Ayah 47:22[ 61] دین حق سے روگردانی کا نتیجہ فساد فی الارض۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا اس بات کے سوا اور کسی بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم لوگ پھرگئے دین حق اور راہ ہدایت سے کہ تم فساد مچاؤ اللہ کی زمین میں، اور رکاوٹ ڈالو آپس کے رشتے میں " کہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور اس سے محروم ہونے کا یہ طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہے کہ تم جہالت و گمراہی کے ان ہی اندھیروں میں گر پڑو جن میں نور اسلام کے طلوع ہونے سے پہلے پڑے ہوئے تھے۔ اور وہی قتل و غارت گری اور وہی لوٹ مار و قطع رحمی کرنے لگو جو تم لوگ اسلام سے پہلے کے دور جہالت میں کیا کرتے تھے۔ یہ { تولیتم } کے معنی کا ایک احتمال ہے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر یہ لفظ " تولی " بمعنی " والیو حاکم " بننے کے ہو۔ یعنی یہ لفظ " ولی " سے نہیں " ولایۃ " سے ماخوذ ہو۔ مطلب یہ کہ تم لوگ جو اپنے دین و ایمان کی حفاظت اور اس کے دفاع کیلئے لڑنے سے جان بچانے، اور کنی کتراتے ہو تو تم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ تم حکومت و اقتدار ملنے کی صورت میں قتل و غارت گری اور قطع رحمی و خون ریزی کی وہی تاریخ دوہراؤ جو ایمان و ہدایت سے محروم لوگوں کا وطیرہ اور ان کا شیوہ ہوتا ہے حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ فتنہ و فساد اور ہلاکت و تباہی ہے۔ کہ اس کے نتیجے میں انسان حق اور ہدایت کے نور سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ذوب کر اور گھر کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر مقام پر، اور ہر اعتبار سے راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 47:23–24[ 62] دین حق سے اعراض وروگردانی کا نتیجہ لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار کے حقداروں کی نشاندہی فرما دی گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر لعنت کردی اللہ نے " اور ان کو اس سے اپنی رحمت سے محروم اور دور کردیا کہ اس سے قریب ہونے اور اس کی خاص رحمت کے سائے میں داخل اور شامل ہونے کا طریقہ تو ایمان و اطاعت کا طریقہ ہی ہے۔ اور اس سے ایسے بدنصیب لوگوں نے منہ پھیرلیا۔ اور جب طلب صادق کے بغیر دنیائِ دوں کا کوئی حقیر مال و متاع بھی کسی کو نہیں مل سکتا تو پھر ہدایت جیسی عظیم الشان دولت کیسے مل سکتی ہے ؟ { انذر مکموھا و انتم لہا کارھون } [ ھود : 28] یعنی کیا ہم تم سے ہدایت کو چپکا دیں گے جبکہ تم اس کو ناپسندہی سمجھتے رہو ؟ " پس ایمان و یقین کی دولت اور اطاعت خدا اور رسول سے منہ موڑنا اور ردوگردانی کرنا دارین کی ہلاکت و تباہی کا سامان و پیش خیمہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ الذی لا الہ الاھو جل و علا شانہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ دین حق سے اعراض و روگردانی اور اس نعمت عظمیٰ کی بےقدری اور ناشکری کے باعث یہ لوگ اللہ کی لعنت و پھٹکار کے مورد و مستحق قرار پائے۔ اور نہایت ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 63] دین حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو اجاگر فرما دیا گیا کہ دین حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ و انجام نور بصیرت و بصارت سے محرومی والعیاذ باللّٰہ، کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار کے نتیجے میں ایسے لوگوں کے کان بہرے ہوگئے اور ان کی آنکھیں اندھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حق اور ہدایت کی روشنی دکھائی اور ان کے سامنے یہ حقیقت اچھی طرح واضح بھی ہوگئی کہ یہ روشنی اللہ تعالیٰ ہی کی بخشی ہوئی اور اسی کی عطا کردہ ہے۔ تو پھر ایسوں کو یہ حق سننا نصیب اور نہ حق دیکھنے کی توفیق ہوئی۔ تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت نصیب ہو تو کس طرح اور کیونکر ؟ اور اللہ پاک کا قانون یہی ہے کہ جو حق سے منہ پھیرلے اس کو اس طرح اندھا بہرا کردیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 47:25[ 66] منافقت ارتداد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ پیٹھ دے کر پھرگئے راہ حق و ہدایت سے اس کے بعد کہ راہ ان کیلئے پوری واضح ہوگئی "۔ جیسے اہل کتاب اور منافقین جو حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھرگئے اور وہ اندھے بہرے بن گئے تو ایسے لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا شعور و احساس نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو منافق لوگ زبانی کلامی اسلام کا نام لینے اور ایمان کا دم بھرنے کے باوجود اپنے ارتداد ہی پر قائم ہیں۔ اس کے باوجود کہ یہ حقیقت ان کے سامنے اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ راہ حق و صواب یہی ہے جس کی دعوت حضرت امام الانبیاء دے رہے ہیں۔ اور ان لوگوں نے خود آگے بڑھ کر اس کو قبول بھی کیا۔ لیکن شیطان کے فریب میں آکر یہ اس سے پھرگئے اور حرمان نصیبی کے انتہائی ہولناک اور گہرے کھڈے میں جاگرے، اور اس طرح یہ لوگ کفر و ضلال کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کر رہ گئے اور انہوں نے حق و ہدایت کی دولت کو پالینے کے بعد ضائع کردیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر قسم اور اس کے شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 67] گمراہوں کیلئے شیطان کی تسویل و تسویف کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کو یقینا شیطان نے اپنے فریب میں مبتلا کردیا اور انکو امیدوں کے جال میں پھنسا دیا "۔ کہ اس نے ارتداد سمیت ان کی سب برائیوں کو ان کی نظروں میں عمدہ اور خوشنما بنا کر دکھایا۔ اور ان کی لمبی لمبی اور بےبنیاد امیدوں اور آرزوؤں میں پھنسا دیا، کہ صاحب ابھی بہت عمر پڑی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ اور عیاشیاں اور خرمستیاں کرلو۔ اور آخر میں جا کر توبہ کرلینا۔ یا یہ کہ فلاں دیوی یا دیوتا کے چرنوں میں سر ٹیک لو۔ تمہارا کام بن جائے گا۔ یا یہ کہ تم فلاں ہستی یا " سرکار " کا لڑ پکڑ لو۔ اور ان کا دامن تھام لو۔ ان کو خوش کرلو۔ ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے حضور نذرانے پیش کرلیا کرو۔ ان کے نام کی نیازیں دے دیا کرو۔ اور ڈالیاں لے جایا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بس وہ تمہارا سب کام خود بنادیں گی۔ " تمہاری ان کے آگے اور ان کی خدا کے آگے "۔ آخر جہاں سے اونٹ گزرتا ہے وہاں سے اس کی دم بھی گزر جاتی ہے "۔ پھر تمہیں پرواہ کس کی ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور دوسرا مطلب " واملی لہم " کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈھیل سے رکھی ہے۔ یعنی شیطان نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور اللہ پاک انہیں فوراً پکڑتا نہیں۔ تو اس سے یہ لوگ مزید بدمست اور لاپرواہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس طور پر کہ ان کو اپنی اس محرومی کا احساس، شعوری نہیں، بلکہ یہ لوگ اپنی کفریہ باتوں کو اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں۔ تو پھر ان سے بچنے اور توبہ کرنے کا کیا سوال ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 47:26[ 68] منافقین کے راندہ و درگاہ ہونے کے سبب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے سازباز کی۔ یعنی مشرکین عرب اور کفار اہل کتاب سے۔ جیسا کہ منافقین مدینہ نے یہود بنو قریظہ اور بنو نضیر سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ساز باد کی تھی اور ان کو بہت کچھ سبز باغ دکھائے تھے۔ [ مراحی، محاسن اور مدارک وغیرہ ] اور یہی حال ایسے لوگوں کا ہمیشہ رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس کے نمونے اور مظاہر یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اور جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد میں منافقوں کے راندہ و درگاہ اور محروم و مردود ہونے کے سبب کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے شیطان کے ھوالے کردیا کہ ان لوگوں نے حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود اسلام کے ان دشمنوں کے ساتھ ساز باز کی جو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب حق سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ یہ ان کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم بعض معاملات میں آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور آپ لوگوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ { ذلک بانھم قالوا للذین کرھوا ما نزل اللّٰہ سنطیعکم فی بعض الامر ج واللّٰہ یعلم اسرارھم } [ محمد : 26 پ 26] سے ارشاد یہود اور قریش کے ان لیڈروں کی طرف ہے جن کی اسلام دشمنی بالکل واضح تھی۔ لیکن یہ منافقین اس کے ابوجود ان سے کہتے اور ان کو اطمینان دلاتے کہ ہرچند کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اس کے باوجود مشکل وقت آنے پر ہم آپ لوگوں کا ساتھ دیں گے۔ سو اس بنا پر یہ لوگ راندہ درگاہ ہوگئے ہیں۔ اور قدرت کی بےآواز لاٹھی ان پر ایسی اور اس طور سے برسی کہ ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم
[ 69] منافقوں کے منافقانہ کردار کا ایک نمونہ و مظہر، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو اس سے منافقوں کے منافقانہ کردار کا ایک نمونہ اور مظہر پیش فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے ایمان و اسلام کے بلندو بانگ دعو وں کے باوجود کھلے کافروں سے کہیء اور ان کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم بعض معاملات میں تمہاری بات مانے گے، اور تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔ جیسے جہاد سے کنی کترانا۔ پیچھے بیٹھے رہنا۔ اور دوسرے مسلمانوں کی ہمتوں کو بھی پست کرنا اور ان کے حوصلے توڑنا وغیرہ۔ [ مدراک، محاسن، صفوۃ وغیرہ ] سو اس سے اس بات کو واضح فرما دیا گیا کہ منافق لوگوں نے یہود اور قریش کے ان کھلے کافروں سے ساز باز کرتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم اگرچہ بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اندر سے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اور حسب ضرورت و موقع تمہارا ساتھ دیں گے۔ اور اس معاملے میں ہم کسی کی بھی خوشی یا ناخوشی کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔ انہی منافقوں کے بارے میں سورة حشر میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ یہود کے پاس جاجا کر ان کو اطمینان دلاتے کہ اگر آپ لوگوں کو یہاں سے نکالا گیا تو یقینا ہم بھی آپ کے ساتھ یہاں سے نکل جائیں گے۔ اور آپ کے بارے میں کسی کی بھی بات کا ہرگز کوئی لحاظ نہیں کریں گے۔ اور اگر آپ سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور آپ کی مدد کریں گے۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ اگر ان ۔ یہود ۔ کو نکالا گیا تو یہ لوگ ان کے ساتھ کبھی نہیں نکلیں گے۔ اور ان سے لڑائی کی گئی تو یہ ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر کوئی مدد کی بھی تو یہ یقینی طور پر پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ پھر ان کی کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں کی جائے گی [ الحشر : 11-12] سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ منافق لوگ کھلے کافروں سے بھی زیادہ خطرناک دمشن ہیں کہ ان کی حیثیت مارآستین کی ہے۔ جو کہ باہر سے سانپ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ظاہری اور باطنی چھپے اور کھلے ہر قسم کے دشمنوں سے اپنے حفظ وامان میں رکھے، اور ان کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ اللہم انا نجعلک فی نحورھم، ونعوذبک من شرورھم، من کانوا، واینما کانوا۔ اللہم خذھم اخذ عزیز مقتدر، وانزل بھم باسک الذی لاتردہ عن القوم المجرمین، خصوصا منھمء ھوالاء الیھود والھنود، ومن والاھم، فانھم اعداء للحق ولاہل الحق، وانھم ہم الظالمون الغاشمون۔ وانھم لا یعجزونک، فانت علی کل شیئِ قدیر، بیدک ناصیۃ کل شئی، یا ذا الجلال والاکرام، وبا احم الراحمین واکرم الاکرمین۔
[ 70] اللہ تعالیٰ سے کسی کی کوئی حالت مخفی نہیں رہ سکتی، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ خوب جانتا ہے ان کی رازداریوں اور خفیہ سازبازکو "۔ کہ اس سے کوئی بھی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔ کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اور ہر چیز کو جانتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ ان منافقین نے خفیہ طور پر ساز باز کی مگر اللہ پاک نے اس طشت ازبام کرکے خود ان کو رسوا کردیا۔ لیکن یہ لوگ ہیں کہ شیطان کی تفریر اور دھوکہ دہی کی بنا پر اس سب کے باوجود اپنی انہی منافقانہ چالوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ان کو اس امر کا کوئی پاس و احساس نہیں کہ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ان کی یہ سب حرکتیں دیکھ رہا ہے۔ مگر چونکہ شیطان نے اپنی تلبیس سے ان کی ایسی ہر برائی کو ان کے سامنے ایسا خوشنما بنا کر پیش کیا ہے کہ یہ اس بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ اور یہ اپنی برائیوں پر پچھتانے اور افسوس کرنے کی بجائے الٹا ان کو اپنی چالاکی و ہوشیاری اور دانش مندی سمجھتے اور ان پر اتراتے اور فخر جتلاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کے دلوں پر ایسے تالے پڑگئے کہ حق کی سمجھ بوجھ ہی اس سے چھن گئی۔ ان کے دلوں پر مہر لک گئی اور یہ ہمیشہ کیلئے ہر خیر سے محروم ہو کر رہ گئے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ ان کی ایسی تمام رازداریوں سے واقف و آگاہ ہے۔ اور اس کا انجام عنقریب ہی ان کے سامنے آجائے گا اور ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان ہوگا کہ یہی تقاضا ہے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا سبحانہ وتعالیٰ ، فالحمدللہ الذی شرقنا بہ بمحض منہ وکرمہ واحسانہ، اللہم فزدنا منہ وثبتا علیہ۔
Ayahs 47:27–29[ 71] منافقین و منکرین کا حال بدان کی موت کے موقع پر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب کہ فرشتے ان کی جان قبض کریں گے اور وہ مار رہے ہوں گے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر "۔ ان کے روحوں کو نکالنے کے لئے۔ سو جس مار کے ڈر سے آج یہ لوگ جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے اور اس سے بھاگتے ہیں وہ ان پر اس وقت اس دنیا ہی میں پڑنا شروع ہوجائے گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔ تو پھر کون ان کا ایسا ہمدرد اور یار و مددگار ہوگا جو ان کو اس مار اور اس عذاب سے چھڑا سکے ؟ والعیاذ باللہ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لیے یہ دعوت ہے کہ تم اس برے اور ہولناک انجام سے بچنے کے لئے اسلام کی پناہ میں آجاؤ، اور آج اس کی فکر کرلو قبل اس سے کہ فرصت حیات ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑجائے۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ یہاں ان کے مونہوں اور ان کے ادبار کو ایک ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے یعنی { وجوھھم وادبارھم } فرمایا گیا ہے۔ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کافر کا دبر اور اس کا منہ ایک برابر ہوتے ہیں کہ اس کے دبر سے حسی اور ظاہری نجاست اور گندگی نکلتی ہے اور اس کے منہ سے کفر کی معنوی گندگی و نجاست۔ جو کہ ظاہری اور حسی گندگی سے بھی بڑھ کر گندی اور خطرناک ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دولت ایمان و یقین سے محروم اور کفر و انکار کو اپنے گلوں سے لگانے والے لوگ کتنے بدبخت اور کس قدر محروم و منحوس ہیں۔ اوروں کی ظاہری کے پیچھے کس قدر گند بھرا پوا ہے اور کیسی غلاظت مخفی و مستور ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کتنی بڑی سرفرازی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرقنا بہ بمحض منہ وکرمہ واحسانہ، اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ، یا ذا الجلال والاکرام۔
Ayahs 47:30–31[ 75] نفاق اور حسد کے روگیوں کو تنبیہ، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا اور ان کے نفاق پر اسی طرح پڑا رہے گا ؟ " استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ اللہ پاک ان کے دلوں کے کھوٹ ضرور ظاہر فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة توبہ میں اس نے اپنے پیغمبر کیلئے ظاہر فرمایا۔ اسی لئے اس سورة کریمہ کو " فاضحۃ " [ منافقوں کو رسوا کرنے والی سورت ] بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھے، آمین بہرکیف یہاں پر منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جو مسلمانوں کے خلاف جو ریشہ دانیاں کر رہے ہیں تو کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کی ان حرکتوں پر ہمیشہ اسی طرح پردہ پڑا رہے گا۔ کبھی اللہ ان کو بےنقاب نہیں کرے گا ؟ سو ایسا اگر ہے تو ان کا یہ گمان بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کے نقاب کو بہرحال الٹنا ہے۔ تاکہ سب ان کو اچھی طرح پہچان لیں ان کا معاملہ پوری طرح سے واضح ہوجائے اور یہ کسی کو اپنے فریب میں مبتلا نہ کرسکیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 76] اللہ تعالیٰ منافقوں کی کھلی پہچان کراسکتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہتے تو آپ کو منافقوں کی پہچان کرا دیتے "۔ کہ ہم ان کے چہروں پر ایسی علامتیں اور نشانیاں رکھ دیتے کہ آپ ﷺ ان کو دیکھتے ہی عیاناً و جہاراً پہچان لیتے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کہ یہ ہماری صفت ستاری اور شان کریمی کے تقاضوں کے مطابق خلاف ہے۔ نیز یہ صورت حال ان بہت سے سچے اور مخلص مسلمانوں کیلئے دل آزاری کا باعث ہوتی جن کی ان منافقوں سے نسبی اور پشتینی رشتہ داریاں چلی آرہی تھیں۔ نیز اس لئے کہ دنیا کے دار الامتحان ہونے کی حیثیت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ان کی اس طرح پورے طور پر پردہ دری نہ کی جائے، کہ یہ بالکل ننگے ہو کر رہ جائیں والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس میں منافقوں کو بھی تنبیہ ہے کہ اللہ اگر چاہے تو ان کے نفاق کو سب کے سامنے پوری طرح عیاں اور آشکار کردے۔ اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو ان لوگوں کو اس قدر کرتے ہوئے اپنی اصلاح کر لینی چاہیے، اور دوسری طرف اس میں اہل ایمان کے لئے بھی آگہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر منافقوں کو عیاں نہیں کرتا تو اس میں بھی اس کی حکمت کے تقاضے ملحوظ ہیں۔ پس اہل ایمان کو ان کے بارے میں استعجال اور اصرار سے کام نہیں لینا چاہیے۔ بلکہ صبر و برداشت اور انتظار ہی سے کام لینا چاہیے۔ کہ اس میں ان کا بھلا ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 77] منافقوں کی پہچان ان کے چہروں مہروں، اور انداز کلام سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ان کو ان کے انداز کلام سے ضرور پہچان لیں گے "۔ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی کوئی منافق آنحضرت ﷺ سے بات کرتا تو آپ اس کو پہچان لیتے۔ اور یوں بھی حدیث میں آتا ہے کہ انسان اپنے دل میں جو کچھ چھپا کر رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اثرات کو اس کے چہرے مہرے پر ظاہر فرما دے گا۔ اچھائی کے اچھے اثرات، اور برائی کے برے اثرات۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا۔ " ما اسراحد سریرۃ الا کساہ اللہ جلبابھا ان خیرا فحیر وان شرًّ افشرٌّ "۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ " الوجہ عنوان الباطن "۔ کہ " چہرہ انسان کے باطن اور اس کے اندر کا عنوان ہوتا ہے "۔ پس جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے وہ سب اس کے چہرے کی سکرین پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ فسبحان اللّٰہ الخالق العظیم من عظیم قدرتہ۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا شرکیہ عقیدہ ہے۔ کیونکہ جو عالم غیب ہوتا ہے اس کو اس طرح علامتوں اور نشانیوں کے ذریعے پہچاننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیز علامتوں اور نشانیوں سے پہچاننا پیغمبر کے ساتھ خاص نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح تو دوسرے بھی بہت سے لوگ پہچان لیتے ہیں۔ جیسے قیافہ شناس اور کھوجی لوگ وغیرہ۔ البتہ ان کا یہ علم قطعی نہیں ظنی ہوتا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے صحیح حدیث میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ کے دوران نام لے لے کر مدینہ کے مختلف منافقوں کو پکارا۔ اور ان کو کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اور اس طرح آپ نے چھتیس آدمیوں کے نام لئے، مگر اس کے باوجود آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ مدینہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے نفاق کے اندر اتنے پختہ اور ماہر ہیں ان کو آپ بھی نہیں جان سکتے، جیسا کہ سورة توبہ کی آیت نمبر 101 میں اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی { ومن اہل المدینۃ مردوا علی النفاق لا تعلمہم نحن نعلمھم } یعنی مدینے والوں کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے نفاق پر اس قدر پختہ ہیں کہ آپ بھی ان کو نہیں جاتے ان کو ہم ہی جانتے ہیں، سو ایسے منافقوں کو مدینہ کے اندر موجود ہونے کے باوجود آپ نہیں جانتے ہم ہی جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ذلت اور رسوائی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 47:32[ 79] راہ حق سے روکنے والوں کا جرم ڈبل ۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے روکا اللہ کی راہ سے " اور اس طرح یہ لوگ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوئے کہ انہوں نے ضلال کے ساتھ اضلال اور غواء کے ساتھ اغوا کے جرم کا بھی ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور کفار و منکرین میں سے کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جن کا شغل شاغل یہی رہا۔ پہلے بھی یہی تھا اور آج تک یہی ہے کہ کسی طرح لوگوں کو دین حق سے روکا جائے۔ اور آج تو پوری دنیائے کفر و باطل یک زبان ہو کر حق اور اہل حق کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ اور اس کیلئے ایسے بدبخت لوگ نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اور لوگوں کو طرح طرح سے راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں۔ اور اب تو زبانی کلامی پروپیگنڈے سے بڑھ کر قوت طاقت کے ذریعے روکا جا رہا ہے جس کے نمونے اور مختلف مظاہر روزانہ سامنے آتے رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسوں کا جرم دوہرا اور ڈبل ہے۔ اس لئے ایسوں نے اپنے کئے کرائے کی پاداش میں دوہری سزا پائی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 80] جرم کی سنگینی کے ایک اور پہلو کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کے بعد کہ راہ حق و ہدایت ان کیلئے پوری طرح واضح ہوچکی "۔ یعنی ان لوگوں کا یہ طرز عمل اور طریقہئِ کار کسی بھول چوک یا غلط فہمی کی بنا پر نہیں بلکہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد تھا۔ اور ہے۔ اور یہ لوگ اپنے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔ جس سے ان کے جرم کی سنگینی دو چند ہوجاتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے لوگ دین حق کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے کہ حق تو بہرحال حق ہی ہے البتہ اس پہ خود اپنے لئے ہلاکت و تباہی کا سامان کریں گے کہ سورج پر تھوکا خود انسان کے اپنے منہ پر آلگتا ہے۔ سورج کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 81] باطل پرستوں کی حق دشمنی کا وبال خود انہی پر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ یقینا اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ بلکہ اس طرح یہ اپنا اور سراسر اپنا ہی نقصان کریں گے کہ اس طرح یہ نور حق اور دولت ایمان سے محروم ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوزوفلاح کی نعمت عظمیٰ سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑا خسارہ اور ہولناک و ناقابل تلافی نقصان ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور اس سے زور آزمائی کرنے والے منہ کی کھائیں گے اور اپنی ہلاکت اور تباہی کا سامان کریں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو باطل پرستوں کی حق دشمنی کا وبال خود انہی پر پڑے گا اور اس کا بھگتان خود انہی کو بھگتنا پڑے گا۔ اور بڑے ہی ہولناک طریقے سے بھگتنا پڑے گا۔ مگر ان لوگوں کو اس کا احساس نہیں جو کہ اور بھی بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 82] دشمنانِ حق کے اعمال اکارت، والحمدللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اکارت کر دے گا ایسوں کے اعمال کو " یعنی ان کے ان اعمال کو بھی جو یہ دین کو نیچا دکھانے کیلئے کرتے ہیں کہ دین کا جھنڈا ان کے علی الرغم بہرحال سر بلند ہو کر رہے گا۔ اور اسی طرح ان کے ان اعمال کو بھی جن کو یہ لوگ اپنے طور پر نیکی اور بھلائی سمجھ کر کرتے ہیں کہ ان کا ان کو کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ ایسے کام یہ لوگ اللہ کیلئے نہیں بلکہ اہنی نفسانی اغراض اور دیگر دنیاوی مقاصد کیلئے کرتے ہیں۔ ورنہ یہ اس پر صدق دل سے ایمان لے آتے۔ سو ایسے لوگ سراسر اپنے ہی خسارے اور نقصان کا سامان کرتے ہیں جس کا خمیازہ ان کو دنیا و آخرت میں بھگتنا پرے گا۔ اور متاع عمر کی گراں قدر پونجی کو جو کہ انسان کو دراصل آخرت کی تیاری ہی کیلئے نخشی گئی ہے اس کو یہ لوگ اسی طرح ضائع کر رہے ہیں جس نے ہاتھ سے نکلنے کے بعد پھر کبھی ملنا نہیں۔ سو یہ ہولناک خسارہ ہے جس کے تدارک و تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 47:33[ 83] اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا " اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو حکم مانو تم اللہ کا اور اس کے رسول کا اور ضائع مت کرو تم اپنے اعمال کو "۔ کفر و نفاق، ریا، ونمود، اور اذی ودلآزاری وغیرہ سے۔ حضرت ابو العالیہ ؓ اور حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح کفر و شرک کے ساتھ کوئی نیکی کام نہیں آسکتی اس طرح ایمان کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں دے سکتا۔ یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو ہم ڈرنے لگے۔ [ ابن کثیر وغیرہ ] اسی آیت کریمہ سے استدلال کرکے حنفیہ نے کہا ہے نفل عبادت شروع کرنے کے بعد لازم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسے نہ ہو تو وہ ابطال عمل کے عموم میں آجائے گی جو کہ اس آیت کریمہ کے حکم و ارشاد کی رو سے ممنوع و محذور ہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل سوئ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " تم اطاعت و فرمانبرداری کرو اللہ اور اس کے رسول کی "۔ کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ اپنے ذاتی مفادات سے لاپروا اور بالا و بےنیاز ہو کر محض اللہ کی خوشنودی کے لئے اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ سو سعادت دارین سرفرازی کا مدار انحصار اطاعت و اتباع پر ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت اور اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و پیروی ہو۔ اور اگر تم نے اس کے برعکس اطاعت و فرمانبرداری کو اپنے مفادات اور مصالح کے تابع رکھا تو پھر تمہارے تمام اعمال اکارت چلے جائیں گے اگرچہ وہ اعمال دین ہی کے ہوں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 47:34[ 84] کفر پر مرنے والوں کی بخشش کبھی نہیں ہوگی، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ کفر ہی ہر مریں گے ان کی بخشش کبھی نہیں ہوگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر اور ادوات تاکید و توثیق کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے [ دوسروں کو بھی ] روکا پھر ان کی موت بھی کفر ہی کی حالت پر آگئی تو اللہ ان کی کبھی بھی بخشش نہیں فرمائے گا اور یہ اس لئے کہ یہ لوگ کفر پر ہی اڑے رہے اور ان کی موت بھی کفر ہی کی حالت پر آئی تو ان کیلئے ایمان لانے اور دولت حق و ہدایت سے سرفرازی کی پھر کوئی صورت نہیں اس لئے ان کو ہمیشہ کیلئے دوزخ کے اندر ہی رہنا ہوگا۔ سو کفر و شرک خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 47:35[ 85] کمزوری اور دباؤ کی صلح و سمجھوتے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سوا رشاد فرمایا گیا اور مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پس نہ تم کمزوری دکھاؤ اور نہ صلح کی درخواست کرو۔ یعنی دب کر اور جبن و بزدلی کی بنا پر صلح کی کوئی درخواست نہ کرو۔ اور جہاں ایسے نہ ہو وہاں صلح کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وان جنحوا للسلم فاجنح لھا و توکل علی اللہ انہٗ ھو السمیع العلیم۔ } [ انفال : 61 پ 10] یعنی اگر وہ لوگ جھک جائیں صلح کیلئے تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور بھروسہ اللہ ہی پر کیا کرو، سو کفر و باطل کے سامنے دبنا اور جھکنا نہ مومن کی شان ہے اور نہ ہی یہ اس کیلئے جائز ہے۔ بلکہ مومن کا کام اور اس کی شان راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور پکا رہنا ہے جیسا کہ آج افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت پوری دنیائے کفر کے مقابلے میں تن تنہا میدان کا رزار میں ڈٹی ہوئی ہے۔ اللہ ان کی مدد فرمائے۔ یہاں پر اصل صورت حال چونکہ یہ تھی کہ منافق لوگ اہل ایمان کے اندر گھسے ہوئے تھے اور وہ جنگ کا حوصلہ چونکہ رکھتے نہیں تھے اس لئے وہ صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے۔ اور مسلمانوں کو بھی وہ اسی طرح کے مشورے دیتے تھے کہ جنگ سے بچو اور صلح و صفائی سے اپنے معاملات طے کرو اور وہ اپنے آپ کو ایک صلح پسند پارٹی کے طور پیش کرتے تھے۔ اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے تھے کہ ہماری پالیسی اختیار کرنے میں ملک و قوم سب کا بھلا ہے۔ اسلئے یہاں پر اس ارشاد سے تنبیہ فرمائی گئی کہ تم لوگ بزدل ہو کر صلح اور سمجھوتے کی دعوت مت دو کہ یہ تمہاری شان کے خلاف ہے۔ کیونکہ تم حق پر ہو اور حق مغلوب نہیں غالب ہوتا ہے۔ کہ غلبہ حق ہی کا حق ہے جیسا کہ فرمایا گیا الحق یعلو ولا یعلیٰ علیہ یعنی حق غالب ہی رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا۔ والحمدللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، سبحانہ و تعالیٰ ۔
[ 86] غلبہ اور سربلندی ایمان والوں ہی کیلئے ہے، والحمدللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " غلبہ بہرحال تمہارا ہی ہے اسے مسلمانو ! "۔ کہ تم حق ہی کے لئے مقدر ہے۔ اور تمہارے ساتھ اللہ پاک کی نصرت و حمایت ہے۔ اس ایمان و یقین کی بنا پر جو تمہیں حاصل ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا { ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین } [ آل عمران : 139 پ 4] یعنی غالب تم ہی ہو اگر تم واقعی ایماندار ہو۔ پس تم کبھی کمزوری اور بزدلی دکھاتے ہوئے صلح اور سمجھوتے کے داعی مت بننا۔ بلکہ تم عزم و ہمت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مستعد اور کمر بستہ ہوجاؤ۔ اور یاد رکھو کہ اگر تم لوگ سچے ایمان و یقین کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اٹھو گے تو تم ہی سر بلند ہوگے اور تمہارے دشمن ہی مغلوب اور ذلیل و خوار ہوں گے، پس شرط صرف اتنی ہے کہ تم لوگ واقعی ایمان دار ہو، یعنی صرف زبانی کلامی ایمان کے دعویدار نہ بنو، بلکہ ایمان و یقین کا نور تمہارے دلوں کے اندر جاگزیں ہو، اور اپنی عملی زندگی میں تم اس کے تقاضے پورے کرتے ہوآ۔ فبا للّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 87] اللہ تعالیٰ کی مدد اہل ایمان کے ساتھ، والحمدللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی اپنی نصرت و امداد کے اعتبار سے۔ اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہے جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے، تو پھر تمہیں کسی کی پرواہ ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو اس میں اہل ایمان کیلئے بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ جب اللہ تمہارے ساتھ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی ساری خدائی تمہارے ساتھ ہے، سبحان اللّٰہ ! کتنی بڑی عظمت و شان ہے ایمان و اہل ایمان کی، والحمدللّٰہ جل وعلا۔ پس تم اے مسلمانو ! ہمیشہ اس بات کا خیال رکھو کہ اللہ کے ساتھ تمہارا تعلق ورشتہ صحیح اور مضبوط ہو۔ تاکہ اس کی معیت کا یہ شرف و اعزاز تمہیں ہمیشہ حاصل رہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو جب تم جہاد کیلئے اٹھو گے تو غلبہ تمہارا ہی ہوگا۔ اور تمہارے دشمن ذلیل و کو ار ہوں گے کہ تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہے۔ سو مومن کی شان بہت بڑی، اور سب سے اعلی وبالا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے دعوائے ایمان میں سچا ہو۔ اللہ تعالیٰ کمال ایمان و یقین اور صدق و اخلاص سے نوازے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
[ 88] اہل ایمان کو انکے اعمال کے بدلے کی یقین دہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ تمہیں انکا پورا پورا صلہ اور بدلہ عطا فرمائے گا۔ بلکہ وہ کئی گنا بڑھ کر اپنی شان کرم کے مطابق عطا فرمائے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس تم لوگ اطمینان رکھو کہ تمہارے اعمال کے صلہ و بدلہ کے بارے میں وہ کوئی خلاف ورزی اور بےوفائی ہرگز نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ تمہارے ہر عمل کا بدلہ تمہیں دے گا اور بھرپور طور پردے گا۔ کو اہ وہ کوئی چھوٹا عمل ہو یا بڑا۔ سو اس ارشاد میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے اعمال کے بارے میں اس طرح کا کوئی خدشہ اور اندیشہ نہ رکھو کہ تمہارے اعمال کے اجر وثواب کے سلسلے میں تم سے کوئی کمی کی جائے گی۔ بلکہ تم کو اپنے کیے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ ملے گا اور تمہارے استحاق سے بھی کئی گنا زیادہ ملے گا، کیونکہ یہ بدلہ اس " اکرم الاکرمین " کی طرف سے ہوگا جس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں اور جب تمہیں ہر عمل کا پورا صلہ اور بدلہ ملے گا تو پھر تم لوگ اس کی راہ میں کسی بھی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کرو، بلکہ ہمیشہ راہ ھق صواب میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ کہ یہی اصل مقصود ہے اور اس کی فرصت و موقع یہی دنیاوی زندگی ہے اور اس کے بعد اس کا کوئی موقع کبھی نہیں مل سکے گا۔ فبا للّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 47:36[ 89] دنیاوی زندگی محض ایک کھیل اور تماشہ :
یعنی ایک قسم کا کھیل تماشا تو وہ ہوتا ہے جو چھوٹے بچے کھیلتے ہیں۔ اور ایک قسم کا کھیل تماشا دنیاوی دوڑ دھوپ اور اس کی اس چہل پہل میں ہے، جس میں سب دنیا مشغول و منہمک ہے۔ سو یہ تمام ہری بھری اور خوبصورت ولذیذ دنیا ہے جس میں حق و حقیقت سے غافل و بیخبر لوگ اور عقل و دانش مندی کے بڑے بڑے دعویدار مشغول و منہمک ہیں۔ اور جس طرح بچوں کا وہ کھیل جو فانی و زائل اور بےحقیقت و بےمقصد ہونے کے باوجود ان کو اپنے اصل کام سے غافل کئے ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کا چکا چوند کردینے والا یہ فانی اور زائل ہونے والا کھیل تماشا بھی ان لوگوں کو اپنے اصل مقصد اور حقیقی منزل سے غافل کئے ہوئے ہے جو ایمان و یقین کی قوت اور اس کی لذت سے محروم ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ اس دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی فوائد و منافع ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے آخرت کی اپنی اصل حقیقی اور ابدی زندگی کو پس پشت ڈال رکھا ہے، اور ان کو اس کا کوئی خیال و احساس ہی نہیں کہ وہ کس قدر ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، پس کہیں تم بھی اے ایمان والو ! اس کھیل تماشے میں لگ کر اپنی اصل منزل سے غافل نہیں ہوجانا اور جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے جی نہیں چرانا، کہ یہ بہت خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 90] ایمان اور تقویٰ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم لوگ ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اجر وثواب پورے پورے عطا فرمائے گا۔ اور وہ تم لوگوں سے تمہارے مال نہیں مانگتا " کہ وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے بےنیاز ہے، اور وہ سب کو دینے بخشنے والا اور سب کا روزی رساں ہے۔ { ان اللّٰہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین }۔ اور وہ تمہیں صدقہ و خیرات وغیرہ کا جو حکم دیتا ہے تو محض تمہارے اپنے فائدے اور بھلے کے لئے جو کہ تقاضا ہے اس کی رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر " ولا یسئلکم اموالکم " کے بعد " احفا " کا لفظ محذوف ہے۔ جس کی وضاحت اس سے بعد والی آیت کریمہ میں آرہی ہے۔ اور اسی قرینے کی بنا پر یہاں پر اس کو محذوف کردیا گیا ہے۔ اور تفصیل سے پہلے اجمال کا یہ طریقہ قرآن پاک میں بڑا معروف طریقہ ہے۔ اسی وجہ سے سوالوں کے نقل کرنے میں بھی اسی طریقہء اجمال کو اختیار کیا جاتا ہے کہ اس اجمال کی تفصیل جواب سے خوب واضح ہوجاتی ہے اور " احفا " کے معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینے کے ہوتے ہیں۔ اور کسی چیز کا الحاح و اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے کے۔ سو اس ارشاد سے ان بےحوصلہ لوگوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اس امتحان میں کبھی نہیں ڈالے گا کہ تم سے تمہارے سب مالوں کا سوال کرئے۔ اور تمہارے سب مال تم سے سمیٹ کر مانگے۔ بلکہ وہ اس کا ایک حصہ اور تھوڑا سا حصہ ہی تم سے مانگتا ہے۔ اور وہ بھی اس لئے کہ اس کا تم کو بھرپور صلہ اور بدلہ دے اور اتنا اور ایسا کہ خود تمہارا ہی بھلا ہو۔ سو اس کی راہ میں خرچ کرنے سے ڈرنے اور ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ آگے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس میں خود تمہارا ہی بھلا ہے۔ پس تم لوگ اطمینان رکھو کہ اگر تم نے ایمان اور تقویٰ کی زندگی گزاری اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کیا تو یہ خسارے کا سودا نہیں، بلکہ سراسر نفع اور فائدے کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے پر عمل کا پورا پورا صلہ و بدلہ دے گا۔ اور اس طرح تم لوگ دنیا کے ان خزف ریزوں کے عوض اس واہب مطلق ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی طرف سے ابدی بادشاہی کے تخت و تاج سے سرفراز ہوؤگے۔ اس حقیقی اور ابدی بادشاہی سے جس کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت اور بادشاہی بھی ہیچ ہے، اور جس کا اس دنیا میں پورے طور پر تصور کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کے ایک ایک لمحے کو رضا و خوشنودی کی راہوں میں صرف کرنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین۔ وانہ سبحانہ وتعالیٰ سمیع قریب مجیب، وعلی ما یشاء قدیر۔
Ayah 47:37[ 91] اللہ تعالیٰ کے امتحان میں بھی کرم کا معاملہ، سبحانہ وتعالیٰ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے امتحان میں بھی نہایت کرم کا معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے کرم کی وجہ سے تم لوگوں سے تمہارے کل مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگ لیتا تو تمہارا بھانڈا پھوٹ جاتا۔ اور تم لوگ ایسا نہ کر ستے۔ حالانکہ اس کو اس کا پورا حق ہے کہ وہ سب کا خالق اور مالک حقیقی ہے، مگر اس کے باوجود وہ تم سے تمہارے سب اموال کا سوال اور مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ اس میں سے کچھ مانگتا ہے۔ اور وہ بھی محض تمہارے بھلے کیلئے کہ وہ تو ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی اور بےنیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ بھی اس کے کرم بےپایاں کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ وہ مالک کل اور حاکم مطلق ہونے کے باوجود ان اموال کو تمہاری طرف منسوب کرتا ہے۔ اور { اموالکم } کہہ کر وہ ان کو تمہارے مال قرار دیتا ہے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ مال تو سب کے سب ہیں ہی اسی وحدہٗ لاشریک کے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اگر وہ تم سے تمہارے سب مال مانگ لیتا تو تم یقینا اس کیلئے تیار نہ ہوتے، اور بخل سے کام لیتے۔ اور اس طرح تمہارا بھانڈا پھوٹ جاتا اور تمہارا وہ حسد اور کینہ جو تم لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہو وہ سب پر آشکار ہوجاتا۔ سو اس کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی اس شان کریمی کے دل و جان سے شکر گزار بنو کہ اس نے تمہیں اس طرح کے کسی کرے امتحان میں نہیں ڈالا۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو تمہارے چہرے کی نقاب نوچ کر پھینک دیتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر وہ چونکہ کریم بلکہ اکرم الاکرمین ہے اس لئے وہ اپنے بندوں کے امتحان میں بھی نہایت کرم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور اتنا کہ اس کے سوا اور کسی کیلئے اتنا ممکن ہی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی شان کریمی و رحیمی کے ہی سائے میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 92] بندوں کے بخل کی عمومی نفسیات کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تم لوگوں سے تمہارے سب مالوں کا سوال کرلیتا اور ان سب کو راہ حق میں خرچ کرنے کو کہتا تو ایسے میں تم لوگ یقینا بخل سے کام لیتے اور ان مالوں کو اس کی راہ میں کبھی خرچ نہ کرسکتے۔ کہ ان اموال سے تمہیں طبعی محبت ہے۔ اور وہ تمہاری طبیعتوں سے پوری طرح واقف ہے۔ اس لئے وہ اپنے کرم بےنہایت سے تم سے تمہارے سب مالوں کا نہیں بلکہ ان میں سے کچھ ہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اور وہ بھی خود تمہارے ہی بھلے اور فائدے کیلئے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ اس کی شان کریمی ہے کہ اس نے تمہیں اس طرح کے کسی کڑے امتحان میں نہیں ڈالا جس کے نتیجے میں تم اس طرح کی ذلت و رسوائی سے بچ گئے، فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے فضل و کرم کے ہی سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 93] اللہ تعالیٰ کی ایک اور عنایت کا ذکر وبیان :
سو اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور عنایت، یعنی اپنے بندوں کی پر دوہ داری کی عنایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے سب مال مانگ لیتا تو یقینا تم لوگ ایسا نہ کرسکتے، پس یہ اس کا تم لوگوں پر مزید کرم و احسان ہے کہ اس نے تم سے تمہارے سب مالوں کا مطالبہ نہیں فرمایا۔ جل وعلا شانہ، تبارک اسمہ و عزبر ھانہ، سو اللہ اگر چاہتا تو تم سے تمہارے سب مالوں کا مطالبہ کردیتا کہ وہ خالق ومالک ہے۔ مگر اس نے اپنی شان کریمی سے ایسا نہیں کیا۔ سو اس کے اس کرم و احسان کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس طرح کڑے امتحان میں نہیں ڈالا ورنہ وہ تمہاری اصل حقیقت کو بےنقاب کردیتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 47:38[ 94] بخیلوں کے بخل پر تعجب اور افسوس کا ذکر وبیان :
سو منافقوں کے حال پر حسرت و افسوس کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کا یہ کیا حال ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے کچھ لوگ بخل سے کام لیتے ہیں۔ یعنی جب تم لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اپنے مال اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی راہ میں جہاد کے لئے خرچ کرو کہ یہی وہ راہ ہے جسے اپنا کر تم ایک طرف سے اس کے قرب اور اس کی رضا کے عظیم الشان شرف سے مشرف ہو سکو گے، اور دوسری طرف تمہیں سچی عزت و عظمت بھی نصیب ہوگی۔ سو اس میں منافقوں کے حال پر افسوس اور حسرت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کرم و احسان کے باوجود کہ اس نے تم سے تمہارے سب مالوں کا مطالبہ نہیں کیا۔ بلکہ ان کا کچھ حصہ مانگا ہے۔ اور وہ بھی خود تمہارے ہی بھلے کے لئے۔ تو تم لوگ پھر اس میں بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہو۔ اور اس طرح خود اپنا ہی نقصان کرتے ہو۔ کیونکہ یہ مال تم کسی اور کو نہیں دے رہے۔ بلکہ خود اپنے ہی لئے خرچ کرتے ہو۔ تاکہ اس کے صلے اور بدلے میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ابدی بادشاہی سے سرشار ہوسکو۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور ہر قسم کے مزلہء اقدام اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
[ 95] ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ بخل و کنجوسی ۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کا نتیجہ بخل و کنجوسی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس قدر نفع بخش سودے کے باوجود تم میں سے کچھ لوگ بخل کا کام لیتے ہیں۔ حالانکہ تم سے سب نہیں کچھ مال مانگا جاتا ہے۔ اور وہ بھی راہ حق میں خرچ کرنے کے لئے جس کا تم کو کئی گنا اجر وثواب بھی ملے گا۔ پھر بھی تم میں سے کچھ بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ سو یہ کس قدر تنگ ظرفی اور حرمان نصیبی کی بات ہے۔ مگر ان لوگوں کو اس کا کوئی شعور و احساس ہی نہیں، جو کہ مزید خسارہ اور نقصان ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور یہ بھی قرآن حکیم کا انصاف ہے کہ یہاں پر یوں نہیں فرمایا کہ تم سب لوگ بخل کرتے ہو۔ بلکہ یہ فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ بخل سے کام لیتے ہیں یعنی سب ایسے نہیں، بلکہ یہ وہی ہیں جو دولت ایمان و یقین کی لذت سے محروم ہیں، والعیاذ باللّٰہ۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کا نتیجہ بخل اور کنجوسی ہے۔ کیونکہ ایسا شخص دنیا کے اس متاع فانی کو آخرت کی اس بادشاہی کیلئے خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پاتا جو کہ فوز و فلاح کی اصل بنیاد ہے۔
[ 96] بخل کا نقصان خود بخیل کو ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بخل کرنے کا نقصان خود بخل کرنے والے ہی کو ہوتا ہے۔ کہ اس طرح وہ دائمی اجر وثواب سے بھی محروم ہوتا ہے اور خداوند قدوس کے قرب اور اس کی رضا کی نعمت سے بھی۔ اور دوسری طرف ایسا انسان یہ مال و دولت کما کر دوسروں کیلئے چھوڑ جائے گا جس سے وہ اس کے بعد فائدہ اٹھائیں گے اور حساب کی ذمہ داری خود اس پر ہوگی۔ سو خدا تعالیٰ سے بخل کرنا خود اپنے حق میں بخل کرنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اللہ تعالیٰ جو تم سے مانگتا ہے تو وہ تمہارے ہی بھلے کیلئے مانگتا ہے تاکہ اس طرح ان کے عوض وہ تمہیں ابدی بادشاہی سے سرفراز فرمائے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو پھر اس میں بخل کیسے روا ہوسکتا ہیں ؟ والعیاذ باللّٰہ جل و علا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔۔
[ 97] اللہ ہی بےنیاز اور باقی سب اس کے محتاج :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ بتادیا گیا کہ غنی و بےنیاز صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور تم سب لوگ اس کے محتاج اور سراسر محتاج ہو۔ سو وہ تمہیں انفاق کا حکم اسی لئے دیتا ہے کہ تمہاری حاجتوں کا سدباب ہو۔ اور یہ مال خود تمہارے ہی فائدے اور بھلے کا ذریعہ بنے جو اس کی رحمت اور عنایت بےنہایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تاکہ وہ تمہارے ان صدقات کے بدلے میں تمہیں دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرے اور تمہیں حقیقی اور ابدی بادشاہی سے نوازے کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے۔ اور مسلسل و لگاتار نوازنا۔ سو ایسے میں اس کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لئے خرچ کرنے سے اعراض اور روگردانی برتنا کتنی بڑی محرومی اور کس قدر ہولناک بدبختی ہے اور ایسی محرومی کہ آگے اس سے کئی طرح کی محرومیاں پھوٹتی اور جنم لیتی ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہم فھذہ نواصینا من یدیک فخذنا بھا الی ما فیہ حبک ورضاک، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یاذالجلال والاکرام، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 98] اللہ تعالیٰ کا دین کسی کا محتاج نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم لوگ اللہ کے دین سے منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا جو دل و جان سے اس کے دین کی خدمت کریگی "۔ پس دین تمہارا محتاج نہیں تم دین کے محتاج ہو۔ اس لئے خدمت دین کی سعادت و توفیق اگر تمہیں ملتی ہے تو اسے غنیمت سمجھو اور اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کا انجام دو ۔ سنن ترمذی وغیرہ میں حجرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اس پر صحابہء کرام ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے جن کو ہماری جگہ لایا جاسکتا ہے اگر ہم دین سے پھرجائیں ؟ والعیاذ باللّٰہ، تو آپ ﷺ نے حضرت سلمان ؓ کے کندھے پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا کہ " یہ اور ان کی قوم "، " ھذا و قومہ " اور پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ئِ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ دین ثریا کے پاس ہو تو بھی اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کر کے رہیں گے۔ [ اخرجہ عبد الرزاق وعبد بن حمید جریر و ابن ابی والبیہقی والترمذی عن ابی ہریرہ بحوالہ تفسیر المراعی ] ابن کثیر کا کہنا ہے کہ بعض ائمہ نے اس روایت میں کلام کیا ہے۔ اور جامع البیان، تفسیر ابن عاشور، معارف القرآن وغیرہ نے بغیر کسی کلام اور جرح کے اس کو ذکر کیا ہے۔ سو اس آیت کریمہ سے یہ عظیم الشان عمومی درس بھی ملتا ہے کہ اگر کسی کو دین متین کی کسی طرح کی خدمت کی سعادت اور اس کا شرف حاصل ہوتا ہے تو وہ اس پر اترانے اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونے کی بجائے اس کو قدرت کا عطیہ و احسان سمجھتے ہوئے دل و جان سے اس کے حضور جھک جھک جائے کہ اس نے محض اپنی توفیق و عنایت سے اس سعادت سے نوازا ہے۔ فلہ الحمد ولہ الشکر قبل کل شیء وبعد کل شیئ، اللھم فخذنا بنواصینا الیٰ ما فیہ حبک ورضاک یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین ۔ فنحن لک، وبک، والیک، انت المستعان، وعلیک التکلان، فی کل حین وآن، انت الرحیم الرحمٰن، والحنان المنان، یاذالجلال والاکرام، یامن وسعت رحمتہ کل شیئ، وھو ارحم بعبادہ منھم لانفسھم، سبحانہ وتعالیٰ ۔