41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

آپ کو (اے پیغمبر ! ) نہیں کہا جا رہا مگر وہی کچھ جو کہ آپ سے پہلے دوسرے رسولوں کو کہا گیا ہے بلاشبہ آپ کا رب بڑا ہی درگزر کرنے والا بھی ہے اور وہ بڑا ہی دردناک عذاب دینے والا بھی ہے

76 پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو اے پیغمبر ! اپنی قوم کی طرف سے جس طعن وتشنیع اور ایذا رسانی کا سامنا ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیائے کرام سے بھی ایسے ہی ہوتے رہا ہے اور ان کو بھی اپنی کافر قوموں کی طرف سے اسی طرح کی باتیں سننا پڑی ہیں۔ اور ان کو بھی ویسی ہی ایذا رسانیوں سے سابقہ و واسطہ پڑا جیسا کہ آج آپ ﷺ کو پڑ رہا ہے۔ لہٰذا آپ بھی ویسے ہی صبر و استقامت ہی سے کام لیں جیسا کہ انہوں نے صبر سے کام لیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ اور دوسرا مطلب اس آیت کریمہ کا یہ بیان کیا گیا ہے اور کلمات کریمہ کے عموم میں اس کی بھی گنجائش بہرحال موجود ہے کہ جو کچھ آج آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے یعنی اپنے رب کی جانب سے۔ سو یہ وہی کلام و پیام ہے جو سابقہ انبیاء و رسل سے کہا جا چکا ہے۔ اور آپ ﷺ کو بھی وہی احکام دئیے جا رہے ہیں جو آپ سے پہلے انبیائے کرام کو دئیے گئے ہیں کہ اصول کے اعتبار سے تمام شریعتیں آپس میں متحد و متفق تھیں اور ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلِیْکَ کَمَآ اَوْحِیْنَآاِلٰی نُوْحٍ وَ النَّبِیِّیْنِ مِنْ بَعْدِہٖ } ۔ (النسائ : 163) ۔ اور متعدد صحیح احادیث میں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا گیا ہے۔ جبکہ پہلے مفہوم کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے ۔ { کَذَالِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنَ } ۔ (الذاریات : 53) ۔ بہرکیف اس میں حضرت امام الانبیاء محمد ﷺ کیلئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کا رویہ ہمیشہ ایسے ہی رہا۔ پس اس سے کبھی نہ ہمت ہارنی چاہیے اور نہ حوصلہ چھوڑنا چاہیے۔ بلکہ ہمیشہ صبر و استقامت ہی سے کام لینا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق - 77 اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عقاب کی دونوں شانوں کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا بھی ہے اور دردناک عذاب دینے والا بھی "۔ پس اس کی مغفرت و بخشش کی امید بھی رکھنی چاہیے اور اس کے عذاب و عقاب سے ہمیشہ ڈرتے بھی رہنا چاہیئے کہ ایمان خوف ورجاء دونوں کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ اور اس کے عذاب سے بےفکر اور لاپروا ہوجانا بہت سخت خطرے کی بات ہے کہ اس کا عذاب بےخوفی کی چیز نہیں بلکہ نہایت ڈرنے کی چیز ہے ۔ { اِنَّ عَذَابَ رَبِّک کَانَ مَحْذُوْرًا } ۔ (بنی اسرائیل : 57) ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو مجرم اس کی گرفت و پکڑ سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ وہ بڑا ہی بخشنہار بھی ہے اور سخت دردناک عذاب دینے والا بھی۔ سو یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { نَبِّیئْ عِبَادِیْ اَنِّیْ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمً ، وَاَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَاب الاَلِیْمُ } ۔ (الحجر : 49-50) یعنی " میرے بندوں کو اس حقیقت سے آگاہ کردو کہ بلاشبہ میں بڑا ہی بخشنہار، انتہائی مہربان ہوں اور یقینا میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک عذاب ہے "۔ سو یہاں پر اس ارشاد سے آگہی بخش دی گئی کہ باغیوں اور منکروں کو جو ڈھیل اور چھوٹ ملی ہوئی ہے وہ اس لیے نہیں کہ میرے یہاں کوئی پکڑ نہیں بلکہ ایسوں کو جو ڈھیل اور چھوٹ ملی ہوئی ہے وہ اس لیے کہ تاکہ جس نے توبہ اور اصلاح کرنا ہو وہ کرلے ورنہ میرا عذاب بڑا ہی سخت اور دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کوئی عجمی قرآن بنا دیتے تو اس وقت یہ لوگ یوں کہتے کیوں نہ کھول کر بیان کردی گئیں اس کی آیتیں بھلا یہ کوئی بات ہوئی کہ کتاب تو عجمی ہو اور رسول عربی ؟ (ان سے) کہو کہ یہ قرآن ان لوگوں کے لئے تو سراسر ہدایت اور عین شفاء ہے جو ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ ایمان (کی دولت) نہیں رکھتے ان کے کانوں میں یہ ایک ڈاٹ ہے اور (ان کی آنکھوں) پر ایک اندھاپا اور ہولناک سیاہ پٹی) اور ان لوگوں کا حال (ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) یہ ہے کہ گویا کہ ان کو پکارا جا رہا ہے کسی دوردراز مقام سے

78 منکرین کی کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم اس کو کوئی عجمی قرآن بنا دیتے تو اس وقت یہ لوگ یوں کہتے کہ کیوں نہ کھول کر بیان کردیا گیا اس کی آیتوں کو "۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ کتاب تو ہو عجمی اور رسول عربی ؟ یعنی اب تو یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ رسول بھی عربی اور قرآن بھی عربی۔ کیا پتہ یہ رسول خود ہی لکھ کر لا رہے ہوں۔ ہم جب مانتے کہ یہ خود عربی ہوتے اور قرآن کو کسی اور زبان میں پیش کرتے۔ حالانکہ دستور ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ہر نبی نے اپنی زبان میں ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ہے ارشاد خداوندی ہے ۔ { وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ } ۔ (ابراہیم : 4) اور پھر اس قرآن مجید کا اعجاز جس کے یہ لوگ اپنی قابل فخر زبان دانی کے باوجود خود قائل و معترف ہیں وہ اس کی حقانیت کی ایک زبردست دلیل ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کا یہ کہنا محض کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ چناچہ اگر بالفرض ہم اس قرآن کو کسی عجمی زبان میں ہی اتار دیتے تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا بلکہ اس وقت یہ لوگ یوں کہتے کہ یہ کیا تک ہے کہ نبی تو ہو عربی اور قرآن عجمی۔ غرض جب نہ ماننا ہو تو اس کے لئے حیلوں بہانوں اور کٹ حجتیوں کی کمی نہیں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں کے ایسے اعتراضات محض کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھے جس کا کوئی علاج نہیں۔ کیونکہ ہٹ دھرمی اور " میں نہ مانوں " کا کوئی علاج نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ عناد اور ہٹ دھرمی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 79 قرآن حکیم سراسر ہدایت اور عین شفا : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ قرآن حکیم ایمان والوں کیلئے سراسر ہدایت اور نری شفا ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہوں یا ایمان لانا چاہتے ہوں۔ سو اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کے علوم و معارف اور اس کے انوار و برکات سے مستفید و فیضیاب ہونے کے لئے شرط اولین اس پر ایمان صادق اور ارادئہ ایمان ہے۔ اس کے بغیر انسان اس سے کماحقہ مستفید نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ایسا محروم شخص اس کلام حق پر اعتراض کرنے اور اس کے بارے میں نکتہ چینی ہی کی کوشش میں رہے گا۔ جس سے وہ نور حق و ہدایت سے اور محروم اور دور ہوتا چلا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ امر واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت اور نری شفا مگر ان لوگوں کے لیے جو اس کی قدر کریں اور اس پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہوں یا ایمان لانا چاہتے ہوں۔ اور جو ایمان لانا چاہتے ہی نہ ہوں وہ اس کی مخالفت کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ ہی لیں گے لیکن جن کے اندر ہدایت کے لیے طلب صادق موجود ہے اور جنکو اپنی عقلی اور روحانی بیماریوں کا احساس ہے وہ اس کے اندر ہدایت کا نور بھی پائیں گے اور اپنے دکھوں اور دردوں کا مداوا بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 80 بےایمانوں کے لیے محرومی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بےایمانوں کیلئے یہ کتاب حکیم انکے کانوں کیلئے ڈاٹ اور ان کی آنکھوں کیلئے سیاہ پٹی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ سب کچھ ان لوگوں کا خود اپنا بنایا اور کیا کرایا ہے کہ انہوں نے اپنے کانوں کے ان ڈاٹوں اور اپنی آنکھوں کے اس اندھا پے اور ان سیاہ پٹیوں کا سامان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور اپنے بغض وعناد سے خود کیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب کسی کے کان بھی بند ہوں اور آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی بندھی ہو تو وہ حق و ہدایت کے نور سے آخر کس طرح اور کیونکر مستفید ہوسکتا ہے ؟ سو اس محرومی کے ذمہ دار یہ بدبخت لوگ خود ہیں کہ انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنی اس محرومی کا سامان خود کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے بدبخت لوگوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر قبول حق کیلئے ودیعت کی گئی اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو خود ضائع کردیا ہے جسکے نتیجے میں ایسے لوگ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانات اور جمادات کی سطح پر آگئے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئے۔ جس کے باعث اس کلام حکیم کی صدا و آواز انکے خانہ دل تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ بلکہ انکے کانوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آجاتی ہے اور یہ خساروں کا خسارہ ہے۔ سو نور ایمان و یقین سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 81 بدبختوں کی محرومی کی تصویر۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے بدبختوں کی محرومی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " گویا کہ انکو پکارا جارہا ہے کسی دور دراز جگہ سے "۔ سو جس طرح دور سے کی جانے والی ندا و پکار اول تو صحیح طور پر مخاطب کے کان تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ اور اگر پہنچ بھی جائے تو صحیح سمجھ نہیں آسکتی۔ سو یہی حال ان محروم القسمت اور بدنصیب لوگوں کا ہے جو نور ایمان و یقین سے محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ یہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاس ہونے کے باوجود آواز حق کی تاثیر سے محروم اور دور نفوز ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ارشاد ربانی ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لاَ یَسْمَعُ الاَّ دُعَائً وَّ نِدَائً ا } ۔ یعنی " کافروں کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کسی ایسی چیز کو پکارتا ہو جو دعا و پکار کے سوا کچھ نہ سنتا ہو "۔ (البقرۃ : 171) ۔ یہ اس آیت کریمہ کا ایک مفہوم و مطلب ہے جو کہ ظاہر و متبادر ہے۔ اور جو اس پر مبنی ہے کہ ۔ { ینادون } ۔ کے فعل مضارع کو حال کے معنیٰ میں لیا جائے اور اسی کو عام مفسرین کرام نے اختیار کیا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور معارف وغیرہ) ۔ جبکہ بعض اہل علم نے ۔ { ینادون } ۔ کو مستقبل کے معنیٰ میں لیکر اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ قیامت کے روز ایسے لوگوں کو وہاں کے داعی کی طرف سے بہت دور سے پکارا جائے گا۔ اور یہ سنتے ہی دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ مجال نہیں ہوگی کہ ذرہ برابر بھی کوئی انکار یا انحراف کریں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لاَ عِوَجَ لَہ وَخَشَعَتِ الاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلاَ تَسْمَعُ الاَّ ہَمْسًا } ۔ یعنی " جس دن یہ لوگ پکارنے والے کے پیچھے ایسے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے کہ کسی قسم کی کوئی کجی نام کو نہ ہوگی اور اس روز آوازیں خدائے رحمن کے سامنے ایسی پست ہوجائیں گی کہ تم بس ایک سرگوشی کے سوا کچھ سن نہ سکو گے "۔ (طہٓ: 108) ۔ ضحاک سے بھی یہی مروی ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ مگر بہتر یہ ہے کہ کلمے کو اپنے عموم پر رکھا جائے تاکہ حال اور مستقبل کے ان دونوں ہی مفہوموں کو عام اور شامل رہے۔ سو سمع وطاعت یعنی اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات کو سننا اور صدق دل سے ماننا اور اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کبھی کا کردیا گیا ہوتا اور یہ لوگ یقینی طور پر اس (قرآن) کی بناء پر ایک سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

82 کتاب موسیٰ کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا "۔ کہ کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ کسی نے تصدیق کی اور کسی نے تکذیب۔ سو آپ ﷺ کی قوم جو آج آپ ﷺ کو اور آپ کی پیش فرمودہ اس کتاب حق کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے بھی ایسے ہی ہوا ہے۔ سو آپ ﷺ بھی اس طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح کہ حضرت موسیٰ اور دوسرے انبیاء نے لیا کہ غلبہ و انجام بہرحال حق ہی کا ہے۔ سو اس میں حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ (ابن کثیر، ابن جریر اور قرطبی وغیرہ) ۔ نیز کتاب موسیٰ میں اختلاف اور تحریف کا ارتکاب کیا گیا اور اس حد تک کیا گیا کہ اس کا اصل نسخہ ہی ناپید ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے نئی کتاب نازل فرمائے تاکہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آسکیں۔ سو وہی کتاب ہدایت قرآن حکیم ہے جو کہ ہدایت و نور کا واحد منبع ومصدر ہے۔ اور اس کے بغیر اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ 83 منکرین کے لیے ایک سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا "۔ یعنی یہ کہ اصل عذاب آخرت ہی میں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اصل عذاب تو آخرت میں ہوگا ۔ { بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدَہُمْ } ۔ اور وہ بڑا ہی سخت اور ہولناک عذاب ہوگا ۔ { وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ } ۔ کیونکہ دنیا فیصلے اور سزا و جزا کی جگہ نہیں بلکہ یہ تو عمل اور ابتلاء و آزمائش کا مقام ہے۔ سو اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا کہ ان کی شر انگیزی میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اور اب یہ لوگ اپنے آخری انجام کے پوری طرح مستحق ہوچکے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد میں منکرین کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ ان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے وہ بہرحال ایک مہلت ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال ختم ہو کر رہنا ہے اور اس کے بعد انہوں نے اپنے انجام کو بہرحال پنچنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا بہرحال ایک وقت مقرر ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو انکے درمیان فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 84 حق کا انکار باعث قلق و اضطراب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ اس کی وجہ سے سخت اضطراب اور شک میں پڑے ہیں۔ جس نے ان کا سکون و اطمینان اچاٹ کردیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حق کا انکار منکرین حق کے لئے ذہنی اور نفسیاتی طور پر بجائے خود ایک عذاب ہوتا ہے جس میں ایسے لوگ برابر مبتلا رہتے ہیں۔ اور یہ کہ امن و سکون کی دولت ایمان و یقین سے ہی نصیب ہوسکتی ہے ۔ فالحمد للّٰہ الذی شَرَّفَنَا بنعمۃ الایمان والیقین اللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہ وثبت اقدامنا علی صراطک المستقیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ بات واضح فرما دی گئی کہ یہ لوگ اس قرآن کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں جس کو حضرت محمد ﷺ انکے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ کیونکہ شک اور استبعاد سے بڑھ کر ان کے انکار کیلئے کوئی وجہ اور دلیل موجود نہیں۔ اور دوسرا اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس انکار کے بعد یہ لوگ ذہنی اور نفسیاتی طور پر سخت قلق اور اضطراب میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے کفر وانکار کی ایک نقد سزا فی الحال بھگت رہے ہیں۔ سو کفر و انکار سراسر خسارہ و وبال ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے -
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

(بہرحال) جس نے بھی کوئی نیک عمل کیا تو وہ اپنے ہی لئے کرے گا اور جس نے کوئی برائی کی تو اس کا وبال بھی خود اسی پر ہوگا اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ کوئی ظلم کرے اپنے بندوں پر

85 اللہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارا رب ایسا نہیں کہ کوئی ظلم کرے اپنے بندوں پر "۔ یعنی { ظلام } مبالغے کا صیغہ یہاں پر کثرت متعلقین ۔ یعنی عبید ۔ کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ ورنہ اللہ پاک تو اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی کوئی ظلم نہیں کرتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّ اللّٰہَ لا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ } ۔ (النسائ : 40) پس نہ تو وہ کسی کو جرم کے بغیر کوئی سزا دیتا ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو وہ یونہی معاف کرتا اور ان سے درگزر فرماتا جاتا ہے ۔ { وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ } ۔ (الشوری : 24) اور نہ ہی وہ جرم سے زیادہ کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ ہی ثبوت و شہادت کے بغیر کسی کو سزا دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان نیکی اور بدی کا جو بھی کوئی کام کرتا ہے اسکا نفع یا نقصان خود اسی کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔ جس کا جو عمل ہوگا اس کے آثار و نتائج وہ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو راہ راست پر لانے کیلئے کوشش کی جا رہی ہے تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ لوگوں کی ہلاکت کے بغیر اس قادر مطلق اور غنی مطلق وحدہ لاشریک کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے بلکہ یہ سب کوشش اور دوڑبھاگ خود لوگوں کے بھلے اور فائدے کیلئے ہے۔ وہ خدائے رحمن یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی پکڑ سے بچ جائیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے عذاب سے بچ کر اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدوعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم1 اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے شگوفے سے اور نہ حاملہ ہوتی ہے کوئی مادہ اور نہ ہی وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اس کے علم سے ہوتا ہے اور جس دن وہ ان کو پکار کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک (جو تم لوگوں نے ازخود ٹھہرا رکھے تھے) ؟ تو یہ (اس کے جواب میں سراپا خجل و ندامت بن کر) کہیں گے کہ ہم تو آپ کی بارگاہ میں عرض کرچکے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقراری نہیں2

86 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم "۔ کہ اس کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ سو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اس کی بہت سی نشانیاں اور علامتیں تو بتادیں۔ اور یہ بھی کہ وہ محرم کے مہینے میں اور جمعہ کے دن قائم ہوگی۔ لیکن کب اور کتنے زمانے اور کتنے سالوں کے بعد ؟ کس محرم اور کون سے جمعہ کے دن وغیرہ ؟ تو ان تمام امور کا علم اللہ پاک کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حدیث جبریل میں صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا ۔ " مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بَاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " ۔ یعنی قیامت کی تعیین کے بارے میں میں بھی تم سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ اور قرآن و سنت کی بیشمار نصوص اس پر متفق ہیں۔ اور یہ مسئلہ قطعی ہے کہ قیامت کا علم اللہ پاک کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کے ایک تحریف پسند کا کہنا ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے حضور کو قیامت کا علم دیا مگر اس کے چھپانے کی تاکید فرمائی کہ یہ اسرار الہیہ میں سے ہے "۔ مگر اس کے لئے نہ کوئی دلیل نہ ثبوت۔ نہ اساس نہ بنیاد۔ محض ایک قول بےثبوت اور دعوائے بےدلیل۔ تو کیا یہ نصوص قرآن و سنت کے مقابلے میں کھلا ہوا مکابرہ اور معارضہ نہیں ؟ ۔ والعیاذ باللّٰہِ واِلَیْہِ الْمُشْتَکٰی ۔ جبکہ جمہور علماء و مفسرین کا کہنا ہے کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی اس کو نہیں جانتا۔ چناچہ یہ حضرات اس طرح اس کی تصریح کرتے ہیں ۔ " ای الیہ وحدہ علم وقت الساعۃ لا یعلمہ احد غیرہ " ۔ یا اس طرح ۔ " لا یعلم وقت الساعۃ بعینہ الا اللہ " ۔ بطور نمونہ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ (روح المعانی، قرطبی، مراغی، محاسن التاویل، کبیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، ابن کثیر اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ اور قرآن کہتا ہے ۔ { وَفِی السَّمَائِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ } ۔ یعنی " آسمان ہی میں ہے تمہاری روزی اور وہ سب کچھ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے "۔ (الذاریات : 44) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْْدَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا اِلَّا ہُوَ } ۔ یعنی " آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب لنگر انداز ہوگی تو ان سے کہو کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اس کو اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا "۔ (الاعراف : 87) وغیرہ وغیرہ۔ اب دیکھیے قرآن و سنت کی نصوص کیا کہتی ہیں۔ جمہور علماء و مفسرین کا کہنا کیا ہے اور اہل بدعت کے یہ تحریف پسند کیا کہتے ہیں۔ 87 بعض آثار و مظاہر قدرت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال علم اور اس کی شان وحدانیت کے بعض اہم مظاہر وآثار کو بیان فرمایا گیا ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے علم الہٰی کی ہمہ گیری اور عظمت شان اور جلالت مقام کے ۔ جَلَّ وَعَلَاشَانہ ۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت اس وحدہ لاشریک خداوند قدوس کو دنیاوی بادشاہوں کے ساتھ تشبیہ دے کر اور ان پر قیاس کرکے اس کے لئے طرح طرح کے شرکیہ وسیلے اور واسطے گھڑتے اور تجویز کرتے ہیں۔ اور اس طرح شعوری یا لاشعوری طور پر وہ طرح طرح کے شرک اور شرکیات کے دروازے کھولتے ہیں ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم وتعالی اللّٰہ عَمَّا یقولون عُلُوًّا کبیرًا ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کے کمال علم اور وحدانیت مطلقہ کے بعض اہم مظاہر ہیں جو اس کے سوا اور کسی میں پائے جانے ممکن ہی نہیں۔ اس لیے وہ ہر لحاظ سے یکتا و بےمثال اور ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے پاک اور اس سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کو مخلوق اور دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لیے وسیلے اور واسطے گھڑنا گمراہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کو ویسے مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا ان کے رسول بتائیں جن کے پاس اس کی طرف سے وحی آتی ہے۔ سلامتی کی راہ یہی اور صرف یہی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 88 یوم قیامت کی تذکیر و یاددہانی اور مشرکوں کی تذلیل وتقبیح : سو اس یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور یاد کرو اس دن کو جس دن کہ وہ مشرکوں سے پکار کر فرمائے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم لوگوں نے ازخود گھڑ رکھے تھے ؟ "۔ اور جن کو تم لوگ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے۔ اور انہی پر تمہارا بھروسہ اور اعتماد تھا۔ آج وہ کہاں گئے ؟ اور آج تم ان کو کیوں نہیں پکارتے ؟ کہ اس مشکل وقت میں وہ تمہارے کام آسکیں۔ مگر کہاں اور کیونکر ؟ کشف حقائق کے اس جہاں میں اور ہر چیز کی اصل حقیقت سامنے آجانے کے اس موقع پر وہ ان کو کیسے پکار سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج دنیا کی اس فرصت عمل میں شریک لوگ اس حق اور حقیقت سے غافل و بیخبر اور شرک میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف رسوائی کے اس ہولناک دن میں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کیلئے انکو پکار کر یوں فرمایا جائے گا ۔ سبحان اللہ !۔ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر کتنا بڑا کرم اور کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے اس جہان غیب میں پیش آنے والے ان عظیم الشان حقائق سے دنیا کو پیشگی اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ آگاہ و خبردار فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے اور کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے خبر نہ ہوئی تھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکوں کی اس نامرادی کو آشکارا فرما دیا گیا جس سے انکو اس جہاں میں سابقہ اور واسطہ پڑے گا کہ انہوں نے جن خودساختہ سہاروں اور آسروں پر اعتماد کرکے آخرت اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کر رکھا تھا اس روز وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور انکو یقین ہوجائے گا کہ اب ان کیلئے خدا کے عذاب سے کوئی مفر ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 89 مشرکوں کا قیامت کے روز اپنے شرک سے اعلان براءت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز جب ان سے ان کی تذلیل و تقریع کے لیے اس طرح کہا جائے گا تو اس کے جواب میں یہ لوگ اپنے شرک کا صاف اور صریح طور پر انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم آپ کی بارگہ میں عرض کرچکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقراری نہیں۔ حضرات مفسرین کرام میں سے بعض نے اس کو اپنے مزعومہ شرکاء کا قول قرار دیا ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ مشرکوں سے یہ مطالبہ کرے گا کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم لوگوں نے میرا شریک ٹھہرا رکھا تھا تو اس پر وہ جن یا ملائکہ یا انبیاء یا صالحین جن کی انہوں نے پرستش کی ہوگی وہ سبقت کر کے اپنی صفائی پیش کریں گے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا گواہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ سو اس طرح یہ وہی مضمون ہے جو سورة فرقان کی آیت نمبر 17-18 میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ اس روز شرک کے اس جرم اکبر کا صاف وصریح طور پر انکار کردیں گے جس میں یہ عمر بھر مبتلا رہے تھے اور اللہ پاک کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک تھے ہی نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاللّٰہِ مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ } ۔ (الانعام : 23) مگر بےوقت کے اس انکار کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کاش کہ یہ حقیقت ان کو دنیا کے اس دارالعمل میں سوجھ جاتی تو اس یوم حساب میں ان کی یوں رسوائی نہ ہوتی اور ان کو یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور کھو چکے ہوں گے ان سے وہ سب (معبودان باطلہ) جن کو یہ لوگ اس سے پہلے (پوجا) پکارا کرتے تھے اور ان کو یقین ہوچکا ہوگا کہ اب ان کے لئے کسی بھی طرح کا کوئی چھٹکارا نہیں

90 مشرکوں کے انجام اور ان کی یقینی محرومی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کھوجائیں گے ان سے ۔ انکے وہ سب حاجت روا و مشکل کشا ۔ جن کو یہ لوگ پکارا کرتے تھے "۔ اور وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ اور ان کے مشرکانہ فلسفوں اور خود ساختہ مفروضوں اور ڈھکوسلوں کا وہ سارا جال مٹ چکا ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اپنے کاروبار شرک کو چلانے کے لئے پھیلا اور بچھا رکھا تھا۔ اور ان کا وہ سارا طلسم ہَبَائً مَّنْثُوْرًا ہوچکا ہوگا جس کے ذریعے یہ جاہل لوگوں کو طرح طرح سے اپنے دام تزویر میں پھانسا کرتے تھے کہ صاحب یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی سب انہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ " ہماری انکے آگے اور ان کی خدا کے آگے "۔ " وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا "۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکوں کے انجام بد اور ان کی یقینی اور قطعی محرومی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو اس روز عابد اپنے معبودوں سے اور معبود اپنے عابدوں سے اظہار براءت کریں گے۔ مشرکوں کے سب سہارے ختم ہوچکے ہوں گے اور ان کی حسرت و مایوسی کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مایوسی سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی مانگتے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو یہ بالکل مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے

91 انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان بھلائی مانگتے نہیں تھکتا۔ جیسے مال و دولت، حکومت و اقتدار اور روپیہ پیسہ وغیرہ وغیرہ کہ ان چیزوں کے مانگنے اور چاہنے سے یہ نہ کبھی سیر ہوتا ہے اور نہ اس کی آنکھ بھرتی ہے۔ اور نہ کسی سٹیج اور کسی مرحلے پر یہ اس سے دستکش ہوتا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ عام طور پر مفسرین کرام اس آیت کریمہ کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں۔ اور ظاہر اور متبادر بھی یہی ہے۔ لیکن یہ بات تجربے اور مشاہدے کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ عام تجربہ و مشاہدہ یہی ہے کہ اس طرح کے بہکے بھٹکے اور بگڑے ہوئے لوگوں کا سفینہ جب تک رواں دواں ہوتا ہے یہ کبھی خدائے پاک کی طرف متوجہ ہوتے ہی نہیں۔ بلکہ اپنی عیش و عشرت اور اپنی لن ترانیوں میں مست اور محو و مگن رہتے ہیں۔ البتہ جب ان کی کشتی کسی بھنور میں پھنستی ہے تو انکو خدا یاد آتا ہے۔ اور اس وقت یہ خود بھی بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتے ہیں اور دوسروں سے بھی ایسی دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں۔ لیکن جب کشتی بھنور سے باہر آجاتی ہے تو اس وقت یہ خدا کو بھول جاتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتے اور شرکیات کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔ اور اگر مصیبت ذرا دراز ہوگئی تو یہ مایوس اور ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں اور اپنی آس توڑ دیتے ہیں۔ جیسا کہ سورة یونس آیت نمبر 12 اور آیت نمبر 22 اور 23 اور سورة لقمن آیت نمبر 32 وغیرہ مختلف مقامات پر اس کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ سو یہ انسان بڑا ہی تنگ ظرف واقع ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تنگ ظرفی اور ناشکری سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 92 تنگ ظرف انسان کا حال مصیبت کے موقع پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو یہ مایوس ہوجاتا ہے "۔ جیسے کوئی بیماری آگئی۔ مال و دولت میں کوئی نقصان ہوگیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور مادئہ و معدہ کے پیچھے چلنے والے انسان کی نفسیات ہمیشہ یہی رہی ہے۔ کل بھی اس کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ یہ دنیائے دوں اور اس کے مادی فوائد و مصالح ہی اس کا منتہاء مقصود اور اصل متاع ہیں۔ یہ انہی کے لئے جیتا اور انہی کے لئے مرتا ہے۔ جبکہ مومن صادق کے نزدیک یہ پوری دنیا بھی پرکاہ کی حیثیت نہیں رکھتی ۔ سبحان اللہ !۔ کتنا بڑا فرق ہے ان دونوں قسم کے انسانوں کے درمیان اور کس قدر رفعت و عظمت والی شان ہے بندئہ مومن کی شان ۔ فالحمد للّٰہ الذی شَرَّفَنَا بنعمۃ الایمان والیقین اللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہ وَثَبَّتْنَا عَلَیْہِ فی کل موطنٍ من المواطن و بکل حالٍ مِّنَ الاحوال یا ذا الجلال والاکرام ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے تنگ ظرف انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو یہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے اور بڑے بڑے پختہ عہد کرتا ہے کہ اگر اس گرفت و پکڑ سے نجات مل جائے تو میں اپنے رب کا بڑا شکرگزار بندہ بن جاؤنگا۔
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر ہم اسے اپنی طرف سے کسی رحمت (و مہربانی) کا کوئی مزہ چکھا دیں اس تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچ چکی ہوتی ہے تو یہ (ب پھر کر) کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرے ہی لئے ہے میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے اور اگر کہیں واقعۃً مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا بھی پڑگیا تو یقینا وہاں بھی میرے لئے بھلائی ہی ہوگی اور ہم ضرور بتادیں گے کافروں کو ان کے وہ سب کام جو انہوں نے (زندگی بھر) کئے ہوں گے اور ہم ان کو ضرور مزہ چکھا کر رہیں گے ایک بڑے ہی سخت عذاب کا

93 تنگ ظرف انسان کی مایوسی اور نا امیدی کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ مایوس ہوجاتا ہے "۔ اور اس موقع پر وہ پچھلی اور باقی تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور آئندہ کے لئے آس توڑ بیٹھتا ہے۔ سو کتنا تنگ ظرف اور کس قدر تھڑدلا اور ناشکرا و بےانصاف ہے ایمان و یقین کی دولت سے محروم یہ مادئہ و معدہ پرست انسان ۔ والعیاذباللّٰہِ العزیز الرحمن ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کی صورت میں انسان کو دنیا ملے تو بھی عذاب کہ اس سے وہ تکبر اور انانیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور اگر نہ ملے تو بھی عذاب کہ اس سے وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس تنگ ظرف انسان کے طبعی اور فطری خاصے کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو یہ انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ اگر اس کو نعمت و رفاہیت حاصل ہوجائے تو یہ حضرت واہب مطلق ۔ جل وعلا شانہ ۔ کا ممنون اور احسان مند ہونے کی بجائے اکڑنے اور اترانے لگتا ہے اور عذاب کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔ لیکن اگر اس قادر مطلق کی طرف سے ذرا سی پکڑ میں آجائے تو اس سے چھوٹنے کے لیے یہ لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ اگر اس کو اس گرفت سے رہائی مل گئی تو یہ ہمیشہ اپنے رب کا شکر گزار ہوگا لیکن جب اس کو اس سے رہائی مل جاتی ہے تو پھر یہ ان ہی خرمستیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جن میں اس سے پہلے مبتلا ہوتا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 94 تنگ ظرف انسان کا منتہائے مقصود متاع دنیا اور بس : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تنگ نظر اور مادہ پرست انسان کا منتہائے مقصود متاع دنیا ہے اور بس۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی کسی انسان کو ملتا ہے وہ محض چکھنے کے طور پر ہوتا ہے۔ اول تو اس لئے کہ وہ جتنا بھی کچھ ہو اس دنیا میں سے کچھ اور اس کا ایک معمولی حصہ ہی ہوتا ہے۔ اور وہ بھی عارضی طور پر اور ایک محدو و فرصت کے لئے۔ جبکہ یہ دنیا پوری بھی آخرت کی ابدی اور حقیقی نعمتوں کے مقابلے میں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ پھر کتنا بدنصیب اور کس قدر محروم القسمت ہے وہ انسان جو اس دنیا کے ان معمولی اور عارضی فائدوں پر قانع ہو کر آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی نعیم مقیم کو بھول جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے دنیاوی مال و متاع کی بےحقیقتی واضح ہوجاتی ہے۔ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ بہرحال ایسے ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دیگ سے کچھ دانے چکھنے کے لیے لیے جائیں۔ سو دیگ کے ان چند دانوں پر مست ہوجانا پرلے درجے کی حماقت نہیں تو اور کیا ہے ؟ جبکہ آخرت کی نعمتیں اصل اور حقیقی بھی ہیں اور ہمیشہ رہنے والی اور دیرپا بھی ۔ { وَلَلآخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی } ۔ دنیا سے کہیں بڑھ کر بہتر بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والی بھی۔ سو دنیا کے چند روزہ فائدوں پر قانع ہو کر آخرت کو بھول جانا بڑا ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 95 تنگ ظرف اور کوتاہ نظر انسان کے غلط پندار کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تکلیف کے بعد جب اس کو کوئی رحمت ملتی ہے تو یہ کہتا ہے کہ یہ تو ہمارے ہی لیے ہے "۔ یعنی میں اس کا حقدار اور اس قابل تھا کہ یہ نعمت مجھے ہی ملتی۔ اور میں نے یہ اپنی لیاقت و قابلیت اور وہشیاری و چالاکی کی بنا پر حاصل کی ہے۔ اور یہ میرے پاس ہمیشہ رہے گی وغیرہ وغیرہ۔ ابنائے دنیا کا یہی حال کل تھا اور یہی آج ہے۔ جبکہ مومن صادق کی شان اس سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی ہر حالت خیر ہی خیر ہوتی ہے ۔ والتَّفصِیْلُ فی الْمُفَصَّل ان شاء اللّٰہ العزیز۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایمان و یقین کی دولت سے محروم تنگ ظرف اور کوتاہ نظر انسان کے اس غلط پندار کو آشکارا فرمایا گیا ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ اپنے کسی فضل و کرم سے نوازتا ہے تو یہ اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھنے کی بجائے اپنی لیاقت اور قابلیت کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس طرح ایسا انسان حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کا شکر ادا کرنے کے شرف سے محروم ہوجاتا ہے جو کہ ایک بڑا ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت ہر خوبی و خیر کی اصل اور اساس ہے جبکہ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 96 متاع دنیا کا ایک خطرناک پہلو : سو اس ارشاد سے دنیاوی مال و دولت کا ایک بڑا خطرناک پہلو سامنے آتا ہے کہ اس سے اہل باطل اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اس طرح وہ حق سے مزید دور اور محروم ہونے لگتے ہیں کہ ایسا انسان اپنے متاع دنیا کی بنا پر کہنے لگتا ہے کہ میں حق پر ہوں کہ جب مجھے دنیا میں یہ اور یہ کچھ ملا ہوا ہے تو میں ٹھیک ہوں اور میرا راستہ ہی صحیح ہے۔ سو دنیاوی مال و دولت اور مادی ترقی و عروج کا یہ پہلو بہت خطرناک اور بذات خود ایک عذاب اور دائمی محرومی کا پیش خیمہ ہوتا ہے کہ اس طرح اہل باطل اپنے معاملہ کو صحیح سمجھتے ہوئے نور حق و صداقت سے اور زیادہ دور اور محروم ہوتے چلے جاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا اور حقیقی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ نصوص کتاب و سنت کے مطابق نہ دنیاوی مال و دولت کا مل جانا کسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب و مقبول ہونے کی دلیل بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کا نہ ملنا اس کے یہاں مردود و مطرود ہونے کی علامت۔ بلکہ یہ سب کچھ دراصل انسانی ابتلاء و آزمائش کے لئے مختلف پرچوں کی طرح ہوتا ہے جس کو انسان نے اپنے عقیدئہ و عمل اور اخلاق و کردار کے ذریعے حل کرنا ہوتا ہے۔ جس کا صلہ و بدلہ اس کو آخرت کی اپنی دائمی اور ابدی زندگی میں پانا ہوتا ہے ۔ ان خیراً فخیراً وان شرا فشراً ۔ سو اصل دولت دین و ایمان کی دولت ہے نہ کہ دنیاوی اور مادی مال و دولت۔ پس کسی کو دنیاوی مال و دولت کی بنا پر کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ { فَلاَ یَغُرَّنَّکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَلاَ یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہِ الْغَرُوْرِ } -
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے

97 مادہ پرست انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے دولت ایمان سے محروم مادہ پرست انسان کے اعراض و استکبار کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو یہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم مادہ پرست انسان کی تنگ ظرفی اور اس کی نفسیات کے ایک اور مظہر کا ذکر وبیان ہے کہ جب اس کو دنیائے دوں کی کوئی نعمت ملتی ہے تو یہ اس پر اکڑ جاتا ہے اور مست ہوجاتا ہے۔ اور جب اسے کوئی تکلیف اور مصیبت آتی ہے تو یہ ٹائیں ٹائیں فش ہو کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے اور ہزار ہزار دانے کی تسبیح رولنے لگتا ہے۔ کل بھی اس کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے کہ اس کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی نعمت و تکلیف ہی سب کچھ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ مومن صادق کی شان نعمت اور تکلیف کی ان دونوں حالتوں میں اس سے یکسر مختلف اور اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے کہ وہ نعمت ملنے پر سراپا سپاس بن کر دل و جان سے اپنے خالق ومالک کا شکر بجا لاتا اور اس کے حضور جھک جاتا ہے۔ اور تکلیف و مصیبت آنے پر۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ اجر وثواب کی نیت سے صبر و برداشت سے کام لیتا ہے۔ سو اس طرح اس کی نعمت بھی اس کے لئے خیر بن جاتی ہے اور اس کی تکلیف اور مصیبت بھی۔ سو ایمان و یقین کی دولت سب خوبیوں اور جملہ کمالات کی اصل اصیل اور اساس متین ہے۔ اور اس سے محرومی سب خرابیوں اور تمام مفاسد و مہالک کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے ایسے تنگ ظرف اور کوتاہ نظر انسان کے اعراض و استکبار کا ایک مظہر و نمونہ پیش فرمایا گیا ہے کہ ایسے سفلہ لوگوں کو جب ہم کسی انعام سے نوازتے ہیں تو ایسے لوگ غرور و استکبار میں مبتلا ہو کر ہم سے اعراض کرتے اور منہ موڑ لیتے ہیں۔ اور اگر یہ ہماری کسی گرفت میں آجائیں تو یہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ سو انکے اس طنطنے کی کوئی اساس و بنیاد نہیں بلکہ ایسے تنگ ظرف لوگ ذرا میں بہک جانے والے اور ذرا ہی میں بلبلا اٹھنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ تم اتنا تو سوچو کہ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو تو پھر بھی اگر تم لوگ اس کا انکار ہی کرتے رہے تو اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور نکل گیا ہو ؟1

98 منکرین کے دل و دماغ پر زوردار دستک : سو اس ارشاد سے قرآن حکیم کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کیلئے منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک زوردار دستک دی گئی ہے۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر گمراہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ایسا انسان سب سے بڑا ظالم اور بدبخت انسان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں قرآن حکیم کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کیلئے منکرین و مکذبین کے دل و دماغ کو ایک زوردار دستک دی گئی ہے کہ جو دعوت یہ کتاب حکیم تم لوگوں کو دے رہا ہے، اس کے بارے میں تم لوگ سوچو اور اس کے عواقب و نتائج پر صحیح طریقہ سے غور کرو کہ جو دعوت یہ قرآن اس دنیا کو دے رہا ہے وہ ایسے ٹھوس اور معقول دلائل پر مبنی ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور وہ ایسے ٹھوس، پختہ اور واضح دلائل ہیں کہ انکو کسی بھی طرح رد نہیں کیا جاسکتا۔ اور کم سے کم بات یہ ہے کہ یہ لوگ اگر اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی دعوت کو صدق دل سے اپنائیں گے تو اس سے یہ بہت کچھ پائیں گے اور ضرور پائیں گے۔ مگر کھوئیں گے کچھ بھی نہیں۔ لیکن اگر اس سے منہ موڑیں گے تو نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر بہت دور کی گمراہی اور ہلاکت و تباہی میں پڑیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو صحیح غور وفکر سے انسان کے دل و دماغ کو روشنی ملتی ہے اور اس کو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق - 99 قرآن سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ ہولناک تباہی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " اس سے بڑھ کر گمراہ اور کوئی نہیں ہوسکتا جو قرآن سے دور کی گمراہی میں پڑا ہو "۔ جس کی بنا پر وہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہو۔ اور یہ بیماریوں کی بیماری اور محرومی کی انتہاء ہے کہ نور حق و ہدایت سے محرومی دارین کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ لوگ اگر محض ضد اور ہٹ دھرمی اور عداوت و دشمنی کی بنا پر اسکا انکار ہی کریں گے تو یہ مخالفت و محرومی اور اس کے نتیجے میں ہلاکت و تباہی کے ایسے ہولناک گڑھے میں جاگریں گے کہ پھر ان کیلئے اس سے نکلنے اور لوٹنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔ اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 41:53–54

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھاتے جائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کی اپنی جانوں میں بھی یہاں تک کہ ان کے سامنے یہ حقیقت پوری طرح کھل جائے کہ یہ (قرآن) قطعی طور پر حق ہے کیا یہ بات کافی نہیں کہ تمہارا رب ہر چیز پر گواہ ہے ؟

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات (اور اس کے حضور پیشی) کے بارے میں شک میں پڑے ہیں آگاہ رہو کہ وہ ہر چیز کا پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے2

100 صداقت و حقانیت قرآن کی نشانیاں آفاق وانفس میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو دکھاتے جائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور انفس میں بھی "۔ ۔ { سنریہم } ۔ کا صیغہ استقبال اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی ہم آئندہ ان کو ایسی نشانیاں دکھاتے جائیں گے اور مرور ایام کے ساتھ ساتھ وہ ان کے سامنے کھلتی اور نکھرتی چلی جائیں گی جس سے اس کلام حق کی حقانیت و صداقت ان کے سامنے واضح ہوتی چلی جائے گی۔ چناچہ ایسے ہی ہوا ہے۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ کتنے ہی ایسے انکشافات انسان کے سامنے ہوئے اور ہو رہے ہیں جن سے اس کلام حق و صدق ترجمان کی صداقت و حقانیت نکھرتی گئی اور نکھرتی جا رہی ہے۔ اور کتنے ہی ایسے انکشافات ہوں گے جو آئندہ ظاہر ہوں گے۔ اور حق و صداقت کے اس نور میں اور نکھار اور جلا پیدا کرتے جائیں گے ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ربِّ العلمین ربِّ السَّمٰوَات والارضین ۔ سو اس عظیم الشان حقیقت کے اظہار وبیان میں جہاں ایک طرف پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے توسط سے جملہ اہل حق کیلئے یہ خوشخبری ہے کہ یہ کتاب قطعی طور پر حق اور سچ ہے وہیں دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کیلئے تہدید و وعید بھی ہے کہ ان کیلئے خیر اور بہتری بہرحال اسی میں ہے کہ وہ اس پر صدق دل سے ایمان لے آئیں اور اس کی عظمتوں کے آگے جھک جائیں۔ ورنہ ان کیلئے ہمیشہ کی ذلت اور محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 101 غلبہ حق کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ بات کافی نہیں کہ تمہارا رب ہر چپز پر گواہ ہے ؟ " ۔ بلی یا رب۔ ہاں اے ہمارے مالک آپ کی گواہی کافی ہے۔ بلکہ کفایت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ سب سے بڑی اور سب سے سچی گواہی ہے۔ اور جب رب نے اپنے رسول کی حقانیت اور اپنے کلام حق و صدق ترجمان کی صداقت کی گواہی دے دی اور طرح طرح سے دے دی تو پھر اور کسی کی گواہی کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ؟ سو کوئی مانے یا نہ مانے، یہ بات بہرحال قطعی طور پر حق اور سچ ہے کہ آپ ﷺ اے پیغمبر اللہ کے سچے رسول ہیں۔ سو اس میں غلبہ حق کی بشارت ہے۔ کیونکہ اس کتاب حکیم کے ذریعے لوگوں کو غلبہ حق کی جو بشارت دی جا رہی ہے وہ اگرچہ مستقبل سے متعلق ہے لیکن حق تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ اس لیے اہل حق کو مطمئن ہونا چاہیے کہ اس کتاب حکیم کی ہر بات بہرحال پوری ہوگی۔