Ayah 48:24[ 56] حدیبیہ والوں کیلئے ایک اور انعام و احسان خداوندی کا ذکر وبیان :
سو اس سے حدیبیہ والوں کے لئے ایک اور انعام اور احسان خداوندی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ [ قادر مطلق جل جلالہ ] وہی ہے جس نے روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ کی وادی میں اس کے بعد کہ اس نے تم لوگوں کو نواز دیا تھا ان کے مقابلے میں فتح اور کامیابی سے۔ یعنی جب کہ مشرکین کے اسی آدمی چپکے سے گھات لگا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے والے تھے تو وہ سب مسلمانوں کے ہاتھوں پکڑ لئے گئے، اور انہوں نے ان کو پکڑ کر سیدھا لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت کیں پیش کردیا تو آپ ﷺ نے ان کی رہائی کا حکم دے دیا، اور یہی تقاضا تھا آپ ﷺ کے کریمانہ اخلاق اور اس وقت کے حالات کا، تاکہ جنگ کی آگ نہ بھڑکنے پائے، اور صلح اور اس کے آثار وثمرات متاثر نہ ہونے پائیں، اور اس طرح جنگ کی نوبت نہ آسکی جو کہ تدبیر الٰہی کا ایک مظہر اور کرشمہ تھا، اگرچہ اللہ نے تم کو ان پر غلبہ دے دیا تھا، اگر جنگ ہوتی تو ان کو منہ کی کھانی پڑتی لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوا کہ اس موقع پر جنگ نہ ہو، اس لیے اس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا، اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا، اور حدیبیہ چونکہ بالکل مکہ کے دامن میں واقع ہے اس لیے اس کو بطن مکہ سے تعبیر فرمایا گیا۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے اس جوش و جذبہ کی اطلاع ہوئی جس کا اظہار انہوں نے اللہ کے رسولوں کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے کیا تھا تو ان کے اعصاب ڈھیلے پڑگئے جس کے نتیجے میں انہوں نے فوراً وفد بھیج کر صلح کی بات چیت شروع کردی اگرچہ اس وفد نے اپنی آن رکھنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن اندر سے وہ لوگ کھوکھلے ہوگئے تھے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہوگئی تھی کہ اب ون لوگوں کے اندر مسلمانوں سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کا دم خم موجود نہیں۔ چناچہ انہوں نے یہ بات تسلیم کرلی کہ اگلے سال مسلمان آکر بیت اللہ کا طواف پوری آزادی سے کرسکتے ہیں اور جب وہ آئیں گے تو یہ تین دن کیلئے مکہ خالی کردیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے اور مسلمان اپنی مرضی سے عمرہ ادا کرلیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
[ 57] اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ پوری طرح دیکھ رہا تھا تمہارے سب کاموں کو۔ اسی لئے اس نے تم کو ان کفار سے محفوظ رکھا، یہ محض اس کی رحمت و عنایت تھی اور اسی بناء پر وہ تم کو آخرت کی دائمی نعمتوں سے بھی نوازے گا، پس ہمیشہ اس وحدہ لاشریک سے اپنا معاملہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے، فکن اللّٰہم لنا ولا تکن علینا وانصرنا ولا تنصر علینا فانک ربنا الرحمن الغفور الرحیم ونحن عبادک الضعفاء والمساکین بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خود دیکھ رہا تھا اور تمہارے حالات کا خود جائز لے رہا تھا، اس لیے جو کچھ ہوا وہ سب اس کی رحمت و حکمت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوا، اور اسی میں تمہاری بہتری تھی اور ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لیے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کو خود یکھ رہا ہے تو پھر تمہیں کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ پس تم ہمیشہ اسی پر بھروسہ کرو اور ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرو، اور دوسری طرف اس میں کفار و مشرکین کے لیے تہدید وتحذیر بھی ہے کہ تمہارے کرتوت اللہ تعالیٰ سے مخفی و مستور نہیں۔ تم لوگوں کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 48:25[ 58] کفار قریش کے بعض سنگین جرائم کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مسلمانوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہی [ بدبخت ] لوگ ہیں جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر [ وباطل ] پر، اور انہوں نے روکا تم لوگوں کو مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو بھی ان کی جگہ پہنچنے سے، سو اس سے کفار قریش کے ان سنگین جرائم کو واضح فرمایا گیا۔ انہوں نے کفر کیا اور تم لوگوں کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو ان کی قربان گاہ تک پہنچنے سے روکا۔ سو ایسے کفار و مشرکین اپنے کئے کرائے کی بناء پر فوری سزا کے مستحق تھے، کہ وہ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، مگر اللہ پاک نے اپنی بےانتہا حکمت اور لامحدود حلم کی بناء پر ان کو فوری طور پر نہیں پکڑا، بلکہ ان کو مہلت پر مہلت دی۔ سبحانہ وتعالیٰ ، سو کفار قریش کے یہ جرائم جن کا ارتکاب انہوں نے کیا اگرچہ بڑے سنگین تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر بھی ڈھیل پر ڈھیل ہی دی، تاکہ جس نے سنبھلنا ہو سنبھل جائے نہیں تو اپنے انجام کو پہنچ کر رہے گا۔ سو اس میں ایک خاص حکمت اور اہم مصلحت وہ تھی جس کا ذکر اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 59] جنگ سے بچاؤ کی اصل حکمت کا ذکر وبیان :
سو اس جنگ سے بچاؤ اور اس کی نوبت نہ آنے دینے کی حکمت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ ان کے درمیان ایسے ایماندار مرد اور عورتیں موجود تھے جن کو تم لوگ نہیں جانتے تھے۔ سو ان ایماندار مردوں اور عورتوں کی وجہ سے ان کفار و مشرکین مکہ کو کچھ اور ڈھیل مل گئی، ورنہ ان کو فوری ہی دھرلیا جاتا، سو مومن صادق کا وجود خیر و برکت کا ذریعہ ہوتا ہے، جس کی خیر و برکت سے اس کے قرب و جوار کے کفار و منکرین بھی مستفید و فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اگرچہ ان کو اس کا احساس و اعتراض نہ ہو، جس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے، سو کفار قریش کی زیادتیاں اگرچہ کھلی ہوئی اور بڑی سنگین تھیں، مگر قدرت کی حکمت و عنایت کا تقاضا یہ ہوا کہ مسلمان بھی ان کے خلاف تلوار اٹھائیں، جن میں بڑی حکمت یہ تھی کہ ان کے درمیان ایسے ایماندار مرد اور عورتیں موجود تھیں جن کا علم مسلمانوں کو نہیں تھا، اسلئے ایسے میں اگر حملہ ہوتا تو کفار و اشرار کے ساتھ اور ان کے ضمن میں یہ سچے مسلمان بھی اس حملے کی زد میں آجاتے، جس سے ان پر حرف آتا اور ان پر الزام عائد ہوتا اور دشمنوں کو ان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور زہر پھیلانے کا موقع ملتا۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے خاص اور مخلص بندوں کی حفاظت کا انتظام فرمایا اور ان کو محفوظ رکھا، سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 60] ایمان والوں کی حفاظت و عنایت کا ذکر وبیان :
سو اس سے مسلمانوں کو اعتراض و الزام سے بچانے کی حکمت و مصلحت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے میں مسلمانوں پر الزام عائد ہوتا کہ اس صورت میں تمہارے دشمن تمہارے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتے کہ یہ لوگ تو اپنے ہم عقیدہ اور ہم مذہب لوگوں کے قتل و قتال سے بھی نہیں چوکتے، اور اس طرح کفار و مشرکین کو تمہارے خلاف سخت پروپیگنڈا کرنے اور زہر پھیلانے کا ایک موقع مل جاتا۔ مگر اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے تم کو اس سے بچا لیا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی کس طرح حفاظت کرتا اور ان کو اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے، سو بندوں کی بہتری اور بھلائی کا راز اسی امر میں مضمر ہے کہ وہ اپنا تعلق اور معاملہ اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ صحیح رکھیں، اور اپنے جملہ معاملات اسی کے حوالے کردیں، وہی سب کا حامی و ناصر اور کارساز و کار فرما ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، بہرکیف اس سے اس موقع پر جنگ کی نوبت نہ آنے دینے کی ایک مصلحت و حکمت کو ذکر فرمایا گیا ہے کہ اس وقت تک وہاں پر مسلمان مرد بھی موجود تھے اور عورتیں بھی۔ سو ایسے میں اگر جنگ ہوجاتی اور مسلمان کافروں کو رگیدتے ہوئے وہاں داخل ہوجاتے تو وہاں رہنے والے وہ مسلمان بھی اس کی زد میں آجاتے جس سے حملہ کرنے والے ان مسلمانوں کو صدمہ اور افسوس الگ ہوتا۔ سو ایمان کی دولت انسان کی حفاظت و پناہ کیلئے عظیم الشان ذریعہ و وسیلہ ہے، والحمدللّٰہ جل وعلا۔ بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
[ 61] مسلمانوں کا وجود باعث خیر وبرکت، والحمدللّٰہ جل وعلا :
سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کا وجود باعث خیرو برکت ہے کہ انہی کی موجودگی کی وجہ سے اس موقع پر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ ورنہ اگر یہ بات ہوتی تو ان کفار کا قصہ چکا دیا جاتا۔ اور ان لوگوں کو اپنے کفر و شرک کی پاداش میں حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا جاتا، سو یہ عبارت لولا کے جواب مقدر کی طرف اشارہ ہے، یعنی اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ تم بےعلمی کی وجہ سے مکہ میں موجود ان مسلمانوں کے قتل کے مرتکب ہو کر موردالزام ہوجاؤ گے، جو وہاں پر مشرکین کے ساتھ رہتے تھے، تو ہم تمہارے ہاتھ ان مشرکین کے قتال سے نہ روکتے اور تمہیں ان پر مسلط کرکے ان کا کام تمام کردیتے، مگر ان مظلوم و بےکس مسلمانوں کی رعایت سے اور ان کی پامالی کے خطرہ و خدشہ کی بناء پر ایسے نہیں کیا، سو مسلمان کا وجود ایسا رحمت کا وجود ہے کہ اس کا فائدہ کفار کو بھی پہنچتا ہے، اگرچہ کفار و مشرکین کو اس کا پاس لحاظ اور اس کا اعتراف و اقرار نہ ہو، لیکن افسوس کہ آج پوری دنیائے کفر و شرک مسلمانوں کے اسی وجود خیر و برکت کو مٹانے کے درپے ہے، اور ان کا جرم و قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور بس، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرمائے اور ظالموں اور کافروں کو ہدایت سے اور جن کے نصیب میں ہدایت نہیں خدا ان کا بیڑا غرق کرے۔ آمین ثم آمین۔ اللّٰہم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذبک من شرورھم اللّٰہم خذھم اخذ عزیز مقتدر، وانزل بھم باسک الذی لا تردہ عن القوم المجرمین یا ذا الجلال والاکرام۔ اللہ ایمان والوں کو ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور اعداء کے شروروفتن کو خود ان کی ہلاکت و تباہی کا ذریعہ بنائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 62] جنگ کو ٹالنے کی دوسری حکمت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ داخل فرمائے اپنی رحمت میں جس کو چاہے۔ سو یہ اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے تقاضوں میں سے ایک ہے کہ ان کفار کو ان کے سنگین جرائم کے باوجود فوری طور پر ہلاک کرنے کی بجائے اس نے ان کو مزید مہلت دی، تاکہ وہ ایمان لاکر خدائے پاک کی رحمت میں داخل ہو سکیں، فسبحان اللّٰہ ما اعظم شانہٗ وما اجل رحمتہ وعنائیۃ وما اوسع حلمہٗ وکرمہ جل وعلا بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ قریش کو خون ریز جنگ میں شکست دلوا کر ان کا خاتمہ کردیا جائے، اور اس طرح یہ ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر ہوجائیں، کہ یہ بات اس کی رحمت بےپایاں کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی، بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو ابھی کچھ اور مہلت دی جائے، اور ان کو چاروں طرف سے گھیر کر اس طرح بےبس کردیا جائے کہ یہ کسی مزاحمت کے بغیر مغلوب ہوجائیں، اور اسلام کے حظیرہ ئِ قدس میں داخل ہو کر اس کی رحمت بےپایاں سے مشرف ہوجائیں، اور ہمیشہ کے لئے عذاب سے بچ جائیں، چناچہ ایسے ہی ہوا اور یہ لوگ صرف دو سال کے قلیل عرصے میں فتح مکہ کے موقع پر ایمان لا کر حضرت حق جل مجدہٗ کی رحمت بیکراں کی آغوش میں آگئے، والحمد للہ رب العالمین، سو جنگ کی نوبت نہ آنے دینے کی یہ دوسری حکمت اور مصلحت تھی جس کو یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔
[ 63] مسلمانوں کی موجودگی عذاب الیم سے بچاؤ کا ذریعہ، والحمدللّٰہ جل وعلا :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ مسلمان الگ ہوگئے ہوتے تو کافروں کا یقینا ایک بڑا ہی دردناک عذاب پہنچ کر رہتا۔ اور اس طرح آخرت کے اصل اور دائمی عذاب سے پہلے ان کو اسی دنیا میں ایسے عذاب کا مزہ چکھا دیا جاتا جس کے مختلف شکلیں ہوسکتی تھی۔ والعیاذ باللّٰہ من کل نوعٍ من انواع العذاب۔ سو مسلمان کا وجود رحمت کا وجود ہے جس کی وجہ سے اہل کفر و باطل بھی بسا اوقات عذاب الیم سے محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ یہ توحید خداوندی اور دین حق کا امین و پاسدار اور اس کا حامل و علمبردار ہے، جبکہ باقی تمام دنیا اس متاع گرانمایہ سے محروم ہے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، اس آیت کریمہ سے واضح طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی ایسی قوم سے جنگ کرنی پڑجائے جن کے اندر مسلمان بھی رہتے ہوں تو ان کو حتی الامکان یہ کوشش کرنی ہوگی کہ ان کے حملے سے ان مسلمانوں کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے البتہ دشمن اس سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے مثلاً وہ ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہے یا خود مسلمان کسی وطنی عصبیت یا دینوی اور مادی مصلحت کی بنا پر مسلمانوں سے لڑنے کیلئے آکھڑے ہوں تو ایسے حالات میں اسلام اور ملت اسلامیہ کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا اگرچہ اس سے مسلمانوں کے کسی گروہ کو نقصان بھی پہنچ جائے کہ ملت کا اجتماعی مفاد بہرحال مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 48:26[ 64] کافروں کی حمیت جاہلیہ کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب کفار اڑگئے تھے اپنی حمیت جاہلیہ پر، کہ اگر ہم نے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اس مرتبہ مکہ میں داخل ہونے دے دیا تو اس سے ہماری ناک کٹ جائے گی، روایات کے مطابق انہوں نے لات اور عُزَّی کی قسمیں کھا کر کہا کہ ہم ان کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، سو یہ بڑا نازک موقع تھا جس سے مسلمان فوری طور پر سخت اشتعال میں آسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی، جس کے نتیجے میں کوئی اشتعال انگیز نہیں پیدا ہوئی۔ بہرکیف کفار اپنی حمیت جاہلیہ ہی پر اڑے رہے حالانکہ ان پر یہ حقیقت واضح تھی کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی عمرہ ادا کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں جنگ کا آپ کا نہ کوئی ارادہ و پروگرام ہے اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی سامان حرب و ضرب آپ کے پاس ہے، لیکن اس سب کے باوجود ان لوگوں نے آپ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس کے حضور اپنے ہمراہ لائی ہوئی قربانیوں کو پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔ جو کہ یہ کافروں کی حمیت جاہلیہ اور عناد اور ہٹ دھرمی کی ایک بدترین مثال تھی، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
[ 65] اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں پر انزال سکینت کے انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے سکون و اطمینان کی کیفیت اتار دی اپنے رسول اور اہل ایمان پر جس سے ان کے دل مطمئن ہوگئے اور انہوں نے جواباً اس طرح کی کسی حمیت [ اڑ ] کو نہیں اپنایا، ورنہ جنگ اور تباہی کے شرارے بھڑک اٹھتے، اور نہ ہی انہوں نے اللہ پاک کے کسی حکم سے سرتابی کی، اور اس کے نتیجے میں اللہ پاک کی خاص رحمتوں نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا، اور ان کو صلح حدیبیہ کے نام سے ہونے والی اس عظیم الشان فتح سے نواز دیا، جو کہ فتح مبین اور آئندہ کی عظیم الشان فتوحات کیلئے اساس و بنیاد تھی، سو اہل ایمان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت و اتباع ہی ہے، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ " انزال سکنیت " اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت و عنایت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور حضرات صحابہء کرام کو بطور خاص نوازا تھا، فالحمدللہ رب العالمین بکل حال من الاحوال،
[ 66] حضور ﷺ کے ساتھیوں پر کلمہء تقویٰ کو لازم کردینے کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے پکا کردیا ان پر تقویٰ اور پرہیزگاری کی بات کو۔ یعنی کلمہء توحید کو جو کہ علامت و اظہار ہے دل کے اس ایمان و یقین، اور صدق و اخلاص کا جس پر تقویٰ و طہارت اور اعمال کی پوری عمارت استوار ہوتی ہے اور جس پر اللہ پاک تقویٰ و پرہیزگاری کو جمادے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوسکتی، پس صحابہء کرام کا ایمان و اخلاق اور تقویٰ و طہارت ہمیشہ کے لئے ثابت اور پکا ہے، اس کے علیحدہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں، لہٰذا جو کوئی ان کے ایمان وتقویٰ میں کیڑے نکالے گا، اور عیب لگائے گا، اس کا اپنا ایمان وتقویٰ باقی نہیں رہ سکے گا، والعیاذ باللہ اور اسی ایمان وتقویٰ کا نتیجہ و ثمر تھا کہ وہ حضرات ایسے نازک اور پُر خطر حالات میں بھی کسی قسم کے اشتعال میں آئے بغیر راہ حق و صواب پر قائم اور مستقیم رہے، اور ابلیس اور اس کے ایجنٹوں کی طرف سے جب بھی وسوسہ اندازی کی جاتی تو وہ اس کے مقابلے میں اس طرح کہہ کر اپنی رضا اور اطمینان کا اظہار کردیتے، اور اس طرح یہ وفا شعار اپنی صداقت کا اعلان و اظہار کردیتے، رضیت باللّٰہ وبا و بمحمد رسولا وبالاسلام دینا، یعنی میں راضی ہوں اللہ کے رب ہونے پر اور محمد کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔ پس سب کا رب اور معبود حقیقی اللہ وحدہٰ لاشریک ہی ہے جو کہ اس پوری کائنات کا خالق اور اس کا مالک حقیقی ہے، اور اس کے سچے اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ اس کے نبی اور رسول ہیں اور سچا دین اسلام ہی ہے جس کے بغیر وصول الی اللہ کے لیے کوئی دوسرا راستہ ممکن ہی نہیں۔ سو سچے مومن کے لیے یہی سچا ایمان اور پختہ یقین ڈھارس اور اصل قوت ہے جس کے بعد اس کیلئے نہ کوئی ناکامی ہے، اور نہ کسی بات کی کوئی پرواہ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اسی پر ثابت قدم رکھے اور زیغ و ضلال اور کجی و انحراف کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 67] صحابہء کرام کلمہء تقویٰ کے سب سے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اس کے لائق اور سب سے زیادہ حق دار بھی تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں۔ اسی لیے اس نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور اس کے دین کی خدمت کے لیے چنا تھا، اور ان کو صحابیت کے شرف عظیم سے مشرف فرمایا تھا، اور ان کو ؓ عنھم و رضواعنہ، کے اس منفرد اور عظیم الشان اعزاز سے نوازا تھا جو نہ اور کسی کو ملا نہ مل سکتا ہے، اور چونکہ یہ حضرات اس کے اہل اور حق دار تھے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نازک اور کٹھن حالات میں بھی راہ حق و صواب پر استوار اور ثابت قدم رکھا، سو کلمہء تقویٰ پر استقامت ہر مدعی کو حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ انہی خوش نصیبوں کو حاصل ہوتی ہے جو اس کے حق دار اور اہل ہوتے ہیں اور حضرات صحابہء کرام چونکہ اس کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل تھے اور انہوں نے اپنے عمل و کردار اور راہ حق میں اپنے ثبات و استقامت سے اپنے آپ کو اس کا اہل اور حق دار ہونا ثابت کیا تھا۔ اس لیے قدرت نے ان کو اس شرف عظیم سے نوازا تھا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا جو اپنے ایمان کی قدر کرتے ہیں اور ہر قسم کے حالات میں راہ حق و صواب پر ثابت قدم رہنے کی کوشش رکھتے ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 68] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے کوئی بھی چیز اور اس کا کوئی بھی پہلو اس سے مخفی و مستور نہیں رہ سکتا۔ اس لئے وہ ٹھیک ٹھیک جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے، اور اسی کے مطابق وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ فرماتا ہے جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ اپنے بندوں اور ان کے احوال و کو ائف سے بیخبر نہیں ہوسکتا، اور وہ ان آزمائشوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ ہوتا ہے جن میں ان کو ڈالا جاتا ہے، اور ان جذبات و احساسات سے بھی آگاہ ہوتا ہے جو ان کے اندر موجزن و کار فرما ہوتے ہیں، اسی کے مطابق وہ ان سے معاملہ فرماتا ہے، پس اللہ کے جو بندے اپنے اس فرض کو پوری طرح سے نبھاتے اور ادا کرتے ہیں جو ان سے مطلوب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ ہر مرحلے اور ہر موڑ پر وہ ان کی مدد کرتا اور ان کی کارسازی فرماتا ہے۔
Ayah 48:27[ 69] پیغمبر (علیہ السلام) کے خواب کی صداقت و حقانیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ پاک نے سچا خواب دکھایا تھا اپنے رسول ﷺ کو۔ جو اس نے تمہارے بیت اللہ میں داخل ہونے اور اپنے بالوں کو منڈوانے اور کٹوانے سے متعلق ان کو دکھا یا تھا، صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مسلمانوں کو اپنے اس سفر سے بظاہر بےمراد واپس کیوں لوٹنا پڑا ؟ تو اس سوال کے جواب میں صلح حدیبیہ کی مندرجہ بالا مصلحتیں بیان فرمائی گئیں، اور اب آخر میں پیغمبر ﷺ کے اس خواب کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو جو خواب دکھایا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا، اس کے مبنی برحق ہونے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں جیسا کہ اگلے حاشیے میں بھی آرہا ہے، پس وہ رؤیا [ خواب ] بالکل حق اور صدق تھا خواب پریشان کے قسم کی کوئی چیز نہیں تھی، بلکہ بالکل مبنی برحق تھا۔ سو بالحق کے کلمہء کریمہ سے اس کی صداقت و حقانیت کو مؤخر فرما دیا گیا۔ پس اتنی بات ہوئی کہ وہ خواب اس سالپورا نہیں ہوا جس میں کئی حکمتیں اور مصلحتیں تھیں جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر والی آیت کریمات میں فرمایا گیا ہے، اور سب کا ادراک و احاطہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ وہی وحدہٰ لاشریک ہے جس کا علم بھی کامل ہے اور اس کی قدرت و حکمت اور رحمت عنایت بھی کامل و شامل ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سال اہل ایمان کیلئے عمرہ کی راہ اچھی طرح ہموار کردی گئی۔ تاکہ آئندہ سال جب مسلمان آئیں تو ان کو کوئی خوف اور خطرہ درپیش نہ ہو، اور وہ پورے اطمینان سے عمرہ کریں۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 70] صحابہء کرام ؓ کو دخول بیت اللہ کی بشارت :
سو ارزاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ضرور بالضرور داخل ہوؤگے مسجد حرام میں، جب نبی (علیہ السلام) اور مسلمانوں کو صلح کے بعد حدیبیہ سے ہی واپس چلنا پڑا، تو بعض حضرات کے دل میں اس طرح کے شکوک پیدا ہونے لگے کہ حضور ﷺ کے اس خواب کا کیا ہوا، جو آپ ﷺ نے دخول بیت اللہ اور ادائیگی عمرہ کی خوشخبری سے متعلق سنا تھا، چناچہ ان میں سے کچھ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ یہ خواب اسی سال پورا ہوگا ؟ عرض کیا گیا نہیں، یہ تو آپ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میرا خواب ضرور پورا ہو کر رہے گا چناچہ اگلے سال یعنی سات ہجری میں یہ پورا ہو کر رہا، سو صلح حدیبیہ اور ادائیگی عمرہ سے اس پورے قصے سے اہل بدعت کے ان تمام شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے جو وہ پیغمبر ﷺ کے عالم الغیب، حاضر و ناظر، اور مختار کل ہونے کے بارے میں رکھتے ہیں، کہ یہ واقعہ ان سب کی مکمل اور واضح تردید کرتا ہے ھداھم اللّٰہ الی الحق والصواب بہرکیف حضرات صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیم اجمعین کو مسجد میں داخلے کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ انشاء اللہ ضرور بالضرور داخل ہوؤگے مسجد حرام میں پورے امن و سکون اور اطمینان کے ساتھ اس حال میں کہ تم میں کچھ نے اپنے سروں کو منڈوا رکھا ہوگا اور کچھ نے اپنے بالوں کو چھوٹا کروا کر رکھا ہوگا۔ حلق و قصر میں سے اگرچہ افضلیت حلق ہی کیلئے ہے لیکن اجازت چونکہ قصر کی بھی ہے اس لیے یہاں پر ذکر ان دونوں کا فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ جماعت ان دونوں ہی قسم کے زائرین پر مشتمل ہوگی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے کچھ لوگوں نے حلق کر ارکھا ہوگا اور کچھ نے قصر پھر تخلیق یعنی منڈھوانے کے مقدم ذکر کرنے سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے اور اسی بات کی مختلف احادیث میں تصریح فرمائی گئی ہے۔
[ 71] التوائے عمرہ کی بعض مصلحتوں کی طرف اشارہ :
سو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کے علم کے کمال اور اس کے شمول کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ کچھ جانتا تھا جو تم لوگ نہیں جانتے تھے۔ یعنی وہ اسرار و رموز اور حکمتیں جن میں سے کچھ کا ذکر یہاں ہوا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ہیں جس کا ادراک اللہ پاک کے فضل وکرم سے اور عقل و فکر کے صحیح استعمال سے کیا جاسکتا ہے، اور جن کا بیان بڑی بسط کا متقاضی ہے اور اس کے علاوہ اور بھی وہ جن کا علم و احاطہ اللہ پاک ہی کو ہے، کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے وان اللّٰہ قد احاط بکل شیئٍ علما پس مومن کا کام ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول برحق کے ارشادات و فرامین پر مطمئن رہے، کہ دارین کی سعادت و سرخروئی بہرحال اللہ اور اس کے رسول کی سچی پکی اطاعت و فرمانبرداری ہی میں محصور و منحصر ہے۔ فاباک نسال اللّٰہم التوفیق لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو التواء عمرہ میں جو مصلحتیں مضمر تھیں ان کو تم لوگ نہیں جانتے تھے، لیکن اللہ کے علم میں وہ سب موجود تھیں اس لیے تم لوگ اس سال عمرہ نہیں کرسکے، لیکن حدیبیہ کی اس صلح کی بناء پر تم لوگ اگلے سال پورے اطمینان اور امن و سکون کے ساتھ عمرہ کروگے، اور تم اپنے سروں کے بالوں کو کٹوائے اور مونڈھوائے مسجد حرام میں داخل ہوؤگے، پس یہ التواء اس خواب کے خلاف نہیں ہوا، بلکہ یہ اس کی تمہید کی حیثیت رکھتا ہے، تاکہ اس کی بنا پر تم لوگ اگلے سال پورے امن و سکون کے ساتھ عمرہ ادا کرو اور تمہیں کسی قسم کا کوئی خوف و خطرہ اور خدشہ و اندیشہ نہ ہو۔ فالحمد للّٰہ الذی احاط بکل شیء علما۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 72] فتح قریب کی نوازش کا ذکر، اور اس سے مقصود و مراد ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے تم کو نواز دیا اس سے پہلے ایک قریبی فتح سے۔ یعنی صلح حدیبیہ سے جو کہ اصل میں فتح مبین تھی اور اس کے کچھ ہی بعد فتح خیبر سے بھی نوازا [ المراغی، الجامع وغیرہ ] ۔ سو یہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ایک انعام تھا جس سے حضرات صحابہء کرام ؓ کو ان کی اس بےمثال جان نثاری و فداکاری پر نوازا گیا، جس کا ثبوت انہوں نے حدیبیہ کے موقع پر دیا تھا، اہل تحقیق صلح حدیبیہ ہی کو اس کا اصل مصداق قرار دیتے ہیں کہ یہی صلح دراصل بعد کی ہر بڑی فتح کی اصل اور اساس تھی، اس لیے اس کو سورة کریمہ کے شروع میں فتح مبین فرمایا گیا، اور یہی فتح قریب فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہوئی، مکہ مکرمہ کی فتح اگرچہ ابھی کچھ دور تھی لیکن صلح حدیبیہ کی اس فتح مبین نے اس کی راہ ہموار کردی تھی۔ اس لیے اس کو فتح قریب سے تعبیر فرمایا گیا کہ گویا اس کے بعد اب وہی اصلی فتح ظاہر ہونے والی ہے جو اگرچہ ابھی ظاہر نہیں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے احاطہء علم وقدرت میں لے رکھا ہے جیسا کہ اوپر اسی سورة کی آیت نمبر 21 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { واخری لم تقدروا علیہا قد احاط اللّٰہ بھا ط وکان اللہ وعلی کل شیء قدیرا } سو اب وہ اتنی قریب ہے کہ اب آیا ہی چاہتی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 48:28[ 73] نعمت دین و ہدایت کی نوازش کا ذکر وبیان :
سو اس سے نعمت دین اور محور حق سے سرفرازی کی نعمت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، اور اسی کے ضمن میں فتح مکہ کی بشارت سے بھی سرفراز فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ جس کی لامحدود حکمت وقدرت اور بےانتہا علم و فضل کے کچھ مظاہر تم دیکھ اور سن چکے ہو، اسی نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کاملہ اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، تاکہ تاقیام قیامت دنیا کے لئے راہ حق و ہدایت کو، تمام و کمال واضح کردیا جائے، سو اب نور ہدایت کاملہ اور دین حق وہی ہے جو اس نبیئِ برحق کے ذریعے دنیا کو عطا فرمایا گیا ہے، اس کے سوا اور کہیں سے بھی حق و ہدایت کی روشنی نہیں نل سکتی، پس جو لوگ اس دین اور اس پیغمبر پر ایمان لانے کے شرف سے محروم ہیں، وہ سراسر اندھیروں میں ہیں، خواہ وہ مادی ترقی کے اعتبار سے کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل گئے ہوں، بہرکیف اس ارشاد میں فتح مکہ کی بشارت کو دوسرے الفاظ میں ذکر فرمایا گیا ہے اس لیے کہ اسی کی فتح پر پورے ملک کے اندر دین حق کے غلبے کا مدارو انحصار تھا۔ چناچہ اس فتح کے حاصل ہوجانے کے بعد وہ تمام ادیان جو وعرب میں موجود تھے سب کے سب اسلام کے آگے سرنگوں ہوگئے۔ اور تھوڑی ہی مدت کے اندر وہ وقت آگیا کہ جب نبی ﷺ نے صاف اور صریح طور پر یہ اعلان فرما دیا کہ اب اس ملک میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے۔ یعنی اب اس میں دین حق اسلام ہی کا غلبہ اور اسی کی حکمرانی ہوگی کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے اور غلبہ اسی کا حق اور اسی کا مقدر ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
[ 74] غلبہ دین حق ہی کی شان اور اسی کا مقدر ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ جس کی یہ اور یہ شانیں بیان ہوئیں اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ غالب کر دے اس کو تمام دینوں پر۔ چناچہ اس سے پہلے کے تمام ادیان منسوخ کر دئیے گئے، اور جہاں بھی کہیں کسی عقیدہ یا عمل کا فساد تھا، اسے واضح کردیا گیا اور اب قیامت تک یہی دین سربلند رہے گا، حجت و برھان کے لحاظ سے تو غلبہ ہے ہی اسی کے لئے، کہ دین حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے، مگر سیاسی اور ظاہری غلبہ بھی اسی کو نصیب ہوگا، جب کہ اس کے حاملین اور پیروکاروں [ مسلمانوں ] کے اندر وہ مطلوبہ صفات پائی جاتی ہوں گی، جن کا اس کام کیلئے پایا جانا ضروری ہے۔ چناچہ اس کا سب سے پہلا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوا، جبکہ خود رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں صحابہء کرام علیہم الرحمۃ والرضوان۔ کی قدسی صفت جماعت کے ہاتھوں مکہ مکرمہ فتح ہوا اور اس مرکز توحید کو بتوں اور شرک کی نجاست سے پاک کردیا گیا، غلبہ و حق تمام و کمال واضح ہوگیا، اور حضور ﷺ نے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا کہ " لا یمحع فیہ دینان " یعنی اب اس میں دو دین جمع نہیں ہوسکیں گے بلکہ ہمیشہ دین حق اسلام ہی کا غلبہ رہے گا چناچہ آج تک یہی ہے کہ اس شبہ جزیرہ میں دین غالب اسلام ہی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک ایسے ہی رہے گا اور اس کے بعد اس حقیقت کا ظہور خلافت راشدہ کے دور خیر و برکت میں ہوا۔ اور پھر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ایک اہم اور واضح حقیقت ہے۔ آج دنیا میں کوئی خطہ ایسا نہیں، جہاں اس دین حق کی برکتیں نہ پہنچی ہوئی ہوں، اور اس کا آوازہ بلند نہ ہو رہا ہو، اور آج جب کہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر ریا ہے واشنگٹن امریکہ میں دس لاکھ کالے لوگوں نے اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو کر اسلام کے حق میں امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ کیا ہے، جس کا غلغہ آج ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین۔ یہاں پر اس ارشاد ربانی میں جیسا کہ اوپر والے حاشیے میں قدرے تفصیل سے گزرا فتح مکہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دین حق کے غلبہ کیلئے یہ اہم اساس و بنیاد ہے، چناچہ فتح مکہ کے بعد پورے ملک پر یہی دین حق غالب ہو کر رہا اور باقی سب دین اس کے آگے سرنگوں ہوگئے، اور فوج در فوج اس دین حق کے ذخیرہء قدس میں داخل ہونے لگے۔ فالحمد للّٰہ الذی بیدہٖ زمام کل شیئ، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وھو الھادی الی سواء السبیل، سبحانہ و تعالیٰ ، اللّٰہم وفقنا لما تحب وترضی، من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق والرشاد، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ، سبحانہٗ وتعالیٰ ۔
[ 75] اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی و وافی، سبحانہ وتعالیٰ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافی ہے اللہ پاک گواہی دینے کے لئے، ایسا کافی کہ اس کے بعد کسی اور کی گواہی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ اور وہ گواہی دے رہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں، اور وہ دین جو ان پر نازل فرمایا گیا وہ دین حق ہے، اور اسی نے ظاہر اور غالب ہو کر رہنا ہے، تو اب اگر یہ کفار نہیں مانتے اور یہ صلح نامے پر " بسم اللّٰہ " اور " محمد رسول اللّٰہ " لکھنے کے بھی روادار نہیں ہیں، جیسا کہ ان کے نمائندے سہیل بن عمرو نے اس موقع پر کیا تھا، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ حق تو بہرحال حق ہی ہے اور اللہ پاک کی گواہی بہرحال کافی ہے، پس منکرین کے انکار اور کفر و تکذیب سے نہ تو پیغمبر کو دل برداشتہ ہونے کی ضرورت ہے، اور نہ مسلمانوں کو، سو اس میں اللہ کے رسول ﷺ مسلمانوں کے لئے تسلی بھی ہے، اور اس ضمن میں فتح مکہ کی بشارت بھی۔ فالحمدللّٰہ رب العالمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین حق یہی دین اسلام ہے جس کو اب رسول ہدی لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان غلبہ بہرحال اسی کا ہے۔ یہ قدرت کا اٹل اور واضح فیصلہ ہے جس کو نہ یہود و نصاریٰ میں سے کوئی بدل سکتا ہے اور نہ مشرکین عرب اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اسی مضمون کو پ 10 سورة توبہ کی آیت نمبر 32 اور 33 میں بھی واضح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے { یریدون ان یطفؤا نور اللّٰہ بافواھھم ویاتی اللّٰہ الآ ان یتیم نورہ ولوکرہ الکفرون۔ ھو الذی ارسل رسولہٗ بالھدی ودین الحق لیظھرہٗ علی الدین کلہٖ لا ولوکرہ المشرکون۔ } اللہ تعالیٰ اس کو ساری دنیا پر غالب فرمائے اور کفر و باطل کو، اور اس کے علمبرداروں کو اس کے زید نگیں فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، فالحمدللہ الذی بیدہ زمام کل شی وعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وھو الھادی الی سوء السبیل، اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سبحانہ و تعالیٰ ،
Ayah 48:29[ 76] محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں :
بغیر کسی شک وریب کے، کفار و مشرکین کے نہ ماننے سے اس امر واقع اور حقیقت صادقہ کی حقانیت و صداقت میں کسی فرق آنے کا کوئی سوال ہی نہیں، البتہ انکار کرنے والے اپنے اس انکار کی پاداش میں اس ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے، جس جیسا اور کوئی خسارہ ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ اس ارشاد عالی کے معنی و مطلب کا ایک احتمال ہے جو اس پر مبنی ہے کہ، محمد رسول اللّٰہ، مبتداء و خبر ہیں اور " والذین معہٗ الخ " کلام مستانف ہے جبکہ اس کی ترکیب میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ یہاں پر صفت اور عطف بیان کے حکم میں ہے، اور اس کی خبر آگے " اشدَّائُ علی الکفار، الخ " ہے۔ جو کہ تورات میں وارد تمثیل کی طرف اشارہ ہے، جس میں پورے زمرہ مومنین کی تصویر پیش فرمائی کی گئی ہے، اور ظاہر ہے کہ اس میں گل سرسبد کی حیثیت اللہ کے رسول ہی کو حاصل ہے، اس لئے اس ترکیب میں معنوی زور کہیں زیادہ ہے، جبکہ پہلی ترکیب کی صورت میں یہ زور نہیں پایا جاتا لہٰذا یہی دوسری ترکیب زیادہ بلیغ اور موثر ہے جیسا کہ ظاہر و واضح ہے، بہرکیف اس ارشاد ربانی میں حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ کی صداقت و حقانیت کا صاف اور صریح طور پر اعلان فرمایا گیا ہے اور یہ ایک نہایت اہم اور بنیادی حقیقت ہے، جس پر دین حق کی پوری عمارت قائم ہے، کیونکہ دین حق کی اصل بنیادیں دو ہی ہیں، ایک اللہ پاک کی وحدانیت اور دوسری اس کے رسول کی رسالت۔ اسلئے مومن صادق اپنے کلمہ توحید میں جو کہ دین حق میں داخلے کا دروازہ ہے انہی دو بنیادی اور اہم حقیقتوں کا اقرار و اعتراف کرتا ہے اور کہتا ہے ـ " لا الٰہ الا اللّٰہُ محمد رسول اللّٰہ " یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی کیلئے اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لایا جائے اور ان کے بتائے ہوئے صراط مستقیم کی پیروی کی جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 77] حضرات صحابہء کرام ؓ کی دو اہم صفات کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کفار کے مقابلے میں بڑے سخت اور آپس میں نہایت مہربان ہیں۔ جو کہ علامت اور ثبوت ہے ان کی تصلب فی الدین اور ان کی غیرت و حمایت حق کا۔ چناچہ وہ کفار کے ساتھ تو اپنے جسموں اور کپڑوں کا مس کر جانا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے، مگر اہل ایمان کے ساتھ ملتے تو سلام اور سلامتی کی میٹھی اور پیاری دعاؤں کے علاوہ ان کے ساتھ مصافحے بھی کرتے اور معانقے بھی، کہ ان کے نزدیک دین و ایمان کا رشتہ ہی اصل اور سب رشتوں سے بڑا رشتہ تھا اور ہے، اور ان کے آپس کے اختلافات اور مشاجرات تھے، وہ بھی دراصل دینی حماس و جزیہ کی شدت کی بناء پر ہی تھے، اور یہ اختلافات چونکہ اجتہادی امور پر مبنی تھے، اس لئے ان کے باعث ان پر کسی طرح کی کوئی حرف گیری بھی جائز نہیں ہوسکتی، اور ان پر کوئی حرف گیری و نکتہ چینی آخر کس طرح جائز ہوسکتی ہے، جب کہ ان سب کو بلا استثناء اور بدوں کسی شرط و قید کے رب العلمین کی طرف سے رضا مندی کی سند اس کے کلام محکم نظام کے اندر مل چکی ہے، اور صاف وصریح طور مل چکی ہے ؓ عنھم و رضوا عنہ اور ان کے نزدیک اصل دولت چونکہ دین و ایمان ہی کی دولت ہے اس لیے اس کے بارے میں یہ بڑے سخت اور پختہ عزم والے ہیں اور ان کی اتباع و پیروی ہی صحت و سلامتی اور نجات کی راہ ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، اللہ ہم سب کو ان کی پیروی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 78] حضرات صحابہ کرام ؓ کی شان عبدیت و عبادت کا ذکر وبیان :
سو اس سے حضرات صحابہ کرام ؓ کے اپنے خالق کے ساتھ ان کے رشتہ عبدیت و عبودیت کے کمال کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان رکوع و سجود کی حالت ہی میں پاؤ گے۔ یعنی تم ان کو نماز ہی کی کسی حالت میں پاؤ گے کہ یہ ان کا سب سے زیادہ محبوب اور مقدس مشغلہ تھا اور اس سے ان کا مقصود و مطلوب اپنے خالق ومالک کی رضا چاہنا ہوتا تھا اور بس۔ فرضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ سو اس ارشاد عالی میں ان حضرات کی توجہ الی اللہ شب بیداری اور تہجد گزاری کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے، یعنی یہ حضرات تقویٰ و پرہیزگاری اور خدا ترسی میں ایسی امتیازی شان کے مالک ہیں کہ جو بھی کوئی ان کو دیکھے گا اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ لوگ دنیا کے عام انسانوں سے یکسر مختلف ہیں، یہ ایسے قدسی صفت لوگوں کی جماعت ہے جن کی زندگی کا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین خدا وند قدوس کی رضا طلبی ہے، چناچہ جو بھی ان کو دیکھے گا وہ ان کو کبھی رکوع میں پائے گا، اور کبھی سجود میں، یا پھر جہاد فی سبیل اللہ، میں جہاں وہ اپنے خالق ومالک کے حضور اپنی جانوں کو نذرانہ پیش کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں، جیسا کہ روایات میں ان کے بارے میں وارد ہے کہ وہ رات کے راہب اور دن کے شیر تھے۔ رھبان باللیل اسود فی النھار [ الصلوۃ وغیرہ ] سو اس سے حضرات صحابہ کرام ؓ کے اس کمال توازن و اعتدال کو بیان فرما دیا گیا ہے جو وہ حضرت خالق جل مجدہ کے حقوق اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں رکھتے تھے۔ وہ اپنے خالق کے حق عبادت و بندگی کو بھی پوری طرح ادا کرتے تھے اور اس کے حضور رکوع و سجود کی حالت میں رہتے تھے اور اس کے بندوں کے حقوق کے سلسلے میں وہ ہر کسی کے ساتھ وہ رویہ رکھتے تھے جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا تھا۔ اور یہی تقاضا ہے کمال عدل و انصاف اور رشد و صلاح کا، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی سچی محبت اور اتباع و پیروی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 79] ان کی نشانی ان کے چہروں میں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نشانی ان کے چہروں میں ہوگی سجدوں کے اثر سے۔ یعنی وہ نور جس کے اثرات ان کے چہروں پر چمک دمک رہے ہوتے ہیں اور یہ پرتو ہے ایمان و یقین اور خشوع و خضوع کے اس نور کا جو ان کے دلوں میں جاگزیں تھا، جیسا کہ حضرت عثمان ؓ سے مروی ہے کہ انسان اپنے باطن میں جو بھی کچھ چھپائے گا اللہ پاک اس کو اس کے چہرے کے صفحات اور اس کی زبان کی حرکات سے ظاہر فرما دے گا [ ما اسر احد سریرۃ الا ابداھا اللّٰہ علی صفحات وجھہ وفلتات لسانہ ] اور حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے باطن کو صحیح رکھا اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو صحیح فرما دیتا ہے [ من اصلح سریرتہٗ اصلح اللّٰہ علانیتہٗ ] اور خود حضرت نبی (علیہ السلام) سے حدیث مرفوع میں مروی ہے کہ انسان اپنے باطن میں جو بھی کچھ پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی چادر اس کے ظاہراوڑھا دیتے ہیں، خیر ہوگا تو خیر کی چادر اور شر ہوگا تو شر کی چادر، [ والعیاذ باللّٰہ ] چناچہ ارشاد فرمایا " ما اسر احد سریرتہٗ الا البسہ اللّٰہ تعالیٰ ردائھا ان خیراً فخیرا و ان شرا فشرا " [ رواہ الطبرانی وغیرہ ] سو انسان کے باطن میں جو بھی کچھ ہوتا ہے اس کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے ہیں، واضح رہے کہ چہرے کی اس نشانی سے مراد ماتھے کا وہ گنا نہیں جو بعض لوگوں کی پیشانیوں پر ظاہر ہوجاتا ہے، اور جس کو عام طور پر ماتھے کا محراب کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ نہ تو سب حضرات کے ماتھے پر ظاہر ہوتا ہے، اور نہ ہی اس کو باطن کی صفائی کی نشانی قرار دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے، چناچہ امام تفسیر حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کسی کے ماتھے پر مینڈھے کے گٹے کے برابر اس طرح کا نشان ہو، مگر اس کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور فرعون کے دل سے بھی زیادہ شقی اور بدبخت ہو، والعیاذ باللّٰہ العظیم سو اس سے مراد باطن کا وہ نور ہے جو خشوع و خضوع کے اثر سے اہل ایمان کے چہروں پر ظاہر ہوتا ہے [ روح، قرطبی، مراعی، ابن کثیر، محاسن، خازن، مدارک اور معالم وغیرہ ] البتہ اگر باطن کی صفائی اور نور کے ساتھ ظاہر کا یہ نشان بھی موجود ہو تو وہ اس ذیل میں نہیں آئے گا بلکہ وہ تو نور علی نور کے قبیل سے ہوگا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ وہ قطرے اور دو نشان اللہ کو بڑے پسند اور محبوب ہیں۔ دو قطروں سے مراد ایک تو خون کا وہ قطرہ ہے جو مجاہد اللہ کی راہ میں گراتا ہے اور دوسرا آنسو کو وہ قطرہ جو انسان خدا کے خوف سے گراتا ہے۔ اور دو نشانوں سے مراد ایک تو وہ نشان ہے جو مجاہد کو جہاد کے دوران زخم سے لگتا ہے اور دوسرا انسان کا وہ نشان جو کسی عبادت کے نتیجے میں اس کو لگتا ہے۔ سو اوپر جو کچھ اس نشان [ سیما ] کے بارے میں بیان ہوا یہ اس صورت میں ہے جبکہ کوئی بتکلف ایسا کرے کیونکہ بتکلف ایسا کرنا ریا کاری کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ممنوع و محذور ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 80] حضرات صحابہ کرام ؓ کی مثال تورات میں :
سو اس سے حضرات صحابہ کرام ؓ کی صفت سے متعلق اس مثال کا ذکر اور بیان فرمایا گیا ہے جو ان کے بارے میں تورات میں وارد ہوئے تھی، تورات اور انجیل دونوں کو اگرچہ تحریف و تغییر کے ذریعے کچھ کا کچھ بنادیا گیا، اور خاص کر ان امور کے بارے میں زیادہ ہی تحریف کا ارتکاب کیا گیا، جن کا تعلق حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی صداقت و حقانیت سے تھا، مگر اس کے باوجود تورات اور انجیل میں آج بھی ایسی باتیں موجود ہیں جن کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا اور کوئی ہوسکتا ہی نہیں، مثال کے طور پر استثناء باب 33 ۔ 2 میں مذکور ہے خداوند سینا سے آیا، " اور سیعر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔ اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت بھی ان کیلئے تھی "۔ سو اس پیشگوئی کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا اور کوئی ہوسکتا ہی نہیں، اس میں جبل فاران کا صریح ذکر بھی ہوا ہے اور دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آپ ﷺ کے نمودار ہونے کا صریح لفظوں میں حوالہ بھی، اور یہ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ دس ہزار صحابہء کرام کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے اور یہاں پر قرآن حکیم میں تورات کی اس مثال کا ذکر بھی مسلمانوں کے غلبہ اور تمکن ہی کے پہلو سے فرمایا گیا ہے، اور اس پیشگوئی میں جو آتشیں شریعت کا ذکر فرمایا گیا ہے تو اس سے مراد شریعت اسلام ہی ہے جس میں جہاد کا حکم بھی دیا گیا ہے، اور حضرات صحابہء کرام ؓ کے بارے میں " اشدائُ علی الکفار " کے الفاظ بھی ذکر فرمائے گئے ہیں، یعنی یہ کہ وہ کفار کے مقابلے میں بہت سخت ہوں گے۔ سو اس پیشینگوئی کا مصداق آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہء کرام ہی ہیں، علیہم الرحمۃ والرضوان۔
[ 81] حضرات صحابہ کرام کی مثال انجیل میں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال انجیل میں ایسے ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اس کا سہارا دیا۔ پھر وہ سخت ہوگئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگی، وہ کسانوں کے دلوں کو مونگے لگتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کے دل موہ لے گی لیکن کافروں کے دلوں کو جلائے، سو اس سے تمثیل کے نتیجے کا اظہار وبیان فرمایا گیا ہے کہ جب اس تخم حق کی فصل شباب پر آئے گی تو حق والوں کے دل موہ لے گی لیکن کافروں کے دل جلیں گے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام پر جلنا اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے۔ چناچہ اسی سے استدلال کرتے ہوئے حضرات امام مالک (رح) وغیرہ بعض ائمہ مجتہدین نے روا فض کو کافر قرار دیا ہے [ ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک، معالم، روح، ورطبی وغیرہ ] اور حقیقت بھی یہی ہے کہ روا فض [ شیعہ ] کے عقائد صریح طور پر کفر یہ عقائد ہیں، جیسا کہ علماء حق نے اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے، چناچہ ہمارے اس دور کے علماء کرام اور فقہاء عظام نے ابھی چند ہی سال قبل انہی وجوہ کفر کی بنا پر تکفیر شیعہ کا اجماعی فتوی دیا ہے، جو کہ طبع ہو کر سائع ہوچکا ہے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آخر میں یہ چھوٹی سی جماعت ترقی اور قوت کے ایسے بام و عروج کو پہنچ جائے گی کہ کفار ان کے اس عروج اور ترقی کو دیکھ کر حسد اور حسرت میں جلیں گے، سو حضرات صحابہ کرام سے محبت اور دل کا تعلق ایمان کی علامت اور ان سے بغض وعناد۔ والعیاذ باللّٰہ۔ کفر کی نشانی، علیہم الرحمۃ والرضوان۔ سو ان دونوں میں سے پہلی تورات کی مثال میں حضرات صحابہ کرام ؓ کی شان غلبہ اور تمکن کو واضح فرمایا گیا ہے اور دوسری میں اسلام کے تدریجی عروج و کمال کو واضح فرمایا گیا ہے، جو کھیتی اور دانے کی مثال سے پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔
[ 82] حضرات صحابہ کرام ؓ سب کے سب عادل تھے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے ان میں سے ان خوش نصیبوں سے جو صدق دل سے ایمان لائے اور اس کے مطابق انہوں نے کام بھی نیک کیے۔ یعنی یہ بشارت سب صحابہ کرام کیلئے ہے کہ وہ سب کے سب ایسے ہی تھے، اور یہ من تبعیضیہ نہیں بیانیہ ہے [ روح، محاسن، مدارک، خازن، جامع، ابن کثیر وغیرہ ] ۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ ان حضرات کو یہ انعام اور فضل، ایمان اور عمل صالح کی بناء پر ہی نصیب ہوا لہٰذا ان کے نقش قدم پر ان کے بعد آنے والے ہر امتی کو بھی ایمان اور عمل صالح کی اسی دولت کو سب پر اہمیت اور فوقیت دینی چاہئے " اللّٰہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل، فی بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ " بہرکیف حضرات صحابہ کرام ؓ سب کے سب عدول اور رحمت و رضاء خداوندی سے بہرہ مند و سرفراز تھے۔ اور وہ دین حق کے صحیح اور سچے نمائندے تھے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم و ارضاھم اجمعین، وعنامھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 83] حضرات صحابہ کرام ؓ کیلئے اجر عظیم کے وعدے کا ذکر وبیان :
سو اس سے حضرات صحابہ ؓ کیلئے عظیم الشان بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ اور اعلان فرما دیا گیا۔ پس ان حضرات سے بشری تقاضوں کی بناء پر جو کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہوں گی، ان کو معاف فرما دیا جائے گا، اور ان کو جنت کی عظیم الشان نعمتوں سے نواز دیا جائے گا اور جو ان حضرات کے نقش قدم پر چلیں گے ان کے لئے بھی یہی بشارت ہے [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ ان صفات کے مصداق اور ایمان و عمل میں راسخ اور پختہ کار ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کو عظیم الشان مغفرت و بخشش اور اجر عظیم سے نوازے گا، رہے وہ لوگ جو زبانی کلامی ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان کی ہمدردیاں اللہ اور رسول ﷺ سے زیادہ اسلام کے دشمنوں سے ہیں تو وہ اپنے انجام سے دو چار ہو کر رہیں گے کیونکہ ایسے لوگ اپنی چرب زبانی اور اپنی طمع سازیوں کے ذریعے اگرچہ دنیا سے اور عام لوگوں سے چھپ سکتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپنا ممکن نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اور ہر موقع و مقام پر اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ وآخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین، الذی بیدہ زمام کل شیئٍ ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ و تعالیٰ ، وھذا اخر ما کتبتا فی تفسیر سورة الفتح بتوفیق من اللّٰہ تعالیٰ وعنایتہ فلہ الحمد ولہ الشکر۔