46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 46:24–25

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

آخرکار جب انہوں نے دیکھا اس (عذاب) کو ایک ایسے بادل کی شکل میں جو بڑھا چلا آرہا تھا ان کی وادیوں کی طرف تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو ایک بادل ہے جو ہم پر برسنے آرہا ہے (ارشاد ہوا کہ نہیں) بلکہ یہ تو وہی عذاب ہے جس کے لئے تم لوگ جلدی مچا رہے تھے یہ تو ہوا کا ایک طوفان ہے جس میں ایک بڑا دردناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

جو تباہ کر کے رکھ دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم (و ارشاد) سے چناچہ اس کے نتیجے میں ان کا حال یہ ہوگیا کہ ان کے گھروں (کے کھنڈرات) کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو2

[ 58] ہر چیز اپنے رب کے حکم کی پابند، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر چیز اپنے نفع و نقصان کے سلسلے میں اپنے رب کے حکم کی پابند ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہوا ایسی زور کی اور اس قدر ہولناک ہوگی کہ ہر چیز کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دے گی اپنے رب کے حکم سے۔ یعنی اصل چیز تو حکم خداوندی ہے۔ ورنہ اس کے بغیر کسی بھی چیز سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ سو ہر چیز نفع دینے یا نقصان پہنچانے میں اپنے خالق ومالک ہی کے حکم و ارشاد کی پابند ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا حکم ملے گا ویسے ہی کرے گی۔ ورنہ بزات خود اس میں نہ کسی نفع و نقصان کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ضرررسانی کا۔ سو ہوا جس پر انسان زندگی کا مدارو انحصار ہے وہ بھی انسان کیلئے نفع اور فائدے کا ذریعہ اور سبب اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مثیت ومرضی اور اس کا حکم و ارشاد ہوتا ہے۔ ورنہ یہی ہوا دائمی ہلاکت اور تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ جیسا کہ قوم عاد کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اللہم فانا نسالک من الخیر کلہٗ عاجلہ وآجلہٗ ونعوذ بک من الشرکلہٗ عاجلہ وآجلہٗ بیدک الخیر وانت علی کل شیء قدیر۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 59] مجرموں کا انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو۔ " سو مجرم لوگ بہرحال اپنے انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے سزا انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے جرم پر مستمر رہتے ہیں۔ اور جو سچی توبہ وانابت سے اپنے جرم کو معاف کرا دیتے ہیں وہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ جاتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ دوسری بات یہ کہ جو بھی کوئی اپنے جرم پر اڑا رہے گا وہ آخر کار اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہے گا۔ اور اس کو اپنے کیے کرائے کا انجام بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ ہی وہ ذریعہ وسیلہ ہے جس سے انسان اس ذوانتقام کی گرفت و پکڑ اور اپنے کیے کرائے کے وبال و انجام سے بچ سکتا ہے۔ سو مجرم لوگ اپنے جرائم کی سزا بہرحال پاکر رہتے ہیں کہ یہی تقاضا ہے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے عدل و انصاف کا۔ پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ صرف ماضی کی کہانی اور پرانا قصہ ہے۔ بلکہ یہ ایک نمونہ اور مثال ہے مجرموں کے سزا پانے کی۔ پس اگر کل کی وہ مجرم قومیں اپنے اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آج کے مجرم اور اپنے بھگتان کے بھگتنے سے بچ جائیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے ایک اور یکساں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی جن میں تم کو نہیں دی (اے دور حاضر کے بدمست لوگوں ! ) اور ان کو ہم نے کان بھی عطا کئے تھے اور آنکھیں اور دل بھی مگر نہ ان کے کان ان کے کچھ کام آسکے نہ ان کی آنکھیں اور نہ دل کیونکہ وہ (جان بوجھ کر) انکار کرتے تھے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر کر رہی ان کو وہی چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے1

[ 60] محض مادی ترقی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو مادہ پرست منکروں کو تنبیہ کرتے ہوئے اور گزشتہ منکر قوموں کی مادی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی جن کی قدرت تم لوگوں کو نہیں دی۔ " چناچہ جسمانی ذیل ڈول، قوت و طاقت، مال و دولت کی کثرت و فروانی اور حکومت و سلطنت وغیرہ کی جو جو اور جس قدر نعمتیں ان کو دی گئی تھیں وہ تمہیں نہیں دی گئیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا کہ وہ تعداد اور قوت وغیرہ میں بھی ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور آثار و نشانات کے اعتبار سے بھی۔ { افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم ط کانوا اکثر منھم واشد قوۃ واثارا فی الارض فما اغنی عنھم ما کو انوا یکسبون } [ المومن : 82 پ 24] نیز ایک اور مقام پر فرمایا گیا { وکذب الذین من قبلہم وما بلغوا معشارما اتینھم فکذبو ارسلی قف فکیف کان نکیر } [ سبا : 45 پ 22] اور خود ان لوگوں کو اپنی اس قوت و طاقت کا اتنا گھمنڈ اور ناز تھا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت ور اور کون ہوسکتا ہے ؟ " { فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق وقالوا من اشد منا قوۃ ط اولم یرو ان اللّٰہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ ط وکانوا بایتنا یجحدون } [ حٰمٓ السجدۃ : 15 پ 24] نیز وہ کہا کرتے تھے کہ ہم مال اور اولاد میں سب سے بڑھ کر ہیں اور ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوسکتا۔ { والعیاذ باللہ العظیم، پس اس میں درس عبرت اور تنبیہ و تذکیر ہے کفار قریش اور ان کے بعد کے ہر دور کے ان منکرین و مکذبین کیلئے جو اپنی دنیاوی ترقی اور مال و دولت کی کثرت کی بناء پر مست و مگن ہو کر حق سے منہ موڑ لیتے ہیں کہ ان کا انجام بہر حال بڑا ہولناک اور انتہائی عبرت ناک ہوتا ہے۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سر خروئی سے سرفرازی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ پس یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ محض مادی ترقی اللہ کے عذاب سے نہیں ہوسکتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف، [ 61] مادی ترقی کا گھمنڈ اور کبر و غرور باعث محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ محض مادی ترقی انسان کو کبرو غرور میں مبتلا کرکے رکھ دیتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اندھا بہرا بن کر رہ جاتا ہے اور حق سے منہ موڑ کر اور اس کا انکار کرکے بالآخر وہ ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جا گرتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ماضی کی ان منکر قوموں کو ہم نے کانوں، آنکھوں اور دلوں کی تمام عظیم الشان نعمتوں سے نوازا تھا تاکہ اس طرح وہ صحیح طور غور وفکر سے کام لے کر اپنی بگڑی بنا سکیں مگر اپنے کبر و غرور اور انکار و اعراض کے باعث وہ اندھے اور بہرے بن کر رہ گئے۔ اور ایسے کہ وقت آنے پر نہ ان کے کان ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل، کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے۔ سو دنیاوی امور میں تو وہ بڑے تیز و طرازا اور ہوشیار تھے اور اس میں ان کے دل و دماغ خوب چلتے تھے مگر حق کے فہم و ادراک اور قبول و تسلیم کیلئے ان کے یہ اعضاء معطل و ماؤف تھے۔ اور اتنے کہ الٹا یہ ان کی تباہی میں اضافے کا باعث بنتے گئے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ وہ دل و دماغ اور آنکھ کان وغیرہ نہ ہونے کے برابر بلکہ اس سے بھی برے ہیں جو حق کے فہم و ادراک اور تسلیم و قبول کے کام نہ آسکیں۔ خواہ دنیاوی اعتبار سے وہ ستاروں پر ہی کمندیں ڈالنے والے کیوں نہ ہوں۔ سو آج کی مادی ترقی پر مست و مگن قوموں کیلئے اس میں بڑا بھاری درس عبرت بصیرت ہے۔ بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کان، آنکھ اور دل کے اندر بھی حقیقی روشنی اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان پر ایمان ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ آیات الٰہی کے یقین اور نور ایمان سے منور نہ ہوں تو یہ سب چیزیں بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں اور ان کی رسائی صرف محسوسات تک ہی ہوتی ہے۔ اور وہ بھی ان کے مادی فوائد اور حسی منافع کے اعتبار سے کہ کس چیز سے کتبا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طور پر۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی اصل صلاحیتیں سب کی سب بالکل کند ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اور وہ اشیاء کے مادی پہلو اور ان کے محسوس فوائد کے سوا اور کسی طرف متوجہ ہونے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ حالانکہ غور و فکر کا اصل پہلو یہی ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " ان کے پاس کان ہیں لیکن یہ ان سے سنتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن یہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس دل ہیں لیکن یہ ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے " سو تکبر و غرور اور تمردو سرکشی کے نتیجے میں انسان کے فوی علم و ادراک ماؤف ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ ایک کندہ ناتراش بن کر رہ جاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، سو اس طرح اور معدہ کے غلام انکار حق کے جرم میں مبتلا ہو کر اندھے اور بہرے اور " شرالبریہ " [ بدترین مخلوق ] بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ممکن و متصور ہی نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر قسم و شکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ [ 62] حق کا مذاق اڑانے کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار گھیر کر رہی ان لوگوں کو وہی چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یعنی وہ عذاب جس کو وہ جھٹلاتے تھے اور اس کیلئے جلدی مچایا کرتے۔ پس اس میں تنبیہ و انذار ہے کفار مکہ اور ان کی روش پر چلنے والے دوسرے تمام منکرین اور مکذبین حق کیلئے کہ حق کے انکار، اس سے مذاق و استہزا اور اہل حق سے عداوت و دشمنی کا نتیجہ و انجام بہر حال بڑا برا اور نہایت بھیانک و ہولناک ہوتا ہے۔ رب رحمن۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنی رحمت بےپایاں کی بنا پر اپنے بندوں کو اس سے خبردار کرتا ہے کہ تم اس سے بچنے کی فکر کرلو قبل اس سے کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور وہ آخری انجام اور ہولناک عذاب تم کو آدبوچے جس سے بچ نکلنے کی اور خلاصی پانے کی پھر کوئی صورت تمہارے لئے ممکن نہ ہو۔ وباللّٰہ التوفیق اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم تمہارے گرد و بیش کی اور بھی بہت سی بستیوں کو ہلاک کرچکے ہیں اور ہم نے (ان کے لئے بھی) اپنی آیتیں طرح طرح سے بیان کیں تاکہ وہ باز آجائیں

[ 63] کفار قریش اور دوسرے منکرین کو تنبیہ و تزکیر : سو ایسے تمام منکرین کو خطاب کرکے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم تمہارے گرودپیش کی اور بھی بہت سی بستیوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ " جیسے قوم ثمود، قوم سبا، قوم مدین اور قوم لوط وغیرہ۔ جن کے آثار و نشانات اور کھنڈرات یہ لوگ اپنے سردیوں اور گرمیوں کے تجارتی سفروں کے دوران خود دیکھتے ہیں۔ مگر اس سے سبق نہیں لیتے۔ اور یہ صرف وہیں کے لوگوں اور کفار قریش ہی پر منحصر نہیں، بلکہ غفلت شعاری اور لاپرواہی کی یہ روش انسان پر ہمیشہ مسلط رہی ہے۔ اور کل کی طرح آج بھی ہے۔ اس انسان مغفل کا کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ ہلاک اور تباہ شدہ قوموں کے ایسے آثار و نشانات یہاں اور وہاں پوری دنیا میں جگہ جگہ بکھرے اور پھیلے پڑے ہیں۔ اور آج کے غافل انسان کا معاملہ تو اور بھی زیادہ تعجب انگیز اور افسوناک ہے کہ یہ اس طرح کے آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے طرح طرح کے پاپڑ بیلتا ہے اور اس کے لئے بھاری خرچے بھی کرتا ہے مگر عبرت پذیری کے اصل مقصود سے یہ بھی کل کے انسان کی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر غافل اور لاپرواہ ہے۔ اور یہ وہاں جاکر ان سے درس عبرت لینے کی بجائے الٹا اپنی غفلت شعاری میں اضافے کا سامان کرتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے غافل لوگوں کے دلوں پر دستک دی گئی ہے اور ان کے ضمائر کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ اپنے اردگرد پھیلے ان آثار و نشانات میں غور وفکر سے کام لے کر تم لوگ درس عبرت لو۔ اور اپنی اصلاح کو لو قبل اس سے کہ تم اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہو جس سے پھر تمہارے لیے نکلنے اور چھٹکارا پانے کی کوئی صورت ممکن نہ رہے۔ کیونکہ اللہ کا عذاب جب آجاتا ہے تو پھر اس کو ٹالنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، [ 64] تنبیہ و تذکری کیلئے طرح طرح کے اسالیب سے کام لینے کا ذکر وبیان، والحمدللّٰہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے طرح طرح سے بیان کیا اپنی آیتوں کو تاکہ یہ لوگ باز آجائیں۔ " یعنی یہ باز آجائیں اپنی غلط روش سے، اور رجوع کرلیں باطل سے حق کی طرف۔ کفر سے اسلام کی طرف اور بغاوت و سرکشی سے اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی کی طرف۔ سبحان اللّٰہ ! رب رحمن کس قدر مہربان ہے اپنے بندوں پر اور وہ ان کو برے انجام سے بچانے کیلئے کس کس طرح انتظام فرماتا اور ان کو جھنجھوڑتا ہے۔ مگر یہ بندے کس قدر ناشکرے، بےانصاف، اور نافرمان ہیں، کہ پھر بھی سرکشی اور بغاوت ہی پر اڑے ہوئے ہیں، اور حق کی طرف رجوع کرنے کی اس سعادت سے محروم و بےبہرہ اور بےفکر و لاپرواہ ہیں والعیاذ باللّٰہ الذی لا الہ غیرہ ولا معبود بحق سواہ ولا نعبد الا ایاہ جل وعلا۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی آنکھیں کھولنے اور ان کے دلوں کے پردے ہٹانے کیلئے ان کے سامنے اپنی آیتوں کو گوناگوں انداز سے پیش کیا تاکہ یہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرکے اپنی دنیا و آخرت کے سنوارنے کا سامان کرسکیں۔ مگر انہوں نے غفلت اور لاپرواہی ہی سے کام لیا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے، اور حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayahs 46:28–29

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر (عذاب آنے پر) کیوں نہ ان کی کوئی مدد کرسکیں وہ ہستیاں جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا ؟ بلکہ (اس وقت) ان سے کھو گئیں (اور گم ہو کر رہ گئیں) وہ سب کی سب اور یہ تھا نتیجہ (و انجام) ان کے اس جھوٹ کا (جو یہ لوگ بولا کرتے تھے) اور ان کے ان ڈھکوسلوں کا جو یہ گھڑا کرتے تھے

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور (ان سے اس کا بھی تذکرہ کیجئے کہ) جب ہم نے پھیر دیا آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) جنوں کے ایک گروہ کو جو کان لگا کر سن رہے تھے اس قرآن (عظیم) کو سو جب وہ وہاں پہنچ گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ واپس لوٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر

[ 67] قرآن حکیم کی اثر آفرینی جنوں پر : سو اس سے جنوں کے قرآن سننے اور اس سے متأثر ہونے کے واقعے کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے جس میں پیغمبر کیلئے اور آپ کے توسط سے ہر داعیء حق کے لیے تسلیہ کا سامان ہے۔ یعنی اس کا عطف " اخا عاد " پر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو جنوں کا یہ واقعہ بھی سنا دیجئے تاکہ انکے سامنے یہ امر واضح ہو سکے کہ جس قرآن پر ایمان لانا تمہیں اتنا گراں ہے وہ ایسا صاف صریح اور اس قدر پر تاثیر کلام حق ہے کہ جنوں جیسی مخلوق بھی، جن کے اصل طبیعت پر شر ہی کا غلبہ ہوتا ہے، وہ پہلی ہی مرتبہ سننے سے اس پر ایمان لے آئی اور وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو حق کے داعی و مبلغ اور منذر بن کر لوٹے۔ مگر حیف ہے تم لوگوں پر تمہارے دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ صحیح اور معتبر روایات کے مطابق یہ قصہ اس وقت پیش آیا جبکہ آنحضرت ﷺ طائف سے واپسی تشریف آوری کے دوران بطن نخلہ کے مقام پر عشاء یا صبح کی نماز میں مصروف تھے۔ تو اس وقت جنوں کے اس گروہ کا وہاں سے گزر ہوا اور انہوں نے اس موقع پر قرآن کریم سنا جس سے ان کے دلوں پر اس طرح کا اثر ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو کچھ اشارات کے ذریعے اجمالی طور پر اس کا کچھ پتہ چلا مگر تفصیلی طور پر اس بارے میں معلوم نہ ہوسکا تھا۔ تاآنکہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی اور سب صورت حال تفصیلی طور پر آپ ﷺ کو بتادی گئی۔ اور اس طرح بصائر و عبر اور دروس و ہدایات کا یہ عظیم الشان مرقع آپ ﷺ کو عطا فرما دیا گیا جو راہ حق و ہدایت اور طریق فوز و فلاح کے لئے قیامت تک مخلوق خداوندی کی راہنمائی فرماتا اور ان کے لئے نشانہائے راہ کو روشن ومنور کرتا رہے گا۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین۔ سو اس میں پیغمبر کیلئے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ یہ لوگ اگر اس کتاب حکیم پر ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہ نہیں اور ہرگز نہیں کہ اس میں آپ ﷺ کا یا اس کتاب حکیم کا کوئی قصور ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں اور ان کی اپنی طبیعتوں کا فساد ان پر غالب ہے۔ ورنہ اس کتاب کی تاثیر و دلکشی کا یہ عالم ہے کہ جنوں کے کانوں میں بھی اس کی آواز پڑی تو وہ سراپا گوش بن کر اس کے آگے جھک گئے اور اس پر ایمان لے آئے۔ اور اس کی دعوت کو لے کر اپنی قوم کی اصلاح کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سو قصور آپ ﷺ کا یا اس کتاب حکیم کا نہیں بلکہ ان لوگوں کے اپنے فساد باطن اور زیغ طبع کا ہے جو ان کی محرومی کا باعث ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔ [ 68] قرآن حکیم کے لیے ادب انصات کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن کے سامنے انصات اور خاموشی ادب قرآن کا ایک اہم تقاضا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ تلاوت قرآن کی مجلس میں حاضر ہوتے ہوئے تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ خاموش رہو اور قرآن غور سے سنو۔ " تاکہ تم قرآن اچھی طرح سن کر اس میں غور و فکر کرسکو اور اس کی رحمت و برکت سے مستفید و فیض یاب ہوسکو۔ اور یہی اس کتاب حکیم کا حق اور اس کے سننے کا ادب و تقاضا ہے کہ اس کو خاموش رہ کر اور ادب و غور کے ساتھ سنا جائے۔ سو قرآن کی بھنک کان میں پڑتیہی انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خاموش ہو کر اور ادب کے ساتھ اس کلام لاہوتی کو سنو۔ تاکہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ سو ان کے اس حسن ادب کے حوالے میں مکہ اور طائف کے ان غنڈوں اور کھڑپنچوں پر تعریض ہے۔ جو اس کے برعکس لوگوں کو قرآن سے روکنے اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کرنے کیلئے اس کے مقابلے میں شوروغل کی تعلیم و تلقین کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان بدبختوں کی اس غنڈہ گردی کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ہے۔ { وقال الذین کفروا لا تسمعو لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون } [ حٰمٓ السجدۃ : 26 پ 24] ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ منکر انسان اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر بگڑ کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، بلکہ وہ ابلیس کا ہمنوا بن جاتا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں آگے نکل جاتا ہے اور اس طرح محروم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر قسم ومشکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی امان و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

(اور ان سے) کہا کہ اے ہماری قوم کے لوگوں ہم ایک ایسی عظیم الشان کتاب سن کر آئے ہیں جس کو اتارا گیا ہے موسیٰ کے بعد جو تصدیق کرنے والی ہے ان تمام کتابوں کی جو آچکی ہیں اس سے پہلے یہ (کتاب عظیم) راہنمائی کرتی ہے حق اور سیدھے راستے کی

[ 69] قرآن حکیم گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم پہلی آسمانی کتابوں کا مصداق اور ان کا ذریعہئِ تصدیق ہے۔ چناچہ ان جنوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایک ایسا عظیم الشان کلام سنا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوا۔ اور جو تصدیق کرنے والا ہے پہلی کتابوں کی۔ یعنی تورات و انجیل وغیرہ کی۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر انہوں نے یا تو اس لئے کیا کہ یہ جن خود یہودی مذہب پر تھے یا پھر اس لیے کہ پہلی کتابوں میں سے تورات سب کے نزدیک مسلم و متفق علیہ رہی ہے۔ تاآنکہ ظالموں نے اس کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز یہ کتاب مصداق بن کر نازل ہوئی ہے ان پیشین گوئیوں کی جو اس سے متعلق گزشتہ صحیفوں میں وارد ہوئی ہیں۔ سو اس کتاب حکیم کا نزول ان گزشتہ کتابوں کی ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے۔ کیونکہ اگر بالفرض یہ کتاب نازل نہ ہوتی تو وہ کتابیں اپنی ان پیشین گوئیوں میں جھوٹی قرار پاتیں۔ سو قرآن حکیم ان گزشتہ آسمانی کتابوں کا مصداق اور ان کے ذریعہئِ تصدیق ہے۔ لہٰذا اس کتاب حکیم پر ایمان لانا اہل کتاب کے اپنی کتابوں پر ایمان کا طبعی تقاضا اور منطقی نتیجہ ہے، ورنہ یہ لوگ اپنی کتابوں پر ایمان لے کر دعوے میں جھوٹے قرار پاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم پس قرآن پاک پر ایمان لانا عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم کے لوگوں تم قبول کرلو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو اور (صدقِ دل) سے ایمان لے آؤ اس پر اللہ معاف فرما دے گا تمہارے گناہوں کو اور بچا دے گا تم کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب سے

[ 70] جنوں کی اپنی قوم کو قبول حق کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے اپنی قوم سے کہا کہ قبول کرو تم لوگ اللہ کے داعی کی دعوت کو کہ یہ اسرار حق اور صدق ہے۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی دعوت کو۔ جن کی حیات طیبہ اور بعثت و تشریف آوری کا مشن اور مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا کو خدا وند قدوس کی توحید و بندگی کی دعوت دیں۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ ما تبقی ھذہ الاحرف والکلمات۔ سو اللہ کے داعی کو قبول کرنا اور اس پر ایمان لانا اور دین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی اصل اور بنیاد ہے۔ بہرکیف جنوں نے اپنی قوم کو اس طرح قبول حق کی دعوت دی۔ جو قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت اور اس کی قوت تاثیر کا ایک واضح ثبوت ہے۔ مگر عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں، والعیاذ باللّٰہ۔ سو ان جنوں نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینے سے پہلے قرآن حکیم کی عظمت شان کو واضح کرنے کیلئے اس کے تین خاص حصوں کا ذکر وبیان کیا۔ ایک یہ کہ یہ کتاب حکیم و پہلی آسمانی کتابوں کی پیشین گوئیوں کی مصداق اور ان کی تصدیق کرنے والی ہے، دوسری یہ کہ یہ حق کی راہنمائی کرتی ہے اور تیسری یہ کہ یہ سیدھے راستے کی راہنمائی کرتی ہے۔ [ 71] دعوت حق سے منہ موڑنا خود اپنا ہی نقصان۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے اپنی قوم کو دعوت حق دیتے ہوئے ان سے مزید کہا کہ جو اللہ کے داعی کی بات نہیں مانے گا وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک طرف تو انسان ایمان کے ان دو عظیم الشان فائدوں سے محروم رہے گا جن کا ذکر یہاں فرمایا گیا یعنی گناہوں کی بخشش و معانی، اور دردناک عذاب سے پناہ، اور دوسری طرف اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنے گا، اور دردناک عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ سو یہ ترغیب کے بعد ترہیب ہے کہ اگر تم نے دعوت حق کو قبول نہ کیا تو تم اس کے انجام بد سے کسی طرح بچ نہ سکو گے۔ نہ کہیں زمین میں چھپ کر یا اس کی حدود سے نکل کر، اور نہ ہی اپنے کچھ اعوان و انصار کی نصرت و حمایت کے زور پر۔ سو جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہیں مانے گا وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ وہ نور ایمان و یقین سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ذوب جائے گا۔ اور اللہ کی گرفت و پکڑ سے وہ نہ اس دنیا میں بچ سکتا ہے نہ آخرت میں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ پس دعوت حق سے رو گردانی خود اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی بات نہیں مانے گا اللہ کے داعی کی تو وہ (اپنا ہی نقصان کرے گا کہ وہ) ایسا نہیں کہ نکل جائے اس کی گرفت (و پکڑ) سے نہ زمین میں (کہیں چھپ کر) اور نہ ہی اس کے کوئی مددگار ہوسکتے ہیں (جو اسے بچا سکیں) ایسے لوگ پڑے ہیں (صاف اور) کھلی گمراہی میں

[ 72] دعوت حق سے روگردانی کا نتیجہ کھلی گمراہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہیں۔ کیونکہ حق پوری طرح واضح ہوگیا اور اس میں کوئی غموض و خفا باقی نہیں رہ گیا۔ اب اس سے دور اور نفور رہنا سوائے کھلی گمراہی کے اور کچھ نہیں جس کا انجام بہت بھیانک ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو دین حق سے منہ موڑنا اور نور حق سے محروم رہنا محرومیوں کی محرومی اور دارین کا خسارہ اور نقصان ہے۔ اور ایسے بدبختوں کیلئے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ نہ وہ اپنے خالق ومالک کے حقوق سے واقف و آگاہ ہیں نہ ان کو اپنے مآل و انجام کے بارے میں کوئی آگاہی ہے اور نہ ان کو اپنے مقصد حیات کا کچھ پتہ ہے۔ سو ایسے لوگ اعلیٰ مقاصد سے محروم ہو کر محض بطن و فرج کے تقاضوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اور محض مادی فوائد و منافع کے لیے جیتے اور انہی کے لیے مرتے ہیں، جو کہ خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ان دونوں آیات کریمات میں ایمان لانے کے عظیم الشان فوائد اور ثمرات کو بھی واضح فرما دیا گیا، اور ایمان نہ لانے کے ہولناک نتیجے اور انجام کو بھی واضح فرمایا گیا، سو ایمان لانے والوں کو ان کے گناہوں کی معافی بھی ملے گی، اور دردناک عذاب سے پناہ بھی، جبکہ ایمان نہ لانے والوں کے بارے میں واضح فرما دیا گیا کہ وہ اس بل بوتے کے مالک نہیں کہ زمین میں کہیں چھپ کر یا بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں، اور اس کی گرفت و پکڑ سے نکل جائیں اور دوسری بات یہ کہ ان کیلئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی یار و مددگار نہیں ہوسکتا جو ان کو اس کی گرفت و پکڑ سے بچا سکے اور تیسری بات یہ کہ حق و ہدایت کے نور سے منہ موڑنے کے نتیجے میں ایسے لوگ کھلی گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبے پڑے ہیں، اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے محرومی سب سے بڑی اور انتہائی ہولناک محرومی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ وضلال۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کبھی اس امر میں غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور اس کو ان کے پیدا کرنے سے کوئی تکان نہیں ہوئی وہ اس پر قادر ہے کہ زندہ کر دے مردوں کو ؟ (ہاں) کیوں نہیں بلاشبہ وہ ہر چیز پر (پوری) پوری قدرت رکھتا ہے

[ 73] منکرین و مکذبین کے لیے انذار : سو ان لوگوں کے انذار کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کو ان کی پیدائش سے کسی طرح کی کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ ہاں کیوں نہیں وہ بلاشبہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو جس قادر مطلق نے اپنی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ سے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کو اس حیرت انگیز طریقے سے پیدا فرما دیا اور اس کے لئے اس کو کسی تعب و مشقت اور تکان وغیرہ نے چھوا تک نہیں آخر اس کے لئے یہ امر کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے کہ وہ انسانوں کی روح ان کے جسموں میں دوبارہ داخل کرکے ان کو دوبارہ پیدا فرما دے ؟ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ { لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لا یعلمون } [ المومن : 57 پ 24] ۔ تو پھر ان لوگوں کو بعث بعد الموت پر اس قدر اچنبھا آخر کیوں ہو رہا ہے ؟ سو یہ بعث بعد الموت کے امکان اور تنوع کیلئے ایک واضح اور قطعی دلیل ہے۔ اور یہی سوال قرآن حکیم نے منکرین قیامت کے سامنے دوسرے مختلف مقامات پر بھی رکھا ہے۔ مثلا " سورة قٓ " میں ارشاد فرمایا گیا ہے { افعیینا بالخلق الاول } [ ق :15] " کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ؟ " سو اس ارشاد ربانی میں منکرین و مکذبین کے لئے انذار ہے تاکہ وہ باز آجائیں اپنے کفر و انکار سے اور اس کے نتیجے میں وہ بچ جائیں عذاب الیم سے قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود ان کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ اور ان کو ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

(اور یاد کرو اے لوگوں قیامت کے اس ہولناک دن کو کہ) جس دن پیش کیا جائے گا کافروں کو (دوزخ کی) اس ہولناک آگ پر (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو وہ کہیں گے ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (یہ قطعی طور پر حق ہے) حکم ہوگا کہ اچھا تو اب چکھتے رہو تم لوگ مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے (دنیا میں)

[ 74] منکرین کی دوزخ پر پیشی کے منظر کا ذکر وبیان : سو منکرین کے انذار کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یاد کرو کہ جس روز کافروں کو دوزخ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ سو ایسا ان بدبختوں سے بطور توبیخ و تقریع اور تذلیل و تحقیر کہا جائے گا کہ اس طرح اہل دوزخ عذاب پر عذاب، رسوائی پر رسوائی اور ذلت پر ذلت اٹھائیں گے۔ اور افسوس پر افسوس کریں گے۔ مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت کی باطنی آگ میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے اس ہولناک دن کو یاد کرو اور اس کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو جس دن کہ کافروں کو دوزخ پر پیش کیا جائے گا اور ان سے بطور توبیخ و تقریح کہا جائے گا کہ اب بتاؤ کہ کیا یہ حق اور امر واقع نہیں ہے ؟ تب یہ لوگ اپنے رب کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں اے ہمارے ربّ ۔ یہ بلاشبہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان کی آتش یاس و حسرت بھڑکے گی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [ 75] منکرین کے کفر و انکار کا بدلہ دائمی عذاب دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انکے اس اقرار و اعتراف کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ عذاب کا مزہ چکھتے رہو اپنے اس کفر کے نتیجے میں جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے جرم اور ان کی سزا کا اصل سبب ان کا کفر ہی ہوگا کہ باقی سب برائیاں اسی شجرہ خبیثہ سے پھوٹتی اور پیدا ہوتی ہیں۔ پس جس طرح ایمان و یقین کی دولت تمام مکارم و محاسن اور خوبیوں کی اصل اور اساس ہے اسی طرح کفر و بےایمانی تمام مفاسد، برائیوں اور خروبیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو قیامت کے دلائل آفاق اور انفس اس قدر واضح ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کرسکتا اور جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کسی دلیل کی بنا پر نہیں، بلکہ محض اس بنا پر کہ وہ خواہشات نفس کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ سو جن لوگوں نے محض اپنی خواہشات کی پیروی میں حق کا انکار کیا اور اس حد تک کہ اس بنا پر انہوں نے حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کو بھی ٹھکرا دیا تو وہ کسی رو رعایت کے حق دار نہیں ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے کیے کرائے کے نتیجے میں عذاب بہرحال بھگتنا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم،
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں (اے پیغمبر ! ) جس طرح کہ صبر سے کام لیا ہمارے دوسرے اولوالعزم رسولوں نے اور جلدی نہیں کرنا ان (لوگوں کے عذاب کے) لئے جس دن یہ خود دیکھ لیں گے اس چیز کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو ان کو یوں لگے گا کہ جیسے یہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے یہ ایک عظیم الشان پیغام ہے جو پہنچا دیا گیا سو اب کیا اور کوئی ہلاک ہوگا سوائے نافرمان لوگوں سے ؟

[ 76] اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کرنے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بھی اسی طرح صبر سے کام لیں جس طرح اولوالعزم رسولوں نے کام لیا "۔ قول مشہور کے مطابق وہ پانچ رسول ہیں سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ ، سیدنا عیسیٰ اور حضرت محمد صلواۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ اس قول کی بنا پر جن اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کرنے کا حکم آنحضرت ﷺ کو دیا گیا وہ چار ہیں۔ جبکہ اس بارے میں دوسرا قول کچھ حضرات اہل علم کا یہ ہے سب ہی رسول اولوالعزم تھے۔ کیونکہ عزم کے معنیٰ صبر و ثبات اور راہ حق پر پختگی واستقامت اور مضبوطی کے ہیں۔ اور یہ وصف سب ہی رسولوں میں پایا جاتا تھا۔ پس یہاں پر [ من الرسل ] میں " من " تبعیضیہ نہیں بیانیہ ہے۔ مگر استاد گرامی سماتہ الشیخ جناب شیخ محمد امین الشفقیطی (رح) ۔ جو کہ علوم تفسیر کے ایک بحر ذخار تھے اور ہمارے زمانے میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں چوٹی کے استاد مانے جاتے تھے، وہ اپنی عظیم الشان اور شہرہ آفاق تفسیر " اضواء البیان فی تفسیر القرآن بالقرآن " میں اس قول کو خلاف تحقیق قرار دیتے ہیں۔ چناچہ وہ فرماتے ہیں۔ " انہ خلاف التحقیق کما دل علی ذالک بعض الآیات القرآنیہ " [ اضواء البیان ] والعلم عند اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ وھو اعلم بمراد کلامہ جل وعلا۔ بہرکیف اس ارشاد میں حضرت امام الانبیاء ﷺ کو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح آپ سے پہلے کے رسولوں نے صبر سے کام لیا، اور انہوں نے عزم و جزم کے ساتھ تمام مشکلوں کا مقابلہ کیا اور اپنے موقف حق پر ہمیشہ ڈٹے اور جمے رہے اسی طرح تم بھی تمام سازشوں اور ایذارسانیوں کے علی الرغم اپنے موقف پر ڈٹے رہو کہ یہی چیز ہے جو مشکلات پر قابو پانے کیلئے شرکلید کی حیثیت رکھتی ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ [ 77] آخرت میں منکرین کی بدحواسی اور ان کی حسرت کا ایک نمونہ و مظہر : سو آخرت میں منکرین کے نزدیک دنیاوی زندگی محض ایک گھڑی کے برابر ہوگی۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " قیامت کے روز منکروں کو دنیاوی زندگی ایک گھڑی کے برابر نظر آئے گی۔ " یعنی جس دنیا کو یہ لوگ بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے تھے اور جس کے مال و متاع پر یہ پھولے نہیں سماتے تھے اور جس کی زندگی کو یہ بڑی لمبی اور طویل زندگی سمجھتے تھے وہ اس وقت ان کو گھڑی دو گھڑی ہی معلوم ہوگی۔ اور امر واقعہ بھی یہی ہے کہ دنیا کی اس فانی زندگی کی خواہ وہ کتنی ہی لمبی اور طویل کیوں نہ ہو، آخرت کی اس لامحدود زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ دنیاوی زندگی کی گھڑی بھر کی اس فرصت کو انسان اطاعت و عبادت خداوندی میں سرف کر دے۔ تاکہ اس طرح یہ ابدی بادشاہی اور دائمی سعادت میں تبدیلی ہوجائے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ " الدنیا ساعۃ فاجعلھا طاعۃ "۔ یعنی " یہ ساری دنیاوی زندگی ایک گھڑی کے برابر ہے پس تم اس سب کو اطاعت و فرمانبرداری بنادو۔ " وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ بہرکیف اس سے منکرین کی آخرت میں یاس و حسرت اور ان کی بدحواسی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے مگر اس حسرت و افسوس کا ان کو کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں تیزی کے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے اس طرح پیشگی آگاہ کردیا۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ [ 78] فاسقوں اور بدکاروں کیلئے ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰۃ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ اور استفہامی اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہلاک نہیں ہوں گے مگر وہی لوگ جو فاسق اور بدکار تھے۔ یعنی جو اللہ پاک کے احکام سے روگردانی اور سرکشی کرتے ہیں۔ اس طرح " فاسق " کا لفظ کافر وعاصی سب کو عام اور شامل ہے۔ کیونکہ فسق کے اصل معنی خروج کے آتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں " فسقت الرطبۃ " کہ " کھجور اپنے کو شے سے باہر نکل آئی " سو ہلاکت اور تباہی ایسے فاسقوں اور بدکاروں ہی کیلئے ہے جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور نافرمانی کرتے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم سو آپ ﷺ کا کام اے پیغمبر ! پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ تاکہ کسی کیلئے عذر باقی نہ رہے۔ اس کے بعد فاسق و نافرمان لوگ خود اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس آپ نہ ان کے زیادہ درپے ہوں اور نہ ان کی وجہ سے پریشان اور غمگین ہوں کہ آپ کے ذمے انذار اور تبلیغ ہے اور بس۔ اس کے بعد جو نہیں مانیں گے وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار میں اپنا ہی بنائے رکھے، اور فسق و فجور کی ہر قسم اور ہر شکل اور ان کے ہر شائبے سے ہمیشہ اپنی حفاظت پناہ میں رکھے، اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔