51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 51:36

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

مگر ہم نے اس میں ایک کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر پایا ہی نہیں2

[ 33] اہل ایمان کی حفاظت اور نجات کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل ایمان کی حفاظت و نجات اور معذب قوموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت اور قانون کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس بستی سے تمام اہل ایمان کو نکال لیا مگر ہم نے اس میں ایک کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) ہی کا گھر تھا، اس میں بھی ان کی بیوی شامل نہیں تھی، بلکہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں تھی، اس لئے حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے ہیں، سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جیسا کہ اہل بدعت کا شرکیہ عقیدہ ہے، ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اس طرح کافر کیوں رہتی ؟ اور وہ بھی اس بدبخت قوم کے ساتھ اس طرح مبتلا عذاب کیوں ہوتی ؟ اور دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ ہدایت اللہ پاک کے قبضہئِ قدرت و اختیار میں ہے، نہ کہ نبی کے اختیار میں ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کی خود اپنی اس طرح فی النار والسقر نہ ہوتی۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو خود ایمان کی دولت سے محروم ہو اس کو بڑی سے بڑی رشتہ داری بھی کام نہیں آسکتی، خواہ وہ کسی پیغمبر کی زوجیت اور قرابت ہی کی رشتہ داری کیوں نہ ہو۔ سو کامیابی و نجات کی راہ یہ ہے کہ اپنا ایمان و عقیدہ صحیح ہو، اور اپنا عمل و کردار درست۔ پس نجات و ہلاکت اور خوبی و خرابی کا اصل دارومدار اور مناط و انحصار انسان کے باطن اور اس کے اپنے عمل و کردار پر ہے، نہ کہ محض ظاہر داری اور تصنع و بناوٹ پر، اس طرح کے تمام تصورات شیطانی دھوکے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اس طرح اس سے سنت الہیہ کو واضح فرما دی گیا جو تمام انبیاء و رسل کی سرگزشتوں میں ہمیشہ پائی گئی ہے، یعنی یہ کہ رسول کے ذریعے اتمام حجت کے بعد جب کسی قوم پر فیصلہ کب عذاب آیا ہے، تو اس سے ان لوگوں کو بچالے گا جو ظہور عذاب سے پہلے اللہ کے رسول پر ایمان لا چکے تھے، پس ایمان و یقین کی راہ ہی سلامتی اور نجات کی راہ ہے، جب کہ کفر و تکذیب کا لازمی نتیجہ اور آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ایسے منکرین وہ مکذبین کو مہلت اور ڈھیل جتنی بھی ملے آخر کار انہوں نے دائمی ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں گر کر ہی رہنا ہوتا ہے والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور چھوڑ دی ہم نے اس (واقعے) میں ایک بھاری نشانی ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں دردناک عذاب سے

[ 34] قوم لوط کی بستی میں ایک عظیم الشان عبرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس میں چھوڑ دی ایک بڑی بھاری نشانی ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں عذاب الیم سے۔ سو وہ نشانی تھی اس بات کی کہ حق و ہدایت کے منکروں اور حضرات انبیاء و رسل (علیہ السلام) اور ان کی دعوت و پیغام کے جھٹلانے والوں کا آخری انجام کیا اور کس قدر ہولناک ہوتا ہے۔ قوم لوط کی ان ہری بھری گنجان بستیوں کو اور ان کے باشندوں کو کس طرح نیست و نابود کرکے ہمیشہ کے لئے نشان عبرت اور قصہ پارینہ بنادیا گیا اور ان کی جگہ بحیرہ طبریہ کا وہ سمندر اپنی زبان حال سے ان بدبختوں کی داستان عبرت سنا رہا ہے، جس کو بحر میت [ Dead Sea ] بحیرہ مردار، اور لوط بھی کہا جاتا ہے اور اس طرح یہ مجرم اس ہولناک انجام سے دو چار ہو کر ہمیشہ ہمیش کے لئے مٹ گئی۔ والعیاذ باللہ۔ [ روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، اور مدارک وغیرہ ] بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قوم لوط کی اس بستی اور ان بدبختوں کی داستان عبرت میں ہم نے ایک بھاری اور واضح نشانی لوگوں کی عبرت پذیری کے لئے چھوڑی، تاکہ یہ اس سے سبق لیں اور کفر و انکار کی بجائے ایمان و یقین اور تمردوسر کشی کی بجائے اطاعت و فرمانبرداری کی راہ کو اپنا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں اور اس برے اور ہولناک انجام سے بچ جائیں جس سے ماضی میں یہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں، مگر ایسے نشانہائے عبرت سے سبق وہی لوگ لیتے ہیں جو ایسے ہولناک انجام اور اس طرح کے دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں، رہ گئے وہ لوگ جو اس طرح کے ہر سامان عبرت و بصیرت سے آنکھیں بند کرکے محض حیوانوں کی زندگی گزارتے ہیں اور وہ حیوان محض بن کر بطن و فرج کی شہوات کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ تو ان کے لئے ایسی باتوں میں کوئی سامان عبرت و بصیرت نہیں ہوتا تاکہ عذاب کا کوڑا ان کے سروں پر اسی طرح بر سے جس طرح کسی حیوان کے سر پر برستا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کی ہر کجی سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 35] خوف خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس : اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی نشانیاں انہی لوگوں کیلئے کارگر ہوسکتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس قصے میں عظیم الشان نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں وہ دردناک عذاب سے۔ یعنی یہ عظیم الشان نشانی ہے تو سب کے لئے اور ایک کھلی کتاب کی طرح، اور یہ درس عبرت بھی موجود تو سب کے لئے ہے، مگر اس سے سبق وہی لے گا جو اللہ کی پکڑ اور اس کی طرف سے آنے والے دردناک عذاب سے ڈرتا ہو، اور اس سے بچنے کی فکر کرتا ہو۔ اور ایسے واقعات سے درس عبرت لینا چاہتا ہو کہ کس طرح اور کس بنا پر یہ قوم اس قدر ہولناک انجام سے دو چار ہوئی، اور ہمیشہ کے لئے مٹ کر قصہ پارینہ بن گئی اور کس طرح اور کس بناء پر ان کی ان گنجان آباد بستیوں کو تلپٹ اور تہ وبالا کرکے ہمیشہ کیلئے ختم کردیا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { فجعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہم حجارۃً من سجیل } [ الحضر : 74 پ 14] [ پس آخر کار ہم نے تہ وبالا کرکے رکھ دیا ان کی بستیوں کو، اور ان پر برسادی سنگ گل کی قسم کے پتھروں کی ایک ہولناک بارش ] سو یہ انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو حق کو جھٹلاتے، اور اس کا انکار کرتے ہیں، جو اپنی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات مقدسہ کا مذاق اڑاتے ہیں، اور ان سے روگردانی کرتے ہیں، جو خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، اور وہ ان پر ہی کے لئے چیتے اور ان ہی کیلئے مرتے ہیں اور خاص حیوان بن کر بلکہ اس سے بھی گر کر اور " اسفل السافلین " بن کر رہنا چاہتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو امن و سلامتی کی راہ صرف یہ ہے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے توسط سے ملنے والے پیغام حق و ہدایت کو صدق دل سے قبول کرکے اس کے مطابق زندگی گزاری جائے، کہ یہی اور صرف یہی راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا۔ مگر یہ سب کچھ تب نصیب ہوتا ہے جب کہ انسان سچے دل سے حق و ہدایت کا طالب ہو، اور اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ڈرتا ہو۔ ورنہ محض حیوانی آنکھوں سے دیکھنے سے حق و ہدایت کی روشنی نصیب ہوسکتی۔ یہی بات جب تھی اور یہی اب ہے۔ یہی قانون و ضابطہ کل تھا اور یہی آج بھی کتنے عبرت ناک حوادث و واقعات اس کرہ ارضی پر یہاں اور وہاں، جگہ جگہ، اور طرح طرح، سے رونما ہوتے رہتے ہیں، مگر کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو اس سے درس عبرت و بصیرت لیتے اور سامان اصلاح حاصل کرتے ہوں گے ؟ سو بیماریوں کی بیماری اور فساد و خرابی کی اصل جڑ و بنیاد انسان کی غفلت و لاپرواہی، اور نور حق سے اعراض و بےاعتنائی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب کرئے آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے قصے) میں بھی جب کہ ہم نے ان کو بھیجا (رسول بنا کر) فرعون کی طرف ایک کھلی سند (اور دلیل) کے ساتھ

[ 36] قصہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ سو یاد کرو تم لوگ اس وقت کو کہ جب ہم نے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند کے ساتھ، سو عصا اور یدبیضاء وغیرہ کے کھلے معجزات کے علاوہ آنجناب کی پاکیزہ شخصیت اور پروقار ہستی، جس نے فرعون اور اس کے اعیان و انصار کے دل و دماغ پر ایسا رعب اور دبدبہ قائم کردیا تھا کہ وہ لوگ آنجناب کے خلاف انتہائی غیظ و غضب اور جوش انتقام رکھنے کے باوجود آخر وقت تک آپ (علیہ السلام) پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرسکے، مگر وہ لوگ آ کی نشانیوں اور معجزات کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود ان کا انکار ہی کرتے گئے، اور اس طرح وہ اپنی محرومی اور روسیاہی میں اضافے ہی کا سامان کرتے گئے، ہیں تک کہ وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا ط فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین } [ النمل : 14 پ 19] یعنی ان لوگوں نے حق و ہدایت کی راہنمائی کرنے والی ان نشانیوں کا انکار ہی کیا جب کہ ان کے دلوں میں ان کی صداقت و حقانیت کا یقین موجود تھا۔ محض ظلم و سرکشی کی بنا پر۔ والعیاذ باللّٰہ سبحان اللّٰہ کیسی بڑی طاقت ہے، یہ حق و صداقت کی طاقت اور کس قدر بڑی قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت، کہ اس کے بعد پھر مغلوبیت اور ناکامی ہے ہی نہیں، اللہ اپنے کرم و احسان سے نصیب فرمائے، اور اس قدر کہ ہم سراپا صدق و یقین بن جائیں، اور ایسے جو جائیں کہ پھر کوئی خوف و خطر اور ضعیف و اندیشہ باقی نہ رہے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ بہرکیف سلطان کا یہ لفظ جو یہاں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے یہ قرآن حکیم میں واضح سند کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، اور رعب دبدبہ کے معنی میں بھی اور یہاں ان دونوں ہی معنوں پر حاوی اور ان پر مشتمل ہے، کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ کی طرف سے ان دونوں ہی عنایتوں سے نوازا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے اور اولوالعزم رسول تھے اور اسی تائید غیبی کا نتیجہ تھا کہ فرعون ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکا۔ علی نبینا و (علیہ السلام) ۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

مگر اس نے سرتابی ہی کی اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ اور اس نے (پوری رعونت کے ساتھ) کہا کہ یہ شخص یا تو کوئی جادوگر ہے یا دیوانہ

[ 37] فرعون کی سرکشی و سرتابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے باوجود فرعون نے سرتابی ہی کی اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ۔ یعنی اپنی سرکشی کی بنا پر اس نے خود بھی ہلاکت و تباہی کے راستے کو اختیار کیا اور اپنے لاؤ لشکر کو بھی اپنے ساتھ تباہی کے گھاٹ اتار دیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یقدم قومہٗ یوم اکقیمۃاور دھم النار ط وبئس الورد المورود۔ } [ ھود : 98 پ 12] اس صورت میں یہ باء تعدیہ کی ہوگی۔ جیسا کہ بجانبہٖ میں ہے اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے لاؤ لشکر کے بل بوتے پر، اور ان کے گھمنڈ میں راہ حق سے پھر گیا۔ اس صورت میں یہ باسییہ ہوگی [ جامع البیان، مراغی وغیرہ ] سو تکبر اور کفر و انکار پر اڑنا بہرحال باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ ایسے لوگوں کو جتنی بھی ڈھیل ملے اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہی ہوتی ہے جس نے اپنے وقت مقرر پر ختم ہوجانا ہوتا ہے اور ایسے لوگوں نے اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہنا ہوتا ہے اور فرعون اور اس کی مثال اس بارے بڑی صاف اور واضح مثال ہے۔ سو سلامتی و نجات کی راہ بہرحال یقین کی راہ ہے۔ کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے اور کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل انٍ وحین، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، [ 38] فرعون کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سحر اور جنون کے الزام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس سے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے دیوانہ " والعیاذ باللّٰہ " یعنی کبھی یہ بات کہتا اور کبھی وہ۔ یا آپ کے معجزات کی بناء پر وہ آپ کو جادوگر کہتا اور دعویٰ توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کی بنا پر مجنون۔ اور اس طرح وہ اپنی قوم کو آنجناب سے بدظن اور متنفر کرنے کی کوشش کرتا، مگر اس سے خود اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت شعار شخصیت کے سامنے وہ ملعون خود ذاتی اور ذہنی طور پر ایک سخت قسم کے تذبذب اور انتشار کا شکار ہوگیا تھا اور اپنے اندر سے وہ چکنا چور ہوگیا تھا۔ اور یہی حال اور نتیجہ ہوتا ہے دعوت حق کی تاثیر اور اس کی کارگزاری کا کہ اس سے کافر اور منکر شخص اندر سے کھوکھلا ہو کر مخبوط لحواس ہوجاتا ہے، اور وہ خطی بن کر حق اور اہل حق کے خلاف کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ یہاں تک کہ آخر کار وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے، والعیاذ باللّٰہ جس طرح کہ دور حاضر کی شیطانی اور فرعونی سپر پارو امریکہ کا حال ہے کہ وہ اپنی محفوظ الحواسی میں اندھا ہو کر افغانستان کے مظلوم مسلمانوں اور وہاں پر طالبان کی سربراہی میں قائم اسلامی حکومت پر وہ رہ مظالم ڈھا رہا ہے کہ ایک دنیا کی دنیا ورطہ حیرت میں ڈوبی ہوئی اور ابگشت بدنداں ہے، اور اس کے بعد ایسا ہی ظلم اس نے عراق پر کیا اور جنگل کے قانون کو اپنا کر اس نے انتہائی ظلم اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور مسلمان اور عرب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس کی تمام دولت و ثروت اور بہتے سونے یعنی تیل کی دولت پر قبضہ کرلیا اور اب وہ اس کی بندربانٹ میں مصروف ہے اور ظلم بالائے ظلم یہ کہ وہاں کی حکومت کو نیست کرنے کے بعد اس نے وہاں کے تمام سرکاری محکموں اور حکمومتی اداروں کو بیک جنبش قلم ختم کردیا، جس سے کم و بیش پانچ لاکھ انسان روزگار سے محروم ہوگئے۔ فالی اللّٰہ المشتکی وھو المستعان، اللہم انا نجعلک فی نحورھم، ونعوذبک من شرورھم، اللہم فخذھم اخذ عزیز مقتدر، وانزل بھم باسک الذی لا تردہ عن القوم المشرکین المجرمین۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

آخرکار ہم نے پکڑا اس کو بھی اور اس کے لشکروں کو بھی پھر ان سب کو ہم نے (کچرے کی طرح) پھینک دیا سمندر میں اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ تھا

[ 39] فرعون اور فرعونیوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے فرعون اور اس کے اعوان و انصار کے ہولناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ان کے اپنے کفر و طغیان کی بناء پر۔ سو اس میں اللہ پاک کی قدرت مطلقہ اور " بطشٍ شدید " کی ایک جھلکی موجود ہے، کہ جس قوت و لشکر پر فرعون کو بڑا ناز تھا اس سب کو قدرت کی طرف سے کس طرح کچرے کی طرح اٹھا کر گہرے سمندر میں پھینک دیا گیا، والعیاذ باللّٰہ سو جن فوجوں اور لشکروں پر فرعون کو اس قدر غرور تھا اور جن کی وجہ سے اور ان کے غرور میں وہ حق سے منہ موڑے ہوئے تھا، ان سب کو اس کے ساتھ غرقاب کردیا گیا، اور اس وقت کوئی بھی چیز اس کے کچھ کام نہ آسکی اور اس کی وہ فوجیں جو اس کے سرمایہ غرور کی حیثیت رکھتی تھیں اور جن کی بناء پر وہ اشکبار اور کبروغرور میں مبتلا تھا ان کی حیثیت خاک اور راکھ کی ایک مٹھی سے زیادہ نہ نکلی اور ان سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا اور وہ سب " فی النار والسقر " ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اپنی جس ترقی اور کرسی و اقتدار کا اس کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا اور جس کی بناء پر وہ اس استکبار اور کفر و انکار اور تکذیب حق کے جرم میں مبتلا ہوا تھا وہ اس کے کچھ کام نہ آسکی۔ سو کفر و کفار اور تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
Ayahs 51:41–44

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کے قصہ) میں بھی (ہم نے بڑی بھاری نشانی رکھ دی) جب کہ ہم نے ان پر وہ انتہائی سخت آندھی بھیجی وہ (ایسی ہولناک ہوا تھی کہ) جس چیز پر سے بھی وہ گزرتی اس کو بوسیدہ کر کے رکھ دیتی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ (ایسی ہولناک ہوا تھی کہ) جس چیز پر سے بھی وہ گزرتی اس کو بوسیدہ کر کے رکھ دیتی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود میں بھی جب کہ ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ تم لوگ مزے کرلو ایک خاص وقت تک

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

مگر (اس تنبیہ و انذار کے باوجود) وہ لوگ سرتابی (و سرکشی) ہی کرتے چلے گئے اپنے رب کے حکم سے سو آخرکار آپکڑا ان کو اس ہولناک کڑک نے جو (ان کے لئے مقدر ہوچکی تھی) ان کے دیکھتے ہی دیکھتے

[ 40] قوم عاد میں پائے جانے والے درس عبرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور عاد میں بھی جبکہ ہم نے ان پر بھیجی و انتہائی سخت آندھی۔ عقیم دراصل بانجھ عورت کو کہا جاتا ہے۔ سو اس میں اس ہوا کو بانجھ عورت سے تشبیہہ دی گئی ہے، کہ جس طرح وہ نہ حاملہ ہوتی ہے نہ بچہ جنتی ہے، اسی طرح اس ہوا میں بھی کوئی خیر نہ تھی۔ بلکہ یہ سراسر تباہی کے لئے چھوڑ دی گئی تھی، جس نے اس بدبخت قوم کو ہمیشہ ہمیش کے لئے خاتمہ کردیا گیا، والعیاذ باللّٰہ، سو عاد کی اس بدبخت قوم پر عذاب لانے والی وہ ہولناک ہوا ایسی بےفیض ہوا تھی جو نہ بارش لائے، اور نہ کسی طرح کا کوئی اور نفع پہنچائے، واضح رہے کہ عربی زبان میں بارش لانے والی ہواؤں کو { لواقح } [ بارآور ] کہا جاتا ہے اور مضر ہواؤں کو عقیم [ بانجھ ] ۔ سو وہ بڑی ہولناک ہوا تھی جو اس بدبخت قوم کیلئے دائم نحوست کا پیغام لے کر آتی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { فارسلنا علیہم ریحاً صر صرافی امام نحسات لنذیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ط والعذاب الاخرۃ اخری وھم لا ینصرون } [ السجدۃ : 16 پ 24] سو ہم نے ان پر مسلط کردیا ہوائے تندوکو نحوست کے چند دنوں میں تاکہ ہم ان کو چکھائیں رسوائی کا عذاب دنیاوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر رسوا کن ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

سو اس کے بعد نہ تو ان میں کھڑے ہونے کی کوئی سکت تھی اور نہ ہی اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت (و قوت)

[ 42] عذاب یافتہ قوم کی بےبسی کی تصویر کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ عذاب آنے پر ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ نہ ان میں کھڑے ہونے کی کوئی سکت تھی اور نہ ہی اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت ووقت، سو اس سے اس عذاب یافتہ قوم کی بےبسی کی تصویر پیش فرما دی گئی جس کو اپنے قوت پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا، کہ اب وہ لوگ کھڑے بھی نہیں ہوسکتے تھے، کہ اٹھ کر کہیں بھاگ جاتے، اور عذاب سے بچ جاتے، یعنی وہ بالکل عاجز اور بےبس ہو کر رہ گئے تھے، [ منقول عن الحسن (رح) وھو تفسیر حسن، جامع البیان ] سو اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بھاگ نکلنا کسی کے لئے ممکن نہیں، " والعیاذ باللّٰہ العظیم " روایات کے مطابق جب انہوں نے وہ کڑک سنی تو ان پر ایسی ہولناک دہشت اور کپکی طاری ہوگئی کہ وہ کھڑے بھی نہ رہ سکے، بلکہ اوندھے منہ زمین پر گرپڑے، جیسا کہ سورة اعراف میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جٰثمین } [ الاعراف : 78 پ 8] " یعنی آخرکار آپکڑا ان کو اس ہولناک زلزلے اور کپکپی طاری کردینے والے عذاب نے جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے "، اور جس قوت اور ترقی پر ان کو ناز تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آسکی، اور نہ وہ خود کوئی بدلہ لے سکے، اور یہ چیز کوئی انہی لوگوں کے ساتھ خاص نہیں تھی بلکہ عذاب یافتہ قوموں کا ہمیشہ یہی حال رہا جو آج تک باقی اور برقرار ہے چناچہ آج بھی جب کہیں زلزلہ وغیرہ کا کوئی عذاب آتا ہے تو مادی ترقی اور مادی وسائل کی فراوانی کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود ایسے لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ کھڑے ہونے کی کوئی سکت رکھتے ہیں اور نہ کسی بدلے اور مقابلے کا کوئی سوال ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سو کفر و تکذیب کا آخری انجام بہرحال ہلاکت اور تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہنا چاہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے اور شیطان کس کو اس دھوکے میں مبتلا نہ کرنے پائے کہ صاحب ! یہ تو پرانے وقتوں کی باتیں ہیں اب تو دنیا نے بہت ترقی کرلی ہے اور اب سائنس بہت آگے نکل گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس اطرح کا کوئی مغالطہ کسی کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے کہ انسان بہرحال اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ۔ والعیاذ باللّٰہ۔ کے سامنے آج بھی ویسے ہی عاجز و بےبس ہے جس طرح کہ صدیوں پہلے تھا چناچہ آج بھی زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں وغیرہ کی صورت میں آنے والے مختلف عذابوں کے سامنے یہ عاجزی اور بےبسی کی اس طرح تصویر بنا رہتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayahs 51:46–47

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی (ہم نے ہلاک کیا) اس سے پہلے بیشک وہ بھی بڑے بدکار لوگ تھے

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان (کے اس عظیم الشان گنبد) کو بھی ہم ہی نے بنایا (اپنی قوت و) زور سے اور بیشک ہم بڑی ہی قدرت والے ہیں

[ 43] قوم نوح کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح کا بھی ہم نے اس سے پہلے ہلاک کیا کہ وہ بھی بڑے سرکش و بدکار لوگ تھے۔ سو اس سے قوم نوح کے آخری اور ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی کہ قوم نوح بھی آخر کار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہی کہ وہ بھی بڑے فاسق لوگ تھے اور وہ اپنے کفر و عصیان کی وجہ سے اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکلے ہوئے لوگ تھے، اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی صدیوں بھر کی تبلیغ و نصیحت کے باوجود لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے، تو آخر کار ہمیشہ کی تباہی کے اس ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہے، جو کہ ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا، " والعیاذ باللّٰہ " سو یہ واقعہ بھی اس بات کی صاف وصریح نشانی اور قطعی ثبوت ہے، کہ راہ حق و ہدایت سے انحراف اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کی تکذیب اور اس کے انکار کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم " قوم نوح کا قصہ اگرچہ مذکورہ بالا سب قوموں سے پہلے کا ہے لیکن یہاں اس کا ذکر سب کے آخر میں فرمایا گیا جس سے یہ اہم درس ملتا ہے کہ قرآن حکیم کوئی تاریخ یا جغرافیہ کی کتاب نہیں کہ واقعات کو ان کے وقوع کی ترتیب کے مطابق سلسلہ وار بیان کرے بلکہ یہ کتاب ہدایت ہے جس میں واقعات کو ہدایت کے اعتبار سے اور اسی کے مطابق اخذ و انتخاب کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور پھر قوم نوح کا ذکر بھی انداز بدل کر فرمایا گیا ہے۔ گزشتہ قوموں کا ذکر " وفی عاد " اور " وفی ثمود " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے مگر قوم نوح کا ذکر انداز بدل کر اس طرح فرمایا گیا کہ " وقوم نوح من قبل " تاکہ اس سے واضح ہوجائے کہ اس بدبخت قوم کا قصہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے یہ دوسری قوموں کے حال اور ان کے مآل سے مختلف ہے۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو بھی ہم ہی نے بچھایا سو ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں1

[ 45] فرش زمین میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور زمین کو بھی ہم ہی نے بچھایا سو ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں، اور اس عظیم الشان فرش کو بچھایا اس لئے گیا تاکہ اس میں انسان اور حیوان وغیرہ سب ہی رہ سکیں، اور نہایت حیر انگیز طریقے سے ہم نے زمین کے اندر ان تمام مخلوقات کی روزی اور دوسری جملہ ضروریات کا بھی بھرپور طریقے سے انتظام کردیا، اور اس پر حکمت طریقے سے کہ خود انسان کی اور دوسری ان تمام مختلف الانواع مخلوق کی جو کہ طرح طرح سے انسان کے کام آتی ہے، سب کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور یہ سب کچھ انسان کی طرف سے کسی طرح کے سوال اور مطالبے کے بغیر ہم نے ازخود کیا، سو اس سب کے باوجود جو انسان اپنے خالق ومالک سے منہ موڑ کر معصیت و بغاوت کی زندگی بسر کرے، اس سے بڑھ کر ظالم، بےانصاف اور ناشکرا اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف اس ارشاد سے تمام دنیا اور خاص کر ارباب فکر و دانش کو اس طرح توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہارے پاؤں تلے بچھا ہوا زمین کا یہ عظیم الشان فرش بھی اپنے اندر عظیم الشان دلائل رکھتا ہے، حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی قدرت بےپایاں اس کی حکمت لازوال، اس کی رحمت و عنایت بےمثال اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جس قادر مطلق اور حکیم مطلق خداوند قدوس کی حکمتوں بھرے اور نعمتوں سے پُر اس کرہ ارض کو پیدا کرکے انسان کے تصرف میں دے دیا، اور وہ اس سے دن رات لگاتار اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہو رہا ہے تو کیا اس سے اس بارے باز پرس نہیں ہوگی اور نہیں ہونی چاہیے ؟ ضرور ہوگی اور ضرور ہونی چاہئے، تاکہ اس طرح اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق کے مقصد کی تخلیق ہو سکے، ورنہ کارخانہ قدرت عبث اور بیکار قرار پائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم کی حکمت مطلقہ کے تقاضوں کے خلاف ہے، پس قیامت کا قائم ہونا ضروری اور عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ تاکہ اس طرح ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بدلہ مل سکے، اور بددرجہ و کمال مل سکے، اور اس طرح تخلیق کائنات کے اصل مقصد کی تکمیل ہوسکے، پس اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنا ہی اصل مقصود اور تقاضا ہے عقل سلیم اور طبع مستقیم کا، کہ اس کے لئے تیاری کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، وھو العزیز الوھاب، [ 46] زمین کے عجائب حکمت و ربوبیت کی طرف اشارہ : چنانچی ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں ؟ کہ اپنی گوناں گوں مخلوق کے لئے حکمتوں اور عبرتوں بھرا اور طرح طرح کی بےحد و حساب نعمتوں سے بھرپور اور آہستہ و پیراستہ ایسا عظیم الشان بچھونا اپنی مخلوق کیلئے اس طرح بچھادیا۔ جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں۔ فسبحان اللّٰہ من خالق عظیم جلت قدرتہٗ تو کیا یہ سب کچھ عبث اور بےمقصد ہوسکتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اس لئے ایک ایسے یوم حساب کا قائم ہونا ضروری ہے جس میں انسان سے اس کے زندگی کے بھر کے کئے کرائے کے بارے میں پوچھ اور اس کا حساب ہو اور وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ اور بدلہ پاس کے، تاکہ جن لوگوں نے حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی ان عظیم الشان نعمتوں کا حق شکر ادا کیا ہوگا۔ ان کو اس کے بھرپور اجر وثواب سے نوازا جائے، اور جنہوں نے ناشکری کی ہوگی وہ اس کی سزا پاس کیں تاکہ اس طرح عدول و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور بتمام و کمال پورے ہو سکیں، سو اس کیلئے قیامت کے یوم حساب کا قائم ہونا ضروری ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان عجائب حکمت و ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو قدرت نے اپنے بےپایاں رحمت و عنایت کے اس بچھونا ارضی میں ودیعت فرما رکھے ہیں۔ سو جس طرح اس قادر مطلق کی قدرت بےنہایت ہے اسی طرح اس کی رحمت و عنایت اور ربوبیت و پروردگاری کی بھی کوئی حدوانتہا نہیں، پس اس کیلئے قیامت کا بپا کرنا نہ کچھ مشکل ہے اور نہ ہوسکتا ہے، بلکہ اس کیلئے محض اس کے ایک حکم و اشارہ کی دیر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم لوگ (اس سے) سبق لو

[ 47] قانون تزویج کا حوالہ و ذکر : سو کائنات کی ہر چیز کے جوڑے بنانا قدرت کی عظمت شان کا ایک اور عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ اس لئے یہاں پر قانون تزویج کا حوالہ و ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے "۔ یعنی ہم نے اپنی مخلوق میں سے ہر چیز کا ایک ایسا مخالف اور جوڑا بنادیا جو اپنی طبعیت وغایت اور مقصود و مراد کے اعتبار سے دوسرے کے مقابل، اور اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسے زمین و آسمان، سردی و گرمی، دن و رات، سیاہ وسفید، بحر وبر، سعادت و شقاوت، نیک و بد، پاک و ناپاک اور نر و مادہ وغیرہ وغیرہ [ ابن جریر، ابن کثیر، مدارک، محاسن، خازن، قرطبی اور مراغی وغیرہ ] مگر اس طور پر کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایسی ہر متقابل چیز اپنے دوسرے متقابل اور ضد کے وجود اور اس کے مفہوم کو واضح بھی کرتی ہے، اور اس کے ساتھ مل کر اپنے مقصد وجود کو بھی پورا کرتی ہے، اور اس حد تک کہ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود بےمقصد اور بےکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ جیسے زمین و آسمان کے بغیر، یا رات دن کے بغیر، یا سردی گرمی کے بغیر، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے جہاں اس کائنات میں خالق ومالک کی قدرت مطلقہ حکمت بالغہ اور وحدانیت مقدسہ کا ثبوت ملتا ہے، وہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آخرت کے اس جہاں اور وہاں کی زندگی کا ہونا بھی ایک لازمی امر ہے، کیونکہ دنیا کا مقابل آخرت ہی تو ہے، تو جس طرح زوجین میں سے ہر چیز اپنے مقاصد وجود کی تکمیل کے لئے دوسری کی محتاج ہوتی ہے، اس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوسکتی، اسی طرح آخرت کو مانے اور تسلیم کیے بغیر اس دنیا کے مقصد وجود کی تکمیل نہیں ہوسکتی، لہٰذا آخرت کا وجود اور اس کا عقیدہ رکھنا عقل و نقل اور فطرت سلیمہ سب کا بدیہی تقاضا ہے۔ پس آخرت کے اسی یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا ضروری اور مقتضائے عقل و نقل ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، [ 48] کارخانہئِ قدرت سے درس لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ سبق لو اور راہ راست کو اپناؤ۔ کہ اس عظیم و بےمثال و کاریگری میں اس کے خالق کا کوئی شریک نہیں، تو اس کی عبادت و بندگی میں خواہ وہ رکوع و سجود کی شکل میں ہو یا قیام و طواف کی شکل میں، یا نذر و نیاز اور غائبانہ نداوپکار کی صورت میں، کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل بہرحال اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے، کیونکہ یہ سب عبادت و بندگی کی مختلف شکلیں اور صورتیں ہیں، اور عبادت و بندگی کی ہر شکل اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے اس میں کسی اور کو شریک ماننا کھلا ظلم ہوگا، والعیاذ باللّٰہ العظیم نیز کائنات کی ان تمام اشیاء میں تضاد کے باوجود ان کے موجود اور ان کی غرض وغایت کی تکمیل اپنی ضد اور اپنے جوڑے مل کر ہی ہوتی ہے، ورنہ اس کا وجود ہی عبث اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے، اسی طرح اس دنیا کا جوڑا بھی ضروری ہے تاکہ اس کے ساتھ مل کر اس کا خلا پر ہو سکے اور وہ آخرت ہی ہے، سو آخرت کے وجود اور اس کے اعتقاد کے بغیر اس دنیا کا وجود عبر اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayah 51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس تم سب دوڑو اللہ کی طرف (اے لوگو ! ) بیشک میں تم سب کے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

[ 49] اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس دوڑو تم سب اللہ کی طرف اے لوگو ! " ایمان و اطاعت کے ذریعے۔ پس کفر و شرک اور بغاوت و معصیت سے بھاگ کر ایمان و اطاعت کے دامن کی پناہ میں آجاؤ، تاکہ اس طرح تم اس کے عذاب و عقاب سے بچ کر سعادت و نجات سے ہم کنار ہونے کے لئے کس قدر صاف ستھرا اور کتنا واضح و پاکیزہ درس دیا گیا ہے، مگر دنیا ہے کہ اس سے غافل و لاپروہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یہاں پر یہ امر واضح رہے کہ عذاب سے بچنے اور اپنی آخرت کو بنانے کیلئے تو بھاگنے اور دوڑنے کا حکم دیا گیا ہے { ففروآ الی اللّٰہ }۔ مگر دنیاوی کمائی کے لئے صرف چلنے پھرنے کا۔ { فامشوا فی مناکبھا } سو اس سے یہ اہم اور بنیادی درس ملتا ہے کہ دنیاوی زندگی کے لئے سعی و کوشش و بقدر ضرورت و کفایت ہو کہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز بہرحال فانی اور عارضی ہے جب کہ اصل محنت آخرت اور وہاں کی سدا بہار نعمتوں کے لئے ہو کہ وہاں کی اندگی اور اس کی سب نعمتیں ابدی اور دائمی ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے مسلمان کا حال برعکس ہے، اس کی ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ اور سعی و کوشش صرف دنیا اور اس کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کیلئے گویا بالکل وقف ہو کر رہ گئی ہے، الا ماشاء اللّٰہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہاں پر { ففروآ } کی فاء تفریحیہ سے واضح فرما دیا گیا کہ جب آخرت ایک قطعی حقیقت ہے اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، دنیا کا وجود بذات خود اس کے وجود وقوع کا متقاضی ہے، اور اس نے اس دنیاوی زندگی کے خاتمے کے متصل بعد بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج کے دن کے خاتمے کے متصل بعد آنے والے کل کا وقوع پذیر ہوجانا لازمی اور قطعی ہے اور جب دنیا کی فانی زندگی کے مقابلے میں آخرت کی وہ زندگی دائمی اور ابدی ہے اور جب دنیاوی زندگی کا اصل اور حقیقی مصرف ہی آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کا اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنا کر اس کیلئے کوشش کرنا تو ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اپنی آخرت کو بنانے سنوارنے کے لئے دوڑا جائے کہ اصل اور حقیقی کامیابی وہیں کی کامیابی ہے جو کہ ابدی اور سدا بہار کامیابی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل انٍ وحین۔ [ 50] پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان سے ارشاد فرمایا گیا کہ میں تم سب کو اس کی طرف سے خبردار کرنے والا ہوں کھول کر حق اور حقیقت کو۔ یعنی توحید خداوندی کے ان عقلی دلائل کے علاوہ وہ جو کہ اس کی اس وسیع کائنات میں چار سو پھیلے بکھرے پڑے ہیں، میں بھی اس کے نمائدہ و رسول کی حیثیت سے تم لوگوں کو صاف طور پر اور کھول کر خبردار کرنے کے لئے موجود ہوں، تاکہ تمہارے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ سو میں اس وحدہٗ لاشریک کی طرف سے تم سب کے لئے " نذیر مبین " بن کر آیا ہوں، تاکہ میں قیام قیامت سے پہلے دنیا کو اس کے خطرات و احوال سے پوری طرح خبردار کروں، تاکہ اس کے بعد تمہارے لئے کسی عذر اور معذوری کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے کہ تمہارے پاس کو یہ بشیر و نذیر نہیں آیا تھا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یاہل الکِتٰب قد جآء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ما جآء نامن م بشیرٍ ولا نذیر فقد جآء کم بشیر و نذیر ط واللّٰہ علی کل شیئٍ قدیر } [ المائدہ : 19 پ 6] یعنی کہیں تم لوگ یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشیر آیا نہ کوئی نذیر۔ سو اب تمہارے پاس ایک عظی الشان بشیر بھی آگیا اور نذیر بھی۔ جس نے حق کو تمہارے لئے پوری طرح واضح کردیا، لہٰذا اب تمہارے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسوئِ وانحراف، یاذالجلال والاکرام۔
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور مت بناؤ تم اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بلاشبہ میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

[ 51] اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا مت بناؤ تم لوگ اللہ کے ساتھ کوئی معبود۔ اور یہ ارشاد ماقبل کی تاکید و تکرار کے طور پر فرمایا گیا کہ کسی کو بھی اس کا شریک وسہیم نہ بناؤ خواہ وہ لکڑی پتھر کا کوئی بت ہو، یا کوئی زندہ و مردہ انسان، یا کوئی جن یا فرشتہ، وغیرہ کہ " الھاً " کا عموم ان سب ہی کو عام اور شامل ہے، اور معبود اس وحدہٗ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں، سو کوئی اس طرح کی کسی غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء اس کی مدد کرکے اس کو وہاں کے عذاب سے چھڑا دیں گے، پس ایسی کوئی صورت وہاں ممکن نہیں ہوگی، لہٰذا اس طرح کے خیالی سہاروں اور خود ساختہ ڈھکوسلوں کی بناء پر اپنی عاقبت برباد نہیں کرنا، والعیاذ باللّٰہ، کیونکہ معبود برحق اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں اس لئے سب کا واسطہ اسی سے پڑنا ہے اور سب نے بالآخر لوٹ کر اسی وحدہٗ لاشریک کے یہاں حاضر ہونا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ وہاں پر نہ کوئی کسی کے کچھ کام آسکے گا اور نہ کسی کو اس کی گرفت و پکڑ سے چھڑا سکے گا سوائے اس کی رحمت و عنایت کے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ وہاں پر " لاتزرو وازرۃٌ وزر اخری " کا اصول کار فرما ہوگا کہ کوئی بھی وہاں پر کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود ہی بھگتنا ہوگا اور یہی تقاضا ہے اس یوم عدل و انصاف کا۔ [ 52] پیغمبر (علیہ السلام) کا انذار اللہ تعالیٰ کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ میں تم سب لوگوں کے لئے نذیر مبین ہوں اللہ کی طرف سے۔ پس میں تمہیں غیر اللہ کی عبادت پر اس وحدہٗ لاشریک کی گرفت اور پکڑ سے خبردار کرتا ہوں، اور یہ تکرار تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے۔ تاکہ اس طرح کی جو بھی غلط فہمی اس طرح کے لوگوں کے دماغوں کے اندر موجود ہو، اس کو دور کردیا جائے اور یہ حقیقت ان کے سامنے پوری واضح ہوجائے کہ مزعومہ شرکاء اور شفعاء میں سے کوئی بھی وہاں پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتا، کام آسکتا ہے اور ان کو وہاں کے اس ہولناک عذاب سے کوئی بھی چھڑا نہیں سکتا، جیسا کہ مشرکوں کا ایسا کہنا اور ماننا ہے۔ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ ارشاد صرف ماقبل کا تکرار نہیں بلکہ اس میں ماقبل کے مضمون کی تاکید و تکرار کے ساتھ ساتھ مشرکوں کے اس مفروضے پر بھی ضرب لگانا بھی مقصود ہے کہ اس خود ساختہ اور من گھڑت عقیدے کے ساتھ آخرت کو ماننا نہ ماننا دونوں ایک برابر ہوجاتے ہیں، اور ایسے میں آخرت کا عقیدہ بےکار اور بےاثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ سو مشرکین کی اسی غلط فہمی پر ضرب لگانے کے لئے قرآن حکیم میں قیامت کے ساتھ توحید کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے۔ پھر یہاں پر منہٗ کی تصریح سے یہ امر بھی واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا یہ انذار اللہ کی طرف سے ہے، پس اس کا ماننا اللہ کے حکم کو ماننا اور اس کا انکار اس کے حکم و ارشاد کا انکار ہوگا جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 51:52

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان سے پہلوں کے پاس بھی جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ ایک جادوگر ہے یا دیوانہ

[ 53] پیغمبر (علیہ السلام) کے لئے تسکین و تسلی کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح پہلے لوگوں کے پاس بھی جو کوئی رسول آیا ان کے بارے میں بھی ان لوگوں نے یہی کہا کہ یہ جادو گر ہے، یا دیوانہ۔ یعنی جس طرح آج آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ سے یہ سلوک کر رہی ہے، اسی طرح آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، پس نہ تو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے، اور نہ ہی ان لوگوں کا یہ سلوک اور برتاؤ کوئی نئی چیز ہے، پس آپ ﷺ بھی اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ آپ ﷺ سے پہلے کے اولوالعزم رسولوں نے کیا، اور ان لوگوں کے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس مضمون کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ { فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لہم ط کأنھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثوآ الا ساعۃ من نھار ط فہل یہلک الا القوم الفٰسقون } [ الاحقاف : 35 پ 26] پس آج کے یہ منکر بھی اپنے لئے اسی انجام کی انتظار میں رہیں جو کل کے ان منکروں کو پیش آچکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ دوسرا سب کیلئے یکساں ہے، پس ان کو بھی وہی بھگتان بھگتنا پڑے گا جو کل کے وہ منکر بھگت چکے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد میں حضور ﷺ کیلئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعیء حق کیلئے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ راہ حق میں جو مشکلات آج آپ کو پیش آرہی ہیں اور منکرین و مکذبین کی طرف سے جو کچھ آج آپ کو سننا اور برداشت کرنا پڑرہا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز نئی اور انوکھی نہیں، بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے، لہٰذا آپ بھی اسی طرح صبر و ضبط سے کام لیں جس طرح کہ آپ سے پہلے کے ان حضرات نے لیا۔ سو راہ حق و ہدایت پر صبر و استقامت ایک اہم اور بنیادی مطلب ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 51:53

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے آپس میں اس بات پر کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا ؟ (نہیں) بلکہ یہ سب ہی سرکش لوگ ہیں

[ 54] منکرین کے حال پر اظہار تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب استفہام واستعجاب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اس بات پر آپس میں کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا۔ یہ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے، کہ ایسے نہیں ہوا، اور نہ ایسے ہوسکتا ہے کہ ان سب لوگوں نے باہم کوئی سمجھوتہ کرکے ایک ہی بات آپس میں طے کرلی ہو، کہ ان سب کے درمیان تو ہزاروں سال کا فاصلہ اور وقفہ ہے، سو اس کا اصل سبب یہ نہیں، بلکہ وہ ہے جو اس کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے، یعنی ان کی طغیانی اور سرکشی، جس کی بناء پر کل کے وہ منکر بھی نورحق و ہدایت سے محروم رہے اور آج کے یہ منکر و سرکش بھی اس سے محروم ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو سرکشی کی اس بری خصلت کی بناء پر جو کہ آگے کئی برائیوں کا منبع اور ان کی جڑ ہے، سرکش لوگوں نے ہمیشہ حق اور اہل حق کی تکذیب کی اور انہوں نے راہ حق و صواب سے ابحراف کیا، کل کے اور آج کے سرکش سب اس میں شریک ہیں، اور اسی بناء پر انہوں نے دعوت حق کا انکار کیا اور اس سے روگردانی کی اور تکذیب و انکار حق کے جرم کا ارتکاب کیا، جو کہ جرموں کا جرم، اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 55] بغاوت و سرکشی، شر و فساد کی جڑ بنیاد، والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ یہ سب لوگ باغی اور سرکش لوگ تھے۔ یعنی ایسے لوگ جو پھلانگ جاتے ہیں عبدیت و بندگی کی ان حدود کو جو ان کے خالق ومالک نے ان کے لئے مقرر فرما رکھی ہیں۔ اور جو انسان کی طبعیت و فطرت کے عین مطابق، عقل و نقل کا تقاضا، اور اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی ضامن اور کفیل ہیں مگر انہوں نے اپنی سرکشی اور بدبختی کی بناء پر ان کا انکار کیا۔ سو بغاوت و سرکشی خرابیوں کی خرابی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اپنی اس سرکشی کی بناء پر یہ لوگ حق کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہ ہوئے اور انہوں نے حق کا جھٹلا کر اپنے آپ کو دارین کے خسارے میں مبتلا کیا، اور حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کو قبول کرکے اپنے لئے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرنے کی بجائے انہوں نے الٹا ان قدسی صفت ہستیوں کو ساحر اور مجنون کہا اور اس طرح انہوں نے اپنی شقاوت بدبختی کی سیاہی کو اور گہرا اور گاڑھا کردیا۔ اور اس حد تک کہ ان کو اس کا کوئی شعور و احساس ہی نہیں جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے سو اللہ پاک کے رسول پر ایمان اور ان کی اطاعت و اتباع ہی سلامتی کی راہ ہے۔ جب کہ اس سے اعراض و انحراف باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 51:54

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس آپ رخ پھیر لیں ان (کی ان بےہودگیوں اور سرکشیوں) سے اس میں آپ پر کوئی الزام نہیں

[ 56] سرکشوں سے اعراض و رُوگرانی کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے رخ پھیر لیں۔ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا فریضہء تبلیغ پورا کردیا اور بتمام و کمال پورا کردیا اب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کا قصور ہے آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں اور اب اس کے ذمہ دار یہ خود ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور جب حق کی تبلیغ اور پوری طرح توضیح و تشریح کے باوجود یہ لوگ حق کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہے ہیں، تو ان کے پیچھے لگ کر وقت ضائع کرنا اور خود تکلیف اٹھانا درست نہیں، لہٰذا ان سے اعراض و روگردانی ہی بہتر ہے کہ ایسے لوگ اپنے شر اور خبث باطن کی بنا پر اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں پیغام حق و ہدایت کو قبول کرنے والے نہیں کہ عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ آپ کے ذمے تبلیغ حق کا جو فریضہ عائد ہوتا تھا وہ آپ نے پورا کردیا اب آپ پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں۔ اب ہی لوگ اپنے عناد و انکار کی بنا پر وہی لائق سزا اور مستحق عذاب ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے منہ لگنے کی بجائے ان سے اعراض اور کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ الاّیہ کہ انہیں قبول حق کی کوئی رمق اور امید موجود ہو، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین۔
Ayahs 51:55–56

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور (یوں عام) نصیحت کرتے رہو کہ بیشک نصیحت بہرحال فائدہ دیتی ہے ایمان والوں کو

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا اور کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں

[ 57] تذکیر و تبلیغ کے ایک لازمی اور اہم فائدے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کی تذکیر اور یاددہانی کرتے ہیں۔ بیشک نصیحت سے فائدہ پہنچتا ہے ایمان والوں کو۔ کہ جن کے نصیب میں ایمان و یقین کی دولت مقدر ہوگی وہ ایمان لے آئیں گے، اور جو بالفعل ایمان لاچکے ہوں گے ان کے ایمان کو اس سے مزید جلاملے گی، اور ان کو راہ حق و ہدایت پر استحکام اور پختگی نصیب ہوگی، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم تذکیر اور یاددہانی کرتے رہو کہ اس سے اہل ایمان کو بہرحال فائدہ پہنچتا ہے، سرکشوں کے پیچھے پڑنے اور ان سے توقع رکھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قبول حق کی توفیق سے محروم ہوگئے، سو ہٹ دھرم اگر نہیں مانتے تو نہ مانیں کہ ایسے محروم اور بدبخت لوگوں کے دلوں تک حق روشنی پہنچانا کسی کے بس میں نہیں، لیکن جن کے دلوں میں قبول کی صلاحیت موجود ہوگی وہ بہرحال دعوت حق سے مستفید و فیضاب ہوں گے۔ لہٰذا ایسوں کی خاطر آپ حق و ہدایت کی دعوت دیتے اور اس کی تعلیم و تذکیر فرماتے رہیں کہ ان کو اس تعلیم و تلقین سے بہرحال فائدہ پہنچتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، وھو نعم المولیٰ ونعم النصیر، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 51:57

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

نہ تو میں ان سے کوئی روزی چاہتا ہوں اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں

[ 59] بندوں کی اصل ذمہ داری عبادت و بندگیئِ خداوندی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندوں کی اصل ذمہ داری عبادت و بندگیئِ خداوندی ہے۔ چناچہ ارشادد فرمایا گیا کہ نہ میں ان سے کوئی روزی چاہتا ہوں اور نہ ان سے یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں۔ کہ مجھے ان میں سے کسی بھی چیز کی نہ کوئی ضرورت ہے، نہ حاجت۔ پس بندوں کے ذمے میری عبادت ہے اور میرے ذمے ان کی روزی۔ سبحان اللّٰہ !۔ کیسی صاف وصریح اور واضح تقسیم ہے کہ بندے کے ذمے اصل فریضہ اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنا اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانا ہے، اور اس کی روزی کا انتظام اللہ پاک خود فرمائے گا سبحانہ وتعالیٰ لیکن افسوس کہ بندوں کی اکثریت نے آج اپنے اصل فریضہ اور حقیقی ذمہ داری یعنی بندگی و معرفت خداوندی کے فریضہ کو چھوڑ کر روزی کی فکر و تلاش کو اپنا اصل مقصود بنا لیا ہے۔ یعنی معاملہ بالکل الٹا کردیا۔ کہ لوگوں نے رب کی معرفت اور اس کی عبادت بندگی اور اس کے تقاضوں کو بھلا کر اور پس پشت ڈال کر رزق و روزی کی فکر و کوشش کو ہی اپنا مقصد اور نصب العین بنادیا، جس کا نتیجہ ہے کہ آج سب ہی پر یشانیوں درپریشانیوں کا شکار ہیں، الا ما شاء اللّٰہ، سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم تو میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا میں تیرے سینے کو غنی [ دولت مندی ] سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی کو رفع کردوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو میں تیرے سینے کو مشغولیت سے بھردوں گا۔ اور تیری حاجت کو رفع نہیں کروں گا [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
Ayahs 51:58–59

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی سب کو روزی دینے والا بڑی قوت والا انتہائی زور والا ہے

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس ان لوگوں کے لئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے ظلم (و باطل) پر یقینا ایک حصہ ہے جیسا کہ انہی جیسے دوسرے لوگوں کو اپنا حصہ مل چکا ہے لہذا یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں

[ 60] روزی رساں سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے سب کا روزی رساں۔ یعنی متبداء اور خبر چونکہ دونوں معرفہ ہیں۔ اس لئے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا کہ روزی رساں صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کو روزی رساں سمجھنا جائز نہیں۔ مگر کلمہ گو مشرکوں نے اس سب کے باوجود کسی کو داتا بنا رکھا ہے، کسی کو غریب نواز، اور کسی کو سخی سرکار، اور کسی کو کچھ اور وغیرہ وغیرہ، جب کہ قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تصریح کرتی ہیں کہ داتا اور روزی رساں سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو کیا ایسے شرکیہ عقیدے صریح طور پر اس طرح کی نصوص کریمہ سے متصادم اور ان کے معارض ہیں ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی رساں سب کا بہرحال اللہ تعالیٰ ہی ہے، سو حالات کی ظاہری نامساعدت وغیرہ سے کسی کو بددل نہیں ہونا چاہیے، اور کسی طرح کے شک اور شبے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، وہی رزاق حقیقی اور بڑی ہی محکم قوت والا ہے، حالات کی نامساعد اور مخالفوں کی مزاحمت و مخالفت اس کی تدبیروں کو کسی طرح شکست نہیں دے سکتی، وہ ایسے تمام تصورات سے اعلیٰ وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ رزق حقیقی اور سب کا روزی رساں وہی وحدہٗ لاشریک ہے بندے کا کام ہے اپنے اس خالق ومالک کی عبادت و بندگی کا فریضہ بجالانا ہے اور روزی کا ذمہ اس نے خود اپنے ذمے لیا ہے، اور وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں کسی بھی اعتبار سے عاجز نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم ارزقنا التوفیق لما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام۔
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

سو انجام کار بڑی (ہی خرابی اور) ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر ان کے اس دن سے جس سے ان کو ڈرایا (اور خبردار) کیا جا رہا ہے1

[ 26] کافروں کیلئے بڑی ہولناک خرابی، والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما ددی گیا کہ کافروں کے لئے ایک بڑی سخت خرابی اور انتہائی ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ بلکہ اس عذاب سے بچنے کی فکر و سعی کریں قبل اس سے کہ وہ ان کو آدبوچے اور ان کے لئے سنبھلنے اور بچنے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس یہ لوگ اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کافروں کے لئے بڑی سخت خرابی اور انتہائی ہولناک تباہی ہے اور اتنی بڑی اور اس قدر ہولناک کہ کسی کے لئے اپنے طور پر اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ سو اس سے ہر دور کے منکروں کو تنبیہ فرما دی گئی کہ ان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے اس نے بہرحال بالآخر ختم ہو کر رہنا ہے اور وہ انجام ان کے سامنے آکر رہے گا، جس سے ان کو آگاہ اور خبر دار کیا جا رہا ہے۔ کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے اٹل قانون کا تقاضا ہے، سو اس مہلت کو یہ لوگ غیر محدود سمجھ کر اس عذاب کے لئے جلدی نہ کریں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کی بزاکت کو پیش رکھتے ہوئے اس سے بچنے کی فکر کریں، کہ اس سے بچنے کیلئے فکر و کوشش کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے، اور بس، پس حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو بس غنیمت سمجھ کر آخرت کیلئے فکر و کوشش کرنی چاہئے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، وھو نعم المولیٰ ونعم النصیر، جل جلالہ وعم نوالہ، سبحانہ و تعالیٰ واخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین الذی بیدہ ازمۃ کل خیر و سعادہ،