Ayah 48:11[ 24] منافقوں کی عذرداری اور اس کا جواب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں مشغول کردیا تھا اپنے بالوں اور بال بچوں نے "۔ اور اس مجبوری کی وجہ سے ہم آپ ﷺ کے ساتھ نہ جاس کے ورنہ ضرور جاتے۔ لیکن اصل بات یہ نہ تھی بلکہ اصل میں ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ احرام کی چادریں پہن کر دشمن کے پاس اور اس کے گھر میں جانا یقینا موت کے منہ میں جانا ہے۔ اس لئے اپنے زبانی کلامی دعوؤں اور وعدوں اور آنحضرت ﷺ کے اعلان و ارشاد کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدہ و ایمان کی دولت انسان کو کس طرح جری، بےخوف اور بہادر بنا دیتی ہے۔ اور نفاق و ضعف ایمانی سے انسان کس درجہ بزدلی اور پست ہمت ہوجاتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب انسان کی اپنی نیت و ارادہ درست نہ ہو تو وہ حضرت حق جل مجدہ۔ کی طرف سے توفیق سے بھی محروم ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر " متخلفون "۔ " پیچھے رہ جانے والے " نہیں فرمایا گیا بلکہ " مخلفون " فرمایا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ " جو پیچھے چھوڑ دیے گئے " یعنی یہ لوگ اپنی بدنیتی اور دوں ہمتی کی وجہ سے مسلوب التوفیق ہوگئے۔ اور اس قابل ہی نہیں رہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کی رفاقت و ہمسفری کے شرف سے مشرف ہوسکتے { ولو ارادوا الخروج لاعدوالہ عدۃ ولکن کرہ اللّٰہ انبعاثھم فثبطھم وقیل اقعدوا مع القعدین } [ التوبہ : 46 پ 10] بہرکیف اس ارشاد سے پیشگی واضح فرما دیا گیا کہ جب آپ اس سفر سے بخیریت واپس گھر پہنچ جائیں گے تو ایسے بدوی جن کو ان کے خبث باطن کی بنا پر پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا وہ جھوٹے حیلے بہانے لے کر آپ ﷺ کے پاس پہنچیں گے کہ صاحب ہمیں مال مویشی کی ذمہ داریوں اور بال بچوں کی دیکھ بھال کی مصروفیات نے آپ کی ہم رکابی کے شرف سے محروم رکھا ورنہ ہم تو دل و جان سے آپ کے ساتھ تھے اس لئے آپ ﷺ ہماری ان مجبوریوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے ہماری اس تقصیر اور کوتاہی کی معافی مانگیں لہٰذا آپ ﷺ کو اس بارے میں پیشگی یہ ہدایت فرما دی گئی کہ آپ اس موقع پر ایسے لوگوں کی معذرت پر کان نہیں دھرنا۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے جو کہ منافق لوگوں کا اصل وطیرہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ،
[ 25] منافقوں کے نفاق کی پردہ دری کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں " ان کی زبانوں پر کچھ ہے اور دلوں پر کچھ اور، کہ دل میں تو وہ بات تھی جو آگے آرہی ہے۔ یعنی مسلمانوں کے بارے میں برے گمان کہ یہ لوگ جو اس طرح احرام باندھ کر عمرے پر جارہے ہیں تو یہ اس سفر سے واپس آہی نہیں سکیں گے۔ بلکہ دشمن ان کا وہیں کام چکا دے گا۔ اور یہ اس کا لقمہء تر بنے گے، مگر زبان سے یہ لوگ اپنی معذوری ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم تو جانے کے لئے بالکل تیار تھے لیکن مالوں اور بچوں کے مشاغل کی وجہ سے نہ جاس کے۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر اس بات کا ثبوت ملا کہ یہ قرآن کسی بشر کا نہیں بلکہ اس اللہ پاک کا کلام ہے جو بشر کا خالق اور دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسلئے یہ ان کے دلوں کی چپی ہوئی باتوں کی اس طرح خبر دے رہا ہے ورنہ دلوں کے پوشیدہ رازوں کو جاننا کسی بشر کیلئے ممکن نہیں ہوسکتا۔ بہرکیف اس طرح ان منافقوں کی منافقت کو آشکارا فرما دیا گیا اور منافق لوگوں کو یہی کام ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں کچھ ہوتا ہے، اور زبانوں پر کچھ اور۔ اور اس طرح وہ عام لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں اور بلفعل وہ ایسا کرتے اور دھوکہ دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا کسی کیلئے ممکن نہیں ہوسکتا، وہ ایسے ہر تصور سے بےباک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس طرح منافقوں کی پردہ دری کرکے ان کے اصل حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا تاکہ لوگ ان کے کردار سے آگاہ ہوسکیں۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔
[ 26] نفع و نقصان اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہوسکتا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ بھلا کون ہے جو تمہارے بارے میں اللہ کے فیصلے کو روکنے کا کوئی اختیار رکھتا ہو ؟ اگر وہ تم لوگوں کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہیے ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر نفع و نقصان کا مالک اللہ کے سوا کون ہوسکتا ہے ؟ اور کس طرح ؟ اور جب نفع و نقصان اسی وحدہٗ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، تو پھر اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے منہ موٹانا اور سرتابی کرنا تمہارے لئے کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ نیز جب نہ تو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی کسی مصیبت کو ٹالنا کسی کے بس میں ہوسکتا ہے اور نہ اس کی طرح سے ملنے والے کسی فائدے اور فنع کو کوئی روک سکتا ہے تو پھر لوگوں کو اپنے مال و اولاد کی فکر میں اس قدر پھنسنے اور مقید رہنے کی آخر کیا ضرورت تھی ؟ کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے سرتابی کرتے ؟ سبحان اللہ ! ایمان و یقین کی دولت سے انسان کو کس قدر عظمت اور عالی ہمتی نصیب ہوجاتی ہے۔ اور اس کو کیسا سکون اور اطمینان قلب ملتا ہے۔ اور اس سے محرومی انسان کو کس درجہ ضعیف الاعتقاد اور کمزور بنا دیتی ہے۔ پھر آیت کریمہ کے آخر میں ان کو بتادیا گیا کہ اس طرح کے حیلے بہانے کرکے تم لوگ دنیا والوں سے تو اپنے آپ کو اور اپنے کرتوں توں کر چھپا سکتے ہو مگر اللہ سے کبھی نہیں چھپا سکتے کہ وہ سب کچھ دیکھتا جانتا اور تمہاری تمام حرکتوں اور کرتوں توں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا نہ کسی کے ہاتھ میں نفع کا کوئی اختیار ہوسکتا ہے نہ نقصان کا۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہٗ لاشریک پر رکھنا چاہیے۔
Ayah 48:12[ 27] منافقوں کے گمان بد اور اس کی تزیین کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگوں نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ اللہ کے رسول اور دوسرے اہل ایمان کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کی طرف واپس آہی نہیں سکیں گے، اور تمہارے اس برے گمان کو کھبا دیا گیا تھا تمہارے دلوں کے اندر "۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو تو ہوشیار و دانش مند سمجھ رہے تھے اور سچے و مخلص مسلمانوں کو سادہ لوح اور فریب خوردہ قرار دے رہے تھے کہ یہ لوگ تو اپنے دین کی حقانیت اور خڈائی مدد کے سہارے اور غرے پر اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے جا رہے ہیں۔ اور اس طرح یہ قریش کیلئے ایک تر نوالہ ثابت ہوں گے اور ان کی تعداد کی قلت کو تم لوگ " اکلۃ راس " " ایک سرکے کھانے والوں " سے تعبیر کر رہے تھے۔ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو کہ تعداد کی قلت اور بےہمتی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر تمہاری یہی چالاکی و خود فریبی تمہاری تباہی کا باعث بن گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو بدنیتی اور خبث باطن کی یہ ایک نقد سزا ہے جو اس قماش کے لوگوں کو ملتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جس سے ان کی مت مار دی جاتی ہے اور اس کی بنا پر ایسے لوگ اپنی برائی کو بھی اچھائی سمجھنے لگتے ہیں۔ اور برائی کو اچائی سمجھنے کی سزا ایک بڑی سخت اور ہولناک سزا ہے جو ایسے بدبخت لوگوں کو ملتی ہے کہ اس کے بعد وہ برائی کو ترک کرنے کیلئے آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ اور اس کے نتیجے میں ان کا حال بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کی طرف بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں مگر ان کو اسکا کوئی احساس و شعور نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 28] کفر و نفاق کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم لوگ تو اے منافقو ! تھے ہی تباہ ہونے والے " یعنی اپنی بدبختی و بدباطنی اور بدکرداری کے باعث ہلاکت و تباہی خود تمہارا اپنا مقدر بن چکی تھی مگر تمہیں اپنی بجائے دوسروں کی تباہی نظر آرہی تھی۔ " بور " یا تو " بائِرکی جمع ہے جیسے " حائل " اور " حول " یا یہ مصدر ہے جیسے " ہلک " ّالوجیز، الجامع ] ۔ معنی و مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے کہ تم لوگوں نے بہرحال ہلاک ہونا تھا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس سے ثابت ہوا کہ حق سے منہ موڑنا اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری سے کنی کترانا اور رسول اور انکے ساتھیوں کے بارے میں بدگمانی رکھنا خود اپنی ہی تباہی اور ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اور اسکا ادراک کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور کامیابی اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت اور فرمانبرداری ہی میں ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو کہ اس دنیائے فانی کے بعد آنے والا ہے، اور جو ابدی جہاں ہے وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سوائِ السبیل سبحانہ وتعالیٰ جل شانہ وعم نوالہ۔
Ayah 48:13[ 29] بےایمانوں کیلئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بےایمانوں کے لئے دوزخ کی انتہائی ہولناک آگ کا فیصلہ ہوچکا ہوا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اللہ اور اس کے رسول پر تو وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، کہ ہم نے ایسے کافروں اور منکروں کیلئے ایک بڑی ہی دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے "۔ سو کافروں اور منکروں کے لئے ایک بڑی ہولناک آگ تیار ہے۔ والعیاذ باللّٰہ اور ایسی ہولناک اور اس قدر خطرناک اور دہکتی بھڑکتی آگ کہ اس کا تصور کرنا بھی اس جہاں میں کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ سو کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایمان و یقین کی راہ سے منہ موڑ کر دوزخ کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہاں پر یہ ارشاد انہی منافقوں کیلئے فرمایا جا رہا ہے جو زبانی کلامی طور پر اگرچہ ایمان کے بڑے بلند دعوے کرتے ہیں لیکن ان کے اندر ایمان ہوتا نہیں۔ اور یہ لوگ اپنے دلوں کے اندر ایمان و اسلام کے غلبئیء کی بجائے اس کی تباہی کی آرزوئیں رکھتے ہیں۔ سو ایسوں کے ایمان کے کسی اعتبار کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ بلکہ یہ کھلے کافروں کی طرح بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر بدتر ہیں۔ اس لئے ان کے لئے ایسی ہولناک اور دہکتی بھڑکتی آگ تیار کر رکھی گئی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس نجات کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صادق اور عمل صالح ہی ہے۔ اس لئے ہمیشہ ای کی تحصیل اور اس کی حفاظت کی فکر و کوشش کرنی چاہیے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 48:14[ 30] اصل بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی "۔ یعنی اصل اور حقیقی بادشاہی۔ سو وہ اپنی اس کائنات اور مخلوق میں جو چاہے کرے۔ کوئی نہ اس کو روک سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی اعتراض کرسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے۔ اور نہ کسی کے لیے اس کی مغفرت و بخشش کو روک سکتا ہے۔ کہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف تنہا وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس غلط کہتے اور شرکیہ بات کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو مختلف لوگوں اور مرے ہوئے بزرگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ فلاں کی نگری اور فلاں کا علاقہ اور ایریا ہے وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو نہ کوئی اس کائنات کی تخلیق و ایجاد میں اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ کوئی اس کے حکم و تصرف میں اس کا شریک ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس کی عبادت و بندگی میں بھی اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اس کی ہر صورت و شکل اسی وحدہٗ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہ ہے نہ ہوسکتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس جو لوگ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کیلئے عبادت و بندگی کی کوئی قسم کسی بھی شکل میں بجالاتے ہیں وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔ فلا معبود بحق سواہ، ولا نعبد الا ایاہ جل وعلا۔ فالحمدللہ الذی شرفنا بنعمت الایمان اللہم زدنا منہ وثبتنا علیہ، فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حالٍ من الاحوال۔
[ 31] اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کے اطمینان کا درس :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے "۔ پس مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس کی بخشش اور رحمت کی ہمیشہ امید رکھو کہ بڑے سے بڑا مجرم اور گناہ گار بھی اگر سچے دل سے توبہ کرکے اس کی طرف جھکے گا تو وہ اسے معاف فرما دے گا۔ اور صرف معاف ہی نہیں فرمائے گا بلکہ اپنی رحمت و عنایت سے بھی نوازے گا۔ کیونکہ وہ غفور بھی اور رحیم بھی۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان لوگوں کیلئے بھی توبہ اور رجوع الی اللہ کی بڑی ترغیب اور تحریض ہے جو بیعت رضوان کے اس سفر میں آنحضرت ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اور اس کے علاوہ قیامت تک آنے والے ایسے سب ہی لوگوں کیلئے بھی ترغیب وتحریض ہے جن سے اس طرح کی کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہوں کہ وہ صدق دل سے اس غفور و رحیم رب جلیل کی طرف رجوع کرکے اپنی مغفرت و بخشش کا سامان کرلیں۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ فاغفرلی وارحمنی یا ربی فانی تبت الیک واتضرع الیک من اعماق قلبی۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ پکڑنا اور سزا دینا نہیں چاہتا بلکہ رحمت و بخشش فرمانا چاہتا ہے کہ وہ غفور و رحیم ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ غلط سہارے ڈھونڈنے اور حیلے بہانے اپنانے کی بجائے اس کی رحمت و رضا طلبی کی وہ راہ اختیار کریں جو اس نے اپنے بندوں کو اپنی بخشش اور رحمت سے نوازنے کیلئے اپنے پیغمبر ﷺ کے ذریعے ان کیلئے کھولی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ یہی صحت و سلامتی کی راہ، اور تقاضاء عقل و نقل ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 48:15[ 32] منافقوں کے دینوی طمع میں شرکت جہاد کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب یہ لوگ تم سے کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ جانے دو ۔ تاکہ وہاں سے ملنے والی غنیمتوں میں ہم بھی حصے دار بن سکیں، پس ان کی سب کوششوں اور دوڑ دھوپ کی بنیاد مادی فوائد کا حصول ہے اور بس، اسی کے لئے یہ لوگ جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں، جہاں ان کو مادی فوائد و منافع کی توقع ہوگی، وہاں یہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے، اور اس میں پیش پیش ہوں گے اور جہاں ایسے نہیں ہوگا وہاں سے یہ بھاگنے اور پہلوتہی کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے کریں گے، اور بہانے تراشیں گے، سو مادہ پرستوں اور دنیا داروں کا کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ الا ما شاء اللہ، سبحانہ و تعالیٰ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ اپنی بزدلی اور خبث باطنی کی بناء جھوٹے حیلے بہانے کرکے پیچھے رہتے ہیں۔ لیکن آگے چل کر جب ایسے مواقع آئیں گے، جہاں تم کو بغیر جنگ وجدال کے مال غنیمت ملنے کی توقع ہوگی تو اس وقت یہ شیر دل بن کر کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ جانے دو ، اس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو بدلنا چاہیں گے، سو ایسے موقع پر تم ان سے کہہ دینا کہ تم کسی بھی قیمت پر ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے، اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کا حکم اس سے پہلے دیا تھا مگر تم اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہے۔ سو اب تمہیں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ والعیاذ باللّٰہ۔
[ 33] منافقوں کی طرف سے کلام الٰہی کو بدلنے کے ارادے کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ اللہ کی بات کو بدلنا چاہیں گے، جو کہ اس نے کرم و احسان سے حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر اپنے رسول کے ذریعے سچے اور وفاشعار مسلمانوں کے لئے وعدوں سے متعلق فرمایا تھا۔ جیسا کہ روایات میں وار موجود ہے کہ غزوہ خیبر اور اس کی غنیمتوں میں وہی لوگ شریک ہوں گے جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔ [ روح، قرطبی، مراغی، صفوۃ وغیرہ ] سو یہ دراصل ایک انعام سلطانی تھا جو کہ حدیبیہ کی فتح مبین کے صلے میں ان سچے اور مخلص مسلمانوں کو عطا فرمایا گیا تھا، جو اس موقع پر موجود تھے، اس سے جہاں شرکاء حدیبیہ کی عظمت شان اور بلند مرتبہ و مقام کا پتہ چلتا ہے، وہیں اس سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) پر قرآن پاک کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی، کیونکہ یہ وعدہ جو اس موقع پر پیغمبر سے فرمایا گیا تھا قرآن پاک میں کہیں بھی مذکور نہیں، بلکہ اس کا ذکر روایات احادیث ہی میں ملتا ہے لیکن بعض حضرات اہل علم نے کہا ہے کہ یہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے جو اوپر آیت نمبر 6 میں بدین الفاظ ارشاد فرمائی گئی ہے یعنی یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ دین کے لئے ان کو کرنا تو کچھ نہ پڑے لیکن اس کے فائدے ان کو دنیا و آخرت دونوں میں حاصل ہوں، سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں، ان کے بارے میں اللہ کی بات اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک کہ یہ لوگ اپنی حالت کو اللہ کے دین کے تقاضوں کے مطابق نہ بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیئٍ ،
[ 34] منافقوں کی کم فہمی اور کوتاہی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں مگر بہت تھوڑا یعنی وہی جس کا تعلق ان کے دنیوی مفاد سے ہو اور بس، اور ایمان کی دولت سے محروم، یا برائے نام ایمان داروں کا حال ہمیشہ یہی رہا، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ کہ ان کی قاصر و محدود نگاہیں بس دنیا کی ظاہری چمک دمک ہی تک محدود رہتی ہیں اور بس۔ { یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا ج وھم عن الاخرۃ ھم غفلون } [ الروم : 7 پ 21] جہاں ان کے دنیاوی مفاد پر زد پڑی یہ آگ بگولہ ہوگئے، جیسا کہ یہاں انہوں نے اللہ کے حکم سے گردانی بھی کی، اور اللہ کے رسول اور اہل ایمان پر حسد کا الزام بھی خود لگا دیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو لذت ایمان و یقین سے محروم یہ لوگ اپنی کوتاہ نظری اور کج فہمی کی بناء پر چاہتے ہیں کہ ان کو دین کے نام پر فوائد و منافع تو سب حاصل ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مگر ان کو کرنا کچھ نہ پڑے۔ اور دین کیلئے قربانی کوئی نہ ڈینی پڑے، سو اب ان کیلئے واضح ہوجانا چاہیے کہ ان کی اس طرح کی طفلانہ آرزوئیں پوری ہونے والی نہیں ہیں، بہرکیف ان لوگوں کے نزدیک چونکہ اصل چیز دنیاوی مفاد اور دنیا کے مادی فائدے ہی ہیں اور یہ اسی پہلو سے دیکھتے اور اسی پیمانے سے ناپتے ہیں۔ اس لیے یہ اصل حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں ورنہ یہ اس طرح کے اعتراضات کبھی نہ کرتے۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 48:16[ 35] منافقوں کے امتحان کے لیے کسوٹی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ان پیچھے چھوڑے گئے لوگوں سے کہ عنقریب ہی تمہیں ایک اور قوم کے خلاف جہاد کے لیے بلایا جائے گا۔ یہاں پھر ان کو مخلف کے وصف سے ذکر فرمایا گیا ہے، تاکہ ایک طرف تو ان کے اس طرز عمل کی شناعت و قباحت ظاہر ہو، اور یہ اس سے توبہ و تلافی کی کوشش کرسکیں، اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہو سکے کہ کسی شخص سے محض اس کی ذات اور اس کی شخصیت کے اعتبار سے کوئی تعرض نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس کی صفات و خصال کی بناء پر ہی اس سے معاملہ کرنا چاہئے، اور یہ اسلام کی تعلیمات مقدسہ میں سے ایک اہم تعلیم ہے کہ محض کسی کی ذات کو نہ دیکھو بلکہ اس کے عمل و کردار کو دیکھو، نیز اس لیے تاکہ اس سے یہ بات بھی مکرر طور واضح ہوجائے کہ انسان کی بدنیتی اور اس کا خبث باطن اس کو بالآخر نور ہدایت سے بھی محروم کردیتا ہے والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس سے ان منافقین کے امتحان کیلئے ایک کسوٹی ان کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو آگاہ کردیا جائے کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہو تو اس کے ثبوت کے لیے اب تمہارے سامنے ایک اور موقع آرہا ہے جہاد کرنے کا۔ اس موقع پر تم لوگ عملی طور پر اپنی وفاداری کا ثبوت دے سکتے ہو اور اپنی پچھلی کوتاہیوں کے داغ دھبوں کو دھو اور صاف کرسکتے ہو، ورنہ محض زبانی کلامی دعو وں سے کچھ بننے والا نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا۔
[ 36] منافقوں کو ایک اور قوم کے خلاف جہاد کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کیلئے بلایا جائے گا جو بڑے سخت جان اور جنگجو ہیں جیسے خود قریش اور ہوازن و ثقیف، جن سے آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں معرکہ آرائی ہوئی، اور جیسے مسلیمہ کذاب کی قوم، بنو حنیفہ، جن کا حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ کے دور خلافت میں صفایا کیا گیا، اور جیسے اہل فارس وغیرہ کفار و مشرکین، جن پر حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں غلبہ پایا گیا، غرضیکہ مرتدین اور مشرکین عرب اور دیگر کفار سب ہی اس میں داخل ہیں، کہ الفاظ عام ہیں، سو اس قوم کا اولین مصداق کفار قریش ہیں، سو اس طرح ان منافقوں کو اپنے دین و ایمان کی صداقت کو واضح کرنے کیلئے ایک اور موقع دیا گیا۔ کہ اگر یہ اپنے دین و ایمان کے دعوے میں سچے ہیں تو آئندہ اس طرح کی کافر قوموں کے خلاف جہاد میں تلافیء مافات کریں مگر چونکہ مرتدین سے جزیہ نہیں لیا جاتا بلکہ ان کے حق میں آخری فیصلہ تلواری کا ہوتا ہے، نیز راجح قول کے مطابق مشرکین سے بھی جزیہ نہیں لیا جاتا، اس لئے اس صورت میں یسلمون سے محض ظاہری انقیادہ استسلام مراد نہیں ہوسکے گا، بلکہ اسلام قبول کرنا ہی مراد ہوگا والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 37] صدق و اخلاص پر وعدہ اجر وثواب کا ذکر وبیان :
سو اس سے صدق و اخلاص کے عمل ثبوت پر عمدہ اجر وثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم نے صدق دل سے اطاعت کی تو اللہ کو ایک بڑے ہی عمدہ اجر سے نوازے گا۔ سو اس طرح تمہارے لئے تلافیء مافات کی صورت مقرر فرما دی گئی، تاکہ تمہیں ہمیشہ کی محرومی کا غم و صدمہ نہ رہے، اور یہ بھی اس وحدہ لاشریک کا ایک بڑا کرم و احسان ہے۔ جل جلالہ وعم نوالہٗ ۔ سو سچی اطاعت و فرمانبرداری باعث سعادت اور دارین کی سرفرازی و سرخروئی کا ذریعہ ہے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے ان منافقین کے لیے واضح فرما دیا گیا کہ اگر تم لوگوں نے آزمائش اور امتحان کے اس موقع پر عملی طور پر اپنے صدق و اخلاص کا ثبوت دیا اور سچی اور ھقیقی اطاعت و فرمانبرداری کا معامل کیا تو اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بڑے عمدہ اجر سے نوازے گا کہ اس کا تو کام اور اس کی شان ہی نوازنا ہے، ہمیشہ نوازنا ہر کسی کو نوازنا، اور ہر طرح سے نوازنا۔ سبحانہ وتعالیٰ ، اور بندوں کا کام ہے اس کی طرف رجوع کرنا، اور صدق و اخلاص سے رجوع کرنا۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں دل و جان سے اس رب رحیم خالق کل اور مالک مطلق کی طرف رجوع رہنا، کہ یہی تقاضا ہے عقل و نقل دونوں کا، اور یہی راہ ہے صحت و سلامتی اور سعادت دارین سے سرفرازی کی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 48:17[ 38] رُوگردانی پر عذاب الیم کی سزا کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اس موقع پر بھی پھرگئے جیسا کہ تم پہلے پھرگئے تھے تو وہ تم کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں ذلت و رسوائی کی شکل میں، اور آخرت میں عذاب دوزخ کی شکل میں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اب یہ دونوں راہیں تمہارے سامنے ہیں، تم ان میں سے جو چاہو اختیار کرلو، اور اسی کے مطابق اس پر ملنے والے اپنے صلہ و بدلہ کا اتنظار کرو، اگر تم نے صدق دل سے اطاعت و فرمانبرداری کی تو اللہ تمہیں عمدہ اجر وثواب اور صلہ و بدلہ سے نوازے گا، اور اگر تم پھرگئے جیسا کہ اس سے پہلے عمرہ کے موقع پر پھرگئے تھے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا، سو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی سچی اطاعت و فرمانبرداری انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا حقیقی اور واحد ذریعہ ہے، اور اس میں بندے کا خود اپنا ہی بھلا ہے دنیا میں بھی اور آکرت میں بھی، جبکہ اس سے اعراض و رودگرانی ہلاکت و تباہی اور دائمی خسارے کا باعث ہے اور یہ وہ ہولناک خسار ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، اور یہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال۔
[ 39] معذوروں پر کوئی گناہ اور الزام نہیں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ ہی بیمار پر اگرچہ ان کو سفر اور سواری وغیرہ کی سہولتیں بھی میسر آجائیں کہ یہ سب معذور لوگ ہیں اور معذور لوگوں پر کوئی حرج و تنگی نہیں کہ ہر کوئی اپنی ہمت ووسعت کے مطابق ہی مکلف اور ذمہ دار ہوتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا { لا یکلف اللّٰہ نفساً وسعھا ط لہا ما کسبت وعلیہا ما اکتسبت ط ربنا لا تو اخذنا ان نسینا او اخطانا ج ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہٗ علی الذین من قبلنا ج ربنا ولا تحملنا مالاطاقۃ لنا بہ ج واعف عنا وقفہ واغفرلنا وقفہ وارحمنا وقفہ انت مولنا فانصرنا علی القوم الکٰفرین } [ البقرۃ : 286 پ 3] سو ارشاد فرمایا گیا کہ اندھے، لنگڑے اور بیمار پر کوئی گناہ اور الزام و اعتراض نہیں کہ وہ جہاد میں کیوں شامل نہیں ہوئے، جبکہ وہ صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت فرمانبرداری کرتے ہوں، تو ایسے میں ان کی مجبورانہ کوتاہی کی بناء پر ان کو جنت سے محروم نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کو بھی دوسرے مسلمانوں اور مجاہدوں کی طرح جنت سے سرفراز فرمایا جائے گا، ہاں گار ان میں سے کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت فرمانبرداری سے اعراض و روگردانی کرے گا، والعیاذ باللّٰہ تو وہ بھی اسی دردناک عذاب سے دوچار ہوگا جو دوسرے کفار و معاندین کیلئے مقدر ہوچکا ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ سو اصل معاملہ انسان کے اپنے قلب و باطن پر ہے۔ اگر اس کے اندر اطاعت و فرمانبرداری کا سچا اور حقیقی جذبہ موجود ہو تو پھر اگر وہ کسی ظاہری عذر وغیرہ کی وجہ سے جہاد میں نہ بھی شریک ہو سکے تو بھی وہ محروم نہ رہے گا بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کے اجر وثواب سے سرفراز و سرشار ہوگا۔ اور دلوں کا حال بندہ خود جانتا ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید من اصلاح النیۃ والعمل۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
[ 40] صدق شعار اطاعت گزاروں کیلئے وعدہ جنت کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی [ صدق دل سے اطاعت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کو اللہ داخ (رح) فرمائے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، سو اس سے صدق شعار اطاعت گزاروں کے لیے عظیم الشان اجر وثواب کا مثردہ جانفرا سنایا گیا ہے۔ پس اپنے بس اور اختیار کی حد تک ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ہی میں لگے رہنا چاہیے کہ اس میں دنیاوی سعادت بھی ہے جو کہ حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] کی صورت میں انسان کو یہاں نصیب ہوتی ہے، اور اخروی فوز و فلاح بھی، جو کہ جنت اور وہاں کی ابدی نعمتوں کی شکل میں اس دنیا کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں ملے گی، اللّٰہم فوفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل وثبت اقدامنا علی صراطک المستقیم وشرفنا بحبک ومرضاتک یا اکرم الاکرمین، ویا ارحم الراحمین، بہرکیف اس میں اطاعت گزاروں کیلئے یہ مژدہ جانفرا سنایا گیا کہ اللہ ان کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی، سو اللہ اور اس کے رسول کی صدق دل سے اطاعت و فرمانبرداری دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز کرنے والے چیز ہے، اس سے انسان کو دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی نعمت نصیب ہوتی ہے، اور آخرت میں جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی، وباللّٰہ التوفیق۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 48:18[ 41] بیعت رضوان والوں کیلئے اجر عظیم کا ذکر وبیان :
سو اس سے بیعت رضوان والوں کے لیے رضاء خداوندی کے عظیم الشان اجر و انعام کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور لقد کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ راضٰ ہوگیا ان ایمان والوں سے جو آپ ﷺ کے ہاتھ پر [ اے پیغمبر !] بیعت کر رہے تھے، پس اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوگئیں، ایک یہ کہ جن حضرات نے اس بیعت میں شرکت فرمائی تھی وہ سب کے سب سچے پکے مومن تھے، اور دوسرے یہ کہ ان کو اللہ پاک کی رضا کا سرٹیفکیٹ مل گیا، اور اللہ ان سے راضی ہوگیا، اسی لئے اس بیعت کو بیعت رضوان یعنی رضاء خداوندی والی بیعت کہا جاتا ہے، اور آیت کریمہ کو قد اور لام تاکید کی ڈبل تاکید سے شروع فرمایا گیا ہے، پس جو کوئی ان صحابہ کرام پر طعن وتشنیع کرے گا اور ان کے ایمان و یقین اور صدق و صفا میں کیڑے نکالے گا، جیسا کہ روا فض وغیرہ کا وطیرہ ہے تو وہ اس آیت کریمہ اور اس اعلان و ارشاد خداوندی کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پائے گا، والعیاذ باللہ اور صحیح مسلم، ابو داؤد اور ترمذی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جن حضرات نے بیعت رضوان میں شرکت فرمائی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین پس جن حضرات نے حدیبیہ کے اس نازک موقع پر اور احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود پیغمبر کے ہاتھ پر جہاد اور موت کی بیعت کی، انہوں نے اپنے صدق ایمان کا عملی طور پر پورا پورا ثبوت پیش کردیا، اور انہوں نے اپنی اس بیعت کا حق ادا کردیا، اس لیے ان کو خداوند قدوس کی رضاء و خوشنودی کی سند اس صراحت و وضاحت کے ساتھ عطاء فرمائی گئی جو ایک بےمثال انعام اور عدیم النظیر اعزازو اکرام تھا جس سے حضرت واہب مطلق جل و علا شانہ نے ان کو نوازا، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم وارضاہم وعنا معھم اجمعین اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی محبت اور اطاعت و اتباع سے سرشار رکھے اور ان کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 42] شجرہئِ بیعت کی عظمت شان اور اس سے متعلق درس عظیم :
جمہور مفسرین کے نزدیک یہ درخت سمرۃ [ کیکر ] کا درخت تھا جسے ببول بھی کہا جاتا ہے، پھر اللہ پاک نے اس درخت کو چھپا دیا تاکہ کہیں لوگ اس کی تعظیم و تقدیس کے ذریعے شرک میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ قدرت کی طرف سے اس درخت کو اس طرح چھپا دیا گیا کہ ہم میں سے دو آدمیوں کے درمیان بھی اس کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا تھا، نیز آپ ؓ فرماتے ہیں کہ اس درخت کا اس طرح چھپا دیا جانا قدرت کی طرف سے بہر بڑی رحمت تھی، اور امر واقع بھی یہی ہے کہ جو لوگ آج کل کے دور میں ہر ایرے غیرے درختوں، پتھروں اور قبروں تک کو پوجنے سے نہیں چوکتے تو ان کو اگر وہ درخت مل جاتا، جس کے نیچے بیعت رضوان جیسا تاریخ ساز اور مقدس واقعہ پیش آیا، تو اس کے ساتھ یہ کیا کچھ نہ کرتے، پھر بھی حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے دور میں جب کچھ لوگوں نے ایک درخت کے بارے میں یہ مشہور کردیا کہ یہ وہی درخت ہے جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور لوگ اس کی زیارت و تعظیم کو آنے لگے، تو حضرت عمر ؓ نے اس کی اطلاع ملتے ہی اسے فوری طور پر کٹوا کر ختم کردیا [ ملاحظہ و تفسیر المراغی، جامع البیان، فتح البیان اور محاسن التاویل وغیرہ ] سبحان اللہ ! کہاں یہ صورت حال اور عظیم الشان نمونہء عبرت و بصیرت کہ حضرت عمر ؓ اس درخت کو کٹوا دیتے ہیں، جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی، اور حضرت امام الانبیاء ﷺ نے یہ بیعت خود لی اور جس کا ذکر قرآن حکیم میں اس صراحت و وضاحت سے فرمایا گیا ہے، اور کہاں آج کے جاہل مسلمان کا یہ طرز عمل، کہ وہ جگہ جگہ، طرح طرح کے درختوں خود ساختہ " سرکاروں " اور آستانوں کی کھلم کھلا اور طرح طرح سے پوجا پاٹ کا ارتکاب کر رہا ہے، جہاں کوئی بزرگ بیٹھا تھا اس کو " بیٹھک " کے نام سے مقدس مقام قرار دے دیا گیا، اور اس کی زیارت و درشن کے پروگرام بنائے جانے لگے، اور طرح طرح کی خرافات کا ارتکاب کیا جانے لگا، اور ایسے لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اللہ کے نبی بذات خود اپنی تریسٹھ سالہ حیات طیبہ میں کہاں کہاں نہ بیٹھے ہوں گے، پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے صحابہء کرام ؓ اور انکے بعد ان کی پیروی کرنے والے تابعین عظام کہاں کہاں نہ بیٹھے ہوں گے، اور حرمین شریفین کی ارض طیبہ کا تو چپہ چپہ پاک و مقدس اور عظیم الشان روایات کا امین و پاسدار ہے، مگر اس سب کے باوجود جب وہاں اس طرح کی کسی بیٹھک کا کوئی تصور تک نہیں تو پھر اور کسی جگہ اس کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ کاش کہ ان لوگوں کو اتنی واضح اور جلی حقیقت سمجھ آجاتی، اور یہ اس طرح کی شرکیات کی دلدل میں نہ پھنستے، اور اپنی عاقبت خراب نہ کرتے، مگر کہاں اور کیونکر ؟ جبکہ یہ اس بارے میں سوچنے اور غور کرنے کے بھی روادار نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس طرح کی خود ساختہ اور من گھڑت چیزوں کو رواج دینے کیلئے طرح طرح کے جھوٹے قصے بناتے اور پھیلاتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔
[ 43] صحابہء کرام ؓ کے صدق و صفا کیلئے خدائی شہادت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے جان لیا اس کو جو کہ ان کے دلوں میں تھا۔ یعنی صدق و صفا اور نور ایمان و یقین جس کی بنا پر ان کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا گیا، کہ اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ کی دادودہش اور بخشش وعطاء یوں ہی نہیں مل جاتی، اور اس کے یہاں محض ظاہرداری سے کام نہیں چل سکتا، بلکہ وہاں پر اصل دار و مدار دل کی دنیا اور اس کے اندر چھپی ہوئی نیتوں پر ہوتا ہے، سو دلوں کے اس منفرد اور کٹھن امتحان میں یہ حضرات صحابہء کرام ؓ صاف و کھرے نکلے اور پورے اترے، اسلئے ان کو رضاء خداوندی کے اس عظیم الشان اور بےمثال سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا، کیونکہ سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ کے بندے جب اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو طاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، رب کریم ان کی حوصلہ افزائی فرماتا ہے اور ان کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے، اور خداوند قدس کی طرف سے حاصل ہونے والی حوصلہ افزائی انسان کو ایسی قوت بخشتی ہے کہ اس کو کوئی طاقتور سے طاقتور دشمن بھی شکست نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 44] حضرات صحابہء کرام ؓ کیلئے سکون و اطمینان قلوب کی نوازش کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس صدق و صفا اور نور ایمان و یقین کی بنا پر ان کو خاص عنایت سے نوازا گیا۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اس نے نازل فرما دی ان پر سکون و اطمینان کی خاص کیفیت۔ جس سے ان کے دلوں میں نہ کوئی خوف تھا نہ پریشانی، جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ نہتے خالی ہاتھ، اور احرام کی دو چادروں میں ملبوس ہونے کے باوجود، کفار کے ساتھ ان کے گھر میں لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، اور پیغمبر کے ہاتھ پر رضا ورغبت موت کیلئے بیعت کی، اس بےمثال صدق و اطمینان اور اطاعت و فدا کاری کی مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی ہوگی، نہ اس کے بعد قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی " فرضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین " سو باطن کی صفائی اور نیت و ارادہ کی سچائی انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور عنایتوں کا موردو مستحق بنا دیتی ہے۔ اور اسی کی بدولت انسان پر اس واہب مطلق جل جلالہ کی طرف سے رحمتوں اور عنایتوں کی بارش ہوتی ہے جتنا کسی کا باطن صاف اور ایمان و یقین قوی و مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مستحق اور امورد بنے گا۔ اسلئے ہمیشہ اور ہر حال میں اس کے ساتھ اپنے قلب و باطن اور ارادہ عمل کا معاملہ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہی اصل اور اساس ہے سارے معاملے کی۔ اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور بدرجہء تمام و کمال نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
[ 45] شرکائے حدیبیہ کیلئے ایک خاص انعام کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے حدیبیہ کے شرکاء کیلئے قریب کی فتح اور مغانم کثیرہ کے انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس فتح سے مراد فتح خیبر لی ہے، لیکن دوسرا قول اس ضمن میں حضرات اہل علم کا یہ بھی ہے کہ اس فتح سے مراد یہی صلح حدیبیہ کی فتح ہے کہ یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے اہل حق کے لئے دوسری تمام فتوحات کے راستے اور دروازے کھلتے اور آسان ہوتے چلے گئے، اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مکہ مکرمہ فتح ہوا خیبر کی فتح نصیب ہوئی اور دیگر فتوحات حاصل ہوتی گئیں [ ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ ] اور یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ ہی کو قرآن حکیم میں فتح مبین فرمایا گیا۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں شرکاء حدیبیہ کیلئے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر آئندہ اور یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ ہی کو قرآن حکیم میں فتح مبین فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں شرکائے حدیبیہ کے لئے ان کے صدق و اخلاص کی بناء پر آئندہ حاصل ہونے والی فتوحات اور غنائم کثیرہ کی بشارت و خوشخبری کا ذکر ہے، سو بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ جتنا صحیح ہوگا اتنا ہی وہ اس کو نوازے گا، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 48:19[ 46] شرکائے حدیبیہ کیلئے بہت سی غنیمتوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے نواز دیا ان کو دوسری بہت سی غنیمتوں سے جن کو یہ بآسانی حاصل کریں گے صلح حدیبیہ کی اس عظم الشان فتح [ یعنی فتح مبین ] کے بعد، جس میں فتح مکہ بھی آگئی، اور اس سے پہلے فتح خیبر بھی، جس میں یہود کی بہت سی اور عظیم الشان غنیمتوں سے ان حضرات کو نوازا گیا تھا، جو بیعت الرضوان کے اس شرف عظیم سے مشرف ہوئے تھے [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] سو یہ صلہ و بدلہ تھا ان کی بےمثال اطاعت و اتباع کا، پس صدق و اخلاص اور خاص کر اپنے خالق ومالک کے ساتھ صدق و اخلاص انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور کرنے والی چیز ہے، وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے فتح خیبر اور ان دوسری بہت سی غنیمتوں کی طرف ارشارہ فرما دیا گیا جو حدیبیہ سے واپسی کے معاً بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھیں اور جن سے مسلمانوں کے دلوں کے اندر یہ اعتقاد راسخ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے تھے وہ پورے ہوں گے، اور حدیبیہ کی صلح ان کے لیے شکست نہیں بلکہ فتح مبین ہے، جو آئندہ ان کے لیے فتح مکہ اور اس کے بعد دوسری مختلف فتوحات کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 47] اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد کے درس کا ذکر وبیان :
سو اس میں اللہ تعالیٰ کی دو صفتوں کا حوالہ دے کر دراصل اسی پر توکل و اعتماد کا درس دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے۔ ایسا زبردست کہ کوئی بھی طاقت اس کے ارادہ میں حائل نہیں ہوسکتی، وہ جو چاہے کرے، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے اس لئے اس کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر اس بات کی ضمانت دے دی گئی کہ اس کے وعدے ضرور پورے ہوں گے، ظاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں اس کے وعدے بہرحال پورے ہو کر رہیں گے کہ اس کی قدرت و حکمت ہر چیز پر حاوی اور غالب ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بندے کو ہر حال میں، ہر موقع پر، اور ہمیشہ اسی وحدہٗ لاشریک پر توکل اور اعتماد رکھنا چاہیے۔ وہ اسی سے مدد مانگے اور اسی کے ساتھ اپنے تعلق کو درست اور مضبوط رکھنے کی کوشش کرے۔ اور صدق و اخلاص کے ساتھ کوشش کرے کہ یہی چیز اصل میں عنایات خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
Ayah 48:20[ 48] اہل حدیبیہ کیلئے ایک اور خاص انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اس نے روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے۔ یعنی کفار مکہ کے ہاتھوں کو، کہ حدیبیہ کے موقع پر جب کہ تم بالکل نہتے اور کالی ہاتھ تھے، ان کو تم پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر بھی دشمنوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا۔ نہ تو وہاں کے یہود کچھ زیادہ تمہارا مقابلہ اور مزاحمت کرسکے، حالانکہ وہ اپنے قلعوں میں بند تھے، اور نہ ہی سفر عمرہ کے اس موقع پر یہود مدینہ کو اس بنا پر اپنے اس خبث ارادوں کی تکمیل کے لئے ہاتھ بڑھانے کی ہمت ہوسکی کہ مسلمانوں کے گھر خالی پڑے ہیں، کیوں نہ اس موقع پر ان کے اہل و عیال کا صفایا کردیا جائے، سو ان سب مواقع پر اللہ پاک کی غیبی امداد ہی تمہارے کام آتی رہی، الناس کے لفظ کا عموم ان سب ہی مواقع کا شامل ہے، پس جو صدق دل سے اللہ کا ہوگیا، اللہ اس کا ہوگیا، اور جس کا اللہ ہوگیا اس کا سب کچھ ہوگیا، کہ اللہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی، اللّٰہم کن لنا واجعلنا لک انت مولانا علیک نتوکل وبک نستعین۔ سو لوگوں کے ہاتھ کو اہل ایمان سے روکنا قدرت کا ایک خاص انعام تھا جس سے اس نے اپنے بندگان صدق و صفا کو سرفراز فرمایا گیا۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 49] حدیبیہ والوں کیلئے ایک عمدہ نشانی کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ حدیبیہ والوں کو فتح خیبر کے اس عظیم الشان انعام سے اس لیے نوازا گیا کہ تاکہ یہ صلح حدیبیہ کے فتح مبین ہونے کا ایک ثبوت بھی ہو اور تاکہ یہ ایک نشانی ہو ایمان والوں کیلئے، یعنی اس بات کی نشانی کہ جو اپنے ایمان و عقیدے میں سچے اور پکے ہوتے ہیں، اللہ پاک ان کی اسی طرح مدد فرماتا ہے نیز یہ کہ جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا، وہی حق اور سچ ہے، اور فوزو فلاح اسی پر ایمان و یقین میں ہے، پس خیبر کی یہ فوری اور نقد انقد غنیمت جو ایمان والوں کو ملی یہ اس بات کی علامت تھی کہ صلح حدیبیہ واقعی ایک فتح مبین تھی، نیز یہ اس بات کی بھی ایک نشانی تھی کہ آئندہ کیلئے غلبہ و تمکن اسلام ہی کیلئے ہوگا کہ دین حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 50] صراط مستقیم سے سرفرازی کی بشارت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ وہ ڈال دے تم لوگوں کو سیدھی راہ پر جس پر چل کر تمہیں اس دنیا میں بھی سچی عزت و ناموری نصیب ہو، اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی تم فوزو فلاح سے سرفراز ہوسکو، جو کہ دائمی جہان ہے اور اصل اور حقیقی کامیابی وہی اور وہیں کی کامیابی ہے، اللہ پاک نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ سو یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکمیل دین کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا، اور اپنے بندوں کیلئے ہدایت کی وہ صراط مستقیم کھول دے گا جو حق اور ہدایت کے دشمنوں نے بند کر رکھی تھی، اور اس صراط مستقیم کے لئے اصل نشانی کی حیثیت چونکہ خانہ کعبہ کو حاصل تھی، اس لیے اس ارشاد میں اس کے کفار کے تسلط سے آزاد ہونے کی بشارت بھی مضمر ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 48:21[ 51] آئندہ ملنے والی مزید غنیمتوں کے وعدے کا ذکر وبیان :
سو ارزاد فرمایا گیا کہ کچھ اور غنیمتیں بھی ایسی ہیں جن سے اس نے تم کو نوازنے کا وعدہ فرما رکھا ہے جن کے حصول پر تم اب تک قادر نہیں ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا احاطہ فرما رکھا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے تم کو اس سے مشرف فرما دیا، اور مراد اس سے فتح مکہ ہے، [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک اور بڑی کامیابی کا اللہ نے تم سے وعدہ فرما رکھا ہے جو ابھی تک تم کو حاصل نہیں ہوئی، لیکن اس کے حصول میں اب زیادہ دیر نہیں ہے، اللہ نے اسکا احاطہ کر رکھا ہے اور جس کا احاطہ اللہ نے کر رکھا ہو وہ بہرحال ہو کر رہے گی۔
[ 52] اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر، سبحانہ و تعالیٰ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اور جب وہ پوری قدرت رکھتا رکھتا ہے تو پھر اس کے لئے نہ کچھ مشکل ہوسکتا ہے، اور نہ ہی کوئی چیز اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر چونکہ اس کا ہر کام اس کی حکمت بالغہ کے مطابق ایک خاص موقع اور خاص وقت ہی سے مربوط ہوتا ہے، اس لئے وہ اسی کے مطابق وقوع پذیر ہوتا ہے۔ سو وہ قادر مطلق اپنی نصرت کا یہ کرشمہ بھی بہت جلد پورا کرکے دکھائے گا اس لئے دل کا بھروسہ ہمیشہ اور ہر حال اسی وحدہٗ لاشریک پر رکھا جائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ سب اس بات کا ثبوت اور اس کے آثار و نتائج ہیں کہ حدیبیہ کی صلح واقعی فتح مبین یعنی کھلی ہوئی فتح تھی جس سے حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا تھا اور جس کی اصل حقیقت اس وقت عام لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی عنایات و برکات اس کے بعد سب کے سامنے پوری طرح واضح ہوگئیں۔ فالحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 48:22[ 53] حدیبیہ والوں کیلئے فتح مقدر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حدیبیہ والے ان بندگان صدیق و صفا کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اس موقع پر اگر تمہاری ان کافروں سے مڈبھیڑ ہوجاتی تو انہوں نے یقینا پیٹھ دے کر بھاگنا تھا۔ یعنی اہل حق سے۔ سو اگر اس موقع پر وہ تم سے لڑ جاتے اور تمہارے مقابلے کی نوبت آجاتی تو بھی فتح یقینا تمہاری ہی تھی کہ حق پر تم ہی ہو، اور اللہ کی مدد بہرحال تمہارے ہی ساتھ ہے، اور انہوں نے بہرحال پیٹھ دے کر بھاگنا تھا، سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حدیث میں جو مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس میں مسلمانوں کی شکست کا کوئی اندیشہ تھا، نہیں بلکہ اس میں کچھ دوسری مصلحتیں کار فرما تھیں، جن میں سے ایک حکمت اور مصلحت یہ تھی کہ ان مسلمانوں کو کوئی گزند نہ پہنچے جو مکہ میں گرفتار بلا تھے۔ نیز اس میں یہ مصلحت بھی تھی کہ تاکہ مسلمانوں کو مزید ابتلاء و آزمائش سے گزار کر کندن بنادیا جائے اور تاکہ اس طرح ان کی اخلاقی قوت و برتری نکھر کر سب کے سامنے آجائے وغیرہ وغیرہ۔ ورنہ اس موقع پر اگر جنگ ہوجاتی تو بھی یقینی طور پر ان کافروں نے شکست کھانا اور پیٹھ دے کر بھاگنا تھا، اور ایسی صورت میں یہ اس طرح پٹتے کہ ان کا کوئی کارساز و مددگار سہارا دینے کو نہ ملتا، والعیاذ باللّٰہ۔
[ 54] کفر و شرک محرومیوں کی محرومی، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کفار مشرکین اہل حق کے مقابلے میں شکست کھاتے، پیٹھ دے کر بھاگتے، اور ایسے میں یہ اپنے لئے نہ کوئی یار پاتے نہ مددگار چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر یہ لوگ اپنے لئے نہ کوئی یار پاسکتے نہ مددگا۔ جو ان کی کوئی حمایت کرسکتا یا مدد کو آسکتا، کہ اللہ اور اس کے رسول سے مقابلے کا لازمی انجام یہی ہوتا ہے کہ فتح تو بہر حال حق والوں ہی کو ملتی ہے، اگرچہ ایسا کچھ آزمائشوں سے گزرنے کے بعد ہی ہو، اور ذلت و رسوائی اہل باطل ہی کا مقدر ہوتی ہے اگرچہ مہلت پر مہلت اور ڈھیل پر ڈھیل ملنے کے بعد ہی ہو، سو ان لوگوں کیلئے غرور میں آنے اور صلح حدیبیہ کے معاہدے کو تمہاری کمزوری پر محمول کرنے کا کوئی موقع نہیں، بلکہ ان کو تو اللہ تعالیٰ کے اس کرم و احسان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ان کو ڈھیل دے کر اپنے بارے میں سوچنے اور حالات پر غور کرنے کا موقع دیا، تاکہ اس طرح جس نے راہ راست پر آنا ہو وہ اس پر آجائے نہیں تو وہ اپنے آخری انجام کو پہنچے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو قوت بہرحال حق اور اہل حق کی ہے، باقی سب دھوکے اور اندھیروں میں ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ وضلال، وسوئِ وانحراف، وھو الھادی الی سواء السبیل۔
Ayah 48:23[ 55] رسولوں کے مکذبین کے بارے میں سنت الٰہی کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی سنت اور اس کے اس دستور کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے اور جو اس نے رسولوں کے مکذبین کے بارے میں ٹھہرا رکھا ہے کہ جب ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا تو ان کو دھرلیا جاتا ہے۔ نیز یہ کہ غلبہ اللہ پاک کے رسولوں ہی کا ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کتب اللّٰہ لآغلبین انا ورسلی } اور اللہ تو ہے سب پر غالب، سبحانہ وتعالیٰ ، پس ہر فیصلہ کن معرکہ میں آخری فتح حق ہی کی ہوگی، نیز یہ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو مہلت اور ڈھیل ملتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو ان کو دھرلیا جاتا ہے اور ایسا اور اس طور پر کہ ان کیلئے کہیں بھی کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی، اور ان کو ہمیشہ کیلئے مٹا کر رکھ دیا جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ، اور اللہ کی یہ سنت ایسی اٹل اور اس قدر حتمی ہے کہ اس میں تم کوئی تبدیلی نہیں پاس کو گے۔ تمام رسولوں کی تاریخ اس کی شاید ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔