Ayah 53:57[ 69] قیامت کے بارے میں تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب آلگی ہے وہ قریب آنے والی " یعنی قیامت۔ پس تم لوگ اس کے لئے تیاری کرو اور زندگی کی اس فرصت کو غنیمت سمجھو ورنہ پچھتانا پڑے گا والعیاذ باللّٰہ العظیم، یہاں پر " آزفتہ " سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قرآن لوگوں کو خبردار کر رہا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس عذاب کو دور نہ سمجھو وہ تمہارے سروں پر منڈلارہا ہے، وہ کبھی بھی اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دستور اور اس کا قانون یہی ہے کہ جب رسول کی بعثت کے ذریعے کسی قوم پر اتمام حجت کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد اگر وہ قوم اپنے کفر و انکار ہی پر اڑی رہتی ہے تو مدت مہلت ختم ہوتے ہی اس کو عذاب میں دھرلیا جاتا ہے۔ اور یہ عذاب اس قوم کے لئے قیامت کے عذاب کا دیباچہ ہوتا ہے، اور اس طرح قوم ہمیشہ کے عذاب اور اپنے انتہائی ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس بنا پر یہ اسلوب بیان رسول کی زبان سے ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار و اعلان ہوتا ہے جس میں ذرہ برابر بھی کسی مبالغے کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ فکر و عمل ہر اعتبار سے ہمیشہ اور ہر حال میں رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 53:58[ 70] اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو کوئی ہٹا نہیں سکے گا اللہ کے سوا۔ یعنی جب وہ آفت اپنے اہوال و شدائد کے ساتھ اہل دنیا پر چھا جائے گی تو اس وقت اللہ پاک کے سوا کوئی اس کو ہٹا اور ٹال نہیں سکے گا، پس کسی کو اس گھمنڈ میں نہیں رہنا چاہئے کہ جب وہ گھڑی آگئی تو اس کی کوئی دیوی یا سرکار اس کو ٹال دے گی، اور اس کو اس کی گرفت و پکڑ سے بچالے گی۔ سو اس کا یارا کس میں نہیں ہوگا۔ اور اللہ کے اس عذاب کو اپنے وقت سے ٹالنا اور ہٹانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اور ان کے مصنوعی دیویوں اور دیوتاؤں اور خود ساختہ " سرکاروں " اور ہستیوں میں سے کوئی ان کو چھڑا نہیں سکے گا اور نہ ان کی وہ جمعیت اور دولت ان کے کچھ کام آسکے گی جس کا ان کو بڑا زعم و گھمنڈ ہے، اور اس گھمنڈ کی بنا پر یہ لوگ حق کو اپنانے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیئٍ وھو یجیر ولا یجار علیہ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، والعزیز الوھاب، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، جل جلالہ وعم نوالہ،
Ayah 53:59[ 71] منکرین کے حال پر اظہار افسوس و تعجب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی تم لوگ اس کلام حکمت نظام کے بارے میں تعجب کرتے ہو ؟۔ اے منکرو اور مشرکو، کہ عقل و فطرت کے عین مطابق اور سراسر تمہاری فائدے کی خبر دینے والے اس عظیم الشان وبے مثال کلام کے آگے جھکنے اور اس کو اپنانے کی بجائے اس کا انکار کرنے سے بڑھ کر حماقت اور محرومی اور کیا ہوسکتی ہے، والعیاذ باللّٰہ اور تم لوگ اس انداز پر تعجب کرتے ہو کہ تم پر عذاب کدھر سے اور کیونکر آجائے گا، وغیرہ وغیرہ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی بھی صورت خارج نہیں ہوسکتی، وہ جیسا چاہے اور جو چاہے کرے، وہ جو تم لوگوں کو تمہارے کفر و انکار اور عنا و ہٹ دھرمی کے باوجود ڈھیل دے رہا ہے تو یہ اس کی رحمت بےنہایت کا تقاضا اور اس کا ایک نمونہ اور مظہر ہے، تاکہ تم لوگ ہوش کے ناخن لو، اور اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ تم اس کے عذاب کے شکنجے میں جکڑ لئے جاؤ، مگر تم لوگوں کی غفلت و بےحسی کی حد ہوگئی کہ تمہیں اس کی کوئی پروانہ ہی نہیں اور تم ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور تم اپنے انجام سے بالکل نچنت اور بےفکر ہو، بلکہ الٹا عذاب کیلئے جلدی مچا رہے ہو، جیسا کہ دوسرے مقام پر انکا یہ مطالعہ اس طرح نقل فرمایا گیا ہے۔ { وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب۔} [ ص : 16 پ 23] تم لوگوں کو روٹی دی جا رہی ہے مگر تم پھر مانگتے ہو، تم کو نعمتوں سے نوازا گیا ہے مگر تم عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہو، اس ارشاد میں منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ لوگ ایسے حقائق و شواہد کے باوجود حق کا انکار کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 53:60[ 72] ہنسنے کی بجائے رونے کا مقام :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہنستے ہو روتے نہیں۔ یعنی تمہیں ہنسنا نہیں رونا اور خون کے آنسوؤں سے رونا چاہیے، کہ تم نے کس قدر کوتاہی سے کام لیا اور تم کتنی سعادت سے محروم ہو رہے ہو، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو تم آگاہ ہوجاؤ کہ یہ چیز ہنسنے اور مذاق اڑانے کی نہیں بلکہ رونے اور سر پیٹنے کی ہے، لیکن تم ہو کہ رونے کی بجائے ہنستے ہو، [ صفوۃ وغیرہ ] سو تم لوگوں کو اس کلام حق و صدق پر ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے کی بجائے ان ایمان و یقین رکھنے والوں کی طرح دل و جان سے اس کے آگے جھک جھک جانا چاہئے۔ جن کی صفت میں ارشاد فرمایا گیا { ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعاً ۔ [ الاسرائ : 109 پ 15] یعنی یہ لوگ اللہ کا کلام سننے پر روتے ہوئے اپنی ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں اور ان کے خشوع میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سو اصل فکر آخرت کے اس ہولناک عذاب سے بچنے کی کرنی چاہئے، کہ اس کیلئے کمائی اور محنت و کوشش کو موقع یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ اس کے بعد آخرت کیلئے کسب و کمائی کا نہ کوئی موقع ہوگا، نہ امکان، پس عمر رواں کی اس فرصت محدود کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayahs 53:61–62[ 74] اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی کا حکم و ارشاد :
سو ارشاف فرمایا گیا پس تملوگ سجدہ ریز ہوجاؤ اللہ کے لئے۔ یعنی اس کی رضا و خوشنودی کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لئے، کہ اس عظمت بےپایاں اور اس کے کرم لامتناہی کا تقاضا یہی ہے، کہ انسان دل و جان سے اس کے آگے جھکے اور ہمیشہ جھکا ہی لیا اور صدق دل سے اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہ بندوں پر اس وحدہٗ لاشریک کا حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، اور یہ اس وحدہٗ لاشریک کا ایسا حق ہے کہ اس میں اور کسی کا بھی اشتراک جائز نہیں، سو اپنی دیویوں، دیوتاؤں اور سرکاروں کو چھوڑ کر تم سب کے سب اے لوگو ! اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرو اور اسی کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤ، اور اسی کے آگے جھکو کہ یہ اس خالق ومالک کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں تمہارا بھلا بھی ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور باز آجاؤ تم لوگ اپنے کفر و شرک اور غیر اللہ کے آگے جھکنے سے کہ یہ سب کچھ سراسر دھوکہ اور ذلت و رسوائی کا سودا ہے اور تمہاری ان دیویوں، دیوتاؤں اور سرکاروں و آستانوں وغیرہ کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ حقیقت، بلکہ یہ سب کچھ اوہام و خرافات کا پلندہ ہے جن پر بھروسہ تمہاری ہلاکت و تباہی کا سامان ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
[ 75] اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا اور تم لوگ اسی کی بندگی کرو کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے کہ اس کے سوا کسی کو بندگی کا کوئی حق پہنچتا ہی نہیں، صحیحین وغیرہ کی روایت میں ہے کہ یہ پہلی سورة ہے جس کی آنحضرت ﷺ نے حرم شریف کے اندر اعلانیہ طور پر تلاوت فرمائی، اور حاضرین میں مومن و مشرک جو بھی موجود تھے، وہ سب کے سب اس موقع پر سجدہ میں گرگئے سوائے ابو لہب کے، کہ اس نے سجدہ کی بجائے مٹھی بھر مٹی لے کر اپنی پیشانی سے لگا دی، اور کہا ھذا یکفینا [ ہمیں اتنا ہی کافی ہے ] نیز روایات میں ہے کہ اس کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ ہنستے نہیں دیکھے گئے، ﷺ ، امام بیہقی (رح) نے شعب ایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت کریمہ افمن ھذا الحدیث الخ نازل ہوئی تو اصحاب صفہ نے رونا شروع کردیا یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کے رخساروں پر بہنے لگے آنحضرت ﷺ نے جب ان صفہ کے رونے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے بھی رونا شروع کردیا تو آپ ﷺ کے رونے پر یہ حضرات اور بھی رونے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ کے خوف سے رویا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، اور جو اپنے گناہوں پر اڑا رہا وہ جنت میں نہیں جائے گا اور فرمایا کہ اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے تو اللہ پاک ایسے لوگوں کو لے آئے جو گناہ کرکے اس سے معافی مانگیں گے، تو وہ ان کو معاف فرمائے گا، [ المراغی وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس رحمت و عنایت کے، فاغفرلی وارحمنی یاربی رحمۃً تغنینی بھا عن رحمۃ من سواک، وخذنی بناصیتی الیٰ ما فیہ حبک والرضا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔ یامن بیدہٖ ملکوت کل شیئٍ وھو یجیر ولا یجار علیہ ..