Ayah 39:3169 سب کی حاضری رب کی عدالت میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب قیامت کے روز اپنے رب کے پاس اپنے جھگڑے پیش کرو گے "۔ اور وہاں تمہارے اختلافات کا عملی طور پر اور آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق پا کر رہے گا۔ سو اس میں پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور مخالفین کیلئے تہدید و تنبیہ کہ توحید و شرک کے جس مسئلے میں آج تم لوگ اختلاف کر رہے ہو کل قیامت کے روز تمہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اس کی جوابدہی کرنا پڑیگی۔ اور وہاں تم لوگوں کے سب اختلافات کا آخری، حقیقی اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور وہاں پر ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور شرک کے حمایتی اور اس کے پرچارک اپنے اس آخری انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ سو اس یوم حساب کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اصل اور حقیقی کامیابی وہیں کی کامیابی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل
Ayah 39:3270 اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ العظیم : اس ارشاد سے اصل میں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی پیشگی خبر دے دی گئی جو اس کی عدالت میں حساب و کتاب کے اس یوم عظیم میں ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ "۔ کہ اس کے لئے شریک ٹھہرائے، اس کے لئے اولاد مانے یا فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کذب علی اللہ " اللہ پر جھوٹ باندھنا " ہے۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہے۔ اور ایسے ظالم لوگوں کو اپنے ظلم و بغاوت اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان اس روز بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جل وعلا -
71 حق اور صدق کو جھٹلانا بھی بہت بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا وہ جھٹلائے سچ کو جبکہ وہ اس کے پاس پہنچ جائے "۔ یعنی اس حق و صدق اور سچائی کو جو پیغمبر کے ذریعے ان کے پاس پہنچ گئی توحید خداوندی کی دعوت، فرائض و احکام شریعت کی پابندی، محرمات و نواہی الہیہ سے بچنے کی تعلیم و تلقین اور قیام قیامت کا عقیدئہ و خبر اور اس کے لئے تیاری وغیرہ ۔ { اذ جاء ہ } ۔ کی قید سے اتمام حجت کے پہلو کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کے پاس سچائی پہنچی نہیں یا اس میں کوئی خفا رہ گیا ہو اور اس بنا پر آدمی اس سے محروم رہ جائے تو اس کیلئے کچھ عذر ہوسکتا ہے۔ لیکن جس کے پاس سچائی پہنچ چکی ہو اور حق اور حقیقت کی وضاحت پوری طرح ہوچکی ہو اور وہ اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی سے اسکا انکار کرے تو اس کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ صدق سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے جو کہ سچائی کا جامع اور حق و صدق کا منبع ومصدر ہے۔ اور جس نے اپنے بیان حق ترجمان سے ہر باب میں اختلاف کو رفع کر کے حق و صدق کو پوری طرح واضح کردیا۔ سو اس نور حق و ہدایت کو صدق دل سے اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ جبکہ اس سے اعراض و روگردانی اور اس کی تکذیب ۔ والعیاذ باللہ ۔ ظلموں کا ظلم اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
72 کافروں کا ٹھکانا یقینی طور پر جہنم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید و تقریر کے لیے استفہام کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا ؟ "۔ استفہام یہاں پر تقریری ہے۔ یعنی ہاں۔ ایسے منکروں کے لئے دوزخ ہی آخری ٹھکانا ہے اور وہی ان کا ٹھکانا ہونا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا اور سچ کو جھٹلانا جبکہ وہ اس کے پاس پہنچ جائے ہولناک کفر اور سنگین جرم ہے۔ اور ایسے ہولناک کفر اور سنگین جرم کی سزا دوزخ کی وہ دہکتی بھڑکتی آگ ہی ہوسکتی ہے۔ سو وہی ایسے کافروں کا دائمی ٹھکانہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استفہامی انداز میں ارشاد فرما کر اس حقیقت کو مؤکد اور پکا فرما دیا گیا کہ ایسے کافروں کا ٹھکانا بھی دوزخ نہیں ہوگا ؟ سو جس کے اندر ذرہ برابر بھی معقولیت ہوگی وہ اس کی حقیقت کو تسلیم کرے گا کہ ایسے بدبختوں کا ٹھکانا دوزخ ہی ہونا چاہیے۔ سو حساب کے اس یوم عظیم میں ایسے ہی ہوگا اور اس قسم کے تمام کافروں کو دوزخ میں ٹھونس دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:3373 متقی اور فائز المرام لوگوں کا ذکر : سو اس ارشاد سے دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں اور فائز المرام لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہ متقی اور پرہیزگار لوگ جو بچ گئے کفر و شرک کی ظلمتوں اور معاصی وذنوب کے اندھیروں سے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ بچ گئے دوزخ کی آگ اور اس کے ہولناک عذاب سے۔ اور ان کو نواز دیا گیا ربِّ رحمن کی رحمتوں اور عنایتوں سے۔ اور وہ سرفراز ہوگئے جنت کی سدا بہار نعمتوں سے ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحْضِ مَنِّہٖ وَکَرَمِہ وَہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ۔ بہرکیف یہ دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا بیان ہے۔ یعنی دوسرے فریق کا اور اس سے قرآن کے لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والوں کا صلہ و انجام بیان فرما دیا گیا کہ ایسے حضرات دوزخ سے محفوظ رہ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے جہاں یہ ہمیشہ کیلئے شاہانہ زندگی گزاریں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو ۔ { اَلَّذِیْ جَائَ بالصِّدْقِ } ۔ " جو سچائی لے کر آیا " سے مراد اللہ کے رسول ہیں ۔ (علیہ السلام) ۔ جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے وہ نور مبین اور پیغام حق و صداقت لے کر آئے جس سے دنیا کے لیے حق و صداقت کی راہ نجات روشن ہوئی۔ اور جس سے ایک دنیا کی دنیا مستنیر و مستفید اور متمتع و فیضیاب ہوئی۔ اور۔ { صَدَّقَ بِہِمْ } ۔ سے مراد وہ سب لوگ ہیں جنہوں نے اس کی تصدیق کی اور صدق دل سے اس کو اپنایا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 39:34–3574 اہل جنت کی شاہانہ زندگی کا ایک اہم پہلو : کہ " وہاں پر ان کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی یہ خواہش کریں گے " ۔ سبحان اللہ !۔ جنت کی زندگی کیسی شاہانہ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عمدہ اور اعلیٰ وارفع زندگی ہوگی کہ وہاں جنتی انسان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ جبکہ دنیا میں یہ بات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ نیز اسی سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان کرم و عطا اور نوازش و بخشش کا بھی کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب حیات مستعار کی اس مختصر و محدود فرصت کو اپنی خواہشات کو کچل کر حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق گزارتا ہے تو اس کے صلہ و عوض میں وہ اس کو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں من چاہی زندگی گزارنے کی سعادت سے ہمیشہ ہمیش کے لئے نواز دیتا ہے ۔ سُبْحَانَہ وتَعالٰی ۔ فَیَا لَہ مِنْ کَرَمٍ وَعَطَائٍ فُخُذْنَا بَنَوَاصِیْنَا یَآ اَللّٰہُ اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّکَ والرّضاء ۔ بہرکیف ۔ { لَہُمْ مَا یَشَائُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ۔ کے یہ کلمات کریمہ نہایت ہی جامع کلمات ہیں۔ جن سے ان خوش نصیبوں کے اس صلے اور بدلے کو بیان فرمایا گیا جس سے ان کو وہاں پر نوازا جائے گا۔ یعنی ان کے لیے ان کے رب کے یہاں وہاں پر وہ سب کچھ موجود ہوگا جس کی یہ خواہش کریں گے۔ ان کی خواہشوں اور چاہتوں کی تکمیل میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اپنے کرم بےپایاں سے ان کی ہر آرزو کو پورا فرمائے گا ۔ { عند ربہم } ۔ کے کلمات کریمہ سے ایک طرف ان خوش نصیبوں کے اس درجہ و مقام کو بیان فرما دیا گیا ہے جس سے یہ وہاں پر سرفراز اور فائز المرام ہوں گے۔ دوسری طرف اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ بندے کے لیے سب سے اونچا اور بلند مرتبہ قرب خداوندی ہی کا ہوسکتا ہے نہ کہ اس میں ضم ہوجانے کا۔ جس طرح کہ حلول اور اتحاد کے قائل گمراہ لوگوں کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:3675 اللہ کافی ہے اپنے بندے کو ہر اعتبار سے : اس کی حفاظت کے لیے اور اس کی جملہ ضروریات و حاجات کے لیے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کو ؟ "۔ اسلوب بلاغت کے مطابق معنیٰ میں قوت اور زور پیدا کرنے کے لئے اس کو استفہام تقریری کی صورت میں ذکر میں فرمایا گیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ یعنی ہاں وہ ۔ وحدہ لا شریک۔ اپنے بندے کو کافی ہے۔ اور ہمیشہ اور ہر طرح سے کافی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور بندے سے مراد ہے اس کا خاص بندہ یعنی امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سو سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی اللہ وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس کس قدر بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس قادر مطلق اور کارساز مطلق کو چھوڑ کر اس کی عاجز اور بےبس مخلوق کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر اس کو پوجتے پکارتے ہیں ؟ کوئی کہتا ہے " یا علی مدد "۔ کوئی " یا حسین " کوئی " یا غوث " اور کوئی " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسی پاکیزہ ہستیاں خود زندگی بھر اللہ پاک ہی کو حاجت روا و مشکل کشاسمجھ کر پکارتی اور اسی کے حضور رجوع کرتی رہیں۔ روایات میں ہے کہ کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کو ڈرانے دھمکانے کے لئے کہا کہ اگر آپ ﷺ نے ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا نہ چھوڑا تو یہ آپ کو سخت نقصان پہنچا دیں گے۔ تو اس کا جواب اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا (ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، خازن، صفوہ اور معارف وغیرہ) ۔ سو اہل باطل کا یہ قدیم طریقہ اور پرانا دستور و وطیرہ رہا ہے کہ وہ اہل حق کو راہ حق و صواب سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے اسی طرح کے ڈراو وں اور دھمکیوں سے کام لیتے ہیں۔ کہیں بےجان بتوں اور مورتیوں سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ کہیں من گھڑت دیویوں اور دیوتاؤں سے۔ کہیں فرضی وہمی خداؤں سے اور کہیں خود ساختہ سرکاروں سے۔ اور کہیں وقت کے حکمرانوں اور افسران بالا سے وغیرہ وغیرہ۔ اسی لئے اہل حق و اہل توحید کو درس دیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی سے بھی مت ڈرو کہ ان کے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اصل میں ڈرو اللہ سے جو کہ سب کا خالق ومالک اور ربِّ رحمن و رحیم ہے کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہی سب کا خالق ومالک، حاجت روا و مشکل کشا اور کارساز و کار فرما ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے فرمایا گیا ۔ { اَ لَیْسَ اللّٰہُ بَکَافٍ عَبْدَہ } ۔ یعنی " کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ؟ " جو تم دوسروں کی طرف جھکتے ہو ؟۔ بَلٰی یَا رَبَّنَا فَزِدْنَا اِیْمَانًا بِکَ وَیَقِیْنًا وَصِدْقًا وَاِخْلاصًا وَحُبًّا فِیْکَ وَخُشُوْعًا لَّکَ وَخُضُوْعًا ۔ وَخُذْنَا بَنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمِلَ وَاَنْتَ الْاَعَزُّ الاَکْرَمُ وَاَنْتَ اَکْرَمُ الاَکْرَمِیْنَ وَاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ جو بندے صدق دل سے اللہ پر ایمان رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ ان کی حفاظت اور حمایت کے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی چیز بھی اس کو کوئی تکلیف اور نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اگر کوئی اس خوف اور اندیشہ میں مبتلا ہو کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی مرضی کے علی الرغم اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کو اپنی حفاظت کے لیے کافی نہیں سمجھتا۔ اور یہ چیز بالبداہت کفر و شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
76 مشرکوں پر خداوند تعالیٰ کی مار و پھٹکار ۔ والعیاذ باللہ : سو مشرکوں کی جہالت اور ان کی حماقت پر ان کی ملامت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اللہ ڈال دے گمراہی میں اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا "۔ کہ اس کے آگے اور کوئی ایسی ہستی ہے ہی نہیں جس کے بارے میں ایسا تصور بھی کیا جاسکے۔ اور اس کے گمراہی کے گڑھے میں ڈال دینے کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی ہدایت کی طلب نہیں رکھتا اور وہ اس سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ اس کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔ بلکہ ۔ { نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی } ۔ کے مصداق وہ اس کو ادھر ہی پھیر دیتا ہے جدھر وہ خود جانا چاہتا ہے کہ ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی دولت ہے اس کی فیض رسانیوں سے وہ ملتی تو سب کو بالکل مفت اور بلا کسی عوض اور معاوضہ کے ہے مگر اس کے لئے طلب صادق شرط اولین ہے۔ جس سے ایسے بدبخت محروم ہوتے ہیں اور زور زبردستی کا نہ یہ سودا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہی ہے ۔ { اََنُلْزِمُکُموْہَا وَ اَنْتُمْ لَہَا کَارِہُوْنَ } ۔ (ھود : 28) بہرحال اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے اس دستور کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ ہدایت وغوایت کے سلسلے میں اس کی مخلوق میں کارفرما ہے۔ سو اس سلسلے میں پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر دعوت حق کو قبول نہیں کرتے اور اس سلسلے میں یہ عناد اور ہٹ دھرمی ہی سے کام لے رہے ہیں تو اس سے آپ افسردہ اور غمگین نہ ہوں کہ ان لوگوں پر انکے اپنے اعمال اور سوئِ اختیار کی بنا پر اللہ کی مار پڑچکی ہے۔ اور یہ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ جسکی بنا پر اللہ نے انکو گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیا ہے۔ اور جسکو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ لہذا آپ ایسوں کی پروا نہ کریں۔ کیونکہ ایسے میں ان کو کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں۔ سو ایسے لوگ اپنی ہلاکت و تباہی کے ذمہ دار خود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 39:37–3977 اللہ کی عطا و بخشش کو کوئی روک نہیں سکتا : کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس کو اللہ راہ راست پر لے آئے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا "۔ یعنی جس کو وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز فرما دیتا ہے اس کے صدق و اخلاص اور طلب صادق کی بنا پر۔ تو اس سے اس کی اس نعمت کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ سو ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اسی کی بخشش و عنایت سے ملتی ہے اور اسکا اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کے قلب و نیت پر ہے۔ جسکے قلب و باطن کی دنیا درست ہوگی اور اس کے اندر نور حق و ہدایت کیلئے تڑپ اور طلب صادق پائی جائے گی وہ واہب مطلق اس کو نور حق و ہدایت سے سرفراز فرما کر اس کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دے گا۔ اور جس کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا کہ کسی کی یہ جان نہیں کہ وہ اس کی عطا وبخشش کو روک سکے۔ پس بندے کو چاہیے کہ وہ بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی پر رکھے اور اس کے ساتھ اپنا تعلق اور معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
78 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا ذکر اس کی دو صفتوں کے حوالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا اللہ سب پر غالب اور بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟ "۔ استفہام تقریر و تاکید کے لئے ہے۔ یعنی ہاں وہ ضرور ایسا ہی ہے۔ پس نہ کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ کر نکل سکتا ہے اور نہ ہی کسی میں اس کے بدلے و انتقام سے بچ نکلنے کا یارا ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ راہ حق و صواب کو اپنا کر آج اپنا معاملہ اس کے ساتھ درست کرلو اور صدق دل سے اس کے آگے جھک جاؤ۔ تاکہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکو جو کہ عدل وا نصاف کے تقاضوں کے مطابق ضرور ہو کر رہنی ہے۔ پس آج بچاؤ کی فکر کرلو قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور پھر پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس استفہام اور تنبیہ میں ان گمراہ اور مشرک لوگوں کے قلب و ضمیر کو دستک دی گئی ہے جو اپنے خودساختہ اور من گھڑت معبودوں کی پوجا پاٹ کرتے اور دوسروں کو اس کاروبار کفر و شرک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کو وہ اپنے ان بناوٹی اور بےحقیقت خداؤں کی گرفت اور پکڑ سے ڈراتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو اسکا کوئی پاس و احساس نہیں کہ جس اللہ کی وہ مخلوق اور اس کے بندے ہیں وہ ایک نہایت ہی زبردست اور انتقام لینے والی ہستی ہے۔ وہ انکو دیکھ رہا ہے اور اس نے ان سے بہرحال بازپرس کرنی ہے۔ اور انہوں نے بہرحال اس کے یہاں حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور پھل پانا ہے ؟ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو اس کے لیے قیامت کا قائم ہونا اور عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔
Ayah 39:4082 مشرکوں سے اعلان براءت و بیزاری کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد میں " قل " کے صیغہ امر سے مشرکین سے براءت و بیزاری کے اعلان کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی مشرکوں سے کہا جائے کہ اگر ان اور ان براہین قاطعہ کے باوجود اگر تمہاری آنکھیں نہیں کھلتیں، تمہارے دلوں کے زنگ نہیں اترتے اور تمہارے باطن کی میل نہیں جاتی اور تم حق کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تمہاری فطرت مسنح ہوچکی ہے اور تم راہ راست پر آنے والے نہیں ہو۔ لہذا اب آخری جواب و اعلان یہی ہے کہ تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ۔ میں اپنی جگہ اپنا کام کرتا رہوں گا۔ عنقریب ہی جبکہ دوسرے جہاں میں اصل حقائق کھل کر تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائیں گے جس کے لیے میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں تو اس وقت تمہیں کھرا کھوٹا سب خود معلوم ہوجائے گا اور حقیقت حال کھل کر تمہارے سامنے آجائے گی۔ مگر اس وقت کا ماننا اور پچھتانا تمہیں کچھ کام نہ دے سکے گا۔ وہ وقت آنے پر خود تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اس کو رسوا کر دے اور کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اس پر ٹک کر رہ جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال و سوء وانحراف۔
Ayah 39:4183 گمراہوں کی گمراہی کی پیغمبر پر کوئی ذمہ داری نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ (علیہ السلام) انکے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں "۔ کہ ان کو ایمان پر مجبور کردیں اور ان کو راہ حق و ہدایت پر لا کر ہی چھوڑیں کہ ہدایت دینا تو ہمارے اختیار میں ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کون کس لائق ہے ؟ اور ہم ہی جانتے ہیں کہ آیا وہ دولت ایمان کے قابل ہے یا نہیں۔ آپ ﷺ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اور آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو اب جو اس حق کو قبول کریں گے وہ خود اپنا ہی بھلا کریں گے کہ اس طرح وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکیں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑیں گے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے کہ اس طرح وہ نور حق سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب کر رہ جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو پیغمبر کے ذمے انذار و تبلیغ ہے اور بس۔ یعنی کلمہ حق کو بلا کم وکاست پہنچادینا اور بس۔ آگے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا اور حق بات اس سے منوا لینا نہ ان کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ سو گمراہوں کی گمراہی کی پیغمبر پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ ان کا کام صرف تبلیغِ حق ہے ۔ بر رسولاں بلاغ است وبس ۔ اس کے بعد جو نہیں مانتے وہ اپنی گمراہی اور ہلاکت و تباہی کے ذمہ دار خود ہیں۔
Ayahs 39:42–4484 زندگی اور موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی زندگی اور اس کی موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی روحیں قبض کرتا ہے سب جانداروں کی ان کی موت کے وقت "۔ ہر جاندار اور ہر انسان کی۔ جب چاہے اور جیسے چاہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تمہاری موت اے انسانو ! کسی بھی وقت کسی بھی طرح اور کسی بھی جگہ آسکتی ہے۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، گھر میں، گھر سے باہر، سفر میں، حضر میں، زمین پر، فضا میں، بحر میں، بر میں، دن کے وقت، رات کے وقت۔ کسی بیماری یا اندورنی خرابی سے یا کسی بیرونی حادثے سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں تم لوگ یکایک حیات مستعار کی صورت میں ملنے والی اس فرصت عمل سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوسکتے ہو۔ اور پھر کبھی اور کسی بھی طور پر یہ تمہیں دوبارہ ملنے والی نہیں ہے۔ تو اس صورت حال میں اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد اور اس کی اطاعت و بندگی سے غفلت و لاپرواہی برتنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنے انجام سے غفلت و بےفکری سے کام لینا کس قدر ہولناک خسارے اور نقصان کا سودا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو زندگی اور موت کا معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جسکی اجل مقرر پوری ہوجاتی ہے اللہ اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔ اور جسکی موت نہیں آئی ہوتی اس کو بھی وہ اس کی نیند کی صورت میں ہر روز اس کی موت اور پھر موت کے بعد اٹھنے کا مشاہدہ کراتا ہے۔ 85 نیند موت کا نمونہ اور اس کی ریہرسل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کی نیند کی صورت میں " یعنی انکے اوپر ان کی موت کا ایک نمونہ ان کی نیند کی صورت میں ان پر طاری کردیا جاتا ہے جس میں ان کے لیے ایک عظیم الشان تذکیر و یاددہانی اور موت اور بعث بعد الموت کی ریہرسل ہوتی ہے۔ اسی لئے نیند کو " وَفاۃِ صُغْریٰ "، " چھوٹی موت " اور " اُخْتُ الْمَوْت "، " موت کی بہن " کہا جاتا ہے۔ اور اس طرح ہر دن نیند کے ذریعے ہر انسان کو اس کی اس بڑی نیند یعنی اس کی موت کی ریہرسل اور یاد دھانی کرائی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی آخرت کو یاد رکھے اور اس کیلئے تیاری کرے۔ مگر افسوس کہ غافل انسان ہر دن کی اس تذکیر و ریہرسل سے کوئی سبق نہیں لیتا حالانکہ اپنی نیند کی صورت میں وہ روزانہ اپنی موت کا نمونہ دیکھتا ہے۔ اور صبح اٹھنے کی صورت میں وہ روزانہ بعث بعد الموت کے نمونے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اور اس طرح نیند اور بیداری کے اس پر حکمت سلسلے سے اس کو دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں لگاتار یہ درس دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اس دنیاوی زندگی کو زندگی جاوید نہ سمجھے۔ اور اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھے کہ یہ زندگی فانی ہے اور اس میں کرنے کا اصل کام آخرت کی حقیقی زندگی کے لیے تیاری کرنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ بہرکیف نیند موت کی ایک عظیم الشان ریہرسل ہے لیکن دنیا اس سے غافل ہے ۔ الا ما شاء اللہ۔
86 فرصت حیات محدود و معین : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ زندگی کی فرصت و مہلت ایک معین مدت تک کے لیے ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور انکو وہ مہلت دیتا ہے ایک مقررہ مدت تک "۔ یعنی ان کی موت کے مقرر وقت تک۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر لوگ سو کر اٹھ جاتے ہیں۔ مگر کتنے ہی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس نیند ہی میں ہمیشہ کے لئے سو جاتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وشرّ ۔ سو ہر جاندار کی زندگی اللہ پاک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے اس کی جان قبض کرلے۔ پس اپنی موت اور اپنے انجام سے غفلت و لاپرواہی برتنا بڑے ہی خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو زندگی کی اس محدود و معین مہلت کا حق اور اس کا مصرف یہ ہے کہ اس کو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی رضا و خوشنودی اور آخرت کی کامیابی اور فوز و فلاح کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لیے صرف کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
87 غور و فکر والوں کے لیے عظیم الشان نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں "۔ کہ غور و فکر اور صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینے والے لوگ ہی اس سے صحیح نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ ورنہ جو لوگ غور و فکر کی اس دولت سے محروم ہوتے ہیں ان کے لئے دفتروں کے دفتر بھی ناکافی و بےسود ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو صحیح طور پر غور و فکر کرنے والوں کیلئے اس میں ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کی خلق و تدبیر کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اسی طرح زندگی اور موت کا تمام تر سلسلہ بھی اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ نیز جب زندگی اور موت کے سلسلے میں کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں تو پھر مرنے کے بعد کوئی اور کس طرح اسکا مرجع و مولیٰ بن سکتا ہے ؟ پس بھروسہ کے لائق اللہ وحدہ لاشریک کی ذات اقدس و اعلیٰ ہی ہے جو کہ خالق ومالک برحق ہے اس پوری کائنات کا۔ پس بھروسہ ہمیشہ اسی پر کرنا چاہیئے سب بھروسہ کرنے والوں کو۔ اسی طرح نیند اور بیداری کے اس عمل سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا کچھ مستبعد نہیں کہ اس کا نمونہ انسان روزانہ نیند اور بیداری کی صورت میں دیکھتا ہے۔ اور سو کر اٹھنے پر۔ " الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور " ۔ کی جو دعا حدیث میں بتائی گئی ہے اس میں بھی یہی درس دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا ترجمہ و مطلب بھی یہی ہے کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کے حضور دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان اور پر حکمت دعائیں ہیں جو قرآن وسنت میں تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہیں۔
Ayah 39:4589 مشرکوں کی عقیدئہ توحید سے چڑ اور علامہ آلوسی کا ایسے مشرکوں کے حال پر رونا : سو اس سے اہل کفر و شرک کی عقیدئہ توحید سے چڑ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علامہ آلوسی بغدادی نے اپنے دور کے مشرکوں کے بارے میں یہی رونا رویا ہے۔ یہی حال آج کے کلمہ گو مشرکوں کا ہے کہ توحید خالص اور قرآن و سنت کے صاف بیان سے ان کے تیور بگڑنے اور انداز بدلنے لگتے ہیں۔ ان کے دل کڑھنے اور چہروں کے رنگ متغیر ہونے لگتے ہیں۔ اور جب اس کے برعکس ان کی خودساختہ سرکاروں اور ہستیوں اور ان سے متعلق جھوٹ موٹ کے قصے سنائے جائیں تو ان کے ذکر پر یہ لوگ اچھل پڑتے ہیں اور طرح طرح کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور آہ و واہ کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ مشہور حنفی عالم، صاحب روح المعانی مفسر آلوسی بغدادی ۔ (رح) ۔ نے اس مقام پر اپنے دور کے اسی طرح کے کلمہ گو مشرکوں کے ایسی ہی شرکیات کا رونا جس درد بھرے انداز میں رویا ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ نیز وہ لکھتے ہیں کہ ایک روز میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کہ ایک مردہ بزرگ کو حاجت روائی کے لئے پکار رہا تھا۔ تو میں نے اس سے کہا کہ تو اللہ کو کیوں نہیں پکارتا جو کہ ہر جگہ ہے اور ہر کسی کی سنتا ہے ؟ تو وہ سخت غصے ہوگیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص بزرگوں کا منکر ہے۔ نیز لکھتے ہیں کہ میں نے بعض لوگوں کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ ولی و بزرگ اللہ کے مقابلے میں جلد حاجت روائی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں یہ کھلا کھلم کفر ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی) ۔ یہ تو انہوں نے ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کے کلمہ گو مشرکوں کے حال بد کا رونا رویا ہے جبکہ ہمارے اس دور اور ہمارے ملک کا حال تو اس سے کہیں بڑھ کر برا اور بدتر ہوچکا ہے۔ کفر و شرک کا کاروبار کھلے عام اور طرح طرح سے چلایا اور پھیلایا جا رہا ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی فلسفہ طرازیوں اور سخن سازیوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ اور بہت جگہوں میں تو وقت کی حکومتوں کی سرپرستی میں ایسا کیا جا رہا ہے۔ کتنی قبریں ایسی ہیں جن کو منوں کے حساب سے عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی وَہُوَ الْمُسْتَعَانُ ۔ سو پیغمبر کو ایسے لوگوں کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ایسے لوگوں کے بارے میں اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کریں کہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی نمونے اور مثال کے وجود میں لانے والے اور نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والے۔ تو ہی فیصلہ فرمائے گا ان لوگوں کے درمیان ان تمام باتوں کے بارے میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ سو ان کا معاملہ تیرے ہی حوالے ہے۔ یہ ہمارے بس سے باہر ہیں۔ پس تو خود ہی ان سے نمٹ۔
Ayah 39:4690 ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ کے حوالے : سو اس سے ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے۔ اور ایک برابر جاننے والے نہاں وعیاں کے۔ تو ہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان ان تمام باتوں کے بارے میں جن میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ پس تو ہی اے میرے مالک ! میرے لئے کافی ہوجا اور مجھے راہ حق پر ثابت قدم رکھ۔ جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ابوداؤ وغیرہ میں اسماء وصفات کے ضمن میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے تفصیلاً مروی ہے۔ سو اس میں پیغمبر کو یہ تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ ان ہٹ دھرم لوگوں کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کردیں۔ کیونکہ یہ لوگ جب اپنی خیالی جنت سے نکلنے کو تیار نہیں تو ان سے الجھنے اور انکو منہ لگانے سے کیا فائدہ ؟ ایسے ہٹ دھرم لوگ تو ایسے ہی خیالی پلاؤ پکانے اور مزیدار خواب دیکھنے میں لگے رہیں گے۔ یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ اس لیے آپ اپنے رب کے حضور یہ دعا کریں جو یہاں تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ کا رب ہی ان کے درمیان اپنے عدل و انصاف کے مطابق روز قیامت میں فیصلہ فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 39:4791 دنیاوی زندگی کی عظمت و اہمیت کے ایک خاص پہلو کا ذکر : سو اس سے دنیاوی زندگی کی عظمت و اہمیت کا یہ خاص پہلو ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ اس میں معمولی محنت سے بھی آخرت کی کمائی کی جاسکتی ہے جبکہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد آخرت کی کمائی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز مشرکین و منکرین کو روئے زمین کی دولت کے بدلے بھی وہاں کے عذاب سے چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔ سو آج تو ان لوگوں کو ایک کلمہ توحید بھی گراں گزر رہا ہے اور اللہ پاک کی رضا کے لئے چند ٹکے دینا بھی ان کو بوجھ لگ رہا ہے مگر قیامت کے روز انکا حال یہ ہوگا کہ اگر انکو وہ سب کچھ بھی مل جائے جو کہ زمین کے اندر موجود ہے اور اسی کے برابر اور بھی مل جائے تو یہ اس سب کو بھی اس دن کے اس عذاب کے بدلے میں دینے کو تیار ہوجائیں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا کیا فائدہ کہ اس کا وقت بیت چکا ہوگا۔ سو اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ محدود فرصت جو انسان کو ملی ہوئی ہے کتنی قیمتی اور کس قدر عظیم الشان فرصت و نعمت ہے کہ ایمان بالغیب کی دولت کے ساتھ یہاں اللہ پاک کی راہ میں ایک پیسہ دینا بھی قبول ہوگا اور وہ ان کیلئے اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃ اجر وثواب کا باعث ہوگا۔ جبکہ وہاں یعنی قیامت کے اس ہولناک دن میں زمین بھر کر سونا بھی قابل قبول نہیں ہوگا ۔ فَارْزُقْنَا اللہم التَّوفِیْقَ لاغتِنَام ہٰذِہِ الْفُرْصَۃَ یا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین یَا مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ ۔ بہرکیف یہاں پر یہ واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز اگر انکو بالفرض روئے زمین کی ساری دولت بھی مل جائے اور اسی کے برابر ایک اور دنیا بھی ان کو مل جائے تو یہ اس سب کو اس دن کے ہولناک عذاب کے بدلے میں دینے کو تیار ہوجائیں گے مگر وہ ان سے قبول نہیں ہوگا۔ سو اس سے ایسے منکروں اور غافلوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس کے لیے محنت اور کوشش کرنی چاہیے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر ان کی ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:4892 قیامت کے روز منکرین کے حال بد کا ذکر : سو اس سے قیامت کے روز کشف حقائق اور ظہور نتائج سے منکرین کی انتہائی بدحالی کی تصویر پیش فرما دی گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں ان کیلئے اللہ کی طرف سے وہ کچھ سامنے آئے گا جس کا انکو گمان بھی نہیں تھا۔ کیونکہ ان کا اس پر ایمان و یقین ہی نہیں تھا۔ اور کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ زندگی تو بس یہ دنیاوی زندگی ہی ہے۔ اسی میں ہمارا جینا اور مرنا ہے اور بس ۔ { اِنْ ھِیَ الِّا حَیَاتُنا الدُّنْیَا نَمُوْتُ ونَحْییٰ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِِیْنَ } ۔ (المومنون : 37) ۔ سو اس سب کے برعکس جب یہ لوگ وہاں پر ان تمام غیبی حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جن کی خبر پیغمبر نے دی تھی تو یہ ہک دھک رہ جائیں گے۔ اور ان کی حیرت و حسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ انسان کی ایک غلط فہمی اور کوتاہ نظری یہ رہی کہ جب جرم و قصور پر اس کی فوری گرفت و پکڑ نہیں ہوتی تو یہ مست ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس پر اس کی کوئی بازپرس ہونی ہی نہیں۔ اور اس بنا پر وہ جرم و گناہ کے ارتکاب میں بڑھتا اور ترقی کرتا جاتا ہے۔ اور اس بنا پر وہ آخرت کی گرفت و پکڑ اور وہاں کی بازپرس سے بھی بےفکر اور لاپروا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اس کو اس طرف توجہ دلائے اور خداوند قدوس کے عدل و انصاف کے تقاضے سمجھائے تو وہ اس کو بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ اور اس کے جواب میں طرح طرح کی حجت بازیوں سے کام لینے لگتا ہے۔ سو ایسے لوگوں کے سامنے کل جب وہاں کے حقائق کھلیں گے تو انکو پتہ چل جائے گا اور اس وقت ان کی یاس و حسرت اور بدحالی کا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
93 قیامت کے روز منکرین کی کمائی اپنی اصل شکل میں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز اور وہاں پر ان کیلئے ان کی زندگی بھر کی کمائی کے برے نتائج ظاہر ہوچکے ہوں گے۔ اور ان کی کمائی اپنی اصل اور حقیقی شکل میں ان کے سامنے آجائے گی جو کہ بڑی ہی ہولناک اور انتہائی خوفناک ہوگی۔ سو وہاں پر ملنے والے طرح طرح کے عذاب دراصل ان کے اپنے ہی اعمالِ بد کی وہ بری شکلیں ہوں گی جو آج یہاں پردے میں ہیں۔ اور کشف حقائق کے اس جہاں میں کل وہ سب سامنے آجائیں گی۔ سو اس دنیا میں برے اعمال کی سنگینی چونکہ ظاہر نہیں ہوتی کہ دارالامتحان کا تقاضا یہی ہے اس لیے انسان ایسے اعمال کی برائی کا اندازہ نہیں کرسکتا اور وہ کہتا ہے میں جو کچھ کرتا ہوں ٹھیک کرتا ہوں۔ اس لیے وہ اپنے برے اعمال کی خوبیاں اور ان کے فلسفے بیان کرنے لگتا ہے۔ اسی بنا پر کافر اپنے کفر کو، مشرک اپنے شرک کو اور بت پرست اپنی بت پرستی کو درست سمجھتا اور اس کیلئے حجت بازی اور فلسفہ طرازی سے کام لیتا ہے۔ مگر کل آخرت میں جب حقائق سے پردہ اٹھ جائے گا اور ہر چیز اپنی اصلی شکل میں آشکارا ہوجائے گی تو انکے برے اعمال کی بری شکلیں انکے سامنے آجائیں گی۔ تب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کتنی ہولناک کمائی تھی جو یہ لوگ دنیاوی زندگی کی اپنی محدود و مختصر فرصت میں بڑی بےفکری اور لاپرواہی سے کرتے رہے تھے اور نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر انہوں نے کس قدر ہولناک خسارے کا سودا کیا تھا۔ سو دنیا میں انسان جس فکرِبد اور عمل بد کی تخم ریزی اور بیجائی کرتا ہے وہ اس کا اندازہ نہیں کر پاتا کہ اس کی اس کاشت اور تخم ریزی کی فصل کس رنگ میں اپچی وہ کہاں تک پھیلی پھولی اور کیسے زہریلے برگ وبار لائی۔ کیونکہ دنیا میں یہ سب کچھ زیر پردہ اور مخفی و مستور ہے۔ مگر کل قیامت اور آخرت کے اس جہاں میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا اس کا یہ سب کیا کرایا اپنی اصل اور حقیقی شکل میں اس کے سامنے آجائے گا۔ تب اس کو پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ جن غیبی حقائق کا وہ انکار کرتا اور ان کا مذاق اڑایا کرتا تھا آج وہ پوری طرح انکے گھیرے میں آگیا ہے اور ایسا اور اس طور پر کہ اب اس سے گلو خلاصی اور چھٹکارا پانے کی کوئی بھی صورت اس کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ سو یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور مستقیم رکھے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھنے کی توفیق بخشے۔ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی پناہ اور اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ اور حیات مستعار کے ہر لمحہ اور لحظے کو اپنی رضا و خوشنودی کے لیے صرف کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 39:49–5194 نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو انسان کو ملنے والی ہر نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ آزمائش کہ بندہ اس پر شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ اور اس نعمت کو وہ خیر اور نجات کا ذریعہ بناتا ہے یا شر اور عذاب کا باعث ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں جس کے باعث ایسا انسان راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہونے کی بجائے الٹا ہلاکت و تباہی کے گڑھوں میں اوندھا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ نہ اس کی اپنی قابلیت کا نتیجہ ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اور ہستی کی عطا و بخشش۔ بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ و احسان ہوتا ہے۔ اور اس کے ذریعے وہ خالق ومالک بندے کا امتحان کرتا ہے کہ آیا یہ اسکا شکر ادا کرتا ہے یا اس کو پاکر استکبار و سرکشی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور انسان کو جو کوئی لیاقت اور قابلیت ملتی ہے وہ بھی توا للہ تعالیٰ ہی کا عطیہ اور اسی کا انعام و احسان ہوتا ہے۔ مگر دنیا کے اس دارالاسباب میں انسان کو جو بھی کچھ ملتا ہے وہ اسباب کے ذریعے ہی سے ملتا ہے۔ اس لیے کوتاہ نظر اور مادہ پرست انسان کی نظریں انہی ظاہری اسباب میں پھنس کر اور اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ اور وہ حقیقت تک رسائی سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:5297 روزی کی بست و کشاد اللہ ہی کی قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہوا کہ اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے "۔ پس نہ تو روزی کی تنگی و فراخی اللہ پاک کے یہاں مقبول یا مردود ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے لئے کسی کو غلط ذرائع اختیار کرنے کی اور اس وحدہ لاشریک کا در چھوڑ کر کسی اور کے آگے جھک مارنے کی ضرورت ہوسکتی ہے کہ روزی کی قبض و بسط کا یہ سارا سلسلہ محض اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کوئی شخص اگر آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل کی روشنی سے صحیح طور پر کام لے تو اس کیلئے اس امر میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ رزق و فضل کا مدار انسان کے اپنے علم و اختیار میں نہیں بلکہ اسکا تمام تر تعلق اللہ کی مشیت اور اسی کی حکمت سے ہے۔ وہی اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق جسکو چاہتا ہے کشادہ روزی عطا فرماتا ہے اور جسکو چاہتا ہے نپی تلی دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ چونکہ " حاکم " کے ساتھ ساتھ " حکیم " بھی ہے۔ اس لیے وہ جو بھی کچھ کرتا ہے حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہی کرتا ہے۔ پس اس کا کوئی بھی قول و فعل اور کوئی بھی حکم و فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا اس لیے بندے کو اس کے ہر حکم و فیصلے اور ہر امر و ارشاد پر راضی اور مطمئن رہنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق .
98 روزی کی بست و کشاد کے معاملے میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان لانا چاہتے ہیں کہ ان نشانات قدرت میں غور و فکر سے کام لے کر ان سے فائدہ اٹھانا اور صحیح نتائج اخذ کرنا انہی حضرات کو نصیب ہوتا ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ مند اور مالا مال ہوتے ہیں۔ ورنہ جو ایمان و یقین کے نور سے محروم ہوتے ہیں وہ اندھے کے اندھے ہی رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت اصل و اساس ہے ہر اصلاح و خیر کی ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں یا ایمان لانا چاہتے ہیں۔ مثلا یہ کہ اس کائنات پر حکومت و بادشاہی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ وہ جس کو جو چاہے عطا فرمائے اور جس سے جو چاہے چھین لے۔ کسی اور کا اس میں نہ کوئی عمل دخل ہے اور نہ کوئی حصہ داری۔ پس بندے کو امید بھی اسی سے رکھنی چاہیے اور بھروسہ و اعتماد بھی اسی پر کرنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق ۔ نیز اس دنیا میں کسی کو جو بھی کچھ ملتا ہے اس کی اصل حیثیت انعام کی نہیں امتحان کی ہے۔ وہ کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی سے چھین کر۔ کسی کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور کسی کے شکر کا۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 39:5399 اللہ کے بندوں کے لیے اعلان رحمت کا حکم وارشاد اور اہل بدعت کے ایک مظالطے کا جواب : سو پیغمبر کو خطاب کر کے اس اعلان رحمت کی ہدایت فرمائی گئی کہ " ۔ ان سے میری طرف سے ۔ کہو کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے زیادتی کرلی اپنی جانوں پر "۔ یعنی آپ ہمارے رسول اور نمائندہ ہونے کے اعتبار سے ہمارا یہ پیغام ہمارے بندوں کو پہنچا دیں۔ سو یہ ارشاد ربانی بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح کہ بادشاہ کا کوئی نمائندہ بادشاہ کی طرف سے کوئی فرمان اس کی رعایا کو پڑھ کر سناتا ہے۔ تو اس کے لئے وہ بعینہ وہی الفاظ اور وہی صیغے دوہراتا اور استعمال کرتا ہے جو بادشاہ نے کہے ہوتے ہیں۔ اور وہ انہیں اپنی طرف منسوب کرکے اس طرح کہتا اور ادا کرتا ہے کہ گویا وہ الفاظ و کلمات خود اس کے اپنے ہیں۔ حالانکہ وہ حقیقت میں اس کے نہیں بلکہ بادشاہ کے الفاظ و کلمات ہوتے ہیں۔ اور اس میں دراصل بلاغت کا یہ اسلوب کار فرما ہوتا ہے کہ بادشاہ کے نمائندے کی حیثیت محض ایک ذریعے اور وسیلے کی ہوتی ہے۔ اور ایسا کہ گویا کہ اس کی زبان سے بادشاہ خود بول رہا ہے۔ اور اس شخص کی اپنی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ پس اہل بدعت اور ان کے بعض بڑے تحریف پسندوں کا یہ کہنا کہ سب لوگ حضور کے بندے ہیں قرآن کی تفسیر نہیں تحریف ہے۔ اور یہ قرآن پاک کی دعوت اور نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ کی تعلیم و تبلیغ کی نفی کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ حضور ﷺ کی اس پوری دعوت و تبلیغ کا تو حاصل اور خلاصہ ہی یہ ہے کہ دنیا کو خدائے واحد کی عبدیت و بندگی کا درس دیا جائے۔ اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو صاف اور صریح طور پر حکم ارشاد فرمایا کہ تم سب اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ " کونوا عباد اللہ اخوانا " ۔ اور قرآن حکیم میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ " کسی بشر کیلئے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکم سے نوازے اور اس کو نبوت ۔ و رسالت ۔ سے سرفراز فرمائے۔ پھر وہ اس کے بعد لوگوں سے کہے کہ تم لوگ میرے بندے بن جاؤ اللہ کو چھوڑ کر۔ بلکہ وہ بھی یہی کہے گا کہ تم لوگ اللہ والے بن جاؤ اس بنا پر کہ تم لوگ اللہ کی کتاب ۔ دوسروں کو ۔ سکھاتے ہو۔ اور اس بنا پر کہ تم لوگ خود پڑھتے ہو اور نہ ہی وہ تم لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو اپنا رب قرار دے دو ۔ کیا وہ تم لوگوں کو کفر کا حکم دے سکتا ہے ؟ اس کے بعد تم مسلمان ہوچکے ہو ؟ (آل عمران : 79-80) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ۔ { ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون ؟} ۔ کے استفہامی کلمات کریمہ سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے بندوں کو اس کے سوا کسی اور کے بندے قرار دینا کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ ان کو اپنے ہی بندے قرار دینے لگیں اور " عبد الشمس " وغیرہ کی جگہ " عبد محمد " کا درس دینے لگیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ تعجب ہوتا ہے کہ اہل بدعت کے یہ تحریف پسند خوف خدا سے اس حد تک عاری کیوں ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ اللہ کے کلام میں اس حد تک تحریف پر آمادہ کس طرح ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفظ وامان اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
100 گنہگاروں کے لیے گناہوں کی بخشش کا مژدئہ جانفزا : سو ایسے گنہگاروں کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوؤ بیشک اللہ بخشش فرماتا ہے سب گناہوں کی "۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اس لطف و کرم اور درس امید و رجا کے کہ تاکید کے ساتھ سب گناہوں کی معافی کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ " ذنوب " خود جمع ہے جو سب ہی گناہوں کو عام اور شامل ہے۔ اور پھر " جمیعاً " سے اس کی تاکیدمزید فرما دی گئی۔ سو ہم جیسے گناہ گاروں کے لئے اس سے بڑھ کر مسرت و شادمانی اور حوصلہ افزائی کا مقام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں ۔ عظمت و شان کے اعتبار سے ۔ سب سے بڑی آیت " آیت الکرسی " ہے۔ اور خیر و شر کے اصول و مبادی کے اعتبار سے سب سے جامع آیت ۔ { اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرَ بالْعَدْلِ وَالاِحْسَانِ } ۔ الخ کی آیت کریمہ ہے۔ اور سب سے زیادہ خوشی و مسرت اور کشائش کا باعث یہ آیت کریمہ ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ فَاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ کُلَّہَ دِقَّہ وَجلَّہ، سِرَّہ وَعَلانِیَتَہ، اَوَّلَہ وَاٰٰخِرَہ، مَا اَعْلَمُ بِہٖ ومَا لَا اَعْلُمُ یَا اَکْرَمَ الاکرمین وَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے مشرکین کی ایک بڑی غلط فہمی کا قلع قمع فرما دیا گیا۔ وہ یہ کہ مشرک انسان اپنے شرک کی بنا پر جن مختلف اور ہولناک قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو خداوند قدوس کی رحمت اور اس کی بخشش پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اپنے گمان کے مطابق کچھ فرضی وسیلے اور واسطے گھڑتا ہے اور کہتا ہے کہ میری بخشش انہی کے ذریعے ہوسکے گی۔ سو اس ارشاد ربانی سے اس غلط فہمی اور اس مشرکانہ فلسفے کی جڑ نکال دی گئی اور اعلان فرما دیا گیا کہ میرے ان بندوں سے جنہوں نے زیادتی کی اپنی جانوں پر ان سے کہہ دو کہ اللہ سب گناہوں کی بخشش فرماتا ہے۔ پس وہ صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کریں اور براہ راست اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اسی لیے قرآن وسنت کی نصوص قیمہ میں رب اغفرلی اور ربنا اغفرلنا جیسے کلمات کریمہ سے براہ راست اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 39:54101 انابت و رجوع الی اللہ کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رجوع کرو تم لوگ اپنے رب کی طرف اور اسی کے حوالے کردو اپنے آپ کو "۔ ایمان صحیح اور عمل صالح کے ذریعے کہ اس کے قرب اور اس کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہونے کیلئے یہی دو اہم اور بنیادی شرطیں ہیں۔ پس تم صدق دل سے انکے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرو کہ اس کی رحمت و بخشش سے سرفرازی کا یہی ذریعہ ہے۔ سو اس ارشاد سے اس طریقے کی ہدایت و راہنمائی فرما دی گئی جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی بخشش کے حصول اور اس کے یہاں سرفرازی اور فائز المرامی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے مزعومہ اور خود ساختہ وسائل و وسائط کو چھوڑ کر اور ان سے ہٹ کر اور کٹ کر اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور گناہوں سے صحیح طور پر توبہ کر کے اس سے اس کی رحمت و بخشش کی دعا و درخواست کرو۔ اور خدا کے عذاب کے ظہور سے پہلے اپنے آپ کو بالکلیہ اس کے حوالے کردو۔ سو عبادت اور اطاعت دونوں بلاشرکت غیرے اسی وحدہ لا شریک ہی کی کرو کہ وہی اس کا حقدار ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
102 اطاعت مطلقہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عبادت کی طرح اطاعت مطلقہ بھی اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جھک جاؤ تم اس کے حضور قبل اس سے کہ آپہنچے تم پر عذاب پھر تمہاری کوئی مدد نہ کی جاس کے "۔ پس حیات مستعار کی اس مختصر اور محدود فرصت کو غنیمت سمجھو کہ یہ پھر ملنے والی نہیں۔ اور دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جاؤ جسکی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ ورنہ جب اسکا عذاب آگیا تو پھر نہ اس کو روکنے کا یارا کسی میں ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس سے بچنے کی کوئی صورت کسی کیلئے ممکن ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ لوگ تو ہوا کے ایک جھکڑ اور طوفان کے ایک ریلے کو بھی نہیں روک سکتے تو پھر اللہ کے عذاب کو روکنا کسی کے بس میں کیونکر ہوسکتا ہے ؟ اور اس عذاب سے آخرت کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور دنیا کا وہ عذاب بھی جو کہ حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کے نتیجے میں آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عذاب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عبادت کی طرح اطاعت مطلقہ بھی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے۔ اس کے اس حق میں اور کسی کو بھی شریک کرنا جائز نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -