39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 39:55–56

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور پیروی کرو تم سب اس سب سے عمدہ کتاب کی جو اتاری گئی ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اس سے پہلے کہ آپہنچے تم پر اس کا عذاب ایسا اچانک کہ تم کو اس کا خیال (و گمان) بھی نہ ہو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(اور ہر وقت اس کے لئے تیار رہا کرو تاکہ) کہیں کوئی شخص یوں نہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ (پاک) کی جناب میں کی اور میں (غفلت میں پڑا) مذاق ہی اڑاتا رہ گیا

103 فلاح ونجات کا ذریعہ اتباع قرآن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پیروی کرو تم اس بہترین کلام کی جو اتارا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کیلئے نجات کا ذریعہ قرآن حکیم کی پیروی ہے اور بس۔ پس اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے بچو کہ یہی وہ کتاب کامل ہے جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کے اصولی مضامین کی امین و پاسدار ہے۔ اور رجوع الی اللہ کا صحیح راستہ یہی ہے کہ انسان اس کتاب ہدایت کی پیروی کرے کہ یہی وہ کتاب ہے جو قیامت تک تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے اتاری گئی ہے۔ جو سب سے عمدہ اور سب سے اعلیٰ وبالا کتاب ہے۔ اور جس کو اس سے پہلے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 23 میں " احسن الحدیث " یعنی " سب سے عمدہ کلام " فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ اس کتاب حکیم اور اس کی اتباع اور پیروی سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 39:57–58

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے (نور) ہدایت سے نوازا ہوتا تو یقینا میں بھی ہوجاتا پرہیزگاروں میں سے

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ اے کاش اگر مجھے ایک مرتبہ پھر لوٹ کر جانے کا موقع مل جائے تو میں بھی ہوجاؤں نیکوکاروں (اور فرمانبرداروں) میں سے

104 قرآن حکیم کے نزول سے منکرین پر حجت تمام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب ہدایت کے نزول سے منکرین کے تمام عذرات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اب کسی کے لیے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اپنے کئے کا انجام دیکھ کر اپنی ماضی پر افسوس کرنے لگے یا تقدیر کا بہانہ کرنے لگے۔ یا دنیا میں پھر واپس آنے کی آرزو و تمنا کرنے لگے۔ سو ایسی کسی بات کا اس وقت اس کو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کتاب ہدایت کے نزول کے ذریعے منکرین و مکذبین کے ایسے تمام عذرات کا خاتمہ فرما دیا گیا کہ اس کے نزول کے بعد ان کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ سکے گی۔ اور کرم بالائے کرم یہ کہ آخرت کے اس جہان غیب کے ایسے تمام حقائق سے اس قدر پیشگی اور اس صراحت و وضاحت کے ساتھ خبردار کردیا گیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(اور اس وقت اسکو یہ جواب ملے کہ) کیوں نہیں یقینا آئیں تیرے پاس میری آیتیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور تو اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں ہی مبتلا رہا اور تو کافروں ہی میں شامل رہا

105 استکبار خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے معلوم ہوا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ حق سے محرومی کا ایک بنیادی عنصر اور بڑا سبب ہے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف اس روز عذر کرنے والوں کو جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمہاری ہدایت کیلئے اپنی آیتیں تو ضرور نازل فرمائی تھیں لیکن تم نے اپنے استکبار کی بنا پر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں انکا انکار کیا۔ اور تم کافروں ہی میں سے بنے رہے جسکے نتیجے میں تم اس انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو اب تم اپنے اس استکبار اور کیے کرائے کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے ایسے بدبختوں کی بیماری اور اس کے نتیجہ وانجام اور بیماری کے سبب اور باعث تینوں کو بیان فرما دیا گیا۔ سو بیماری ہے کفر و انکار جو کہ بیماریوں کی بیماری ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کا نتیجہ و انجام ہے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس ہولناک بیماری کا سبب اور باعث ہے اعراض و استکبار ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اور ہر موقع و مقام پر اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 106 کفر کا انجام اور کافر کی تذلیل و تحقیر ۔ والعیاذ باللہ : سو کافر کو اس کے کفر کے انجام تک پہنچنے پر اس کے قطع عذر اور اس کی تذلیل و تحقیر کے لیے کہا جائے گا کہ " تو کافروں ہی میں شامل رہا ہے "۔ خواہ علانیہ کھلے کافروں میں شامل رہا ہو اور خواہ نام تو اسلام کا لیتا اور کام کفر کا کرتا رہا۔ کہ الفاظ کا عموم ان دونوں ہی صورتوں کو شامل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ نے تو اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے اپنی آیتیں تو ضرور اتاری تھیں کہ اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کو اس نے اپنے وعدئہ کرم کی بنا پر اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اسکا ارشاد ہے ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی } ۔ (اللیل : 12) ۔ مگر تم لوگوں نے اپنے استکبار کی بنا پر ان سے منہ موڑا۔ اور تم کافروں ہی میں شامل رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کافر کو اپنے کفر کے نتیجے میں اس ہولناک انجام سے بھی دوچار ہونا پڑے گا اور ساتھ ہی اس کو تحقیر و تذلیل کے ایسے مختلف مراحل سے بھی گزرنا پڑے گا ۔ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ اور اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور قیامت کے دن تم دیکھو گے ان لوگوں کو کہ جنہوں نے (دنیا میں) جھوٹ باندھا ہوگا اللہ پر کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے2 کیا جہنم میں ٹھکانہ نہیں ایسے متکبروں کا ؟

107 اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کی بدحالی کا بیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کے چہرے قیامت کے روز سیاہ ہوں گے۔ کہ ان کے قلب و باطن میں پائی جانے والی کفر و باطل کی سیاہی، مشاہدے اور کشف حقائق کے اس روز ان کے چہروں پر عیاں اور نمایاں ہوجائے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ کذب علی اللہ کا عموم اگرچہ ہر قسم کے جھوٹ کو شامل ہے لیکن اس کا سب سے بڑا اور واضح مصداق شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے یہاں پر اس سے مراد شرک ہی لیا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرما گیا کہ " جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ تو قیامت کے روز ایسے لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جس میں ان سب کو جھونک دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ظلم کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبہ سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور (اس کے برعکس) اللہ نجات دے دے گا ان (خوش نصیبوں) کو جنہوں نے تقوی (و پرہیزگاری) کی زندگی گزاری ہوگی ان کی کامیابی کی بناء پر نہ تو ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

108 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ان لوگوں کو نجات دے دے گا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا "۔ یعنی انہوں نے اللہ پاک کے اوامر پر عمل کیا ہوگا اور اس کی نواہی سے بچتے رہے ہوں گے۔ اور ہمیشہ اسی کی رضا و خوشنودی کو اپنے پیش نظر رکھا ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ ۔ بہرکیف اس سے مستکبرین کے مقابلے میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کا صلہ اور انکا انجام بیان فرمایا گیا ہے کہ انکو اللہ تعالیٰ انکے درجہ و مرتبہ کے لائق خاص پناہ گاہ میں جگہ عطا فرمائے گا۔ " مفازہ " کے معنیٰ " مامن " اور " پناہ گاہ " کے ہیں۔ مراد ہے جنت جہاں ہر طرف سے اور ہر طرح کا امن ہی امن ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف جس طرح انکار واستکبار باعث ہلاکت و تباہی ہے، اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و فلاح ہے ۔ وباللہ التوفیق - 109 جنتی ہر تکلیف اور غم سے محفوظ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہ انکو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے "۔ کہ انہوں نے اپنی زندگی چونکہ اللہ پاک کے احکام کے مطابق گزاری ہوگی اس لئے اب ان کے لئے امن و اطمینان ہوگا۔ غم و افسوس کا کوئی موقع نہ ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَ الْعَمِلِ ۔ ان متقی اور پرہیزگار خوش نصیبوں کیلئے یہ عظیم الشان خوشخبری ہے کہ وہاں پر وہ نہایت آرام و راحت میں اور ماضی کے تمام غموں اور پچھتاو وں سے اور مستقبل کے اندیشوں سے محفوظ ہوں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ سو یہی ہے وہ اصل اور حقیقی کامیابی جس کو اصل مقصد بنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے ہر چیز پر نگہبان1

110 اللہ ہر چیز کا خالق اور ہر چیز پر نگہبان ہے : پس ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی اسی کے لئے بجا لائی جائے اور ہر حاجت و ضرورت کے لئے دست دعا وسوال بھی اسی وحدہ لاشریک کے حضور بلند کئے جائیں کہ خالق ومالک بھی سب کا وہی ہے اور ہر کسی کا نگہبان اور وکیل و کارساز بھی وہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور بھروسہ بھی ہر کسی کو اور ہر حال میں اسی پر کرنا چاہیئے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمان اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتے اور طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کے ساتھ وہی ہیں خسارے والے2

111 سب خزانوں کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی "۔ پس جو کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ " مَقَالِیْد "، " مِقْلاد " کی جمع ہے۔ جیسے " مَفاتیح " جمع ہے " مَفتاح " کی۔ یا یہ " اِقلِیْد " کی جمع ہے خلاف قیاس۔ جیسا کہ " مَذاکیر "، " ذکر " کی جمع ہے۔ اور " اِقْلِیْد " دراصل فارسی کے کلمہ کلید کا معرب ہے جس کے معنیٰ " چابی " کے بھی آتے ہیں اور خزانے کے بھی۔ (جامع البیان، خازن، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت وغیرہ زائغین نے جو مشہور کر رکھا ہے کہ فلاں علاقہ فلاں بزرگ کے حوالے ہے اور فلاں خطہ فلاں ہستی کے کنٹرول میں ہے وغیرہ وغیرہ تو یہ سب کچھ ایسے لوگوں کے من گھڑت ڈھکوسلے اور خودساختہ مفروضے ہیں جو کہ قرآن و سنت کی ایسی تعلیمات مقدسہ سے متصادم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کوئی علاقہ اور خطہ کسی کے حوالے نہیں۔ بلکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور تمام خزانوں کی کنجیاں اسی وحدہ لاشریک کے پاس اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بندوں کو آسمان اور زمین سے جو بھی کچھ ملتا ہے وہ سب اسی کی عطا و بخشش سے ملتا ہے اور دنیا کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ان کو جو کچھ ملے گا اسی وحدہ لا شریک کی عنایت سے ملے گا کہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کے سب خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس ہمیشہ اسی کی طرف رجوع کرنا اور رجوع رہنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 112 اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا وہی ہیں خسارے والے " اور اللہ کی آیتیں عام ہیں جو کہ اس نے نازل فرمائیں اپنی اس کتاب حکیم میں۔ نیز وہ آیات کونیہ جو کہ اس قادر مطلق اور حکیم مطلق ۔ جل و علا ۔ نے ودیعت فرمائی ہیں کائنات کی اس کھلی کتاب میں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَفِی الاَرْضِ اٰٰیَاتٌ لِلْمُؤْقِنِیْنَ } ۔ کہ یہ دونوں قسم کی آیتیں یعنی تنزیلیہ اور تکوینیہ اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان اور جلالت قدر کا پتہ دیتی ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار اور نور ایمان و توحید سے اعراض و روگردانی خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا اور وہ جمے اور اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور انہوں نے منہ موڑا راہ حق و ہدایت سے، وہی ہیں خسارے والے۔ کیونکہ ان کا یہ خسارہ خساروں کا خسارہ اور دارین کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اور اس کا وبال بہرحال خود انہی پر پڑے گا۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ اس کی تلافی وتدارک بھی ممکن نہیں۔ 113 کفر و انکار خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر وانکار سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے ہی لوگ ہیں خسارے والے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اللہ پاک کی آیتوں کے ساتھ کفر و انکار کے ارتکاب کے باعث ایسے لوگ اس کی توحید و وحدانیت خداوندی کے عقیدے اور اس پر ایمان و یقین کے نور سے محروم ہوجائیں گے جو کہ ہر خیر سے محرومی، تمام خرابیوں کے خرابی اور سراسر ہلاکت و تباہی کا سامان ہے۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب لوگ متاع عمر کو اندھیروں میں ضائع کرکے دائمی خسارے میں پڑجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ خسارہ ایک ایسا ہولناک خسارہ ہے جس کے تدارک و تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہو کیا پھر بھی تم لوگ مجھے کہتے (اور مجھ سے یہ توقع رکھتے) ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟ اے جہالت کے مارو ؟

114 شرک جہالتوں کی جہالت اور حماقتوں کی حماقت ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا جہالتوں کی جہالت اور حماقتوں کی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مشرکوں کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ عظمت خدا وندی اور توحید ربانی کے یہ کھلے کھلے اور کھرے کھرے دلائل سننے اور جاننے کے باوجود خود راہ حق اختیار کرنے کی بجائے تم لوگ الٹا مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں بھی غیر اللہ کی پوجا کرنے لگوں ؟ تمہاری مت کیسی مار دی گئی اور تمہاری عقلیں کس درجہ مسنح ہوگئیں۔ یہ ارشاد اس وقت نازل ہوا جب کہ روایات کے مطابق کفار نے آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہم آپ ﷺ کی ہر بات مانیں گے۔ آپ ﷺ کے معبود کی عبادت بھی کریں گے۔ آپ ﷺ صرف ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔ یعنی " کچھ لو اور کچھ دو " کے اس عام ضابطے کے مطابق جس کو ابنائے دنیا نے ازخود اپنا رکھا ہے معاملہ کرلیا جائے۔ تاکہ باہم سمجھوتہ اور صلح (Compromise) ہوجائے ۔ { وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْن } ۔ ( القلم : 9) اور اس میں ان کو { الْجَاھِلُوَنَ } کے وصف کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حق میں باطل کی آمیزش کرنا نری جہالت ہے ۔ ونِعم ماقِیل ۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے ۔ شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جہالت کی بیماری سب بیماریوں کی بیماری اور فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جہالت اصل میں دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے محرومی کا نام ہے۔ سو دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے جاہل اور غافل انسان جاہل ہے خواہ دنیاوی اعتبار سے وہ کتنی ہی بڑی ڈگریاں کیوں نہ رکھتا ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا جہالتوں کی جہالت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور بلاشبہ وحی کی گئی آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) اور ان (تمام انبیاء کرام) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ اگر تم نے بھی (بالفرض) شرک کا ارتکاب کرلیا تو یقینا اکارت چلے جائیں گے تمہارے سب عمل اور یقینا تم ہوجاؤ گے (ہمیشہ کے لئے) خسارہ اٹھانے والوں میں سے3

115 شرک تمام اعمال کی بربادی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تمام انبیائے کرام کی طرف یہی وحی کی گئی۔ پس اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدئہ توحید کس قدر اہم چیز ہے اور شرک کی بیماری کس قدر خطرناک اور مہلک بیماری ہے کہ تمام انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی طرف سب سے پہلے اسی کی وحی کی گئی۔ اور ان کو اسی پیغام رسانی کی ہدایت فرمائی گئی۔ اور انہوں نے اپنی اپنی قوموں اور امتوں کو سب سے پہلے اسی کی دعوت دی اور تبلیغ فرمائی۔ مگر افسوس کہ اسی شرک کے منحوس سائے امت مسلمہ پر اس سب کے باوجود آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے چھائے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ جاہل تو آپ سے شرک کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن شرک کا مرض ایسا ہولناک اور اس قدر مہلک مرض ہے کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے آنے والے تمام انبیائے کرام کی طرف بھی یہ وحی کی گئی کہ اگر بالفرض تم نے بھی شرک کیا تو تمہارے تمام عمل خبط ہوجائیں گے اور تم نامرادوں میں سے ہو کر رہ جاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فلاح و نجات کی راہ صرف یہ ہے کہ تم بندگی صرف اللہ ہی کی کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے بنو۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ " حبط عمل " سے مراد یہ ہے کہ شرک کے ساتھ جو نیک عمل بھی اللہ پاک کی رضا کے لیے کیے جاتے ہیں وہ بھی سب کے سب اکارت اور ضائع ہو کر رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف وہی عمل شرف قبولیت پاسکتا ہے جو خالص اس کی رضا کے لیے کیا جائے۔ اور اگر حسن عمل میں شرک کا کوئی شائبہ پایا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ اور جو اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک مانتا ہے وہ اللہ کا شکر گزار ہو ہی نہیں سکتا اور اس کی دینداری کی ساری بنیادیں ڈھے جاتی ہیں۔ سو شرک ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 116 شرک کا نتیجہ و انجام سراسر خسارہ ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ شرک کرنے کی صورت میں تم یقینا سخت خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے "۔ یہ علی سبیل الفرض فرمایا گیا ہے کہ اگر بالفرض آپ ﷺ سے بھی اس کا ارتکاب ہوجائے اے پیغمبر تو یقینا باینہمہ عظمت شان اور جلالت قدر آپ ﷺ کے عمل بھی ضائع ہوجائیں گے۔ تو پھر دوسروں کا کیا حال ہوگا۔ سو یہ تعبیر بلاغت کے مشہور و معروف اسلوب کے مطابق اختیار فرمائی گئی ہے۔ یعنی معاملے کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور زور بیان کو زیادہ ظاہر اور واضح کرنے کے لئے اسے علی سبیل الفرض اختیار فرمایا گیا ہے۔ ورنہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ تو بہرحال معصوم اور ہر شائبہ شرک و کفر سے پاک اور بری ہوتے ہیں۔ ان سے کوئی بھی گناہ اور خاص کر شرک جیسا کبیرہ گناہ کیسے اور کیونکر صادر ہوسکتا ہے ؟ سو اس قسم کے مواقع میں خطاب اگرچہ نظر بظاہر پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ ہی سے ہوتا ہے لیکن سنانا اور بتلانا دراصل دوسروں کو مقصود ہوتا ہے۔ بعض لوگ ایسے مواقع پر پیغمبر کو مخاطب قرار دینے کی بجائے جو دوسروں کو مخاطب قرار دیتے ہیں اور " اے سننے والے " یا " اے مخاطب " جیسے الفاظ سے ترجمہ کرتے ہیں۔ سو کلام میں اس کی گنجائش اگرچہ موجود ہوتی ہے لیکن ارباب ذوق سلیم اور اصحاب طبع مستقیم پر یہ بات مخفی نہیں کہ اس صورت میں کلام میں وہ زور باتی نہیں رہتا جو کہ بلاغت کا مقتضیٰ ہے اور جو اس کے برعکس پہلی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اور یوں بھی وحی الہٰی کے اولین مخاطب اور سب سے پہلے سننے والے چونکہ پیغمبر ہی ہوتے ہیں، اس لئے بات پھر بھی وہیں پہنچتی اور وہی رہتی ہے جو کہ پہلی صورت میں تھی اور ہے۔ کیونکہ دوسروں کو تو یہ نور پیغمبر کے واسطے سے ہی نصیب ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس طرح کے ارشادات کے اولین مخاطب اور پہلے سامع تو بہرحال پیغمبر ہی ہوتے ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلامُہ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنِ وَمَنْ تَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ الَی یَوْمِ الْعَرْضِ عَلَی اللّٰہِ والِّلقَآئِ ۔ اسی لئے جمہور مفسرین کرام اور دیگر اکثر اہل علم اس کا وہی پہلے والا مطلب و مفہوم مراد لیتے ہیں۔ نمونے کے لئے چند حوالے ملاحظہ ہوں ۔ " ہٰذَا خطاب مَع الانبیائِ والمراد منہ غیرہم او کلام علی سبیل الفرض " ۔ (جامع البیان) ۔ " اَیْ لَئِنْ اَشْرَکْتَ یَا مُحَمَّدُ " ۔ الخ (صفوۃ التفاسیر) ۔ " وَالْکَلامُ عَلٰی سَبِیْلِ الْفَرض والتَّقْدِیْرِ " ۔ (تفسیر المراغی) ۔ " ہٰذا الکلام وارد علی الفرض والمحالات یَصِحُّ فَرْضُہَا لاَغْرَاضٍ مُّختلفۃ " ۔ (محاسن التاویل) ۔ " وہٰذا خطاب مَعَ الرَّسُوْلِ ﷺ و المراد بہ غیرہ " ۔ (خازن) اور یہ ایسے ہی ہے جیسے ۔ " ولَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ " ۔ میں ہے۔ (ابن کثیر) ۔ " فَہُوَ کلام علٰی سبیل الفرض لِتَہیج المخاطب المعصوم اِقْنَاط الکفرۃ والایذان بغایۃ شناعۃ الاشراک و قبحہ و کونہ بحیث یُنْہٰی عَنْہُ مَنْ لا یکاد یُبَاشِرُہ فکیف فمَنْ عداہ " ۔ (روح المعانی) سو اصل بات جو کہ تقاضا ہے بلاغت کا اور جو قول وقرار ہے تمام مفسرین کرام اور جمہور اہل علم کا وہ یہی ہے کہ اس موقع پر اور ایسے ہر موقع پر خطاب اگرچہ بظاہر پیغمبر سے ہی ہوتا ہے کہ وحی خداوندی کے اصل اور اولین مخاطب بہرحال آپ ﷺ ہی ہیں۔ لیکن سنانا دراصل اس میں دوسروں کو ہوتا ہے۔ سو جب شرک کی سنگینی کا یہ عالم ہے تو پھر پیغمبر سے اس کی توقع کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ ۔ (علیہ السلام) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

(پس تم کبھی شرک نہیں کرنا) بلکہ اللہ ہی کی بندگی کرتے رہنا اور ہمیشہ اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہونا

117 عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کی بندگی کرنا اور ہمیشہ اس کے شکرگزار بندوں میں سے رہنا "۔ کہ معبود برحق بہرکیف اور بہرصورت وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد عالی سے دو اہم اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا کہ شکر خداوندی اللہ پاک کا اہم اور بنیادی حق ہے جو اس کے بندوں پر واجب ہوتا ہے کہ بندہ اس کے انعامات اور احسانات میں سرپاتا ڈوبا ہوا ہے اور اس کو جو بھی کچھ ملتا ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتا ہے۔ اور دوسری بنیادی حقیقت یہاں پر یہ واضح فرما دی گئی کہ اس کے حقِّ شکر کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ عبادت اور بندگی اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجا لائی جائے۔ پس اگر اس کی عبادت و بندگی میں کسی نے کسی اور کو شریک کردیا تو اس نے اس کی عبادت و بندگی کا حق ادا نہیں کیا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اور اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے حقِّ شکر کی ادائیگی کا طریقہ یہی ہے کہ انسان عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کے لیے بجا لائے۔ اور اگر اس نے اس کے حقِّ بندگی میں کسی اور کو بھی شریک کرلیا تو وہ اس کا شکر گزار بندہ نہیں رہ جاتا۔ بلکہ اس صورت میں وہ اس کا ناشکرا بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی دینداری کی ساری بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے قدر نہیں پہچانی اللہ کی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق ہے حالانکہ (اس کی قدر و عظمت کا عالم یہ ہے کہ) زمین ساری کی ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان (تمام کے تمام) لپٹے ہوئے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں پاک اور برتر ہے وہ ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

118 اللہ پاک کی شان سے بیخبر ی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کی شان عالی سے بیخبر ی کا نتیجہ شرک و ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا " جس کے نتیجے میں یہ شرک میں مبتلا ہوئے اور ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔ ورنہ نہ تو یہ لوگ اس طرح شرک میں پڑتے اور نہ اس کے لئے وزیر و مشیر اور وسائط گھڑتے کہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان جاہلوں نے جو اپنے من گھڑت اور خودساختہ شریکوں کو اس کے برابر لابٹھایا تو یہ ان کی جہالت کا نتیجہ ہے ورنہ یہ لوگ اگر اس کی معرفت سے صحیح طور پر سرشار ہوتے اور اس کی قدر کو پہچانتے تو ایسی حماقت کا ارتکاب کبھی نہ کرتے۔ مگر انہوں نے اس کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپا اور ایسے مہالک میں گرے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جہالت و بیخبر ی ہلاکتوں کی ہلاکت ہے اور اسی سے انسان طرح طرح کے مہالک میں گرتا اور تباہی کے گھاٹ پر اترتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ نور علم سے بہرہ مندی اور سرفرازی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور علم سے مراد حق اور حقیقت کا وہ علم ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت سے سرشار و سرفراز کرتا ہے ۔ وباللہ التوفیق - 119 قیامت کے روز ساری زمین اللہ کی مٹھی میں : سو ارشاد فرمایا گیا " حالانکہ زمین ساری قیامت کے روز اس کی مٹھی میں ہوگی "۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیل مذکور ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ قیامت کے روز اس ساری زمین کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر اس کو گھمائے گا اور فرمائے گا کہ میں ہوں جبار و متکبر، ملک و عزیز۔ آج کہاں ہیں وہ جن کو اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ ہوا کرتا تھا ؟ اور اس مضمون کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم، سنن ترمذی اور مسند امام احمد وغیرہ مختلف کتابوں میں مروی و منقول ہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، جامع البیان، صفوہ اور معارف وغیرہ) ۔ لیکن ان امور کی پوری حقیقت اور صحیح کیفیت کو جاننا چونکہ ہمارے بس میں نہیں کہ یہ سب غیب کے امور اور ان دیکھے حقائق ہیں۔ اس لئے حضرات سلف کا ایسی آیات و نصوص کے بارے میں کہنا اور ماننا یہ ہے کہ ۔ " نقول بامرارہا علی ظاہرہا من غیر تکییف و لا تعطیل " ۔ یعنی " ایسی نصوص کے مفاہیم و مطالب کو اپنے طور پر متعین کرنے کی بجائے ان کو کسی طرح کی تکییف و تعطیل کے بغیر اپنے ظاہر پر رکھا جائے " کہ جو اور جیسا اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہوگا وہی اور ویسا ہوگا کہ وہ جیسا خود بےمثال ہے ایسے ہی اس کی ہر صفت و شان بےمثال ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف جب خداوند قدوس کی شان اقدس و اعلیٰ کا حال یہ ہے تو پھر اس کا کوئی شریک کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس کے لیے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت شریک ٹھہراتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ 120 اللہ پاک کی تنزیہ و تقدیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں "۔ اور دوسرا ترجمہ اس کا یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ " وہ پاک ہے ان تمام شریکوں سے جو یہ لوگ اس کے لئے تجویز کرتے ہیں "۔ مدعا و مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ وہ ہر طرح کے شریکوں اور ہر شائبہ شرک سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو نسبتیں اور تصورات مشرکوں نے اس کے بارے میں قائم کر رکھے ہیں وہ ان سب سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس کی جلالت قدر اور عظمت شان سے واقف و آگاہ ہیں۔ انہوں نے اس وحدہ لا شریک کو اور اس کی عظمت شان کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپا۔ اور اس بنا پر انہوں نے اس کے لیے وہی تصورات قائم کیے جو مخلوق کے لائق ہیں۔ جبکہ وہ خالق اور مخلوق کے دائرے سے وراء الوراء ہے۔ اس لیے مخلوق میں سے کوئی بھی محض اپنی عقل و فکر کی بنا پر اس کے لیے صحیح تصور قائم نہیں کرسکتا۔ اس لیے اس کی معرفت کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کو ویسے ہی مانا جائے جیسا وہ خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور پھونک مار دی جائے گی صور میں جس کے نتیجے میں بےہوش ہو کر گرپڑیں گے وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں مگر جسے اللہ چاہے پھر ایک اور مرتبہ صور پھونکا جائے گا جس کے باعث یہ سب کے سب یکایک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے

121 نفخ صور اور اس کے نتیجہ و اثر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پھونک مار دی جائے گی صور میں جس سے یہ سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے "۔ اور پھر گر کر سب مرجائیں گے۔ اسی لئے یہاں پر " صعق " کو موت کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان اور معارف وغیرہ) ۔ سو یہ نفخہ ثانیہ کا بیان ہے۔ اس سے پہلے نفخہ فزع ہوگا جس کا ذکر سورة نمل کی آیت نمبر 87 میں فرمایا گیا ہے اور اس کے بعد تیسرا نفخہ وہ ہوگا جو کہ قیام لرب العالمین کے لئے ہوگا اور یہی قول ہے جمہور اہل علم کا ۔ " الجمہور علی انہ ثلٰث الاولیٰ للفزع والثانیۃ للموت والثالثۃ للاعادۃ " ۔ یعنی جمہور کے نزدیک نفخ صور تین مرتبہ ہوگا۔ پہلا نفحہ فزغ جس سے سب گھبرا اٹھیں گے۔ دوسرا نفحہ صعق جس سے سب بےہوش ہو کر گرپڑیں گے۔ اور پھر سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ اور تیسرا نفحہ قیام لرب العلمین کیلئے ہوگا۔ جس پر سب کے سب ازسر نو زندہ ہو کر رب کے حضور کھڑے ہوجائیں گے تاکہ اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور بدلہ پاسکیں۔ جنتی جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ۔ اللہ ہم سب کو انہی میں سے کرے ۔ اور دوزخی دوزخ کے حوالے کر دئیے جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس نفخ صور پر سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور حیرت و تعجب سے سب مناظر اپنی آنکھوں سے خود دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کسی اینکڑی پینکڑی کے بغیر سب کے سب اپنی اپنی قبروں سے نکل نکل کر دوڑے چلے آرہے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة یسین میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا ہُمْ مِنَ الاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ } ۔ (یٓسین۔ 51) اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہوگا کہ اس روز اس مالک الملک کی طرف سے یہ پکار سنتے ہی سب اس کی تسبیح کرتے ہوئے اس کے حضور دوڑتے ہوئے حاضر ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ (بنی اسرائیل : 52) مگر ظالم لوگ آج نہیں مانتے ۔ والعیاذ باللہ - 122 " صعق " سے محفوظ رہنے والوں کا ذکر وبیان : سو اس " صعق " اور بیہوشی سے بچنے والوں کا استثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " مگر جن کو اللہ چاہے "۔ یہ کون حضرات ہوں گے جو اس نفخہ صعق و ہلاک سے مستشنٰی ہوں گے ؟ اس کے بارے میں قرآن پاک میں یا کسی صحیح حدیث میں کوئی تصریح نہیں فرمائی گئی۔ اسی لئے حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں ۔ " لا نَدْرِیْ مَنْ ہُمْ " ۔ یعنی " ہم نہیں جانتے یہ کون حضرات ہوں گے "۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن وغیرہ) ۔ اور یہی طریقہ اصولی بھی ہے اور سلامتی والا بھی مگر دوسرے حضرات اہل علم سے اس بارے میں مختلف اقوال مروی و منقول ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے مراد حاملین عرش، جبرائیل، میکائیل، عزرائیل اور ملک الموت ہیں۔ جو اس موقع پر ہلاک نہیں ہوں گے بلکہ بعد میں ہوں گے۔ اور سب سے آخر میں ملک الموت کی موت ہوگی۔ جس کے بعد حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ارشاد فرمائیں گے ۔ { لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْم } ۔ کہ " آج حکومت کس کی ہے ؟ " ۔ اور پھر خود ہی اس کے جواب میں ارشاد فرمائیں گے ۔ { لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ } ۔ " اللہ ہی کے لئے ہے جو اکیلا اور سب پر غالب ہے "۔ (جامع البیان، ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے مشرکین کے اس خود ساختہ شرکیہ فلسفے کی جڑ نکال دی گئی کہ ہمارے وہ شرکاء جن سے ہم وابستہ ہیں اور جن کا لڑ ہم نے پکڑ رکھا ہے وہ بڑی پہنچ والی " سرکاریں " ہیں۔ وہ وہاں پر اڑ کر بیٹھ جائیں گی اور منوا کر چھوڑیں گی۔ سو واضح فرما دیا گیا کہ اس روز سب کے ہوش اس طرح اڑ جائیں گے کہ کسی کے اندر اس طرح کی کوئی ہمت اور سکت ہی نہیں ہوگی۔ پس اس طرح کے مشرکانہ تصورات بےبنیاد اور محض اوہام و خرافات ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور (بےکیف) سے اور (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جائے گا اس کے نامہ اعمال کو اور لا حاضر کیا جائے گا تمام نبیوں اور گواہوں کو اور فیصلہ کردیا جائے گا سب لوگوں کے درمیان (ٹھیک ٹھیک) حق (و انصاف) کے عین مطابق اور ان پر (کسی طرح کا) کوئی ظلم نہیں ہوگا

123 رسولوں کی حاضری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حاضر کیا جائے گا اس روز تمام نبیوں کو "۔ تاکہ ان سے پوچھا جائے ان کی امتوں کے بارے میں " کہ کیا انہوں نے ان کو پیغام حق پہنچایا تھا کہ نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَلَنَسْاَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْاَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ } ۔ (الاعراف : 6) نیز فرمایا گیا ۔ { فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہَٓؤُلآئِ شَہِیْدًا } ۔ (النسائ :41) بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو حاضر کرکے ان سے ان کی امتوں کے بارے میں گواہی دلوائی جائے گی کہ انہوں نے ان لوگوں کو کیا تعلیم دی اور انہوں نے آگے اس کا کیا جواب دیا ؟ بہرکیف اس روز رسولوں سے ان کی امتوں کے بارے میں پوچھ ہوگی کہ انہوں نے دعوت حق کا کیا جواب دیا اور انبیاء سے کیا سلوک کیا ؟ چناچہ سورة مائدہ میں اس بارے ارشاد ہوتا ہے ۔ { یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ ، قَالُوْا لاَ عِلْمَ لَنَا، اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ } ۔ (المائدہ : 109) " جس دن اللہ جمع فرمائے گا سب رسولوں کو۔ پھر ان سے فرمائے گا کیا جواب دیا گیا تم کو تمہاری امتوں کی طرف سے۔ تو وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں بیشک تو ہی ہے اے اللہ سب غیبوں کو جاننے والا " ۔ 124 گواہوں کی حاضری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حاضر کیا جائے گا گواہوں کو "۔ یعنی ان فرشتوں کو جو کہ لوگوں کے اعمال کو لکھنے پر مامور تھے کہ خیر و شر جو بھی کچھ ان لوگوں نے کیا ہوگا وہ سب کچھ انکے سامنے کیا تھا۔ اور وہ سب لکھا ہوا اور محفوظ ہوگا (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، مراغی وغیرہ) ۔ نیز امت محمدیہ کو جو کہ پہلے انبیائے کرام کی تبلیغِ حق کے لئے گواہی دے گی۔ (خازن وغیرہ) ۔ نیز ان مجددین اور صدیقین کو بھی بلایا جائے گا جنہوں نے دین کو اس کی اصل اور صحیح شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اور اس امت کی حیثیت " شہداء اللہ فی الارض " کی ہے۔ سو لفظِ " شہداء " اپنی وسعت اور عموم کے ساتھ ان سب ہی مفاہیم کو شامل ہے۔ سو اس طرح جزا و سزا کے اس دن میں پورے عدل و انصاف کے ساتھ انکے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ سو ان سب " شہداء " اور گواہوں کی اس عظیم الشان یوم حساب میں طلبی ہوگی اور ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے لوگوں کو کیا بتایا اور سکھایا تھا۔ اور لوگوں نے اس کا کیا جواب دیا تھا ؟ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کسی کو اس کی زندگی کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی اصل اور کامل شکل میں پورے ہوجائیں گے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا ہر کسی کو اس کے (زندگی بھر کے) کئے (کرائے) کا اور وہ (وحدہ لاشریک) پوری طرح جانتا ہے ان کے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کرتے رہے تھے (اپنی دنیاوی زندگی میں)1

125 اعمال کا پورا بدلہ صرف قیامت کے روز : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ماضی کے صیغے کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر کسی کو اس کے ۔ زندگی بھر کے ۔ کیے کرائے کا "۔ سو اعمال کا کچھ بدلہ مختلف شکلوں میں اگرچہ اس دنیا میں بھی بعض اوقات مل جاتا ہے مگر پورا اور کامل بدلہ بہرحال آخرت ہی میں دیا جائے گا کہ دنیا کے ظرف میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ کسی کو اس کے عمل کا پورا بدلہ اس میں دیا جاسکے۔ اور دنیا اس کا محل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا " دارالعمل " ہے نہ کہ " دارالجزاء "۔ اور " دارالجزائ " دراصل آخرت ہی ہے۔ سو بدلہ و جزا کے اس دن میں ہر کسی کی جزا و سزا کے سلسلے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو اپنی کامل اور آخری شکل میں پورا کیا جائے گا۔ پس وہاں پر نہ کسی کی کوئی حق تلفی ہوگی اور نہ کوئی زیادتی۔ 126 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو یہ لوگ کرتے رہے تھے اپنی اپنی زندگیوں میں "۔ اس لئے اس کو نہ تو کسی محاسب اور کاتب کی ضرورت ہے اور نہ حساب و کتاب کی کہ وہ سب کچھ خود ہی جانتا ہے۔ پس حساب و کتاب اور گواہوں وغیرہ کی بات تو محض تکمیل حجت اور ازالہ عذر و معذرت کے لئے ہوگی۔ ورنہ اللہ پاک کے علم کامل کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے کوئی بھی اپنے کیے کا بھگتان بھگتنے سے بچ نہیں سکے گا۔ پس اس سے ان مشرکوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جنہوں نے طرح طرح کے مفروضے گھڑ کر اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور ہانک کرلے جایا جائے گا دوزخ کی طرف ان لوگوں کو جو اڑے رہے تھے (دنیا میں) اپنے کفر (و باطل) پر گروہ در گروہ کر کے یہاں تک کہ جب یہ (بدبخت) اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو کھول دئیے جائیں گے (ان کے لئے) اس کے دروازے اور اس کے کارندے ان (کی تو بیخ و تقریع کے لئے ان) سے کہیں گے کہ کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس ایسے رسول جو خود تم ہی میں سے تھے ؟ اور جو تم کو (پڑھ) پڑھ کر سنایا کرتے تھے تمہارے رب کی آیتیں ؟ اور تمہیں (ڈراتے اور) خبردار کیا کرتے تھے تمہارے اس (ہولناک) دن (کے آنے اور اس) کی پیشی سے ؟ تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہاں (یہ سب کچھ ضرور ہوا تھا) لیکن پکی ہوچکی تھی عذاب کی بات (ہم جیسے) تمام کافروں پر

127 کفار و مشرکین کا ٹھکانہ دوزخ : اوپر جس ہدایت و شہادت کا ذکر ہوا ہے اب یہ اس کا نتیجہ بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہانک کرلے جایا جائے گا کافروں کو دوزخ کی طرف "۔ خواہ وہ کھلے اور پکے کافر ہوں اور خواہ وہ نام تو ایمان کا لیتے ہوں مگر کام کفر کے کرتے ہوں کہ الفاظ کا عموم ان سب کو شامل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف عدالت اور شہادت کے تقاضے پورے کرنے کے بعد اب اس کے انجام کا بیان فرمایا یا ہے۔ اور مشرکوں کا انجام بھی وہی ہوگا جو کافروں کا ہوگا۔ اور شرک بھی کفر ہی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ماننا وہی معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ ورنہ ماننا نہ ماننا دونوں ایک برابر ہیں۔ پس ایمان میں اگر شرک کی آمیزش ہوگی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسا ماننا نہ ماننے کے برابر اور کفر ہی کے حکم میں داخل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 128 دوزخ کے دروازوں کے کھولے جانے کا ذکر وبیان : سو اس سے کافروں کے لیے دوزخ کے دروازوں کے کھولے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو کافروں کو ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور جب یہ وہاں پہنچیں گے تو کھول دیئے جائیں گے ان کیلئے دوزخ کے دروازے۔ جو اس سے پہلے بند تھے وہ ان کے آنے پر کھول دئیے جائیں گے۔ سو کافر جب گروہ در گروہ دوزخ کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے ان کیلئے کھول دیئے جائیں گے۔ اور دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اس کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے سے اپنی اپنی نوعیت اور حیثیت کے مطابق دوزخی وہاں داخل ہوں گے۔ اور جہنم ہی ان کا آخری ٹھکانا ہوگا جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیْنَ ، لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ، لِکَلِّ بَابٍ مِنْہُمْ جُزْئٌ مَقْسُوْمٌ} ۔ ( الحجر : 43-44) یعنی " جہنم ہی ان سب کا ٹھکانا ہوگا۔ اور اس کے سات دروازے ہوں گے جن میں سے ہر دروازے کے لیے ایک حصہ ہوگا مقرر اور طے شدہ " ۔ والعیاذ باللہ ۔ 129 دوزخیوں کی تقریع و تذلیل کے ایک منظر کا ذکر : سو اس سے دوزخیوں کی تقریع و تذلیل کے لیے ان سے ایک سوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو دوزخ کے کارندوں کا دوزخیوں سے یہ سوال ان کی تقریع اور تحقیر و تذلیل کے لیے ہوگا۔ اور اس طرح کی توبیخ و تقریع سے ان کے باطن کی آگ اور بڑھے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف دوزخ کے کارندے انکو دیکھ کر ان کی توبیخ و تقریع کیلئے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس ایسے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں آج کے اس دن کی پیشی سے خبردار کرتے ؟ سو اس طرح ان کی ذلت اور عذاب میں اور اضافہ ہوگا اور وہ رہ رہ کر اپنے ماضی اور اپنی دنیاوی زندگی میں اختیار کیے گئے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار پر افسوس کریں گے۔ لیکن اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں سوائے ان کی آتش حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 130 رسول انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں : سو دوزخ کے وہ کارندے ان سے کہیں گے کہ " کیا تمہارے پاس نہیں آئے تھے ایسے رسول جو خود تم ہی لوگوں میں سے تھے ؟ " ۔ { مِنْکُم } ۔ یعنی " وہ تم ہی لوگوں میں سے اور تمہاری ہی جنس میں سے تھے "۔ تاکہ تمہیں ان سے استفادہ کرنے میں اور ان کی طرف رجوع کرنے میں اور ان کی اتباع و پیروی میں کوئی دقت و دشواری نہ ہو۔ سو دوزخ کے وہ کارندے ۔ { مِنْکُم } ۔ کی اس قید کا بطور خاص ذکر کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء و رسل کی بعثت و تشریف آوری حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ایک عظیم الشان اور جلیل القدر نعمت ہے۔ پھر ان قدسی صفت ہستیوں کا انسانوں میں سے اور بشر و انسان ہونا دوسری بڑی نعمت ہے تاکہ اس طرح لوگوں کو ان کی اطاعت و اتباع میں کوئی دشواری نہ ہو۔ اور وہ بشری تقاضوں سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے بارے میں ان کو عملی نمونہ پیش فرما سکیں۔ مگر افسوس کہ عقل و نقل کے ان تمام تقاضوں کے باوجود اہل بدعت حضرات انبیائے کرام کو بشر ماننے کے لئے تیار نہیں اور بشریت انبیاء و رسل کے انکار کے لئے یہ لوگ طرح طرح کی تاویلات کے سہارے ڈھونڈتے اور تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ پیغمبر کا بشر اور انسان ہونا ایک ایسی بدیہی حقیقت اور بڑی نعمت ہے کہ دوزخ کے کارندے قیامت کے اس یوم حساب میں بھی اس کا بطور خاص ذکر کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کے ہر زیغ و انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین -
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ اب داخل ہوجاؤ تم سب دوزخ کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا پس بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا وہ متکبر لوگوں کے لئے

132 دوزخیوں کا حسرت و افسوس بھرا جواب : سو ان کے اس سوال کے جواب میں دوزخی حسرت و افسوس بھرے انداز میں ان سے کہیں گے کہ " ہاں لیکن پکی ہوگئی عذاب کی بات کافروں پر "۔ یعنی وہ بات جو اللہ پاک نے ایسے گناہ گاروں کے لئے اس طرح ارشاد فرمائی ہے ۔ { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الجِنّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ } ۔ (ھود : 119) مگر بےوقت کے ان لوگوں کے اس اقرار و اقبال جرم سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے حسرت و ندامت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر اور مزید وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا گیا کہ وہ اپنے اس جرم کا صاف اور صریح طور پر اقرار کریں گے۔ سو وہاں پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب بھی کسی گروہ کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے ولا نہیں آیا تھا ؟ تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہاں ہمارے پاس خبردار کرنے والا تو ضرور آیا تھا مگر ہم نے اس کی بات کو مان کر نہ دیا۔ سو ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا۔ تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہو۔ تب وہ کہیں گے کہ کاش کہ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے " (الملک :8-10) مگر بےوقت کے اس اعتراف سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوسکا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 133 کافروں کیلئے ہمیشہ کا عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب داخل ہوجاؤ تم سب دوزخ کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا کہ کافروں کیلئے ہمیشہ کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ کہ نہ تو اس کو کوئی فنا وزوال ہے اور نہ ہی ان کے لیے اس سے نکلنے کی کوئی صورت و سبیل۔ بلکہ دوزخ کا یہ عذاب بھی ہمیشہ کے لئے ہوگا اور ان کا اس میں رہنا اور جلنا بھی ہمیشہ کے لئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان بدبختوں سے صاف اور صریح طور پر کہا جائے گا کہ " اب داخل ہوجاؤ تم لوگ جہنم میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ان کے اپنے اس کفر و انکار کا طبعی نتیجہ ہوگا جس کو انہوں نے دنیا میں اپنائے رکھا تھا۔ اس لیے نہ تو ان کے پاس اس بارے کوئی عذر ہوگا اور نہ ہی ان کے لیے اس سے کسی مفر کی کوئی گنجائش ہوگی۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

ادھر (اعزازو اکرام کے ساتھ) لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے تھے اپنے رب سے (اپنی دنیاوی زندگی میں) جنت کی طرف گروہ در گروہ کر کے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور وہاں کے محافظ ان سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر بہت اچھے رہے تم پس داخل ہوجاؤ اب تم اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے

134 سو متکبروں کا ٹھکانا بڑا ہی برا ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا متکبروں کا " کہ اسی تکبر کی وجہ سے وہ حق کو قبول کرنے اور اس کی پیروی کرنے سے محروم رہے۔ سو ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو مزہ تم لوگ اپنے اس تکبر اور کفر و انکار کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دوزخ کا یہ ہولناک عذاب نتیجہ ہوگا انکے کفر و انکار کا۔ اور انکے اس کفر و انکار کا اصل سبب انکا وہ کبر و غرور ہوگا جس میں یہ لوگ مبتلا تھے اور جس کی وجہ سے یہ لوگ نور حق و ہدایت سے محروم رہے تھے۔ سو وہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا جس میں انکو ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مستکبرین کی اس صفت سے ان لوگوں کی محرومی کے اصل سبب اور باعث کو آشکارا فرما دیا گیا کہ وہ استکبار اور اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باطن میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھا۔ اور اسی بنا پر انہوں نے حق سے منہ موڑا اور کفر و انکار کو اختیار کر کے اس ہولناک انجام اور ہمیشہ کے عذاب سے دوچار ہوئے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 135 جنتیوں کے انعام اور ان کے اعزازو اکرام کا ذکر : سو اہل کفر و باطل کے انجام کے ذکر کے بعد اہل جنت اور ان کے انعام کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اعزازو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا پرہیزگاروں کو جنت کی طرف "۔ یعنی ان کی سواریوں کو اعزازو اکرام کے ساتھ اور جلدی جلدی جنت کی طرف لے جایا جائے گا تاکہ وہ جلد ان نعمتوں سے مستفید ہوں ۔ کَمَا وَرَد فِی الَاحَادِیْثِ الصَّحِیْحَۃ۔ (حاشیہ جامع البیان) ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ پس " سوق " کا لفظ کسی چیز کو کسی چیز کی طرف ہانک کر اور جلدی جلدی لے جانے کے معنیٰ میں آتا ہے۔ سو اپنی اصل کے اعتبار سے یہ لفظ اچھے اور برے دونوں ہی موقوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں پر یہ اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کیلئے استعمال ہوا ہے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کا مفہوم دوسرے کے بالکل برعکس ہے کہ اہل دوزخ کو تو بڑے سنگین مجرموں کی طرح دھکے مار مار کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یُدْعَوْنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا } ۔ (الطور : 14) ۔ اور اہل جنت کو معزز مہمانوں کی طرح فرشتوں کے جلوس میں نہایت اعزازو اکرام کے ساتھ خدائے رحمن کی طرف لے جایا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلٰی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا، وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا } ۔ (مریم : 85- 86) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔ 136 جنتیوں کے لیے جنت کے دروازے کھلے ہوں گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنتیوں کیلئے جنت کے دروازوں کو کھول دیا گیا ہوگا "۔ یعنی ۔ { وَفُتِحَتْ } ۔ میں واؤ حالیہ ہے کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے ان کے لئے کھول کر رکھ دئیے گئے ہوں گے۔ اور خدام وغیرہ ان کی آمد کے انتظار میں کھڑے ہوں گے۔ جیسا کہ شاہی مہمانوں کیلئے کیا جاتا ہے۔ بخلاف ابواب جہنم کے کہ وہاں واؤ حالیہ نہیں ذکر فرمائی گئی کہ وہاں کے دروازے اہل دوزخ کے وہاں پہنچنے پر ان کیلئے کھولے جائیں گے۔ نہ یہ کہ پہلے سے کھلے ہوں گے۔ سو اس تقابل سے اللہ پاک کی رحمت کی عظمت و وسعت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ فللہ الحمد ولہ الشکر۔ بہرکیف متقی اور پرہیزگار لوگوں کو جب فرشتوں کے جلو میں نہایت اعزازو اکرام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا تو ان کے اعزازو اکرام کیلئے جنت کے دروازوں کو ان کیلئے کھول دیا گیا ہوگا۔ اور اس کے دربان و پاسبان تحیت وسلام کے ساتھ انکا خیرمقدم اور استقبال کریں گے۔ اور وہ انکو نہایت خوشکن اور دلنواز کلمات سے نوازیں گے۔ تو اس وقت انکو جو کچھ سرور حاصل ہوگا اسکا اندازہ کرنا ہی آج کس کے بس میں ہوسکتا ہے ؟ ۔ { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَائً ا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ۔ (السجدۃ : 17) ۔ اللہ اپنے کرم بےپایاں سے ہمیں بھی اپنی اس جنت اور اس کی ان بےمثال نعمتوں سے نواز دے کہ اس کا کام اور اس کی شان ہی نوازنا اور ہمیشہ اور لگاتار نوازنا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیں بھی اپنی خاص عنایتوں سے نوازے ۔ آمین ثم آمین۔ 137 جنتیوں کے لیے فرشتوں کی طرف سے ترحیب و تسلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان خوش نصیبوں کو فرشتوں کے جلو میں جنت کی طرف لایا جائے گا تو فرشتے ان سے کہیں گے سلام ہو تم پر اور خوش رہو تم ۔ اے خوش نصیبو ! ۔ "۔ کہ دنیا میں تم نے نور ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال ہو کر ایک پاکیزہ زندگی ۔ حیات طیبہ ۔ گزاری۔ جس کے نتیجے میں اب آپ لوگ اللہ پاک کے بےپایاں فضل و کرم سے جنت کی ان دائمی اور سدا بہار نعمتوں سے ہمکنار ہو رہے ہو۔ سو اس سے بڑھ کر کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ { وَذَالِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْن } ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ان سے کہا جائے گا کہ جس طرح آپ لوگ دنیا میں کفر و شرک اور معاصی وذنوب سے بچ کر رہے اور وہاں پر پاکیزہ زندگی گزاری تھی اسی طرح اب آپ لوگ یہاں پر ہر طرح کی تکلیف اور پریشانی سے محفوظ رہ کر جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفراز و فیضیاب ہوؤ۔ سو اس وقت ان خوش نصیبوں کو جس خوشی و مسرت سے سرفرازی نصیب ہوگی اس کا اندازہ کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ (فرط مسرت میں) کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے سچ کر دکھایا ہم سے اپنا وعدہ اور ہم کو وارث بنادیا (جنت کی) اس سرزمین کا جس میں ہم جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنا سکتے ہیں سو کیا ہی عمدہ بدلہ ہوگا کام کرنے والوں کا

138 اہل جنت کے لیے ایک اور عظیم الشان اور بےمثال خوش خبری : سو ان خوش نصیبوں کو وہاں پر خلود و دوام کی بےمثال خوشخبری سے نوازتے ہوئے ان سے کہا جائے گا " پس تم داخل ہوجاؤ اس جنت میں ہمیشہ رہنے کیلئے " ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ کہ نہ تو ان نعمتوں کو کوئی زوال اور نہ تمہیں یہاں سے نکلنے اور محروم ہونے کا کوئی ڈر اور خطرہ ۔ { خَالِدْیِنَ فِیْہَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلاً } ۔ اَللّٰہُمَّ مِنْ اَہْلِہَا ۔ سو دوام و خلود جنت کی وہ امتیازی اور منفرد نعمت ہے جو اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ دنیا میں ملنے والی ہر نعمت بھی عارضی اور فانی اور اس سے مستفید و فیضیاب ہونے والا انسان بھی فانی۔ جبکہ جنت کی وہ عظیم الشان اور بےمثال نعمتیں بھی ابدی اور دائمی ہونگی اور ان سے مستفید و فیضیاب ہونے والا انسان بھی حیات ابدی کی نعمت سے سرفراز و سرشار ہوگا۔ سو آخرت کی نعمتیں کم و کیف ہر اعتبار سے بہتر ہونگی ۔ { والآخرۃ خیر و ابقی } ۔ (الاعلی : 17) ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 139 جنتیوں کے کیف و سرور کا ایک روح پرور منظر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ وہ خوش نصیب اس انعام واحسان خداوندی پر کیف وسرور میں ڈوب کر اس کی حمد و ثنا سے رطب اللسان ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ " شکر ہے اس اللہ کا جس نے سچ کر دکھایا ہم سے اپنا وعدہ "۔ جو کہ اس نے اپنے رسولوں کے واسطے سے ہم سے فرما رکھا تھا کہ ایمان اور عمل صالح پر وہ اپنے بندوں کو جنت سے سرفراز فرما دے گا اور انکے ذریعے وہ انکو ایسی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازے گا " ۔ فلہ الحمد و لہ الشکر۔ سو اہل جنت جب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے فرمائے تھے وہ سب اس نے ایک ایک کرکے پورے فرمائے تو وہ بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ شکر ہے اللہ کا کہ اس نے ہم سے اپنے سب وعدے پورے فرما دیئے اور ہمیں ان اور ان انعامات سے نواز دیا ۔ جعلنا اللہ منہم سبحانہ و تعالیٰ - 140 میراث جنت سے سرفرازی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جنت کے وہ خوش نصیب باسی اپنے کلمات حمد وثنا میں مزید کہیں گے کہ " اس نے ہمیں وارث بنادیا ۔ جنت کی ۔ اس سرزمین کا " کہ وراثت کی ملکیت سب سے پختہ اور مضبوط ملکیت ہوتی ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی خطرہ اور اندیشہ نہیں ہوتا۔ نیز جس طرح وراثت اپنے کسی عمل کے بدلے میں نہیں ملتی اسی طرح جنت کی یہ نعمتیں بھی ہمارے کسی عمل کا بدلہ نہیں ہونگی بلکہ یہ محض اس اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین کا فضل و کرم ہوگا ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر۔ نیز اس میں یہ لطیف تلمیح بھی ہے کہ یہ جنت ہمارے باپ آدم کو ملی تھی جس سے شیطان نے انکو ورغلا کر محروم کرا دیا تھا۔ اس کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ اولاد آدم دنیا میں جاکر شیطان سے مقابلہ کرے۔ تو جو شیطان سے جیت جائیں گے وہ اس جنت کے وارث ٹھہریں گے۔ اور جو شیطان کے فتنوں میں پھنس جائیں گے وہ جنت سے محروم ہو کر شیطان کے ساتھ دوزخ میں پڑیں گے۔ سو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم اس کے فضل و کرم سے اس امتحان میں کامیاب ہوگئے اور ہم اپنے باپ کی کھوئی ہوئی میراث یعنی جنت سے پھر سرفراز ہوگئے۔ اور عدو مبین شیطان رجیم و لعین کے علی الرغم ہم یہاں پہنچ گئے اور اپنے جدِّ امجد حضرت آدم کی اس میراث سے سرفراز ہوگئے ۔ فالحمدللہ ۔ اللہ اس سے سرفراز ومالا مال فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔