Ayahs 44:34–3540 منکرین کی طرف سے بعث بعد الموت کے انکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں ۔ یعنی منکرین کا ۔ کہنا ہے کہ ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا "۔ جیسا کہ تم لوگ کہتے ہو ۔ اے مسلمانو !۔ کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ہے۔ اور اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا بدلہ پانا ہے۔ بلکہ زندگی تو یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ سو جو اس میں عیش کر گیا وہ کر گیا۔ پھر اٹھنا وٹھنا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ قیامت وغیرہ کا ڈراوا تو محض ایک ہوّا ہے۔ موت تو بس یہی موت ہے جس سے اس دنیا میں سابقہ اور واسطہ پیش آتا ہے اور بس۔ اور یہی موت اول بھی ہے اور آخر بھی۔ اس کے بعد نہ کوئی موت ہے نہ زندگی۔ اور " موتہ اولیٰ " یعنی " پہلی موت " کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی دوسری موت بھی ہو۔ جیسا کہ ہم لوگ اپنے محاورے میں بولتے ہیں کہ " فلاں شخص کے یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا " تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے یہاں دوسرا بچہ بھی پیدا ہو۔ بلکہ اس کے لیے اتنی بات کافی ہوتی ہے کہ اس کے یہاں اس سے پہلے کوئی بچہ نہ ہوا ہو۔ جیسے کوئی کہتا ہے کہ " یہ پہلی کمائی ہے جو مجھے آج حاصل ہوئی "۔ عام اس سے کہ اس کے یہاں اس کے بعد کوئی اور کمائی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ (محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ منکرین کا کہنا ہے کہ ہمیں کبھی دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 44:3641 منکرین کی ایک حجت باطلہ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ۔ یعنی منکرین ۔ کہتے ہیں کہ تم لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو اپنے اس دعوے میں "۔ یعنی وہی رٹی رٹائی اور گھسی پٹی بات کہ اگر واقعی ایسا ہونے والا ہے تو تم ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لا دکھاؤ۔ اور ہمارے مشاہدے میں لاؤ۔ تب ہم مانیں۔ اور یہی بات جو صدیوں پہلے کے وہ جاہل لوگ کہتے تھے یہی آج کا وہ مادہ پرست منکر آخرت انسان بھی کہتا ہے جس کو اپنی عقل مندی اور دانش وری کا بڑا زعم و گھمنڈ اور دعویٰ ہے۔ دونوں میں کچھ فرق نہیں۔ حالانکہ یہ بات بجائے خود ان کی عقلوں کا ماتم کر رہی ہے۔ آخر ان سے کوئی پوچھے کہ تم سے یہ کہا ہی کس نے ہے کہ وہ نئی زندگی اسی دنیا میں ہوگی ؟ وہ تو ایک دوسرے جہان کا قصہ ہے جس کو عالم آخرت کہا جاتا ہے جو کہ اس دنیا کے خاتمے کے بعد اور اس جہاں کے تقاضوں کے مطابق نئے نوامیس و قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق وجود میں آئے گا۔ جس کا ایک وقت بہرحال مقرر ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ وقت کب آئے گا ؟ اور اس کے بپا ہونے میں کتنا زمانہ باقی رہ گیا ہے ؟ تو اس کا علم حضرت قادر مطلق ۔ جل و علا ۔ اور عالم الغیب والشہادۃ ہی کو ہے۔ اور اس کے یہاں ہر چیز کا بہرحال ایک وقت مقرر ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقدَار } ۔ (سورۃ الرعد : 8) وہ اس وقت مقرر سے پہلے وقوع پذیر نہیں ہوسکتی۔ جس طرح شادی کرنے پر اسی دن بچہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ آج پیدا ہونے والا بچہ آج ہی بالغ اور جوان نہیں ہوسکتا۔ آج مدر سے میں داخلہ لینے والا لڑکا آج ہی عالم فاضل نہیں بن سکتا۔ آج زمین میں ڈالا جانے والا بیج آج ہی برگ و بار نہیں لاسکتا۔ ابھی شروع ہونے والا دن ابھی فوراً ہی ختم نہیں ہوسکتا وغیرہ وغیرہ۔ کہ ان میں سے ہر چیز کا ایک خاص وقت مقرر ہے۔ اس سے پہلے اس کا وقوع نہیں ہوسکتا۔ یہ اسی قادر مطلق کا بنایا ہوا ایک نہایت پر حکمت نظام ہے۔ یوں اس قادر مطلق کی قدرت میں سب کچھ داخل ہے لیکن عادۃً اس طرح کی کسی چیز کا اپنے وقت سے پہلے ظہور پذیر ہوجانا ناممکن ہے۔ تو پھر وقوع قیامت پر یہ اعتراض کیونکر وارد ہوسکتا ہے ؟۔ سو ایسا اعتراض وسوال منکرین کی اپنی حماقت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:3742 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجوڑنے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ ہیں یا تُبَّع کی قوم ؟ "۔ " تُبّع " کسی زمانے میں یمن کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا۔ جس طرح کہ کسریٰ فارس کے، قیصر روم کے، فرعون مصر کے اور نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ تُبّع حمیری اسلام لے آیا تھا۔ بلکہ بعض روایات میں اس کے نبی ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور بعض میں اسے ایک نیک آدمی ۔ رجل صالح۔ ہونے کا۔ اور اس کو برا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور کہتے ہیں یہی وہ پہلا شخص تھا جن نے بیت اللہ کو غلاف پہنایا تھا۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ محمد بن اسحاق نے اپنی مغازی میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ اس لئے یہاں پر موازنہ " تُبّع " سے نہیں بلکہ قوم " تُبّع " سے فرمایا گیا ہے جو کہ بگڑے ہوئے لوگ تھے۔ سو اس میں کفار قریش اور دوسرے منکرین کیلئے تنبیہ اور تذکیر ہے کہ جب کل کے ایسے بڑے طاقتور منکرین اپنے ایسے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے تو دور حاضر کے یہ منکر آخر اپنے اس انجام سے کیسے اور کیونکر بچ سکیں گے ؟ اگر یہ بھی کفر و انکار کی اسی راہ پر چلیں گے جس پر کل کے یہ کفار و منکرین چلے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
43 قوم " تُبّع " سے بھی پہلے لوگوں کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ ان لوگوں سے بہتر ہیں جو قوم " تُبّع " سے بھی پہلے گزر چکے ہیں ؟۔ استفہام انکاری اور تقریع و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی نہیں کہ یہ عرب اور کفار قریش ان مشرکین سابقین سے بہتر تو کیا ہوتے یہ ان کے برابر بھی نہ تھے۔ بلکہ ان کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتے کہ وہ لوگ اپنے ڈیل ڈول اور قد و قامت، دولت و ثروت، حکومت و سلطنت اور تعداد و عددی کثرت کے اعتبار سے ان میں کہیں بڑھ کر تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَا اَتَیْنٰہُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْر } (سبا :45) ۔ یعنی موجودہ دور کے یہ منکر پہلے دور کے ان منکروں کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ سو انہوں نے جب میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میں نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ سو کیسا تھا میرا عذاب ؟۔ سو اگر وہ لوگ اس سب کے باوجود اپنے کفر و تکذیب کی پاداش میں اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہے تو یہ آخر کس باغ کی مولی ہیں کہ اپنے اس انجام و خیم سے بچ جائیں جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار کی بنا پر بنا لیا ہے ؟ اس لئے ان کو ان کے انجام سے سبق لے کر اپنی اصلاح کر لینی چاہیئے قبل اس سے کہ یہ بھی اپنے اس انجام سے دو چار ہوجائیں جس سے کہ وہ ہوچکے ہیں۔ سو جو قادر مطلق کل کے ان متکبر اور کہیں بڑے طاقتور منکروں کی گردن اس طرح مروڑ سکتا ہے وہ آخر آج کے ان منکروں کی گردن کیوں نہیں مروڑ سکتا۔ اور یہ لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے آخر کیسے اور کیونکر بچ سکتے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:3844 سزا و جزا کی دلیل صفات خداوندی کے حوالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس کائنات کو کوئی کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کیا۔ سو آسمانوں و زمین کی یہ کائنات بیکار نہیں ہوسکتی۔ اور ایسے کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنی اس حکمتوں اور عجائب بھری وسیع و عریض کائنات کو یونہی بےمقصد پیدا کر کے ختم کردیں اور ثواب و عقاب کا کوئی نظام قائم نہ کریں۔ یہ کس طرح ممکن و مُتَصَوَّر ہوسکتا ہے کہ ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی صفات عدل و حکمت کے منافی ہے۔ سو زمین و آسمان اور انکے درمیان کی اس حکمتوں بھری کائنات کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے یونہی بیکار و بےمقصد اور کھیل تماشے یا دل لگی کے طور پر پیدا نہیں فرمایا۔ بلکہ اس سب کو ایک عظیم الشان مقصد اور بہترغایت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے کہ ایک طرف تو انسان اس میں غور و فکر سے کام لیکر اس کے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور دوسری طرف اس کی عظیم الشان اور گوناگوں نعمتوں سے مستفید ومالا مال ہو کر اپنے خالق ومالک کا حق شکر ادا کرے اور دل و جان سے اس کے حضور جھک کر اور اس کی عبادت و بندگی سے سرشار ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرشار و سرفراز ہوجائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سزا و جزا کا ہونا صفات خداوندی کا ایک لازمی اور بدیہی تقاضا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔ اور اس طرح اس کائنات کے مقصد وجود کی تکمیل ہو سکے ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود عبث و بیکار اور بےمقصد ہو کر رہ جائے گا جو حضرت خالق حکیم کی حکمت بالغہ کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 44:3945 کائنات کی تخلیق بالحق اور بامقصد : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تو انکو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے "۔ یعنی ہم نے ان کو نہایت بامقصد اور عظیم حکمتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ انسان اس کائنات کے عجائبات پر غور کر کے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے۔ اور پھر صدق دل سے اس پر ایمان لا کر زندگی اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارے۔ اور اس طرح وہ اس کی دائمی نعمتوں اور ابدی رحمتوں سے متمتع و مستفید ہو سکے۔ اور جو اس کے برعکس کفر و معصیت کی زندگی گزارے اور انحراف و بغاوت کی راہ کو اپنائے وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پھل بھرپور طریقے سے پائے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طور پر پورے ہو سکیں۔ سو حساب و کتاب کا وہ دن اس سے پہلے وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ ابھی اوپر بھی اس بارے قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس کو ایک نظر پھر دیکھ لیا جائے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت چونکہ حق اور حقیقت کے علم سے غافل و بےبہرہ ہے اس لیے وہ ایسے ٹھوس حقائق سے بیخبر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کائنات کی اس تخلیق بالحق کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو اور اس کے بعد ایک دن ایسا آئے کہ جس میں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ اپنے ان بندوں کو انعامات سے نوازے جنہوں نے اپنی زندگی اس کی رضا و خوشنودی کے مطابق اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر گزاری۔ اور اس کے برعکس ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنایا اور اس کی حدود کو توڑ کر باغیانہ زندگی گزاری۔ تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ سو اگر ایسے نہ ہو بلکہ یہ دنیا یونہی چلتی رہے یا یونہی بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خالق نے اس کو یونہی بےمقصد اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا فرما دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 44:40–4246 قیامت کے روز کی سرفرازی رحمت خداوندی ہی کے نتیجے میں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ نفسی نفسی کے اس یوم عظیم میں نہ کسی کا کوئی عزیز و قریب آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں اور سے کوئی مدد کی جائے گی سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ اپنا فضل و کرم فرمایا ہوگا۔ یعنی وہ مومن مخلص جس کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق ملی ہوگی کہ ان کو سفارش کرنے کی اور ان کے لئے بوقت ضرورت سفارش کئے جانے کی اجازت ہوگی۔ مگر وہ بھی جس کو اجازت ملے اور جس کے لئے ملے ۔ { اِلا مَنْ اَذِنَ لَہ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلا } ۔ (طٰہٓ: 109) ۔ سو فیصلہ اور جزا کے اس دن فائز المرامی بس انہی لوگوں کو نصیب ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم فرمائے گا۔ اور اس کے اس فضل و کرم سے سرفراز و سرشار وہی خوش نصیب ہوسکیں گے جو اپنے ایمان و عقیدے اور عمل و کردار کی بنا پر اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ اور وہ وحدہ لاشریک یقینا بڑا ہی زبردست بھی ہے اور انتہائی مہربان بھی۔ جن کو وہ پکڑے گا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ انکو کوئی چھڑا نہ سکے گا۔ اور اس کے برعکس جن کو وہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے گا انکو کوئی اس کی رحمت سے محروم نہیں کرسکے گا۔ سو بندوں کو ہمیشہ اس کی گرفت و پکڑ سے ڈرتے بھی رہنا چاہیئے اور اس کی رحمتوں اور عنایتوں کی امید بھی رکھنی چاہئیے کہ وہ انتہائی زبردست، عزیز و جبار اور قہار بھی ہے۔ اور رحمن و رحیم، ستار و کریم اور وہاب و غفار بھی۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے اس یوم عظیم و مہیب میں سرفرازی انہی خوش نصیبوں کو نصیب ہو سکے گی جن پر وہ اپنا فضل و کرم فرمائے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وجعلنا اللہ منہم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
47 اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید اور اس کی گرفت و پکڑ سے خوف کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید اور اسلوب حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہی ہے جو انتہائی زبردست بھی ہے اور نہایت مہربان بھی "۔ سو اس ذات اقدس و اعلیٰ کا معاملہ تنگ ظرف دنیا داروں کی طرح نہیں کہ دنیا میں کچھ قوت و غلبہ ملے تو ظلم کرنے لگیں بلکہ وہ سب پر اور ہر لحاظ سے غالب ہونے کے باوجود انتہائی مہربان بھی ہے۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی صفت و شان ہے ۔ فَلَہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ کَمَا یَنْبِغِیْ لِجَلَالِ وَجْھِہٖ وَعَظِیْمِ سُلْطَاتِہٖ ۔ سو اس رحمن و رحیم کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کے یہاں سے محرومی کسی کیلئے بھی نہیں سوائے اس کے جس نے اعراض و روگردانی سے کام لیکر اپنے آپ کو اس سے محروم کردیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ چونکہ وہ عزیز اور انتہائی زبردست اور قہار بھی ہے اس لیے نہ کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی کسی رحمت و عنایت کو کسی سے روک سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان دونوں صفات کریمہ کے حوالے سے یہ اہم اور بنیادی درس دیا گیا ہے کہ بندہ اس کی گرفت و پکڑ سے ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت سے پوری پوری امید بھی رکھے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 44:43–4448 دوزخیوں کا کھانا زَقُّوم کا درخت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ زَقُّوم کا درخت کھانا ہوگا بڑے گناہگاروں کو "۔ یعنی کفار و مشرکین کا چونکہ سب سے بڑا گناہ تو کفر و شرک ہی ہے اور " الاثیم " مبالغے کا صیغہ ہے ۔ " کَبِیْرُ الْاثِمْ اَیِ الکافر " ۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، البحرالمحیط وغیرہ) ۔ والَعِیَاد باللّٰہَ مِنْ کُل نَوْعٍ مِّنْ اَنْوَاعِ الْعَذَابِ فِی الدُّنْیَا والاٰخِرَۃِ ۔ بہرکیف اوپر یوم الفصل کے جس یوم عظیم کا ذکر فرمایا گیا اب یہ اس کے فیصلوں کے نتائج کا اعلان و اظہار فرمایا جا رہا ہے۔ اور اس دن گناہگاروں کا جو حشر ہوگا یہ اس کی تصویر پیش فرمائی جا رہی ہے کہ زَقُّوم کا وہ ہولناک درخت ایسے بڑے گناہگاروں کو کھانا ہوگا۔ زَقُّوم " تھوہر " ہی کو کہا جاتا ہے۔ لیکن دوزخ کے اس تھوہر کی اصل حقیقت کا علم و ادراک یہاں کسی کیلئے ممکن نہیں۔ اللہ ہی جانے اس کی اصل حقیقت کیا ہوگی ؟ ہم دنیا کے اس تھوہر سے دوزخ کے اس تھوہر کا ہلکا سا تصور کرسکتے ہیں اور بس۔ اس کی اصل حقیقت کو بہرحال نہیں سمجھ سکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 44:45–4949 اہل دوزخ کی تذلیل کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے کہا جائے گا کہ اب تو اس کا مزہ چکھ کہ دنیا میں تو بڑا عزت دار بنا ہوا تھا "۔ یعنی دنیا میں تو تو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھا کرتا تھا۔ اور اسی وجہ سے تو حق کا انکار کرتا تھا۔ اور اس سے محروم رہا تھا۔ سو اب تو مزہ چکھ لے اپنے کفر و انکار اور اپنے کئے کرائے کا۔ یہ اس بدبخت کی تحقیر و تذلیل کے لئے اس سے کہا جائے گا۔ اور اس طرح وہ دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ تحقیر و تذلیل اور حسرت و یاس کی اس باطنی آگ میں بھی جلے گا۔ اور عذاب در عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ العزیزالغفَّارَ مِن کل نَوْعٍ مِّنْ اَنْواعِ الْعَذَابِ بَمِحْضِ مَنِّہ وَکَرَمِہٖ وَھُوَ اَرْحَمْ ُ الرَّاحمین جَلَّ وَعلا ۔ اور ہر ہر دوزخی سے اس طرح کہنا اس ہولناک عذاب کی زبان حال سے بھی ہوسکتا ہے اور عذاب دینے والوں کی زبان قال سے بھی۔ سو ان بدبختوں کی تذلیل و تحقیر کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ اب تم چکھو مزہ اس عذاب کا۔ یہ وہی کچھ ہے جسکے بارے میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے بارے میں تم طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر کے نور حق و ہدایت سے خود بھی مزید از مزید دور و نفور اور محروم ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی محروم کرتے تھے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے جن کو جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں اتنا پیشگی اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اس دنیا میں ہی آگاہ فرما دیا ہے تاکہ جنہوں نے بچنا ہو بچ جائیں قبل اس سے کہ فرصت عمر اور حیات دنیا کی یہ مہلت ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 44:50–5150 پرہیزگاروں کے صلہ و انعام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ پرہیزگار لوگ بڑے ہی امن و سکون کے مقام میں ہوں گے "۔ جہاں ان کو ہر طرح کا امن و سکون اور ہر تکلیف و مکروہ سے راحت و اطمینان نصیب ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں وہ ایمان اور اس کے مطابق عمل صالح کی دولت سے سرشار و مالامال رہے ہوں گے۔ اور ایمان ہی امن بخشنے کی چیز ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو دنیا و آخرت دونوں میں انسان کے لیے امن و سکون کی ضامن و کفیل ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ گناہگاروں کے انجام کے مقابلے میں پرہیزگاروں کے انجام کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے تاکہ دونوں نمونے سامنے رہیں اور انسان اپنی مرضی اور اختیار سے ان دونوں میں سے جسکو چاہے اختیار کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 44:52–5351 اہل جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وہاں پر عظیم الشان باغوں، چشموں میں باریک اور گاڑھے ریشم پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے "۔ یعنی وہاں کی کیفیت اور صورت حال کچھ اس طرح کی ہوگی کہ ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کرنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ کسی کی طرف اور خاص کر کسی بڑے معزز شخص کی طرف بلاوجہ پیٹھ کر کے بیٹھنا بھی ایک ناپسندیدہ امر ہے۔ اور جنت کا وہ مقام امین اس طرح کے ناپسندیدہ امور سے بھی پاک و صاف اور مامون و مطہر ہوگا ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا کہنے جنت اور اس کی بےمثال و بےپایاں نعمتوں کے ۔ اللّٰہم اجْعَلِنا مِنْ اَھْلِھِا بِمَحْضِ مَنکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِین ۔ اور آمنے سامنے بیٹھنا چونکہ باہمی اعتماد اور محبت کی دلیل ہے۔ اس لیے یہ خوش نصیب وہاں پر اس نعمت سے بھی سرشار ومالا مال ہوں گے اور انہوں نے چونکہ دنیا میں ایک دوسرے کو نیک مشورے دیئے ہوں گے اور راہ حق و ہدایت کی راہنمائی فرمائی ہوگی اس لیے وہ وہاں پر پوری خوشدلی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل بیٹھیں گے جبکہ اس کے برعکس کفار و مشرکین اور انکے لیڈر اور گرو ایک دوسرے پر لعنت کے ڈونگرے برسا رہے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:5452 اہل جنت کی زوجیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کی شادی کردی ہوگی گوری رنگت کی آہوچشم حوروں کے ساتھ "۔ " عین " جمع ہے " عینا " کی۔ جس کے معنیٰ ہیں " خوبصورت موٹی آنکھوں والی " اور " حور " کے معنیٰ ہیں " گوری رنگت والی " اور یہ جنت ہی کی ایک خاص مخلوق ہوگی جس کو اللہ پاک اہل جنت کی زوجیت کے لئے خاص طور پر پیدا فرمائیں گے اور اپنی وہ صالح جنتی بیویاں جو اہل جنت کو ملیں گی وہ اس کے علاوہ ہوں گی۔ اور وہاں کی نئی اٹھان اور نئی زندگی کے باعث وہ ایک اور ہی شان کی ہوں گی ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے جنت کی رحمتوں اور عظمتوں کے ۔ اللہ پاک اپنے کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کی مسرت کی تکمیل کیلئے ہم انکے نکاح میں ایسی آہوچشم گوری رنگت کی عورتیں دے دیں گے جن کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ واضح رہے کہ عربی ادب میں یہ صفت عورت کے کمال حسن کیلئے ایک جامع تعبیر ہے۔ یعنی جنت کی وہ عورتیں جو اہل جنت کے نکاح میں دی جائیں گی نہایت کمال درجہ کے حسن سے مالا مال ہونگی ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 44:5553 اہل جنت کے لیے ہر قسم کے پھلوں کی بہتات کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر وہ ہر قسم کے پھل اور لذت بخش چیزیں طلب کر رہے ہوں گے پورے امن و سکون کے ساتھ "۔ " فاکھہ " دراصل اس چیز کو کہا جاتا ہے جو لذت کے لئے کھائی جائے نہ کہ بھوک پیاس کی ضرورت کے لئے۔ اسی لئے پھلوں کو بھی " فاکہہ " کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کھانے کے بعد محض لذت اور لطف اندوزی کے لئے کھائے جاتے ہیں۔ اور اہل جنت کو چونکہ بھوک پیاس کی کوئی تکلیف نہیں ستائے گی بلکہ وہ جو کچھ کھائیں گے لطف و لذت ہی کے لئے کھائیں گے اس لئے اس کو " فاکہہ " سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ لذت بخش چیزوں سے کیا ہے۔ جس میں ہر طرح کے پھل بھی داخل ہیں اور کھانے پینے کی دوسری تمام اشیاء بھی۔ اور پھر ان کو وہاں ہر طرح سے امن نصیب ہوگا۔ کسی طرح کا کوئی خوف نہ ہوگا۔ نہ ان فواکہ اور لذت بخش چیزوں کے ختم ہوجانے یا چھن جانے کا نہ ان کی وجہ سے کسی بدہضمی یا بیماری اور نقصان وغیرہ کا۔ اور نہ ہی اور کسی طرح کا کوئی غم و خوف و اندیشہ ہوگا۔ بلکہ ہر طرح سے امن ہی امن ہوگا۔ اور یہ جنت کی وہ نعمت ہے جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ جبکہ وہاں پر ہر جنتی کو نصیب ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف جنت کے وہ باسی جس چیز کی بھی طلب اور خواہش کریں گے وہاں کے حاضر باش خادم اس کو فوراً لاکر انکے سامنے پیش کردیں گے۔ نہ انکو ان نعمتوں کے ختم ہوجانے کا کوئی خدشہ و اندیشہ ہوگا نہ وہاں کے عیش سے محرومی کا کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی موت کا کوئی کھٹکا۔ وہاں پر وہ ہر اندیشے سے نچنت اور بےفکر اس ابدی اور بےمثال عیش سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 44:56–5754 جنت سے سرفرازی فضل خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " محض آپ ﷺ کے رب کے فضل کی بنا پر "۔ معلوم ہوا کہ دوزخ سے بچ جانا اور جنت سے سرفراز ہوجانا اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے ہوگا نہ کہ محض اپنے عمل کی بنا پر۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کی طرح طرح تشریح و تفصیل فرمائی گئی ہے اور انسانی عمل کی اللہ پاک کی ان عظیم الشان نعمتوں کے مقابلے میں حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ یہ تو ساری زندگی کے اعمال ملا کر بھی اللہ پاک کی اس دنیا میں ملنے والی کسی نعمت کا بدلہ بھی نہیں ہوسکتے۔ تو پھر آخرت کے کہنے ہی کیا۔ سو وہ محض اس کا کرم اور احسان ہی ہوگا ۔ فَلُطْفُکَ وَکَرَمُکَ یَا اَرْحَمَ الرَّحِمِیْنَ وَ یَا اَکْرَمَ الَا کَرمِیْن ۔ بہرکیف اہل جنت کی ان سرفرازیوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کو وہاں پر موت بھی نہیں آئے گی سوائے اس موت کے جو انکو دنیاوی زندگی میں آگئی تھی۔ اور بس اس کے بعد وہ کسی موت سے آشنا نہیں ہوں گے۔ ان کی زندگی بھی جاودانی ہوگی اور انکا عیش بھی ہمیشہ کا۔ موت سے انہوں نے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا پالیا ہوگا اور دوزخ کے عذاب سے انکو انکے رب نے بچا لیا ہوگا۔ سو یہ سب کچھ آپ کے رب کے فضل و کرم سے ہوگا۔ اور یہی ہے اصل، حقیقی اور بڑی کامیابی نہ کہ وہ جس پر ابنائے دنیا ریجھے ہوئے ہیں اور اس کے عشق میں وہ ایسے کھوئے ہوئے ہیں کہ وہ اس دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
55 حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہے حقیقی اور بڑی کامیابی "۔ جس کے لئے کوشش کرنی اور زندگی کی پونجی صرف کرنی چاہیئے جو کہ حقیقی اصلی اور ابدی کامیابی ہے اور جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر کامیابی ہیچ ہے۔ نہ کہ دنیاوی مال و دولت وغیرہ کی وہ مصنوعی اور فانی کامیابیاں جن کو مادہ پرست اور خدا فراموش انسان بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ بلکہ اصل اور حقیقی کامیابی یہی آخرت کی کامیابی ہے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ (الصّٰفٰت : 61) پس جو لوگ آخرت کی اس اصل اور حقیقی کامیابی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر صرف دنیائے فانی کے حطام زائل کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اصل اور حقیقی کامیابی یہی ہے جو ہر لحاظ و اعتبار سے کامل بھی ہے اور دائمی و ابدی بھی۔ جبکہ دنیا کی ہر کامیابی عارضی اور فانی و وقتی ہے۔ سو عقل اور نقل دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ آخرت کی اس اصل اور حقیقی کامیابی ہی کو اپنا اصل مقصود بنایا جائے نہ کہ دنیا کی ان عارضی اور وقتی کامیابیوں کو کہ یہ سب آخرت کی کامیابی کے مقابلے میں ہیچ اور صفر ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayah 44:5856 قرآن حکیم کی تیسیر کی عنایت اور اس کا مفہوم و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے آسان کردیا اس قرآن کو آپ کی زبان میں "۔ یعنی عربی زبان میں جو کہ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی قوم کی زبان ہے۔ اور جو سب سے جامع زبان ہے تاکہ اس طرح یہ لوگ قرآن پاک کے معانی و مضامین کو سمجھ کر خود بھی اپنی زندگیاں اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ڈھال سکیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں۔ سو اس قرآن کو ہم نے تعلیم و تذکیر کے مقصد کیلئے نہایت آسان کردیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآن للذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرْ } ۔ (القمر : 22) ۔ اور اس آیت کریمہ کے آخر میں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ قرآن حکیم اس اہتمام خاص کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ نصیحت اور یاددہانی حاصل کریں۔ یعنی یہ لوگ کتاب حکیم کی اس ہدایت و راہنمائی سے عقل و فطرت کے اس نور کی جلا کا سامان کریں جسکو قدرت کی طرف سے ان کی طبیعت وجبلت میں ودیعت فرمایا گیا ہے۔ نیز حق اور ہدایت سے متعلق گزشتہ انبیائے کرام کی تعلیمات مقدسہ کو بھی یاد کریں۔ خاص کر جو انکے جدِّ امجد حضرت ابراہیم کے ذریعے ان تک پہنچی ہیں انکو یاد کریں اور ان کی روشنی میں راہ حق و صواب کو اپنا سکیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 44:5957 پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ انتظار کریں یہ لوگ بھی انتظار میں ہیں "۔ سو یہ پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی تسلی و تسکین کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ جب ماننے کی بجائے الٹا آپ کے بارے میں بری خواہشات اور برے انجام ہی کے منتظر ہیں تو آپ ﷺ بھی ان کے انجام بد کی انتظار کیجئے۔ اور انجام کار غلبہ حق ہی کا ہوگا۔ اور سربلندی بہرحال اسی کلمہ حق و صدق کے لئے ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے۔ اور اعدائے حق و دشمنان دین کے لئے بہرحال تباہی و ہلاکت مقدر ہے۔ یہ آپ ﷺ کے رب کا قطعی فیصلہ اور صاف وصریح وعدہ و اعلان ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَتَبَ اللّٰہُ لاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی } ۔ (المجادلۃ : 21) ۔ نیز فرمایا ۔ { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْافِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الاَشْہَادُ ، یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظَّالِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَہُمْ اللعنۃ ولہم سُوْئُ الدَّارِ } ۔ (المومن : 51-52) ۔ سو اس میں منکرین اور ہٹ دھرموں کیلئے آخری جواب ہے کہ اب انکو اپنے حال پر چھوڑ دو کہ عناد اور ہٹ دھرمی کا اور کوئی علاج نہیں۔ اور جب یہ لوگ سننا اور ماننا چاہتے ہی نہیں تو پھر ان کے منہ لگنے کا فائدہ ہی کیا ؟