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسی ہونگی کہ گویا کہ وہ پیرے اور موتی ہیں۔ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) وغیرہ کا کہنا ہے کہ وہ صفائی میں یاقوت [ ہیروں ] کی طرح ہوں گی۔ اور سفیدی و چمک میں مرجان [ موتیوں ] کی مانند۔ [ ابن کثیر، خازن، مراغی وغیرہ ] سو پہلے " قصرات الطرف " سے ان کے باطنی حسن کا بیان فرمایا گیا جو کہ ایک عورت کا اصل اور حقیقی حسن ہے، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں ذکر کیا گیا۔ اور اب یہ ان کی ظاہری حسن کا بیان ہے۔ سو وہ اپنی سیرت اور صورت دونوں کے اعتبار سے بےمثال ہوں گی۔ انسان کی فطرت قدرت نے ایسی بنائی ہے کہ وہ ان مختلف نعمتوں سے اس وقت تک صحیح طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ نہ ہو جس کو قدرت نے اس کا شریک رنج و راحت بنایا ہے۔ اسی لیے یہاں پر اہل جنت کے لیے بیویوں کی اس نعمت کو بطور خاص ذکر فرمایا گیا، اور واضح فرما دیا گیا کہ وہ حسن ظاہر اور حسن باطن دونوں کے اعتبار سے بےمثال ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نصیب کرے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، تبارک و تعالیٰ ،
Ayahs 55:60–61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 51] نیکی کا بدلہ نیکی، وباللّٰہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ یعنی دنیا میں انہوں نے اپنی زندگی اپنے رب کی رضا کے حصول کی کوشش میں اور نیکی کے ساتھ گزاری، اس لئے اس کے بدلے میں آخرت میں ان کو یہ اور یہ نعمتیں نصیب ہوں گی، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر، کہ یہ انعام و اکرام اس واہب مطلق " جل جلالہ " کی طرف سے ہوگا جس کی رحمت و عنایت کی کوئی حد و انتہاء نہیں، جیسا کہ فرمایا گیا۔ { نزلاً من غفورٍ رحیمo} [ حم السجدۃ : 32 پ 24] نیز فرمایا گیا۔ { للذین احسنوا الحسنی وزیادۃً ط ولا یرھق وجوہہم قتر ولا ذلۃ ط اولئک اصحب الجنۃ ج فہم فیہا خٰلدون }[ یونس : 26 پ 11] اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین سو عقل و نقل اور انسانی فطرت سب کا تقاضا یہی ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلی و بدلہ ملے اور بروں کو ان کی برائی کی سزا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کائنات کا خالق ومالک چونکہ عادل و حکیم اور رحمان و رحیم ہے اس لئے وہ ضرور ایک دن ایسا لائے گا جس میں ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ ملے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں۔ اور یہ بات چونکہ انسانی فطرت میں راسخ ہے اسلئے اس کو ایک طے شدہ اصول اور ایک واضح حقیقت کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔ لفظ " احسان " نیکی کے معنی میں آتا ہے۔ اور نیکی کے صلہ و بدلہ کے معنی میں بھی۔ یہاں پر اس کو نہایت خوبی کے ساتھ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے کہ پہلے احسان کا مطلب ہے نیکی اور دوسرے کا مطلب نیکی کا صلہ و بدلہ۔ سو نیکیاں کرنے والوں کو ان کی نیکیوں کا بہترین بدلہ ملے گا، اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا،
Ayahs 55:62–63

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

ان دونوں کے علاو دو جنتیں اور ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 52] اہل جنت کیلئے دو اور باغوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دو کے علاوہ دو جنتیں اور بھی ہونگی۔ یہ لفظ " دون " کا ایک معنی ہے۔ جب کہ اس کا دوسرا معنی اس سے کم اور نیچے کا بھی آتا ہے۔ سو پہلی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اللہ سے ڈرنے والے ان اہل جنت کے لئے مذکورہ بالا دو جنتوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے، اور دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لئے اس سے کم اور نیچے درجے کے دو باغ اور بھی ہوں گے، یعنی پہلے دو باغ تو مقربین کے لئے ہوں گے، اور دوسرے دو باغ اصحاب یمین کے لئے جیسا کہ آگے سورة واقعہ میں آرہا ہے اور جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ دو باغوں کے برتن اور دوسرا سامان چاندی کا ہوگا، جب کہ دوسرے دو باغوں کے برتن اور دوسرا تمام سامان سونے کا ہوگا، اور ان خوش نصیبوں اور ان کے رب کی زیارت کے درمیان روائِ کبریا کے سوا کوئی آڑ نہ ہوگی اور یہ دونوں باغ جنت عدن میں ہوں گے [ روح، قرطبی، خازن، ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس میں مذکورہ دو باغوں کے علاوہ دوسرے دو باغوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکور دو باغوں کے ساتھ فی الجملہ اشتراک بھی رکھتے ہیں اور بعض اعتبارات سے ان سے مختلف بھی ہوں گے۔ اس لیے اس بارے میں اختلاف ہوا ہے کہ ان دونوں کے حق دار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا دو الگ الگ قسموں کے لوگ۔ اور اس بارے حضرات اہل علم سے دونوں ہی قول مروی و منقول ہیں۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کیلئے دو اور باغوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین وکرم الاکرمین،
Ayahs 55:64–67

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

وہ دونوں گہرے سبز ہوں گے1

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان دونوں میں دو ایسے چشمے ہوں گے جو جوش مار رہے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 53] ان دونوں باغوں کی سرسبزی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں سخت گہرے سبز ہوں گے اور ایسے گہرے سبز کہ اپنے سبزے کی بنا پر سیاہ نظر آئیں گے۔ کیونکہ سبزہ جب زیادہ گہرا ہوتا ہے تو وہ سیاہی مائل ہوجاتا ہے [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، وغیرہ ] سو اس سے ان دونوں باغوں کی سرسبزی اور شادابی کا حال بیان فرمایا گیا ہے اور شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت اور عمدہ رنگ یہی ہوتا ہے، حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے۔ [ مدھامتان ] کے بارے میں پوچھا۔ یعنی اس لفظ کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " خضراوان " یعنی " اس سے مراد دو سرسبز باغ ہیں "۔ [ المراغی وغیرہ ] سو جنت کی ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے منہ موڑ کر دنیائے دُوں کی ان عارضی اور فانی لذتوں پر قانع اور مطمئن ہوجانا کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اسی لیے اس کے بعد آیت ترجیع لاکر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ " فلا بشیئٍ من نعماک وبنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے ذکر و شکر سے سرشار رکھے، آمین ثم آمین۔
Ayahs 55:68–69

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان دونوں میں طرح طرح کے اور پھل بھی ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 55] ان دونوں باغوں کے پھلوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کے اندر پھل بھی ہوں گے اور ان میں کھجوریں اور انار بھی ہوں گے۔ دوسرے پھلوں میں داخل ہونے کے باوجود ان کو الگ کرکے بیان فرمایا گیا، ان کی اہمیت اور خصوصیت کی بناء پر، پھر جنت کی کھجوریں اور وہاں کے انار تو ہمارے تصور سے بھی کہیں بڑھ کر ہوں گے، اللہ نصیب فرمائے [ روح المعانی ] بہرکیف " فاکھۃٌ " یعنی پھلوں کے عمومی ذکر کے بعد نخل [ کھجور ] اور رمان [ انار ] کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے قبیل سے ہے، ان دونوں کی خصوصی اہمیت کی بناء پر فرمایا گیا، کیونکہ یہ دونوں پھل عربوں کے یہاں بطور خاص محبوب پھل تھے، نیز ان دونوں پھلوں کی خصوصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سردی اور گرمی دونوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کے اندر پھل کی خاصیت بھی ہے اور سالن کی بھی، [ تفسیر المراغی ] بہرکیف اس سے دونوں باغوں کے پھلوں کو بیان فرما دیا گیا ہے، والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayahs 55:70–71

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں (اہل جنت کے لئے) خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں بھی ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 56] اہل جنت کی خوب سیرت اور خوبصورت بیویوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں ان کیلئے خوبصورت اور خوب سیرت بیویاں بھی ہونگی۔ یعنی وہ اپنے باطن کے اعتبار سے عمدہ اخلاق وصفات والی ہوں گی، اور اپنے ظاہر کے اعتبار سے عمدہ و دلربا صورت اور حسن والی، یعنی خوب سیرت بھی ہوں گی، اور خوبصورت بھی، سو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیرت کی عمدگی و خوبی صورت کی عمدگی و کو بی سے زیادہ اہم اور اصل ہے کہ اس کو یہاں پر پہلے ذکر فرمایا گیا ہے، اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے خیرات حسان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا، یعنی ان کے اخلاق عمدہ ہوں گے اور چہرے خوبصور، [ تفسیر المراغی، ابن کثیر، فتح القدیر، اور البحر وغیرہ ] بہرکیف اس سے اہل جنت کی پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت بیویوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو وہاں کی ہر نعمت عمدہ اور بےمثال ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayahs 55:72–73

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

ایسی عظیم الشان حوریں جو محفوظ ہوں گی خیموں کے اندر

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

[ 57] حُوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی عظیم الشان حوریں جو محفوظ ہوں گی خیموں کے اندر۔ اور یہ خیمے بھی دنیاوی خیموں کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ " درر مجوفہ " ہوں گے۔ اور ایک " درر مجوف " یعنی موتی کی لمبائی ساٹھ میل کی ہوگی۔ اور اسی طرح اس کی چوڑائی بھی ساٹھ میل کی ہوگی، اس کے مختلف حصوں اور زاویوں میں جنتی شخص کے اہل و عیال رہ رہے ہوں گے۔ مگر وہ غیر متعلقہ شخص کی نظروں سے محفوظ ہوں گی، سو عورت کی اصل خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات ہی کیلئے ہو اور اجانب کی نظروں سے محفوظ ہو، جنت کی عورتوں میں یہ خوبی بدرجہء تمام و کمال پائی جاتی ہوگی، اور یہی تقاضا ہے انسانی شرافت اور اس کی غیرت کا۔ لیکن افسوس کہ آج کی مسلمان خاتون اغیار کی تقلید میں اپنے آپ کو اس شرف سے خود محروم کر رہی ہے۔ اور وہ حجاب سے نکل کر ایک تماشہ اور نظر بازی کی آماجگاہ بن گئی ہے، جسکے باعث ہر ایری غیری اور للچائی ہوئی نظر اس پر پڑتی ہے اور شیطان نے اس کو ایسا دھوکہ دیا ہے کہ اپنی اس تذلیل و تحقیر اور بےآبروئی پر افسوس کرنے کی بجائے وہ الٹا اس کو اپنی آزادی کا تقاضا سمجھتی ہے، اور اپنے خسارے کو نفع قرار دیتی ہے۔ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ والعیاذ باللّٰہ من کل نوع من انواع العذاب، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقینا، وحیا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل حینٍ من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان۔