50. Surah Qaaf
قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ مدنی
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader
ہم خوب جانتے ہیں ان تمام باتوں کو جو یہ لوگ بنا رہے ہیں (حق اور اہل حق کے خلاف) اور آپ ﷺ ان پر کوئی جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ نصیحت (و یاددہانی) کرتے رہیں اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو جو ڈرتا ہو میری وعید (اور پکڑ) سے1
[ 65] پیغمبر (علیہ السلام) کے لئے تسلی و تسکین کے سامان کا ذکر و بیان
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں ان سب باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ یعنی حق اور اہل حق کے خلاف۔ اور اسی کے مطابق ہم ہر ایک کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وہی معاملہ کریں گے جس کا وہ مستحق ہوگا، اس لئے یہ لوگ اپنے کیے کرائے کی سزا سے بچ سکیں گے۔ اور آپ کو اجر وثواب بڑھتا ہی چلا جائے گا سو اس میں ایک طرف تو ان کفار و مشرکین کیلئے وعید شدید ہے، جو حق کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں، اور دوسری طرف اس میں آنحضرت ﷺ کیلئے سامان تسلی و تسکین بھی کہ تبلیغ حق کے اس کام میں ان لوگوں کی رخنہ اندازیاں اور ایذاء رسانیاں ہم سے مخفی نہیں ہیں، اس لئے یہ لوگ اپنے کیے کرائے کے بھگتان سے بچ سکیں گے اور اسی طرح اس میں آپ ﷺ کی امت کے ہر داعیء حق کے لئے صبر و استقامت کا درس اور تسلی و تسکین کا سامان ہے۔ ﷺ ۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ اوپر آیت نمبر 39 میں ارشاد فرمایا گیا تھا { فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب } کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر آپ صبر ہی سے کام لیں کہ صبر ہی اصل میں وسیلہء ظفر ہے، سو یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان باتوں کو خوب جانتے ہیں۔ جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جب ان کو اور ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں تو پھر آپ ﷺ کو اس بارے میں فکر اور غم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا معاملہ ہم پر ہی چھوڑ دو ہم ان سے خوب نبٹ لیں گے اور نہایت عمدہ طریق سے نبٹیں گے۔ آپ صبر کے ساتھ اپنا کام کیے جاؤ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال
[ 66] پیغمبر (علیہ السلام) کا کام انذار و تبلیغ، اور بس :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا کام جو صرف خبردار کرنا اور دعوت دینا ہے، نہ کہ منوا لینا اور راہ حق پر ڈال دینا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ ان پر کوئی جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ کہ ان کو زبردستی مومن بنادیں اور ان سے حق منوا کر چھوڑیں کہ یہ نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ آپ کی ذمہ داری، بلکہ آپ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دیان ہے اور بس، اور وہ آپ ﷺ نے کردیا اور باحسن وجوہ کردیا۔ جس کے بعد آپ ﷺ کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ اس سے آگے نہ تو آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بس میں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کے ذمے صرف تبلیغ حق ہے اور بس۔ ان لوگوں کو راہ راست پر لانا نہ ان کی ذمہ داری ہے اور نہ ان سے اس بارے پرشش ہوگی۔ پس حق کی دعوت دینے کے بعد ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ یہ لوگ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے والعیاذ باللّٰہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
[ 67] خوف خداوندی اصلاح احوال کیلئے اصل اساس :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خوف خداوندی اصلاح احوال کیلئے اصل اصیل اور اساس متین ہے۔ نیز اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم کی تذکیر سے فیضیابی کے لئے خوف خداوندی بنیادی شرط ہے۔ کہ اس پیغام حق و صداقت اور اس کے ذریعے کی جانے والی تنبیہ و تذکیر سے مستفید و فیضاب وہی لوگ ہوتے ہیں، اور وہی ہوسکتے ہیں، جو خوف خداوندی سے سرشار و سرفراز ہوں۔ اور جو بدبخت اس صفت و شان سے عاری و محروم ہوں ﷺ وہ اس نور ہدایت سے مستفید و فیضیاب نہیں ہوسکتے۔ یہاں پر اس اہم بنیادی حقیقت کو ایک مرتبہ پھر واضح فرما دیا گیا کہ وعظ و تذکیر اور نصیحت و یاد دہانی اسی کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید کے ساتھ اور اسی کے ذریعے ہونی چاہئے، یعنی اسی کے مطالب و مضامین لوگوں کو سناتے اور بتاتے جاؤ کہ تبلیغ حق کی اصل اساس و بنیاد یہی ہے، کہ نور حق و ہدایت کے بغیر اندھیرے ہی اندھیرے ہیں، لیکن افسوس کہ آج کے واعظین و مبلغین کی دھواں دھار تقریروں میں اور سب ہی کچھ موجود ہوگا قصے، کہانیاں، لطیفے اور ٹوٹکے اور راگ وغیرہ وغیرہ، مگر قرآن و سنت کی نصوص کریمہ کی روشنی کم ہی کہیں نظر آئے گی۔ الا ما شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔ بہرکیف جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے نہیں ان کو قرآن حکیم کی تعلیم و تذکیر سے فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ ایسے لوگ نرے حیوان، بلکہ اس سے بدتر ہیں۔ جن کے سامنے خواہشات بطن و فرج کی تحصیل کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا، اور یہی ہے خساروں کا خسارہ، اور اس کے سوا کسی اور طرف دکان لگانے کیلئے تیار نہیں ہوتے، تو پھر ان میں قرآن سنت کی روشنی آئے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو ایسوں کیلئے محرومی ہے اور ایسے لوگ اپنی محرومی کے ذمہ دار خود ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔