54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 54:33

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو

[ 36] قوم لوط کے حال بد کا تذکرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم لوط نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔ جس کے نتیجے میں آخر کار وہ لوگ بھیی اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس معلوم ہوا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور ان کی توہین دراصل تباہی اور فساد کی جڑ بنیاد ہے، اور اس کے بالمقال امن و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ ان کی دعوت پر لبیک کہا جائے اور ان کی تعلیمات کو صدق دل سے تسلیم کر کے ان کے مطابق اپنی زندگی کی راہیں استوار کی جائیں، اور اب وحی سماوی کا یہ نور صرف رسالت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی صورت میں اور قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے اور بس۔ سو اب نجات صرف اسی اتباع اور پیروی میں ہے پس جو لوگ اس دین حق کے منکر اور اس کے مکذب و دشمن ہیں وہ یقینا اور ہر حال ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 54:34

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ایسی ہولناک ہوا بھیجی جس نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا بجز آل لوط کے کہ ان کو ہم نے بچا لیا رات کے پچھلے حصے میں1

[ 37] قوم لوط کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ہم نے بھیج دی ان پر کنکر پتھر برسانے والی ایک ہولناک آندھی۔ حاصب دراصل حصباء سے مشتق و ماخوذ ہے، جس کے معنی کنکری کے آتے ہیں اس لئے حاصب کے معنی ہوئے کنکر اور پتھر برسانے والی ہوا، سو اس ہوا کو ہم نے نے ان پر اس وقت تک مسلط رکھا جب تک کہ یہ بالکل تباہ ہو کر ہمیشہ کے لئے مٹ نہیں گئے، اور اس طرح یہ لوگ داستان عبرت اور قصہء پارینہ بن کر رہ گئے، اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حضرات انبیاء کرام ورسل عظام کے ذریعے ملنے والی دعوت حق و ہدایت کی تکذیب اور اس سے اعراض و روگردانی کا، پس ایسوں کو جتنی بھی مہلت ملے آخر کار ان کے لئے تباہی ہی مقدر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 38] آل لوط کی نجات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہولناک ہوا بھیج دی بجز لوط کے متعلقین کے۔ یعنی جو ایمان لاچکے تھے کہ وہ بچ گئے، پس بچنے کا ذریعہ صرف ایمان و اطاعت ہے، اس کے بغیر تباہی ہی تباہی ہے والعیاذ باللّٰہ العزیز بہرکیف آل لوط اس ہولناک انجام سے محفوظ رہے اور آل کے مفہوم میں کسی کی صرف صلبی اولاد ہی شامل نہیں ہوتی، بلکہ اس میں اس کی معنوی اولاد بھی داخل ہوتی ہے، یعنی اس کے اتباع و پیروکار بھی، جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح کی ہے، سو نجات کی راہ پیغمبر پر ایمان اور اس کی سچی اطاعت و اتباع ہی سے وابستہ ہے۔ سو جو لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) پر صدق دل سے ایمان لائے وہ اس ہولناک انجام سے محفوظ رہے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت فرمائی گئی کہ رات کے پچھلے حصے میں وہاں سے نکل جائیں۔ سو وہ نکل گئے۔ اس کے بعد باقیوں کو جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی تھی ان سب پر عذاب کا کوڑا برسا دیا گیا جس سے وہ سب ہمیشہ ہمیش کیلئے " فی النار والسقر " ہوگئے اور اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ اور اس طور پر کہ اس سے بچنے اور نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ رہی اور یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک ضلالت۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 39] حضرت لوط (علیہ السلام) کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی آل کے حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ ہی تھے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے نجات دیلوط اور ان کے پیروکاروں کو رات کے پچھلے حصے میں۔ پس مشکل کشائی، وحاجت روائی، اور انبیاء ومرسلین تک کی مشکل کشائی و حاجت روائی بھی اللہ تعالیٰ اور صرف اللہ تعالیٰ ہمارا اور صرف ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے، تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو حاجت رواومشکل کشا ہوسکے ؟ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا، اس کی مخلوق میں سے بھی ہشتی کو خرق عادت کے طور پر حاجت رواو مشکل کشا قرار دے کر اس کو پوجنا پکارنا کھلا شرک اور سراسر ظلم ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے نجات دی لوط کو اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو، سو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس حاجت روا ومشکل کشا بس کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کی اس صفت و شان میں دوسرا کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ پس بڑے ہی غلط کار اور انتہائی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس کی مخلوق میں سے مختلف ہستیوں کا اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، جل وعلا۔
Ayah 54:35

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

محض اپنی مہربانی سے اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو شکر کرتا ہے

[ 40] شکر خداوندی ذریعہء نجات و عنایت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکر کرتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں پر یہ انعام کیا اسی طرح ہم ہر اس شخص پر انعام کرتے ہیں جو ایمان و اطاعت کے ذریعے ہمارا بنکر رہتا ہے، اور ہمارا شکر بجالاتا ہے، معلوم ہوا کہ شکر نعمت نجات اور بچاؤ کا ذریعہ اور سبب ہے، جبکہ کفران نعمت ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی غیر معمولی صفت شکر کی داددی گئی ہے اور اس امر کا اظہار و اعلان بھی فرما دیا گیا کہ جو بھی کوئی اس کا شکر گزار ہوگا وہ اس انعام و احسان کا حقدار ہوگا، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عنایت حضرت لوط (علیہ السلام) ہی کیلئے خاص نہیں تھی بلکہ اس کے بعد اور آج بھی جو لوگ اس واہب مطلق جل وعلا کا شکر ادا کریں گے وہ بھی اس کی عنایت خاص سی سرفراز ہوں گے کہ الفاظ و کلمات کا عموم ان سب کو شامل ہے اور اس کا دامن رحمت بھی بہت وسیع ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور بلاشبہ لوط نے ان لوگوں کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے مگر وہ لوگ جھگڑے ہی کرتے رہے ہماری تنبیہات کے بارے میں

[ 41] انکار و تکذیب حق باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے انذار کی تکذیب اور اس میں جھگڑنا باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو باز آنے اور سبق لینے کی بجائے وہ لوگ الٹے ہماری ان تنبیہات کے بارے ہی میں شک میں پڑگئے اور جھگڑنے لگے، اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور اپنے مرض میں وہ لوگ اور پکے ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ کے انذار کی تکذیب اور اس کے بارے میں جھگڑنا، اور حجت بازی سے کام لینا باعث ہلاکت اور موجب تباہی ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ان لوگوں کے اوپر نزول عذاب کے سبب کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور عناد کے نتیجے میں اس عذاب کے مستحق ٹھہرے اللہ کے رسول نے ان کو ہر پہلو سے اچھی طرح آگاہ کردیا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں، اور اس ہولناک انجام سے بچ جائیں اور ان کو خبردار کردیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اور اللہ کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ مگر ان لوگوں نے مان کے نہ دیا الٹا وہ ہر تنبیہ میں حجتیں ہی نکالتے رہے یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 54:37

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور انہوں نے لوط سے ان کے مہمانوں کے بارے میں مطالبہ شروع کردیا آخرکار ہم نے موندھ کر رکھ دیا ان کی آنکھوں کو (اور ان سے کہا گیا کہ لو اب) چکھو تم لوگ مزہ میرے عذاب کا اور میرے ڈرانے کا

[ 42] قوم لوط کی بدبختی کی انتہائ، والعیاذ باللّٰہ : سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی بدبختی کی انتہاء کو آشکار فرما دیا گیا جس کے بعد اللہ کا عذاب ان پر آدھمکا۔ اور رسول کی تنبیہات پر کان دھرنا اور اپنی اس بےحیائی سے باز آنا تو الگ رہا الٹا وہلوگ اپنی بدبختی اور دیدہ دلیری میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت لوط سے ان کے مہمانوں کے بارے میں مطالبہ شروع کردیا۔ کہ وہ ان کو ان کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے اپنی غرض خبیث پوری کرسکیں، کہ وہ فرشتے جو دراصل ان کے عذاب کیلئے بھیجے گئے تھے خوبصورت مرد نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے تھے تاکہ ان لوگوں کا خبث باطن عین معقو پر کھل کر سامنے آجائے اور ان کا حال ان مجرموں کا سا ہوجائے جن کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جاتا ہے، جس کے بعد ان کیلئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ اس بدبخت قوم کی بدبختی کی انتہاء تھی جس سے انہوں نے گویا اپنے آخری انجام کے وثیقے پر خود دستخط کردیے تھے اور انہوں نے اپنے جینے کے حق کو ختم دیا تھا۔ والعیاذ باللّٰہ، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔ وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، [ 43] انکار حق کا نتیجہ و انجام اندھاپن اور ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ انکار و تکذیب حق کا نتیجہ انجام ہولناک اندھا اور ہلاکت و تباہی ہے چناچہ یہاں پر اس بدبخت قوم کے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کے آغاز کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے موندھ کر رکھ دیا ان کی آنکھوں کو۔ یعنی جب ان لوگوں کی شرانگیزی اس انتہاء کو پہنچ گئی، اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا دل بہت تنگ ہوگیا تو حضرت جبریل نے ان لوگوں پر یک پر اس طرح مارا کہ ان سب کی آنکھیں مٹ گئیں، اور اس طرح مٹ گئیں کہ ان کے نشان بھی ختم ہوگئے، اور ان کو کہیں کا راستہ نہیں مل رہا تھا، تب یہ بدبخت کہنے لگے او ہود و لوط نے تو ہم پر جادو کردیا، والعیاذ باللّٰہ، [ ابن کثیر، خازن، مدارک وغیرہ ] سو ان بدبختوں کو اس وقت بھی بات سمجھ نہ آئی اور وہ عبرت پکڑنے کی بجائے الٹا اس کو حضرت لوط (علیہ السلام) کا جادو کہنے لگے، اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا، والعیاذ باللّٰہ۔ سو جو لوگ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر اس طرح اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اسی طرح اندھا اور بہرہ کردیا جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال، ومن کل سواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء الصراط۔
Ayahs 54:38–39

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان کو صبح سویرے ہی آلیا ایک ہولناک دائمی عذاب نے

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

پس اب چکھو تم لوگ مزہ میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا

[ 44] قوم لوط کے عذاب اور اس کے وقت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح ہوتے ہی آپکڑ ان لوگوں کو برے ہولناک دائمی عذاب نے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور دائمی اس لئے کہ دنیا کا یہ عذاب برزخی اور پھر اخروی عذاب کے ساتھ مل گیا، جو کہ ہمیشہ رہنے والا ہے، سو وہ ایسے عذاب میں مبتلا ہوئے کہ اب ان کیلئے اس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہی تھی، سو کتنا ہولناک انجام ہوتا ہے تکذیب حق اور کفر انکار کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ عربوں کے یہاں حملہ اور غارت گری کا وقت بالعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اسی بناء پر صبح کا لفظ اسی معنی کیلئے آنے لگا، سو حضرت لوط (علیہ السلام) جیسا کہ اوپر گزرا اپنے متعلقین سمیت سحری کے وقت اس بستی سے نکل گئے اور ان لوگوں پر عذاب طلوع فجر کے بعد آیا، سو حضرت لوط (علیہ السلام) کے اس بستی سے نکلنے کے بعد ان کی قوم پر اس عذاب کے آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) عذاب کے علاقے سے باہر نکل گئے اور پیچھے وہی بدبخت رہ گئے جو لقمہء عذاب اور دوزخ کا ایندھن بننے والے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayahs 54:40–41

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا اس قرآن (حکیم) کو نصیحت کے لئے تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور بلاشبہ فرعون والوں کے پاس بھی پہنچ گئے خبردار کرنے کے طرح طرح کے سامان

[ 45] درس عبرت لینے کی تعلیم و ترغیب : سو لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کو درس عبرت لینے کی ترغیب کے طور پر رحمتوں اور شفقتوں بھرے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنیوالا ؟ اس آیت کریمہ کو ان چاروں قصوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دوہرایا گیا کہ ان میں سے ہر ایک میں پندونصیحت کا ایک مستقل اور کافی و وافی سامان ہے، مگر اس کے لئے جو نصیحت قبول کرنا اور سبق لینا چاہتا ہو۔ پس تاریخ کو محض قصہ گوئی کیلئے نہیں، عبرت اور سبق آموزی کے لئے پڑھنا چاہیے، مگر افسوس کہ آج کے تاریخ دانوں سے عبرت پذیری کا یہی گوہر مقصود غائب اور نایاب ہے۔ الا ماشاء اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس قصے میں اور اس طرح دوسرے تمام قصوں میں یہ اہم اور بنیادی درس پایا جاتا ہے کہ کفار و منکرین کو دنیا میں مہلت جتنی بھی ملے ان کا انجام بہرحال ہولناک تباہی اور دائمی عذاب ہے کہ یہی تقاضا ہے اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و انصاف اور اس کی رحمت و عنایت کا سبحانہ وتعالیٰ فباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayahs 54:42–43

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

مگر انہوں نے جھٹلا دیا (پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ) ہماری سب نشانیوں کو سو آخرکار ہم نے ان کو پکڑا ایک بڑے ہی زبردست قدرت والے کا پکڑنا

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

کیا تمہارے کفار بہتر ہیں ان لوگوں سے (اے دور حاضر کے منکرو اور ان کے ہم مشربو ! ) یا تمہارے لئے کوئی (معافی اور) براءت لکھی ہے آسمانی کتابوں میں ؟

[ 46] فرعونیوں کے جرم تکذیب و انکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کے پاس بھی تنبیہات آئیں مگر ان لوگوں نے بھی جھٹلایا ہماری سب نشانیوں کو۔ یعنی ان معجزات کو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرما گئے تھے، جن کو اعراف وغیرہ میں تسع آیات تسع آیات سے تعبیر فرمایا گیا ہے، نہ کہ تورات کی آیات کہ وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غرق فرعون کے بعد فرمائی گئی تھیں، بہرکیف اس ارشاد سے فرعون اور اس کی قوم کے جرام اور ان کے انجام کی طرف بالاجمال اشارہ فرما دیا گیا کہ انہوں نے بھی جھٹلایا پیغام حق و ہدایت کو، اور حضرت موسیٰ کے معجزات کو، جس کے نتیجے میں وہ بدبخت بھی ہمیشہ کیلئے مٹ مٹا کر انتہائی اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، سو پیغام حق و ہدایت کے انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللّٰہ، اور آل فرعون سے یہاں پر مراد جیسا کہ ظاہر ہے اس ملعون کی پوری قوم ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ فرعونیوں کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے مختلف نشانیاں بھیجی گئیں جن کے ذریعے مصریوں کو قہر الٰہی سے خبردار کیا گیا تھا جن کی پوری تفصیل تورات میں موجود ہے اور قرآن حکیم میں بھی جابجا ان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور وہ نشانیاں ایسی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک نشانی آنکھوں کی پٹیاں کھلونے کے لیے کافی تھی لیکن فرعونیوں کے دل اتنے سخت ہوگئے تھے کہ ان پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اور تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود وہ لوگ اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ و ضلال۔ [ 47] فرعونیوں کی ہولناک پکڑ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ہم نے ان کو پکڑا ایک بڑے ہی زبردست قدرت والے کا پکڑنا۔ جس کی پکڑ سے نہ کوئی بھاگ سکے، اور نہ کوئی پکڑا ہوا کس طرح سے چھوٹ سکے۔ جلت قدرتہٗ وعمت سلطنتہٗ یعنی جب انہوں نے ہامری سب آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلایا اور کسی طرح مان کر نہ دیا، ان کی آنکھوں کی پٹیاں کسی بگی طرح نہ کھلیں اور وہ برابر اندھے کے اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہے، تو آخر کار تو ہم نے ان کو ایسے پکڑا جیسے ایک زبردست اور بےپناہ قدرت والا پکڑتا ہے، جس سے پھر ان کے چھوٹنے اور بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوسکی، والعیاذ باللّٰہ العظیم سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے پیغام حق و ہدایت کی تکذیب و انکار کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 54:44

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم لوگ ایک بھاری جتھا ہیں جو غالب ہی رہے گا ؟

[ 49] منکرین کے ایک زعم باطل کی تردید : سو منکرین کو جو اپنی جمیعت وقوت اور کثرت پر زعم اور گھمنڈ تھا جس کی بنا پر وہ کسی تہدید و وعید کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اس پر ضرب کاری لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم ایک بھاری جھتہ ہیں جو غالب ہی رہے گا ؟ یعنی ان کو اپنی قوت و کثرت کا گھمنڈ ہے، کہ اس کی بناء پر محمد ﷺ کے مقابلے میں غالب ہم ہی رہیں گے ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا، تو واضح فرما دیا گیا کہ ان کا یہ زعم باطل اور بےبنیاد ہے، اللہ کے عذاب کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا، لیکن جو لوگ اس طرح کے زعم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان پر عذاب کدھر سے اور کس طرح آئے گا ؟ یہاں تک کہ ان کو عذاب میں دھرلیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اپنی ظاہری قوت و کثرت اور اپنے مادی اور اپنے مادی ذرائع و وسائل پر بےجا اعتماد ایسے لوگوں کو اندھا اور اوندھا کردیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ حق اور ہدایت اور انصاف و معقولیت کی کوئی بات سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں وہ آخرکار اپنے ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 54:45

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

عنقریب ہی شکست کھائے گا ان کا یہ جتھا اور ان کو بھاگنا ہوگا اپنی پیٹھیں پھیر کر2

[ 50] منکرین و مستکبرین کیلئے تنبیہ و تہدید : سو اس سے مستکبرین و منکرین کو ان کے ہولناک انجام کے بارے میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ایسے منکرین کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی شکست کھائے گا ان کا یہ جتھا اور ان کو بھاگنا پیٹھ دے کر۔ چناچہ اس کے کچھ ہی بعد غزوہ بدر میں ایسے ہی ہو کر رہا۔ سو یہ آیت کریمہ بھی آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ کیونکہ یہ پشینگوئی مکہ مکرمہ میں اس وقت فرمائی جا رہی ہے جب کہ دور دور تک کے کوئی آثار دکھائی نہ دیتے تھے، بلکہ حالات یکسر اس کے خلاف اور بالکل برعکس تھے، مگر اس کے چند ہی سال بعد اس کو دنیانے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا، اس لئے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت میں نہ سمجھ سکا کہ یہ کب اور کیسے ہوگا، مگر اس کے بعد غزوہ بدر کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ کو میں نے ذرہ پہنے یہی آیت کریمہ پڑھتے دیکھا تو مجھے اس کی حقیقت سمجھ آگئی، اور اس کے بعد کفر شکست ہی کھاتا گیا، [ روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک، التنزیل اور مراغی وغیرہ ] سو ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہییے کہ خداوند تعالیٰ کی قوت قاہرہ اور اس کے جنود جنارہ کے مقابلہ میں ان کی قوت ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتی اور اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں چھڑا سکتا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayahs 54:46–49

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

(اور اسی پر بس نہیں) بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ ہے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بلاشبہ مجرم لوگ پڑے ہیں ایک بڑی گمراہی اور ہولناک دیوانگی میں

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

(جس کی پوری حقیقت اس دن کھلے گی) جس دن کہ ان کو گھسیٹا جا رہا ہوگا اس (ہولناک) آگ میں ان کے چہروں کے بل (اور ان سے کہا جا رہا ہوگا کہ لو اب) چکھو تم لوگ مزہ دوزخ کی لپٹ کا

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہر چیز کو (اپنی قدرت و حکمت سے) ایک خاص اندازے کے ساتھ1

[ 51] منکرین کیلئے اصل عذاب کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کو اصل عذاب قیامت کے روز ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد سے صاف وصریح طور پر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسی دنیاوی ہزیمت و پامالی اور تذلیل و رسوائی پر بس نہیں، بلکہ ان کے اصل عذاب کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ گھڑی ہوگی۔ اتنی تلخ اور اس قدر ہولناک کہ اس کی ہیبت و دہشت اور تلخی و مرارت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس ہزیمت اور پامالی سے تو یہ لوگ عنقریب اس دنیا میں ہی دوچار ہوں گے، لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے عذاب کا اصل مقام اور وعدہ آخرت میں ہے، اور وہ ان کے لئے بڑا ہی کٹھن اور نہایت ہی کڑوا ہوگا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے اس دنیا میں بھی لازماً شکست و عذاب سے دو چار ہوتے ہیں لیکن بات اسی عذاب پر ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ ان کے لیے اصل عذاب آخرت کے اس جہاں میں ہوتا ہے اور وہ اس دنیا کے خاتمے کے فوری اور متصل بعد قائم ہوگا بالکل اسی طرح جس طرح آج کے بعد آنے والا کل، اسی حقیقت کے اظہار وبیان کیلئے دوسرے مقام پر اس کیلئے " غد " یعنی آنے والا کل کا لفظ استعمال فرمایا گیا، اور ارشاد ہوتا ہے۔ { ولتنظر نفس ما قدمت لغدٍ } یعنی ہر شخص جو دیکھ لے کہ اس نے آنے والے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت کا جو کہ جزاء و سزا کا جہاں ہے اور وہ عذاب اس دنیاوی عذاب سے کہیں بڑھ کر سخت اور ہولناک ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کذلک العذاب ط والعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون } [ القلم : 33 پ 29] سو اس آیت کریمہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، جل جلالہ،
Ayahs 54:50–51

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا معاملہ تو بس ایک فرماں کا ہوتا ہے جو پل جھپکنے کی طرح پورا ہو کر رہتا ہے

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم (اس سے پہلے) تم جیسے بہت سوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

[ 54] اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر معاملہ پل جھپکنے کی طرح، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہمارا معاملہ تو بس ایک فرمان کا ہوتا ہے پل جھپکنے کی طرح۔ یعنی کلمہء کن کا معاملہ ہوتا ہے۔ یعنی ہوجا اور بس۔ سو وہاں اسباب و وسائل جمع کرنے کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ حکم کرنا اور امر فرمانا ہوتا ہے، جس پر وہ کام ہوچکا ہوتا ہے، پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ عذاب لانے اور قیامت کے برپا کرنے کیلئے ہمیں کوئی تیاری کرنی ہے، اس وجہ سے اس کے آنے میں دیر ہو رہی ہے، سو اس طرح کی کوئی رکاوٹ ہمارے سامنے نہیں ہے، ہم اس کو جب بپا کرنا چاہیں کرسکتے ہیں جب اس کو اپنے وقت مقرر پر بپا کرنا مقصود ہوگا تو اس کیلئے ہمارا ایک حکم و ارشاد ہی کافی ہوگا۔ اس کو دوہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی وہ پل جھپکنے میں موجود ہوجائے گی۔ سو وہ خود بےمثل و بےمثال ہے اور اس کی ہر شان بےمثال و لاجواب ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللّٰہم فکن لنا ولاتکن علینا یاذالجلال والاکرام۔
Ayah 54:52

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو بھی کچھ انہوں نے کیا وہ سب درج ہے ہمارے دفتروں میں

[ 55] انسانی اعمال کے ریکارڈ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ انہوں نے کیا وہ سب محفوظ ہے دفتروں میں۔ پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کے اعمال کا کسی کو پتہ نہیں۔ زبر جمع ہے زبور کی جس کے معنی ہیں کتاب، مراد ہے نامہء اعمال جس میں انسان کا ہر عمل لکھا جاتا ہے، ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید پس کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ ان کا کوئی قول ہمارے احاطہء علم سے باہر ہے، بلکہ ان کا سب کیا کرایا ہمارے عظیم الشان دفتروں میں محفوظ و مسطور ہے، اس کے مطابق وقت آنے پر ہر کسی کو اپنا صلہ و بدلہ پانا اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہے، اور کل وقت حساب آنے پر وہ سب کچھ ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ ان کے رجسٹروں میں ہر چھوٹی بڑی بات کو محفوظ کرلیا گیا ہے جس کو دیکھ کر مجرم لوگ پکار اٹھیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے کسی بھی چھوٹی بڑی بات کو درج کیے بغیر نہیں چھوڑا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس حسرت بھرے قول کا اس طرح نقل فرمایا گیا ہے۔ { ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃً ولا کبیرۃً الا احصھا ج ووجدوا ما عملوا حاضرًا ط ولا یظلم ربک احدًا۔} [ الکہف : 49 پ 15] ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 54:53

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے

[ 56] انسان کا ہر عمل مکتوب و محفوظ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ یعنی ان کے نامہ اعمال میں اور اس سے پہلے لوح محفوظ میں، اور اس کے مطابق ہر انسان کو اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہوگا پس دیکھ لے کہ وہ کیا عمل کرتا ہے، [ روح، خازن وغیرہ ] سو ان کے اعمال و اقوال میں سے ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی کوئی موجود ہے، ان کے نامہ ہائے اعمال میں، سو اس کے مطابق ان کا سب کیا دھرا ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، تب ہر مجرم پکار اٹھے گا کہ کیسا ہے یہ دفتر جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو محفوظ کر رکھا ہے اور کل قیامت کے رور اس کا وہ نامہ اعمال کھلا ہوا اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور آج تو اپنے حساب کے لیے خود کافی ہے۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی مرضیات پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
Ayah 54:54

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

بلاشبہ پرہیزگار لوگ رہ بس رہے ہوں گے عظیم الشان جنتوں اور طرح طرح کی نہروں میں

[ 57] پرہیزگاروں کے انعامات کا ذکر وبیان : سو اس سے پرہیزگاروں کے عظیم الشان انعام و انجام کا ذکر وبیان فرمایا گیا کہ وہ وہ بس رہے ہوں گے عظیم الشان نہروں میں۔ یعنی پانی، شراب طہور، شہد اور دودھ کی نہروں میں [ قرطبی، محاسن، مدارک وغیرہ ] پس نہر کے لفظ سے جنس مراد ہے نہ کہ ایک نہر۔ جیسا کہ پ 26 سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں ارشاد فرمایا گیا۔ { مثل الجنۃ التی وعد المتقون ط فیہا انھرٌ من مآء غیر اسنٍ ج وانھر من لبنٍ لم یتغیر طعمہٗ ج وانھر من خمرٍ لذۃٍ للشربین ج وانھر من عسل مصفی ط ولہم فیہا من کل الثمرت ومغفرۃ من ربھم ط کمن ھو خالدٌ فی النار وسقوامآئً حمیماً فقطع امعآء ھم } اور یہاں پر جمع یعنی انہار کی بجائے اسم جنس یعنی نہر کو رعایت فواصل کی بناء پر اختیار فرمایا گیا ہے، جس طرح کہ حضرات اہل عل اور تمام ثقہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے، پس جن لوگوں نے اس کا ترجمہ " اور نہر میں سے کیا ہے " وہ غلط ہے۔ اب ان سے کون پوچھے کہ کیا وہاں پر ایک ہی نہر ہوگی اور بس ؟ بہرکیف متقی اور پرہیزگار لوگوں کو اس عظیم الشان خوشخبری سے نوازا اور سرفراز فرمایا گیا ہے کہ وہ عظیم الشان باغوں، اور بےمثال نہروں میں ہوں گے، سو یہ مجرمین و مخذبین کے انجام اور ان کے عذاب کے مقابلے میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کا انجام بیان فرمایا گیا ہے، تاکہ دونوں نمونے سامنے ہوں اس کے بعد انسان اپنی مرضی سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرے۔ کہ اسکا سارا امتحان اسی آزادیء ارادہ و اختیار پر ہے اور اسی پر اس کی سزا و جزا کا دار و مدارو انحصار ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayah 54:55

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

سچی عزت کے مقام میں ایک بڑے ہی اقتدار والے بادشاہ کے پاس2

[ 58] پرہیزگاروں کے لیے عزت کے مقام کی خوشخبری : سو اس سے پرہیزگاروں کے لیے مقعد صدق سے سرفرازی کا مژدہ جانفرا سنایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مقعد صدق یعنی سچی عزت کے مقام میں ہوں گے۔ جس کی عزت دنیاوی عزت کی طرح نہ تو ناقص اور طاہری عزت ہوگی، اور نہ ہی عارضی وفانی، بلکہ وہ عزت حقیقی اور دائمی عزت ہوگی، اور خداوند قدوس کے انعام و احسان سے ان حضرات کو نصیب ہوگی جنہوں نے اپنی دنیاوی زندگی اپنے خالق ومالک کی مرضیات کے مطابق گزاری ہوگی، اور اس کی رضا کے حسول کیلئے انہوں نے آپ کو دنیاوی لذتوں سے محروم کرکے تکلیفوں اور مشقتوں میں ڈالا ہوگا، اور اپنے خالق ومالک کی ہدایات کے مطابق اپنے آپ کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کا پابند رکھا ہوگا، سو ان کو اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ہمیشہ کے لئے ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا گیا ہوگا، سو کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کی چند روزہ زندگی کو اپنے خالق ومالک کی مرضیات کے مطابق گزار کر ہمیشہ کے لئے ان ابدی نعمتوں سے سرشار اور فائز المرام ہوں گے اللہ تعالیٰ ہمیں انہی میں سے بننا نصیب فرمائے، آمین، بہرکیف یہاں پر مقعد کی اضافت صدق کی طرف اس کی عزت، پائیداری اور ابدیت کا پتہ دے رہی ہے جس طرح کی لسان صدق کی ترکیب میں یہ تمام معانی و مفاہم پائے جاتے ہیں۔ سو اس عظیم الشان اور بےمثال دربار عالی کے درباری ہونے کا جو شرف عظیم ان خوش نصیبوں کو نصیب ہوگا اس کی عزت و عظمت نہ بناوٹی و نمائشی ہوگی اور نہ عارضی اور چند روزہ، بلکہ وہ حقیقی، سچی، ابدی، اور دائمی ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، [ 59] متقین کی اصل عظمت و سرفرازی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو یہ مقام عالی اور مقعد صدق ایک بڑے ہی اقتدار والے بادشاہ کے پاس نصیب ہوگا۔ یعنی اللہ رب العالمین کے پاس جو کہ مالک کل اور قادر مطلق ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں دنیا و آخرت کی ہر چیز ہے سبحانہ وتعالیٰ ، فلہ الحمد فی الاولی والاخرۃ وھو الغنی الحمید سو وہ مقام صدق ان بچوں کو نصیب ہوگا جنہوں نے دنیا میں صدق و صفا کی زندگی گزاری ہوگی، اپنے ایمان و عقیدہ میں، اپنے عمل و کردار میں، اور اپنے قول وقرار میں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے انہی میں سے بنائے آمین ثم آمین۔ اللّٰہم یا ربنا خذنا بنواصینا الی ما فیہ حُبُک ورضاک والیٰ ما ینعفنا فی الدنیا والاخرۃ یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ یہاں پر دو حقیقتیں اور بھی واضح رہنی چاہئیں۔ ایک یہ کہ " ملیک " کے لفظ میں مَلِک کے مقابلے میں زیادہ زور اور مبالغہ ہے، اور اس کے ساتھ " مقتدر " کی صفت کے اضافے نے اس کو مزید زور دار بنادیا۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کا مالک صرف نام کا بادشاہ نہیں جس طرح کی مشرکوں اور ان دوسرے گمراہ فرقوں نے مانا ہے، جو خدا کو ہر چیز سے بالا محض ایک وجود معطل کے طور پر مانتے ہیں اور ایسا ماننا نہ ماننے کے برابر ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ ہمہ گیر اقتدار رکھنے والا بادشاہ حقیقی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور دوسری اہم حقیقت یہاں پر عند کے لفظ سے واضح فرمائی گئی ہے اور وہ یہ کہ انسان خواہ کتنا ہی بلند مرتبہ حاصل کرلے وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا کہ وہ اس بادشاہ حقیقی کے قرب میں عزت کی جگہ پائے اور بس۔ نہ یہ کہ وہ خدا میں ضم ہو کر خود خدا بن جائے جیسا کہ بعض گمراہ صوفیوں اور حلولی عقیدہ رکھنے والے گمراہوں نے دعوی کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ پاک ایسے جملہ تصورات سے پاک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ صدق و صواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،