47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جو قوت میں کہیں بڑھ کر سخت (اور زیادہ) تھیں آپ کی اس بستی سے جس (کے باشندوں) نے نکال دیا آپ کو اپنے یہاں سے ہم نے ان کو ہلاک کردیا (سو ایسی افتاد پڑنے پر) ان کے لئے کوئی بھی مددگار نہ تھا

[ 32] منکرین کے زعم باطل اور ان کے کبر و غرور پر ایک ضرب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے کہیں بڑھ کر سخت تھیں۔ یعنی مکہ مکرمہ سے، جس کے باشندوں نے ظلم و زیادتی کے ساتھ اور ناحق طور پر آپ کو وہاں سے دیس نکالا دیا۔ اور اس پر یہ لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ یہ بڑے زور اور قوت والے ہیں۔ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح انہوں نے اپنے لئے کتنی بڑی بدبختی اور کس قدر ہولناک تباہی کا سامان کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج قریش کو بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے۔ جب انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کرسکتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کتنی ہی بستیاں ایس ہوئیں ہیں جو قوت و شوکت میں آپ کی اس بستی سے کہیں بڑھ کر سخت تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ اور وقت آنے پر کوئی ان کی مدد کرنے والانہ بن سکا۔ نہ ان کی جمعیت اور کثرت ان کے کچھ کام آسکی، اور نہ ہی ان کے وہ مزعومہ و من گھڑت کارساز اور خود ساختہ شرکاء جن کو دو خدا کے مقابلے میں اپنی سپر سمجھے ہوئے تھے۔ پس اللہ کی پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں چھڑا سکتا معاملہ سب کا سب اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے، حفاظت اسی کی حفاظت اور پناہ اسی کی پناہ ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہر قدم راہ حق و صواب ہی پر اٹھانے اور بڑھانے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 33] منکرین کیلئے عذاب سے بچانے والا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کے لئے کوئی مددگار نہیں تھا " جو ایسے مشکل مقام اور آڑے وقت میں ان کے کچھ کام آسکتا اور ان کو عذاب سے بچا سکتا۔ تو پھر یہ لوگ جو آپ کو اپنے اس مقدس شہر سے ظلماً نکال رہے ہیں آخر کس باغ کی مولی ہیں ؟ کی اخراج رسول کے اس سنگین جرم کے ارتکاب کے باوجود ان پہلی قوموں کے سے انجام سے دو چار نہ ہوں ؟ حضرت ابن عباس ؓ ما سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے موقع پر مکہ مکرمہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ مکہ تو اللہ کو بھی سب سے زیادہ محبوب ہے اور مجھے بھی سب سے زیادہ محبوب اور پیارا ہے۔ اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں کبھی یہاں سے نہ نکلتا۔ تو اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ [ ابن کثیر، مراغی خازن وغیرہ ] ۔ سو اس آیت کریمہ میں جہاں ایک طرف آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی و تسکین کا سامان اور عظیم الشان بشارت ہے وہاں دوسری طرف اس میں مشرکین مکہ کیلئے سخت تنبیہ اور تہدید بھی ہے کہ تم لوگ یہ نہ سمجھنا کہ پیغمبر کو نکال کر تم نے کوئی کامیابی حاصل کرلی۔ بلکہ اس طرح تم لوگوں نے دراصل اپنی تباہی و بربادی کا سامان خود اپنے ہاتھوں کردیا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا کہ اس کے چند ہی سال بعد آنحضرت ﷺ اپنی بےمثال فتح کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور آپ ﷺ کی اس فتح اور قدوم میمنت لزوم سے ان کفارہ مشرکین کے وجود اور ان کے کفر و شرک کی نجاستوں سے اس بقعہئِ مبارکہ کو ہمیشہ کیلئے پاک و صاف فرما دیا۔ والحمدللہ رب العالمین یہاں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ مختار کل ہوتے ہیں اور نہ حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو نہ پیغمبر اس قدر بےبسی کے ساتھ مکہ مکرمہ جیسے اپنے محبوب وطن کو چھوڑتے جس کو آپ ﷺ نے خود " احب البلاد " یعنی سب سے محبوب شہر قرار دیا۔ اور نہ ہجرت کا کوئی معنی و مطلب رہ جاتا کیونکہ ہجرت کا معنی و مطلب ہوتا ہے کہ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا، اور جو ہر جگہ موجود اور حاضر و ناظر ہو اس کیلئے ہجرت کے یہ معنی متحقق ہوسکتے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مت کے مارے اندھوں اور اوندھوں کو حق و ہدایت کی روشنی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی نشانی پر ہو ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جن کے لئے خوشنما بنادیا گیا ہو ان کے برے عمل کو1 اور (اس کے نتیجے میں) وہ (مست اور بےفکر ہو کر) چلے جا رہے ہوں اپنی خواہشات کے پیچھے

[ 34] مومن کی شان نور علی نور کی شان، والحمدللّٰہ جل وعلا : سو " بینتہ " یعنی روشن دلیل سے یہاں پر مراد وہ نور فطرت ہے جو قدرت کی طرف سے ہر انسان کی فطرت وجبلت کے اندر ودیعت ہوتا ہے۔ کافر اپنے اعراض و انکار سے اس کو ضائع کردیتا ہے، جبکہ مومن اس کو محفوظ رکھتا ہے۔ پھر نور وحی سے سرفراز ہو کر وہ مزید جلا پاتا ہے اور " نورٌ علی نورٌ " کا مصداق بن جاتا ہے۔ سو مومن نور ایمان و یقین کی اس متاع گرانمایہ اور نور عظیم پر قائم ہوتا ہے۔ جس سے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوزوفلاح کی راہیں روشن ہوتی ہیں، جس کی روشنی قدرت کی فیاضیوں نے اس کی فطرت میں اس کے یوم آفرینش ہی سے دویعت فرما دی تھی۔ پھر جس کے لئے اس کو عقل و فکر کی دولت بخشی گئی اور کائنات کی عبرتوں اور حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کو اس کے سامنے رکھ دیا گیا، پھر اس سب کے بعد اور ان سے بڑھ کر دین و وحی کی اس روشنی سے اس کو سرفراز فرمایا گیا جو تمام حقائق کو نکھار کر واضح کردینے والی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ اپنے خالق ومالک کی معرفت، اپنی زندگی کے اصل مقصد اور اس کے تقاضوں سے پوری طرف واقف و آگاہ ہوجاتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت و حکمت سے ایک طرف تو انسان کے اندر نور فطرت و دیعت فرمایا ہے اور دوسری طرف اس نے اس کو نور وحی سے بھی نوازا ہے۔ جس کی بنا پر مومن صادق " نورٌ علی نورٌ " کا مصداق بن جاتا ہے۔ اور اس سے اس کے ظاہر و باطن دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ اور یہی مراد ہے " بینہ " " روشن دلیل " سے۔ جبکہ کافر و منکر ہدایت و وحی کے نور سے منہ موڑ لیتا ہے جس سے اسکا نور فطرت بھی بجھ جاتا ہے اور وہ اندھیر اور اندھیرا میں گھر جاتا ہے۔ اور اندھا اور اوندھا بن کر رہ جاتا ہے۔ نہ اس کو اپنے خالق ومالک کی معرفت نصیب، نہ اپنے مقصد زندگی کا پتہ، نہ اپنے انجام کی کوئی خبر اور فکر۔ وہ بس دو ٹانگوں والا حیوان بن کر بطن و فرج کی خواہشات کی تحصیل و تکمیل میں لگ جاتا ہے، اور بس جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بکل حال من الاحوال، وفی جل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 35] نور ہدایت سے محرومی کا نتیجہ خواہشات نفس کی غلامی ۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا : سو نور ہدایت سے محروم انسان خواہشات نفس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ نور ہدایت سے محروم انسان کی زندگی کا مقصد خواہشات نفس کی تکمیل ہی ہوتا ہے اور بس۔ خواہشات کی پیروی کے سوا نہ اس کے سامنے اپنی زندگی کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے مآل و انجام کی کوئی فکر و پروا۔ تو کیا یہ دونوں قسم کے لوگ آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور طاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ " لایستویان مثلا " ان دونوں کی برابری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے یہاں پر اس کے بعد ان دونوں کے مآل و انجام کا فرق بیان فرمایا گیا ہے جو جنت کی سدابہار نعمتوں اور دوزخ کے دائمی عذاب کی صورت میں ان دونوں گروہوں کے لئے مقرر ہے۔ بہرکیف ان دونوں گروہوں کے انجام کا یکساں ہونا عقل اور فطرت دونوں کے خلاف ہے۔ اور ان دونوں کے مآلک اور انجام کا یہ فرق آخرت کے اس جہان غیب میں ظاہر ہوگا جو کہ دنیا کے اس " دار الابتلائ " کے خاتمے کے بعد ظہور پذیر ہوگا، اور جو کہ کشف حقائق اور ظہور و نتائج کا جہان ہوگا، سو وہاں پر اللہ پاک ایمان والوں کو جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے نوازے گا جبکہ اس کے برعکس ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگ اس سے محروم ہو کر دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے جو کہ خساروں کا خسارہ ہوگا۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم "۔ سو وحی اور ہدایت کی دولت سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی سب سے بڑی اور عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

شان اس جنت کی جس کا وعدہ پرہیزگار لوگوں سے کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی ایسے پانی کی جو کبھی خراب نہ ہو اور نہریں ہوں گی ایسے دودھ کی جس کا مزہ کبھی تبدیل نہ ہو اور نہریں ہوں گی ایسی شراب کی جو سراسر لذت ہوگی پینے والوں کے لئے اور نہریں ہوں گی ایسے شہد کی جس کو صاف کردیا گیا ہوگا (ہر طرح کی آلائش سے) اور ان کے لئے وہاں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے عظیم الشان بخشش بھی کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جن کو ہمیشہ رہنا ہوگا (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) اس ہولناک آگ میں اور ان کو پلایا جائے گا ایسا کھولتا ہوا پانی جو کاٹ کاٹ کر رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو ؟

[ 36] آب جنت کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہریں ہونگی ایسے عظیم الشان اور بےمثال پانی کو جو کبھی خراب نہیں ہوگا "۔ جیسا کہ دنیا کے پانی کا حال ہے کہ زیادہ عرصہ بند رہنے کی وجہ سے اس میں تبدیلی آجاتی ہے۔ رنگ و مزہ بدل جاتا ہے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور بدبو آنے لگتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ جنت کی نہروں کا پانی ایسا عمدہ اور بےمثال ہوگا کہ کبھی خراب نہ ہوگا۔ اور اس میں اس طرح کا کوئی فساد رونما نہیں ہوگا۔ دنیا میں ایسے پانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں ان سب کا منبع اور اصل سرچشمہ جنت ہی ہے۔ لیکن اس عالم ناسوت میں وہ ہمیں ملتی ہیں تو اتنے مراحل سے گزر کر اور اس قدر وسائط و وسائل کے توسط سے کہ ان کی اصل حقیقت اور ماہیت بالکل بدل جاتی ہے، اور ان کی شکل و صورت بھی کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر پانی ہی کو لیجئے جو کہ سب سے اہم اور سب سے عام چیز ہے۔ یہ فضاؤں، بادلوں، ہواؤں، دریاؤں، نالوں اور زمین کی تہوں کے مختلف مراحل طے کرکے ہم تک پہنچتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ان میں سے ہر مرحلے کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی اصل حقیقت بدل کر کچھ کی کچھ ہوجاتی ہے، بخلاف جنت کے پانی کے وہ اسطرح کے واسطے کے بغیر راہ راست حضرت حق جل مجدہ، کی طرف سے ملے گا اس لئے اس میں ان واسطوں میں سے کسی بھی واسطے کا کوئی اثر موجود نہیں ہوگا۔ اور پانی کی یہ عظیم الشان نعمت وہاں پر اپنی اصل اور حقیقی شکل میں ملے گی تو اس کی شان کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ ہمیشہ راہ حق و صواب پر گامزن رکھے اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 37] جنت کے دودھ کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا کہ وہاں پر نہریں ہونگی ایسے عظیم الشان دودھ کی جس کا مزہ کبھی تبدیل نہ ہوگا۔ جیسا کہ دنیا کے دودھ کا مزہ بدل جاتا ہے اور وہ کچھ سے کچھ بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات وہ استعمال کے قابل بھی نہیں رہتا۔ جبکہ جنت کے اس دودھ میں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے جنت اور اس کی نعمتوں کے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین دنیا میں اول تو دودھ کی نہروں کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں۔ اور پھر دودھ بھی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بدلے۔ اس طرح کے دودھ کا اس دنیا میں پایا جانا متصور ہی نہیں۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ اور جس طرح اوپر والے حاشیے میں عرض کیا گیا ہے دنیا کے پانی کی طرح یہاں کا دودھ بھی واسطہ در واسطہ ملتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وان لکم فی الانعام لعبرۃ ط نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرث و دم لبنا خالصا سآئغا للشربین } الایۃ [ النحل : 66 پ 14] اس ارشاد میں اس بات کی تصریح فرمائی گئی کہ یہ دودھ گوبر اور خون جیسی دو نجاستوں کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اور یہ چیز جہاں قدرت کی عنایت اور اس کی حکمت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے وہیں اس سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ جنت کی یہ عظیم الشان نعمت جو اس راستے سے گزر کر ہم تک پہنچتی ہے اس کی اصل اور مزاجی خصوصیات میں کس قدر فرق واقع ہوجاتا ہوگا۔ سو اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جنت کے پانی اور وہاں کے دودھ اور وہاں کے شہد اور دنیا اور یہاں کے دودھ و شہد اور پانی کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کی ان نعمتوں سے جنت کی ان نعمتوں کا محض ایک مبہم اور ہلکا سا تصور ہی کیا جاسکتا ہے اور بس ان کی اصل حقیقت وہیں کھلے گی، اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ [ 38] جنت کی شراب سراسر لذے ہوگی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا : یعنی یہاں پر اس شراب کی صفت میں " لذیذ " نہیں " لذۃ " فرمایا گیا ہے جس میں " زید عدل " کی طرح مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے اس کا ترجمہ " لذیذ " یا " مزیدار " جیسے کسی لفظ سے نہیں کیا۔ جیسا کہ عام طور ہر کیا جاتا ہے بلکہ " سراسر لذت " سے کیا ہے، تاکہ لفظ کے مصدری معنی کی قوت اور اس کے زور کا بقدر امکان اظہار وبیان ہوسکے۔ والحمداللّٰہ۔ سو جنت کی شراب بھی بےمثال ہوگی۔ دنیا میں ایسی کسی شراب کا پایا جانا ممکن ہی نہیں۔ یہاں کی شراب بدمزہ، بدذائقہ اور بدبودار اور طرح طرح کے مفاسد و مضار کی حامل ہوتی ہے جو پینے والے کی شکل ہی بگاڑ کر رکھ دیتی ہے اور بعد میں اس کی عقل کو ماؤف اور اس کے مزاج اور اخلاق کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔ سو جنت کی شراب سراسر لذت ہوگی۔ نی اس سے پینے والوں کو کسی قسم کی کوئی تلخی یا خرابی محسوس ہوگی اور نہ ان کو کسی قسم کے خمار یا کسی ناگواری کا کوئی احساس ہوگا اور نہ ہی کسی طرح کی بدمستی اور گناہ کی کوئی تحریک پیدا ہو سو وہاں کی شراب میں خوبی تو ہر ایک موجود ہوگی، مگر خرابی کوئی بھی نہیں ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیرو یجار علیہ۔ [ 39] جنت کی بےمثل شہد کا ذکر وبیان۔ والحمدللّٰہ جل وعلا : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہریں ہونگی ایسے شہد کی جس کو ہر طرح سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی وہاں کا وہ شہد حقیقی معنوں میں " غسل مصفی " ہوگا۔ سو اس کو ہر طرح سے صاف کردیا گیا ہوگا۔ اس لئے وہ ایسا نہیں ہوگا جیسا کہ دنیا کے شہدوں میں مکھیوں کے فضلات اور شمع وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے کہ جنت کا وہ شہد مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلے گا بلکہ صاف و شفاف نہروں میں رواں دواں ہوگا جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاءم بما کانوا یعملون }[ السجدۃ : 17 پ 21] یعنی " کوئی نہیں جانتا اور نہیں جان سکتا کہ جنتیوں کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ " اور جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ ما لا عین راث ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر " کہ وہاں وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوا۔ اسی لئے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ جنت کی نعمتوں کے بارے میں جو الفاظ بولے جاتے ہیں وہ محض الفاظ دنیا ہوتے ہیں جو تقریب و تفہیم کے طور پر بولے جاتے ہیں۔ ورنہ وہاں کی ان نعمتوں کی حقیقت اور ہی ہوگی جن کو اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح وہاں کا شہد بھی بےمثال ہوگا۔ کیونکہ اس دنیا میں جو شہد میسر آتا ہے وہ بہرحال مکھیوں ہی کے واسطے سے انہیں کے ذریعے میسر آتا ہے، جو ان کے پیٹوں کے فضلات وغیرہ سے پاک نہیں ہوتا۔ جبکہ جنت کا شہد اپنے اصل منبع سے نکلا ہوگا۔ اس لئے اس میں اس طرح کے کسی آمیزش اور ملاوٹ کا کوئی سوال نہیں ہوگا۔ اور اس پر کسی کیلئے " مگس کی قے " ہونے کی پھبتی کسنے کا بھی موقع نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور ہماری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر اور درگزر فرما کر محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 40] اہل جنت کے لئے ہر قسم کے پھلوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کیلئے وہاں پر ہر طرح کے پھل بھی ہوں گے " جو اپنے رنگوں، شکلوں، خوشبوؤں اور فائدوں وغیرہ کے اعتبار سے اس قدر مختلف اور اتنے متنوع ہوں گے کہ ان کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ یہاں پر یہ بات بھی نظر میں رہے کہ یہاں پھلوں کا ذکر مشروب کے بعد فرمانے سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کا استعمال محض لذت و نشاط کیلئے ہوگا نہ کہ ضرورت و حاجت کی بنا پر جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے [ حاشیہ زادہ علی البیضاوی ] بہرکیف جنت کی ان نعمتوں اور دنیاوی نعمتوں کے درمیان وہی فرق ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ دنیا کی ان عارضی اور فانی اصل حقیقت کا ادراک کسی کیلئے یہاں پر ممکن نہیں۔ اللہ پاک نے اپنے بندوں کو دنیا کی ان نعمتوں سے نوازا بھی اسی لئے ہے کہ وہ ان کے ذریعے جنت کا بقدرا مکان تصور کرسکیں۔ ورنہ ددنیا اور جنت کی ان نعمتوں کے درمیان وہی فرق ہے جو کہ حقیقت اور محاز کے درمیان ہوتا ہے لہٰذا اس فرق کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر دنیا میں فرمایا جاتا ہے وہ محض نام ہیں سو اصل حقیقت وہیں کھلے گی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، [ 41] بخشش خداوندی اہل جنت کیلئے ایک عظیم الشان انعام : سو اس واضح فرما دیا گیا کہ جنتیوں کیلئے ایک عظیم الشان بلکہ سب سے بڑی نعمت ان کے رب کی طرف سے بخشش و مغفرت ہوگی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کیلئے ان کے رب کی جانب سے عظیم الشان بخشش بھی ہوگی۔ " جو کہ ایک معنوی اور روحانی لذت ونعمت ہوگی رضائے خداوندی کی طرح۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو کہ تمام مادی اور ظاہری لذتوں اور نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] سو اس عظیم الشان بخشش خداوندی کی وجہ سے اہل جنت کی ان تمام تقصیرات و سیات کو دخول جنت سے پہلے ہی معاف فرما دیا جائے گا جو ان سے دنیا میں بتقاضائے بشریت سرزد ہوگئی ہوں گی۔ تاکہ جنت کی زندگی میں ان کی کسی طرح کا کوئی تکدر پیش نہ آنے پائے کہ وہ سراسر آرام و لذت اور سرور و سکون کی جگہ۔ اور خدائے غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی ہوگی۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے یاد آجانے اور ان کے ذکر ہوجانے کی وجہ سے ان کو کوئی خفت اور شرمندگی لاحق ہو۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اکرم الاکرمین کے اس کرم بےمثال کے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف جنت کی ان عظیم الشان نعمتوں کے ذکر کے بعد رب کی مغفرت و بخشش کے اس ذکر وبیان سے اس کی عظمت شان واضح ہوتی ہے کہ ان مادی اور ظاہری نعمتوں کے مقابلے میں یہ معنوی نعمت سب سے بڑی اور نہایت عظمت شان والی نعمت ہوگی۔ اور خداوند قدوس کی مغفرت و خوشنودی کی یہ عظیم الشان نعمت ہی دراصل وہ اصل اور اہم نعمت ہوگی جو حق تعالیٰ کی ان تمام نعمتوں کی ضامن بھی ہوگی جو اہل جنت کو وہاں پر نصیب ہوں گی۔ اور اسی سے آگے کے مدارج و درجات کی راہیں کھلیں گے۔ سو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رضا مندی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا " احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعدہ ابدا " یعنی " میں نے تم لوگوں پر اپنی رضا مندی اور خوشنودی اتارے دیتا ہوں۔ پس اب میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ " اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنی فضل و کرم سے اور اپنی شان کریمی و رحیمی کی بنا پر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ رب اغفرلی ذنبی کلہ دقہٗ وجلہٗ اولہ وآخرہ سرہ وعلانیۃ، ما علمت منہ ومالم اعلم، اللہم مغفرتک اوسع من ذنوبی، ورحمتک ارجی عندی من عملی۔ [ 42] دوزخیوں کیلئے کھولتا ہوا پانی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو ایسا کھولتا پانی پلایا جائے گا جو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو "۔ اور وہ پانی ایسا کھولتا ہوگا کہ جب وہ منہ کے سامنے لایا جائے گا تو وہ بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وقل الحق من ربکم قف فمن شآء فلیومن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بھم سرادقھا ط وان یستغیثوا یغاثوا بمآء کالمہل یشوی الوجوہ } الایۃ۔[ الکہف :29 پ 15] اور ترمذی کی حدیث میں ہے کہ وہ کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر چھوڑا جائے گا تو اس سے ان کی انتڑیوں پگھل کر ان کے ادبار سے باہر نکلیں گی۔ اور ان کی کھالیں بھی پگھل جائیں گے۔ اور اسی کو دوسرے مقام پر " صھر " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ { یصھربہ ما فی بطونھم والجلود } [ الحج : 20 پ 17] کہ " اس سے پگھل جائے گا جو کچھ کہ ان کے پیٹوں میں ہوگا اور ان کی کھالیں "۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ان دونوں گروہوں کا انجام ایک برابر نہیں ہوسکتا۔ پس دنیا میں جو ایمان و کفر والے یہ دونوں گروہ آپس میں برابر نظر آرہے ہیں بلکہ بعض اوقات کافر ومنکر انسان طرح طرح کے سامان عیش و عشرت میں نظر آتا ہے اور مومن صادق تکلیف اور مشکلات میں۔ تو اس سے دھوکے میں نہیں پڑنا کہ دنیا تو اصل میں ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے۔ نہ کے فیصلے کا مقام۔ کہ وہ آخرت ہے۔ اور ابتلاء و آزمائش کا تقاضا یہی ہے کہ اس میں ہر ایک کو کھلی چھوٹ اور آزادی دی جائے۔ تاکہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے جو چاہے کرے، اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ وثمرہ اور بدلہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں پاس کے جو کہ فیصلے اور بدلے کا دن ہوگا اور برپور طریقے سے پاس کے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں اور اس کائنات ہست و بود کی تخلیق اور اس کے وجود کی حکمت کا تحقق ہوسکے۔ سو کافر اور مومن کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ ،
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کان لگا کر سنتے ہیں آپ کی بات کو یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم دیا گیا ہے پوچھتے ہیں کہ ان صاحب نے ابھی کیا کہا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا اللہ نے (ان کی اپنی بدنیتی کی وجہ سے) اور یہ پیچھے لگ گئے اپنی خواہشات کے2

[ 43] بدنیتی کا سننا مفید نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ لوگ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں "۔ تاکہ دیکھنے والوں کو یہ تاثر دے سکیں اور ان کے سامنے یہ ظاہر کرسکیں کہ وہ بڑے غور اور اشتیاق سے سنتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی نیتیں اور ارادے صحیح نہیں ہوتے۔ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا ان کو مقصود ہی نہیں ہوتا اس لئے جس کفر و نفاق کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے اسی کو لئے ہوئے اور اسی طرح محروم کے محروم واپس لوٹتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { واذا جاء وکم قالوا وقد دخلوا بالکفر وھم قد خرجوابہ ط واللّٰہ اعلم بما کانوا یکتمون } الایۃ [ المائدہ : 61 پ 6] اور اپنی ڈبل محرومی کے ساتھ باہر نکلنے کے بعد یہ لوگ توہین و تحقیر کے طور پر دوسروں سے پوچھتے اور کہتے ہیں " اچھا تو کیا کہا ان صاحب نے ؟ " جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور عبد اللہ بن عباس ؓ سے ان کے بارے میں مروی ہے۔ [ ابن کثیر، خازن، مراغی، صفوہ، قرطبی وغیرہ ] ۔ پس یہ نتیجہ ہے بدنیتی اور خبث باطن کا۔ کہ اس کے باعث انسان کے لئے محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی اصلاح و فلاح کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن پر ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 44] منافقوں کی منافقانہ چال کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ آپ کے پاس سے لوٹتے ہیں تو مجلس کے دوسرے اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ان صاحب نے کیا کہا ؟ " سو یہاں بھی ان منافقوں کی وہی منافقانہ چال ہے کہ اس پوچھنے سے ان کا ظاہری مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ گویا ان کو جاننے اور ماننے کا بڑا شوق ہے۔ اور اسی کے اظہار کیلئے یہ سنتے وقت بھی کان لگا کر سنتے ہیں۔ مگر دل میں چونکہ خناس کا بسیرا ہوتا ہے اس لئے بعد میں یہ توہین و تحقیر آمیز لہجے اور انداز میں کہتے ہیں کہ ان صاحب نے ابھی کیا کہا ؟ واضح رہے کہ کسی کی عمدہ بات کو بھی مشتبہ بنا دینے کیلئے یہ طریقہ بڑا موثر اور کارگر ہوتا ہے۔ اس لئے منافق لوگ حضور ﷺ کے ساتھ اسی کا برتاؤ کرتے تھے اور منافق قسم کے لوگ آج تک حسب موقع اسی منافقانہ روش سے کام لیتے ہیں۔ اور اہل حق کے بارے میں وہ اسی طرح کی دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔ اور اس طرح وہ در حقیقت اپنی ہی محرومی کا سامان کرتے ہیں۔ مگر ان کو اس کا احساس و شعور ہی نہیں جو کہ اور بھی بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 45] بدنیتی اور خبث باعث محرومی، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا : چناچہ ارشاد فرمای گیا کہ " اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتا ہے "۔ جس کے باعث یہ لوگ نور حق و ہدایت سے اور دور اور محروم ہوتے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس طرح جس دوزخی کو یہ لوگ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھتے ہیں وہی ان کی محرومی اور ان کیلئے تباہی اور بربادی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ مگر ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے لوگ اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بنا پر نور حق و ہدایت سے محروم اور اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور محض حیوان بن کر اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے آپ کو اس نور بصیرت سے بھی محروم کردیتے ہیں۔ جو قدرت نے ان کی فطرت اور جبلت میں ودیعت فرمایا ہوتا ہے جس کے باعث یہ اندھیر اور اندھیرا میں گر کر اور گھِر کر رہ جاتے ہیں۔ اور بالکل اندھے اور اوندھے بن کر اپنے نفع و نقصان کے ادراک و شعور سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ سو بدنیتی اور خبث باطن کا نتیجہ و انجام محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین [ 46] نور ہدایت سے محرومی کا نتیجہ اتباع ھویٰ ، والعیاذ باللّٰہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہونے کے بعد خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے۔ سو اس کے نتیجے میں یہ اسی انجام سے دو چار ہوں گے جو ایسے لوگوں کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ کہ ہدایت سے محرومی کے بعد ان کے لئے یہی چیز باقی رہ گئی۔ کیونکہ راستے تو وہی ہیں۔ ایک " ھدیٰ " کا راستہ اور دوسرا " ھویٰ " کا۔ اول سے محروم ہونے کے بعد دوسری راہ ہی ان کے لئے جاتی ہے، جو کہ سیدھی دوزخ اور دائمی خسر ان و محرومی کی طرف جانے والی راہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس نور ہدایت سے محرومی سب سے بڑی اور نہایت ہولناک محرومی ہے۔ کہ اس کے نتیجے میں انسان اتباع ھدیٰ یعنی حق و ہدایت کی پیروی کی سعادت سے محروم ہو کر اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی میں لگ جاتا ہے، اور اس طرح وہ حیوان محض بن جاتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ سرفراز ہوگئے (نور حق) و ہدایت سے اللہ ان کو نوازے گا مزید (نور حق و) ہدایت سے اور اللہ ان کو عطا فرمائے گا ان (کے درجے) کا تقویٰ (و پرہیزگاری)

[ 47] ایمان والوں کیلئے نور ہدایت میں اضافے کی بشارت : چناچہ ارشاد فرمای گیا کہ " جن لوگوں نے راہ حق و ہدایت کو اپنایا اللہ ان کو مزید ہدایت سے نوازے گا "۔ جس سے ان کو تکثیر حسنات اور تقلیل سیآت کی توفیق ملتی جاتی ہے۔ اور راہ حق و صواب انکے لئے کھلتی چلی جاتی ہے۔ سو ایسوں کو قدرت نے جس نور فطرت سے نوازا تھا اس کو ان کے نور ہدایت ووحی سے جلا ملتی ہے۔ اور یہ نور علی نور کا مصداق بن جاتے ہیں۔ اور لذت ایمان و یقین میں قوت اور اضافے سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ منافق لوگ اس کے برعکس نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے اصل نور فطرت کو بھی گل کردیتے ہیں جس سے قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے ان کو نوازا تھا۔ جسکے نتیجے میں ایسے لوگ اندھیر اور اندھیرے میں ڈوب کر اندھے اور اوندھے بن کر رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو کیا اب یہ لوگ (قیامت کی) اس ہولناک گھڑی ہی کے متنظر ہیں کہ وہ ان پر اچانک ٹوٹ پڑے ؟ سو اس کی نشانیاں تو آہی چکی ہیں پھر جب وہ خود آپہنچے گی تو پھر ان کو کیا فائدہ اس وقت کے ان کے سمجھنے کا ؟1

[ 48] لوگوں کے لئے اتمام حجت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کی اب یہ لوگ قیامت کی اس ہولناک گھری کے اچانک ٹوٹ پر نے ہی کے منتظر ہیں ؟ "۔ یعنی حق و صداقت کی توضیح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اگر اب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اب یہ اسی کے منتظر ہیں کہ قیامت کی ہولناک گھڑی اچانک ان پر ٹوٹ پڑے اور وہ ان کا کام تمام کر دے۔ جس کے بعد ان کے لئے ہمیشہ کا خسارہ ہے۔ کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو جان لیتے اور صدق دل سے ایمان لے آتے قبل اس سے کہ فرصت ایمان و عمل ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ " الساعۃ " سے یہاں پر قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں کسی قوم پر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آتا ہے۔ جس سے وہ قوم اپنے اس آخری انجام کو پہنچ کر رہتی ہے جس کا مستحق اس نے اپنے آپ کو بنا لیا ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول اپنی اپنی قوموں کو ان دونوں ہی قسم کے عذابوں سے آگاہ اور خبردار کرتے رہے۔ اور ان دونوں میں نسبت مقدمہ اور تکملہ کی ہوتی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ اپنا رسول آخری اتمام حجت کے لئے بھیجتا ہے۔ اگر اس کی تنبیہ و تذکیر سے بھی ان لوگوں کے کان نہ کھلیں تو اس کے بعد ان کے لئے آخری چیز عذاب اور قیامت ہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ ان لوگوں کیلئے ہر طرح سے حجت تمام کردی گئی، اب ان کے لئے کسی عذر و معذرت کی گنجائش نہیں۔ اب آگے معاملہ ان کی مرضی اور اختیار پر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے اور کس طریقے کو اپناتے ہیں جو نسا راستہ وہ اپنائیں گے اسی کا پھل پائیں گے اور کہ اصول یہی ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا " اعمل ما شئت فکماتدین تدان " اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ [ 49] اشراط ساعت سے مقصود مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کی علامتیں اور نشانیاں ان کے سامنے ظاہر ہوچکی ہیں "۔ جن میں سے بڑی نشانی تو خود آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ جیسا کہ حضرت حس بصری (رح) نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی بعثت اشراط قیامت میں سے ہے۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ سے خود مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی مبارک کو کھڑا کرکے ارشاد فرمایا " بعثت انا والساعۃ کھاتین "۔ یعنی " میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح کہ یہ دو انگلیاں "۔ یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کسی تیسری انگلی کا فاصلہ نہیں اسی طرح اب میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی آنے والا نہیں۔ سو آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری خود قیامت کی ایک عظیم الشانی نشانی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { ھذا نذیر من النذر الاولی، ازفت الازفۃ } [ النجم : 56-57 پ 27] اسی طرح قیامت کی ایک نشانی معجزہ شق القمر ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { اقتربت الساعۃ وانشق القمر } [ القمر : 1 پ 27] اور شق القمر کا یہ معجزہ بھی وقع پذیر ہوچکا ہے، بہر کیف قیامت بہت قریب آلگی ہے۔ اس لئے قاس کے لئے جلدی مچانے کی بجائے اس کیلئے تیاری اور اس کی فکر کرو کہ یہی تقاضا ہے عقل اور نقل دونوں کا۔ جیسا کہ فرمایا گیا۔ { اتی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ ط سبحنہٗ وتعالیٰ عما یشرکون } [ النحل : 1 پ 14] یعنی اللہ کا حکم آگیا پس تم اس کے لئے جلد بازی مت کرو، اسی طرح اور بھی کئی نشانیاں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی بیان فرمائی ہیں۔ اور آپ ﷺ نے خود اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ اور میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ سو ایسے تمام ارشادات سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ لوگ اپنی اس غفلت شعاری سے باز آجائیں جو یہ قیامت کے بارے میں برت رہے ہیں۔ لیکن لوگ ہیں کہ پھر بھی غفلت ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ { اقتربت للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون }[ الانبیائ : 1 پ 17] اللہ تعالیٰ غفلت و لاپرواہی سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، [ 50] عذاب دیکھ لینے کے بعد کا ایمان معتبر نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ گھڑی ان کے پاس آپہنچی تو اس وقت کیا فائدہ ان کے سمجھنے گا ؟ " یعنی اس وقت کے ماننے اور ایمان لانے سے منکروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا جبکہ اصل مقصود ایمان بالغیب ہے۔ سو اس وقت ایمان و عمل کا کوئی موقع نہ ہوگا۔ پس زندگی کی اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھا لو جو آج نہیں میسر ہے۔ ورنہ ہمیشہ کا افسوس اور پچھتاوا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وجآیء یومئذٍ م بجھنم لا یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری } [ الفجر : 23 پ 30] یعنی اس روز انسان نصیحت تو قبول کرے گا، مگر اس وقت اس نصیحت کا اس کا بھلا کیا فائدہ ہوگا ؟ سو عالم آخرت کے اس تذکرے اور ایمان لانے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا۔ یعنی آخرت کے غیبی حقائق کو دیکھ لینے کے بعد کا ایمان جبکہ اصل مقصود اور مطلوب ایمان بالغیب ہے نہ کہ ایمان بالمشاہدۃ والشہود۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس آپ یقین جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور معافی مانگو اپنے گناہ کے لئے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے بھی اللہ جانتا ہے تم لوگوں کے چلنے پھرنے کو بھی اور تمہارے رہنے سہنے کو بھی2

[ 51] معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صیغہ امر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں " یہ " فاتفریعیہ " ہے۔ یعنی جب آپ کو اہل کفر اور اہل ایمان دونوں فریقوں کا حال اور مآل معلوم ہوگیا تو سعادت و نجات کی جس بنیاد۔ توحید۔ پر آپ قائم ہیں اس پر مضبوط رہیں۔ یعنی یہ عقیدہ توحید پر دوام و ثبات کی تلقین وتعلیم ہے۔ اسی لئے ہم نے ترجمہ میں " جان لو " کی بجائے " جان رکھو " کے الفاظ اختیار کیے ہیں۔ مدار نجات بہرکیف یہی عیقدہ ہے سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب فیصلہ کن گھڑی قریب ہی آلگی ہے تو تم یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت و بندگی کے لائق نہیں۔ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل و مظہر اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو لوگ اپنے فرضی معبودوں، من گھڑت دیویوں اور دیوتاؤں، اور خود ساختہ سرکاروں کے سہارے اور ان کے بل پر نچنت اور بےفکر ہیں ان کو اس وقت خود معلوم ہوجائے گا کہ خدا کے مقابلے میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا اور ان کے کام آنے والا نہیں۔ سو اب جبکہ فیصلے کی وہ گھڑی قریب آلگی ہے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ [ 52] واستغفر لذنبک من " ذنب " سے مقصود و مراد ؟: واضح رہے کہ یہاں پر " ذنب " سے گناہ کے معروف معنی مراد نہیں۔ کیونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ جمہور امت کے نزدیک ہر قسم کا گناہ سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں۔ اور حضرت سید الانبیاء (علیہ السلام) ۔ کا مرتبہ ومقام تو ان سب میں بلند اور اعلیٰ وبالا ہے۔ بلکہ یہاں پر " ذنب " سے مراد خلاف اولیٰ قسم کے وہ امور ہیں جن کو آپ ﷺ کی شان رفیع کی بنا پر " ذنب "۔ یعنی گناہ سے تعبیر فرمایا گیا اور اسی کو دوسرے مقام پر معصیت قرار دیا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا { وعصی ادم ربہ فغویٰ } الایۃ [ طہ 21 پ 16] اسی کو علمائے کرام کے نزدیک " حسنات الابرار سیات المقربین " کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ اور خداوند قدوس کے اس ارشاد کے مطابق آنحضرت ﷺ بکثرت استغفار فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ صحاح ستہ وغیرہ میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد مروی و منقول ہے کہ میں دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ [ ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ ] ۔ نیز حدیث کی کتابوں میں آپ ﷺ سے استغفار کے مختلف قسم کے کلمات اور صیغے مروی و منقول ہیں۔ مثلا صحیح بخاری [ کتاب التہجد، باب التہجد باللیل ] میں ہے کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے " اللہم اغفرلی ما قدمت وما اخرت "۔ " اے اللہ بخشش فرما دے میرے لئے اس کی بھی جو کہ میں نے پہلے کیا اور اس کی بھی جو میں نے بعد میں کیا " اسی طرح صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے۔ " اللہم اغفرلی خطئیتی وجھلی وما انت اعلم بہ منی اللہم اغفرلی ھزلی وجدی " وغیرہ وغیرہ سو اس طرح کے تمام ارشادات عالیہ میں امت مسلمہ کے لئے بڑی اہم اور تاکیدی تعلیم ہے کہ جب حضرت صادق مصدوق نبی معصوم (علیہ السلام) ۔ ہر طرح کے گناہ سے پاک اور معصوم ہونے کے باوجود اس قدر استغفار فرماتے تھے تو پھر پوری امت کے ہر ہر شخص کو جس قدر استغفار کی ضرورت ہوسکتی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ سو اس میں یہ عظیم الشان درس ہے کہ کوئی شخص اپنے رب کی عبادت و بندگی کی ادائیگی میں خواہ کتنا ہی کچھ کیوں نہ کرلے اس کو اس زعم میں کبھی مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ میں نے اس کا حق ادا کردیا۔ بلکہ ان کو ہمیشہ توبہ و استغفار ہی کرتے رہنا چاہیے۔ اور یوں یہ امر بذات خود بین و ظاہر ہے کہ بندہ جتنی بھی کوشش کرے وہ اللہ پاک کی بندگی کا حق پوری طرح ادا نہیں کرسکتا بندہ اور اس کی قوتیں سب محدود ہیں جبکہ اللہ پاک کی بخشش و عطا کا سلسلہ لامحدود ہے۔ اس لئے سب کچھ کرنے کے بعد بھی بندے کو یہی کہنا پڑتا ہے کہ میں تیرا حق ادا نہیں کرسکا، جیسا کہ سورة نصر میں نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے { فسبح بحمد ربک واستغفرہ ط انہ کان توابا } [ النصرـ 3 پ 30] تو آپ ﷺ اس کے بعد جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے اپنے رکوع سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہا کرتے تھے۔ سبحانک اللہم وبحمدک اللہم اغفرلی [ بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی وغیرہ ] ۔ سو جمہور مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم نے { لذنبک } کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ اس میں " ذنب " سے ایسے ہی خلاف اولیٰ قسم کے امور مراد ہیں۔ اس کے برعکس برصغیر کے بعض لوگوں نے { لذنبک } کا ترجمہ " اپنے خاصوں کیلئے " کیا۔ اور اس شاید وہ اور اس کے حوالی موالی یہ کہتے اور سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے کوئی بڑا تیر مار دیا ہے۔ مگر حقیقت نفس الامری اور امر واقع یہ ہے کہ یہ ترجمہ ان کلمات کریمہ کا صحیح ترجمہ بنتا ہی نہیں۔ نہ لغت وبیان کے اعتبار سے، اور نہ سلف و خلف کے ثقہ اور معتمد علما و مفسرین کرام کی تشریحات کے مطابق۔ اور مسند امام احمد (رح) میں حضرت عبد اللہ بن سرخس ؓ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ساتھ کھانا کھایا۔ پھر میں نے کہا۔ غفر اللہ لک یا رسول اللہ ﷺ " اللہ کے رسول اللہ آپ کی بخشش فرمائے " پھر میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ " کیا میں نے صحیح کیا ؟ " تو آپ ﷺ نے فرمایا " نعم ولکم " یعنی " ہاں تم نے صحیح کہا اور اللہ تعالیٰ تمہاری بھی بخشش فرمائے " پھر آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ { واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنات [ ابن کثیر وغیرہ ] ۔ سو اس حدیث گرامی میں پیغمبر نے آیت کریمہ کا مفہوم خود واضح اور متعین فرما دیا۔ ولیہ الصلوٰۃ والسلام۔ لہٰذا صحیح بات وہی ہے جو جمہور علماء مفسرین نے کہی کہ " ذنوب الانبیاء تزکہم الاولی " [ المراغی، المدارک، المحاسن وغیرہ ] یعنی حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) کے ذنوب سے مراد ترک اولیٰ قسم کے امور ہوتے ہیں۔ سو یہی مطلب واضح، متبادر، اور بےغبار ہے۔ [ 53] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے چلنے پھرنے کو اور تمہارے رہنے سہنے کو " یعنی تمہارے چلنے کو دن میں اور تمہارے رہنے سہنے کو رات میں۔ نیز تمہارے چلنے پھرنے کو دنیا میں، اور رہنے سہنے کو برزخ و آخرت میں۔ اسی طرح تمہارے ادلنے بدلنے کو اصلاب آباء اور ارحام امہات میں۔ اور رہنے سہنے کو دنیا و آخرت میں سو " متقلب " اور " مثوی " کے الفاظ کا عموم ان سب ہی مفاہیم کو شامل ہے۔ اور یہ سب ہی احوال " متقلب " اور " مثوی " کے کلمات کریمہ کے عموم وشمول میں داخل ہیں۔ یعنی اس دنیاوی زندگی اور اس کے ہر مقام اور ہر حال میں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنی طرح طرح کی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے دو حقیقتیں اور بنیادی درس ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنے چاہییں۔ ایک یہ کہ تم کسی بھی حال میں اور کسی بھی مقام پر اس وحدہٗ لاشریک سے چھپ نہیں سکتے۔ اور دوسری یہ کہ وہ تمہیں تمہارے زندگی بھر کے تمام کیے کرائے کا بھرپور بدلہ دے گا۔ لہٰذا تم لوگ اپنے بارے میں خود غور کرلو کہ اس کے ساتھ تمہارا معاملہ کس طرح کا ہے۔ اور اس کے یہاں تم کس طرح کے صلہ و بدلہ کے مستحق ہوسکتے ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ جب ایسا کامل اور محیط علم اس وحدہ الشریک کے سوا اور کسی کے لئے بھی ممکن نہیں تو پھر معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ کیونکہ جب اس کی ان صفتوں میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ نیز یہاں کے سیاق وسباق کے لحاظ سے اس میں ایک اور بڑا اور اہم درس ہے کہ اس میں پیغمبر اور مسلمانوں کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ کہ اگر تم لوگ استغفار کرتے رہے اور ہمیشہ رب کی طرف رجوع کرتے رہے تو تم جہاں کہیں بھی ہوؤگے وہ تم کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے گا۔ وہ تمہاری آمدورفت کی جگہوں اور تمہارے رہنے سہنے کے ٹھکانوں سب کو جانتا ہے۔ تو ایسے میں جب اس قادر مطلق کی حمایت و پناہ کسی کو حاصل ہوجائے تو پھر اس کو کسی اور کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ فکن اللہم لنا ولا تکن علینا، وانصرنا ولا تنصر علینا، یا ذالجلال والاکرام۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور کہتے وہ لوگ جو ایمان لائے کہ کیوں نہیں اتاری جاتی کوئی سورت ؟ پھر پر جب اتاری جاتی ہے کوئی ایسی محکم سورت جس میں ذکر ہوتا ہے (جہاد و) قتال کا تو آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے کہ وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے کسی پر چھا رہی ہو بےہوشی موت کی سو بڑی خرابی (اور ہلاکت) ہے ایسے لوگوں کے لئے

[ 54] نئی سورت کی تمنا اور خواہش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری جاتی کوئی سورت " تاکہ نئی سورت کے نازل ہونے سے ایمان و یقین میں تازگی اور مزید پختگی کا سامان ہو۔ اور اس کے احکام و ارشادات پر عمل پیرا ہو کر ہم مزید اجر وثواب کی دولت کما سکیں۔ سو اس اعتبار سے یہ سچے اہل ایمان کے اشتیاق کا مظہر تھا۔ [ مراغی، قرطبی، صفوۃ، بیان القرآن وغیرہ ] جبکہ دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ اس میں۔ الذین اٰمنوا۔ سے مراد وہ منافق لوگ ہیں جو ایمان کے محض زبانی کلامی دعوے کرتے ہیں اور بس۔ سو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ " ایسی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی جس میں جہاد و قتال کا حکم دیا گیا ہو۔ تاکہ ہم جہاد کریں۔ لیکن جب ایسی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کے حالت و گرگوں ہوجاتی ہے " جیسا کہ آگے ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ سو ایسے لوگوں کے دعوے محض زبانی کلامی ہی ہوتے ہیں اور بس۔ اور یہی قول و احتمال سیاق وسباق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ والعلم عند اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ، وعلمہ اتم واحکم جل و علا۔ [ 55] دلوں کا روگ باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیامری ہوتی ہے۔ یعنی شک و ریب اور نفاق و شقاق کی بیامری جس کے بعد انسان راہ حق و صواب میں لڑنے کا حوصلہ ہی نہیں کرسکتا۔ اور یہ منافقت کا ایک طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس مرض میں وہ کینہ اور حس بھی داخل ہے جو منافق لوگ اپنے اندر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف رکھتے تھے۔ سو دلوں کا یہ روگ باعث محرومی اور موجب ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف منافق لوگوں کے منافقانہ کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پہلے تو یہ لوگ اپنے ایمان کے بلند بانگ دعو وں اور اہل ایمان پر دھونس جمانے کیلئے کہتے تھے اور آگے بڑھ بڑھ کر کہتے تھے اور روز و شور سے مطالبے کرتے تھے کہ جہاد کے بارے میں کوئی واضح حکم نازل کیوں نہیں ہوتا۔ تاکہ ہم جہاد کریں، اور کفار و مشرکین کے مقابلے میں اپنے جو ہر دکھائیں۔ لیکن جب ایسی کوئی سورت نازل کردی جاتی جس میں جہاد کے بارے میں صاف حکم ہوتا تو دل کے ان روگیوں کی حالت دگرگوں ہوجاتی ہے۔ اور یہ طرح طرح کے بہانے ڈھونڈنے اور باتیں بنانے لگ جاتے ہیں، جس سے ان کے دلوں کا کھوٹ ظاہر ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ وجل علا بکل حال من الاحوال۔ [ 56] منافقوں کے خوف کی کیفیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جہاد کے بارے میں حکم نازل ہوجانے کے بعد یہ لوگ آپ کی طرف سے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی چھائی ہو "۔ کفار کے خوف و ڈر اور اپنے ایمان کی کمزوری یا اس کے فقدان کی وجہ سے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ قوت و شجاعت اور طاقت و ہمت کا اصل منبع و سرچشمہ ایمان و یقین، اور وہ عمدہ چیز ہے جو دلوں کے اندر ہوتا ہے، اور جو ان کو بےمثال قوت سے نوازتا ہے، اور جو اصل اور بنیاد ہے ہر خوبی و کمال کی۔ اور اس کے بالمقابل کفر و نفاق اور دولت ایمان سے محرومی۔ جڑ ہے ہر خرابی و فساد کی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اپنی وفاداری جتلاتے اور اپنی جاں نثاری کا مظاہرہ کرنے کے لئے جہاد کا ولولہ ظاہر کرتے اور اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو ایسے لوگ اس سے ڈرتے اور چھپتے پھرتے ہیں۔ اور ان کے اندر اللہ پاک سے زیادہ لوگوں کا ڈرسمایا ہوتا ہے۔ اور یہی حال ہوتا ہے ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی اصل قوت اور ہر خیر سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ جب کہ اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ [ 57] منافقوں پر اللہ تعالیٰ کی مار و پھٹکار کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی خرابی ہے ایسے لوگوں کیلئے " سو " والیٰ لہم " کا کملہ لعنت و پھٹکار اور اظہار نفرت کا کلمہ ہے۔ اور یہ تہدید و وعید کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس پر سب حضرات اہل علم و تفسیر کا اتفاق ہے۔ البتہ آگے اس کے مادہ اشتقاق اور اصل معنیٰ کے بارے میں ان کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اصمعی (رح) کہتے ہیں کہ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو کہ " قارب " یعنی قریب ہونے کے معنی میں ہے۔ اور ابو علی کا کہنا ہے کہ یہ " ویل " سے اسم تفضیل ہے۔ اور یہ مقلوب ہے۔ جبکہ رضی کا کہنا ہے کہ وعید کے لئے علم ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ کلمہ اجدر یعنی لائق ہونے کے اپنے مشہور و معروف معنیٰ میں ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کے جو کہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوں ان کے حال کے لائق یہی ہے کہ یہ کسی سورت کے نازل ہونے پر اسی قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کریں۔ بہرکیف یہ اور اس طرح کے کچھ اور معنی بھی اس کلمہ کے کئے گئے ہیں۔ اور اپنی اپنی جگہ یہ سب درست اور صحیح ہیں۔ [ روح، قرطبی، محاسن، مدارک، اور صفوۃ وغیرہ ] سو اس سے ظاہر فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں نے جب اپنے دعوائے ایمان کے ساتھ اپنے اندر بزدلی اور نفاق کی پرورش کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کی مار اور پھٹکار پڑگئی سو اس سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے قلب و باطن سے ہے۔ لوگوں سے تو وہ اپنے آپ کو اور اپنے قلب و باطن کی کیفیت کو چھپا سکتا ہے لیکن اس اللہ سے کیسے چھپا سکتا ہے جو " علیم بذات الصدور " یعنی " سینوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے " اور پوری طرح جاننے والا ہے۔ اور جس کی شان " یعلم السر واخفی " کی شان ہے۔ پس معاملہ اس کے ساتھ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور ہر حال میں اسی کی فکر و کوشش کرنی چاہئے کہ میرا خالق ومالک مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

فرمانبرداری اور بھلی بات کرنا (خود انہی کے لئے بہتر ہے) پھر جب معاملہ طے پا گیا تو اگر یہ لوگ سچے ہوتے اللہ کے ساتھ تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا

[ 58] مومن کا دستور العمل، اطاعت و اتباع : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور رسول کے بارے میں مومن صادق کا دستور العمل اطاعت و اتباع اور قول معروف ہے نہ کہ محض زبانی کلامی وعدے اور دعوے۔ سو اس ارشاد سے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں مومن صادق کے لئے دو نکاتی پروگرام کی تصریح فرما دی گئی۔ یعنی فرما نبرداری اور قول معروف۔ اور قوم معروف سے مراد ہے " سمعنا واطعنا " یعنی " سنا اور مانا "۔ اور فرمانبرداری اور بھلی بات میں خود ایسے لوگوں کا اپنا بھلا ہے کہ اس سے ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ اور یہ حیات طیبہ۔ یعنی پاکیزہ زندگی کی عظیم الشان نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں، اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی ان کو حقیقی و دائمی کامیابی ملتی ہے جو کہ سب سے بڑی کامیابی اور فوز عظیم ہے۔ سبحان اللہ ! کتنی عظیم الشان سعادت و نعمت ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی یہ سعادت نعمت جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کردیتی ہے۔ اللہ سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ اطاعت اور قول معروف یہاں پر مبتداء کے محل میں ہے۔ اس کی خبر بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ جس سے اصل مقصود مبتداء پر زور دینا ہوتا ہے کہ مخاطب کی پوری توجہ مبتداء پر مرکوز ہے۔ قول معروف سے مراد جیسا کہ اوپر گزرا " سمعنا واطعنا " کا کلمہء سمع وطاعت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں یہی حیثیت رکھتا ہے اور اللہ کے مخلص اور وفادار بندوں نے ہمیشہ اسی کلمہ سے اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کا خیر مقدم کیا۔ اور یہی بات ان کے شایان شان تھی اور ہے۔ سو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ مومن اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت و فرمابرداری کرے اور " سمعنا واطعنا " یعنی سنا اور مانا۔ کہہ کر اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم و ارشاد کے آگے سر تسلیم خم کر دے کہ یہی اس کی شان عبدیت کے لائق اور اسی کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اسی میں اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 59] سمع وطاعت تقاضاء ایمان و یقین، وباللّٰہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب معاملے کا فیصلہ ہوگیا تو اگر یہ سچ کردکھاتے اللہ کے ساتھ یعنی اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے اور صدق نیت اور اخلاص عمل کے ساتھ تو یہ بہتر ہوتا خود ان کیلئے۔ کیونکہ اللہ پاک کے یہاں کامیابی اور قبولیت کیلئے اساسی اور بنیادی شرط یہی صدق و اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف مطلب اس ارشاد کا یہ ہوا کہ ان لوگوں کے شایان شان تو یہی بات تھی کہ جہاد کا ذکر سننے کے بعد یہ لوگ " سمعنا واطعنا " کے قول معروف کے ساتھ اس کا خیر مقدم کرتے۔ پھر جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس کا حتمی اور آخری فیصلہ ہوجاتا تو یہ لوگ اپنے عمل سے اس قول کا ثبوت دیتے۔ مگر انکا معاملہ اس سے دگرگوں رہا۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ سو ایمان وطاعت کیلئے صرف زبانی کلامی دعوے کرنا کافی نہیں بلکہ سمع وطاعت اور سچی اور عملی فرمانبرداری کے ذریعے اس کا ثبوت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے اور علی وجہ الکمال نوازے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔ [ 60] سمع وطاعت کا فائدہ خود انہی لوگوں کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ لوگ اللہ کے ساتھ سچے ہوتے تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا "۔ کہ اس سے ان کو اخروی اجر وثواب، مغفرت و بخشش وغیرہ کی عظیم الشان نعمتیں بھی ملتیں، جن کے سامنے دنیا ساری کی نعمتیں بھی ہیچ ہیں۔ اور اس سے پہلے ان کو اس دنیا میں بھی سچی عزت اور حقیقی کرامت کی زندگی نصیب ہوتی۔ سبحان اللہ ! کتنی بڑی نعمت ہے یہ ایمان و یقین کی نعمت۔ اور کس قدر بڑی دولت ہے یہ صدق و اخلاص کی دولت، جو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔ اللہ اس سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے اس اہم اور بنایدی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ فراز اور بزدلی کی بجائے راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رہے، اور سمع وطاعت کا طریقہ اپناتے تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا کہ اس سے ان کی دنیا بھی بنتی اور آکرت بھی سنورتی، سو صدق و اخلاص اور سمع وطاعت سرفرازیئِ دارین کیلئے شرکلید ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔