53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو موسوم کرتے ہیں عورتوں کے ناموں سے

[ 33] آخرت پر ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ایمان بالآخرت سے محروم انسان سب سے بڑا محروم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ کہ آخرت پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان راہ حق و ہدایت سے محروم ہوتا ہے، اور وہی فرشتوں کے بارے میں اس طرح کی بات کرسکتا ہے، کہ وہ اللہ کی بیٹیاں اور ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ ورنہ یہ ایسی بےبنیاد اور گستاخانہ بات ہے کہ آخرت پر ایمان و یقین رکھنے والے کسی انسان سے یہ صادر ہو ہی نہیں سکتی۔ اس جرم کا ارتکاب وہی لوگ کرسکتے ہیں جو آخرت پر ایمان و یقین کی دولت سے مھروم ہوں سو اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کا انکار تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے، جس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے اور خرابیاں سر نکالتی ہیں، اور اس سے انسان ایک بےمقصد اور بےکیف بلکہ مردہ زندگی گزارتا ہے، اور وہ لایعنی ولا ابالیٰ اور لاپرواہ ہو کر محض ایک حیوان بلکہ اس سے بھی کہیں بدتر اور شرالبریۃ بن جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوجانے کے بعد ایسے لوگ من گھڑت افسانوں اور خودساختہ ڈھکوسلوں کے سہاروں پر اپنی متاع عمر ضائع کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین [ 34] منکرین آخرت کی ایک اور حماقت کا ذکر وبیان : کہ ایسے لوگ فرشتوں کو عورتوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ بدبخت حماقت در حماقت کا ارتکاب کرتے ہیں، کہ اول تو ان فرشتوں کو جو اللہ کے نہایت فرمانبردار بندے ہیں، جو اس کے یہاں اس کے اذن کے بغیر سفارش کرنے کا یارا بھی نہیں رکھتے، ان کو انہوں نے خدائے پاک کا شریک اور اس کی خدائی میں حصے دار بنادیا، اور پھر اس سے بڑھ کر دوسری حماقت انہوں نے یہ کی کہ انہوں نے ان کو مونث اور اس وحدہٗ لاشریک کی بیٹیاں بنادیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا۔ { وجعلوا الملائکۃ الذین ہم عبد الرحمن اناثا ط اشھدوا خلقھم ط ستکتب شھادتھم ویسئلون } [ الزخرف : 19 پ 25] سو یہ نتیجہ ہوتا ہے ایمان و یقین کی دولت سے عاری اور محروم ہونے کا، اور آخرت پر ایمان نہ رکھ کر حیوان بلکہ اس سے بدترین مخلوق بن جانے کا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو آخرت کا آنا اور اس کے عدل و انصاف کا قائم ہونا عقل و نقل کا تقاضا اور اشد ضروری ہے، تاکہ ایسے منکر اور گمراہ لوگ اپنے کیے کرائے کا پھل پاس کیں، اور اپنی حماقتوں کا بھگتان بھگت سکیں اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں، اسی لئے سورة الزخرف کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ان کے اس جرم کے ذکر کے ساتھ فرمایا گیا۔ { اشھدوا خلقہم ستکتب شھادتھم ویسئلون } یعنی کیا یہ لوگ فرشتوں کی تخلیق کے وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے اس بات کا مشاہدہ کرلیا تھا کہ فرشتے مونث تھے ؟ سو ان کی یہ گواہی لکھی جا رہی ہے اور عنقریب ہی ان سے اس بارے میں پوچھ ہونی ہے۔ اور جب یہ لوگ وہاں موجود نہیں تھے اور نہیں ہوسکتے تو پھر یہ لوگ اتنی بری اور اس قدر ہولناک و بےبنیاد بات کس طرح کہتے ہیں ؟ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آخرت کے ایمان و یقین سے محرومی کے باعث اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں پر رکھ دیے اور اس بناء پر انہوں نے ازخود اور اپنے طور پر ایک مالا تصنیف کرلی کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اور ایسی چہیتی اور پیاری بیٹیاں کہ انہی کی سفارش سے دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی ہمارا کام یہی بنادیں گی اور ہم جو کچھ وہاں پر چاہیں گے وہ ہمیں دلوادیں گی وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، جل وعلا۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کو اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں ایسے لوگ تو محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور گمان یقینی طور پر حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا

[ 35] علم حق سے محرومی، محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اس بارے کچھ بھی علم نہیں، سوائے ظن وتخمین اور اٹکل پچو باتوں کے۔ یہاں پر اس ارشاد کی تعیم ملاحظہ ہو کہ اول تو یہاں نکرہ تحت النفی وارد ہوا ہے جو کہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ پھر من استغراقیہ سے اس کی مزید تاکید و استغراق کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، یعنی ان لوگوں کے پاس اپنی اس بات کیلئے کسی بھی طرح کا علم نہیں اور کوئی علم ہو بھی کیسے سکتا ہے، جب کہ واقع میں اللہ پاک کیلئے بیٹیاں یا اولاد ہونے کا سرے سے کوئی سوال و امکان ہی نہیں، وہ اس سے لحاظ و اعتبار سے پاک ہے۔ { یاہل الکتب لاتغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللّٰہ الا الحق ط انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللّٰہ وکلمتہٗ ج القھا الیٰ مریم وروحٌ منہ فامنوا باللّٰہ ورسلہٖ ج ولا تقولوا ثلثۃٌ ط انتھوا خیرًا لکم ط انما اللّٰہُ الہٌ واحدٌ ط سبحنہٗ ان یکون لہ ولدٌ ما فی السمٰوٰت وما فی الأرض ط وکفیٰ باللّٰہِ وکیلاً ۔ [ سورة النسائ : 171 پ 6] یعنی وہ اس سے پاک ہے کہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو اور ولد کا لفظ بیٹا اور بیٹی دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس لفظ کے معنی ہوتے ہیں کل مایولد یعنی جو بھی اولاد ہو خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ سو ان کے پاس علم کی کوئی اساس و بنیاد نہیں، یہ لوگ تو اپنی خواہشات کی پیروی کے لئے محض اٹکل پچو باتوں کا سہارا لیتے اور ظن و گمان کے تیر تکے چلاتے ہیں، اور یہ نہیں جانتے کہ اس طرح یہ اپنا نقصان کرتے ہیں، اور اتنا نقصان کہ اس کی پھر تلافی وتدارک کی کوئی صورت بھی ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ اولاد کے ہر تصور سے پاک اور اس سے کہیں اعلیٰ وبالا ہے۔ اور جو لوگ اس کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں وہ سراسر جھوٹ بولتے اور اللہ پر افترا باندھتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی ہے اور حرف تنبیہ کے ساتھ تصریح فرمائی گئی۔ { الا انھم من افکہم لیقولون۔ ولد اللّٰہُ وانھم لکاذبون } [ الصّٰفّٰت : 151-152] یعنی خبردار یہ لوگ اپنے جھوٹ اور افتراء پر کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اور یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ سو علم حق کی روشنی سے محرومی، محرومیوں کی محرومی ہے، کیونکہ ایسا شخص اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔ [ 36] منکرین کی ظن وتخمین کی پیروی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اندازہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو محض گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی ان لوگوں کے پاس ظن وتخمین اور محض وہم و گمان کے سوا اور کوئی اصل و اساس اپنے اس طرح کے عقائد و نظریات کیلئے سرے سے موجود ہی نہیں۔ اور طاہر ہے کہ اس طرح کی من گھڑت اور خود ساختہ خیالات کی کوئی اساس و بنیاد ہی کیسے سکتی ہے ؟ اور یہی حال دور حاضر کے اہل بدعت اور دوسرے باطل پرستوں کا ہے کہ ان کی گاڑی بھی ظن وتخمین اور اٹکل پچو کے پہیوں ہی پر چلتی ہے، کہ دیکھو ناں جی یہ ہستیاں جن کو ہم پوجتے پکارتے ہیں، یہ کوئی معمولی ہستیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کی محبوب اور پیاری ہستیاں اور بڑی پہنچی ہوئی سرکاریں ہیں، ان کو خاص اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے، کیونکہ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا، وغیرہ وغیرہ، اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے ظن و گمان کو سب سے بڑا جھوٹ [ اکذب الحدیث ] قرار دے کر اس سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی، جیسا کہ مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث [ خبر دار ظن و گمان سے بچ کر رہنا کہ ظن و گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے ] اس کے علاوہ اور بھی کئی ارشادات موجود ہیں، مگر آج کا جاہل مسلمان اس سے سب کے باوجود اسی مرض میں مبتلا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے اس شرکیہ افسانے اور ان دیو مالائی خرافات کی بنیاد کسی علم و آگہی پر نہیں بلکہ محض ظن وتخمین پر ہے، اور انہی بےبنیاد سہاروں کے آسرے پر یہ لوگ نچنت اور بےفکر ہو کر اپنی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، [ 37] ظن وتخمین کی بےحقیقتی کا اظہار وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ظن و گمان یقینا حق کی جگہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ کہ گمان اور ظن و ٹکمین کی کوئی حقیقی اور ٹھوس بنیاد ہوتی ہی نہیں، اور نہ ہو ہی سکتی ہے، کہ وہ تو محض اندازوں اور تخمینوں کی بیساکھیوں کے سہاروں پر قائم ہوتا ہے، تو وہ حق کے لئے سند اور دلیل کس طرح بن سکتا ہے ؟ اور ان نادانوں کو اس کی خبر نہیں کہ اٹکل بہرحال اٹکل ہے، یہ کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں حق اور حقیقت کا بدل نہیں ہوسکتی، اٹکل پچو کے تیر تکے چلانے کی کوئی انتہاء نہیں ہوگی، مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ یہاں پر حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ ظن کا لفظ یہاں پر علم کے مقابل کی حیثیت سے بھی استعمال ہوا ہے اور حق کے مقابل حیثیت سے بھی اور انسان کو علم اس کی عقل و فطرت کی راہ سے بھی ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کے ذریعے بھی اور جو علم وحی کے ذریعے ملتا ہے اور الہدی کا مصداق اور ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں پر اس کو حق سے تعبیر فرمایا گیا۔ سو ظن وتخمین سراسر باطل اور بنیادی چیز ہے۔ نہ اس کی تائید میں عقل و فطرت کی کوئی گواہی موجود ہوتی ہے اور وحی و دین کی کوئی شہادت۔ قرآن حکیم نے یہاں پر { ومالہم بہٖ من علمٍ } کی تصریح سے واضح فرماد یا کہ مشرکین کی یہ سب دیومالا بالکل من گھڑت اور بےبنیاد افسانہ ہے، اس کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، جل شانہ وعم نوالہ،
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس اپنے حال پر چھوڑ دو ایسے (ناہنجار شخص) کو جو پھر گیا ہماری یاد (دلشاد) سے اور اس کا مقصد دنیاوی زندگی (اور اس کی فانی لذتوں) کے سوا کچھ نہیں

[ 38] ہٹ دھرم منکرین سے اغراض و روگردانی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " پس چھوڑ دو ایسے شخص کو اس کے اپنے حال پر، یعنی نہ تو آپ اس کے درپے ہوں ارور نہ اس کے حال پر افسوس کریں، کہ ایسوں کو ہدایت پر لے آنا نہ تو آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ کی ذمہ داری، آپ ﷺ کا کام تو پیغام حق پہنچا دینا ہے، اور صاف وصریح طور پر پہنچا دینا ہے اور بس، اس کے بعد حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔ { ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب } اور ایسے ناہنجاروں کو ہدایت کی نعمت مل ہی کیسے سکتی ہے، جو اس سے منہ موڑے ہوئے ہوں ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ناہنجاروں اور بدبختوں سے جو اللہ کی ہدایت کے مقابلے میں ہوائے نفس کی اور علم کے مقابلے میں ظن و گمان کی پیروی کریں ان سے منہ موڑ لو اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ کیونکہ ایسے بدبختوں کے پیچھے لگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔ [ 39] قرآن سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ذکر یعنی قرآن سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و محرومی اور موجب تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ منہ موڑ لو ایسے شخص سے جو پھر گیا ہماری یاد سے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کہ ایسا شخص جب ہدایت چاہتا ہی نہیں، اور اس نے اس سے منہ موڑ کر دنیا کی ہی کو اپنا منتہاء مقصود بنا لیا ہے، تو اسے ہدایت ملے تو کس طرح ؟ اور کیونکر ؟ کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے طلب صادق اولین شرط اور بنیادی تقاضا ہے، اور طلب صادق کے بغیر جب دنیاء دوں کی متاع قلیل و حقیر بھی کسی کو نہیں مل سکتی، تو پھر حق اور ہدایت کی دولت لازوال اور متاع بےمثال کیسے میسر آسکتی ہے ؟ بہرکیف ہدایر فرمائی گئی کہ ایسے سر پھروں سے روگردانی کرکے ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو ، جو حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے، کہ ایسوں کو منہ لگانے اور ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ذکر سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے، اور یہ لفظ قرآن حکیم کے لئے مختلف مقامات پر استعمال فرمایا گیا مثلا سورة حجر میں ارشاد فرمایا۔ { انانحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون } [ الحجر : 9 پ 14] یعنی " اس ذکر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور اس کے محافظ ہم خود ہی ہیں "۔ اور اس کے ذکر ہونے کی کئی وجوہ ہیں مثلاً یہ کہ یہ انسان کو اس کے مقصد حیات اور اس کے انجام و آخرت کی تذکیر و یاد دہانی کراتا ہے، نیز یہ اس کو اپنے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کے حق اطاعت و بندگی کی یاد دہانی کراتا ہے، نیز یہ انسان کو اس فطرت کے بھولے ہوئے درس کو یاد کراتا ہے۔ وغیرہ۔ والحمدللّٰہ جل وعلا، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ [ 40] اغراض عن القرآن کی اصل علت کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے کا مقصد دنیاوی زندگی کے سوا کچھ نہ ہو، اس لئے ایسے لوگ دنیا کے متاع فانی اور حطام زائل کے سوا اور کسی چیز کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگ یاد الٰہی کی اس حیات آفرین اور روح پر ور نعمت سے محروم ہو کر دنیا کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں اور ان کی تمام تر کدوکاوش کا محور، اور حاصل و مقصود اسی دنیا کے گرد گھومنا ہوتا ہے، اور بس۔ اور ایسے لوگ آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کو بھول چکے ہیں، اور یہی چیز ان کے اعراض عن القرآن کی علت اور اس کا سبب اور باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو آخرت کو بھلا کر دنیا ہی کو اپنا مطمع نظر اور مقصود حیات بنا لینا خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے، اسی لئے نبیء اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس سے طرح طرح سے منع کیا اور خبردار فرمایا ہے، چناچہ مسند امام احمد (رح) وغیرہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اس آدمی کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں، اور یہ اس شخص کا مال ہے، جس کا کوئی مال نہیں اور اس کیلئے جمع کرنا اور جوڑ جوڑ کر رکھنا اسی کا کام ہوسکتا ہے، جس کو عقل نہیں، [ الدنیا دار من لا دارلہ، ومال من لامال لہ، ولہا یجمع من لاعقل لہ ] [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] سو عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ آخرت ہی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنایا جائے اور اصل محنت اور کوشش اسی کیلئے کی جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

یہ ہے رسائی (اور پہنچ) ایسے لوگوں کے علم (و ہنر) کی بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی خوب جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے

[ 41] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وہ ذکر : سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دے کر دراصل اس حقیقت کی وضاحت فرما دی گئی کہ معاملہ اصل میں اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے، چناچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے گمراہوں کو اور وہی خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو۔ سو وہ اسی کے مطابق ان سے معاملہ فرمائے گا، اور ان کو سزا و جزاء سے نوازے گا، پس تم لوگ اپنی پاکیزگی اور پاک دامنی کے دعوے کرنے کی بجائے اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور صاف رکھنے کی فکر و کوشش میں رہا کرو۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ لہٰذا نہ تو برائی کرنے والوں کا ہمیں صلہ و بدلہ نہیں ملے گا، اور نہ ہی داعی حق کو اس فکر میں پڑنے کی ضرورت ہے کہ وہ سب ہی لوگوں کو راہ راست پر لے آئے، کیونکہ ضلالت و گمراہی جن بدبختوں کا مقدر بن چکی ہے، ان کو راہ راست پر لانا کسی کے بس کا روگ نہیں، کہ جو لوگ نور حق و ہدایت کے طالب ہی نہیں، ان کو اس دولت سے نوازنا تقاضائے عقل و نقل کے خلاف ہے۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے تاکہ اللہ (پورا پورا) بدلہ دے ان لوگوں کو جو برائی کی راہ پر چلتے رہے ان کے (زندگی بھر کے) کئے کرائے کا اور وہ بہترین جزاء سے نوازے ان (خوش نصیبوں) کو جو (زندگی بھر) چلتے رہے اچھائی اور نیکی کی راہ پر۔

[ 42] سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا، اور اس اہم اور بنیادی حقیقت کی توضیح و تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ تخلیق وتکوین کے اعتبار سے بھی کہ اس سب کا خالق اور پیدا کرنے والا تنہا وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور ملک و ملکیت کے اعتبار سے بھی، کہ اس سب کا بادشاہ اور مالک حقیقی بھی بہرحال وہی ہے، اور اس میں حکومت و بادشاہی بھی صرف وحدہٗ لاشریک کی ہے، اور قبضہ و تصرف بھی اسی کا ہے، کہ اس میں اس کا ہے، کہ اس میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسی کی مشیت اور اسی کے حکم و ارشاد کے مطابق ہو رہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان میں سے کسی بھی بات میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس وہ ہر لحاظ و اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہٗ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جب کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے، اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی بھی اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ اس میں کسی اور کی کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں کوئی حصہ داری یا کوئی عمل دخل نہیں۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی اس کی مشیت میں مداخلت کرسکے یا اس کے ارادوں اور فیصلوں پر کسی بھی اعتبار سے اور کسی بھی درجے میں اثر انداز ہوسکے ؟ سو اس سے مشرکین کے شرکیہ عقیدہء شفاعت کی جڑ نکال دی گئی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے محفوظ اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ [ 43] اللہ تعالیٰ کی حکومت و بادشاہی کے ایک لازمی تقاضے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے برے کام کیے ان کے ان برے اعمال کے نتیجے اور بدلے میں جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے۔ تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریق سے پورے ہوسکیں، سو راہ حق و ہدایت پر چلنے والوں کو وہ اس جنت سے نوازے گا، جس کی نعمتوں کا احاطہ و ادراک اس دنیا میں کسی بشر کیلئے ممکن ہی نہیں، کہ اس کی صفت میں فرمایا گیا ہے مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشر کہ اس میں وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا۔ اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے کرم سے نصیب فرمائے، آمین اور تاکہ برائی کرنے والے اس کے بالمقابل دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے دو چار ہوں، جس کا تصور کرنا بھی کسی انسان کے بس میں نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور بھرپور طریقے سے پورے ہوں، اور ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور پھل پاس کے، سو قیامت کی اس حقیقت کبری کے وجوہ اور اس کے قیام کے بغیر اس حکمت کے تقاضے پورے ہو ہی نہیں سکتے، جس کیلئے حضرت حق مجدہ نے اس کائنات کی تخلیق کی، اور اس کو قائم فرمایا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس جزو سزا کا قیام اللہ تعالیٰ کی حکومت و بادشاہی اور اس کی صفت عدل و حکمت کا لازمی تقاضا ہے ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت اور پورا ہنگامہ ہست و بود عبث اور بیکار قرار پائے گا جس سے وہ پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس قیام قیامت تقاضا ہے عقل و نقل دونوں کا۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو بچتے رہے بڑے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے بجز اس کے کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائیں بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا ہے وہ تمہیں خوب جانتا ہے اس وقت بھی کہ جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس وقت بھی کہ جب تم لوگ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے پس تم لوگ اپنی پاکی کے دعوے نہ کیا کرو اسے خوب معلوم ہے کہ کون پرہیزگار ہے1

[ 44] نیکو کاروں کیلئے خصوصی معاملے کا ذکر وبیان : سو جزاء بالحسنی کے حقداروں کی صفت کاشفہ کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو بچتے رہے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے، بجز کچھ قصوروں کے۔ " لمم " یا تو " لمہ " سے ماخوذ ہے جس کے معنی تھوڑی اور معمولی چیز کے آتے ہیں، اسی سے " لممۃ الشعر " آتا ہے اور یہ ماخوذ ہے " المام " سے جس کے معنی کسی چیز کے قریب ہونے اور ذرا ٹھہرنے اور رہنے کے آتے ہیں، سو پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے کچھ چھوٹے گناہ اور معمولی قصور جو بشری تقاضوں کی بناء پر ایسے نیک اور پاکیزہ لوگوں سے سرزد ہوجاتے ہیں، اور دوسرے احتمام پر معنی ہوں گے کہ انہوں نے کسی گناہ کا صرف ارادہ کیا، اور اس کے قریب ہوگئے مگر گناہ کیا نہیں، اور بعید نہیں کہ یہ دونوں ہی معنی مراد ہوں، پس یہ بھی خدائے پاک کے کرم لامتناہی اور عنایت لامحدود کا ایک عظیم نمونہ ہے، کہ ایسی لغزشوں کی معانی اور ان سے درگزر کا مژدہ اس نے اپنے کلام صدق نظام میں اس طرح صاف اور صریح طور پر سنا دیا، تاکہ گناہ گار لوگ اپنے گناہوں اور لغزشوں و خطاؤں کی بناء پر ہمت نہ ہاریں، اور حوصلہ نہ چھوڑ دیں، ورنہ کون ہے جو ایسی کمزوریوں اور نفس کی شرارتوں سے بالکل مصون و محفوظ ہو، الا من عصمہ اللہ، اللہم احفظنا من شرور انفسنا، ومن سیات اعمالنا، عاملنا بلطفک العظیم، وکرمک الجسیم، وعاملنا بفضلک، ولاتعاملنا بعدلک، یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین۔ حضرت مجاہد (رح) اور ابن عباس ؓ سے " لمم " کے مفہوم کے بارے میں نقل فرمایا گیا ہے کہ آدمی کسی گناہ میں آلودہ تو ہوجائے لیکن پھر اس سے کنارہ کش ہوجائے یعنی رب رحمن سبحانہ و تعالیٰ انسان سے یہ مطالبہ نہیں فرما تاکہ وہ معصوم بن کر زندگی گزارے، کہ جذبات و خواہشات سے مغلوب ہو کر گناہ کا مرتکب ہوجانا اس سے بعید نہیں اسلئے حضرت حق جل و مجدہ، اس سے مطالبہ یہ کرتا ہے کہ اس کی ایمانی حس اتنی بیدار رہے کہ کوئی گناہ اس کی زندگی کا اس طرح احاطہ نہ کرلے کہ اس سے اس کا پیچھا چھڑانا ہی ممکن نہ رہے، بلکہ جب کبھی اس سے اس طرح کی کوئی لغزش سرزد ہوجائے تو وہ فوراً توبہ و استغفار کے ذریعے اپنی اصلاح کرلے۔ سو ایسے لوگوں کیلئے یہ بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ کہ وہ رب رحمن و رحیم اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ [ 45] رب تعالیٰ کی وسعت مغفرت کا مژدہ جانفرائ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے رب کی بخشش بہت وسیع ہے۔ پس جب اس کی مغفرت و بخشش اتنی وسیع ہے، کہ اس کا کنارہ نہیں، تو پھر اس کی طرف وسعت مغفرت ہی کا ایک مظہر اور نمونہ ہے کہ وہ انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ معصوم اور بےگناہ بن کر رہے، کہ ایسا کرنا اور اس طرح معصوم اور بےگناہ بن کر رہنا بعید نہیں، اسلئے اس غفور و رحیم رب کریم کا مطالبہ جیسا کہ اوپر گزرا نسان سے یہ ہے کہ اس کی حس ایمانی اتنی بیدار رہے کہ کوئی گناہ اس کی زندگی کا اس طرح احاطہ نہ کرلے، کہ اس سے اس کا پیچھا چھڑانا ہی اس کیلئے ممکن نہ رہے بلکہ جب وہ اس طرح کی کوئی ٹھوکر کھائے تو متنبہ ہوتے ہی وہ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے، سو جو لوگ اس طرح کی زندگی گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی بخشش فرما دیتا ہے کہ وہ بڑا ہی وسیع رحمت والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، والحمدللّٰہ جل وعلا۔ [ 46] اپنی پاکیزگی کے دعویداروں کو تنبیہ : سو اپنی پاکیزگی کے دم بھرنے والوں اور اس کے دعویٰ کرنے والوں کو خطاب کرکے تنبیہ فرمائی گئی کہ اللہ تم کو اول سے آخر تک پوری طرح جانتا ہے۔ اس لئے تم اپنی پاک دامنی کے دعوے مت کرو بلکہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ اپنا معاملہ ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے درست اور صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرو، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے پرہیزگار۔ کیونکہ جب اول سے آخر تک تمہاری کوئی بھی حالت و کیفیت، اور کوئی بھی حرکت، اس سے پوشیدہ نہیں، تو پھر اس کے سامنے اپنی پاکیزگی جتانے کا کیا مقام ؟ لہٰذا پاکیزگی جتلانے کی بجائے تم اپنی اصلاح کی فکر و کوشش کیے جاؤ، اس سے اپنے ظاہر و باطن کا معاملہ ہمیشہ صحیح اور صاف رکھو، اور ہمیشہ اپنا محاسبہ خود کرتے رہا کرو، اللہ توفیق فرمائے آمین، اور اس سے توفیق و استقامت کی دعا مانگتے رہا کرو، اس کی عطا و بخشش کی ہمیشہ امید رکھو، اور اس کی گرفت و پکڑ سے ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہا کرو۔ وھو الموفق لکل صواب، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کسی کو محض اپنے وجود کی بناء پر کسی خاص شرف و مقام سے نہیں نوازا جاتا بلکہ اس کے یہاں عزت و عظمت اور شرف و کرامت سے سرفرازی کا ذریعہ دین و ایمان اور تقویٰ و طہارت ہے، اس میں جو جتنا آگے بڑھے گا اتنا ہی مقام پائے گا، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس وقت بھی پوری طرح جانتا ہے جب کہ اس نے تم لوگوں کو مٹی سے پیدا کیا اور وہ تم کو اس وقت بھی پوری طرح جانتا ہے جب تم لوگ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی سورت میں ہوتے ہو۔ تو پھر مٹی پانی سے وجود میں آنے والی مخلوق اور حقیر و ذلیل پانی بوند کی شکل میں رحم مادر کے اندر پرورش پانے والی ہستی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اکڑ کر چلے اور تکبر کرے اور محض اپنے وجود کی بناء پر اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

پھر کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے منہ پھیرلیا ؟

[ 47] منکر و محروم انسان کے حال پر اظہار تعجب : سو منکر و محروم انسان کی روش اور اس کے حال پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو پھر گیا ؟ یعنی اس کا حال بھی بڑا عجیب اور قابل غور وفکر ہے، کہ دولت ایمان اور اتباع حق کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد وہ ایک شیطان الانس کے کہنے میں آکر دین حق سے مرتد اور محروم ہوگیا۔ روایات کے مطابق اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو کہ قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا، وہ آنحضرت ﷺ کے وعظ سے متأثر ہو کر اسلام لانے پر آمادہ ہوگیا، لیکن جب مشرکین میں سے ایک شخص نے اس کو عار دلائی کہ کیا تم اپنے باپ داد کے دین سے پھر کر گمراہی میں جانا چاہتے ہو ؟ اور صابی بنتے ہو ؟ کیونکہ اس دور میں جو کوئی اسلام میں داخل ہوتا اس کو وہ لوگ صابی یعنی بےدین کہہ کر مطعون کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج کے اہل بدعت اہل حق کے بارے میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص وہابی ہوگیا، بزرگوں کو نہیں مانتا، گستاخ ہوگیا، وغیرہ وغیرہ اور اس طرح کی باتوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے یہ لوگ سادہ لوح عوام کو حق اور اہل حق سے روکنے اور دور رکھنے میں اور متنفر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، خذ لہم اللّٰہ وقاتلہم انی یؤفکون حالانکہ وہابی کا معنی ہے اللہ والا، جو کہ ایک بڑا اشرف و اعزاز ہے، اور ایسا بڑا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی شرف و اعزاز ہو ہی نہیں سکتا، کہ اگر کوئی شخص واقعتا اللہ والا بن جائے تو پھر اس کو اور کیا چاہیے، مگر اہل بدعت ہیں کہ اس لفظ کو اہل حق کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف مشرکین مکہ نے جب ولیدبن مغیرہ کو اس طرح عار دلائی اور اس کو راہ حق سے روکنے اور پھیرنے کے لئے صابی کہہ کر مطعون کرنے کی کوشش کی، تو آخر کار اس شخص نے کہا کہ میں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں، اس پر اس شخص نے کہا تم مجھے اتنا اور اتنا مال دے دو تمہارے حصے کا مال میں خود اپنے ذمے لے لونگا، اس پر ان دونوں کا اتفاق ہوگیا اور اس طرح ولید بن مغیرہ کفر و شرک کے اندھیروں کی طرف پھر واپس لوٹ گیا، اور پھر جب طے شدہ مال دینے کی نوبت آئی تو وہ کچھ مال دے کر باقی کی ادائیگی سے رک گیا، اور اپنے قول سے منحرف ہوگیا، تو اس کے بارے میں حکمتوں بھری اور عبرتوں سے لبریز یہ آیات کریمہ نازل فرمائی گئیں، سو ان کے ذریعے ہر شخص کو دعوت غور و فکر دی گئی کہ نور حق و ہدایت سے محروم ہونے کے بعد ایسے لوگ کس کس طرح کے اندھیروں میں جاگرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم جل و علا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور وہ تھوڑا سا دے کر رک گیا ؟

[ 48] منکر شخص کے بخل اور کنجوسی کا ذکرو بیان : سو ایسے شخص کے بخل اور اس کی کنجوسی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تھوڑا سا دے کر رک گیا " اکدٰی " دراصل " کدیہ " سے ماخوذ و مشتق ہے جو اس پتھر اور چٹان کو کہا جاتا ہے جو کھدائی کے دوران سامنے آجاتی ہے، اور اس سے کھدائی کا کام روک جاتا ہے، سو اسی مناسبت سے یہ لفظ ہر ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کہ کام کرنے کے دوران کوئی ایسی رکاوٹ پیش آجائے جس کا توڑنا اس کے لئے بہت مشکل، اور اس وجہ سے کھدائی کا کام رک جائے، اور یہ بخیل دنیا داروں کا عام رویہ ہے کہ وہ مارے باندھے کبھی خرچ کرتے بھی ہیں تو تھوڑا سا خرچ کرکے رک جاتے ہیں، اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگتے ہیں۔ سو ولید نے بھی اس موقع پر ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے ؟

[ 49] منکر انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کی اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس سے وہ دیکھتا ہے ؟ کہ اس کا ساتھی قیامت کے روز اس کا بوجھ اٹھا کر اسے فارغ کرا دے گا ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس شخص نے اس پر کیسے اعتماد کرلیا ؟ سو یہ انجام ہوتا ہے ایمان و یقین کے نور سے محرومی کا کہ اس سے انسان غیر ذمہ دار، لاپرواہ، اور لا ابالی بن جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس ارشاد کا مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ کیا اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ جانتا ہے کہ اگر اس نے راہ حق میں خرچ کردیا تو اس کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجائے گا، اس لئے یہ خرچ کرنے سے رک گیا ؟ سو ایسی بھی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے محض بخل اور لالچ کی بناء پر اپنا ہاتھ روکا، اللہ کی راہ میں دینے سے کم نہیں ہوتا بڑھتا ہے، جیسا کہ حضور ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ رکھو، [ ابن کثیر وغیرہ ] سو اس سے ایسے منکر شخص کی تحمیق و تجہیل کو بیان فرمایا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے محروم انسان ایسی ہی حماقتوں اور جہالتوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو خبر نہیں پہنچی ان (عمدہ) باتوں کی جو کہ موجود (و مذکور) تھیں موسیٰ کے صحیفوں میں

[ 50] " صُحُف موسیٰ وابرہیم " کا حوالہ و ذکر : سو اس سے ایسے منکر و غافل انسان کو صحف سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات کے حوالے سے تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس شخص کے پاس سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی خبر نہیں پہنچی ؟ یعنی جو توراۃ میں ہے، [ روح، خازن، مدارک، مراغی وغیرہ ] اور گزشتہ صحف کی ان تعلیمات مقدسہ کا خلاصہ آگے بیان ہو رہا ہے، اور ان میں صاف اور صریح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ کام آئے گا جو اس نے خود کیا کمایا ہوگا، تو پھر اس شخص نے اس دوسرے آدمی کے کہنے پر، اور اس کی ایسی بات پر کیسے اعتبار کرلیا ؟ اور یہ حق سے منہ موڑ کر کیسے اس طرح مطمئن ہوگیا ؟ بہرکیف اس سے ایسے منکروں کو صحف موسیٰ (علیہ السلام) اور صحف ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات مقدسہ کے حوالے سے تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی کہ ان کے اندر صاف وصریح طور پر بتایا گیا تھا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے سے سابقہ پیش آئے گا۔ اور اس کا بھگتان ہوگا تو پھر ایسے میں یہ لوگ اس قدر نچنت و بےفکر اور لا ابالی کیوں ہیں ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور (جن کا ذکر وبیان اس سے بھی پہلے) اس ابراہیم کے صحیفوں میں بھی ہوچکا جس نے وفا کا حق ادا کردیا

[ 51] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شان و فا کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی جس نے وفا کا حق ادا کردیا، کہ وہ اللہ پاک کے احکام و ارشادات کا بتمام و کمال بجا لائے، اور راہ حق میں ہر قربانی کیلئے لبیک کہا، اور اس راہ میں صدق و صفا اور تحمل و وفا کے وہ نمونے پیش کئے جو بحیثیت مجموعی اور کسی کے حصے میں نہیں آئے، اور ان دونوں حضرات یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ابراہیم (علیہ السلام) کی تصریح بطور خاص اس لئے فرمائی گئی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کے دعویدار یہود بھی موجود تھے، اور حضرت ابراہیم کی امامت اور جلالت پر تو سب ہی کا اتفاق تھا اور ہے، بلکہ مشرکین عرب کا دعویٰ یہ تھا کہ ان کے حقیقی پیروکار اور جانشین ہم ہی ہیں، اور بعض نے اس تخصیص کی ایک اور وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیانی عرصے میں ایک بےگناہ انسان کو دوسرے کے گناہ میں پکڑ لیا جاتا تھا، چناچہ انسان کو اس کے باپ، بیٹے، بھائی، چچا اور خالو کے بدلے میں اور خاوند کو اس کی بیوی کے بدلے میں، اور غلام کو اس کے آقا کے عوض پکڑ لینے کا عام رواج اور دستور تھا، اور اس ظلم کے خلاف سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے آواز اٹھائی اس لئے ان کا یہاں پر بطور خاص ذکر فرمایا گیا، [ الوجیز، حاشیہ جامع البیان، وغیرہ ] بہرکیف اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس امتیازی اور انفرادی شان کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ آنجناب کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکی۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔ سو آپ نے اپنے رب کے ہر حکم کی تعمیل کا حق ادا کیا۔ ہر عہد کو پورا کیا اور ہر ابتلاء و آزمائش میں صادق الوعد اور کامل العیاد ثابت ہوئے۔ اللہ ہمیں بھی اس کو کائی حصہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، یامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ کسی دوسرے کا

[ 52] روز جزاء میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : سو اس سے قانون عدل و انصاف کی اس اہم اور بنیادی دفعہ کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی تعلیمات کے بعض اہم اور اصولی ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی اس طور پر کہ اس کا ذمہ فارغ کردیا جائے اور اس کی پکڑ نہ ہو، سو ایسا نہیں ہوسکے گا، ورنہ گمراہ کرنے والوں کا ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال [ گمراہ کرنے ] کا بوجھ تو بہرحال اٹھانا ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون } [ العنکبوت : 13 پ 20] نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { لیحملو آوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ لا ومن اوزار الذین یضلوہم بغیر علم ط الا سآء ما یزرون۔ } [ النحل : 25 پ 14] سو اس روز ایسا کسی صورت نہیں ہو سکے گا کہ کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کے بوجھ اپنے ذمے لے کر اور اس کا بوجھ خود اٹھا کر اس کو بری کر دے، بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود ہی بھگتنا ہوگا۔ سو اس سے شفاعت کے مشرکانہ تصور اور شفاعت باطل کی جر نکال دی گئی، جو کہ اس سورة کریمہ کا اصل موضوع ہے، اور تعلیم تورات اور انجیل دونوں میں بھی اتنی کثرت سے پائی گئی ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے، کہ اس کے باوجود ان کے حاملین ہلاکت و تباہی کے گہرے کھڈے میں کس طرح گرگئے، نیز اس اصولی اور بنیادی تعلیم سے عیسائیوں کے عقیدہء کفارہ کے گمراہ کن عقیدے کے جڑ نکل جاتی ہے کہ وہ خود ساختہ اس بنیادی اصولی اور اہم بنیادی تعلیم سے متصادم اور اس کے معارض و مخالفت ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے اپنی خاص حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayahs 53:39–40

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ (ایمان و یقین کے بارے میں) انسان کو کچھ نہیں ملے گا مگر وہی جو اس نے خود کمایا

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش کی عنقریب ہی پوری پوری جانچ پڑتال کی جائے گی

[ 54] انسانی اعمال کی جانچ پڑتال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ اس کی محنت کی عنقریب ہی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ تاکہ کھرے کھرٹے کی تمیز ہوجائے اور حقیقت امر پوری طرح واضح ہوجائے کہ اس میں صدق و اخلاص کس قدر تھا، اس کے اثرات اور نتائج کیا کچھ تھے، کھرا کتنا تھا اور کھوٹا کتنا، اور وہ احوال و ظروف کیسے تھے جن میں وہ کام کیا گیا، وغیرہ وغیرہ کہ ان سب چیزوں کا عمل کی قدر و منزلت اور اس کے اجر و وزن میں بڑا عمل دخل ہے، جیسا کہ پ 30 سورة طارق آیت نمبر 9-10 میں فرمایا گیا۔ { یوم تبلی السرائر فما لہٗ من قوۃٍ ولا ناصرٍ ۔ اور یہاں پر یہ معنی اس وقت بنیں گے جن کے فعل یریٰ کو مجرد یعنی رویۃ سے ماخوذ مانا جائے اور اگر یریٰ مزید فیہ [ باب افعال سے مضارع مجہول کا صیغہ ] قرار دیا جائے تو اس وقت اس کا ترجمہ ومطلب یہ ہوگا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال دکھائے جائیں گے، تاکہ اس طرح محسن کو اپنی نیکیوں سے مسرت ہو، اور مُسٔی [ بدکار ] کو اپنی بدیوں اور بدکاریوں کا صدمہ، اور اس طرح وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی آگ سے جلنے کی سزا بھگتے والعیاذ باللّٰہ، سو اس صورت میں یہ وہی مضمون ہوجائے گا جس کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے، { فمن یعمل مثقال ذرۃٍ خیرا یرہٗ ومن یعمل مثقال ذرۃٍ شرا یرہٗ ۔ [ الزلزال : 7-8] سو انسان کو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا اور اسی فکر و کوشش میں لگے رہنا چاہیے کہ اس کا ہر عمل محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے اور ہر قسم کے شوائب ریا و نمود سے پاک اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 53:41–43

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر (اس کے مطابق) اس کو پوری پوری جزا دی جائے گی

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ آخرکار تمہارے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے (سب کو)

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

[ 57] خوشی و غمی کے اسباب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہنساتا بھی ہے اور وہی رلاتا بھی ہے۔ یعنی خوشی بھی اسی کی طرف سے ہوتی ہے، اور غمی بھی اسی کی طرف سے، پس تم لوگ ہمیشہ اسی کو راضی کرنے کی فکر اور کوشش کرو تاکہ تمہیں فرحت و سرور نصیب ہوسکے، اور اس کی ناراضگی و عتاب سے بچتے رہا کرو، تاکہ تم غموں اور صدموں سے بچ سکو، اللہ توفیق عطا فرمائے، آمین، پس اس ارشاد سے اس بات کی دلیل بیان فرما دی گئی کہ سب کا مولیٰ اور مرجع اللہ تعالیٰ ہی کیوں ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے، اور رلانا بھی، وہی خوشی کے اسباب پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے دو چار کرتا ہے اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے، اور دکھ بھی، رنج و غم بھی ہے اور نفع و نقصان بھی، سو جب یہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے، تو پھر اس کے سوا مرجع اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو اس دنیا میں بھی مالک و مرجع اور معبود حقیقی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں سب کا مالک و موجع وہی وحدہٗ لاشریک ہوگا اور سب کچھ بلاوسطہ اسی وحدہٗ لاشریک کی طرف سے ملے گا بیچ کے سب واسطے اس روز یکسر ختم ہوجائیں گے اس لئے وہاں پر سب کچھ براہ راست اور ہر طرح سے اسی کا ہوگا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی موت دیتا ہے اور اسی کا کام ہے زندگی بخشنا

[ 58] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ پس زندگی و موت کو اس کے سوا کسی اور کے قبضہء قدرت و اختیار میں سمجھنا شرک ہے، جیسا کہ بعض جاہل لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں بزرگ یا فلاں قبر کی توہین کی تو اس نے اسے مار دیا، یا اس کے فلاں جانور کو مار دیا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ بےاصل اور بےحقیقت ہے سو اللہ پاک کے سوا نہ کوئی کسی کو مار سکتا ہے، اور کسی مرجانے والے کو جلا سکتا ہے، کہ مارنا اور جلانا اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب زندگی اور موت بھی اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے تو پھر اس کے سوا مرجع اور کون ہوسکتا ہے ؟ پس سب کا خالق ومالک معبود و مرجع وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ پس نہ اس کے سوا کسی اور کے لئے کسی بھی طرح اور کسی بھی حال اور کسی بھی شکل میں عبادت و بندگی کی کوئی قسم بجالانا جائز ہے، اور نہ ہی کسی سے ڈرنا اور اس کو اپنا مرجع و منتہی بنانا جائز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، العزیز الوھاب، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 53:45–47

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا (کمال حکمت کے ساتھ) جوڑے کے دونوں فردوں نر اور مادہ کو

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

ایک (حقیر سی) بوند سے جب کہ اس کو ٹپکا دیا جاتا ہے (رحم کے اندر)

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوسری بار زندہ کر کے اٹھانا

[ 60] بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ زندہ کرنا۔ یعنی جب تم سب کو پیدا اسی نے کیا اور اس قدر پُر حکمت طریقے سے پیدا کیا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ تم کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے، تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا حساب دے اور اس کے مطابق اس کا بدلہ پاس کے، نیکوکار اپنی نیکی کا، اور بدکار اپنی بدی کا، چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اس لئے اس کو اس طرح مؤکد طریقے سے بیان فرمایا کہ ان تاکید یہ بھی لایا گیا، اور علی کا کلمہء استعلاء بھی جو کہ وجوب والزام کیلئے ہے، یعنی اس نے اپنے وعدہء کرم سے اس دوباہ زندہ کرنے کو خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ ورنہ اس پر کسی کا کوئی ذمہ کیسے اور کیا ہوسکتا ہے، کہ اس کی شان تو " لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون " کی شان ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب اس نے پانی کی ایک بوند سے انسان کو پیدا کردیا، اور پیدا کرتا ہے، تو پھر اس کیلئے دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا ممکن بھی ہے اور اس خالق ومالک مطلق کے عدل و انصاف اور اس کی رحمت و حکمت کا تقاضا بھی، سو اس کی صفات عالیہ اس امر کے وجوب ولزوم کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ایک ایسا دن لائے اور ضرور لائے جس میں سب لوگوں کو زندہ کرکے اٹھائے اور ان کے زندگی بھر کے کئے کرائے کی جانچ پھٹک کرکے اس کے مطابق ان کو جزا و سزا دے، ورنہ یہ سارا کارخانہء ہستو بود عبث و بیکار قرار پاتا ہے جو اس خالق حکیم جل جلالہ کی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس وہ ضرور بالضرور سب کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا۔
Ayahs 53:48–50

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی دولت بخشتا ہے اور اسی کا کام ہے خزانہ عطا کرنا

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہے رب شعریٰ ستارے کا

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہلاک کر (کے ہمیشہ کے لئے مٹا) دیا عاد اولی کو

[ 63] قوم عاد کی ہلاکت و تباہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاف فرمایا گیا " اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو "۔ جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اور علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ان کو عاد اولیٰ اس لئے کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے تباہ ہونے والی قوسم یہی تھی، اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو عاد اخری یعنی قوم ثمود کے مقابلے میں عاد اعلیٰ کہا جاتا ہے [ المراغی وغیرہ ] اور یوں ان دونوں وجہوں میں کوئی تضاد اور منافات بھی نہیں، اس لئے دونوں ہی مراد ہوسکتی ہیں، سو اس میں قریش کے لئے تنبیہہ ہے کہ جس طرح آج تم لوگوں کو انذار کیا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے عاد وثمود وغیرہ کو بھی انذار کیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کی پروانہ کی بلکہ طغیان اور سرکشی سے کام لیا، اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور جھٹلاتے ہی گئے، یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے، اور ایسے اور اس طور پر کہ ان کا وجود بھی باقی نہ رہا اور وہ قصے کہانیاں [ احادیث ] بن کر رہ گئے جن کا ذکر صرف کتابوں کے اوراق و صفحات میں ہے اور بس، سو ان کو اس نے اس طرح ہلاک کیا کہ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا، پس اگر تم لوگوں نے [ اے منکرین قریش ] انہی کی روش اختیار کی تو تم بھی اسی انجام سے دو چار ہوؤگے جس سے وہ لوگ ہوچکے ہیں کہ اللہ کا قانون سب کے لئے ایک اور یکساں ہے، بہرکیف اس سے ان منکر قوموں کے مآل اور انجام کا حوالہ دیا گیا کہ انکار اور تکذیب حق کے نتیجے میں آخر کار ان کو اس طرح ہلاک کیا گیا کہ ان کا کہیں کوئی وجود باقی نہیں رہا سوائے ان کے قصوں کہانیوں کے۔ { فجعلنا ہم احادیث } سو یہ نتیجہ اور انجام ہوتا ہے حق کے انکار اور تکذیب کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 53:51–52

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی سو (ان سب کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے) کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی اس سے پہلے (اس نے تباہ کردیا) کہ بیشک یہ سب ہی بڑے ظالم اور سخت سرکش لوگ تھے

[ 64] ظلم اور سرکشی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : چناچہ ماضی کی ان مختلف قوموں کی ہلاکت و تباہی کے ذکر وبیان کے بعد ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب ہی لوگ بڑے ظالم اور سرکش تھے، سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ظلم اور سرکشی کا نتیجہ و انجام تباہی و ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چناچہ اس حقیقت کی توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور قوم نوح کو بھی اس سے پہلے۔ یعنی ان کو بھی قوم عاد وثمود سے پہلے ہلاک کیا گیا۔ کیونکہ انہوں نے بھی اسی جرم ظلم و سرکشی کا ارتکاب کیا تھا بلکہ اس ظلم و انکار کی بنیاد دراصل انہوں نے ہی ڈالی تھی اسلئے ان کا صفایا بھی بڑے ہی ہولناک طریقے سے کیا گیا اور دوسرے اس لئے کہ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کی ساڑھے نو سو برس کی شبانہ روز تبلیغ کے باوجود حق کو مان کر نہ دیا تھا، بلکہ روایات کے مطابق ان میں سے ایک شخص مرتے وقت اپنی اولاد کو یہ وصیت کرکے مرتا تھا کہ نوح کی باتوں میں نہیں آنا، اس طرح وہ لوگ نسل در نسل کفر و طغیان ہی پر چلتے گئے، یہاں تک کہ جب ان سے اصلاح و خیر کی کوئی توقع باقی نہ رہی، تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے رب ان میں سے اب کسی کو بھی روئے زمین پر زندہ نہ چھوڑ، { رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیاراً } [ نوح : 26] سو ان پر جو تباہی آئی تو اللہ نے ان لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، بلکہ یہ سب لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے، کیونکہ یہ بڑے ظالم اور سرکش لوگ تھے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال،
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اسی نے دے مارا الٹ دی جانے والی ان (بدبخت) بستیوں کو

[ 65] قوم لوط (علیہ السلام) کے انجام کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے دے مارا ان الٹ دی جانے والی بستیوں کو، یعنی قوم لوط (علیہ السلام) کی ان بدبخت بستیوں کو جن کو ان کے اعمال خبیثہ کی پاداش میں اٹھا کر دے مارا گیا تھا، یہ لفظ افک کے مادہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی الٹنے اور اوندھا کردینے کے آتے ہیں، اور جھوٹ اور بہتان کو بھی افک اسی لئے کہا جاتا ہے، کہ اس میں بھی حقیقت و واقعہ کو الٹ کر غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو جن جن قوموں نے بھی حضرات انبیاء کرام کی دعوت کی تکذیب کی اور حق کو جھٹلایا، تو ان کو ایک عرصے تک ڈھیل تو ملی لیکن آخر کار ان کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور ان کو ہمیشہ کیلئے مٹا دیا گیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

(ان کے کرتوتوں کی پاداش میں) پھر ان پر چھا دیا جو کچھ کہ اسے چھانا تھا

[ 66] قوم لوط (علیہ السلام) کے عذاب کی انتہائی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان پر چھا دیا جو کچھ کہ اسے چھانا تھا۔ یعنی پتھروں کی بارش وغیرہ کا وہ عذاب جو ان بستیوں پر ان کے اوندھا کر دئیے جانے کے بعد برسایا گیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { وامطرنا علیہم مطراج فسآء مطر المنذرین } [ سورة النمل : 58 پ 19] یعنی ہم نے ان پر ایک بڑی ہولناک بارش برسائی۔ سو بڑی ہی بری بارش تھی ان لوگوں کی جن کو خبردار کردیا گیا تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس ابہام میں اس کی تہویل اور ہولناکی کا اظہار ہے کہ وہ عذاب اس قدر ہولناک اور اتنا سخت تھا کہ الفاظ و کلمات اس کی ہولناکی کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو یہ ہوتا ہے نتیجہ اور انجام حق کے انکار اور تکذیب کا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ابیام کا یہ اسلوب بلاغت کلام کا ایک خاص اسلوب ہے، اور کسی ایسی صورت حال کی تعبیر کے لئے آتا ہے جس کی تعبیر سے الفاظ قاصر ہوں، سو یہاں پر ان کلمات کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو ایسی ہولناک چیز سے ڈھانک دیا گیا تھا جو الفاظ کی گرفت سے باہر ہے، اور اللہ کا عذاب ایسے ہی ہونا ہے، والعیاذ باللّٰہ اور آخرت کا عذاب جو ایسے منکروں کیلئے اصل اور حقیقی عذاب ہوتا ہے وہ دنیا کے اس عذاب سے کہیں بڑھ کر اور سخت ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کذلک العذاب ط والعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون } [ القلم : 33 پ 29] یعنی اسی طرح ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش کے یہ لوگ جان لیتے " اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیئٍ وھو یجیر ولا یجار علیہ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ، جل شانہ وعم نوالہ۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پھر تو (اے مخاطب ! ) اپنے رب کی کون کون سی نعمت کے بارے میں شک کرے گا

[ 67] منکر اور غافل انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تو [ اے منکر انسان ] اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور کرشموں کے بارے میں شک کرے گا ؟ یعنی جن جن نعمتوں کا ابھی ذکر ہوا اور ان کے علاوہ دوسری بیشمار نعمتوں میں سے تو کس کس کے بارے میں شک کرے گا کہ یہ سب جلیل القدر اور عظیم الشان نعمتیں اس وحدہٗ لاشریک ہی کی طرف سے ہیں، اور جن قوموں کی ہلاکت کا ذکر ہوا ان کی ہلاکت میں بھی درحقیقت اس کی بہت سی نعمتیں مضمر ہیں کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملی، اور دھرتی ان کے ظلم وعدوان اور ان کے وجود سے پاک ہوگئی، نیز ان کی اس داستان کو تمہارے لئے سامان عبر و بصیرت کے طور پر تمہارے سامنے رکھ دیا، پھر تم ان میں سے کس کس نعمت کا انکار کرو گے ؟ اور شک کا مرض تم سے کب ختم ہوگا، کہ شک کی اب گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ { فبای حدیث بعدہ یؤمنون } کہ اس کے بعد تو اور کوئی ایسا قول فیعل نازل ہونے کا ہے ہی نہیں جس سے تم روشنی حاصل کرسکو تو پھر تمہارا یہ حال آخر کیوں ؟ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جزاو سزا کے بارے میں عقل و نقل کے ان عظیم الشان دلائل اور صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی ان جلیل القدر تعلیمات اور گزشتہ قوموں کے ان عبرت انگیز واقعات کو تمہارے سامنے پیش کردیا گیا تو اس کے بعد تم لوگ اپنے رب کی کن کن نعمتوں اور نشانیوں کو جھٹلاؤ گے اور کن کن کے بارے میں جھگڑا کرو گے ؟ اور تمہارے سر اس وحدہ لاشریک کے آگے نہیں جھکیں گے ؟
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ بھی ایک خبردار کرنے والا ہے پہلے خبردار کرنے والوں کی طرح

[ 68] منکرین کیلئے ایک تنبیہ وتحذیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ بھی ایک خبرادر کرنے والا ہے پہلے خبردار کرنے والوں کی طرح "۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کوئی نئی اور اچنبھے کی چیز نہیں بلکہ آپ ﷺ بھی پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { وما محمد الا رسول ج قدخلت من قبلہ الرسل ط افائن مات او قتل علی اعقابکم ط ومن ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّٰہ شیئاً ط وسیجزی اللّٰہ الشکرین۔ } [ آل عمران : 144 پ 4] یعنی محمد تو صرف اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں، سو آپ ﷺ بھی حق و ہدایت کا وہی پیغام لے کر تشریف لائے ہیں جس کے ساتھ وہ حضرات تشریف لائے تھے، اور آپ ﷺ بھی حق و ہدایت کی اسی دعوت کے علمبردار ہیں، جس کے وہ علمبردار تھے، تو پھر تم لوگوں کو ان کی بعثت و تشریف آوری سے آخر اس قدر [ اچنبھا ] کیوں ہو رہا ہے ؟ اور یاد رکھو کہ اس پیغمبر کے پیش کردہ اس کلام معجز نظام کو ہنسی مسخری کی چیز نہ سمجھو، ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو پہلی قوموں کا ہوچکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا دستور و قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ سو اس میں منکرین کیلئے بڑی تنبیہ وتحذیر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔