Ayah 42:1540 دعوت حق پر استمرار کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ بلاتے رہیں اسی ۔ دین حق ۔ کی طرف "۔ یعنی جب باہمی ضد وعناد کی وجہ سے یہ لوگ حق سے محروم ہو کر دارین کے خسارے میں مبتلا ہوئے تو آپ اسی دین حق کی دعوت دیتے رہیں تاکہ جن کے نصیب میں ہو وہ حق سے سرشار و بہرہ ور ہو سکیں۔ اس لیے آپ اسی دین حق کی طرف دعوت دیتے رہیں کہ یہی دین تمام انبیاء و رسل کا دین ہے۔ اور یہی دین دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل ہے۔ اور یہی دین دین حق اور دین فطرت ہے۔ سو اس میں پیغمبر کو راہ حق پر استقامت کی تعلیم و تلقین ہے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے یہی تعلیم و تلقین ہے کہ دعوت حق پر مستمر اور ثابت قدم رہیں ۔ وباللہ التوفیق -
41 راہ حق پر استقامت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ثابت قدم رہو جیسا کہ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے "۔ کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی اساس و بنیاد یہی ہے کہ راہ حق پر ثبات و استقامت سے کام لیا جائے۔ اور مخالفین جتنا بھی زور لگائیں راہ حق سے کبھی قدم نہیں ہٹانا اور ایسے لوگوں کی کسی بات کی کبھی کوئی پروا نہیں کرنا کہ راہ حق و ہدایت سے لغزش ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کے خسارے کا باعث ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسی لغزشیں اور ہر قسم کے خسارے سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
42 منکرین کی خواہشات کی پیروی نہ کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کبھی ان کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنا " کہ خواہشات کی پیروی ہی دراصل جڑ بنیاد ہے ہر فتنہ و فساد کی۔ اور یہ راہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کی تباہی اور بربادی کی راہ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَہْوَآئَ ہُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوَاتُ و الاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ } ۔ (المومنون : 71) ۔ سو ایسے میں ان کی خواہشات کی پیروی کی کیا گنجائش اور امکان ہوسکتا ہے ؟ سو جن چیزوں کو یہ لوگ دین کے نام سے مانتے اور ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ دراصل محض ان لوگوں کی خواہشات کا ملغوبہ ہے جس کی پیروی باعث ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
43 کتاب الہی پر ایمان کے اعلان واظہار کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں ایمان لایا ہوں اس کتاب پر جس کو اللہ نے اتارا ہے " تو پھر تمہاری خواہشات کی پیروی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ پس یہی کتاب منبع ومصدر ہے ہر خیر کا۔ اور یہی کفیل وضامن ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی۔ اس لیے میں اس کو چھوڑ کر تمہاری ایجاد کردہ بدعات اور خواہشات کی پیروی کسی بھی قیمت پر نہیں کرسکتا بلکہ تم کو بھی اسی کی پیروی کی دعوت دیتا ہوں کہ اسی میں تم لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا و آخرت دونوں میں۔
44 بحث و حجت بازی کے خاتمے کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی حجت بازی کی ضرورت نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان "۔ کہ حق واضح ہوچکا۔ اب جس کی مرضی مانے اور جس کی مرضی نہ مانے۔ جھگڑنے اور حجت بازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی اتنی رد و قدح اور اتنی توضیح و تفصیل کے بعد بھی اگر حق و ہدایت کی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی اور تم لوگ ابھی تک اپنی اسی اینکڑی پینکڑی میں مبتلا اور اپنی کٹ حجتی میں پھنسے ہوئے ہو تو اب ہمارے اور تمہارے درمیان مزید حجت بازی اور کسی طویل کلام کا آخر کیا فائدہ ؟ اب ہمارا تمہارا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ جسکے حضور ہم نے بہرحال حاضر ہونا ہے اور اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اسکا پھل پانا ہے کہ سب کا آخری ٹھکانہ اور رجوع بہرحال اسی کی طرف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے لاطائل حجت بازی کے خاتمے کا اعلان فرما دیا گیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
45 اللہ کے حضور حاضری کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ جمع کرے گا ہم سب کو ۔ حشر کے دن ۔ " سو اس دن تمام اختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ ہوجائے گا اور ہر کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی کا بھرپور صلہ اور بدلہ پاکر رہے گا۔ پس کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ لہذا ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ اس یوم عظیم و رہیب کیلئے کیا سامان کر رہا ہے۔ اور وہاں کیلئے وہ کیا کمائی اپنے ساتھ لے جا رہا ہے وہاں پر منکروں کو ان کی بےسود و لاطائل حجت بازی کچھ کام نہیں آئے گی۔ ان کی بولتی وہاں بند ہوجائے گی اور ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھگتنا ہوگا۔ اس لیے ان کو بےسود و لاطائل حجت بازی ترک کر کے راہ حق و ہدایت کو اپنانا چاہیے کہ اسی میں ان کا بھلا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
46 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی ۔ وحدہ لاشریک۔ کی طرف لوٹنا ہے سب کو "۔ اور وہاں ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ اس لئے ہر کوئی اپنا محاسبہ خود کرلے اور اپنے بارے میں خود دیکھ لے اور غور کرلے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کل کے اس ہولناک دن کے لئے وہ کیا سامان کر رہا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تَحِبُّ وَ تَرْضٰی مِنَ القول والعمل ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں چند اہم بنیادی حقائق کو پیش فرما کر حق کو پوری طرح واضح فرما دیا گیا ہے کہ داعی حق کو ہمیشہ دعوت حق دیتے رہنا چاہیے اور اس کو ہدایت وارشاد ربانی کے مطابق ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم وثابت قدم رہنا چاہیے اور منکرین کی اہواء و خواہشات کی کبھی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ کی کتاب کی ہدایت کی مطابق عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے۔ رب سب کا بہرحال اللہ ہی ہے۔ وہ سب کو جمع فرمائے گا اور سب کو اس کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے کیے کرائے کا صلہ وبدلہ پانا ہے۔
Ayah 42:1647 اللہ کی توحید کے بارے میں کٹ حجتی کرنے والوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں "۔ یعنی اس کے دین حق اور اس کی توحید اور وحدانیت مطلقہ کے بارے میں تاکہ اس طرح وہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے روک سکیں۔ اور جن گھٹا ٹوپ اندھیروں میں وہ خود ڈوبے ہوئے ہیں ان میں وہ دوسروں کو بھی غرق کردیں ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ " محاجۃ " کے معنیٰ " مجادلہ " اور کٹ حجتی کے آتے ہیں۔ اور { فی اللہ } میں یہاں پر " فی " کے بعد مضاف محذوف ہے ۔ ای فی توحید اللہ ۔ یعنی اللہ کی توحید کے بارے میں۔ کیونکہ مخالفین کا جھگڑا اصل میں اس وحدہ لاشریک کی توحید ہی میں تھا۔ ورنہ اس کے وجود باوجود کے بارے میں کسی کا جھگڑا نہ تھا نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
48 توحید خداوندی کے بارے میں جھگڑنے والوں کی حجت بازی باطل ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کی حجت بازی ان کے رب کے یہاں باطل ہے "۔ کہ اس کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ یہود کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کچھ لوگوں کو ان کے ایمان لانے کے بعد دین حق سے پھیرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن الفاظ و کلمات کا عموم بہرحال ایسے ہر حجت باز کو عام اور شامل ہے جس نے ایسا جھگڑا اٹھایا اور حجت بازی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
49 منکرین توحید کے لیے سخت عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید خداوندی کے بارے میں کٹ حجتی کرنے والوں کے لیے بڑا سخت عذاب ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں پر بڑا بھاری غضب ہے اور ان کیلئے بڑا ہی سخت عذاب ہے "۔ قیامت کے دن جو کہ اتنا شدید اور اس قدر ہولناک ہوگا کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے لوگوں نے بڑے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کیا جس کے باعث ان کو ایسا ہولناک اور شدید عذاب بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسوں کی یہ کٹ حجتی انکے رب کے یہاں انکے کچھ بھی کام نہیں آسکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر۔ { مِنْ بَعْدِ مَا ا سْتُجِیْبَ لَہُ } ۔ سے توحید خداوندی کے بارے میں کٹ حجتی سے کام لینے والوں کے اس جرم و قصور کی سنگینی کو اور واضح فرما دیا گیا۔ کیونکہ تمام انبیاء و رسل نے سب سے پہلے توحید ہی کی دعوت دی۔ اور اس سے بھی پہلے توحید خداوندی انسانی فطرت وجبلت میں پیوست اور فطرت انسانی کی پکار ہے۔ ایسے میں اس کے بارے میں کٹ حجتی کا جرم اور بھی زیادہ سنگین ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 42:1750 قرآن حکیم میزان خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے اتارا کتاب کو اور میزان کو لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے اور ان کے حقوق کی تحدید و توضیح کے لیے "۔ سو یہ کتاب حکیم میزان خداوندی ہے۔ پس " المیزان " دراصل " الکتاب " کا بیان ہے۔ پس اس نے میزان کو اتارا، یعنی عدل و انصاف کو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور عدل و انصاف کو میزان سے اس لئے تعبیر فرمایا گیا کہ وہ عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ اور سبب ہے۔ تو یہ تسمیۃ الشی بسببہ کے قبیل سے ہوگا اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (ابن کثیر، صفوہ، مدارک وغیرہ) ۔ اور یہ عدل و انصاف چونکہ قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی ہی کے ذریعے قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ دراصل " الکتاب " یعنی قرآن حکیم کا ذکر وبیان ہے۔ سو جیسا کہ اوپر آیت نمبر 15 میں پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کروایا گیا کہ " کہو میں ایمان لایا اس کتاب پر جس کو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں " تو اسی بات کو یہاں پر دوسرے لفظوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب پیغمبر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور فرمایا گیا ہے کہ آپ مختلف ملتوں کے درمیان اس اختلاف کے بارے میں فیصلہ فرمائیں جو انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں کیا ہے تو ضروری ہوا کہ آپ ﷺ کو ایسی کتاب حق و ہدایت عطا فرمائی جائے جو میزان عدل کا کام دے۔ جس پر پرکھ کر آپ ﷺ بتاسکیں کہ کس کے پاس حق کتنا ہے اور باطل کتنا۔ سو وہ یہی کتاب حق قرآن مجید ہے جو حق و باطل کی پرکھ کیلئے میزان عدل و انصاف اور کسوٹی ہے۔ اسی لیے اس کی ایک صفت " مہیمن " بھی ہے جسکے معنیٰ " کسوٹی " کے بھی آتے ہیں۔ سو یہ کتاب مبین یعنی قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی میزان عدل وانصاف ہے جس کے ذریعے ہر صاحب حق کی حق کو پوری باریکی کے ساتھ واضح فرما دیا گیا ہے۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم کے منکر اور اس کے نور حق و ہدایت سے محروم ہیں وہ دولت عدل وانصاف سے محروم ہیں۔ نہ وہ خالق کے حق کو پہچان سکتے ہیں اور نہ ہی مخلوق کے حقوق کو خواہ اس کے لیے کتنے ہی بڑے اور بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
51 قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہیں کیا خبر کہ شاید ۔ فیصلے کی ۔ وہ گھڑی قریب ہی آلگی ہو "۔ اس لئے انسان کو ہر وقت اس کی فکر اور اس کی تیاری میں لگے رہنا چاہیئے کہ پتہ نہیں وہ کب آجائے اور کس حالت میں اور کہاں آجائے۔ اور کمائی کا یہ موقع جو آج میسر ہے ہاتھ سے نکل جائے۔ کیونکہ قرآن حکیم کی تصریح کے مطابق وہ بالکل اچانک آئے گی ۔ { لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ پھر ہر شخص کے حق میں قیامت تو اس کی اپنی موت ہی ہے کہ اس کے بعد اس کے لئے عمل کی کوئی فرصت نہ ہوگی۔ اور کسی کو بھی پتہ نہیں کہ اس کی موت کب کہاں اور کیسے آنے والی ہے۔ اور یوں بھی ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے ۔ " کُلُّ مَا ہُوَ اٰتٍ فَہُوَ قَرِیْبٌ " ۔ یعنی " ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے "۔ پس قیامت کی اس ہولناک گھڑی کے آنے سے پہلے کتاب و سنت کی اتباع اور عدل و انصاف کے قیام پر مداومت کر کے اس کے لئے تیاری کرلو ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا ۔ اور جو لوگ آج دنیاوی زندگی میں قرآن کے اس میزان عدل سے گریز و فرار کی راہ کو اپنائے ہوئے ہیں آخر قیامت کے اس یوم عدل و انصاف اور میزانِ حق سے کیسے اور کہاں بھاگیں گے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ قرآن حکیم کی اس میزان عدل وانصاف کے مطابق اپنے اختلافات رفع کریں گے اور راہ حق و ہدایت کو اپنائیں گے وہ بڑے خوش نصیب لوگ ہیں۔ ورنہ قیامت کے روز تو ان سب کے درمیان فیصلہ بہرحال ہو کر ہی رہے گا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔ اور اس طور پر کہ کسی کے لیے کسی راہ فرار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور قیامت کی اس ہولناک گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ بعید نہیں کہ وہ تمہارے قریب ہی آ لگی ہو۔ سو جو لوگ آج قرآن کی میزان عدل سے گریزاں ہیں آخر وہ کل میزان قیامت سے کیسے اور کہاں بھاگیں گے ؟ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 42:1852 منکرین قیامت کی لاپرواہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے بارے میں جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں "۔ کیونکہ وہ اس کی ہولناکی اور اس میں پیش آنے والے احوال واہوال سے بیخبر اور بےخوف ہیں۔ اس لئے وہ استہزاء کے طور پر اور لاپرواہی کی بناء پر ایسے کہتے اور کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ ڈھیٹ بن کر کہتے ہیں کہ اس کو اگر آنا ہے تو وہ آتی کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے اور کیوں روک رکھا ہے ؟ اس کا جہاز آخر کب آکر لنگرانداز ہوگا ۔ { اَیَّانَ مُرْسٰہٰا } ۔ وغیرہ وغیرہ۔
53 ایمان کا تقاضا خوف آخرت : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ایمان والے قیامت کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور وہ یقین جانتے ہیں کہ وہ قطعی طور پر حق ہے "۔ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا تو قطعی اور یقینی ہے کہ وہ ایک ہونی شدنی چیز اور حقیقت کبریٰ ہے۔ اسی لئے اس کے ناموں میں " الحاقۃ " اور " الواقعۃ " بھی ہیں۔ سو جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ تو اسکا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کے بارے میں طرح طرح کے آوازے کستے ہیں۔ لیکن جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے لرزاں وترساں رہتے اور اس سے ڈرتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے قیامت کے منکرین اور اس پر ایمان رکھنے والے دونوں گروہوں کا حال بیان فرما دیا گیا جس سے ایمان اور بےایمانی کا فرق اور نتیجہ بھی واضح ہوجاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
54 منکرین آخرت دور کی گمراہی میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرت کے بارے میں شک کرنے والے بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہیں "۔ اپنے کبر وعناد اور ظلم و استکبار کی بنا پر۔ اور اس بنا پر ایسے لوگ نور حق و ہدایت سے اس قدر دور اور محروم ہوگئے ہیں کہ وہاں سے اب پلٹ کر واپس نہیں آسکتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر حقیقت کا انکار کرتے اور اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چلتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑے ہیں۔ جہاں سے انکو راہ حق کی طرف مڑنا بھی نصیب نہیں ہو رہا۔ سو ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جبکہ غیب کا وہ جہان اپنے عظیم الشان حقائق کے ساتھ انکے سامنے مکشوف ہوجائے گا۔ مگر اس وقت آنکھ کھولنے اور حقائق کو تسلیم کرنے کا انکو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت وہ ہولناک انجام انکے سامنے موجود ہوگا جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا اور جس سے مفر کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 42:19–2057 آخرت ہی اصل مقصود ہونی چاہیے ؟ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصود آخرت ہی کو بنانا چاہیئے کہ اسی میں دنیا کا بھی بھلا ہے۔ یعنی انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں اچھا برا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے۔ کیونکہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج اسے میسر ہے دراصل ایک کھیتی ہے جسے وہ خود کاشت کر رہا ہے۔ جس کا پھل خود اسی کو ملے گا۔ اچھی کھیتی اور کمائی کا اچھا پھل اور بری کھیتی کا برا پھل ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ اِلْاٰخِرَۃِ " ۔ یعنی " یہ دنیا آخری کی ابدی اور حقیقی زندگی کی کمائی کے لئے ایک عظیم الشان کھیتی ہے "۔ پھر اپنی کمائی کے بارے میں اس کو اس بات کی آزادی اور اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کا پھل اسی دنیا میں چاہتا ہے یا آخرت میں۔ دونوں صورتوں میں اللہ پاک کا معاملہ ایسے شخص سے مختلف ہوگا۔ نیکی کا بدلہ آخرت میں چاہنے کی صورت میں اللہ پاک اس کی اس نیکی کو بڑھاتا جائے گا کہ ایک طرف تو ایسے خوش نصیب انسان کو اپنی اس نیکی کی برکت سے مزید نیکیاں کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگی کہ یہ نیکی کا اپنا ایک طبعی تقاضا اور فطری اثر ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ۔ " اِنَّ مِنْ جَزَائِ الْحَسَنَۃِ الْحَسَنَۃُ بَعدَہَا " ۔ یعنی " نیکی کی جزا میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی کرنے کی توفیق ملتی ہے " اور دوسری طرف اس کی اس نیکی کو جو اس نے صدق و اخلاص سے کی ہوگی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نہ صرف یہ کہ محفوظ رکھے گا بلکہ اس کو اپنی شان کرم سے بڑھاتا جائے گا۔ جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی طرح طرح سے توضیح فرمائی گئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اس کو آخرت میں اپنی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازے گا جن کا تصور بھی یہاں کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور اس سے پہلے وہ اس کو اس دنیا میں بھی اپنے طرح طرح کے انعامات سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کا اس آیت کریمہ میں ذکر نہیں فرمایا گیا کہ آخرت کے عظیم الشان انعامات کے مقابلے میں ان دنیاوی نعمتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اور اس کے برعکس جو کوئی اپنے عمل سے اس دنیاوی زندگی ہی کا بدلہ چاہے گا تو اس کو دنیا میں تو وہی کچھ مل سکے گا جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی مشیت ہوگی لیکن آخرت میں ایسے شخص کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور وہاں اس کو دوزخ کی ہولناک آگ میں داخل ہونا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 18 اور دوسری مختلف نصوص میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو طالب آخرت کے لئے آخرت کی حقیقی اور ابدی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے جبکہ طالب دنیا یہاں پر اپنا مقدر اور نصیب ہی پا سکے گا۔ اور وہاں ہمیشہ کی ناکامی سے ہمکنار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا تونیکوکاروں اور بدکاروں سب ہی کو ملتی ہے مگر آخرت انہی کو ملتی ہے جو اس کے طالب ہوتے ہیں۔ پس اصل مقصود طلب آخرت ہی ہونی چاہئیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 42:2158 دین شرک کے لیے کوئی گنجائش نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام استعجاب و استنکار کے ساتھ فرمایا کیا کہ " کیا ان لوگوں کے کوئی ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کیلئے دین کا کوئی ایسا طریقہ نکال لیا ہو جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ان کے ایسے کوئی شریک ہوسکتے ہی نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اس دین حق کی اتباع و پیروی کیوں نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے نازل فرمایا ہے۔ جو ان کے لئے دارین کی سعادتوں کا ضامن و کفیل ہے۔ اس صورت میں یہ استفہام انکاری ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمْ مِّنْ دُوْنِنَا } ۔ (الانبیاء :43) اور یا یہ " اَمْ " منقطعہ ہے جو " بل " کے معنیٰ میں آتا ہے۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ یہ لوگ اللہ پاک کی شریعت کا اتباع نہیں کرتے بلکہ ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے لئے ان کے شرکاء نے مقرر کی ہوتی ہیں۔ جس سے ایسے لوگ اللہ پاک کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور اس کی حرام فرمودہ اشیاء کو حلال ٹھہراتے ہیں۔ خواہ وہ شرکاء شیاطین الانس کی شکل میں ہوں یا شیاطین الجن کی شکل میں۔ بہرکیف استفہام تقریع و توبیخ اور استعجاب و استنکار کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل فرمودہ دین حق کے سوا اور کوئی دین ایسا ہے ہی نہیں جس کی پیروی کی جائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو دین حق وہی اور صرف وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے اپنی رحمت و عنایت سے نازل فرمایا ہے۔ یعنی اسلام۔ جو ایک ہی دین ہے جسکی تمام انبیاء و رسل نے تبلیغ و تلقین فرمائی۔ اور سب نے اسی کی دعوت دی۔ اور جس کی اساس و بنیاد توحید و وحدانیت خداوندی ہے۔ اس کے سوا جو بھی کوئی دین کسی نے اختیار کیا وہ اس سے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ایسا شخص آخرت میں سراسر خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ سو دین شرک کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ نہ عقل کے اعتبار سے اور نہ نقل کے اعتبار سے۔ اور شرک کے لیے کوئی اساس و بنیاد نہیں سوائے اوہام و خرافات کے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 42:2259 آخرت میں ہر کسی کا اپنے اعمال سے سابقہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آخرت کے اس یوم حساب میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے سے سابقہ پیش آئے گا۔ منکرین تو اس دن اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بنا پر اس دردناک عذاب سے سہمے ہوئے ہوں گے مگر اس نے ان پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے ایمان لایا ہوگا اور انہوں نے اس کے مطابق نیک کام بھی کیے ہوں گے وہ بہشت کے عظیم الشان باغوں میں ہوں گے۔ اور ان کو اپنے رب کے یہاں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ سو یہی ہے وہ بڑا فضل جو کہ سب سے بڑا، اصل اور حقیقی فضل اور انعام و احسان ہے۔ جو کہ ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور ابدی و سدا بہار ہے نہ کہ دنیائے دوں کے وہ عارضی فائدے اور مادی منافع و لذتیں جس کے لئے ابنائے دنیا مرتے اور جیتے ہیں۔ کہ وہ سب ناقص، فانی، زائل اور وقتی ہیں۔ پس عقل مند کا کام یہ ہے کہ وہ آخرت کے اس فضل کبیر اور انعام عظیم کو اصل مقصد حیات بنائے نہ کہ دنیائے دوں کے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں کو ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ { وَفِیْ ذَالِکَ فَلْیِتَنَافِسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ } ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَوفِیقَ وَالسَّدَاد والاسْتِقَامَۃَ والثَّبات علی ما ترید ومَا فیہ فَوْزُنَا وَفَلَاحُنَا ۔ اٰمِیْنَ یارَبَّ الْعَالٰمِیْنَ ۔ اور اس فضل کبیر سے سرفرازی کا طریقہ اور اس کا وسیلہ و ذریعہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ پس وہ لوگ سراسر دھوکے کا شکار اور قطعی طور پر خسارے میں مبتلا ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی اس راہ کو چھوڑ کر شرکاء اور خودساختہ دیویوں، دیوتاؤں اور فرضی " سرکاروں " اور ہستیوں کے بل پر آخرت سے نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی تو انکے یہ شرکاء اور خودساختہ ہستیاں اور سرکاریں انکے لیے کافی ہیں۔ اور یہ ان کی مدد کریں گے۔ لہذا انکو اس کیلئے پریشان اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کل جب قیامت آجائے گی تو یہ لوگ خود دیکھ لیں گے کہ وہاں ان کا کوئی ایسا شریک اور شفیع نہیں ہوگا جو انکے کچھ کام آسکے۔ بلکہ ہر ایک کا واسطہ اس کے اپنے اعمال سے پڑنے والا ہے اور اپنے اعمال کے وبال سے یہ لوگ کانپ رہے ہوں گے۔ مگر اسکا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ ان کے اعمال کا وبال ان پر بہرحال پڑ کر رہے گا۔ اس کو ٹالنے یا اس سے بچ اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 42:2360 { مؤّدۃ فی القربیٰ } سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا بجز رشتہ داری کی محبت کے "۔ یعنی اصل مطلوب تو تم لوگوں سے یہ تھا اور یہ ہے کہ تم اس پیغام حق و ہدایت کو صدق دل سے قبول کر کے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے۔ لیکن اگر تم لوگ ایسا نہیں کرتے تو کم از کم اتنا تو کرو کہ اس قرابت و رشتہ داری کا لحاظ کر کے میری راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ جو کہ نسبی، نسلی اور خاندانی لحاظ سے میری تمہارے ساتھ ہے۔ اور اس کا خیال کرکے تم میری ایذا رسانی سے باز رہو۔ سو یہ ان ظالموں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور ان کے جذبات و احساسات اور عواطف و مشاعر کی تحریک کے لئے ایک بڑا ہی موثر بلیغ اور پر درد انداز تخاطب وبیان ہے۔ سو یہی صاف و سیدھا اور واضح مطلب ہے اس آیت کریمہ کا جو کہ اس کے الفاظ و کلمات سے ظاہر ومتبادر اور سیاق وسباق کے عین مطابق ہے۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں مروی اور حبرالامّۃ ترجمان القرآن حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ حضرات سے مروی و منقول ہے اور جس کو سلف و خلف کے تمام ثقہ علماء و مفسرین نے اپنایا اور بیان فرمایا ہے اور جو دل و دماغ کو لگنے والا اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور تمام ثقہ حضرات اہل علم نے اسی کی تصریح فرمائی ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، محاسن التاویل، خازن، مدارک، مظہری، معارف اور جامع وغیرہ وغیرہ) جبکہ اس میں دوسرا قول و احتمال یہ ہے کہ یہاں پر " قربیٰ " بمعنیٰ " قربۃ " ہو۔ جیسے " زلفیٰ " اور " زلفۃ "۔ سو اس صورت میں اس سے مراد تقرب الی اللہ ہوگا۔ یعنی میں تم سے اے لوگو ! اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر تقرب الی اللہ کی محبت پیدا ہو۔ اور اس طرح تم ایمان و اطاعت کی دولت کو اپنا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا سامان کرو۔ آیت کریمہ کے الفاظ اور ان کلمات کریمہ کے ظاہر اور عموم میں اگرچہ اس دوسرے معنیٰ و مطلب کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن اس کا پہلا مفہوم و مطلب اس کے مقابلے میں زیادہ واضح اور راحج ہے۔ ایک تو اس لئے کہ اس کا ظاہر اور متبادر الی الذہن مفہوم وہی ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ وہ صحیحین میں مروی ہے اور جمہور اہل علم اور علماء و مفسرین کرام نے اسی کو اپنایا ہے۔ اور تیسرا مفہوم اس آیت کریمہ کا جسے رافضیوں اور رفض نوازوں نے اپنایا اور مشہور کیا ہے وہ یہ ہے کہ " میں تم سے اپنے رشتہ داروں یعنی اہل بیت کی محبت کے سوا کچھ نہیں چاہتا " مگر یہ معنیٰ یہاں پر مراد لینا بوجوہ درست نہیں ہوسکتا۔ اول اس لئے کہ یہ خود قرآن پاک کی ان متعدد نصوص کے خلاف اور ان سے متعارض ہے جن میں صاف طور پر اور حصر کے ساتھ پیغمبر ﷺ یہ اعلان فرماتے ہیں کہ میں تبلیغ دین کے اس کار خیر پر تم سے کسی قسم کا کوئی اجر و صلہ نہیں چاہتا۔ تو جو ذات اقدس اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اپنی بےغرضی کا اعلان فرمائے اس کے بارے میں یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر یوں کہہ دے کہ لوگو ! میں تم سے صرف اپنے رشتہ داروں کی محبت مانگتا ہوں اور بس۔ سو یہ بات آپ ﷺ کی شان اور آپ ﷺ کے مرتبہ و مقام کے بھی خلاف ہے۔ اور اس طرح کی دوسری قرآنی تصریحات سے بھی متصادم و معارض جن میں ہر پیغمبر کی طرف سے صاف وصریح طور پر اور حصر و تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے ۔ { لا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ۔ کہ میں تبلیغ و دعوت حق کے اس کام پر تم سے کسی بھی طرح کا کوئی اجر و صلہ اور بدلہ نہیں مانگتا۔ نیز اگر اس آیت کریمہ کا یہی مطلب ہوتا جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو اس صورت میں ۔ { فِی الْقُربٰی } ۔ نہیں " لِذَوِی الْقُربٰی " فرمایا جاتا۔ یعنی " فی " کی بجائے " لام " کا صلہ ذکر فرمایا جاتا۔ کیونکہ عربی قاعدئہ و زبان کے مطابق ایسے موقع پر کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لئے مودت اور محبت کا سوال کرتا ہے تو یوں نہیں کہتا " اَسْألُکَ الْمَوَدَّۃ فِیْ فُلَان " بلکہ اس کے لئے وہ یوں کہتا ہے " اسألُکَ الْمَوَدَّۃ لِفُلانٍ "۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور یہ عربی زبان کا ایک مشہور و معروف ضابطہ و اسلوب ہے۔ اور قرآن پاک میں جہاں بھی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا گیا وہاں " فی القربیٰ " نہیں " ذوی القربی " فرمایا گیا ہے۔ چہارم اس لئے کہ اگر یہاں " القربیٰ " سے مراد اہل بیت اور رشتہ دار ہی ہوتے تو وہ معلوم و مشہور ہونے چاہئیں تھے۔ کیونکہ " القربیٰ " معرف باللام ہے۔ جس کا معروف اور متعین ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ یہاں حال یہ ہے کہ جن حضرات کو اہل بیت سے مشہور کیا گیا ہے ان میں سے بعض تو اس وقت سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور حضرت علی ؓ کی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی مدینہ طیبہ میں غزوئہ بدر کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اور حضرت حسن 3 ھ میں اور حضرت حسین ؓ 4 ھ میں پیدا ہوئے۔ تو ایسی صورت میں وہ اس آیت کریمہ اور اس ارشاد ربانی کا مصداق کس طرح بن سکتے ہیں ؟ واضح رہے کہ اہل بیت کی محبت مومن صادق کے ایمان کا تقاضا اور دین کی بنیاد ہے کہ ان کا تعلق و رشتہ افضل الرُّسل اور سَیِّدُ ولد آدم سے ہے ۔ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ جو پوری انسانیت کے محسن اور اس کے نجات دہندہ ہیں۔ اور قرآن و سنت کی نصوص اس پر دال ہیں۔ اس لئے ان کی محبت کے انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ مقصد و مدعا صرف یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کا مفہوم و مطلب وہ نہیں جو روا فض وغیرہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ یہ عربی زبان و لغت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور دوسری نصوص قرآن و سنت کے بھی معارض و متصادم۔ اور صحیحیں کی روایت اور جمہور اہل علم اور ثقہ مفسرین کرام کی تفسیر کے بھی خلاف ہے۔ لہذا آیت کریمہ کی صحیح اور بےغبار تفسیر وہی ہے جو صحیحین کی روایت اور ترجمان القرآن حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ حضرات سے ثابت ہے اور جو جمہور کا اختیار ہے۔ اور جس کو ہم نے اوپر حاشیہ کے شروع میں بیان کردیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
61 نیکوکاروں کے لیے افزونی اور بڑھوتری کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس کی بھلائی کی خوبی کو اور بڑھاتے جائیں گے۔ بیشک اللہ بڑا ہی غفور و شکور ہے۔ سو " اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی قدردان ہے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہ اپنے بندوں کی معمولی فرو گزاشتوں کو معاف کرتا اور ان سے درگزر فرماتا ہے۔ اور ان کے نیک اعمال کو شرف قبولیت سے بھی نوازتا ہے اور ان کو ان پر ان کے استحقاق سے بھی کہیں بڑھ کر اجر وثواب عطا فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو دنیا کو اس حقیقت سے اچھی طرح واقف و آگاہ رہنا چاہیئے کہ لوگوں کی نیکی اور پرہیزگاری سے اس معبود برحق کا کسی بھی طرح کا کوئی فائدہ اور نفع نہیں۔ وہ غنی مطلق ایسے ہر تصور اور شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کے ایسے ہر عمل کا نفع اور فائدہ سراسر خود عمل کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اور اس معبود برحق کی شان اور اس کا کام تو محض نوازنا اور کرم فرمانا اور لگاتار اور مسلسل نوازنا اور کرم فرمانا ہے کہ وہ وحدہ لاشریک رحیم و کریم بلکہ ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لیے بندہ اس کی رضا و خوشنودی کیلئے چھوٹی بڑی جو بھی کوئی نیکی کرتا ہے اس کو وہ غنی مطلق نہ صرف یہ کہ قبول کرتا ہے بلکہ اپنی شان کریمی سے اس کو بڑھاتا، پالتا اور اس کے حسن و خوبی میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ جس سے وہ چھوٹی سی نیکی بڑھ کر اور ترقی کرکے کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور اس کے صلے میں وہ اکرم الاکرمین اس کو ابدی بادشاہی سے نوازے گا کہ وہ وحدہ لاشریک بڑا ہی بخشنے والا درگزر فرمانے والا اور انتہائی قدردان ہے۔ اور اتنا اور اس قدر کہ اسکا تصور بھی کسی انسان کیلئے ممکن نہیں۔ اور یہ شان صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ اسی لیے معبود برحق وہی اور صرف وہی ہے۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کے ساتھ خاص اور اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کا کام اس کی رضا کے لیے کام کرتے رہنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 42:2462 قرآن حکیم محض عطیہ اور احسان خداوندی ہے : ورنہ پیغمبر نے نہ کبھی اس کی خواہش کی اور نہ ہی محض اپنی خواہش سے اس کو پایا جاسکتا ہے۔ بلکہ خداوند قدوس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے اس چشمہ فیض کو پیغمبر کے اندر جاری فرمایا ہے۔ ورنہ اللہ اگر چاہتا تو مہر کردیتا تمہارے دل پر اے پیغمبر۔ اور آپ ﷺ سے علوم نبوت سلب کردیتا۔ کیونکہ اللہ پاک کا قانون یہی ہے کہ جو اس پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة الحاقۃ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الاَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْن، فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ } ۔ (الحاقۃ : 44-47) ۔ کیونکہ اللہ پاک پر ایسا افترا اور جھوٹ باندھنا اس قدر سنگین اور ہولناک جرم ہے کہ اس جرم کے مرتکب کو چھوٹ نہیں مل سکتی۔ سو اگر ان لوگوں کے کہنے کے مطابق آپ ﷺ اے پیغمبر ایسے ہوتے تو یقینا آپ ﷺ سے بھی یہی معاملہ ہوتا۔ اور جب آپ ﷺ سے ایسے نہیں ہوا بلکہ آپ پر تو اللہ پاک کی عنایتوں اور نوازشوں کا سلسلہ برابر جاری ہے تو اس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آپ اس کے سچے رسول اور اپنے دعوے میں قطعی طور پر برحق اور سچے ہیں۔ پس جھوٹے اور پرلے درجے کے جھوٹے اور کذاب و مفتری یہ لوگ خود ہیں جو آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ اور اس طرح یہ خود اپنی ہی حرمان نصیبی کا سامان کرتے اور اپنی شقاوت و بدبختی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایسے لوگ ایمان و یقین کی دولت سے اور دور اور محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان کو سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ اور یہ اس کائنات کے خالق ومالک کا ایک عام دستور اور اس کی سنت ہے جو اس کی اس کائنات میں جاری و کار فرما ہے کہ جو لوگ اس طرح ضد و ہٹ دھرمی اور عناد و استکبار کے ساتھ حق سے منہ موڑ لیتے ہیں ان کی مت مار دی جاتی ہے اور ان کی کھوپڑیاں اوندھی اور الٹی ہوجاتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کو نہ اپنے نفع و نقصان کی تمیز باقی رہتی ہے اور نہ حق و حقیقت کی سمجھو پہچان ۔ { فَلَمَّا زَاغُوْآ اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ } ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کی حقانیت کا اثبات اور آپ کے لئے تسلی کا سامان ہے کہ آپ ﷺ بہرحال حق پر ہیں۔ اور اللہ پاک کا آپ ﷺ کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ اس کا واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے۔ اور دوسری طرف اس سے آپ ﷺ کے مخالفین کی تردید اور ان کے الزامات و اتہامات اور مزاعم باطلہ کا ابطال ہے۔ اور یہی مضمون سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 86 اور 87 میں بھی ذکر ہوا ہے۔ سو قرآن حکیم محض عطیہ واحسان خداوندی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
63 قرآن حکیم کا اثر و مقصود احقاقِ حق اور ابطال باطل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ مٹاتا ہے باطل کو اور حق کو حق کرکے دکھاتا ہے اپنے ۔ ارشادات و ۔ کلمات کے ذریعے۔ بیشک وہ پوری طرح جانتا ہے دلوں کے رازوں کو "۔ اس لئے وہ آپ کے مخالفین کے ان مزاعم کو مٹا دے گا اور آپ ﷺ کے پیش کردہ دین حق کو ثابت و پختہ کر دے گا۔ پس ان لوگوں کا الزام سراسر باطل ہے۔ سو اس ارشاد سے اوپر والی بات کے دوسرے پہلو کو اجاگر فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اس کتاب حکیم کو افترا قرار دے رہے ہیں کیا وہ اس کے اس اثر و نتیجہ کو نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارشادات و کلمات کے ذریعے باطل کو مٹاتا اور حق کا اثبات کر رہا ہے۔ اور کیا ایسے لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ افترا ہمیشہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور شیطان کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ باطل کو مٹائے اور حق کو اجاگر کرے۔ بلکہ اسکا کام تو اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ پس نہ یہ کلام افترا ہوسکتا ہے اور نہ اس کے پیش کرنے والا مفتری۔ کیونکہ اگر بالفرض ایسے ہوتا تو اس کا اثر و نتیجہ احقاقِ حق اور ابطال باطل کی صورت میں نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس نکلتا۔ دنیا میں کبھی کسی مفتری نے ایسا فیض بخش اور ارواح و قلوب کو زندہ اور منور کرنے والا کلام نہ پیش کیا ہے نہ پیش کرسکتا ہے جس طرح قرآن حکیم کا یہ کلام معجز نظام ہے۔ بلکہ یہ خالص تنزیل ہے اس رب العالمین کی طرف سے جو دلوں کے بھیدوں تک کو جاننے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو منکرین کے دلوں کی نیتیں اور ارادے اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 42:2564 توبہ اور اصلاح احوال کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور درگزر فرماتا ہے ان کی برائیوں سے "۔ لہٰذا کسی کے لئے بھی اس کی بارگہ سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ سچے دل اور صحیح طریقے سے اس کی طرف انابت و رجوع کی ضرورت ہے ۔ اللّٰہم وَفّقِنْا لما تُحِبُّ وَتَرضٰی من القول والعمل ۔ سو اس ارشاد میں منکرین و مکذبین کیلئے توبہ اور اصلاح کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر تم چاہو تو توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے اب بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچا سکتے ہو کہ وہ بڑا ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ اس کے یہاں کسی کے لیے بھی محرومی نہیں۔ وہ بڑا ہی مہربان اور نہایت ہی درگزر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی طرف رجوع رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین -
65 اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو " کسی بھی حال میں اور کسی بھی موقع و مقام پر۔ پس تمہیں اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ بہرحال دیا جائے گا۔ اس لئے تم اپنے اعمال کا محاسبہ خود کر کے دیکھ لیا کرو کہ تم کس طرح کے بدلے کے مستحق ہو ؟ سو تمہارا کوئی جرم اور تمہارا کوئی قول و فعل اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں۔ اور نہ تم اپنے کسی بھی عمل کو اس سے چھپا سکتے ہو۔ لیکن وہ اپنی رحمت و عنایت اور مہربانی سے اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے کہ اس کی شان ہی درگزر فرمانا ہے۔ پس ضرورت سچے دل سے اس کی طرف رجوع ہونے اور رجوع رہنے کی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 42:2666 اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص نوازش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ قبول فرماتا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انکو اپنے فضل سے مزید نوازتا ہے "۔ یعنی ان کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر وہ ان کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے منکرین و مکذبین کے سامنے اہل ایمان کی روش اور انکا انجام رکھ دیا گیا ہے تاکہ اس سے ان کیلئے یہ امر واضح ہوجائے کہ جس طرح انہوں نے دعوت حق پر لبیک کہہ کر اپنے خالق ومالک کی ان عنایات سے سرفرازی حاصل کی اور وہ دنیا و آخرت میں سکے افضال سے سرفراز و فیضیاب ہوئے اسی طرح اگر یہ لوگ بھی چاہیں تو اس کے ان افضال اور ایسی عنایات کے سزاوار اور حقدار بن سکتے ہیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ کفار و منکرین کیلئے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا سخت عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو ان کو اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:2767 رزق و روزی کا معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اگر اپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کردیتا تو یہ یقینا بغاوت و سرکشی کا طوفان بپا کردیتے اس کی زمین میں۔ لیکن اللہ روزی اتارتا ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ جتنی چاہتا ہے "۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس کے لئے کیا مناسب ہے۔ کتنا مناسب ہے اور کس شکل میں مناسب ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا جو لوگ اپنی دنیاوی مال و دولت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور اس غرے میں یہ لوگ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اہل حق کو خاطر میں نہیں لاتے یہ سراسر دھوکے اور فریب میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ دنیاوی مال و دولت کا کسی کو مل جانا اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا بلکہ اسکا تعلق ان دوسری مختلف حکمتوں اور مصلحتوں سے ہوتا ہے جس کا علم و احاطہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ فرما سکتا ہے۔ البتہ اس کی ایک بڑی حکمت و مصلحت اختیار و امتحان ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مومن اور کافر دونوں ہی کی آزمائش کرتا ہے۔ بہرکیف رزق و روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور وہ جو بھی کچھ کرتا ہے اپنے علم اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق کرتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
68 اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ پوری طرح باخبر ہے اپنے بندوں سے اور وہ ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے "۔ پس وہ جس کو جس حال میں رکھتا ہے وہی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے حالات اور ان کی مصلحتوں کو پوری طرح جانتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے روزی کشادہ فرماتا ہے اور جسکو چاہتا ہے نپی تلی دیتا ہے۔ اور اس طرح وہ انکے صبر اور شکر کا امتحان کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مال و دولت کی فراوانی کسی کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ یہ چیز محض ابتلاء و آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔ دنیا کے اس دار الابتلاء میں اللہ تعالیٰ مومن اور کافر دونوں کو دیتا اور دونوں کی آزمائش کا سامان کرتا رہتا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے حالات سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ اس لیے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزی تنگ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا اس کو کشادہ کرتا ہے۔ اس طرح کسی کے شکر کا امتحان ہوتا ہے اور کسی کے صبر کا۔ سو اگر کسی کو دنیاوی مال و دولت زیادہ ملے تو وہ اس گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو کہ یہ اس کی اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ یا اس کے آباء و اَجداد کا حق ہے بلکہ اس کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں دینا اور بخشنا بھی ہے اور دے کر چھین لینا بھی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:2869 بارش کا اتارنا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وہی ہے جو بارش اتارتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ ہر طرف پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت اور اس کے آثار و نتائج کو اور وہی ہے کارساز اور ہر تعریف کے لائق "۔ سو جس طرح وہ جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ظاہری بارش اتارتا ہے اسی طرح وہ دلوں کی زندگی و شادابی کے لئے وحی سماوی کی باران رحمت بھی نازل فرماتا ہے جس سے دلوں کی کھیتیاں زندئہ و تازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہیں۔ اور جو اب اپنی کامل اور آخری شکل میں قرآن حکیم کی صورت میں قیامت تک کے لئے تمام بنی نوع انسان کی سیرابی و فیضیابی کے لئے موجود ہے۔ سو جنہوں نے اس سے منہ موڑا ان کے دلوں کی کھیتیاں مردہ اور ویران ہیں اگرچہ دنیاوی اعتبار سے اور مادی لحاظ سے انہوں نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو۔ سو جس طرح انسان کی معاشی ضروریات اور اس کے جسمانی تقاضوں کا سارا دارومدار پانی اور بارش پر ہے اسی طرح اس کی باطنی اور روحانی ضروریات اور دلوں کی زندگی وحی سماوی کی روحانی اور معنوی بارش پر موقوف ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اسکا بھی حکمتوں بھرا اور کامل انتظام فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس ارشاد میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے۔ سو اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ ہی اپنے اندازے کے مطابق اپنے بندوں کے لیے روزی اتارتا ہے۔ اس میں نہ بندوں کو کچھ اختیار ہے اور نہ ان کے مزعومہ شرکاء کو۔ سو اب اس دلیل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہی بارش اتارتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب بارش کا اتارنا اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے تو روزی کا معاملہ بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ رزق و روزی کا اور معاش کا تمام تر انحصار بارش ہی پر ہے۔
Ayahs 42:29–3072 قانون مجازات کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے اے لوگو تو وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے "۔ ورنہ اس ربِّ رحمن و رحیم مالک کی رحمت تو عام اور سب کو شامل ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا ارشاد ہے ۔ { رَحْمَتِیْ وسعت کُلَّ شَیْئٍ } ۔ واضح رہے کہ یہاں خطاب بڑوں سے ہے۔ لہذا چھوٹے اور معصوم بچوں کو جو تکلیف بعض اوقات ہوتی ہے اس سے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں اس کی دوسری حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں جن کا احاطہ وہ وحدہ لاشریک ہی فرما سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس دنیا میں جو بھی کوئی مصیبت اور تکلیف تم لوگوں کو پہنچتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی اور تمہارے اپنے کیے کرائے کا طبعی نتیجہ اور لازمی ثمرہ ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی اصل مقصود تمہارے لیے تنبیہ و تذکیر کا سامان کرنا ہوتا ہے کہ تاکہ تم لوگ سنبھل جاؤ اور اپنی غلط روش سے باز آکر اپنی اصلاح کی فکر کرو۔ اور اس طرح آخرت کے دائمی عذاب اور ہولناک خسارے سے بچ جاؤ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس طرح کی تکلیفیں دراصل تنبیہات ہوتی ہیں جن سے بندوں کو قانون مجازات کا تجربہ کرایا جاتا ہے تاکہ اس طرح کی تنبیہ و تذکیر سے وہ جان لیں کہ یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال نہیں کہ انسان اس میں جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ بلکہ اس کا خالق سزا اور جزا دینے والا ہے۔ سو وہ ایک دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ پاس کے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوں۔ سو دنیا میں پیش آنے والے یہ مصائب و مشاکل دراصل قانون مجازات کی تذکیر و یاددہانی کا سامان ہوتا ہے تاکہ انسان ان سے سبق لے، سنبھل جائے اور اپنی روش کی اصلاح کرلے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
73 اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ و ذکر : سو اس سے اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ و ذک فرما کر واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں کی بہت سی بداعمالیوں سے درگزر فرماتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور بہت سے گناہوں سے وہ درگزر فرماتا ہے "۔ ورنہ کوئی شخص ایک لمحے کے لئے بھی نہ چل سکے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہٗ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَابَّۃٍ } ۔ (فاطر : 45) ۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کہیں لوگوں کو ان کے سب کئے کرائے پر پکڑنے لگتا تو زمین پر چلنے والا کوئی جاندار بھی اس کی گرفت وپکڑ سے کبھی نہ بچ سکتا۔ مگر وہ غفور و رحیم ربِّ کریم ایسے نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے عفو و درگزر ہی سے کام لیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ " کیا میں تم لوگوں کو سب سے افضل آیت نہ بتاؤں۔ پھر آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے کہ ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک نے جس گناہ کی سزا دنیا میں دے دی تو اس کی رحمت و عنایت سے بعید ہے کہ وہ آخرت میں بھی اس پر سزا دے۔ اور جسے دنیا میں معاف فرما دیا تو اس کے حلم و کرم سے یہ بعید ہے کہ ایک مرتبہ معاف فرما دینے کے بعد وہ اس پر دوبارہ گرفت فرمائے۔ (المراغی، ابن کثیر اور جامع البیان وغیرہ) ۔ فلک الحمد ولک الشکر یا ربی علی ھذہ المنن والنعم ۔ اسی لئے بعض حضرات مفسرین نے ۔ { یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ } ۔ کی تفسیر میں تحریر فرمایا ۔ " فَلَا یُعَاقِبُکُمْ لَا فِی الدُّنْیَا وَلَا فِی الاٰخِرَۃِ " ۔ (جامع البیان) ۔ یعنی اللہ اس پر نہ دنیا میں تم کو سزا دے گا اور نہ آخرت میں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اس غفور و رحیم ربِّ کریم کی شان کرم سے کچھ بعید نہیں ۔ فَاِیَّاک أسأل یَا رَبِیْ ان تغفرلی ذنبی کُلَّہٗ ، دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ ، اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہَ ، سِرَّہٗ وعَلانِیَتَہٗ ، مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لا اَعْلَمُ ، لِیْ وَلَزَوْجِتِیْ وَاَہْلِیْ وَاَوْلادِیْ وَاِخْوتی وَاَخَواتی وَوَالِدِیْ وَوَالدَتِیْ وَلِسَائرِ المؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات الاحیاء منہمْ والْاَمواتَ ، انَّکَ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مجیب الدعواتِ ۔ واحدی کہتے ہیں یہ اہل ایمان کیلئے سب سے زیادہ پرامید آیت ہے کہ اس میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک اہل ایمان کے گناہوں میں سے کچھ کو مصیبتوں وغیرہ کے ذریعے معاف فرما دیتا ہے اور کچھ کو یونہی۔ اور یہ بات اس کے کرم سے بہت بعید ہے کہ وہ ایک مرتبہ معاف فرما دینے کے بعد دوبارہ پکڑے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (فتح القدیر وغیرہ) ۔ واضح رہے کہ تذکیر مجازات سے متعلق اس آیت کریمہ کا تعلق حضرات انبیاء و رسل جیسی پاکیزہ ہستیوں سے نہیں کہ ان کو جو مصائب و آلام پیش آتے ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ ابتلاء و آزمائش کے طور پر ہوتے ہیں جن سے مقصود ان کے صبر و استقامت کا امتحان ہوتا ہے۔ اور یہ امتحان انکے مدارج کی بلندی اور درجات کی ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ سو ان قدسی صفت حضرات کی شان سب سے افضل واعلیٰ اور ممتاز و یکتا ہوتی ہے ۔ علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام -