50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 50:23–24

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا کہ یہ ہے وہ (روزنامچہ) جو میری سپردگی میں تھا (حاضر و) تیار

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ڈال دو جہنم (کی اس دہکتی بھڑکتی آگ) میں ہر کٹے کافر کو جو عناد (اور دشمنی) رکھنے والا تھا (حق اور اہل حق سے)

[ 32] مجرم کی عدالت میں پیشی کے منظر کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر اسکا ساتھی کہے گا کہ یہ ہے جو میرے پاس حاضر و موجود تھا، اور اس قرین [ ساتھی ] سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان پر اس کے اعمال کو ضبط کرنے کے لئے مقرر ہوتا ہے، یہی متبادر بھی ہے، اور یہی حضرت مجاہد وغیرہ کا قول بھی ہے، سو وہ فرشتہ کہے گا کہ یہ ہے وہ شخص جس کی نگرانی کا کام میرے ذمے لگایا گیا تھا، اور یہ ہے اس کا وہ نامہ اعمال جس کی تیاری کا کام مجھے سونپا گیا تھا، جب کہ دوسرا قول اس قرین کے بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شیطان ہے جو ایسے انسان پر مقرر کیا جاتا ہے، جیسا کہ سورة زخرف میں فرمایا گیا { ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہٗ شیطناً فھو لہ قرین } [ الزخرف : 36 پ 25] اس کو زمخشری (رح) نے اختیار کیا ہے اور { قال قرینہٗ ربنا ما اظغیتہُ [ الایۃ ]} سے اس کی تائید ہوتی ہے [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مھاسن وغیرہ ] ۔ جبکہ بعض حضرات اہل علم نے کہا کہ اس قرین سے یہاں پر مراد ان ہی دو فرشتوں میں سے کوئی ایک ہے، جن میں سے ایک سائق کی حیثیت سے اور دوسرا شہید کے طور پر اس کو لے کر عدالت الٰہی میں حاضر ہوگا۔ اور ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں پر قرین سے شیطان مراد لینا صحیح نہیں معلوم ہوتا، کیونکہ شیطان نہ تو کسی کے بارے میں یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوگا کہ یہ میری تحویل میں تھا لو اب حاضر ہے، اور نہ ہی وہ اس دن کسی کو بہکانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے گا، جیسا کہ آگے اس کے اعلان براءت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس سے مجرم کی عدالت الٰہی میں حاضری اور پیشی کا منظر بیان فرمایا گیا ہے تاکہ اس طرح غافل لوگ چونک کر بیدار ہوجائیں اور اس یوم عظیم اور وہاں کی عدالت کریمی کی حاضری کیلئے تیاری کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 50:25

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا اور شک میں ڈالنے والا تھا

[ 33] دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالنے کے حکم و ارشاد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم ہوگا کہ ڈال دو دوزخ میں ہر بڑے ناشکرے، ہٹ دھرم کو جو بھلائی سے روکنے والا تھا۔ یعنی جو لوگوں کو حق و ہدایت اور توحید سے روکتا اور اہل حق سے ورغلاتا، اور اسی طرح وہ اپنے مال کو راہ حق میں خرچ کرنے سے روکتا تھا کہ الخیر کا عموم ان سب ہی امور کو شامل ہے، اور اہل باطل اور گم کردگان راہ حق کا ہمیشہ سے یہی طریقہ ووطیرہ رہا ہے، کہ وہ سادہ لوح عوام کو طرح طرح سے راہ حق سے روکتے، اور اس بارہ ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ اور وہ جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے عام لوگوں کو اہل حق سے روکتے اور ان سے متنفر کرتے ہیں، البتہ ان بدعات و خرافات سے روکنا اس میں داخل نہیں ہوسکتا جن کو اہل بدعت نے دین متین کے نام پر ازخود گھڑ رکھا ہے، اور جن کو فروغ دینے کے لئے یہلوگ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں، کیونکہ وہ خیر نہیں بلکہ وہ شر ہیں، اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں وہ گناہ اور گناہ سے بھی بدتر اور مردود ہیں، اس لئے ان سے روکنا دین کا تقاضا اور اہل ایمان کی ذمہ داری اور ان کا فرض ہے، چناچہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے دین میں کوئی ایسی نئی چیز پیدا کی جو اس میں ثابت نہیں، وباطل و مردود ہے۔ پس اہل بدعت کے بڑوں کا اس آیت کریمہ کے تحت یہ لکھنا کہ جیسے اس زمانے کے وہابیہ امور خیر کو ہزار حیلوں سے روکتے ہیں، الخ سراسر ایک مغالطہ اور نری جہالت یا تجامل عارفانہ بلکہ تحریف ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کیونکہ وہابیہ امور خیر سے نہیں بلکہ وہ ان امور شر اور بدعات سے روکتے اور ان سے منع کرتے ہیں جن کا دین حنیف میں کوئی ثبوت ووجود نہیں۔ اور جن کو نبی معصوم (علیہ السلام) نے اپنی احادیث کریمہ میں ھدم دین یعنی دین کی عمارت کو ڈھا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ان بدعات سے روکنا دین کا تقاضا ہے اور ہر مومن صادق کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے وہ ایسی بدعات کو روکنے اور دین حق کو ان خرافات کی آمیزش سے پاک رکھے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو العزیز الوھاب۔ [ 34] حدود سے تجاوز کرنا دوزخ کا باعث۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو دوزخیوں کی صفات کے ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ جو حدود سے تجاوز کرنے والا اور شک میں پڑا ہوا تھا۔ مریب کے معنی شک میں ڈالنے والے کے بھی آتے ہیں، اور خود شک میں پڑنے والے کے بھی۔ [ محاسن التاویل وغیرہ ] ۔ اور یہ دونوں مفہوم دراصل لازم ملزوم ہیں۔ کیونکہ دوسروں کو شک میں وہی ڈالے گا جو خود شک میں پڑا ہوگا اور جو خود شک کا مریض ہوگا وہ دوسروں کو شک کی بیماری کے سوا اور دے بھی کیا سکتا ہے۔ کہ برتن سے وہی کچھ ٹپکتا جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے۔ " الاناء یترشح بما فیہ " اور یہاں پر شک اور ریب کا ذکر دوسری تمام صفات اور خصال بد کی اصل کی حیثیت سے ہوا ہے، جن کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے، کیونکہ قیامت کے بارے میں شک ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو ناشکرا، معاند، بخیل اور ظلم و زیادتی کرنے والا بنا دیتی ہے۔ یہاں پر ان تمام بیماریوں کے ذکر کے بعد اس اصل بیماری کا پتہ بھی دے دیا ہے جس سے یہ تمام بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر اس ارشاد وبیان سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ جو خدا وند قدوس کے حقوق کا منکر اور معاند ہوگا وہ لازما اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں بھی غاصب اور نہایت بخیل اور کنجوس ہوگا، اور وہ معتدی یعنی حدود تجاوز کرنے والا اور خیر سے دوسروں کو روکنے والا ہوگا، اور " مناع " کے لفظ میں روکنے اور رکنے کے دونوں معنی اور مفہوم پائے جاتے ہیں۔ سو جو لوگ کنجوس اور بخیل ہوتے ہیں وہ خود ہی کنجوس بننے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بخیل اور کنجوس بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس طرح خود ان کی اپنی بخیلی اور کنجوسی پر پردہ پڑا رہے، اور ان کی خود ساختہ اور جھوٹی بڑائی متاثر نہ ہو، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بندوں کے حقوق کے بارے میں بھی غاصب اور نہایت بخیل اور کنجوس ہوگا اور وہ معتدی یعنی حدود سے تجاوز کرنے والا اور خیر کو دوسروں سے روکنے والا ہوگا۔ اور مناع کے لفظ میں روکنے اور کرنے کے دونوں معنی و مفہوم پائے جاتے ہیں۔ اس لئے جو لوگ کنجوس اور بخیل ہوتے ہیں وہ خود ہی بخیل بننے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بخیل اور کنجوس بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ اس طرح ان کی خود اپنی بخیلی اور کنجوسی کا پردہ فاش نہ ہو اور ان کی خود ساختہ اور جھوٹی بڑائی متاثر نہ ہو۔ والعیاذ باللّٰہ۔
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور (فرضی معبود) کو خدا بنا رکھا تھا سو ڈال دو اس کو ایسے نہایت سخت (اور انتہائی ہولناک) عذاب میں

[ 35] شرک، فتنہ و فساد اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو دوزخیوں کی ان تمام صفات خبیثہ اور خصال ذمیمہ کی جڑ بنیاد کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بنا رکھا ہو۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کا کوئی خودساختہ بت ہو یا کوئی زندہ مردہ انسان، یا کوئی فرشتہ و جن، یا کوئی آستانہ و زبر، وغیرہ، غرض جس میں بھی خداوند قدوس کی صفات علیا میں سے کوئی صفت مانی جائے گی اور اس کی کسی بھی طرح پوجاو پکار کی جائے گی، وہ اس میں داخل ہے کہ الہاً کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف شرک کا جرم چونکہ سب سے بڑا اور نہایت ہی خطرناک اور مہلک جرم ہے جو تمام فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اس لیے آخر میں اسلوب بدل کر اس کو خاص اہتمام سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ شرک کا جرم ایسا ہولناک اور مہلک جرم ہے جو دین و اخلاق کی پوری عمارت کو ڈھا دینے والا اور تمام فساد فی الارض کی جڑ بنیاد ہے، اور شرک کے ساتھ قیامت اور آخرت کو ماننا بھی بےاثر اور بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے کیونکہ کوئی شخص اگر اس وہم اور خام خیال میں مبتلا ہو کہ فلاں ہستی خدا کی شریک یا اس کی ایسی چہیتی ہے کہ وہ جو بات چاہے خدا سے منوا سکتی ہے، تو پھر ایسے شخص کیلئے قیامت کا ہونا اور نہ ہونا دونوں برابر ہوجاتے ہیں، وہ اپنے زعم فاسد اور گمان باطل کے مطابق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسی ہستی کو راضی رکھ کر جو چاہے کرسکتا ہے اس کو کسی کی کیا پرواہ ؟ وغیرہ وغیرہ سو یہ سب کچھ بےحقیقت و بےبنیاد ہے۔ اس کی نہ کوئی اصل اور بنیاد ہے اور نہ ہوسکتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اوہام و خرافات کا پلندہ ہے جس میں الجھ کر اور پھنس کر انسان اعلام صالحہ پونجی سے محروم رہ جاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا دوسرا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اس کو (کوئی جبرا) گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی پڑا تھا پرلے درجے کی گمراہی میں

[ 36] دوزخیوں کے حال بد کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دوزخ کے اس انتہائی ہولناک باڑے میں داخل ہونے کے بعد ہر شخص اپنی گمراہی اور اپنے اس ہولناک انجام کا ذمہ اور دوسرے کو قرار دے گا اور اس کا الزام وہ اپنے اس ساتھی شیطان پر رکھ کر خود بری اور بےقصور ہونے کی کوشش کرے گا جو سنت الٰہی اور دستور خداوندی کے مطابق اور اس گمراہ انسان کے خود اپنے اختیار کی بنا پر دنیا میں اس پر مسلط رہا ہوگا تو اس گمراہ شخص کی اس کوشش کے جواب میں اس کا وہ ساتھی اس سے کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ اس نے حق و ہدایت کو اپنانا اور اختیار کرنا چاہا ہو اور میں نے زبردستی اس کو اس سے روک دیا ہو، نہیں ایسا نہ ہوا ہے، اور نہ ہی میں ایسا کرسکتا تھا، بلکہ اس نے خود ہدایت کی بجائے گمراہی کو، اور نور حق کی بجائے اندھے پن کو اپنایا، اور اس طرح یہ ضلالت و گمراہی میں جا پڑا اور یہ اپنی گمراہی کا ذمہ دار خود ہے۔ یہ سو ان بدبختوں کے جہنم کے باڑے میں داخل ہونے کے بعد کا ماجرا بیان ہو رہا ہے، جہاں داخل ہونے کے بعد۔ والعیاذ باللّٰہ۔ ہر کوئی اپنی گمراہی کا الزام شیطان پر تھوپنا چاہے گا، تو اس وقت شیطان اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے یوں کہے گا کہ اے ہمارے رب اس کو میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں پڑا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابلیس گمراہی کی دعوت دینے کے اپنے جرم کا انکار کرے گا۔ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے ان لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کسی زور زبردستی سے کام نہیں لیا کیونکہ ایسا کوئی زور میرے پاس تھا ہی نہیں بلکہ میں نے تو صرف ان کو گمراہی کی دعوت سی جس کو ان لوگوں نے خود اپنے ارادہ و اختیار سے قبول کرلیا۔ تو قصور میرا نہیں بلکہ ان لوگوں کا خود اپنا ہی ہے۔ جیسا کہ پ 13 سورة ابراہیم کی آیت نمبر 22 میں ابلیس لعین کے اس قول وقرار کی تصریح نقل فرمائی گئی ہے { وقال الشیطن لما قضی الامر ان اللّٰہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم ط وما کان لی علیکم من سلطنٍ الا ان دعوتکم فاستجبتم لی ج فلا تلومونی ولوموا انفسکم ط ما انا بمصرخکم وما انتم بمصرخی ط انی کفرت بما اشرکتمون من قبل ط ان الظلمین لہم عذاب الیم۔} والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور شیطان کے ہر مکروفریب سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔ [ 37] انسان کی گمراہی کی ذمہ داری خود اسی پر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ابلیس دوزخی شخص کے اسل الزام کے جواب میں اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہے گا کہ نہیں بلکہ یہ خود ہی پڑا تھا دور کی گمراہی میں۔ جس کی بنا پر اس نے میری دعوت پر فوراً لبیک کہا جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت نمبر 22 میں اس کی پوری منظر کشی فرمائی گئی ہے۔ اوپر حاشیہ نمبر 36 میں ملاحظہ فرمائیں سو ابلیس کہے گا کہ ایسے لوگ دعوت حق کو چھوڑ کر اور دعوت حق سے منہ موڑ کر جو میرے پیچھے چلے تو قصور ان کا اپنا ہے نہ کہ میرا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، اور ضلال بعید کے لفظ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا شخص گمراہی میں اتنا دور نکل تھا تھا کہ اس کیلئے حق کی طرف واپسی اور بازگشت کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا تھا، اور اس کی اصل وجہ ہے اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی اور یہی چیز ہے جو انسان کو طرح طرح کے مہالک میں ڈالتی ہے، پس جو لوگ خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر اپنے آپ کو نیکی کی راہ سے دور کرلیتے ہیں، وہ بالآخر توفیق بدایت سے محروم ہو کر شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں پھر وہی ان کا ساتھی بن جاتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " فھو لہ قرین " یعنی پھر وہی ان کا ہمہ وقتی ساتھی بن جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو حق اور اہل حق کی مجلسوں سے دوری و محرومی باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ، ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ جھگڑا مت کرو میرے حضور یقینا میں نے تم کو پہلے ہی (صاف وصریح طور پر) خبردار کردیا تھا اس انجام بد سے

[ 38] الزام تراشیوں پر حق تعالیٰ کی طرف سے ڈانٹ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان الزام تراشیوں کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے فرمایا جائے گا کہ میرے حضور مت جھگڑو، میں نے یقینا تم کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا۔ اپنے انبیاء و رسل اور دعاۃِ حق کے ذریعے۔ پس اب یہاں لڑنے جھگڑنے سے کچھ فائدہ نہیں کہ اب یہ وقت نہ ماننے کا وقت ہے، نہ جھگڑنے کا، ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہی ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس وقت کے اس جھگڑنے کا قطعی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور ان سے صاف کہہ دیا جائے گا کہ تمہاری اس توتکار اور الزام بازی سے نہ کسی کو اس کی گمراہی کی ذمہ داری سے بری قرار دیا جاسکتا ہے، اور نہ اس سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے، میں نے اپنی وعید سے ہر کسی کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، اس وجہ سے سب پر حجت تمام ہوچکی ہے، اس لئے اب تم اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنے کیلئے تیار ہوجاؤ اب تمہارے لئے بچنے اور خلاصی پانے کی بہرحال کوئی صورت ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو قرآن حکیم نے ان غیبی حقائق سے اتنی صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اس قدر پیشگی خبر دار کردیا ہے مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں پڑی ہے، الا ماشاء اللّٰہ، والعیاذ باللّٰہ،
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے یہاں نہ بات بدلی جاتی ہے اور نہ ہی میں کوئی ظلم کرنے والا ہوں اپنے بندوں پر

[ 39] اللہ تعالیٰ کی بات بدل نہیں سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو حق تعالیٰ کی طرف سے اس بارے میں مزید ارشاد فرمایا جائے گا کہ میرے یہاں بات نہیں بدلی جاتی۔ کہ گنہگاروں کو اپنے اپنے گناہوں کے مطابق، اور کفار و مشرکین کو دائمی طور پر دوزخ کے عذاب میں رہنا ہوگا، اور یہ سب کچھ میں نے تم لوگوں کو دنیا میں پیشگی بتادیا تھا، جب کہ وہاں پر تم کو فرصت عمر میسر تھی، اور پوری صراحت و وضاحت سے بتادیا تھا مگر تم لوگوں نے نہ مانا، سو اب چکھو مزہ اپنے کیے کرائے گا، والعیاذ باللّٰہ، لہٰذا اب تمارے ایک دوسرے پر الزام دھرنے یا رونے دھونے سے نہ کچھ فرق پڑسکتا ہے اور نہ کوئی بھگتان سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی میری بات بدلی جاسکتی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی وعیدیں سب قطعی اور اٹل ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، [ 40] اللہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور نہ میں ظلم کرنے والا ہوں اپنے بندوں پر۔ کہ کسی کو بغیر جرم کے، یا اس کے جرم سے زیادہ سزا دے دوں، یا کسی کو کسی دوسرے کے جرم میں پکڑلوں۔ سو ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوگی۔ بلکہ میں تو اپنے بندوں کے ساتھ عدل و انصاف، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فضل و کرم اور مہربانی و عنایت کا معاملہ کرتا ہوں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہاں پر لغت عرب کا وہ معروف اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے جس کی مثالیں اس سے پہلے بھی مختلف مقامات پر گزر چکی ہیں کہ جب مبالغہ پر نفی آتی ہے تو اس سے مبالغہ فی النفی مقصود ہوتا ہے، سو اس اعتبار سے اس ارشاد کے معنی یہ ہوں گے کہ میں اپنے بندوں پر ذرا برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { ان اللّٰہ لایظلم مثقال ذرۃٍ ج وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجراً عظیما۔} [ النسائ : 40 پ 5] " بیشک اللہ ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا " اور جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا۔ { ان اللّٰہ لا یظلم الناس شیئاً ولکن الناس انفسھم یظلمون } [ یونس : 44 پ 11] یعنی یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جانور پر خود ظلم کرتے ہیں اور اس واہب مطلق جل جلالہ کے یہاں کسی ظلم اور بےانصافی کا کیا سوال۔ اس کی عنایت اور نوازش کا تو یہ عالم ہے کہ اگر کوئی نیکی ہوگی تو وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر وثواب سے نوازے گا اور اپنی طرف سے اس کو بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا جیسا کہ سورة نساء کی آیت نمبر 40 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

(لوگو ! یاد کرو اس ہولناک دن کو کہ) جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ تو وہ کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟1

[ 41] دوزخ کی وسعت و پہنائی کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے کہ کیا تو بھرگئی ہے ؟ تو وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟ سو اس سے اس دوزخ کی بےپناہ عظمت و وسعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، کہ اولاد آدم میں سے اتنی لاتعداد دنیا کو اپنے اندر لے لینے کے باوجود وہ " ہل من مزید " [ کچھ اور بھی ہے ] کی صدالگا رہی ہوگی، جیسا کہ صحیح بخاوی ومسلم وغیرہ کی صحیح احادیث میں وارد ہے کہ پھر حق تعالیٰ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس میں اپنا قدم رکھیں گے، جس سے وہ سمٹ اور سکڑ کر رہ جائیگی اور کہے گی قط قط [ بس بس ] یعنی اب گنجائش نہیں [ ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، مراغی، جامع وغیرہ ] ۔ رہ گئی حضرت حق جل مجدہ کے قدم رکھنے کی حقیقت اور کیفیت، تو اس کو ہم یہاں نہیں جان سکتے کہ یہ غیب کے ان عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق میں سے ہے جن کا ادراک و احاطہ ہمارے بس سے باہر ہے، پس ان کو بلاتحدید و تکبیف ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ یہ نصوص سے ثابت ہیں اور یہی کہا جائے کہ جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے، یہی راہ ہے سلامتی کی اور یہی طریقہ ہے اسلاف کرام کا، اور دوزخ سے حضرت حق جل مجدہ، کا یہ سوال بیان واقعہ بھی ہوسکتا ہے اور صورت حال کی تصویرو تعبیر بھی۔ کیونکہ اللہ پاک " سبحانہ وتعالیٰ " نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں وہ سب اسی شان کی مالک ہی کہ اپنے خالق ومالک " سبحانہ وتعالیٰ " کے سوالوں کو سمجھتی بھی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتی ہیں اور وہ قادر مطلق اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے ان چیزوں کو گویا کردے اور صامت کو ناطق بنا دے، جیسا کہ انسانی اعضاء وجوارح کے قیامت کے روز بولنے اور گواہی دینے کا ذکر خود قرآن پاک میں آیا ہے۔ { وقالوا لجلودھم لہم شھدتم علینا ط قالوا انطقنا اللّٰہ الذی انطق کل شیئٍ وھو خلقکم اول مرۃٍ والیہ ترجعون } [ حٰمٓ السجدہ : 21] بہرکیف اس سے دوزخ کی وسعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ،
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور قریب کردیا جائے گا (اس روز) جنت کو پرہیزگاروں کے (اور اس قدر کہ) وہ ان سے کچھ بھی دور نہ ہوگی

[ 42] متقیوں کے اکرام کے ایک عظیم الشان مظہر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لئے ایک خاص اکرام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جنت کو قریب کردیا جائے گا پرہیزگاروں کے۔ یعنی ان کے اکرام و اعزاز کے طور پر، اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے، کہ ان حضرات کو اس کے قریب پہنچا دیا جائے گا۔ جیسا کہ مثلاً کہا جاتا ہے کہ اب دبئی قریب آگئی ہے۔ حالانکہ قریب آنے والا خود وہ شخص ہوتا ہے، آرہا ہوتا ہے، نہ کہ دبی۔ بہرحال جو بھی ہو جنت کو پرہیزگاروں کے قریب کردیا جائے گا اور اتنا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کا باعث بن سکے، اور وہ اس کی نعمتوں سے بآسانی مستفید و فیض یاب ہو سکیں، اور اس کے لیے ان کو کسی سفر وغیرہ کی کوئی مشقت نہ برداشت کرنی پڑے۔ اللہم شرفنا بھذا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف یہ اہل جنت کے انعام و اکرام کا ایک خاص مظہر ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ 43. جنت کے قرب کے لیے تاکید مزید کا ذکر وبیان سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ان کے اس قدر قریب کردیا جائے گا کہ وہ ان سے کچھ بھی دور نہ ہوگی یہ بطور تاکید فرمایا گیا جیسا کہ کہا جاتا ہے عزیز غیر ذلیل اور عسیر غیر یسیر وغیرہ اور اس تاکید سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ کسی کو جنت کے قریب لانے کے الفاظ سے یہ شبہ نہ ہو کہ وہ کہیں بہت دور ہے جہاں اس کو قریب لانا پڑے گا جس میں کچھ دیر لگے گی اور کوئی وقفہ درکار ہوگا سو ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ کہیں دور نہیں بلکہ قریب ہی ہوگی لیکن اہل جنت کی عزت افزائی کے لیے اس کو مزید قریب کردیا جائے گا اللہ نصیب فرمائے آمین، سو غیر بعید کا یہ ارشاد الجنہ سے حال واقع ہوا ہے سو اہل جنت کی تشریف و تکریم کے لیے جنت کو ان کے لیے ایک پیشکش کے طور پر ان کے قریب لایا جائے گا پس یہ اہل جنت کے لیے ایک خاص عظیم الشان انعام و اکرام ہوگا جس سے ان کو نوازا جائے گا اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

(اور ان سے کہا جائے گا ان کے سرور کو دوبالا کرنے کے لئے کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع رہنے والا اور بڑا پابندی کرنے والا تھا

[ 44] ۔ اہل جنت کی صفت اوابیت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا ہوگا یعنی یہ کرم و عنایت کسی ذات پات، یا شکل وصورت اور رنگ ونسل وغیرہ پر موقوف نہیں بلکہ یہ انعام و اکرام ہر اس شخص کے لیے ہے جس میں یہ اور یہ صفتیں پائی جاتی ہوں، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، کسی بھی رنگ ونسل اور شکل وصورت کا مالک ہو، کہ مدارو انحصار ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے۔ اللھم وفقنا لما تحب وترضی۔ سو اوابیت یعنی اپنے رب کی طرف رجوع رہنے اور ہمیشہ اس کی رضاء خوشنودی کو پیش نظر رکھنے کی صفت سب سے اہم اولین اور ایک عظیم الشان صفت ہے اسی لیے یہاں پر اس کو سب سے پہلے سب سے مقدم ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔ [ 45] اہل جنت کی دوسری صفت حدود خداوندی کی حفاظت و پابندی، باللّٰہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو بڑا پابندی کرنے والا ہوگا۔ یعنی اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع رہنے والا اور اس کی رضا و خوشنودی کی طلب و تلاش میں اس کی مقرر فرمودہ حرمتوں اور حدوں کی پاسداری کا خیال رکھنے والا۔ اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں کی حفاظت کرنے والا، کہ حفیظ کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنا، اور اس کی مقرر کردہ حدود وقیود کی پابندی کرنا دو بڑی اہم صفات ہیں، اور ان دونوں صفتوں میں پہلی کا تعلق اور اصل انسان کے قلب و باطن سے ہے، اور دوسری کا اس کے عمل و کردار سے۔ اگر انسان کا دل زندہ و بیدار ہو تو وہ زندگی کے تمام ہنگاموں کے اندر کسی بھی وقت کسی ایسی غفلت یا سرکشی کا شکار نہیں ہوتا کہ اس کو خدا وند قدوس کے محارم اور اس کی حدود کا کوئی خیال نہ رہے، اور وہ ان کو توڑتاڑ کر رکھ دے، اور نفس و شیطان کی اکساہٹوں کی بنا پر اگر اس سے کبھی کوئی تجاوز سرزد ہو بھی جائے تو اس کا دل فوراً متنبہ ہوجاتا ہے اور وہ فورا توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رویے کی اصلاح اور تدارک و تلافی مافات کرلیتا ہے۔ سو ان دو لفظوں کے ذریعے مومن صادق کے ظاہر و باطن دونوں کا حال بیان فرما دیا گیا ہے۔ فالحمدللّٰہ جل وعلا ،
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو ڈرتا رہتا تھا (خدائے) رحمان سے بن دیکھے اور وہ حاضر ہوا (اپنے رب کے حضور) دل گرویدہ کے ساتھ

[ 46] اہل جنت کی تیسری بڑی اور خاص صفت خوف و خشیت خداوندی، وباللہ التوفیق : سو نعیم جنت سے سرفراز ہونے والے ان خوش نصیبوں کی یہاں پر تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ جو بن دیکھے ڈرتا رہا رحمن سے۔ یعنی خدائے رحمن سے۔ یعنی خدائے رحمن کو اس نے دیکھا نہیں لیکن اپنے ایمان و یقین کی بنا پر وہ اس سے ڈرتا رہا کہ وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے اور اس کی مجھ سے کوئی نافرمانی نہ ہوجائے۔ سو وہ اس سے تنہائی میں بھی ڈرتا رہا۔ جب کوئی اس کو دیکھتا نہیں کہ خدائے رحمن مجھے دیکھ رہا ہے، اس لئے اس سے میرا معاملہ صحیح ہو، اور وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے، کہ اس کا حق سب سے مقدم اور سب سے بالا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو جس طرح قیامت کے بارے میں شک اور شرک ام الامراض ہے۔ اسی طرح ایمان و یقین اور خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنا تمام خوبیوں کی اساس و بنیاد ہے۔ چناچہ اوپر مستحقین دوزخ کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ قیامت کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں انہوں نے دوسرے فرضی، وہمی اور مصنوعی و خود ساختہ سہارے اپنا رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے انجام اور اپنی آخرت کے بارے میں نچنت اور بےفکر ہوگئے۔ اور اس طرح وہ ہاویہء جہنم کی طرف بڑھتے چلے گئے، اس کے مقابلے میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس طرح کے کسی وہم میں مبتلا ہو کر اپنے انجام اور اپنی آخرت سے نچنت اور بےفکر نہیں ہوئے بلکہ وہ ہمیشہ خدائے رحمان سے ڈرتے رہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، [ 47] اہل جنت کی چوتھی بڑی صفت قلب منیب سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور وہ حاضر ہوا قلب منیب کے ساتھ۔ یعنی ایسے دل کے ساتھ جو ہر وقت اپنے خالق ومالک کے حضور جھکا رہتا تھا، [ صفوۃ، مراغی وغیرہ ] سو مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی بناء پر ہمیشہ اپنے خالق ومالک کے حضور جھکا رہتا ہے۔ اہل جنت دوزخ اور ان کی صفات وخصال کے ذکر وبیان کے ضمن میں خدائے پاک کی صفت رحمت کا ذکر ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کی صفت رحمانیت اور حیمیت کا تقاضا ہے کہ قیامت قائم ہو، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، ورنہ خیر وشر اور نیکی و بدی یکساں قرار پائیں گی جو اس کی صفت رحمت و حکمت کے منافی ہے، پس روز جزاء کا آنا لازمی اور خدائے رحمان و رحیم کی شان رحمت اور اس کی صفت عدل وحکمت کا تقاضا ہے تاکہ ان لوگوں کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی پوری جزا ملے جنہوں نے اس دنیا میں ایک اواب اور حفیظ انسان کی زندگی گزاری ہوگی، اور ان لوگوں کو پوری سزا ملے جنہوں نے کفار اور عنید بن کر زندگی گزاری ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اہل جنت کی صفت خود وخشیت خداوندی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ چونکہ انہوں نے خدوندقدوس کے سوا کوئی اور سہارا نہیں تلاش کیا تھا، بلکہ اپنے دل کا تعلق اسی سے رکھا اور ہمیشہ اسی سے ڈرتے رہے تھے۔ اس لیے وہ اپنے رب کے حضور ایسے قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے جس کی ساری توجہ اپنے رب ہی کی طرف رہی۔ اس لیے ان کی ساری امیدیں اسی وحدہٗ لاشریک سے وابستہ تھیں اور کسی سے انہوں نے کبھی لو نہیں لگائی۔ سو انابت اور رجوع الی اللہ اصل اساس و بنیاد ہے اصلاح احوال کی، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو العزیز الوھاب،
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

(سو ایسوں کو ارشاد ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ تم اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ یہ ہے ہمیشہ رہنے (اور حیات ابدی سے سرفراز ہونے) کا دن

[ 48] اہل جنت کیلئے دخول جنت کے اذن و ارشاد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاؤ تم لوگ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ کہ نہ اس میں تمہیں کوئی تکلیف و ایذا پہنچے، اور نہ کبھی اس سے نکالے جاؤ۔ اور جہاں تم اپنے رب اور اس کے فرشتوں کی طرف سے سلام اور دعا کی دلنواز و روح پرور صدائیں بھی سنتے رہو گے، اور تمہیں ہر طرح کی اور ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی نسیب و میسر ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ سو ان کو اس ابدی بادشاہی سے نوازا جائے گا جس میں ان کیلئے نہ ماضی کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ۔ ان سے وہ بادشاہی نہ کبھی چھینی جائے گا اور نہ اس میں کوئی رخنہ پیدا ہوگا۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ مستحقین جنت کو دخول جنت کے اذن و ارشاد سے اس صراحت و وضاحت کیساتھ نوازا جائے گا اور اسی بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ { ادخلوھا بسلام امنین } [ الحجر : 46] یعنی داخل ہوجاؤ تم لوگ اس جنت میں پورے امن و سلامتی کے ساتھ بغیر کسی فکر و اندیشہ کے، کہ وہ گھر ہے ہی من و سلامتی کا گھر [ دارالسلام ] اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔ [ 49] اہل جنت کے لئے ابدی بادشاہی کے اعلان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر کہا جائے گا کہ یہ ہے ہمیشگی کا دن جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ سو اب اس کے بعد نہ فنا وزوال نہ موت و محرومی۔ نہ وہاں سے خروج و انتقال، سو اس جنت سے سرفرازی ہی اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ جس کے مقابلے میں دوسری کوئی کامیابی سرے سے ہی نہیں، اور عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اسی کو اپنے پیش نظر رکھے۔ اور اسی کیلئے محنت اور عمل کرے اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس موقع پر اہل جنت کے لیے ان کے سرور کو دوبالا کرنے کے لیے یہ اعلان و ارشاد فرمایا جائے گا کہ یہ ہے اس ابدی بادشاہی کا وہ وعدہ جو تم لوگوں سے تمہاری دنیاوی زندگی میں کیا جاتا تھا۔ اب اس کے عطاء کیے جانے کا وقت آگیا ہے۔ پس اب یہ بادشاہی تم لوگوں سے کبھی چھینی نہیں جائے گی بلکہ تمہیں اس میں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا، اور نہ ہی اس میں کبھی کوئی رخنہ پیدا ہوگا۔ تو کیا اس جیسی دوسری کسی نعمت اور سرفرازی و کامیابی کا کبھی کوئی تصور بھی کیا جاسکتا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصد اور نصب العین بنایا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس (ان کے لئے) اس سے بھی زیادہ بہت کچھ موجود ہوگا

[ 50] اہل جنت کی ہر خواہش کی تکمیل کی بشارت کا ذکر وبیان : سو یہ اہل جنت کیلئے ارشاد کیلئے ایک منفرد اور بےمثال انعام ہوگا کہ ان کی وہاں پر ہر خواہش پوری ہوگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ سبحان اللّٰہ ! جنت کی یہ نعمت ہر جنتی کو نصیب ہوگی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دنیا ساری ہی کی آخرت اور جنت کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جس شخص کا ایمان و یقین اس جنت پر ہوگا اس کے سامنے یہ دنیا چیز ہی کیا ہے ؟ جس کیلئے ابناء دنیا لڑلڑ کر مرتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی یہ عظیم الشان و بےمثال دولت اور عدیم النظیر نعمت، انسان کو حیوانیت محضہ کے گڑھے سے اٹھا کر کس قدر بلند مقام سے سرفراز کردیتی ہے اور اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ اور ایمان و یقین کی اس دولت کی بنا پر وہ کسی قدر عظیم المرتبت اور رفیع الشان انسان بن جاتا ہے۔ فالحمدللہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ العظمی والمنۃ الکبری بمحض منہٖ وکرمہٖ والاحسان، فثبتنا اللّٰہم علیہا ولا نزع قلوبنا بعد اذھدیتنا، وخذنا بنواصینا الی ما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو جنت اور اس کے باسیوں کی اس عظمت شان کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ کسی قدر محروم اور کتنے بدبخت ہیں جو اس دین حنیف سے محروم، اور اس جنت سے منہ موڑ کر صرف دنیائے فانی ہی کے لئے جیتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں اور اس طرح وہ کتنے بڑے خسارے میں مبتلا ہو رہے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، [ 51] اہل جنت کے لئے انعام مزید کے اعلان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے پاس ان کیلئے اور بھی بہت کچھ ہوگا۔ یعنی جو کچھ یہ خود وہاں چاہیں گے۔ اس سے بھی کہیں بڑھ کر وہاں ان کے لئے وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوا۔ " مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر " جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { للذین احسنوا الحسنی وزیادۃٌ ط ولا یرھق وجوہہم قترولاذلۃ ط اولئک اصحب الجنۃ ج ہم فیہا خلدون } [ یونس : 26 پ 11] یعنی ان کیلئے سب سے بڑی اچھائی بھی ہوگی اور اس سے بھی زیادہ، اور ان میں سب سے بڑھ کر نعمت اللہ پاک کی زیارت اور اس کی رضا و خوشنودی کی نعمت ہوگی، جو ان سب نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وعد اللّٰہ المؤمنین والمومنت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیہا و مسکین طیبۃ فی جنت عدن ط ورضوان من اللّٰہ اکبر ط ذلک ھو الفوذ العظیم } [ التوبۃ : 72 پ 10] اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہوں گی جن کا اہل جنت کا تصور بھی نہیں ہوگا کہ یہ ان کی خواہش کرسکیں، اس لیے ہم ان کو خواہش کے بغیر ہی ان نعمتوں سے نوازیں گے، اسی حقیقت کی طرف سورة سجدہ کی آیت نمبر 17 میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس میں ارشاد فرمایا گیا { فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین ج جزآئً م بما کانو یعلمون } [ السجدۃ : 17 پ 21] یعنی کوئی شخص جان نہیں سکتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان مخفی رکھا گیا ہے ان کے ان اعمال کے بدلے میں جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے لئے، اللہ نصیب فرمائے اور ایسا اور اس قدر کہ وہ ہم سے راضی ہوجائے، سبحانہ و تعالیٰ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayahs 50:36–37

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ان سے پہلے (ان کے کئے کرائے کی پاداش میں) جو ان (موجودہ کفار) سے کہیں بڑھ کر سخت تھیں (اپنی طاقت و قوت کے اعتبار سے) سو انہوں نے چھان مارا تھا (شہروں) اور ملکوں کو تو کیا (ہماری پکڑ کے وقت) وہ پا سکے کوئی جائے پناہ ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں بڑا بھاری درس عبرت اور (سامان فکر و بصیرت) ہے ہر اس شخص کے لئے جو دل رکھتا ہو یا وہ توجہ کرے (درس عبرت کی طرف) دل لگا کر1

[ 52] تاریخ سے درس عبرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے دور حاضر کے کفار و منکرین کو تاریخ سے سبق لینے کیلئے تنبیہ و تذکیر اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جو دولت اور طاقت کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، اور انہوں نے چھان مارا تھا ملکوں کو۔ اسی لئے انہوں نے اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کر قبول حق سے انکار کردیا اور کہا۔ من اشد مناقو۔ کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ " اور اللہ پاک نے ان کے اس متکبرانہ اور سرکشانہ زعم اور گھمنڈ کے جواب میں وہی ارشاد فرمایا { اولم یرو ان اللّٰہ الذی خلقہم ھو اشد قوۃ } یعنی کیا ان لوگوں نے اس حقیقت میں غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا فرمایا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ پاک نے اپنے قانون امہال کے مطابق ان کو ایک زمانے تک ڈھیل دی، مگر آخر کار ان سب کو تباہ کردیا، سو انکار اور تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت اور تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس اس میں دورحاضر کے کفار و منکرین کیلئے بڑا درس عبرت اور ان کیلئے بڑی تنبیہ و تذکیر ہے کہ یہ اپنی روش کی اصلاح کرلیں اور اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کے جرم سے باز آجائیں ورنہ آخر کار انکار حشر بھی وہی ہوگا جو کل کے ان منکرین و مکذبین کا ہوچکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ [ 53] اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی بےپناہی کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا تو کیا وہ لوگ پاس کے کوئی جائے پنا ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر بچو تم لوگ اے دورحاضر کے منکرو، اس طرز عمل سے جو ان لوگوں نے اپنایا تھا، تاکہ تم بچ سکو اس انجام و بال سے جس سے وہ لوگ دو چار ہوئے کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ { وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ ط ان اخذہٗ الیم شدید } [ ھود : 102 پ 12] پھر ان ہلاک شدہ اقوام و امم میں سے کچھ کی تو جڑ کٹ گئی اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے مٹ گئیں۔ جیسے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ اور کچھ تتر بتر ہو کر ختم ہوگئیں۔ جیسے قوم سبا اور قوم فرعون وغیرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو انکار و تکذیب حق کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت اور تباہی ہوتا ہے، اور اللہ پاک کسی ایسی ظالم قوم کو جب پکڑتا ہے تو پھر اس کے لیے نہ کوئی پناہ گاہ ممکن ہوسکتی ہے، اور نہ کسی طرف بھاگ نکلنے کی کوئی صورت بلکہ وہ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہو کر رہتی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی اس ساری کائنات کو چھ دنوں (کی مدت) میں اور ہمیں چھوا تک نہیں کسی قسم کی تکان نے

[ 56] تخلیق کائنات کے چھ دنوں سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کو چھ دنوں میں۔ پس اس سے تم لوگ ہماری قدرت لامحدود کا اندازہ کرسکتے ہو۔ اے عقل و خرد رکھنے والو ! اور چھ دنوں سے یہاں پر مراد خدائی چھ دن ہیں، یعنی وہ مختلف ادوار جن کی حقیقت کا احاطہ اللہ پاک ہی کرسکتا ہے۔ اور وہ اس کے بعد بھی اپنی مخلوق میں جو چاہے اضافہ فرماتا رہتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { ویزیدُ فی الخلق ما یشائ } اس کی قدرت کی کرشمہ سازیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں کہ اس کی شان { کل یومٍ ھو فی شان } کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور چھ دنوں کی اس قید کے ذکر اس اہتمام کو اجاگر کرنا مقصود ہے جو اس کائنات کی تخلیق میں کارفرما رہا ہے، سو نہ تو اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق بیکار اور بےمقصد ہوسکتی ہے، اور نہ ہی یہ کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہوسکتی ہے، بلکہ حکمتوں اور عبرتوں بھرا یہ کارخانہء قدرت ایک نہایت ہی با مقصد کارخانہ ہے اور اس کے بامقصد اور مخلوق بالحق ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا یوم فصل و جزاء آئے جس میں اس کائنات کے مخدوم حضرت انسان کے کیے کرائے کا حساب و کتاب اس کی جزاء و سزا اور اس کا فیصلہ ہوتا کہ اس طرح اس کائنات کی تخلیق کی غایت تحقیق ہوسکے۔ سو وہی دن یوم قیامت کا وہ یوم عظیم ہے جس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے۔ ورنہ یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ زمین و آسمان کی یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز تو انسان کے بھلے اور اس کی خدمت میں لگی ہو مگر خود اس کا وجود بےمقصد ہو ؟ اور یہ اسی طرح مرکھپ کر یونہی ختم ہوجائے ؟ سو ایسے نہ ہے نہ ہوسکتا ہے کہ یہ حکمتوں بھری اس کائنات کے وجود اور اس کی تخلیق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ فتعلی اللّٰہ الملک الحق عما یقولون علوا کبیرا۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ حمدا کثیرا، [ 57] اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : کہ زمین و آسمان کے اتنے بڑے کارخانہ قدرت و حکمت کی تخلیق سے اس کو کسی یہود بےبہبود کے اس عقیدہ باطلہ کی تردید ہے کہ اللہ پاک نے اتوار کے دن سے تخلیق کا یہ کار عظیم شروع کیا اور جمعہ تک چھ دنوں میں اس کائنات کو مکمل فرما دیا اور پھر ساتویں روز یعنی ہفتے کے دن آرام فرمایا، اسی لئے ہفتے کے دن کو یہ لوگ آرام کا دن " یوم الراحۃ " قرار دیتے ہیں۔ [ المراغی، المحاسن، اور جامع البیان وغیرہ ] سو تھکان کا لاحق ہونا اور آرام کرنا اس کی شان کے شایان نہیں۔ یہ مخلوق کی صفات و عوارض میں سے ہے۔ اور وہ وحدہٗ لاشریک ایسے تمام تصورات سے پاک اور بالا ہے سبحانہ وتعالیٰ ، سو اس سے یہ درس عظیم دیا گیا کہ جس طرح ہم اس کو پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز و قاصر نہیں رہے اسی طرح اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے بھی عاجز اور قاصر نہیں رہیں گے، اور جس طرح ہم تخلیق اول کے موقع پر تازہ دم تھے اسی طرح اب بھی تازہ دم ہیں۔ کیونکہ وہاں کسی قسم کی تھکاوٹ، تکان، جیسے بشری عوارض کا کوئی سوال و امکان نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں (اے پیغمبر ! ) ان تمام باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں (حق اور اہل حق کے خلاف) اور تسبیح کرتے رہو اپنے رب کی حمد (و ثنا) کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے بھی اور اس کے چھپنے سے پہلے بھی

[ 58] راہ حق میں سبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے پیغمبر کو اور ان کے واسطے سے ان کی امت کے داعی حق کو راہ حق میں صبر و ضبط کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے { فاصبر } میں فاء تفریعیہ ہے یعنی جب خداوند قدوس کی قدرت لامتناہیہ کا عالم یہ ہے، تو پھر یہ مکذبین اس کی پکڑ اور سزا سے کیونکر بچ سکتے ہیں ؟ پس آپ اے پیغمبر ! ان کو دکھ دہ اور دلآزار باتوں پر صبر و برداشت ہی سے کام لیتے رہیں، کہ آپ ﷺ بہرحال حق پر ہیں اور ان ناہنجاروں سے خدائے پاک خود ہی نپٹ لے گا۔ { فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث ط سنستدرجھم من حیث لا یعلمون } [ القلم : 44 پ 29] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ دنیا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر اہتمام کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اس نے لازماً اپنی غایت اور انتہا کو پہنچ کر رہنا ہے، مگر جو لوگ دل کے اندھے ہیں وہ اس کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے، وہ اس حقیقت کو اسی وقت مانیں گے جب کہ یہ اس سب کچھ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس بناء پر یہ منکر اس بارے میں طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ پس ان کے مقابلے میں صبر و برداشت ہی سے کام لیں یہاں تک کہ یہ اس حقیقت اور اپنے انجام کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور ان کیلئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، اس وقت یہ اپنے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پوری طرح اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق پاکر رہیں گے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، [ 59] صبر و ثبات سے سرفرازی کا طریقہ۔ تسبیح وتحمید : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر و ثبات کا ذریعہ و وسیلہ رب کی تسبیح وتحمید ہے۔ اسی لئے صبر و ثبات کے حصول کا طریقہ تعلیم فرمایا گیا ہے کہ سب تسبیح کرتے رہو اپنے رب کی حمد وثناء کے ساتھ سورج کے نکلنے سے پہلے بھی، اور اس کے ڈوبنے سے پہلے بھی۔ سو اس میں فجر ظہر اور عصر کی تین نمازوں کی طرف اشارہ ہوگیا اور { ومن اللیل } " رات کے کچھ حصے میں بھی " کے ضمن میں مغرب و عشاء کی طرف اور { وادبار السجود } میں نفل نمازوں کی طرف اشارہ ہوگیا [ قالہ ابن عباس، تفسیر المراغی ] سو اس سے معلوم ہوا کہ اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کی تسبیح وتحمید اور خاص کر نمازوں کے بعد کی تسبیح وتحمید کا صبر و برداشت کے حصول اور تحمل شاق میں خاص اثر ہے، اور پھر ان دونوں میں سے تسبیح میں تنزیہیہ کا پہلو غالب ہے اور تحمید میں اثبات کا۔ یعنی وہ ہر قسم کے نقص و عیب اور ہر قسم کے شائبہ شرک سے پاک اور بری ہے اور تحمید میں یہ پہلو غالب کہ وہ ہر خوبی و کمال کا مالک اور اس سے موصوف و متصف ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اور ادبار جمع ہے وبر کی، جس کے معنی پیچھے کے آتے ہیں یعنی نمازوں کے بعد بھی اس کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو ان خاص اوقات میں پڑھی جاتی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے حصول صبر کی تدبیر تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ اس کیلئے زیادہ سے زیادہ نمازوں اور اس کے ساتھ گہرے تعلق ہی سے صبر سے سرفرازی نصیب ہوسکتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { واصبر وما صبرک الا باللّٰہ ولا تحزن علیہم ولا تک فی ضیق مما یمکرون } [ النحل : 127 پ 14] وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور (اس کے حضور) سجدہ ریزیوں کے بعد بھی2

[ 60] نمازوں کے بعد بھی تسبیح وتحمید کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور سجدوں کے بعد بھی۔ " ادبار " جمع ہے " دبر " کی جس کے معنی پیچھے کے آتے ہیں۔ یعنی نمازوں کے بعد اس کی تسبیح کیا کرو، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس کی حدیث میں نمازوں کے بعد اس کی تسبیح کے بارے میں مروی ہے کہ تینتیس مرتبہ " سبحان اللّٰہ " تینتیس مرتبہ " الحمدللّٰہ " اور تینتیس مرتبہ " اللہ اکبر " کہے اور اس کے بعد ایک مرتبہ " لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہٗ لہٗ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شیء قدیر " پڑھے اور اس کے ثوب کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس شخص کے گناہ معاف کردیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، سبحان اللّٰہ، کہا کہنے ذکر خداوندی کی عظمتوں، برکتوں اور ان کی رحمتوں و عنایتوں کے، فسبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ جل و علا عدد خلقہ ورضا نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہٖ ۔ اور اسی طرح نفل نماز بھی اسی میں داخل ہے [ محاسن التاویل وغیرہ ] بہرکیف اس سے حصول قوت و صبر کے اس ذریعہ و وسیلہ کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ جس سے داعی حق سرفراز ہوتا ہے۔ سو راہ حق میں اس کو کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات پیش آئیں وہ اس روحانی قوت کے سہارے راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو الھادی الی سواء السبیل،
Ayahs 50:41–42

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور کان لگا کر سنو (حال اس دن کا) جس دن کہ پکارے گا پکارنے والا ایسی جگہ سے جو (ہر شخص کے) بالکل قریب ہی ہوگی

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن کہ سب لوگ سنیں گے (آواز آہ حشر کی) اس ہولناک آواز کو یہ دن ہوگا (مردوں کے) نکلنے کا (ان کی قبروں سے)

[ 61] قیامت کیلئے چوکنا رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کان لگائے رکھو اس ہولناک دن کی طرف جس دن کہ پکارے گا پکارنے والا ایک قریب ہی کی جگہ سے۔ یعنی اس ہولناک وہیبت ناک آواز کی خصوصیت اور شان یہ ہوگی کہ وہ ندا وپکار ہر شخص کو اس طرح معلوم و محسوس ہوگی کہ جس طرح اس کے بالکل ہی قریب سے دی جا رہی ہے، سو آج تو ان غافل اور منکر لوگوں کو یہ باتیں دور کی اور نہایت بعید ازقیاس معلوم ہوتی ہیں لیکن اس دن ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ گویا اس کو اس کے کانوں ہی میں پکارا جا رہا ہے، اور اس منادی [ پکارنے والے ] سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر { ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید } کے الفاظ سے ہوچکا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ بدبخت لوگ اگر آج اس عظیم ساعت سے نچنت اور بےفکر ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ تم ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس سے ظہور کی انتظار ہی میں رہو۔ کہ وہ پتہ نہیں کب آپہنچتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح زلزلہ اثانک آپہنچتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ زلزلہ ایک محدود و پیمان پر اور اسی مخصوص علاقے پر آتا ہے لیکن قیامت کا وہ زلزلہء کبری پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے " والعیاذ باللّٰہ العظیم " سو ایک عاقل انسان کو قیامت کے بارے میں جس طرح فکر مند اور چوکنا رہنا چاہئے اس آیت کریمہ میں اس کی تصویر پیش فرما دی گئی لیکن افسوس کہ دنیا پھر بھی اس سے غافل و لاپرواہ ہے۔ الا ماشا اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق بخشے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔
Ayahs 50:43–44

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بلاشبہ زندگی بھی ہم ہی بخشتے ہیں اور موت بھی ہم ہی دیتے ہیں اور آخرکار ہماری ہی طرف لوٹنا ہے (سب کو)

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جس دن کہ پھٹ پڑے گی زمین ان (مردوں) سے (اور یہ نکلتے ہی) دوڑے جا رہے ہوں گے (میدان حشر کی طرف) یہ جمع کرنا ہمارے لئے بہت آسان ہے

[ 62] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہء تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی زندگی بخشتے اور موت دیتے ہیں۔ پس زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ ہی کی صفت و شان ہے اور معاملہ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی بھی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھان کہ وہ مارسکتا ہے یا جلا سکتا ہے، شرک ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جس طرح آج کل کے کئی کلمہ گو مشرکوں کا کہنا یہ شرک ہے کہ اس میں اللہ کی اس خاص صفت کو اس کے بندوں میں مانا گیا ہے، اور یہی شرک ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد سے اس خروج کی دلیل بیان فرما دی گئی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور یہ ایک ایسی قطعی اور مشاہد و موجود حقیقت ہے کہ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا، تو پھر ان منکرین کو ازسر نو دوبارہ پیدا کرنا اور ان کو زندہ کرکے اٹھا دینا آخر ہمارے لئے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ عام قاعدہ اور دستور کے مطابق دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے کی بنسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یعنی عام مخلوق کے اعتبار سے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے کہیں اعلیٰ وارفع ہے۔ کہ اس کی شان تو " کن فیکون " کی شان ہے۔ [ 63] سب کا رجوع بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار لوٹنا سب کو ہماری ہی طرف ہے۔ پس جس طرح تمہاری زندگی اور موت تمہارے قبضہ میں نہیں، ہمارے اختیار میں ہے، اسی طرح تمہارا مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا اور ہمارے حضور حاضری دینا بھی ایک قطعی اور یقینی امر ہے اور یہ ہمارے ہی قبضہء قدرت و اختیار میں ہے، تم لوگ اس میں مجبور محض ہو تمہارا اس میں کوئی بھی اختیار نہیں۔ پس ہم جب چاہیں گے تم کو دوبارہ زندہ کرکے کھڑا کردیں گے۔ الامرللہ وبیدہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آخر سب کی سب واپسی بہرحال ہماری ہی طرف ہوگی، پس جو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہی نہیں، اور ہماری واپسی ہوگی ہی نہیں، بلکہ ہم یوں ہی مرکھپ کر ختم ہوجائیں گے، یا یہ کہ ان کے واپسی ان کے مذعومہ شرکاء وشفعاء میں سے کسی کی طرف ہوگی، اور وہ انکا کام بنادیں گے، یا یہ کسی اور جان میں ظاہر ہوں گے، وغیرہ وغیرہ تو یہ سب باتیں محض مغالطے اور بالکل بےبنیاد ڈھکو سلے ہیں۔ سو ایسے مغالطے اپنے ذہنوں سے نکال کر راہ حق و ہدایت کو اپنالیں، قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللّٰہ۔