Ayah 46:15[ 33] والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تاکید کردی انسان کو کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک ہی کا معاملہ کرے، سو اس سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی عظمت و اہمیت کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ توحید خداوندی کی تعلیم و تلقین کے متصل بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ { وقضٰی ربک الا تعبدوآ الا ایاہ وبالوالدین احسانا ط } [ بنی اسرائیل : 23 پ 15] وغیرہ دوسری کئی آیات کریمہ میں بھی فرمایا گیا ہے سو اس سے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت خالق جل مجدہ۔ نے پہلے اپنے حق یعنی توحید و بندگی کو بیان فرمایا اور پھر اس کے متصل بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کو۔ اور ظاہر ہے کہ ماں باپ کے جو احسانات اولاد پر ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی پوری مخلوق میں سے اور کسی کے بھی نہیں ہوسکتے۔ کہ وہی اس کے وجود اور ظہور و بروزکا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ پھر وہی ہیں جن کے احسانات اس کی ولادت و پیدائش سے لیکر اس کے بعد ہر مرحلے پر سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین فرمائی اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی یہ ہدایت اور تعلیم و تلقین ایک طرف تو اس خالق حکیم نے انسان کی فطرت وجبلت میں ودیعت فرمائی اور دوسری طرف اپنے انبیاء ورسل اور صالحین کے ذریعے بھی اس کا اہتمام فرمایا۔ چناچہ یہ حقیقت جملہ ادیان و مذاہب میں معتبر و مسلم رہی کہ انسان پر اس کے خالق کے بعد سب سے بڑا اور سب سے اہم اور مقدم حق اس کے ماں باپ ہی کا ہے۔ اس کے بعد دوسرے حقوق کی باری آتی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
[ 34] والدین کے حق کی خصوصی اہمیت کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا کہ والدین میں سے والدہ کے حقوق کی خاص اہمیت ہے کہ یہاں پر اس کے بعض اہم اور خاص پہلوؤں کو علیحدہ طور پر بیان فرمایا گیا۔ چناچہ والدین کا اجمالی ذکر فرمانے کے بعد ماں کا ذکر خاص طور پر اور قدرے تفصیل کے ساتھ پر فرمایا گیا ہے۔ اور اس میں حمل، وضع حمل اور رضاعت کی تین مشقتوں کا ذکر فرما کر والدہ کے حق کی تاکید فرمائی گئی ہے کہ اس اعتبار سے اس کا حق والد کے حق کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ ہے۔ اور یہی بات حدیث شریف میں بھی صراحت کے ساتھ ارشاد فرمائی گئی ہے۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے مکرر یہ سوال کیا کہ " میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ " تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں تین مرتبہ ارشاد فرمایا " تمہاری ماں۔ " اور پھر چوتھی مرتبہ فرمایا " تمہارا باپ۔ " اس آیت کریمہ سے علمائے کرام نے یہ مسئلہ بھی مستنبط فرمایا ہے کہ اقل مدت حمل چھ ماہ ہے۔ کیونکہ سورة بقرہ پ 2 کی آیت نمبر 233 سے معلوم ہوتا ہے کہ رضاعت کی مدت دو سال ہے۔ ارشاد فرمایا گیا { والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعۃ ط وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف ط لا تکلف نفس الا وسعھا ج لا تضار والدۃ م بولدھا ولا مولود لہ بولدہٖ ق وعلی الوارث مثل ذلک ج فان ارادا فصالاً عن تراض منھما وتشاور فلا جناح علیہما ط وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم اذا سلمتم ما اتیتم بالمعروف ط واتقوا اللّٰہ واعلموا ان اللّٰہ بما تعلمون بصیر۔ } اور تیس ماہ کی مدت سے دو سال منہا کرنے کے بعد چھ ماہ ہی باقی بچتے ہیں جو کہ حمل کی اقل مدت ہے۔ اس سے کم مدت میں وضع حمل نہیں ہوسکتا۔ علامہ ابن کثیر (رح) کہتے ہیں یہ بڑا ٹھوس اور مضبوط استدلال ہے۔ بہر کیف ماں باپ اور خاص کر ماں کے ان احسانات کا تقاضا ہے کہ انسان ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے۔ اور یہ چیز اولاد کیلئے سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 35] حقوق کے شعور کے فطری ارتقاء کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہاں تک کہ جب وہ اپنی بھرپور قوتوں کو پہنچ گیا۔ " راجح قول کے مطابق یہ عمر تیس سے چالیس سال تک کی عمر ہے کہ اس میں انسان کی قوت اور اس کی عقل اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔ [ المراغی، جامع البیان وغیرہ ] ۔ اسی لئے نبوت سے بھی چالیس سال کے بعد ہی سرفراز فرمایا جاتا ہے۔ [ صفوۃ وغیرہ ] جیسا کہ اگلے حاشیے میں مزید تفصیل آرہی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا شخص جو اپنے ماں باپ کے حقوق کو پہچانتا ہے وہ جب اپنی جوانی کی بھرپور قوتوں اور عمر کی پختگی کو پہنچتا ہے تو اس کی طبیعت کی یہ سلامت روی لازماً اس کے اندر اس کے رب حقیقی کی معرفت اور اس کے حقوق کا شعور بھی پیدا کردیتی ہے۔ اور اس طرح اس کو اپنے ماں باپ کی محبت کے ذریعے اپنے اس پروردگار حقیقی تک پہنچنے کی راہ مل جاتی ہے جس نے اس کی تربیت کیلئے ماں باپ کا سایہ عاطفت مہیا فرمایا۔ سو اس طرح ماں باپ کے حقوق کا پاس و احساس اس کو اپنے خالق ومالک کے حقوق کی معرفت اور ان کی ادائیگی تک پہنچا دیتا ہے۔ سو انسان جب تک بچہ رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنے ماں باپ ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جو کچھ بھی پاتا ہے انہی سے پاتا ہے۔ لیکن جب وہ سن رشد کو پہنچتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اصل منعم وہ پروردگار ہے جس نے اس کے ماں باپ کو بھی وجود بخشا ہے۔ سو اس طرح وہ اپنے ماں باپ کی انگلی پکڑ کر خدا تک پہنچ جاتا ہے، اور اس کے اندر ماں باپ کے حق سے بھی بڑے حق کا شعور پیدا ہوجاتا ہے۔ اور یہی وہ سب سے بڑے اور اہم حقوق ہیں جو انسان پر سب سے پہلے واجب ہوتے ہیں جن سے آگے دوسرے مختلف حقوق کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سلامتی فکر و عمل سے سرفراز ومالا مال فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 36] چالیس سال کی عمر بلوغ و کمال عقل کی عمر :
سو اس سے چالیس سال کی عمر اور اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ عقل کے تمام و کمال تک پہنچ جانے کی عمر ہے۔ اسی لئے مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کہنا ہے کہ اللہ پاک نے کسی نبی کو چالیس سال کی عمر سے قبل مبعوث نہیں فرمایا۔ سوائے دو خالہ زاد بھائیوں یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) و یحییٰ (علیہ السلام) کے۔ [ المراغی الصفوۃ وغیرہ ] ۔ پس اس عمر کے بعد انسان کی زندگی بدل جانی چاہیے اور خیر کا شر پر غلبہ ہوجانا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں " من اتی علیہ اربعون ولم یغلب خیرہ شرہ فلیتجھز الی النار۔ " [ تفسیر المراغی ] یعنی " جس کی عمر چالیس سال پوری ہوجائے مگر اس کی نیکی اور خیر اس کی برائی اور شر پر غالب نہ آسکی تو اس کو دوزخ کی آگ کیلئے تیار ہوجانا چاہیے "۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف چالیس سال کی عمر وہ عمر ہے جس میں انسان کے جذبات اور اس کی خواہشات کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور اس عمر کو پہنچ کر وہ اپنے را ہوار نفس کو قابو میں کرسکتا ہے۔ سو جو شخص اپنے ماں باپ کے حقوق کو پہنچانتا ہے وہ جب اپنی جوانی کی بھر پور قوتوں اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی طبیعت کی یہ سلامتی اور سلامت روی لازماً اس کے اندر رب حقیقی کا شعور بھی پیدا کردیتی ہے اور اس طرح وہ اپنے خالق ومالک اور رب حقیقی تک پہنچنے کی راہ سے سرفراز و سرشار ہوجاتا ہے جو اصل مقصود اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین، ورنہ کچھ بھی نہیں۔ اس لئے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسی پر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور یہ چیز اس کی توفیق و عنایت کے بغیر ملنے والی نہیں۔ اس لئے اپنی کوشش سے پہلے اس وحدہ لاشریک سے اس کی توفیق کی دعا و درخواست کرنی چاہئے۔ اللہم وفقنا لما تحب وترضی وعلی ما تحب وترضی فی کل شان من شؤون الحیاۃ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ سلیم الفطرت انسان چالیس سال کے اس سن کمال کو پہنچنے کے بعد اپنے خالق ومالک کی عنایات پر نظر کرتے ہوئے اس سے شکر نعمت کی توفیق کی دعا و درخواست کرتا ہے کہ شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اور شکر نعمت کا جذبہ ہی وہ عظیم الشان اور بےمثال و پاکیزہ جذبہ ہے جو دین و شریعت کی تعلیمات مقدسہ کی اصل بنیاد ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ سو حقوق والدین کا احساس و شعور انسان کو اپنے خالق ومالک کے حقوق کے احساس و شعور سے سرفراز کردیتا ہے۔ بس حقوق والدین کی ادائیگی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے وباللّٰہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
[ 37] حقوق والدین سے آگہی رب کی معرفت کا ذریعہ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب ایسا سلیم الفطرت انسان چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنے رب کے حضور عرض کرتا ہے کہ اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ہیں اور مجھے توفیق دے کہ ایسے نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہوں، الخ۔ سو اس سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ حقوق والدین کا شعور اور ان سے آگہی خداوند قدس کے حقوق کے احساس و شعور کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اسی لئے ایسا خوش نصیب اور سلیم الفطرت انسان بارگاہ ایزدی میں توفیق شکر کی دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہدایت و ایمان کی نعمت ہے کہ اسی سے انسان کی دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی۔ ورنہ کچھ بھی نہیں۔ اس لئے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسی پر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور یہ چیز اس کی توفیق و عنایت کے بغیر ملنے والی نہیں۔ اس لئے اپنی کوشش سے پہلے اس وحدہ لاشریک سے اس کی توفیق کی دعا و درخواست کرنی چاہئے۔ اللہم وقضا لما تحب وترضی وعلی ماتحب وترضی فی کل شان من شؤون الحیاۃ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ سلیم الفطرت انسان چالیس سال کے اس سن کمال کو پہنچنے کے بعد اپنے خالق ومالک کی عنایات پر نطر کرتے ہوئے اس سے شکر نعتمت کی توفیق کی دعا درخواست کرتا ہے کہ شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اور شکر نعمت کا جذبہ ہی وہ عظیم الشان اور بےمثال و پاکیزہ جذبہ ہے جو دین و شریعت کی تعلیمات مقدسہ کی اصل بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو حقوق والدین کا احساس و شعور انسان کو اپنے خالق ومالک کے حقوق کے احساس و شعور سے سرفراز کردیتا ہے۔ پس حقوق والدین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
[ 38] توفیق خداوندی کے لیے دعا وسوال کی تعلیم و تلقین :
سو اس سے عمل صالح کی توفیق و عنایت کی دعا و درخواست کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ اصل چیز توفیق خداوندی ہی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا سلیم الفطرت انسان اپنے رب کے یہاں عرض کرتا ہے کہ مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں، اور یہ اس لئے کہ عمل صالح وہی معتبر ہے جو رب کو پسند ہو۔ پس نیکی بھی دراصل وہی نیکی ہے جو اس وحدہ لاشریک کو پسند ہو، اور اس کی بارگاہ اقدس میں شرف قبولیت پاس کے۔ اور یہ بھی اس کی توفیق عنایت کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اس کے لئے بھی اسی کے حضور درس دعا والتجا بلند کرنے کی ضرورت ہے، کہ وہ اپنے کرم سے ایسا نیک عمل نصیب فرمائے جو اس کے یہاں پسندیدہ اور مقبول ہو۔ سو شکر خداوندی عمل صالح کا محرک بنتا ہے۔ اور عمل صالح وہی معتبر ہے جو خواہشات نفس کی پیروی کی بجائے خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کیلئے کیا جائے۔ پس ایسا خوش نصیب اور سلامتیء فکر و عمل والا انسان اپنے رب تعالیٰ کے حضور دعا والتجا کرتا ہے کہ مجھے توفیق دے کہ میں اپنے جذبات کی رو میں بہنے اور اپنی کو اہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے تیری ان بےپایاں عنایات کا شکر ادا کرسکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمائی ہیں۔ اور میں ایسے نیک عمل کرسکوں جو تجھے پسند ہوں کیونکہ جو عمل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند نہ ہو اس کا نہ کوئی فائدہ ہوسکتا ہے اور نہ کوئی قدروقیمت، سو اصل چیز رضاء خداوندی کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 39] اپنے ساتھ اپنی اولاد کی فکر کرنے کا درس :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے ساتھ اپنی اولاد کی اصلاح کیلئے بھی دعا کی ضرورت ہے کہ ان کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور عمل بھی درست۔ پس اپنے ساتھ اپنی اولاد کیلئے بھی نیک دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اولاد کی بہتری اور صحیح تعلیم و تربیت در حقیقت اپنی ہی بہتری اور بھلائی کا سامان ہے۔ اور انسان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اور عمدہ پھل اس کی اپنی اولاد ہی ہے۔ سو پاک طبیعت اور نیک بخت انسان اپنی اولاد کیلئے بھی دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صالح بنا دے۔ تاکہ اس کی نسل میں بھی ایسے صالح عناصر پیدا ہوں جو اس کے صحیح وارث بن سکیں۔ تاکہ وہ دنیا میں بھی اس کیلئے سرخروئی کا باعث ہوں اور آخرت میں بھی، ان کی نیکی اس کے لئے شفاعت کا ذریعہ بن سکے۔ سو صالح اولاد انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ اور زندگی کا سب سے عمدہ ثمرہ اور پھل ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام پر ان الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ { ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما } [ الفرقان :74] یعنی " اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔ اور ہمیں متقی و پرہیزگاروں کا امام و پیشوا بنا دے۔ " یعنی ہمیں ایسی نیک اور صالح اولاد نصیب فرما جو تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت سے سرشار ہو، تاکہ اس طرح ہم ایسی نیک، صالح اور پاکیزہ اولاد کے امام اور پیشوا قرار پاس کیں۔ سو اصل مقصد تقویٰ و پرہیزگاری ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
[ 40] طریق اصلاح کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان :
سو اس سے طریق اصلاح کی تعین و تشخیص فرمائی گئی ہے کہ گزشتہ سے تو بہ اور آئندہ کے لیے فرمانبرداری کا اعلان و اقرار کیا جائے، اور اسی کو اپنا نصب العین بنایا جائے، کہ یہی راہ سلامتیء فکر و عمل کی راہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا خوش نصیب اور سلیم الفطرت انسان کہتا ہے کہ میں نے تیرے حضور توبہ کرلی۔ اے میرے رب ! اور میں یقینا فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یعنی جو غلطیاں اور قصور اس سے پہلے مجھ سے صادر و سرزد ہوگئے ان کی میں معافی مانگتا اور ان سے توبہ کرتا ہوں۔ اور آئندہ کے لئے فرمابنرداری اور وفاشعاری کا عہدو اقرار کرتا ہوں۔ اور یہی دو باتیں دراصل سچی توبہ کے بنیادی عناصر ہیں۔ جاننا چاہیے کہ سعادت کے تین درجے اور تین قسمیں ہیں۔ قلبی، بدنی اور خارجی۔ قلبی یہ کہ انسان دل سے اللہ پاک کی نعمتوں کی قدر کرے اور ان پر اس واہب مطلق کا شکر بجالائے۔ بدنی یہ کہ بدن اس کی عبادت و بندگی اور اطاعت و فرمانبرداری میں مشغول و منہمک رہے۔ اور خارجی یہ کہ اس کو اپنے اہل و اولاد کی سعادت مندی بھی نصیب ہو۔ اور کمال سعادت یہ ہے کہ یہ تینوں قسمیں حاصل و موجود ہوں۔ اس لئے آیت کریمہ میں ان تینو ؓ کو اسی معجزانہ ترتیب کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ فشرقنا بھا یا اکرم الاکرمین۔ روایات میں وارد ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ آپ ؓ کے والدین اور اولاد سب ہی ایمان و ہدایت کے شرف سے مشرف ہوئے تھے۔ اور یہ شرف آپ ؓ کے سوا اور کسی صحابی کو نصیب نہیں ہوا تھا۔ [ جامع البیان، مدارک التنزیل وغیرہ ] ۔ اور بعض روایات میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے مگر الفاظ عام ہیں جو ہر اس شخص کو شامل ہیں جو ان صفات سے متصف اور ان کا اہل و حامل ہو۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو، اور کسی بھی ملک و قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ کہ عام اصول اور ضابطہ یہی ہے کہ " العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص المورد " یعنی اعتبار پر الفاظ و کلمات کے عموم کا ہوتا ہے، نہ کہ موقع و محل کے خصوص کا، پس الفاظ و کلمات کا عموم جہاں تک پہنچتا ہو وہ سب ہی مفاہیم و مصادیق ان کی مراد میں داخ (رح) ہوتے ہیں، والعلم عند اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندہ صالح اپنی توبہ اور رجوع الی اللہ کا اعلان و اقرار کرتا ہے۔ اور یہی ہے شان عبدیت وانابت، جو کہ اصل شرف و امتیاز ہے بندہ مومن کا ق۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل دونوں کا۔ اور یہی مقتضٰی ہے صراط مستقیم کا۔ اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال نصیب فرمائے۔ اور کبروغرور اور رزیع و ضلال کے جملہ شوائب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 46:16[ 41] حق تعالیٰ کے معاملہئِ کرم و انعام کے ایک مظہر کا ذکر وبیان :
سو اس سے حق تعالیٰ کے معاملہئِ کرم و احسان کے ایک نمونہ و مظہر کا ذکر بیان فرمایا گیا ہے اور سلیم الفطرت لوگوں کے ساتھ نہایت کریمانہ برتاؤ کی خوش خبری دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کی یہ اور یہ صفات ہوبگی ان کے ساتھ ہم نہایت ہی کرم اور فیاضی کا معاملہ کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں جو بہتر سے بہتر معاملہ کیا ہوگا اسی کے لحاظ و اعتبار سے ان کے لیے آخرت میں درجہ و مرتبہ مقرر کیا جائے گا۔ اور جو کمزوریاں اور لغزشیں ان سے دنیا میں صادر ہوگئی ہونگی ان سے ہم درگزر کریں گے۔ سو ان سے نہایت ہی کرم و احسان کا معاملہ ہوگا۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس کرم و احسان کے۔ پس ہمیں بھی اس خلق جہاں آفرین سے کام لیتے ہوئے دوسروں کی اچھی باتوں کو قبول کرلینا چاہیے اور بری و غلط باتوں سے صرف نظر و درگزر ہی کرنا چاہئے۔ مگر افسوس کی ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ ہم لوگ کسی شخص کی ایک خامی اور کوتاہی کی بنا پر اس کی عمر بھی کی سب نیکیاں بھلا دیتے ہیں۔ اور اس کی کسی ایک غلطی و برائی کا اس طرح چرچا کرتے ہیں کہ گویا اس نے کبھی کائی اچھائی کی ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بڑی زیادتی اور بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ سو یہ انصاف و دیانت اور اس ضابطہ خداوندی کے بالکل خلاف ہے جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے مختلف مقامات پر بھی اس کی طرح طرح سے آشکارا فرمایا گیا ہے۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے نیک اعمال کو ہم قبول کریں گے اور ان کی کوتاہیوں سے ہم درگزر کریں گے۔ فالحمدللّٰہ وایاہ نسال التوفیق لما یحب ویرضی۔
[ 42] جنت کے وعدہئِ صدق کا ذکر وبیان :
سو اس سے ایسے خو نصیبوں کیلئے جنت کے وعدے کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہونا ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان لوگوں سے کیا جاتا تھا " دنیا میں حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) اور ان کے نائبین علمائے حقانیین کے واسطے سے۔ [ صفوۃ، وغیرہ ] ۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے تین مرتبہ اور تاکید سے فرمایا کہ اس ارشاد ربانی کا مصداق حضرت عثمان ؓ اور انکے ساتھی ہیں [ ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ ] رضوان اللّٰۃ علیہم اجمعین۔ پھر اس وعدے کا ذکر بھی کلمات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ اللہ کا وہ سچا پکا وعدہ ہے جس میں کسی خلاف ورزی کا کوئی خدشہ و امکان نہیں۔ والحمد للأ جل وعلا اور جب یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے تو اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے بڑھ کر سچا وعدہ اور کس کا ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً ایک مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وعدا علیہ حقا فی التورۃ والانجیل والقرآن ط ومن اوفی بعھدہ من اللّٰہ فاستبشروا بییعکم الذی بایعتم بہ ط وذلک ھو الفوز العظیم } یعنی " یہ اللہ کے ذمے پکا سچا وعدہ ہے تورات، انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ پس تم لوگ اللہ سے کئے ہوئے اپنے اس سودے سے خوش ہوجاؤ۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ " [ توبہ : 111 پ 11] اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 46:17[ 43] ممسوخ الفطرت لوگوں کے حال و مآل کا ذکر وبیان :
سو اس سے سلیم الفطرت لوگوں کے مقابلے میں ممسوخ الفطرت لوگوں کا حال اور ان کا مآل ذکر وبیان گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اپنے والدین سے کہتا ہے کہ تف ہے تم دونوں پر کیا تم مجھے اس بات کا ڈراواسناتے ہو کہ مجھے [ مرنے کے بعد زندہ کرکے قبر سے ] نکالا جائے گا، جبکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں [ مگر ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا ] حالانکہ اس کے والدین اس کو اسی کی دہائی دے کر کہتے ہیں کہ ارے کم بخت ایمان لے کر بلاشبہ اللہ وعدہ قطعی طور برحق اور کج ہے، مگر وہ پھر بھی یہی کہتا ہے کہ یہ محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کو سو اسی سے اوپر والے گروہ کے مقابلے میں دوسرے گروہ کا نمونہ ذکر فرمایا گیا ہے جو ماں باپ کا نافرمان اور آخرت کا منکر ہے، اور وہ آخرت کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی۔ جن کو تم لوگوں نے تسلیم کرلیا اور اپنے گلے لگا لیا ہے، اور ان پر چمٹے بیٹھے ہو۔ جبکہ میں ایک عقل مند، دانش ور اور جہاندیدہ انسان ہوں۔ تو پھر میں ان کو کس طرح تسلیم کرسکتا ہوں۔ سو یہ ہوتا ہے نتیجہ و انجام اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونے کا کہ اس کی وجہ سے انسان بور حق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ منکر اور متکبر انسان ماں باپ کی ہمدردی اور شفقت و پیار بھری اس فہائش کے جواب میں اپنی ہٹ دھرمی پر اصرار کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی۔ سو اوپر ان نیک بخت اور سعادت مند لوگوں کی سعادت مندی اور نیک بختی کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے جو اپنے ماں باپ کے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے خالق ومالک کے حقوق کے احساس و شعور سے سرفراز ہوتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں وہ راہ حق و ہدایت کو اپناتے اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو نوجوان بالکل لا ابالی اور مادرپدر آزاد زندگی گزارتے ہیں وہ اس سعادت و توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ماں باپ نصیحت پر بھی کان نہیں دھرتے بلکہ ان کو اس پر چھڑک کر اپنی بگاوت کا اعلان کردیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیات و تنبیہات کو وہ ماضی کے افسانے قرار دینے لگتے ہیں۔ اور اس طرح وہ خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق بن کر ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 46:18[ 44] ممسوخ الفطرت بدبختوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
سو اس سے ایسے ممسوخ الفطرت بدبختوں کی نشاندہی اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر فرما دیا گیا۔ چناچہ اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ایسے ممسوخ الفطرت اور بدبخت و ہٹ دھرم لوگوں کیلئے محرومی اور عذاب کی بات پکی ہوگئی۔ کہ انہوں نے اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بنا پر خود کو اسی کے قابل بنادیا ہے۔ تو اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بدولت یہ بھی اس عذاب سے دو چار ہو کر رہیں گے جس کے یہ مستحق ہوچکے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے بارے میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر اللہ کے عذاب کی بات پکی اور پوری ہوگئی کہ ایسے لوگ دوزخ کے عذاب کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اللہ کی بات سے یہاں پر مراد وہ ہی بات ہے جو اللہ پاک نے ابلیس لعین کے چیلنج کے جواب میں ارشاد فرمائی تھی کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کو میں تیرے ساتھ جہنم میں بھر دوں گا۔ سو اس طرح ماں باپ کے نافرمان ممسوخ الفطرت ہو کر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
[ 45] انکار آخرت خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انکار آخرت سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے اور ایسا کہ یہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اچنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ لوگ سخت خسارے والے تھے۔ " کہ انہوں نے ایمان و ہدایت کی نعمت عظمیٰ کے مقابلے میں کفر و ضلال کی ظلمتوں کو اپنایا۔ اور دنیاوی زندگی کی اس فرصت کو جو کہ دراصل ان کو آخرت کی کمائی اور اپنے رب کو راضی کرنے ہی کے لئے بخشی گئی تھی، اس کو انہوں نے کفر و ضلال کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں ہی میں گنوادیا۔ اور یہ ایسا خسارہ ہے کہ اس کی تلافی وتدارک کی کوئی صورت اب ممکن نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اسو نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی اور اس سے محرومی خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اتباع ھویٰ سے محفوظ اور اتباع ھدیٰ پر کار بند رکھے، آمین ثم آمین۔ اوپر والے گروہ کے بارے میں فرمایا گیا تھا۔ [ فی اصحاب الجنۃ ] ۔ کہ " وہ جنتی لوگوں کے گروہ میں سے ہوں گے " اور انہی کے ساتھ نعیم جنت سے بہرہ مند و سرفراز ہوں گے۔ اور اس کے مقابلے میں ان ممسوخ الفطرت اور بدبختوں کے اس گروہ کے بارے میں یہاں پر ارشاد فرمایا گیا۔ فی امم قد خلت من قبلہم من الجن والانس۔ یعنی یہ لوگ جنوں اور انسانوں کے انہی گروہوں میں شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو ان سے پہلے اسی طرح کی لا ابالی والی زندگی گزار کر اپنی عاقبت برباد کرچکے تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل سوء وشر،
Ayah 46:19[ 46] ہر کسی کا درجہ و مرتبہ اس کے اپنے عمل کے اعتبار سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہر کسی کیلئے درجے ہوں گے اس کے عمل و کردار کے مطابق۔ " کہ نیکوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں جنت کے مختلف درجات و مراتب نصیب ہوں گے، اور بروں کو ان کی برائیوں کے سبب درکات دوزخ سے پالا پڑے گا۔ اور یہاں بطور تغلیب سب کو درجات ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ [ الجامع، الصفوۃ وغیرہ ] ۔ ورنہ درجات کا استعمال صعود کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اور یہ لفظ درجات جنت کے لئے بولا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس " درکات " کا اطالق ہبوط و نزول کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اور یہ کلمہ دوزخ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرکیف یہاں سے یہ واضح ہوگیا کہ جس کو جو کچھ بھی ملے گا وہ اس کے اپنے عمل اور اپنی کمائی کی بنا پر ہی ملے گا۔ نہ کہ محض حسب و نسب کے اعتبار سے۔ جیسا کہ بہت سے زائغین اور اہل ھویٰ کا کہنا اور ماننا ہے۔ سو جنہوں نے اپنے رب کے اور اپنے ماں باپ کے حقوق کو پہچانا اور ان کو صحیح طور پر ادا کیا ہوگا ان کیلئے جنت کے مختلف درجات و مراتب ہوں گے۔ اور جنہوں نے اس بارے میں غفلت اور لاپرواہی ہی سے کام لیا اور نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کے ساتھ اندھیروں میں زندگی گزاری ہوگی اور وہ اتباع ھدیٰ کی بجائے اتباع ھویٰ ہی کے راستے پر چلے ہوں گے۔ ان کیلئے دوزخ کے " درکات " ہی ہوں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اتباع ھویٰ سے محفوظ رکھے اور اتباع ھدیٰ پر کاربند رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
[ 47] اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ کہ دار الجزا وہی ہے۔ اسلئے اعمال کا اصل اور پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ اور وہیں مل سکتا ہے کہ اس دنیائے فانی کے ظرف محدود و مختصر میں اتنی وسعت و گنجائش ہی نہیں کہ کوئی اپنے عمل و کردار کی پوری سزا و جزا اس میں پاس کے۔ اس لئے پورا بدلہ تو بہر حال آخرت کی اس حقیقی، ابدی اور لازوال زندگی ہی میں مل سکے گا جو اس دنیائے دُوں کے بعد آئے گی۔ البتہ اعمال کا کچھ بدلہ انسان کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ نیک اعمال کا مختلف رحمتوں اور عنایتوں کی شکل میں، اور برے اعمال کا مختلف مصیبتوں پریشانیوں اور تکلیفوں کی شکل میں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر شتر بےمہار کی زندگی گزارنے والوں کو اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ بہر حال وہاں مل کر رہے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال، وسوئٍ وانحراف،
[ 48] آخرت کے یوم جزاے میں کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا "۔ کہ کسی کو اس کا ثواب اس کے استحقاق سے کم دیا جائے یا عذاب اس کے کیے کرائے سے زیادہ دیا جائے۔ سو ایسی کوئی صورت وہاں نہیں ہوگی کہ وہاں تو ایسا عدل و انصاف ہوگا جس کا یہاں پر اور دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ موقع مقام ہی کامل اور بھرپور انصاف کا ہوگا۔ سو اس میں منکروں اور بدکاروں کیلئے تہدید اور دھمکی بھی ہے کہ وہ نچنت اور بےفکر نہ ہوں کہ ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ اور انہوں نے ایک نہایت ہی ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہنا ہے کہ ان کے سب کیے کرائے کا پورا ریکارڈ محفوظ ہے۔ پس یہ لوگ اصلاح احوال کی فکر کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھوں سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جبکہ دوسری طرف اس ٹکڑے میں اہل ایمان کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان بھی ہے کہ تم لوگوں کو تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ کسی بھی عمل کء اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے عمل کیے جاؤ کہ آج عمل کی فرصت اور اس کا موقع ہے جس نے بہرحال ختم ہوجانا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا الیوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل، یعنی آج اس دنیا میں عمل کا موق ہے حساب کوئی نہیں اور کل آخرت میں اس یوم حساب میں حساب ہوگا عمل کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب کے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الراحمین۔
Ayah 46:20[ 49] کافروں اور منکروں کیلئے دائمی محرومی کا اعلان، والعیاذ باللہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز کافروں اور منکروں کے لیے اندی اور دائمی محرومی کا اعلان کردیا جائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس مومن کو چاہے کہ وہ دنیاوی عیش و عشرت میں افراط اور زیادتی سے کام نہ لے بلکہ سادگی اور پاکیزگی کو اپنا شعار بنائے۔ کہ یہ دنیا تعیش کی جگہ نہیں، بلکہ یہ دراصل آخرت کے لئے کمائی اور تیاری کرنے کی جگہ اور ایک مسافر خانہ ہے۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت جابر ؓ کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھا تو پوچھا کہ یہ درہم کیسا ہے ؟ تو انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ بچوں کیلئے گوشت خریدنے جا رہا ہوں کہ انہوں نے اس کی خواہش کی ہے۔ تو آپ ؓ نے فرمایا " او کلما اشتھیتم شیئا اشتریتموہ این تذھب منکم ھزہ الایۃ ؟ " پھر آپ ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ [ اخرجہ عبد بن حمید وابن المنذر والھاکم والبیھقی وغیرہم عن ابن عمر ؓ ، المراغی، ابن کثیر وغیرہ ] ۔ سبحان اللّٰہ !۔ کہاں یہ نمونہئِ زہد و تقشف اور فکر آخرت کا یہ درس عظیم اور کہا وہ تعیش اور عیش پرستی جس میں آج کا مسلمان مبتلا ہے !۔ والعیاذ باللّٰہ من کل سوء وشر۔ سو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے وہ اگر اپنے رب کے شکر گزار رہتے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو وہ اپنی آخرت کیلئے بھی نعمتوں سے نوازتا ہے وہ اگر اپنے رب کے شکر گزار رہتے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو وہ اپنی آخرت کیلئے بھی نعمتوں کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں۔ اور اس کے برعکس جو لوگ مالک کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کی بنا پر استکبار اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا سارا زخیرہ یہیں ختم ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں انکے حصے میں ان کی ان نعمتوں کے وبال کے سوا کچھ نہیں آتا اور اس طرح وہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
[ 50] استکبار اور فسق باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور فسق و فجور انسان کیلئے باعث ہلاکت وہ تباہی ہے، والعیاذ باللّٰہ، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے متکبروں اور فاسقوں سے اس روز کہا جائے گا کہ اپنے حصے کی نعمتیں تو تم لوگوں نے دنیا میں اڑالیں، اور ان کے مزے وہاں لوٹ لئے۔ اب یہاں تمہارے لئے نعمت تو کوئی نہیں البتہ ذلت و رسوائی کا عذاب تمہاری خاطر تواضع کیلئے ضرور موجود ہے۔ کہ تم لوگ دنیا میں ناحق طور پر اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے اور اپنے اسی کبر و غرور کی بنا پر تم لوگ حدود سے نکل نکل جایا کرتے تھے۔ اور فسق و فجور کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ اس لئے اب تم مزہ چکھتے رہو اپنے اس کیے کرائے کا۔ سو اس ارشاد ربانی سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ استکبار اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور فسق یعنی اللہ پاک کی مقرر کردہ حدوں سے نکل جانا دو ایسے بنیادی روگ ہیں جو انسان کی محرومی اور اس کی دائمی تباہی کا باعث ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جبکہ انسان کا اصل شرف اس کی بندگی اور حدود کی پابندی و التزام میں ہے۔ اور استکبار اور حدود بندگی سے خروج و تجاوز باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 46:21[ 51] پیغمبر ( علیہ السلام) اپنی قوم کے بھائی ہوتے ہیں :
سو " اخا عاد " کی تصریح سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر اپنی قوم ہی کے ایک فرد اور ان کے بھائی ہوتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ آپ (علیہ السلام) ان کے قومی اور وطنی بھائی تھے۔ حالانکہ قوم عاد ایک کافر اور بڑی سرکش متکبر اور باغی قوم تھی، مگر اس کے باوجود حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کا بھائی کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ نبی کو بھائی کہہ دینا نہ کوئی جرم ہے نہ گناہ۔ اور یہاں تو نبی کو قوم عاد کا بھائی فرمایا جا رہا ہے جو کہ ایک کافر قوم تھی۔ تو پھر حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کون سا جرم کردیا جو پیغمبر کو بھائی لکھ دیا۔ اور وہ بھی اس حدیث کے ترجمہ و تشریح کے ضمن میں جس میں بھائی کا لفظ صراحتاً مزکور ہے۔ جس کی بنا پر اہل شرک و بدعت نے شہید مذکور و مظلوم کے خلاف بدتمیزی کا ایک طوفان کھڑا کردیا۔ [ قاتلہم اللّٰہ انی یؤفکون ] اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اس سے صحیح طور پر درس عبرت لینے اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے الٹا یہ بڑہان کی ہے کہ یہ مطلب نہیں کہ قوم کو انہیں بھائی کہہ کر پکارنے کی اجازت تھی۔ حالانکہ بات پکارنے کی نہیں بلکہ محض شبوت و جواز اور حقیقت نفس الامری کے اظہار وبیان کی ہے۔ جو روز روشن کی طرح واضح ہے۔ مگر جب شرک و بدعت اور ضد وعناد کی وجہ سے کسی کی مت مار دی جائے تو اسے کون سمجھا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہر کیف پیغمبر چونکہ بندہ و بشر اور اپنی قوم ہی سے اور ان ہی میں کا ایک فرد ہوتا ہے۔ اور اس کے بشر اور اپنی قوم ہی کے ایک فرد ہونے کے اعتبار سے اتمام حجت بھی ہوتا ہے اور اس میں درس عبرت وحکمت کے کئی اہم پہلو بھی ہوتے ہیں، اسی لیے یہاں پر اسی عنوان یعنی " اخا عاد " سے حضرت ہود (علیہ السلام) کے تذکرے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ کہ قوم عاد کے بھائی یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر کرو کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔
[ 52] حضرت ہود (علیہ السلام) کے قصے کی تذکیر و یاد دہانی کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عاد (علیہ السلام) کے بھائی یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھی یاد کرو جبکہ انہوں نے " احقاف " کے علاقے میں اپنی قوم کو خبردار کیا ؟ " قوم عاد عرب کی قدیم ترین اور اپنے دور میں بڑی مشہور و معروف اور ترقی یافتہ قوم تھی " مگر جب اس نے حق سے منہ موڑا اور ھق اور اہل حق کی دشمنی و مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی تو آخر کار اللہ پاک کے عذاب میں ایسی پکڑی گئی کہ اس کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹا دیا گیا۔ اور اس طرح اپنے دور کی یہ سب سے بڑی ترقی یافتہ قوم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی۔ اور اس حد تک کہ ایک قصہء پارینہ بن کر رہ گئی۔ کتابوں میں ذکر کے علاوہ ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہ گیا۔ کفار قریش کو بھی چونکہ اپنی دنیاوی دولت اور حیثیت پر بڑا ناز تھا اور ان کو اور اپنی سیادت و قیادت اور بڑائی کا بڑا زعم اور گھمنڈ تھا جس کی بنا پر وہ حق کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے پاک پیغمبر کو ارشاد فرماتا ہے کہ ان کو ذرا قوم عاد کا قصہ بھی سنا دیجئے تاکہ ان کے انجام سے یہ لوگ سبق لے سکیں، اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ اور اس کے خمار سے ہوش میں آسکیں۔ سو انکار اور تکذیب حق کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک و تباہی ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو قدرت کے قانون امہال و استدراج کے مطابق جو مہلت ملتی ہے اس سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے، کہ حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال بڑا ہولناک اور ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور قوم عاد کی تاریخ اس کا ایک زندہ جاوید ثبوت اور کھلی مثال ہے۔ یہ قوم اپنے عروج کو پہنچنے کے بعد جس طرح مٹی، وہ سب کچھ اپنے اندر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت رکھتا ہے۔ اور جس علاقے میں یہ قوم اپنی ترقی کے بام عروج کو پہنچی تھی اس کو دیکھ کر اب کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہاں بھی اس طرح کا کوئی تمدن اور عروج کبھی موجود رہا ہوگا۔ اور اسی لیے اس کو اب " الاحقاف " کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کہ اب وہاں اس ترقی اور عروج کی جگہ اس طرح کے ریت کے ٹیلے ہیں۔ سو حق کا انکار اور اس سے اعراض و درگردانی اور اس سے دشمنی کا آخری انجام یہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔
[ 53] " الاحقاف " کا مفہوم اور اس سے مراد ؟:
" احقاف "، " حقف " کی جمع ہے جو ریت کے اس ٹیلے کو کہا جاتا ہے جو لمبا ہو اور اونچائی میں پہاڑ سے کم ہو۔ ابن اسحاق کے بیان کے مطابق قوم عاد کا یہ علاقہ یمن سے لے کر عمان تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اسی میں حضرموت کے ایک مقام پر موجود ایک قبر کے بارے میں لوگوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قبر ہے، جہاں ایک مقررہ تاریخ پر سالانہ میلہ بھی لگتا رہا ہے۔ جس میں اس کے اطراف و اکناف کے لوگ شریک ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ اس قبر کے بارے میں کوئی قطعی اور یقینی ثبوت اس بات کا موجود نہیں کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) ہی کی قبر ہے۔ لیکن اس شہرت سے اتنا تو معلوم اور ظاہر ہوجاتا ہے کہ قوم عاد اور اس پر واقع ہونے والے عذاب کا محل وقوع اسی علاقے میں تھا جو کہ سعودی عرب کے مشہور ریگستان الربع الخالی کے جنوب میں واقع ہے۔ اور جہاں آج یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ کبھی یہاں پر کوئی اتنی مشہور و معروف تنو مند و طاقتور اور ترقی یافتہ قوم موجود تھی۔ سو خدا وند قدوس کے عذاب سے ان کو اس طرح ملیا میٹ کرکے رکھ دیا گیا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ پس اس میں کفار قریش اور دوسرے تمام دشمنان حق کیلئے بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ مگر عبرت پذیری کے اس اصل سبق کو چھوڑ کر اہل بدعت کے ایک تحریف پسند نے یہاں پر زہر فشانی کی ہے " معلوم ہوا کہ بزرگوں کا ذکر کرنا اور سننا سنانا عبادت اور ذریعہ تبلیغ ہے۔ اسی لئے بزرگوں کے عرس منائے جاتے ہیں۔ " سو اس کو کہتے ہیں کہ بھوکے کا جواب دو اور دو چار روٹیاں۔ ملاحظہ ہو کہ موصوف اپنی بدعت پسندی کے لئے کیسی دور کی کوڑی لاتے ہیں، اور اللہ کے کلام کی کیسی تحریف و تاویل کرتے ہیں یہ لوگ ؟ سوال یہ ہے کہ یہ تفسیر و تاویل صحابہء کرام سمیت پندرہ صدیوں کے ثقہ مفسرین کرام کو آخر کیوں نہ سوجھی ؟ پھر یہاں ذکر کسی بزرگ کا نہیں۔ بلکہ یہاں تو اللہ پاک کے ایک نبی کا ذکر ہے۔ تو نبیوں کے نام کے کون سے عرس یہاں منائے جاتے ہیں ؟ یا تم لوگ مناتے ہو ؟ بلکہ سوا لاکھ کے لگ بھگ انبیائے کرام (علیہم السلام) اور ان کے بعد سوا لاکھ صحابہء کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور ان کے بعد بیشمار اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جن کی قبروں اور تواریخ وفات ہی کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ اور پھر اگر ان سب کے عرس منانے لگو گے تو ایک ایک دن بلکہ ایک ایک منٹ میں کتنے کتنے عرس منانے کی ضرورت ہوگی ؟ کیونکہ سوالاکھ انبیائے کرام (علیہم السلام) اور سوا لاکھ صحابہء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے علاوہ بیشمار اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ بھی گزرے ہیں۔ ان سب حضرات کے اگر یوم پیدائش بھی منائے جائیں اور یوم وفات بھی تو پھر حساب کرلو کہ کتنے لاکھ دن منانے کی ضرورت ہوگی ؟ جبکہ سال پورے کے کل دن صرف تین سو پینسٹھ ہوتے ہیں۔ اب تم خود دیکھ لو کہ ایسے میں ایک ایک دن بلکہ دن کے ایک ایک حصے میں کتنے کتنے دن منانے کی ضرورت ہوگی ؟ اور بزرگوں کے حالات و واقعات سننے سنانے کیلئے کیا ضروری ہے کہ یہ ان کے یوم وفات ہی پر سنے سنائے جائیں اور بس۔ اور اس کیلئے ان کے ناموں پر خاص دن ہی منائے جائیں، اور عرس ہی کیے جائیں ؟ عبرت پزیری اور سبق گیری کیلئے سال کے ہر حصے میں ان کے حالات کیوں نہ سنے سنائے جائیں ؟ اور پھر یہ کیا بات ہے کہ عرسوں اور تہواروں کی یہ بھر مار صرف برصغیر ہندوپاک ہی میں ہے۔ باقی اسلامی ممالک خاص کر سعودی عرب اور ارض حرمین شریفین میں اس طرح کے میلوں اور عرسوں وغیرہ کی یہ بہار آخر کیوں نہیں ؟ جہاں کا چپہ چپہ مقدس اور تاریخی روایات کا امین و پاسدار ہے ؟ اور جہاں سے ایمان و اسلام کا یہ نور مبین طلوع ہوا ہے ؟ اور اس کے علاوہ جزیرہ نمائے عرب کے دوسرے ملکوں مثلاً متحدہ عرب امارات کی سات ریاستوں، مسقط، کو یت اور قطر، بحرین وغیرہ میں بھی ان کا کوئی ذکر و وجود آخر کیوں نہیں ؟ جہاں کتنے ہی صحابہء کرام ؓ اور دوسرے بزرگان دین تشریف لائے ہوں گے اور وہ انہی ملکوں کی دھرتی میں جگہ جگہ آسودہ خواب ہوئے ہوں گے۔ سو یہ عرس اور قوالیاں وغیرہ اور یہ میلے ٹھیلے دین نہیں، بلکہ بدعات ہیں۔ جن کو لوگوں نے ازخود ایجاد کیا۔ اور ان کو قرآن پاک سے ثابت کرنا اور تفسیر قرآن کے نام سے ان کو قرآن کریم کے حواشی میں درج کرنا تفسیر نہیں، بلکہ تحریف ہے۔ اور یہ ظلم بالائے ظلم کا مصداق ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 46:22[ 54] منکر قوم کی بغاوت و سرکشی کا ایک نمونہ و مظہر :
سو یہ قوم ہود کا اپنے پیغمبر کو باغبانہ اور سرکشانہ ضواب تھا اور اس سے ایسی باغی اور سرکش قوموں کی بغاوت و سرکشی کا ایک نمونہ مظہر سامنے آتا ہے سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کے حق و صدق اور درود سوز بھرے خطاب کے جواب میں ان سے کہا کہ " کیا تم ہمارے پاس اسی لیے آئے ہو کہ ہمیں برگشتہ کردو اپنے معبودوں سے، پس تم لے آؤ ہم ہر عذاب۔ جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو اگر تم سچے ہو اپنے قول وقرار میں۔ " سو یہ تھا قوم عاد کا اپنے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کو باغبانہ اور سرکشانہ جواب کہ ہم تمہارے کہنے پر اپنے باپ دادوں کے طور طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اور یہی بات آج کا جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک بھی اہل حق کے جواب میں کہتا ہے کہ تم نیا دین لے کر آگئے ہو، اور ہمیں اپنے باپ دادا کی روایات اور ان کے طور طریقوں سے پھیرنا چاہتے ہو۔ اور ہماری ثقافت و تاریخ مٹانا چاہتے ہو ؟ وغیرہ وغیرہ۔ " تافکنا "، " افک " سے بنا ہے۔ جس کے معنی جھوٹ بولنے کے آتے ہیں۔ اور اس کے بعد " عن " کا صلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لفظ " صرف " وغیرہ جیسے کسی ایسے فعل کو متضمن ہے جو پھیرنے کے معنی میں آتا ہے۔ سو ان بدبختوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کے جواب میں کہا کہ تم اپنی نبوت اور رسالت کے جھوٹے دعوے سے اور اس کی دھونس جما کر ہمیں اپنے معبودوں سے پھیرنا اور اپنے بڑوں کی روایات اور اپنے موروثی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہو۔ اس لئے ہم تمہاری یہ بات ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اور تم سے صاف کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو اپنے اس عذاب کو لا دکھاؤ جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو۔ یعنی ہم نے بہرحال اپنے اس دین و مذہب کو نہیں چھوڑنا۔ تم جو کرسکتے ہو کرلو۔ سو اس سے ان لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے تو پھر ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کو حق و ہدایت کی روشنی آخر ملے تو کیسے اور کیونکر ملے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ عناد وہٹ دھرمی سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 46:23[ 55] حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو پیغمبرانہ شان کا جواب :
سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے جواب میں ان سے کہا کہ " علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ میرا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے اور بس۔ " یعنی نہ تو وہ عذاب لانا میرے بس میں ہے اور نہ ہی مجھے اس کے بارے میں کوئی علم ہے کہ وہ کب آئے گا۔ یہ سب کچھ تو اللہ پاک ہی کے علم اور اسی کی قدرت کے ماتحت ہے۔ میرا کام تو صرف اس قدر ہے کہ میں تم لوگوں کو خداوند قدوس کا وہ پیغام بلا کم وکاست پہنچا دوں جسکے ساتھ اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے یہاں پر " انما " کے کلمہء حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ غیب کے ان حقائق کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ اور اہل بدعت کے بڑے حضرات نے بھی اس کا ترجمہ انہی لفظوں سے کیا ہے کہ " اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ " پس اس سے انبیائے کرام (علیہم السلام) اور اولیائے عظام رحمہم اللہ کیلئے علم غیب کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ غیر اللہ کیلئے علم غیب کلی کا شرکیہ عقیدہ رکھتے ہیں، اور اس کیلئے وہ طرح طرح کے پاپڑ بیلتے اور جتن کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن و سنت کی صاف وصریح نصوص کریمہ میں بھی یہ لوگ طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی سرکش اور باغی قوم کے اس مطالبے کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عذاب کے بارے میں علم تو اللہ ہی کے پاس، اور اسی کے اختیار میں ہے۔ میرا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ باقی رہا عذاب کا معاملہ کہ وہ تم پر کب آئے گا اور کس شکل میں آئیگا تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ میں اس کے بارے میں نہ کچھ کہہ سکتا ہوں اور نہ کرسکتا ہوں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ تم لوگوں کا انجام کیا اور کیسا ہونے والا ہے۔
[ 56] حق کا انکار بری جہالت اور بڑی بدبختی۔ والعیاذ باللہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کا انکار اور اس سے اعراض نری جہالت اور بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی اس باغی اور سرکش قوم خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ یقینی طور پر بری جہالت برت رہے ہو، کہ دعوت حق کو اپنانے، اور اپنے ہولناک انجام سے بچنے کی بجائے تم عذاب کا مطالبہ کرتے ہو، جو کہ نری حماقت اور کھلی بدبختی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کہ تم لوگ ایمان و ہدایت کے ذریعے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اس عذاب کیلئے جدلی مچا رہے ہو جو بہر حال اپنے وقت پر تم لوگوں پر آکر رہے گا۔ بھلا اتنا تو سو چو کہ جب وہ آگیا اور تم اس میں دھرلئے گئے اور فرصت عمر تم سے چھین لی گئی تو پھر تم اس سے بچو گے کس طرح ؟ اس سے چھٹکارے کی پھر تمہارے لئے کیا صورت ممکن ہو سکے گی ؟ تو پھر تم اس کیلئے آخر جلدی مچاتے کس بنا پر ہو ؟ [ ماذا یستعجل منہ المجرمون ] ۔ یعنی مجرم لوگ کا ہے کیلئے جلدی مچا رہے ہیں۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنا نری جہالت اور بڑی بدبختی اور محرومی ہے کہ اس سے ایک طرف تو انسان جہالت اور لاعلمی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے اور دوسری طرف وہ ایک غیر ذمہ دار اور لایعنی شخص بن کر اپنے نفع و نقصان کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنے لیے عذاب اور دائمی خسارے تک کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر کار اس کو عذاب میں دھر لیا جاتا ہے، اور وہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہو کر رہتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔