41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

پس تمہارے اسی گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم رکھا تھا تم کو تباہ کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے تم ہوگئے (ابدی) خسارے والوں میں سے1

39 رب کے بارے میں بدگمانی کا نتیجہ ابدی خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب کے بارے میں بدگمانی کا نتیجہ ابدی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنے رب کے بارے میں تمہارا پہلے ہی وہ گمان تھا جس نے تم لوگوں کو ہلاک کردیا اور تم دائمی خسارے میں پڑ کر رہے "۔ سو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس سے زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تم لوگ اپنے اس گمان فاسد کی بنا پر اپنے رب کی نافرمانی کرتے اور اعمال صالحہ کی دولت سے محروم ہوتے رہے جس کی وجہ سے تم جنت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہو کر ہمیشہ کے خسارے میں پڑگئے۔ اور یہ ایسا سخت اور اس قدر ہولناک خسارہ ہے جس کی تلافی اور تدارک کی اب کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی بری سوچ برے ارادے اور ہر نوع کے خسارے اور برے عمل سے ہمیشہ محفوظ اور بچا کر رکھے ۔ آمِیْنَ ثَمَّ اٰمِیْنَ یَا رب العالمین ۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے جو معاصی وذنوب سب کا ارتکاب لگاتار کرتے جاتے تھے مگر ان سے توبہ نہیں کرتے تھے۔ اور انہوں نے یونہی اپنی مغفرت اور بخشش کا تکیہ کر رکھا تھا۔ پھر آپ ؓ نے اس موقع پر یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنے رب کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پھر اگر وہ لوگ (اس حالت پر) صبر کریں تو بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی چاہیں گے تو بھی ان کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی

40 منکروں کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اگر صبر کریں ۔ یا بےصبری ۔ ان کا ٹھکانا بہرحال دوزخ ہی ہے "۔ اگر وہ معافی مانگیں گے تو ان کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں پر نہ انکا کوئی عذر قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو کوئی معافی ملے گی ۔ سبحان اللہ !۔ دنیا میں تو اپنے رب کو منوانے اور راضی کرنے کے لئے طرح طرح سے ترغیب دی جا رہی ہے کہ آج اس کا موقع ہے اور وہاں پر وہ منوانے اور راضی کرنے کے لئے اس قدر بڑے جتن بھی اگر کریں گے تو بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں میسر ہے اور جو دراصل آخرت کمانے ہی کے لئے عطا فرمائی گئی ہے کس قدر قیمتی اور کتنی عظیم الشان نعمت ہے ۔ اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس فرصت زندگی سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود و مختصر کو بغاوت و سرکشی میں گزارا ہوگا اور وہ اس میں توبہ اور رجوع الی اللہ کی توفیق وسعادت سے محروم رہے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہاں ان کیلئے معافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ بلکہ انکو ہمیشہ اسی ہولناک عذاب میں رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر بھی اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ۔ { َسوَائٌ عَلَیْنَا اَ جَزِعْنَا اَمْ صَبَرْنَا مَالَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ } ۔ (ابراہیم : 21) یعنی " ہم خواہ صبر کریں یا بےصبری اور جزع و فزع ہمارے لیے رہائی اور گلو خلاصی کی بہرحال اب کوئی صورت ممکن نہیں "۔ سو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس سے زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 41:25–27

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے مقرر کر دئیے تھے ان لوگوں پر (ان کے اپنے سوء اختیار اور خبث باطن کی بنا پر) ایسے ساتھی جنہوں نے مزین (و خوشنما) بنادیا تھا ان کے لئے وہ سب کچھ جو کہ ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا اور پکی ہوگئی ان پر (وعدہ عذاب سے متعلق) ہماری وہ بات جو کہ پکی ہوگئی تھی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے بارے میں جو کہ گزر چکے ہیں ان سے پہلے بیشک یہ سب لوگ قطعی طور پر خسارے والے تھے2

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر لوگ (آپس میں) کہتے ہیں کہ مت سنو تم اس قرآن کو اور تم شور مچاؤ اس میں (جب کہ یہ سنایا جائے) شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم ضرور مزہ چکھا کر رہیں گے کافروں کو ایک بڑے سخت عذاب کا اور ہم ضرور بدلہ دے کر رہیں گے ان کو ان کے ان برے کاموں کا جو یہ کرتے رہے تھے

41 برائی کی ایک نقد سزا، برے ساتھیوں کا تسلط ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کی برائی کا نتیجہ وانجام اور برائی کی ایک نقد سزا برے ساتھیوں کا تسلط ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو اس ارشاد سے خداوند قدوس کی اس سنت کو واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کیلئے برے ساتھیوں کا غلبہ و تسلط اور ان کی ان کیلئے تزیین و تحسین انکے عمل کا طبعی نتیجہ وثمرہ ہے۔ یعنی ہمارا قانون اور ضابطہ یہی ہے کہ جو لوگ ہماری تعلیمات سے منہ موڑ کر دنیا اور اس کی لذات ہی کے اسیر و غلام بن کر رہ جاتے ہیں ان پر ان کے ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جاتے ہیں جو ان کیلئے ان کی برائیوں کو بھی اچھائیوں کی شکل میں دکھاتے جاتے ہیں۔ جس سے ایسے لوگ باطل اور دوزخ کی راہ پر بےفکر اور لاپروا ہو کر چلتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے یہ ساتھی خواہ شیاطین الجن میں سے ہوں یا شیاطین الانس میں سے۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ ہر بدکار شخص اپنی بدکاری میں مست و مگن ہے خواہ وہ کوئی کافر و منافق ہو یا بت پرست و قبر پرست یا صحابہ کرام کا دشمن۔ کوئی تبرائی ہو۔ کوئی کھلم کھلا کافر و منکر ہو یا چھپا ہوا منافق وغیرہ وغیرہ۔ ہر کوئی اپنے کفر و باطل اور ضلالت وغوایت کی راہ کو ہی ٹھیک اور درست سمجھتا ہے اور وہ ہلاکت و تباہی کی اسی راہ کو اچھا کہتا اور سمجھتا ہے جس پر وہ چل رہا ہوتا ہے اور اس کی حمایت میں وہ لڑتا، اس کے لئے دلائل پیش کرتا اور اس کی دعوت دیتا ہے۔ اور اپنی غلطی اور گمراہی کو ماننے کے لئے وہ کبھی تیار نہیں ہوتا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فِرَحُوْنَ } ۔ (الروم : 32) ۔ والعیاذ باللّٰہ مِنْ کل سُوْئٍ وَفَتِنَۃٍ وَّزَیْغِ وَّضلال ۔ سو جب کوئی قوم اپنے سوئِ اختیار اور خبث باطن کی بنا پر ایسے شیطانوں کو اپنے اوپر مسلط کردیتی ہے تو وہ انکو طرح طرح کے ایسے سبز باغ دکھاتے ہیں کہ یہ انکے چنگل سے نکل ہی نہیں پاتے۔ اور یہ شیاطین اس وقت تک ان کی جان نہیں چھوڑتے جب تک کہ وہ انکو عذاب الہی میں گرفتار نہ کروا لیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 42 منکروں پر عذاب کی بات پکی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان پر پکی ہوگئی ہماری بات "۔ یعنی وعدئہ عذاب کی وہ بات جو طے ہوچکی تھی ان ظالموں کیلئے جو کہ اڑے رہے اپنے کفر و باطل پر۔ اور اس کے نتیجے میں وہ قہر خدا وندی کے مورد بنے اور عذاب دوزخ کا شکار ہو کر ہمیشہ کی ناکامی اور نامرادی میں مبتلا ہوئے کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف سب کے لئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سو جس جرم کی پاداش میں پہلے کے وہ لوگ اپنے اس انجام کو پہنچے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنادیا تھا، اسی جرم کا ارتکاب اب اگر یہ لوگ کریں گے تو ان کو بھی وہی بھگتان بھگتنا ہوگا جو وہ لوگ بھگت چکے ہیں۔ پس وقت کے ان باغیوں اور سرکشوں کو باز آجانا چاہیئے اپنی روش سے اور اصلاح کرلینی چاہیئے اپنے رویے کی قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو ان لوگوں کے ان شیطان صفت لیڈروں اور ان گمراہ ساتھیوں نے انکے سامنے ماضی اور حال کو اس طرح مزین اور خوشنما بنا کر پیش کیا کہ انکو اپنے اعمال و کردار اور عقائد و نظریات میں کسی طرح کی کوئی خرابی نظر نہیں آتی تھی۔ اور اس طرح ایسے لوگ انبیاء و مصلحین کی تنبیہ و تذکیر سے منہ موڑ کر اسی راہ پر چلتے رہے جس پر ان کے یہ گمراہ لیڈر اور گرو انکو چلانا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ اپنی ہلاکت اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 43 سب سے بڑے خسارے کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین سے محرومی سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک یہ لوگ قطعی طور پر خسارے والے تھے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا آج کے غافل و بیخبر اور متکبر لوگوں کو اس سے درس عبرت لینا اور ہوش میں آجانا چاہیئے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور یہ کل کے ان منکروں اور سرکشوں کی طرح ہوجائیں جنہوں نے اپنی فرصت حیات کو کفر و باطل کے اندھیروں میں ضائع کردیا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ بدنصیب ابدی خسارے اور دائمی عذاب میں مبتلا ہوگئے جس سے نکلنے اور بچنے کی اب کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی اور یہی سب سے بڑا حقیقی اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دولت ایمان و یقین سے محرومی سب سے بڑی محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اور حق و ہدایت اور ایمان و یقین کی اس دولت سے محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب اللہ تعالیٰ کی یاد دلشاد سے محرومی و غفلت اور اس کے نتیجے میں بروں کی رفاقت و سنگت ہے جو کہ خدائے رحمن کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے اعراض و روگردانی کے لازمی نتیجے کے طور پر انسان پر مسلط ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ } ۔ یعنی " جو کوئی خدائے رحمان کی یاد دلشاد سے اندھا بن جاتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں۔ پھر وہی اس کا ساتھی بن کر رہ جاتا ہے "۔ (الزخرف : 36) ۔ سو ذکر و یاد خداوندی سے آنکھیں بند کرنا شیطان کو اپنے اوپر مسلط کردینا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر خسارے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا یعنی وہ دوزخ جس میں ان کے لئے ہمیشہ رہنے کا گھر ہوگا اس جرم کے بدلے میں کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے

46 انکار حق کا نتیجہ وانجام دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی آیتوں کے انکار کا بدلہ دوزخ کی ہولناک آگ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار اور دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے اعراض و روگردانی بیماریوں کی بیماری اور تمام مفاسد و مہالک اور خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا ۔ اور جن کفار کو دوزخ کی اس ہولناک آگ میں ہمیشہ کے لئے رہنا اور جلنا ہے ان کو اگر دنیا ساری کی دولت و حکومت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا کہ ان کا نتیجہ و انجام تو بہرحال یہ ہونا ہے۔ اور دنیا اور اس کی ہر نعمت بہرحال عارضی اور فانی ہے ۔ فَخُذْنَا بَنَوَاصِیْنَا یَا رَبَّنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبّکَ وَرِضَاکَ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کفر کے سرغنوں کا انجام یہ ہوگا کہ انکو دوزخ کی اس ہولناک آگ میں ہمیشہ کیلئے رہنا ہوگا کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا۔ نہ وہ خود ان کی طرف متوجہ ہوئے اور نہ دوسروں کو ان کی طرف متوجہ ہونے دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ کی آیتوں کا انکار جرموں کا جرم اور محرومیوں کی محرومی ہے اور اس جرم کا انجام بڑا ہی وخیم اور انتہائی ہولناک ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار اور اس کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس سے انسان کا زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ انکار حق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور (وہاں پہنچ کر) کافر لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ذرا دکھا دے ان جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا کہ ہم ان کو ڈال دیں اپنے قدموں کے نیچے (روندنے کو) تاکہ وہ سب سے نیچے (اور خوب ذلیل و خوار) ہوجائیں

47 گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں کے خلاف غیظ وغضب کا ایک منظر : سو اس سے عوام کے اپنے گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں کے خلاف غیظ و غضب کا ایک منظر سامنے آتا ہے۔ سو اس ارشاد سے آخرت کے اس جہاں میں عوام الناس کافروں کے اپنے لیڈروں کیخلاف غیظ و غضب اور غم و غصے کا ایک منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ وہاں پر اپنا ہولناک انجام دیکھنے کے بعد اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ان جنوں اور انسانوں کو دکھا دے تاکہ ہم ان کو اپنے پاؤں تلے روند کر ان سے انتقام لے سکیں کہ انہی کی وجہ سے ہمیں یہ روز بد دیکھنا پڑا اور اس انجام سے دو چار ہونا پڑا۔ مگر ان کے اس بےموقع کے غصے اور افسوس کا ان کو بہرحال کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت کی باطنی آگ اور جلن میں اضافے اور اس کی تیزی کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کتنا احسان ہے قرآن حکیم کا پوری دنیا انسانیت پر کہ اس نے لوگوں کو ایسے عظیم الشان غیبی حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اس دنیا ہی میں آگاہ کردیا ہے۔ تاکہ جنہوں نے بچنا ہو وہ بچ جائیں اور وہ اپنی عاقبت و انجام کی فکر کرلیں قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ مختصر و محدود فرصت ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ لیکن کتنا ظالم اور نا شکرا ہے یہ انسان جو اس سب کے باوجود اس کتاب حکیم اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج جو عوام اس وفاداری کے ساتھ اپنے ان گمراہ لیڈروں کی پیروی کرتے ہیں کل جب یہ وہاں پر دیکھیں گے کہ انہوں نے انکو کس گھاٹ پر اتارا ہے تو اس وقت انکا حال یہ اور یہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس سے زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 41:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر اترتے ہیں (رحمت و بشارت کے) فرشتے (اس خوشخبری کے ساتھ) کہ نہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ اور خوش ہوجاؤ تم اس جنت (کے ملنے) سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے1

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم تمہارے ساتھی (اور دوست) ہیں دنیا کی اس (عارضی) زندگی میں بھی اور آخرت کی اس (حقیقی اور ابدی) زندگی میں بھی اور تمہارے لئے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے جی چاہیں گے اور وہاں تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی تم (طلب و) تمنا کرو گے

48 سعادت دارین سے سرفرازی کے ذریعے کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے سچے دل سے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے "۔ یعنی جو سچے دل سے اپنے خالق ومالک کی الوہیت و ربوبیت پر ایمان لائے اور انہوں نے دل کی تصدیق کے ساتھ ساتھ زبان سے اس کا اظہار و اقرار بھی کیا۔ ان کے لئے یہ بشارتیں ہیں۔ سو مخالفین و منکرین کا حشر بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جا رہا ہے جنہوں نے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ اور اس کے بعد وہ تمام تر مشکلات اور مخالفتوں سے بےپروا ہو کر پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ اس پر جم گئے۔ سو ایسوں کیلئے انکے خالق ومالک کی طرف سے خاص رحمتیں اور عنایتیں ہیں۔ سو دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام - 49 استقامت و ثابت قدمی اور اس کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے صدق دل سے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے اور راہ حق و صواب سے ان کے قدم ڈگمگائے نہیں یہاں تک کہ ایمان و یقین کی دولت کے ساتھ ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ جیسا کہ حضرت انس ؓ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا ۔ " فَمَنْ مَاتَ عَلَیْہَا فَہُوَ مِمَّنْ استقام " ۔ یعنی " جو مرتے دم تک اسی عقیدے پر قائم رہا وہ مستقیم رہا "۔ (ابن جریر و ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اپنے رب پر ایمان و یقین اور اس کی الوہیت و وحدانیت کا اقرار اور اس پر استقامت و ثابت قدمی سعادتوں کی سعادت اور دارین کی فوز و فلاح سے سرفرازی کا اساس و بنیاد ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے آپ ﷺ اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتادیں کہ مجھے پھر کسی اور سے کبھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ " کہو میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور پھر اس پر پکے رہو "۔ سو راہ حق و ہدایت کو اپنانا اور اس پر مستقیم اور ثابت قدم رہنا سعادتوں کی سعادت اور دارین کی فوز و فلاح کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 50 صدق شعاروں کے لیے نزول ملائکہ کی عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں پر اللہ کے فرشتے اترتے ہیں ان کی تسکین وتسلیہ اور ان کی نصرت و عنایت کے لیے "۔ پھر اس سلسلے میں کوئی قید نہیں لگائی گئی کہ یہ فرشتے کب اترتے ہیں۔ پس اسے عام ہی رکھا جائے کہ یہ موت کے وقت قبر میں اور بعث کے وقت کے علاوہ اس دنیاوی زندگی کو بھی شامل رہے۔ کہ فرشتے ان سب ہی مواقع میں اتر کر انسان کو یہ خوشخبری سناتے ہیں اور اس دنیاوی زندگی میں ضروری نہیں کہ فرشتے انسان کو ان ظاہری آنکھوں سے نظر بھی آئیں اور ان کی آواز ان ظاہری کانوں سے ہی سنی جائے۔ بلکہ وہ اللہ پاک کے حکم سے اترتے ہیں اور ان کی یہ بشارت غیر محسوس طریقے سے دلوں تک پہنچ کر قلبی سکون اور دلوں کی طمانینت کا سبب بنتی ہے۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ اہل ایمان اس دنیا میں بھی سکون و اطمیان کی ایک ایسی خاص دولت سے مالا مال ہوتے ہیں جس کی دوسروں کو ہوا بھی نہیں لگتی۔ اور وہ اس کے کیف و سرور کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ان آیات کریمہ میں ارشاد فرمائے جانے والے ۔ { تَتَنَزَّلُ } ۔ اور { فِی الحٰیوۃ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ } وغیرہ کے الفاظ اور کلمات کریمہ بھی اسی عموم کے زیادہ مناسب ہیں۔ اور محاسن التاویل وغیرہ تفاسیر میں بھی اسی عموم کو اختیار کیا گیا ہے۔ اور وکیع کہتے ہیں کہ فرشتوں کی یہ بشارت تین مواقع پر ہوتی ہے۔ یعنی موت کے وقت، قبر میں اور بعث کے موقع پر۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ یعنی یہ تین مواقع زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ورنہ ان کی بشارت اس سے بھی عام ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کا اہل اور مستحق بنائے ۔ آمین۔ 51 اہل ایمان کے لیے ایک عظیم الشان خوش خبری کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل ایمان کے لیے خوف اور غم دونوں سے رہائی کا مژدئہ جانفزا سنایا گیا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و استقامت خوف اور غم دونوں سے رہائی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ایسوں کے لیے نہ آئندہ کا کوئی خوف اور نہ گذشتہ پر کوئی غم ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو انسان کو ماضی کے غم اور مستقبل کے خوف دونوں سے نجات دیتی اور حقیقی امن و سکون سے بہرہ ور و سرفراز کرتی ہے۔ سو ایمان و استقامت کی بنا پر مومن صادق اس دنیا میں بھی سکون و اطمینان کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے کہ نہ اس کو ماضی کا غم ہوتا ہے اور نہ مستقبل کا خوف کہ وہ اپنے رب کی رضا پر راضی اور اس کی قضا پر مطمئن ہوتا ہے۔ کہ میرا رب جو بھی کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے۔ لیکن اس کے اس سکون و اطمینان کا کامل ظہور آخرت کے اس جہان غیب ہی میں ہوگا جہاں فیصلہ امور سے پہلے فرشتے ان کی دلداری اور تسلی کیلئے ان سے کہیں گے کہ آپ مطمئن رہیں کہ آپ لوگوں کی آزمائش کا دور اب ختم ہوگیا۔ اب آپ کیلئے نہ کوئی خوف ہے نہ غم۔ اب آپ کو اس جنت کی بشارت ہو جس کا وعدہ آپ لوگوں سے دنیا میں انبیاء و رسل کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ سو یہ ایسے خوش نصیبوں کیلئے سب سے بڑی سعادت اور حقیقی کامیابی ہوگی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(ضیافت و) مہمانی کے طور پر بڑے بخشنے والے انتہائی مہربان (رب) کی طرف سے

54 اہل جنت کے لیے عظیم الشان مہمانی کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ان کے لیے ربِّ غفور و رحیم کی طرف سے ایک عظیم الشان مہمانی ہوگی۔ سو جس طرح مہمان کو خاص عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے اور اس کو نہ کھانے پینے کی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ اس کے لئے اس کو کوئی تگ و دو کرنا پڑتی ہے ایسے ہی ان حضرات کو بھی وہاں پر خاص اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا۔ بلکہ وہاں کا حال تو اس سے اور بھی کہیں زیادہ مختلف اور بڑھ کر ہوگا کہ وہاں کی یہ مہمانی بھی اس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے ہوگی جس کی نہ تو مغفرت و بخشش کا کوئی ٹھکانا ہے اور نہ ہی اس کی رحمت و مہربانی کا کوئی کنارہ۔ نیز یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ " نُزُل " اصل میں اس مہمانی کو کہا جاتا ہے جو کہ مہمان کے اول نزول یعنی اس کے آنے پر اس کو شروع میں پیش کی جاتی ہے۔ سو اس سے دو عظیم الشان فائدے اور بھی نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ شروع میں اس مہمانی کے موقع پر آنے والے کو چونکہ خاص اعزازو اکرام سے نوازا جاتا ہے، اس لئے جنت کے ان باسیوں کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے خاص اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا۔ اور یہ یوں بھی ظاہر اور واضح ہے کہ یہ مہمانی حضرت وہاب مطلق، ربِّ غفور و رحیم، اکرم الاکرمین ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی طرف سے ہوگی۔ نیز اس سے دوسری طرف یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب شروع کی مہمانی ایسی عظیم الشان ہوگی تو آگے اس نے کیا کچھ اپنے ان خوش نصیب بندوں کے لئے رکھا ہوگا ۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو ایسی جنت اور اس کی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے منہ موڑ کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر صرف دنیائے دوں کے وقتی اور عارضی فائدوں کیلئے جینا کس قدر ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کس کی ہوسکتی ہے جو (لوگوں کو) بلائے اللہ کی طرف اور وہ خود نیک عمل بھی کرے اور (اظہار اطاعت و بندگی کے لئے) وہ کہے کہ بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

55 سب سے اچھی بات کی نشاندہی : سو اس سے اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ سب سے اچھے بات داعی حق کی بات ہی ہوتی ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ داعی حق سے بڑھ کر اچھی بات اور کسی کی نہیں ہوسکتی "۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور اس کے اولین مُخَاطَب اور سب سے بڑے مصداق خود داعی اکبر مُبَلِّغِ اعظم امام الانبیاء والرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ابن سیرین، ابن زید اور حضرت حسن بصری وغیرہ کا کہنا ہے۔ (المراغی، المدارک وغیرہ) ۔ لیکن الفاظ کے عموم کے ساتھ یہ ارشاد ہر اس داعی حق کو عام اور شامل ہے جو خود حق پر ہو اور دوسروں کو بھی حق کی دعوت دے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اس لئے اس کے مصداق آپ ﷺ کی امت کے وہ تمام علمائے کرام اور دعاۃِ حق ہیں جن میں یہ تین صفتیں پائی جاتی ہوں۔ یعنی دین حق پر ایمان و یقین، عمل صالح اور دعوت حق۔ (کشاف وغیرہ) بہرکیف اس آیت کریمہ سے دعوت الی اللہ کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے ۔ الحمد للہ ۔ کہ اللہ پاک نے محض اپنے فضل و کرم سے اس بندئہ ناچیز کو دعوت و ارشاد کے اس شرف عظیم سے مشرف فرمایا ہے اور اسی سعادت و خدمت کے ساتھ محض اپنے فضل و کرم سے وابستہ فرما دیا۔ اور گزشتہ کوئی چھتیس سالوں سے یہ ناچیز مرکز دعوت و ارشاد دبی کے ایک مستقل رکن کے طور پر متحدہ عرب امارات میں دعوت و تبلیغ کی یہ خدمت انجام دے رہا ہے اور تادم تحریر اسی خدمت میں مشغول و منہمک ہے ۔ والحمد للہ ۔ اللہ پاک استقامت بخشے اور قبول فرمائے اور ریا ونمود کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین۔ سو اللہ پاک کی توحید و وحدانیت اور اس کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت ایسی عظیم الشان سعادت ہے کہ اس سے بڑھ کر اور اس سے اچھی کوئی دعوت وسعادت اس نیلے آسمان کے نیچے ممکن ہی نہیں۔ اور جو لوگ اس سے منہ موڑتے اور اس کے قبول کرنے سے اعراض و انکار کرتے ہیں وہ بڑے ہی محروم و بدبخت اور سخت خسارے والے لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 56 داعیِ حق کیلئے عمل صالح کی ضرورت : سو داعی حق کی تعریف اور اس کی صفت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود نیک عمل بھی کرے۔ یعنی یہ نہ ہو کہ اس کا عمل اس کی دعوت کے خلاف ہو کہ ایسی صورت میں محض زبانی کلامی دعوت کا کوئی خاطر خواہ اثر و نتیجہ بھی ظاہر نہیں ہوگا اور یہ داعی کی صفت اور اس کی شان کے بھی خلاف ہوگا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ پس داعی حق کیلئے ضروری ہے کہ اسکا خود اپنا عمل بھی نیک ہو اور جس حق و ہدایت کی دعوت وہ دوسروں کو دے اسکا عملی نمونہ پہلے وہ خود اپنے اندر پیدا کرے اور اپنے عمل و کردار سے دوسروں کے سامنے واضح کر دے کہ جس حق و ہدایت کی دعوت وہ دوسروں کو دے رہا ہے اس پر وہ خود بھی عمل پیرا ہے۔ اس طرح اس کی دعوت اس کے قول کے علاوہ اس کے عمل و کردار سے بھی ہوجائے گی جو کہ زیادہ مفید اور موثر ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 57 اپنے اسلام وانقیاد کے اعلان و اظہار کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ یوں کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں "۔ یعنی اسلام و اطاعت کی جس عظیم نعمت سے قدرت نے اسے نوازا ہے اسے وہ چھپائے نہیں بلکہ اس کا برملا اور صاف وصریح طور پر اظہار و اعلان بھی کرے۔ اور اس کا یہ اظہار و اعلان خوشی و مسرت کے اظہار کے لئے اور تحدیث نعمت کے طور پر ہو اور اجر وثواب کی نیت سے ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ کیونکہ تحدیث نعمت یعنی اللہ تعالیٰ کی دی اور بخشی ہوئی نعمت کا اظہار وبیان مامور و مطلوب ہے۔ ارشاد خداوندی ہے ۔ { وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ } ۔ (الضحی : 11) یعنی " اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو "۔ کیونکہ یہ شکر نعمت کا تقاضا اور اسکا ایک طریقہ ہے۔ اور شکر نعمت سے نعمت میں ترقی اور اضافہ ہوتا ہے اور وہ نقص وزوال سے محفوظ و مصؤن رہتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد } ۔ (ابراہیم : 7) ۔ اور دین حق اسلام سے بڑھ کر نعمت اور کونسی ہوسکتی ہے ؟ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز اپنے اسلام اور انقیاد کے اعلان و اظہار میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ میں تم لوگوں سے کوئی اپنی بڑائی اور سرداری نہیں چاہتا بلکہ میرا مطالبہ تم سے یہی ہے کہ تم سب اللہ ہی کے آگے جھک جاؤ کہ یہی اسلام یعنی اللہ کے آگے جھکنا اس کائنات کا دین ہے جو کہ فطرت کا تقاضا ہے۔ اور میں بھی اسی کے آگے جھکنے والوں میں سے ہوں۔ اور اس مالک مطلق کے آگے صدق دل سے جھکنے ہی میں انسان کا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کہ اس سے انسان کو دنیا میں پوری کائنات کی ہمنوائی نصیب ہوگی جو کہ سعادتوں کی سعادت ہے اور اس کے نتیجے میں اس کو آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی حاصل ہوگی جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور (یاد رکھو کہ) نیکی اور بدی آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتیں پس تم برائی کو دفع کیا کرو اس نیکی کے ساتھ جو سب سے اچھی ہو پھر (تم دیکھو گے کہ) وہ شخص کہ تمہارے اور اس کے درمیان سخت دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ کوئی جگری دوست ہو

58 برائی کا جواب اچھائی سے دینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم برائی کو اس طریقے کے ساتھ دور کیا کرو جو سب سے اچھا ہو " کہ تم بدسلوکی کے جواب میں حسن سلوک کو اپناؤ۔ طیش کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لو اور برائی کے جواب میں صرف عفو و درگزر سے ہی نہیں بلکہ نیکی اور اچھائی کا برتاؤ کرو۔ دعوت حق کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹوں کا پیش آنا چونکہ ایک طبعی امر ہے اس لئے داعی حق کو ان اوصاف سے متصف اور ان مکارم اخلاق سے مسلح اور مزین ہونا چاہیئے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ اللّٰہُمَّ التوفیق لذالک والثبات علیہ ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان اور کس قدر پاکیزہ، مقدس اور انقلاب آفریں تعلیم ہے یہ جس سے اس کتاب حکیم نے دنیا کو نوازا ہے۔ مگر مسلمان ہے کہ وہ اس سے غافل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے لوگوں کی بدتمیزیوں کے جواب میں احسن طریقہ اپنانے اور اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ سو برائی کے جواب میں برابر سرابر کا طرز عمل اختیار کرنا اگرچہ جائز اور درست ہے لیکن صبر و برداشت اور عفو و درگزر کا معاملہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ اس کے صالح بندے یہی رویہ اختیار کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 59 حسن خلق کی تاثیر کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حسن خلق اور برائی کے بدلے میں اچھائی کی روش دشمن کو بھی دوست بنادینے والی خو و خصلت ہے۔ پس اس حسن سلوک سے وہ اگر تمہارا جگری دوست نہ بھی بنا تو کم از کم جگری دوست کی طرح تو ہو ہی جائے گا جس سے اس کی دشمنی اور شرارت سے بہرحال تم محفوظ ہوجاؤ گے جو کہ ایک بڑا گرانقدر اور نقد فائدہ ہے۔ جو تمہیں فی الحال نصیب ہوجائے گا۔ جبکہ اصل اور حقیقی فائدہ آخرت کا اجر وثواب اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی ہے۔ سو حسن خلق اور برائی کے بدلے میں اچھائی ایسی عظیم الشان خو خصلت ہے جو دشمن کو بھی دوست بنا دیتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ عفو و درگزر کا یہ رویہ جس کی ہدایت اہل ایمان کو فرمائی گئی ہے اس وقت تک ہے جب تک کہ مخالفین پر اچھی طرح حجت قائم نہ ہوجائے۔ لیکن اگر اتمام حجت کے بعد بھی مخالفین باز نہ آ رہے ہوں اور وہ حق اور اہل حق کی دشمنی میں مصروف اور ان کے مٹانے ہی کے درپے ہوں تو اس وقت واضح طور پر اعلان برائت کرنے کے بعد ان کی سرکوبی کی بھی اجازت ہے۔ سو ایسے موقع پر عفو و درگزر کی بجائے یہی طریقہ بہتر ہے تاکہ شر پسند عناصر کو کھل کھیلنے اور تعدی اور سرکشی کا موقع نہ ملے۔ اور یہی تقاضا ہے عدل وانصاف اور عقل و نقل کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ دولت نصیب نہیں ہوتی مگر انہی لوگوں کو جو صبر (و ضبط) سے کام لیتے ہیں اور یہ مقام نہیں ملتا مگر اسی کو جو بڑے نصیبے والا ہوتا ہے

60 صبر وسیلہ ظفر ۔ وباللہ التوفیق : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ صبر و برداشت کی صفت ایک عظیم الشان صفت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ چیز صبر والوں ہی کو ملتی ہے "۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر و ضبط سے کام لیتے رہنے سے یہ مقام شرف نصیب ہوجاتا ہے۔ پس اس کی عادت ڈالنی چاہیئے اور ہمیشہ صبر و برداشت ہی سے کام لینے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے کہ یہ ذریعہ ظفر اور باعث اجر ہے ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حکمت و دولت انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جو صبرو برداشت کی خو خصلت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ سو صبر و برداشت کی صفت بڑی عظیم الشان صفت ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر و برداشت کی صفت پائی جائے گی وہی اس حکمت کے حامل ہو سکیں گے اور جو اس سے محروم ہوں گے وہ اس کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس لیے اس حکمت کے طالبوں کو اپنے اندر صبر و برداشت کی صفت راسخ کرنی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کی اکساہٹوں سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین - 61 حسن خلق ایک گنج گرانمایہ ۔ وباللہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ چیز اسی کو ملتی ہے جو بڑے نصیبے والا ہو "۔ یعنی دارین کی سعادت و سرخروئی کا بڑا حصہ جو بالآخر اس کو جنت کی نعمتوں سے سرفراز کر دے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حظِّ عظیم سے یہاں پر مراد جنت ہے۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ سو یہ حکمت ایک ایسا گنج گرانمایہ ہے جو بڑے ہی نصیبہ ور لوگوں کو ملتا ہے۔ پس برائی کے بدلے میں اچھائی کی یہ حکمت و موعظمت انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے اندر صبر و برداشت کی خو خصلت رکھتے ہیں۔ اور جن کو یہ دولت ملتی ہے وہ بڑے ہی نصیبے والے ہوتے ہیں۔ سو یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ایک لازوال خزانہ اور گنج گرانمایہ ہے۔ اس لیے ہر ہمت والے کو اس کے حصول کے لیے بازی کھیلنی چاہیے۔ اور بڑے ہی خوش نصیب اور نصیبہ ور ہیں وہ لوگ جو اس بازی میں کامیاب ہوجائیں ۔ اللہ ہمیں انہی میں سے کرے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ پہنچ جایا کرے تو (فوراً ) اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو بلاشبہ وہی ہے (ہر کسی) کی سنتا (سب کچھ) جانتا

62 شیطان کی اکساہٹ کا علاج۔ اللہ کی پناہ مانگنا : خواہ وہ شیطن الجن کی طرح خفیہ طور پر وسوسہ اندازی کرے اور خواہ شیطن الانس کی شکل میں سامنے آ کر اکسانے اور بھڑکانے لگے اور اشتعال دلائے۔ تاکہ اس طرح وہ چنگاری کو سلگا کر آگ کا بگولہ بنا سکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مخالفوں کی مخالفت و شر انگیزی اور شیطان کی اکساہٹ و تحریک سے اگر کوئی ایسا جذبہ ابھرے جو اس کو برائی پر آمادہ کرے تو اللہ کی پناہ مانگنی چاہیئے۔ اور یہی اس چیز کا اصل علاج ہے کہ ایسے وقت میں انسان اللہ کی پناہ مانگے۔ اگر انسان جذبات کی رو میں بہ جانے کی بجائے صدق دل سے اللہ کی پناہ مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پناہ میں لے لیگا اور شیطان کو اس پر قابو نہیں پانے دے گا۔ سو اصل پناہ اور حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت و پناہ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 63 اللہ کی پناہ ہی اصل بچانے والی شئی ہے : اس لیے شیطان کی کسی اکساہٹ پر اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ پس شیطانوں کی اکساہٹوں سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ تم اس قادر مطلق کی پناہ میں آجاؤ۔ اور جب تم اس کی پناہ میں آگئے تو پھر شیطان کی اکساہٹوں سے تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ پس شیاطین الانس اور شیاطین الجن سب کے شر سے بچنے کے لئے ہمیشہ اللہ پاک کی پناہ مانگتے رہنا چاہیئے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ اللّٰہُمَّ اَنْ تُعِیْذَنَا مِنْ شیاطین الانس ومن شیاطین الجن و شرورہم وہمزاتہم ۔ سو اللہ کی پناہ ہی اصل بچانے والی شئی ہے۔ اور اگر انسان جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے صدق دل سے اللہ کی پناہ طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اپنی پناہ میں لے لے گا۔ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آگیا تو ہر قسم کے شرور و فتن سے بچ گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شیطان کو اس پر قابو نہیں دے گا۔ سو اللہ کی پناہ ہی بندے کیلئے اصل اور سب سے بڑی حفاظت ہے۔ لیکن اپنے دین سے غافل اور جاہل مسلمان اس کی بجائے دوسرے فرضی اور وہمی سہاروں پر اعتماد کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 64 اللہ سب کی سنتا اور جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ ہی ہے جو ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ وحدہ لاشریک ہر کسی کی براہ راست سنتا اور اس کے ہر حال کو جانتا ہے۔ پس غلط کہتے ہیں وہ لوگ جو کہتے کہ وہ ہماری نہیں سنتا۔ لہٰذا " ہماری فلاں کے آگے اور اس کی خدا کے آگے " وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ تمہارے خود ساختہ اور شرکیہ فلسفے کی بنیاد ہے اے مشرکو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک سے نہ کسی کی کوئی بات مخفی رہ سکتی ہے اور نہ اس کی کوئی حالت و کیفیت۔ اور اسکا بندہ جب بھی اس کو صدق دل سے پکارتا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا اور اس کی حاجت روائی کرتا اور مشکل کشائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جن لوگوں نے اس کو مخلوق پر قیاس کرکے اس کیلئے ازخود وسیلے اور واسطے گڑھے انہوں نے گمراہی کو اپنایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے حقیقی سننے اور جاننے والا "۔ کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ پس اس کا بندہ جب اس کو شیطان کے مقابلے میں پکارتا ہے تو وہ اس کی مدد فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 41:37–38

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ رات و دن اور سورج و چاند بھی ہیں پس تم نہ تو سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ تم سجدہ اس اللہ (وحدہ لاشریک) ہی کے لئے کرو جس نے ان سب کو پیدا فرمایا ہے اگر تم لوگ واقعی اسی کی بندگی کرتے ہوف 1

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ہی رہیں تو (رہتے رہیں) وہ فرشتے جو تمہارے رب کے پاس ہیں وہ بہرحال رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ کبھی تھکتے نہیں2

65 اللہ کی نشانیوں کو خدا بنانے سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو "۔ کہ یہ سب نشانہائے قدرت معبود و مسجود نہیں بلکہ تمہارے خادم و کارندے اور خداوند قدوس کی قدرت و عظمت اور عنایت و مہربانی کے چمکتے دمکتے نشان ہیں۔ سو کس قدر احمق و بےانصاف اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو بھول کر اس طرح کی عاجز مخلوق کی پوجا و پرستش اور سیوا میں لگے ہیں جو کہ خود ان کی خدمت و سیوا کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں کی اس چمک دمک اور ان سے ملنے اور حاصل ہونے والے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع کو دیکھتے ہوئے انکے آگے جھکنے اور ان کی پوجا کرنے کی حماقت کا ارتکاب نہیں کرنا کہ یہ بڑا ظلم ہے حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے حق میں۔ اور خود انسان کی اپنی ذات اور اپنی جان پر کہ لیل و نہار اور شمس و قمر کے یہ عظیم الشان اور چمکتے دمکتے مظاہر حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل اور نشان ہیں۔ نہ کہ اس کی خدائی میں کسی طرح کے شریک۔ وہ وحدہ لاشریک ایسے ہر تصور اور شائبہ سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس کائنات کے اندر پائے جانے والے ان عظیم الشان نشانہائے قدرت سے اپنے خالق ومالک کی عظمت کو پہنچانو اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جھک جاؤ کہ یہی صحت و سلامتی کا طریقہ اور تمہاری فوز و فلاح کا واحد راستہ ہے۔ جبکہ ان نشانہائے قدرت کے آگے جھکنا ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 66 سجدے کا حقدار صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا فرمایا ہے "۔ کہ سجدے کا اصل مستحق اور ہر قسم کی عبادت و بندگی کے لائق اور اس کا حق دار صرف وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے جو کہ خالق ومالک ہے اس سارے کون و مکان کا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو عبادت و بندگی کا حقدار وہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا فرمایا اور انکو وجود بخشا اور ان سب کو اس پابندی اور حکمت کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ اور جب ان تمام موجودات کی خلق و ایجاد اور ان کی اس تسخیر و تعمیل میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ پس عبادت و بندگی کا حقدار بھی وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اس زمین کو سونی پڑی ہوئی دیکھتے ہو پھر جونہی ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو یہ ابھر اٹھتی ہے اور پھول پڑتی ہے بلاشبہ جو اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ قطعی طور پر مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے بلاشبہ اس کو ہر چیز پر پوری پوری قدرت ہے

68 کائنات کی بعض اہم نشانیوں کے بارے میں تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے زمین میں موجود قدرت کی بعض اہم نشانیوں کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اس زمین کو سونی پڑی ہوئی دیکھتے ہو۔ یعنی یہ بالکل خشک پڑی ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی سبزہ ہوتا ہے نہ انگوری۔ پھر بارش کے بعد اس میں طرح طرح کی انگوریاں نکل آتی ہیں اور قسما قسم کے سبزے لہرانے لگتے ہیں۔ سو اسی طرح وحی کی مقدس بارش کے ذریعے وہ تمہاری روحانی زندگی اور معنوی کھیتی کی ہریالی کا سامان بھی فرماتا ہے اور اسی طرح وہ تم لوگوں کو مرنے کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھائے گا تاکہ تم زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ پا سکو۔ اور بھرپور طریقے سے پا سکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھی بھرپور طریقے سے پورے ہوسکیں۔ اور اس دنیا اور کائنات کے مقصد وجود کی تکمیل بھی ہوسکے۔ سو بارش کے اترنے اور زمین سے طرح طرح کی اور بیشمار اشیاء کے اگنے پھوٹنے میں تمہارے لئے اس طرح کے کئی عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں اگر تم لوگ صحیح طور پر عقل و فکر سے کام لو۔ سو کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی و واضح کتاب میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینے سے تم لوگوں کو اس کے خالق ومالک کی عظمت بےپایاں، اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ، وحدانیت مطلقہ اور عنایت بےغایت کے عظیم الشان دلائل ملیں گے۔ اور ایسے کہ تم دل سے کہو گے ۔ سبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ۔ اور ایسے اور اس قدر کہ تم بےساختہ پکار اٹھو گے ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذٰا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ } ۔ سو اس ارشاد سے قدرت کی بعض اہم نشانیوں کے بارے میں تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی تاکہ اس طرح لوگ نور حق اور معرفت خداوندی سے سرفراز و سرشار ہو سکیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں تو کیا جس کو پھینک دیا جائے گا (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) اس ہولناک آگ میں وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے روز آئے گا امن (وامان) کے ساتھ ؟ (اب تمہاری مرضی) جو چاہو عمل کرو (پر یہ یاد رہے کہ) وہ یقینا دیکھ رہا ہے تمہارے ان تمام عملوں کو جو تم لوگ کر رہے ہو

69 کج رو اشرار کے لیے سخت تنبیہ : سو اس ارشاد میں اللہ کی آیتوں میں کج روی اختیار کرنے والے اشرار کیلئے سخت تنبیہہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی برتتے ہیں اور وہ اپنی مرضی و خواہشات کے مطابق ان کے غلط معانی و مطالب نکالتے ہیں۔ کیونکہ الحاد کے معنیٰ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ۔ " وَضَعُ الْکَلام عَلٰی غَیْرِ مَحَلِّہ " ۔ کے ہیں۔ (ابن کثیر وغیرہ) سو اہل زیغ و ضلال جو اپنی مختلف اہوا و اَغراض کے مطابق اس کتاب عزیز کی آیات کریمات کے غلط مطلب نکالتے ہیں وہ بڑے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے کہ وہ ہم سے کوئی مخفی اور چھپے ہوئے نہیں۔ بہرکیف اہل زیغ کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا کہ وہ اللہ کی آیتوں میں کجی اور ٹیڑھے پن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اور اس کے لئے وہ طرح طرح کے حیلوں حوالوں سے کام لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر دور حاضر کے اہل بدعت میں سے کچھ لوگ اس حد تک بہک اور بھٹک گئے ہیں کہ وہ آیت کریمہ ۔ { اِنما انا بَشَر } ۔ میں واقع { اِنَّما } کے کلمہ حصر کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں حرف " اِنّ " تاکید کیلئے ہے۔ اور " مَا " نافیہ۔ سو آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ " بیشک میں بشر نہیں ہوں " ۔ استغفر اللّٰہ العظیم ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایسی تحریف ہے کہ اس کو زبان پر لانا بھی ایک بار گراں ہے جبکہ دوسری تاویل بلکہ تحریف یہ لوگ اس آیت کریمہ کی اس طرح کرتے ہیں کہ " میں ظاہری طور پر بشر ہوں "۔ اور ۔ { وَلا اَعْلَمُ الْغَیْبَ } ۔ کے معنیٰ و مطلب کے بارے میں ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یعنی " میں ذاتی طور پر غیب نہیں جانتا " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ان معانی و مطالب کی نہ تو ان الفاظ و کلمات میں کوئی گنجائش ہے نہ عربی لغت وبیان کے اعتبار سے یہ درست ہوسکتے ہیں اور نہ ہی صحابہ وتابعین اور دیگر اسلاف کرام میں سے کسی نے ایسے معنیٰ کئے ہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ ان اھل ھویٰ اور اصحاب بدعت کی اپنی اختراع اور ایجاد بندہ ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ اپنے خود ساختہ اور شرکیہ عقائد کی حمایت کے لئے کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم کا وہی مفہوم و مطلب معتبر ہوسکتا ہے جو کہ عربی زبان وبیان اور لغت و محاورہ کے مطابق ہو۔ اور جو خود حضرت رسالت مآب ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام، تابعین عظام وغیرھم اسلاف امت سے ثابت و منقول ہو۔ اور جو معنیٰ و مطلب ان کے بیان فرمودہ معنیٰ و مطلب کے خلاف ہوگا وہ معتبر نہیں ہوگا۔ مگر اہل باطل اور اصحاب زیغ و ضلال ہیں کہ اپنی مختلف اغراض و مقاصد اور خواہشات و اہواء کے پیش نظر آیات الہیہ میں اس طرح کے الحادو انحراف سے کام لیتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کسی اور طرف راہنمائی کرتی ہوں لیکن انسان اپنی ضد، ہٹ دھرمی، نفس پرستی اور کج بحثی سے کام لیکر کوئی اور راہ اپنائے اور دوسروں کو بھی اسی طرف موڑنے کی کوشش کرے تو یہ الحاد اور انحراف ہے۔ جس کا انجام بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ انحراف اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 70 منحرفین اشرار اللہ کے علم سے باہر نہیں ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں "۔ پس وہ اپنے کئے کرائے کے نتیجہ و انجام اور اس کے بھگتان سے کسی طرح بچ نہیں سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ جو ہماری آیتوں سے الحاد اور انحراف سے کام لیتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں "۔ اور ان کی یہ حرکتیں جن سے ایسے لوگ کام لیتے ہیں ہم سے کچھ ڈھکی چھپی اور مخفی و مستور نہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب ہمارے سامنے ہے اور اسکا ریکارڈ باضابطہ طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اور وقت آنے پر ہم ان کو اس سب کا مزہ بہرحال چکھا کر رہیں گے۔ اس بات کو یہاں پر تقاضائے بلاغت کی بنا پر مبہم چھوڑ دیا گیا کہ اس ابہام میں جو غضبناکی پائی جاتی ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے انحراف اور ہر شائبہ زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 71 انسان کے لیے آزادی ارادئہ و اختیار کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے سامنے دو نمونے ہیں۔ اور اس کو ان میں سے ایک کے اختیار کی آزادی حاصل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور سوال واستفہام فرمایا گیا کہ " کیا جس شخص کو دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں پھینک دیا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن وامان کے ساتھ آئے گا ؟ " اور ظاہر ہے کہ بہتر وہی لوگ ہوں گے جن کو قیامت کے روز امن کے ساتھ آنا نصیب ہوگا۔ اور یہ شرف وا کرام اگرچہ ملے گا اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی مگر اس کا سبب و ذریعہ انسان کا اپنا ایمان اور عمل صالح ہی ہوگا۔ پس تم اس کے لئے سچے دل سے اور بھرپور طریقے سے کوشش کرو تاکہ تم اس سے مشرف ہو سکو ۔ فَارْزُقْنَا التوْفِیْقَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی یا ارحم الراحمین ۔ بہرکیف یہ اسی ابہام کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ انجام کار کے اعتبار سے انسان کے سامنے دو ہی نمونے ہیں۔ ایک دائمی امن و سلامتی والا اور دوسرا دوزخ کی دائمی اور ہولناک آگ والا۔ اب یہ انسان کے ارادئہ و اختیار پر ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کونسا انجام اور اسکا راستہ اختیار کرتا ہے۔ سو اصل معاملہ انسان کی اپنی آزادی اختیار پر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بنیادی حقیقت کو سامنے رکھ کر جو مرضی عمل کرو ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے ۔ آمین۔ 72 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ دیکھ رہا ہے تمہارے سب کاموں کو "۔ پس تمہارا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ہوسکتا اور وہ تمہیں تمہارے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ اب تم میں سے ہر کوئی اپنے بارے میں خود غور کرے کہ اس کا یہ معاملہ اس کے سمیع وبصیر اور علم وخبیر خالق ومالک کے ساتھ کیسا ہے۔ سو یہ اسی آزادی ارادئہ و اختیار کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکی و بدی کے انجام کو واضح کرنے کے بعد تم لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔ پس تم لوگ جو چاہو اور جیسا چاہو عمل کرو۔ البتہ اس حقیقت کو بہرحال اپنے پیش نظر رکھنا کہ جو کچھ تم لوگ کرتے ہو اللہ اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے یہاں حاضر ہو کر تمہیں اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ بہرحال پانا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق وصواب پر مستقیم اور گامزن رہنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی والے اعمال اپنانے کی سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا (ہمارے نازل کردہ) اس ذکر کے ساتھ جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا (یقینا وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے) اور بلاشبہ یہ ایک ایسی عظیم الشان عزت (اور غلبے) والی کتاب ہے

73 منکرین قرآن کا انجام نہایت ہی ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے ذکر یعنی قرآن کے منکروں کا انجام نہایت ہی ہولناک ہے جو ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ یہاں انَّ کی خبر محذوف ہے۔ اور اسے تہویل کے لئے حذف کیا گیا ہے۔ یعنی اس ذکر حکیم کے ساتھ کفر و انکار کے سنگین جرم کا نتیجہ وا نجام اس قدر ہولناک اور بھیانک ہے کہ وہ احاطہ ذکر وبیان سے باہر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ذکر سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے جو کہ ذکر کا اصل اور سب سے بڑا مظہر و مصداق ہے۔ سو اسکا انکار اور خاص کر اس صورت میں جبکہ وہ انکے پاس پہنچ چکا ہے بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے ۔ { لَمَّا جَائَ ہُمْ } ۔ کے جملے سے اس جرم کی ہولناکی کو واضح فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ جس نے کسی چیز کو دیکھا پرکھا نہ ہو اس کو پھر بھی کسی حد تک معذور قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کے پاس قرآن آگیا اور انہوں نے اس کے اعجاز کو دیکھ لیا اور اس کے دلائل کو پرکھ لیا اور اس کے دلائل کی قوت کو انہوں نے اچھی طرح آزما لیا اس کے بعد بھی اگر وہ اس کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سورج کی تابانی کا عین اس وقت انکار کرتے ہیں جبکہ وہ ان کے سروں پر پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہوتا ہے۔ سو ایسے مجرموں کے جرم کی سنگینی محتاج بیان نہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

جس پر باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اس (ذات اقدس و اعلیٰ ) کی طرف سے جو نہایت ہی حکمت والی اور ہر خوبی کی سزاوار ہے1

74 قرآن حکیم کی عظمت شان کے بعض اہم پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کتاب عزیز پر باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے "۔ یعنی باطل اس پر کسی بھی طرف سے نہیں آسکتا۔ یعنی یہ تعمیم جہات سے کنایہ ہے۔ جیسا کہ صبح و شام بول کر پورے دن سے کنایہ مراد لیا جاتا ہے۔ نیز اس میں یہ بھی داخل ہے کہ باطل نہ تو اس کی گزشتہ خبروں کے بارے میں راہ پاسکتا ہے اور نہ آئندہ کے بارے میں۔ نیز اس کے کسی ارشاد وبیان کی تکذیب نہ اس سے پہلے آنے والی آسمانی کتابوں یعنی توراۃ و انجیل وغیرہ میں سے کوئی کتاب کرسکتی ہے اور نہ اس کے بعد کسی ایسی کتاب کا آنا ممکن ہے جو اس کی کسی بات کی تکذیب و تردید کرسکے۔ نیز نہ اس میں کسی طرح کی کوئی کمی کی جاسکتی ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی اضافہ۔ یہ باطل کے اس طرح کے ہر حملے اور اس کی دسترس سے پاک اور محفوظ ہے۔ سو یہ کتاب حکیم آج تک ایسے ہی ہے اور قیامت تک ایسے ہی رہے گی۔ کیونکہ یہ رب العالمین کی تنزیل ہے۔ اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اس نے خود اپنے ذمے لی ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، اور خازن وغیرہ) ۔ بہرکیف عزیز کی اس صفت کے یہاں پر ذکر فرمانے سے اس کتاب حکیم کے دو اہم پہلوؤں کو اجاگر فرما دیا گیا ہے۔ ایک تہدید و وعید کا پہلو ہے اور دوسرا اس کی عظمت شان اور حفاظت کا پہلو ہے۔ کیونکہ عزیز کے ایک معنیٰ غالب و مقتدر کے آتے ہیں۔ سو اس اعتبار سے اس میں تہدید و وعید ہے منکرین کیلئے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ اسکا انکار کوئی معمولی چیز ہے بلکہ ان کو آگاہ رہنا چاہیئے کہ یہ کتاب خود بھی عزیز ہے اور اس کے بھیجنے والی ذات بھی عزیز ہے۔ یعنی وہ ایسی غالب و مقتدر ذات ہے کہ اس کے کلام حق ترجمان کا انکار کرکے یہ لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکیں گے۔ اور دوسرے معنیٰ " عزیز " کے " منیع " کے بھی آتے ہیں۔ یعنی ایسی بلند وبالا چیز جو دوسروں کی رسائی اور دسترس سے بالاتر ہوتی ہے۔ سو یہ ایسی عظیم الشان اور اس قدر بلند وبالا کلام ہے کہ شیاطین جن و انس جتنا بھی زور لگائیں وہ اس میں کسی بھی طرح کی کوئی گڑبڑ نہیں کرسکتے۔ یہ ان کی پہنچ سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس جو لوگ اس کتاب عزیز کے دامن سے وابستہ ہوجائیں گے وہ بھی اس سے وابستگی کے نتیجے میں عزت و عظمت کے خاص درجہ و مرتبہ سے سرشار ہوجائیں گے ۔ اللہ ہمیں ان ہی میں سے کر دے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 75 قرآن حکیم تنزیل محض ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ اتارا ہوا کلام ہے ایک نہایت ہی حکیم اور حمید ذات کی طرف سے "۔ پس اس کا یہ کلام بھی حکمت سے لبریز اور تعریفوں کے لائق ہے۔ اور جو صدق دل سے اس کتاب عزیز سے وابستہ ہوگا وہ بھی اپنے دامن کو حکمت کے موتیوں اور سچی تعریفوں کی دولت سے بھر دے گا۔ اور جو اس سے منہ موڑے گا اور اعراض سے کام لے گا وہ اپنی ہی حرمان نصیبی کا سامان کرے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایک طرف تو یہ خالص اتاری گئی کتاب ہے۔ اس میں مخلوق میں سے کسی کا بھی کوئی عمل نہیں۔ اسی لیے یہاں پر " نازل " یا " منزل " جیسے کسی صیغہ صفت کی بجائے " تنزیل " کے صیغہ مصدر کو اختیار فرمایا گیا ہے۔ دوسرے اس کے اتارنے میں بھی خاص اہتمام فرمایا گیا ہے کہ " اِنزال " کی بجائے " تنزیل " صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے جس میں اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ پھر اس کو اتارا بھی نہایت حکیم، حمید ذات نے ہے۔ پس جو صدق دل سے اس کلام حکیم کے ساتھ وابستہ ہوجائیں گے وہ حقیقی حکمت کی دولت اور سچی تعریف کی نعمت سے سرفراز و مالامال ہوجائیں گے۔ اور جو اس سے اعراض و روگردانی برتیں گے وہ حقیقی حکمت اور سچی تعریف کی نعمت و دولت سے بہرحال محروم رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -