Ayah 42:3174 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا یار و مددگار نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ " اللہ کے مقابلے میں تمہارا نہ کوئی یار ہوسکتا ہے نہ مددگار "۔ جو اس کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام آسکے۔ یا کم سے کم زبانی کلامی ہی تمہاری حمایت کا دم بھر سکے۔ پس تم اسی سے ڈرتے اور بچتے رہو جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں سب کچھ اور ہر کسی کی باگ ڈور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو فرضی اور خودساختہ سہارے تم لوگوں نے مختلف ناموں سے گھڑ رکھے ہیں وہ سب دھوکے کا سامان ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تمہارے کچھ بھی کام آنے والا نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جیسا کہ تم لوگ اپنی اس دنیاوی زندگی میں دیکھتے ہو اور کھلی آنکھوں دیکھتے ہو کہ جب تم لوگوں پر کوئی آفت آتی ہے تو نہ تم لوگ خود اس کا مقابلہ کرسکتے ہو اور نہ ہی تمہارا ایسا کوئی یار و مددگار اور حامی و ناصر ہوتا ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے اور تمہارے کچھ کام آسکے۔ سو اسی طرح قیامت کے روز نہ تم لوگ اس وحدہ لا شریک کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح بچ سکو گے اور نہ ہی تمہارے مزعومہ شفعاء و شرکاء میں سے کوئی ایسا ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں تمہاری حمایت اور نصرت کا دم بھر سکے سوائے اللہ پاک کی رحمت و عنایت اور اس کے لطف وکرم کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا ۔ فایاہ نسال التوفیق والسداد -
Ayah 42:3275 سمندروں میں چلتے بحری جہازوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس ۔ قادر مطلق ۔ کی نشانیوں میں سے پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز بھی ہیں جو رواں دواں ہیں سمندروں میں "۔ جو تمہاری ضروریات و حاجات کو لے کر مشرق و مغرب اور شمال و جنوب ہر طرف رواں دواں ہیں۔ سو جس پانی کی پشت پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹھہرسکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیو پیکر جہاز سمندر کا سینہ چیر کر دوڑے پھر رہے ہیں۔ تو یہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کس کی تسخیر و کارستانی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ پس بڑی ہی ناانصافی اور نمک حرامی ہوگی اگر انسان اپنے اس ربِّ رحمن کے کرم کو بھول جائے جس نے یہ سب بحر و بر اس کے کام میں لگا رکھے ہیں۔ اور اس کو چھوڑ کر وہ دوسروں کے آگے جھکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس قادر مطلق ربِّ رحمن نے ایک طرف تو وہ تمام میٹریل اور خام مال پیدا فرمایا جو جہاز سازی کی اس صنعت میں کام آتا ہے اور دوسری طرف اس نے تمہیں عقل و فکر کی اس قوت اور جسمانی صحت و سلامتی کی اس صلاحیت اور استعداد سے نوازا جس سے کام لیکر تم لوگ ان دیوپیکر جہازوں کو تیار کرکے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ اور اس طور پر کہ اس سے تم لوگوں کے طرح طرح کے کاروبار وابستہ ہیں اور کتنوں کی روزی روٹی کا مدارو انحصار بھی اسی پر ہے۔ اور تیسری طرف اس نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے بحر و بر کی اس پوری کائنات کو ایسے قواعد و ضوابط اور قوانین فطرت کا پابند بنادیا کہ یہ سب اس طرح تمہاری خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ سو اس سب کے باوجود اس خدائے مہربان سے منہ موڑنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر کھلی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 42:3376 جہازوں کا پانی کی پیٹھ پر چلنا قدرت کا ایک عظیم الشان کرشمہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دیو ہیکل جہازوں کی سمندروں کی پیٹھ پر روانگی اور ان کی آمد ورفت اللہ ہی کے کرم واحسان کا نتیجہ وثمرہ اور اس کی قدرت کا ایک عظیم الشان کرشمہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اگر چاہے تو روک دے ہوا کو "۔ جس کے نتیجے میں یہ سارے جہاز اپنی جگہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ اور ایسے کہ نہ آگے جاسکیں نہ پیچھے۔ مگر وہ اپنے حلم بےنہایت اور کرم بیکراں کی بنا پر ایسے نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے اپنی عنایت بےنہایت اور رحمت بےغایت سے سمندروں اور ہواؤں وغیرہ کی طرح طرح کی مخلوقات کو طرح طرح سے تمہارے کام اور تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ فلہ الحمد ولہ الشکر۔ سو وہ مالک الملک اور قادر مطلق اگر ہوا کو روک دے تو یہ تمام جہاز اپنے مسافروں اور دوسرے تمام ساز و سامان سمیت سمندر کی سطح پر جہاں جہاں ہیں وہیں کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ یا وہ اگر چاہے تو ان کو ان کے مسافروں اور ساز و سامان سمیت وہیں غرق کر دے جہاں یہ کھڑے ہیں۔ سو اس سے ان لوگوں کو درس عبرت و بصیرت لینا چاہیے جن کی نظر خالق کی قدرت پر نہیں ہوتی بلکہ وہ انہی مظاہر کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں اور ان کی نگاہیں انہی میں اٹک کر اور پھنس کر رہ جاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
77 صبر و شکر کی صفتیں دو عظیم الشان صفتیں ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صابر اور شاکر ہو " کہ ایسا ہی شخص ان نشانیوں سے صحیح طور پر سبق لے سکتا ہے۔ سو صبر و شکر کی صفتیں دو عظیم الشان صفتیں ہیں۔ اسی لیے قرآن پاک ان دونوں صفتوں کو جابجا اور مختلف انداز سے بیان فرماتا ہے تاکہ مومن صادق ان کو اپنے اندر پیدا کرے۔ کیونکہ یہ دونوں عظیم الشان صفتیں ہیں اور یہ ایمان کا ایک عظیم الشان ثمرہ اور پھل ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " الایمان نِصْفَانِ نِصْفٌ صَبْرٌ وَ نِصِفٌ شُکْرٌ ۔ " یعنی " ایمان کے دو حصے ہیں۔ ایک صبر اور ایک شکر "۔ اور یہ اس لئے کہ انسان کو ان دو میں سے کسی ایک حالت سے ہی واسطہ پڑتا ہے۔ نعمت یا مصیبت ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس نعمت و خوشی پر وہ شکر سے کام لے اور تکلیف و مصیبت پر صبر و برداشت سے۔ تو اس طرح مومن صادق کے لئے نعمت بھی خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت بھی خیر بن جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ صبر وشکر کی عظیم الشان صفتوں سے بہرہ ور و سرفراز رکھے اور بےصبری و ناشکری کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:3478 نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ وثمرہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر نعمت کا وجود اور نعمت کا نعمت ہونا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم پر موقوف ہے۔ ورنہ نعمت بھی ہلاکت کا سبب اور عذاب کا ذریعہ اور باعث بن جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " یا وہ غرق کر دے ان کو ان لوگوں کی کمائی کی بنا پر "۔ اور جو جو رنگ رلیاں یہ لوگ جہاز کے اندر کرتے اور مناتے ہیں ان کا مزہ ان کو اس طرح فوری چکھا دے۔ مگر یہ اس کریم مطلق اور حلیم مطلق کے بےپایاں حلم و کرم کا نتیجہ ہے کہ ان لوگوں کو چھوٹ پر چھوٹ ملتی جاتی ہے اور وہ اپنے عفو و درگزر اور جود و سخا اور بخشش و عطا ہی سے کام لیتا جاتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " جس طرح وہ مالک کل، قادر مطلق اس پر قادر ہے کہ ہوا کو روک کر ان جہازوں کو سمندروں کی سطح پر ہی ساکن کر دے، اسی طرح وہ اس پر بھی قادر ہے کہ انکے مسافروں کو انکے اعمال کی پاداش میں غرق کر دے۔ اور چاہے تو ان میں سے بہتوں کے گناہوں سے اس طرح درگزر فرما دے کہ وہ بھنور سے نکل کر بخیریت ساحل پر پہنچ جائیں۔ سو ان تینوں میں سے ہر بات اس کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اس دنیا میں کسی کیلئے بھی یہ بات جائز نہیں کہ وہ اپنی کسی کامیابی پر مست و مغرور ہو کر اترانے لگے۔ بلکہ اس کو یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ کامیابی کی صورت میں اپنے رب کیلئے سراپا سپاس بن کر دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور اگر اس کے برعکس خدانخواستہ کوئی افتاد پیش آجائے تو اس کو اپنی کسی کوتاہی کا نتیجہ قرار دے کر صبر و برداشت سے کام لے۔ اپنے رب سے معافی مانگے اور اس سے خیر کی توقع اور امید رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی درس بھی ملتا ہے کہ نعمت کا نعمت ہونا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت پر موقوف ہے۔ ورنہ نعمت بھی نقمت اور عذاب بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:3579 منکرین کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں کہ انکے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں "۔ سو اللہ کی آیتوں کے بارے میں جھگڑنے والوں کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں۔ جس کے ذریعے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جو جھوٹے سہارے ان لوگوں نے اپنا رکھے ہوتے ہیں ایسے موقع پر ان کی بےحقیقتی خود ان پر بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اور یہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں کہ کوئی نہیں جو انکو سمندر کی ان طوفانی لہروں اور خوفناک تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ یہاں پر { یعلم } کا فعل حالت نصب میں ہے۔ اس لیے اس کا معطوف علیہ محذوف ماننا پڑے گا۔ سو اس اعتبار سے تقدیر عبارت یوں گی ۔ " لینتقم اللہ منہم ویعلم الذین " ۔ ( محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ یعنی تاکہ اللہ ان لوگوں سے انتقام لے اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں کٹ حجتی سے کام لیتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 42:36–3982 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم اور سرکش لوگوں کے لئے کوئی سبز چارہ نہیں ہوتے کہ جو چاہے انہیں آسانی سے چبا جائے۔ بلکہ وہ ظلم اور سرکشی کا مقابلہ کرتے ہیں تاکہ ظلم فروغ نہ پا سکے۔ جیسا کہ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ } ۔ ان آیات کریمہ میں اہل جنت کی دس صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں جو کہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں صفات ہیں۔ اور اہل ایمان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن اور حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو ان سے سرفراز فرمائے اور مسلم معاشرے کو ان کی برکات سے مالا مال فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔ سو جو لوگ جنت سے سرفرازی چاہتے ہوں وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کریں ۔ اللہ توفیق نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 42:4083 برائی کا بدلہ برابر سرابر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے "۔ برائی کا بدلہ تو برائی نہیں ہوتا بلکہ وہ قصاص ہوتا ہے جس کی شریعت میں اجازت ہے۔ مگر " مشاکلہ " یعنی دونوں کے باہم مشابہ اور ہمشکل ہونے کی بنا پر برائی کے جواب کو بھی برائی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے اس طرف اشارہ بھی نکلتا ہے کہ بدلہ لینے سے معاف کردینا بہرحال بہتر ہے الا یہ کہ اس سے کوئی اور فساد پیدا ہوتا ہو۔ بہرکیف اہل جنت کی صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ برائی کا بدلہ برابر سرابر لیتے ہیں۔ اس کی کوشش نہیں کرتے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں کہ یہ طریقہ ظلم و زیادتی کے زمرے میں آجاتا ہے جس سے وہ بہرحال بچتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
84 عفو و درگزر کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر جو کوئی معاف کر دے اور معاملہ کو اصلاح کی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا ظالموں کو "۔ جو زیادتی کرنے میں پہل کرتے ہیں یا بدلہ دینے میں حد سے بڑھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس بنا پر برائی کے بدلے میں کی جانے والی کارروائی کے بارے میں { مثلہا } کی تصریح فرما دی گئی کہ ایسے لوگ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیتے بلکہ اس معاملے میں وہ پورا توازن قائم رکھتے ہیں۔ اور جواب میں وہ اتنی ہی کارروائی کرتے ہیں جو برائی کے ہم وزن ہو۔ جس میں کسی پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ سو اس میں عفو و درگزر کی ترغیب ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 42:4185 مظلوم پر بدلہ لینے میں کوئی الزام نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں کہ اس نے تو اپنا حق لیا۔ اور اپنے اوپر روا رکھے جانے والے ظلم کا بدلہ لیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی جرم نہیں۔ سو اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ کوئی ظلم سہنے کے باوجود بدلہ نہ لے اور ظالم کے ہاتھوں یونہی پٹتا رہے اور اس سے کوئی بدلہ نہ لے۔ نہیں اسلام ایسے نامعقول رویے کی تعلیم کبھی نہیں دیتا۔ سو اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے جو انتقام کو دینداری کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے -
Ayah 42:4286 اِلزام صرف ظالموں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ الزام تو بس انہی لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور وہ ناحق طور پر زیادتیاں کرتے ہیں زمین میں۔ سو ایسے لوگوں کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ خواہ ظلم کی ابتدا کرنے کی شکل میں ہو اور خواہ انتقام میں حد سے بڑھنے کی صورت میں ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ الزام تو بس انہی لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور وہ ناحق طور پر اللہ کی زمین میں سرکشی اور طغیانی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رہ گئے وہ لوگ جو ظلم سہنے کے بعد اس کا بدلہ لیتے ہیں ان پر کوئی الزام نہیں کہ انہوں نے تو اپنا حقِّ قصاص لیا اور بس۔
Ayah 42:4387 صبر و برداشت کی عظمت شان کا بیان : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ صبر و برداشت اور عفو و درگزر سے کام لینا بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ کہ اس میں نفس امارہ کی سرکوبی کرنا پڑتی ہے جو کہ باہر کے دشمنوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظلم و تعدیّ کا بدلہ و انتقام بقدر ضرورت اگرچہ جائز ہے اور ہر کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کا بدلہ لے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر اور محبوب طریقہ و عمل یہی ہے کہ صبر و برداشت اور عفو و درگزر ہی سے کام لیا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک بات تو یہ واضح فرما دی گئی کہ ظلم و زیادتی کے بعد برابری کی حد تک بدلہ لینا اگرچہ ہر شخص کا حق ہے لیکن حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے نزدیک اولیٰ اور بہتر یہی ہے کہ عفو و درگزر اور صبر و برداشت سے کام لیا جائے اور دوسری بات یہ کہ عفو و درگزر اور صبر و برداشت سے کام وہی لوگ لے سکیں گے جن کے اندر صبر کی خو خصلت جاگزیں ہوگی۔ سو صبر و برداشت کی خو خصلت اپنے اندر راسخ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور تیسری بات اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ عفو و درگزر کا یہ کردار عزم و ہمت کا کردار ہے۔ سو جو لوگ اپنے اندر اس کو پیدا کریں گے وہ ارباب میں سے ہوں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین -
Ayah 42:4488 ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الٰہی کا حوالہ : سو ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الہٰی اور دستور خداوندی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اللہ گمراہی میں ڈال دے اس کیلئے اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں ہوسکتا "۔ جو اس کو پھر راہ حق و ہدایت پر لاسکے۔ اور اللہ پاک کی طرف سے گمراہی کے گڑھے میں اسی کو پھینکا جاتا ہے جو اپنے اوپر ہدایت کے راستے اور اس کے دروازے خود بند کر دے ورنہ خدائے پاک تو اپنے کسی بندے پر ذرہ برابر بھی کوئی ظلم نہیں کرتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بنا پر ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے وہ خداوند قدوس کی توفیق بخشی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور جو کوئی خداوند قدوس کی توفیق و عنایت اور اس کی دست گیری سے محروم ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر اس کیلئے دوسرا کوئی کارساز نہیں ہوسکتا۔ سو جن لوگوں پر خدا کی مار پڑجائے انکو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔
89 ظالموں کے انجام اور انکے حال بد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالم لوگ عذاب دیکھنے پر کہیں گے کہ " کیا اب واپس جانے کی کوئی سبیل ممکن ہوسکتی ہے ؟ "۔ تاکہ اب ہم وہاں جاکر ایمان اور عمل صالح کو اپنا کر تلافی مافات کرسکیں۔ مگر اب اس کا موقع کہاں ؟ ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْد } ۔ سو ظالم لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور انہوں نے اللہ کی ہدایت کی قدر نہیں کی بلکہ وہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اور آنکھیں بند کرکے اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلتے رہے سو ایسے ظالم اور محروم القسمت آج تو اپنی اس روش پر بہت نازاں اور بڑے خوش ہیں لیکن وقت آنے پر جب یہ عذاب کو دیکھیں گے اور اپنے کیے کرائے کے انجام سے دوچار ہوں گے تو اس وقت یہ بڑی حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کیا اب دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی سبیل ممکن ہوسکتی ہے ؟ تاکہ وہاں جاکر کمائی کریں اور اس عذاب سے چھوٹنے کا سامان کرسکیں۔ مگر اس وقت اس کا موقع کہاں اور کیونکر ؟ اس کا موقع تو انہوں نے خود ضائع کردیا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی امان و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 42:45–4693 ظالموں کی لیے کوئی حمایتی اور کارساز نہیں ہوگا : جو ان کی وہاں کوئی حمایت یا کارسازی کرسکے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کیلئے کوئی کارساز نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد کرسکے۔ سو دنیا میں یہ لوگ جن کو اپنا حاجت روا و مشکل روا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے وہاں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ لکڑ پتھر وغیرہ کے بتوں میں تو سرے سے اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے کچھ کام آسکیں۔ اور اللہ کے جن دوسرے نیک بندوں کو یہ مشرک لوگ دنیا میں اپنا حاجت روا و مشکل کشا مانتے اور ان کو اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے وہ نہ صرف یہ کہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے بلکہ وہ صاف وصریح طور پر ان کے اس شرک کا انکار کردیں گے۔ اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا، کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا } ۔ (مریم :81- 82) ۔ پس ظالموں کیلئے کوئی بھی ایسا یار و مددگار اور حامی و سرپرست نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی کسی بھی طرح کی کوئی مدد کرسکے۔ بلکہ معاملہ اس دن سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا ۔ { وَالاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ } ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 42:4794 دعوت حق بطور زجر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم مان لو تم اپنے رب کا ۔ اے لوگو !۔ قبل اس سے کہ آپہنچے وہ ہولناک دن جس کے ٹلنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ پس اس فرصت حیات کو تم لوگ غنیمت جانو جو آج تمہیں میسر ہے کہ یہ لحظہ بہ لحظہ ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ اور جب ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اس کے واپس آنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ لہذا جو ایمان سے محروم ہے وہ ایمان لا کر اور جو عمل صالح اور تقویٰ سے محروم ہے وہ عمل صالح اور تقویٰ کو اپنا کر اس ہولناک دن کی تیاری میں لگ جائے۔ اور زندگی کی محدود و مختصر فرصت کو غنیمت سمجھے ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التِّوْفِیْقَ ۔ بہرکیف اس ہولناک دن کے آنے کے بعد نہ کسی کیلئے کوئی پناہ ممکن ہوگی اور نہ ہی کسی کیلئے کسی طرح کے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ اس لیے قبول حق کے لیے یہ دعوت دی گئی ہے جو کہ زجر و تنبیہ کے انداز میں ہے۔ اور یہ بھی ربِّ رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت کا ایک انداز و اسلوب ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تاکہ اس طرح لوگ دائمی خسارے اور ہولناک انجام سے بچ جائیں ۔ وباللہ التوفیق -
95 یوم حساب میں ظالموں کی بےبسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن نہ تمہارے لیے کوئی پناہ گاہ ممکن ہوگی اور نہ ہی تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش۔ کیونکہ جو کچھ بھی اس نے کیا ہوگا اس کا کامل ریکارڈ قطعی شہادتوں کے ساتھ اس کے سامنے موجود ہوگا۔ یا " نکیر " یہاں پر " منکر " کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی کوئی ایسا نہ ہوگا جو تمہاری سزا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی اعتراض و انکار کرسکے کہ ان کو سزا نہ دی جائے یا کم دی جائے وغیرہ۔ سو ایسے کسی امکان کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ تمہارا سب کیا کرایا تمہارے سامنے ہوگا۔ اور تم لوگوں کو بےچون و چرا اس کے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑے گا۔ سو اس اٹل دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کی دعوت کو قبول کرلو۔ ورنہ یاد رکھو کہ جب تمہارے رب کی جانب سے وہ دن آجائے گا جو اٹل ہے تو پھر تمہارے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ اس موقع پر تمہارا ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہوں گے۔ اس دن نہ تمہارے لیے کوئی پناہ ممکن ہوگی اور نہ ہی تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ بلکہ جو کچھ تمہارے سامنے آئے گا تمہیں بےچون و چرا اس کے آگے سرتسلیم خم کردینا پڑے گا۔ پس اس دن کی سختیوں سے بچنے کی فکر آج کرلو کہ یہی اس کا موقع ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 42:4896 پیغمبر کی ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کے ذمے منوانا نہیں صرف دعوت حق دینا ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ ﷺ کو ۔ اے پیغمبر !۔ ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا "۔ کہ آپ خواہی نخواہی ان کو منوا کر ہی چھوڑیں اور ان کو راہ حق پر لا کر اور ایمان قبول کرا کر ہی رہیں۔ یہ نہ تو آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کی ذمہ داری ۔ { لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدَاہُمْ } ۔ یعنی راہ بتانا تو بیشک آپ ﷺ کا کام ہے مگر راہ پر ڈال دینا اور اس پر چلا دینا نہ آپ کا کام ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے ۔ اِنْ عَلَیْکَ الا الْبَلاغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ سو اگر یہ لوگ اس دعوت حق پر لبیک کہتے اور اس کو قبول کرتے ہیں تو ٹھیک۔ نہیں تو آپ ﷺ ان کی کوئی فکر نہ کریں اور نہ انکے پیچھے پڑیں کہ آپ ﷺ کا کام صرف تبلیغ ہے۔ یعنی کلمہ حق کو بلا کم وکاست پہنچا دینا اور بس۔ بعینہ یہی مضمون اس سے پہلے آیت نمبر 6 میں بھی گزر چکا ہے۔
97 انسان کی تنگ نظری اس کے لیے باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ انسان اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان کی تنگ ظرفی کا عالم یہ ہے کہ نعمت ملنے پر یہ مست ہوجاتا ہے اور تکلیف پہنچنے پر یہ مایوس ہوجاتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ رحمت و عنایت تو انسان کے اپنے کئے پر نہیں بلکہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ملتی ہے۔ البتہ مصیبت و برائی اس کے اپنے کئے کا نتیجہ وثمرہ ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے اس تنگ ظرفی اور کوتاہ نظری کو بیان فرمایا گیا ہے جس میں ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان بالعموم مبتلا ہوتا ہے کہ اس کو اگر اللہ پاک کی طرف سے دنیا کی کوئی نعمت مل جاتی ہے تو یہ اس واہب مطلق کا شکر ادا کرنے کی بجائے اکڑنے اور اترانے لگتا ہے۔ اور طرح طرح کی ڈینگیں مارنا شروع کردیتا ہے کہ میں ایسا اور میں ایسا اور میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کے برعکس جبکہ اس کو اپنے کیے کرائے کی پاداش میں کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے تو یہ چیخنے چلانے اور واویلا کرنے لگتا ہے۔ اور آس توڑ دیتا ہے۔ اور یہی اس کی محرومی کا بڑا سبب ہے۔ اس لیے ایسوں سے راہ حق کو اپنانے کی توقع نہ رکھی جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
98 دولت ایمان و یقین سے محروم انسان بڑا ناشکرا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے " کہ تکلیف پہنچنے پر یہ حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کی تمام نعمتوں کو بھول کر شکایتوں کے گویا دفتر کھول دیتا ہے۔ سو یہ حال ہے دنیا پرست، تنگ ظرف انسان کا۔ کہ اگر اس کو کوئی نعمت ملتی ہے تو یہ اس پر اترانے لگتا ہے۔ اور تکبر میں مبتلا ہو کر حق و ہدایت سے دور ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ ناشکرا اور بےصبرا بن کر اپنی حرمان نصیبی میں اضافہ کرتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کے نزدیک دنیا اور اس کا متاع فانی ہی سب کچھ ہے۔ اس طرح ایسے شخص کو دنیا ملے تو بھی عذاب اور اگر نہ ملے تو بھی عذاب۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ دولت ایمان و یقین سے سرشار ومالا مال مومن صادق کی شان اور اس کی کیفیت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اس کو دنیا ملتی ہے تو وہ اس کو اللہ پاک کا عطیہ و احسان سمجھ کر اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جس سے وہ اس کیلئے خیر بن جاتی ہے۔ اور اگر کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر و برداشت سے کام لیتا ہے۔ جس سے وہ تکلیف اور مصیبت بھی اس کیلئے خیر بن جاتی ہے۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے جس سے ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 42:4999 بادشاہی اللہ ہی کی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی "۔ پس انسان کو ہمیشہ اسی سے مانگنا چاہیئے۔ اور جو بھی کچھ ملے اس پر مفتون و مغرور نہ ہو۔ اور اسے اپنی عقل و فکر اور کوشش و قابلیت کا نتیجہ قرار دینے کی بجائے اللہ پاک کا عطیہ و احسان سمجھ کر اس کا مزید از مزید شکر ادا کرے کہ شکر نعمت سے نعمت بڑھتی ہے۔ اور اس میں برکت آتی ہے۔ اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو اس سے ایسے بہکے بھٹکے لوگوں کو ان کی اس بیماری کا علاج بتادیا کہ اگر یہ لوگ اس حقیقت پر ایمان رکھتے کہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات پر حکومت و بادشاہی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ وہی جو چاہتا ہے پید کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے تو یہ لوگ تنگ ظرفی اور ناشکری کی ایسی حالت میں مبتلا ہونے کی بجائے ہمیشہ صبر و شکر سے کام لیتے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس بنیادی عقیدے کو بیان فرمایا گیا ہے جس سے محرومی کے باعث لوگوں کے اندر یہ تنگ ظرفی اور ناشکری پیدا ہوتی ہے اور وہ راہ حق و ہدایت سے بھٹک کر طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوتا اور جگہ جگہ ذلت و رسوائی کی دھکے کھاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے -
Ayah 42:50100 اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی جس کو چاہے بچے دے یا بچیاں یا دونوں۔ اور جسکو چاہے بانجھ کر دے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی یہ سب احوال صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پس انسان دست سوال اسی کے آگے دراز کرے۔ اور جو مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اس کے سوا نہ کوئی بچے بچیاں دے سکتا ہے اور نہ کسی سے بچے بچیاں مانگنا جائز ہے۔ اسباب کے درجے میں دوسروں سے کچھ مانگنا اور لینا دینا تو اگرچہ منع نہیں، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ مگر مافوق الاسباب طور پر کسی بھی مخلوق سے مانگنا جائز نہیں۔ کہ یہ حضرت خالق کی صفت ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس طرح کے صاف وصریح اور قطعی ارشادات و نصوص کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک قبروں اور مردوں سے اولادیں اور اپنی دوسری حاجتیں مانگتا، ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور وہ " پیراں دتہ "، " رسول بخش "، " نبی بخش "، " حضور بخش "، " علی بخش " اور " علی داد " جیسے شرکیہ نام بھی رکھتا ہے اور پیٹ کے پجاری جاہل ملاں اور پیر اپنا کاروبار چلانے اور اپنے پیٹ کو بھرنے کے لئے ایسے جاہل عوام کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کو اس طرح کی شرکیات پر مزید پختہ کرتے جاتے ہیں۔ اور کسی کو خوف خدا نہیں آتا کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں۔ اور کل حشر میں اللہ پاک کے حضور کیا جواب دیں گے ۔ فالی اللہ المشتکیٰ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
101 اللہ جو کرتا ہے درست کرتا ہے : کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور قدرت بھی کامل۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ سب کچھ جانتا بڑا ہی قدرت والا ہے "۔ پس وہ پوری طرح جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کو کیا بخشا جائے۔ اور وہ جو بھی کچھ کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی چیز اس کے ارادے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ اس کی قدرت کامل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ و اعتماد رکھے۔ اور جو بھی کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اور ہر حال میں مانگے۔ وہی وحدہ لاشریک ہے جو مانگنے سے خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے سے ناراض۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَایَّاکَ نَسْألُ اللّٰہُمَّ اَنْ تُثَبِّتَنَا عَلَی صِرَاطِکَ الْمُسْتقیم وأنْ تَاْخُذَنَا بَنواصِیْنا اِلْیٰ ما فِیْہِ حُبُّکَ ورضاک۔ پس وہ جو بھی کچھ کرتا ہے اپنے کمال علم اور اپنی کمال قدرت کے مطابق کرتا ہے۔ اس کے کسی بھی کام میں دوسرے کسی بھی شخص یا کسی بھی ہستی کے کسی عمل دخل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پس بندوں کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے تمام امور و معاملات میں اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ و اعتماد کریں۔ نہ کبھی مغرور ہوں نہ مایوس۔ اور نہ کبھی اس کے سوا کسی اور سے لو لگائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 42:51102 حق تعالیٰ کی عظمت شان اور بندے کا عجز و قصور : سو ارشاد فرمایا گیا " کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے ۔ براہ راست ۔ بات کرے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے پاک کے ساتھ بندے کے بالمشافہ کلام میں جو چیز مانع ہے وہ دراصل بندے کا اپنا عجز و قصور اور اس کی درماندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ایسی باعظمت اور ایسے انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو در رو ہم کلام ہونے کی تاب نہیں لاسکتا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے قصے سے بھی ظاہر و واضح ہے۔ کیونکہ انسان من حیث الانسان ایک مادی مخلوق اور مادیت میں پھنسی ہوئی چیز ہے۔ اور حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ خالق اور مادیات سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ تو پھر اس کا کسی بشر سے براہ راست ہمکلام ہونا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے۔ الا یہ کہ کوئی بشر مادیات سے بلند ہو کر اپنے آپ کو اس سے ہم کلامی کے شرف کا کسی قدر اہل بنا لے۔ مگر اس صورت میں بھی مشافہتہً اور عیاناً اس سے ہم کلامی کا یارا کسی کو اس دنیا میں نہیں ہوسکتا بجز ان تین صورتوں کے جو آگے آرہی ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ یہود بےبہبود نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اپنے رب کو کلام کرتے وقت دیکھتے کیوں نہیں۔ جس طرح کہ حضرت موسیٰ نے دیکھا تھا۔ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اپنے رب کو دیکھا نہیں تھا بلکہ پردے کے پیچھے سے کلام ہوا تھا۔ تو اس کی تصدیق میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (معالم، و جیز، حاشیہ جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد میں دراصل مخالفین و منکرین کے اس سوال و اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ اگر ان ۔ پیغمبر ﷺ ۔ سے بات کرتا ہے جیسا کہ انکا دعویٰ ہے تو پھر وہ ہم سے براہ راست اور روبرو بات کیوں نہیں کرتا۔ آخر انکو کون سے ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ ان سے تو بات کرتا ہے مگر ہم سے نہیں کرتا۔ جبکہ ہم ان سے دنیاوی مال و دولت اور عزت و اقتدار کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کسی انسان کا یہ درجہ اور مقام نہیں ہوسکتا کہ اللہ اس سے روبرو اور براہ راست بات کرے۔ وہ کسی بشر سے اگر بات کرتا ہے تو وحی کے ذریعے کرتا ہے یا پردے کی آڑ سے۔ یا اپنا کوئی قاصد یعنی فرشتہ بھیج کر جو اس کے اذن سے اس کے کسی ایسے بندے کو وحی کرتا ہے جس کو وہ اپنے کلام و خطاب کیلئے منتخب فرماتا ہے۔ سو منکرین کا ایسا مطالبہ کرنا ان کی اپنی جہالت اور حماقت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
103 اللہ تعالیٰ کے کلام کی ایک صورت وحی خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے "۔ یعنی القاء والہام یا ہتاف و منام اور نفث کے طور پر۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے ذبح اسماعیل کا خواب دیکھا تھا۔ یا جیسا کہ حضور فرماتے ہیں ۔ " اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رُوْعِیْ " ۔ مگر اس صورت میں فرشتہ متجسد نہیں ہوتا۔ جسے حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ کی بخاری شریف والی روایت میں " صَلْصَلَۃُ الْجَرس " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور اس کو سخت ترین قرار دیا گیا ہے ۔ " وَہُوَ اَشَدُّ عَلَیَّ " ۔ اور یہ الہام و القاء تو غیر انبیاء کو بھی ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ انبیاء کا الہام و القاء وحی ہوتا ہے اور وہ قطعی و یقینی ہوتا ہے۔ اور وہ ثبوت حکم کے لیے دلیل قرار پاتا ہے۔ جبکہ غیر انبیاء کا الہام نہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی دینی حکم کا مدار بن سکتا ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے بشر سے کلام فرمانے کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے دل پر اپنا کلام القاء فرما دیتا ہے اور پیغمبر اس کو محفوظ کرلیتا ہے۔ اور یہ وحی محض فکر یا خیال کی شکل میں نہیں ہوتی بلکہ کلام کی شکل میں نازل ہوتی ہے جس کو پیغمبر سنتا بھی ہے اور سمجھتا بھی ہے۔ اور اس کو محفوظ بھی کرلیتا ہے۔
104 کلام الہی کی دوسری صورت پردے کے پیچھے سے کلام فرمانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا وہ اس سے پردے کے پیچھے سے کلام کرے "۔ یعنی اس طور پر کہ پیغمبر اس کا کلام تو سنے مگر بولنے والے کو دیکھ نہ سکے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ کوہ طور پر ہوا تھا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور اس طرح کا کلام حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی سے نہیں فرمایا گیا۔ اسی لیے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ تورات اور انجیل دونوں میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا لیکن موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں۔ اور حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں فرمایا۔ بلکہ یہ شرف صرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل ہوا۔ سو کوہ طور کے دامن میں حضرت موسیٰ کو ایک درخت سے آواز سنائی دی لیکن بولنے والے کو دیکھا نہیں۔ جیسا کہ سورة طہ میں اس بارے میں ذکر فرمایا گیا ہے۔
105 کلام الہی کی تیسری صورت فرشتے کا بھیجنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا وہ کوئی فرشتے بھیج دے پھر وہ اس کے اذن سے جو چاہے وحی کرے "۔ جیسا کہ حضرت جبریل امین حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ اور دوسرے انبیائے کرام پر وحی لایا کرتے تھے۔ سو یہ کلام الہی کی تیسری صورت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پیغام رسانی کیلئے اپنا کوئی رسول یعنی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے اذن و ارشاد کے مطابق جو کچھ اللہ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں سے کلام اور خطاب فرمانے کے یہ تین طریقے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو طریقوں میں اللہ کا کلام بلاواسطہ نبی پر نازل ہوتا ہے۔ یعنی ان دو صورتوں میں اللہ اور اس کے پیغمبر کے درمیان حضرت جبریل امین کا واسطہ نہیں ہوتا۔ جبکہ ان میں سے تیسری صورت میں حضرت جبریل امین بیچ میں واسطہ ہوتے ہیں۔ پھر ان میں سے پہلا اور تیسرا طریقہ تو عام اور معروف طریقے ہیں۔ جبکہ دوسرا طریقہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے۔ کسی اور نبی کے بارے یہ طریقہ وارد نہیں ہوا۔
106 اللہ تعالیٰ کی شان علو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی ہی بلند شان والا ہے "۔ یعنی اس کا یہ علو اور بلندی جگہ اور مکان کے اعتبار سے نہیں کہ وہ مکان اور مکانیات سے بالا و پاک ہے۔ بلکہ یہ علو مرتبہ اور مقام کے اعتبار سے ہے کہ وہ بڑا ہی بلند مرتبہ نہایت ہی عالی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس کسی بشر کے بس میں نہیں کہ وہ براہ راست اور بلاواسطہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ سے ہم کلام ہو سکے۔ سو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو اور اس کے کلام کو تب مانیں گے کہ جب وہ براہ راست ہم سے کلام کرے تو ایسے لوگ بڑی بےہودہ اور بےجا بات کرتے ہیں۔ جس کا منشا ان کا بےجا گھمنڈ اور اپنی بڑائی کا زعم فاسد ہے۔ جس سے ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا } ۔ (الفرقان : 21) سو ایسے لوگ اپنے کبر و غرور اور رعونت و حماقت کے ہاتھوں خود ہی ہلاکت و تباہی کے اس ہولناک اور ابدی گڑھے میں گریں گے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان بدبختوں کے لئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
107 اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بڑا ہی حکمت والا ہے "۔ پس اس نے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضے کے طور پر اپنے بندوں سے ہم کلام ہونے کے یہ طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنے بندوں کے لئے اس نور ہدایت کا انتظام فرمائے جس سے وہ ابدی سعادتوں سے ہمکنار و بہرہ ور ہو سکیں ۔ جل و علا شانہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی صفت علو اس کی عظمت و رفعت اور اس کی بالاتری کو ظاہر کرتی ہے جبکہ اس کی دوسری صفت یعنی حکیم اس کی حکمت اور اس کی حکمت کے لوازم رحمت، عدل اور ہدایت خلق کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سو ان دونوں صفتوں کو یہاں جمع کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی یہ درجہ اور مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہمکلام ہوسکے۔ لیکن چونکہ اس عظمت اور رفعت شان کے ساتھ ساتھ وہ حکیم عادل اور رحیم بھی ہے، اس لیے وہ اپنی مخلوق کی راہنمائی اور اپنے بندوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے ان کو اپنے خطاب اور کلام سے بھی نوازتا ہے۔ اور اس کیلئے اس نے جو طریقے اختیار فرمائے وہ اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ سو جو لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خدا ان میں سے ہر ایک سے روبرو کلام کرے وہ اپنی رعونت کی بنا پر اپنے ہاتھوں خود ہی ہلاک ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 42:52108 پیغمبر کی نبوت کوئی انوکھی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی طرف بھی وحی کی ۔ اے پیغمبر !۔ ایک عظیم الشان روح کی اپنے حکم سے "۔ یعنی جس طرح کہ ان طرق ثلاثہ کے ذریعے پہلے انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی طرف وحی ہوتی رہی اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی یہ وحی بھیجی ہے اے پیغمبر !۔ تو پھر اس میں منکرین کیلئے اچنبھا و اعتراض کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ سو نہ تو آپ ﷺ کا دعوائے نبوت و رسالت کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے اور نہ ہی آپ ﷺ پر نازل کی جانے والی وحی کوئی انوکھی اور نئی چیز ہے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بدْعاً مِنَ الرُّسُلِ وَمَا اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُمْ } ۔ (الاحقاف :9) ۔ یعنی " ان سے کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔ اور مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا۔ میرا کام تو صرف پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے اور میرا کام تو خبردار کرنا ہے کھول کر حق اور حقیقت کو " یعنی جب اصل صورت حال یہ ہے تو پھر تم لوگوں کو آخر میرے دعوائے نبوت و رسالت سے اتنا اچنبھا اور اس قدر چڑ کیوں ہے ؟ اور اس سے تم لوگ اس قدر کیوں بدکتے ہو ۔ والعیاذ باللہ -
109 قرآن حکیم اور وحی خداوندی روح ہے : سو وحی و قرآن کو یہاں پر روح کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے دلوں کو زندگی اور تازگی ملتی ہے۔ اور اسی مناسبت سے جبریل امین کو بھی " روح القدس " اور " روح الامین " کہا جاتا ہے کہ وہ اس روح کے لانے والے ہیں۔ پس جو لوگ وحی الٰہی کے اس نور مبین سے محروم ہیں وہ حقیقت میں زندہ نہیں مردہ ہیں۔ اور حیات حقیقیہ کی لذت سے وہ محروم اور بےبہرہ ہیں اگرچہ وہ چاند تک کیوں نہ پہنچ جائیں اور مریخ پر جھنڈے کیوں نہ گاڑ دیں کہ وہ زمین و آسمان اور مریخ و قمر وغیرہ کے خالق ومالک کی معرفت اور اس کے حقوق سے غافل و بیخبر اور نچنت و بےفکر ہیں۔ جو کہ محرومیوں کی محرومی اور فساد و خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم کی صورت میں نازل ہونے والی یہ رحمت خداوندی خداوند قدوس کا ایک عظیم الشان اور بیمثال احسان ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی ایک بڑی ہی بےانصافی اور انتہائی ہولناک محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف قرآن اور دین و وحی نور اور روح ہے۔ اور اس سے بہرہ ور لوگ ہی زندہ ہیں۔ جبکہ اس سے محروم لوگ اصل میں مردہ ہیں اور ان کے وجود ایسے لاشے ہوتے ہیں جو دو ٹانگوں پر چل پھر رہے ہوتے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ نے اسی حقیقت کو اس تمثیل سے واضح فرمایا ہے کہ انسان کی زندگی صرف روٹی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کلام والہام سے حاصل ہوتی ہے جو خداوند قدوس کی طرف سے آتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو قرآن حکیم ایک عظیم الشان روح اور نور ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
110 وحی سے پہلے پیغمبر نہ کتاب سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ایمان سے : سو اس ارشاد میں تصریح فرمائی گئی کہ " نور نبوت اور وحی خداوندی سے سرفرازی سے قبل آپ ﷺ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ یہ کہ ایمان کسے کہتے ہیں ؟ "۔ یعنی نفس ایمان تو اگرچہ آپ کو پہلے بھی حاصل تھا کیونکہ جملہ انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بعثت سے پہلے بھی نور ایمان سے منور و مشرف ہوتے ہیں اور کفر و شرک کے ہر شائبے سے پاک اور محفوظ و بری ہوتے ہیں۔ مگر ایمان کی تفصیلات اور کتاب ہدایت کی معرفتِ کا ملہ سے آپ چالیس سال کے بعد ہی واقف ہو سکے ہیں۔ جبکہ آپ ﷺ کو وحی و رسالت کے اس شرف سے نوازا گیا۔ اور اس کے بعد ہی آپ کو ایمانیات کی تفاصیل اور دیگر شرائعِ دین سے تفصیلی طور پر نوازا گیا۔ ورنہ اس سے پہلے تو آپ ﷺ کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مجھ پر کوئی وحی ہونے والی ہے اور مجھے کسی کتاب الہی سے نوازا جانے والا ہے۔ (خازن، مدارک، روح، صفوہ، جامع اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور ان کی نبوتوں کی۔ کہ ان کو اس سے پہلے اس بارے کوئی خبر تک نہیں ہوتی کہ نبوت خالصتہً عطیہ خدا وندی اور انتخابِ الٰہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ (الانعام : 125) یعنی " اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی نبوت و رسالت سے کس کو سرفراز فرمائے "۔ اور حضرت موسیٰ کے قصہ نبوت و رسالت میں تو اس امر کو اور بھی زیادہ واضح کرکے پیش فرمایا گیا کہ وہ کوہ طور پر آگ لینے کے لئے جاتے ہیں اور آگے پیغمبری مل جاتی ہے ۔ ولنعم ما قال الشاعر۔ خدا کی دین کے موسیٰ سے پوچھئے احوال ۔ کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ کتاب اور ایمان میں وہی نسبت ہے جو قالب اور روح میں ہے۔ کتاب درحقیقت ایمان کے مقتضا کا بیان ہے۔ اس لیے کتاب اور ایمان دونوں میں جسم و جان کا رابطہ ہے۔ سو کتاب کے جاننے کی نفی اس لیے ہے کہ آپ ﷺ امی تھے اور ایمان کے جاننے کی نفی اس کی تفصیلات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔ اور یہ سب سرفرازی اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے ہوئی ۔ فالحمد للہ -
111 پیغمبر کا کام راہ حق کی راہنمائی اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ آپ ﷺ سیدھے راستے کی راہنمائی کرتے ہیں "۔ یعنی سیدھا راستہ دکھاتے ہیں کہ یہی آپ کا اصل فرض منصبی ہے۔ مگر راہ ہدایت پر ڈال دینا اور پیغام حق منوا لینا نہ آپ ﷺ کا کام ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے۔ یہ اللہ پاک ہی کے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّکَ لا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ اِلٰی صِرَاطِ مُّسْتَقِیْمِ } ۔ (القصص : 56) ۔ سو اس ارشاد عالی میں اس نور مبین کی اس برکت کو بیان فرمایا گیا ہے جو خلق خدا سے متعلق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اے پیغمبر کتاب حکیم کے اس نور مبین سے نوازا ہے تو اس کے ذریعے آپ ﷺ لوگوں کو سیدھے راستے کی راہنمائی کرتے ہیں۔ یعنی اس اللہ کے راستے کی طرف جس کا وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے۔ سو لوگوں کی بھلائی اور ان کی فوز و فلاح اسی میں ہے کہ وہ صدق دل سے حق و ہدایت کی اس راہ کو اپنائیں اور زندگی بھر اسی راہ پر گامزن رہیں۔ ورنہ ان کا اپنا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کا اصل کام اور فرض منصبی راہ حق کی طرف بلانا اور اس کی دعوت دینا ہے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّکَ لَتَدْعُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ } ۔ (المومنون : 73) ۔ یعنی آپ کا کام ان کو دعوت دینا ہے صراط مستقیم کی طرف اور بس۔ آگے ان کی اپنی مرضی اور اختیار۔ راہ حق پر ڈال دینا اور ان سے دعوت حق کو منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فذکر انما انت مذکر، لست علیہم بمصیطر } ۔ (الغاشیۃ : 21-22) ۔
Ayah 42:53112 ایک اہم تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تنبیہ و تحضیض کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو ۔ اے لوگو !۔ کہ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام "۔ یعنی آخرت میں جہاں پر وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ پس تم دیکھ لو کہ وہاں کے لئے کیا لے کر جا رہے ہو کہ خواہی نخواہی تم سب کو لوٹ کر جانا بہرحال اسی کی طرف ہے۔ نیز اس سے پہلے اس دنیا میں بھی سب کاموں کا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اسباب کے درجے میں تم لوگ محنت و مشقت اور دوڑ دھوپ تو بیشک کرو لیکن دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھو کہ آخری منظوری بہرحال اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہی کی طرف سے ہوگی ۔ اَللّٰہُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الاُمُوْرِ کُلِّہَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْی الدُّنْیَا وعَذَابِ الْاٰخِرَۃ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ یا ارْحَمَ الرَّحمِیْنَ وَ یَا اَکْرَمَ الاکرمین ۔ سو اس ارشاد عالی سے لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ تم سب لوگ کان کھول کر سن لو کہ تمہارے سب کاموں اور جملہ امور کا رجوع بہرحال اسی خالق کل اور مالک مطلق کی طرف ہوگا۔ اور اسی کی طرف ہوتا ہے۔ جس کا وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں و زمین کی اس پوری کائنات میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اصل فکر و کوشش بہرحال اسی کی ہونی چاہیئے کہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ معاملہ ہمیشہ اور ہر حال میں صحیح رہے ۔ وباللہ التوفیق سبحانہ و تعالیٰ.