39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

سو (میرا یہ اعلان سننے کے بعد) تمہاری مرضی کہ تم جس کی چاہو عبادت (و بندگی) کرو اس کے سوا کہو کہ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اصل (اور حقیقی) خسارے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے (حق سے منہ موڑ کر) خسارے میں ڈالا ہوگا اپنے آپ کو اور اپنے تعلق داروں کو قیامت کے روز آگاہ رہو کہ یہی ہے کھلا ہوا خسارہ (اور نقصان)2

32 منکرین و مشرکین سے اظہار بیزاری کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں تو بہرحال اسی وحدہ لا شریک کی عبادت و بندگی کروں گا "۔ اب تم اگر نہیں مانتے تو تم اس کے سوا جس کی چاہے بندگی کرو کہ ہر کسی کو اپنے ارادئہ و اختیار کی آزادی ہے۔ اور اصل مدار انسان کی اپنی نیت و ارادے اور اس کی مرضی و اختیار ہی پر ہے۔ سو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ پس تم اس کے سوا جس کی بندگی چاہو کرو مگر اس کا بھگتان تم کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ میں بہرحال تمہارے اس رویے سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں۔ اس کے بعد بھی اگر تم نے میری بات کو نہ مانا اور راہ حق و ہدایت کو نہ اپنایا تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ اس کے بعد ہم پر تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں۔ 33 روز قیامت کا خسارہ سب سے بڑا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ قیامت کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سخت خسارے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے خسارے میں ڈالا ہوگا اپنی جانوں اور مالوں کو قیامت کے دن "۔ سو سب سے بڑا اور حقیقی خسارہ قیامت کے دن کا خسارہ ہے کہ اس روز اس کا یہ خسارہ و نقصان اپنی اصل شکل میں اور پوری طرح ظاہر و مکشوف ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن لوگوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے اس ہولناک خسارے میں مبتلا کیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہی لوگ اصل اور حقیقی خسارے والے ہوں گے کیونکہ اس کے سوا باقی جتنے بھی خسارے ہیں وہ عارضی اور آنی فانی اور ایسے خسارے ہیں جن کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کی تلافی ممکن ہوسکتی ہے۔ مگر قیامت کا وہ خسارہ ایسا ہولناک خسارہ ہوگا کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ سو وہ خسارہ دائمی اور ابدی ہوگا۔ سو بڑے ہی بدنصیب اور انتہائی بدبخت ہیں وہ لوگ جو دنیا کی چند روزہ عارضی اور فانی لذتوں کے پیچھے لگ کر اپنی آخرت برباد کردیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں پر۔ { انفسہم } ۔ کے ساتھ ۔ { اہلیہم } ۔ کا اضافہ بھی فرمایا گیا ہے جس سے اس اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ ہر شخص پر اپنی ذات کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی مشہور اصولی حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ " ۔ پس انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی نجات کی بھی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ 34 حقیقی خسارے کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ و تحضیص کے ساتھ فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو کہ یہی ہے کھلا ہوا خسارہ "۔ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ اور جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ابنائے دنیا چونکہ دنیا کی عارضی لذتوں پر ریجھے ہوئے ہیں اور دنیا کی چہل پہل اور چمک دمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کیے ہوئے ہے۔ اس کے وقتی مفادات اور عارضی فائدے ہی سب کچھ ہیں اس لیے آخرت کے نفع و نقصان کی بات کا ایسے لوگوں کے دل و دماغ میں اترنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں پر " الا " کا حرف تنبیہ لاکر خبردار فرما دیا گیا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ آخرت کا وہ خسارہ ہی سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ اور خسران مبین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے سب سے بڑے اور سب سے ہولناک خسارے کی تشخیص و تعیین اور اس کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کا یہ خسارہ ہی سب سے بڑا اور کھلا ہوا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لئے آتش دوزخ کی ہولناک چھتریاں ہوں گی ان کے اوپر سے بھی اور ان کے نیچے سے بھی یہی ہے وہ انجام جس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو (اپنی رحمت و عنایت سے) اے میرے بندوں تم مجھ ہی سے ڈرو

35 عذاب دوزخ کی ہولناکی کی ایک تصویر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کیلئے ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر بھی آگ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس انتہائی ہولناک عذاب سے خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے آگ کی چھتریاں ہونگی انکے نیچے سے بھی اور انکے اوپر سے بھی "۔ سو آتش دوزخ کی ان ہولناک چھتریوں اور تہ بہ تہ طبقوں نے ان کو نیچے اور اوپر ہر طرف سے گھیر رکھا ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَھُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاش } ( الاعراف : 41) ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ الاّہُوَ ۔ سو اس میں آخرت کے اس ہولناک خسارے کا ایک منظر پیش فرما دیا گیا اور بتادیا گیا کہ یہ ہے وہ ہولناک انجام جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا اور خبردار کرتا ہے۔ سو یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے جسکو یونہی مذاق میں اڑا دیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے وہ چیز جس سے اللہ اس کے اپنے بندوں کو خبردار کرتا ہے اور پھر انتہائی پرسوز انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بڑی ہی سخت چیز ہے۔ پس تم اس سے بچو اے میرے بندو ! ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 36 عذاب دوزخ سے تخویف وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہے وہ ہولناک انجام جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے "۔ تاکہ وہ ایمان اور عمل صالح کے ذریعے آج اس سے بچنے کی فکر اور کوشش کرسکیں۔ قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود جو آج ان کو میسر ہے ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کے نتیجے میں انکو ہمیشہ پچھتانا پڑے کہ پھر اس کے بعد اس کے لئے نہ کوئی موقع ہوگا نہ امکان ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُیَسِّرُ لِکُلِّ عَسِیْرٍ ۔ بہرکیف اس سے دوزخ کے اس انتہائی ہولناک عذاب کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے اور پھر اس سے ڈرایا اور خبردار کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکیں اور دوزخ کی اسی ہولناکی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { یَوْمَ یَغْشَاہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ } ۔ (العنکبوت :55) ۔ اور ایک اور مقام پر اس کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { لَھُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاش } ۔ ( الاعراف : 41) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 37 عذاب دوزخ سے نجات کا ذریعہ تقوی و پرہیزگاری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عذاب دوزخ سے بچاؤ کا ذریعہ تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ پس یہ عذاب دوزخ سے تنبیہ وتحذیر کے لیے ایک پر سوز انداز کا خطاب وارشاد ہے۔ سو غفلت کے ماروں کی تنبیہ وتحذیر کے لیے ایک نہایت ہی پرسوز انداز میں فرمایا گیا " اے میرے بندو پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو "۔ کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا کی اس محدود و مختصر زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ فَاِیَّاہُ نَسْالُ لِذَالِک التَّوْفِیْق وَ السِّدَادَ وَالثّبَات ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری ہی کے ذریعے انسان اس ہولناک انجام اور دوزخ کی اس خوفناک آگ سے بچ سکتا ہے۔ پس ہمیشہ یہ بات پیش نظر رہے کہ ہمارا وہ خالق ومالک ہم سے ناراض نہ ہوجائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف غافلوں کی تنبیہ وتحذیر کے لیے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے یہ ایک بڑا ہی پر سوز انداز ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو مخاطب فرمایا ہے جو کہ اس کی رحمت بےپایاں کا ایک عظیم مظہر ہے ۔ اللہم یا مالک الملک فہذہ نواصینا بین یدیدک فخذنا بہا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور اس کے برعکس جو لوگ بچتے ہیں طاغوت کی پوجا (و بندگی) سے اور وہ (صدق دل سے) رجوع کئے رہتے ہیں اللہ کی طرف ان کے لئے بڑی خوشخبری ہے سو خوشخبری سنا دو میرے ان بندوں کو

38 مفلحین کی پہلی صفت بندگی طاغوت سے اجتناب : سو " خاسرین " کے مقابلے میں " مفلحین " کی صفات کے بیان کے سلسلے میں پہلی صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ لوگ بچتے رہے طاغوت کی بندگی سے۔ " طاغوت " اصل میں " طغیان " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ جیسے " رحمت " سے " رحموت " اور " عظمت " سے " عظموت " وغیرہ۔ (ابوالسعود، ابن کثیر اور روح وغیرہ) ۔ اور یہ غیر اللہ کے لیے ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی لئے اس کے معنیٰ میں کہا گیا ہے ۔ " کُلُّ مَا عُبِدَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ " ۔ یعنی اللہ پاک کے سوا جس کی بھی پوجا کی گئی ہو وہ " طاغوت " ہے۔ بشرطیکہ اس کی رضا اس میں شامل ہو اگر وہ صاحب ارادہ ہو۔ کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی کی بھی عبادت و بندگی بجا لانا بڑی سرکشی اور طغیان ہے۔ اور چونکہ اس جرم عظیم کا اصل اور سب سے بڑا محرک ابلیس لعین ہی ہوتا ہے اس لئے عام طور پر طاغوت سے شیطان ہی مراد لیا جاتا ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا مظہر چونکہ بت پرستی ہے جو کہ اصل میں شیطان ہی کے اغواء واضلال سے کی جاتی ہے اس لئے اس سے بت اور بتوں کی پوجا و پرستش بھی مراد لی گئی ہے۔ اپنے معنوی عموم کے لحاظ سے یہ لفظ ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان طاغوت کی پوجا سے بچے اور اسکا انکار کرے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَمَنْ یَکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُوْمِنْ باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لاَ انْفِصَامَ لَہَا } ۔ ( البقرۃ : 256) ۔ سو طاغوت عام ہے کہ خواہ مصنوعی بت اور مورتیاں ہوں یا جنات و شیاطین یا وہ لوگ جو دوسروں کو اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے برگشتہ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 39 مفلحین کی دوسری صفت انابت و رجوع الی اللہ : سو ان کی دوسری صفت کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ رجوع کیے رہے اللہ کی طرف "۔ اس کے سوا سب سے منہ موڑ کر کہ حاجت روا و مشکل کشا اور امیدوں و آرزؤوں کا مرکز و مرجع وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انابت و رجوع الی اللہ ایک ایسی عظیم الشان صفت ہے جو انسان کو اس صحیح راہ پر ڈال دیتی ہے جو اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز کرنے والی عظیم الشان راہ ہے۔ سو یہ مفلحین کی دوسری اہم صفت ہے جس کو یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے خوشخبری ہے یعنی ان کی ان اور ان عمدہ خصال وصفات کی بنا پر۔ سو ان ارشادات سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کی ایمان ویقین، اخلاق وصفات اور اس کے عمل و کردار سے ہے نہ کہ دوسرے مصنوعی فوارق پر۔ اور دوسری حقیقت یہ واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے صلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے قلب وباطن سے ہے نہ کہ محض ظواہر و مظاہر پر۔ جیسا کہ بہت سے ظاہر پرست لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور تیسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہی کہ اس کی باطنی صفات و خصال میں اصل اہمیت ان ہی دو صفتوں کی ہے۔ یعنی بندگی طاغوت سے احتراز و اجتناب اور اللہ تعالیٰ کی طرف انابت و رجوع کہ انہی دو بنیادی صفتوں کی بنا پر وہ فیضان خداوندی سے سرفراز و بہرہ ور ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 39:18–20

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو غور سے سنتے ہیں ہماری بات کو پھر وہ پیروی کرتے ہیں اس کے بہترین پہلو کی یہی ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے نوازا ہدایت (کی دولت) سے اور یہی ہیں عقول سلیمہ رکھنے والے (خوش نصیب)

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

کیا جس شخص پر پکی ہوچکی ہو بات عذاب کی تو کیا آپ (اس کو نواز سکتے ہیں ہدایت کی دولت سے ؟ اور کیا آپ) بچا سکتے ہیں اس کو جو پڑا ہو (دوزخ کی) اس ہولناک آگ میں1

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ ڈرتے رہے ہوں گے اپنے رب سے ان کیلئے منزل پر منزل بنی ہوئی ایسی عالی شان عمارتیں ہوں گی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں اللہ کے فرمائے گئے وعدہ کے مطابق (اور) اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی

40 بات کو غور سے سننا ایک عمدہ صفت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بات کو غور سے سنتے ہیں "۔ تاکہ یہ حق کو صحیح طور پر سمجھ کر صدق دل سے اپنا سکیں۔ کیونکہ کسی بھی کلام کو سمجھنے اور اس کے حقیقی مطلب تک رسائی کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کو غور اور توجہ سے سنا جائے۔ بہرکیف ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ جب انکے سامنے حق و ہدایت کی بات پیش کی جائے تو یہ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں اور بولنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بلکہ یہ بات کو غور سے سنتے ہیں تاکہ یہ حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے بعد حق کو اپنا سکیں۔ تاکہ اس کے فوائد وثمرات سے مستفید و فیضیاب ہو سکیں۔ سو حق بات کو سننا اور ماننا یعنی سمع وطاعت، اصلاح احوال کے لیے ایک اہم اور بنیادی صفت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ 41 حق کی پیروی کرنا ایک اور اہم صفت : سو ان سلیم الفطرت لوگوں کے بارے میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہ پیروی کرتے ہیں اس کے بہترین پہلو کی "۔ ان لوگوں کے برعکس جو کہ کجی اور ٹیڑھے پن کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم جل و علا ۔ سو ایسے لوگ کلام حق کو صحیح طور پر اور پوری توجہ سے سنتے ہیں اور اس کے صحیح پہلو کو اپنا کر گوہر مطلوب سے سرفراز و بہرہ ور ہوتے ہیں۔ سو اس ارشاد میں " خاسرین " کے مقابلے میں " مصلحین " اور " فائزین " کی صفات کو واضح فرما دیا گیا ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور احسن کی اتباع و پیروی میں دو باتیں آجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ غور سے سننے کے بعد احسن اور اچھے کلام کو لے لیتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہوتا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور دوسرا مفہوم و مطلب اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ عمدہ کلام کی پیروی بھی اس کے اچھے پہلو اور اچھے مفہوم و مطلب کے اعتبار سے کرتے ہیں نہ کہ اس کا غلط مطلب نکال کر جس طرح غلط کار اور اوندھے مزاج کے لوگوں کا حال ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 42 عقل سلیم رکھنے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں جو ہدایت کی دولت سے سرفراز ہوئے اور یہی ہیں عقل سلیم رکھنے والے ۔ خوش نصیب۔ لوگ "۔ جو کہ کفر و شرک اور زیغ و ضلال وغیرہ کی کدورات اور اوساخ سے سالم و محفوظ ہوتے ہیں۔ سو ایسے ہی لوگ کفر و شرک کے اندھیروں سے محفوظ ہوتے ہیں۔ اور یہی ہیں جو خداوند قدوس کی تذکیر و یاددہانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر آیت نمبر 8 میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الاَلْبَاب } ۔ جبکہ میلی اور زنگ آلود عقلیں اس شان سے عاری اور محروم ہوتی ہیں۔ وہ حق کو حق سمجھنے کی اہلیت و صلاحیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ (کس حیرت انگیز نظام کے تحت) اتارتا ہے آسمان سے پانی پھر اس کو چلا دیتا ہے وہ زمین کے اندر سوتوں چشموں اور دریاؤں کی شکل میں پھر اس کے ذریعے وہ نکالتا ہے (قسما قسم کی) رنگا رنگ کھیتیاں آخر میں وہ (لہلہاتی) کھیتیاں ایسی سوکھ جاتی ہیں کہ تم ان کو زرد پڑی ہوئی دیکھتے ہو آخرکار اللہ تعالیٰ اس کو چورا چورا کر کے رکھ دیتا ہے بیشک اس میں بڑی بھاری نصیحت (اور یاد دہانی کا سامان) ہے عقول سلیمہ رکھنے والوں کیلئے2

46 پانی کی نعمت اور اس کے نہایت پر حکمت نظام میں سامان غور و فکر : سو قدرت نے مخلوق کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے پانی کو زمین میں محفوظ رکھنے کیلئے نہایت ہی پر حکمت نظام قائم فرمایا ہے جس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ " یَنَابِیْع " جو کہ " یَنْبُوْعٌ " کی جمع ہے اس کا اطلاق لغت کے اعتبار سے ان تینوں معنوں پر ہوتا ہے جن کا ذکر ہم نے ترجمہ کے اندر کیا ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی بجائے تینوں کو ذکر کردیا ہے۔ سو اس لحاظ سے اگر اسی ایک لفظ پر صحیح طریقے سے غور کرلیا جائے تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت کے عجائب نظر آئیں گے اور اس میں معانی ومطالب اور عبر و عظات کی ایک ایسی دنیا مستور ہے کہ اس سے راہ حق و ہدایت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ اور اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے عظیم الشان مظاہر سامنے آتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ امر بھی پوری طرح واضح ہو کر اور نکھر کر سامنے آجاتا ہے اور ہر صاحب فکر و بصیرت کے دامن دل و دماغ کو جھنجھوڑتا اور اس کو دعوت غور و فکر دیتا ہے کہ جس خالق کل اور قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے انسان کی ظاہری، مادی اور جسمانی ضروریات کی تحصیل و تکمیل کے لئے اس قدر حیرت انگیز اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی روحانی اور معنوی ضروریات کی تحصیل و تکمیل کا کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ جبکہ اصل مقصود بھی وہی ہیں۔ اور انسان کی سعادت و نجات اور فوز و فلاح کا مدارو انحصار بھی اصل میں انہی پر ہے۔ اور انسان کی اصل قدر و قیمت بھی انہی پر موقوف ہے۔ سو اس خدائے مہربان نے تمہاری روحانی اور معنوی ضرویارت کے لئے بھی عظیم الشان انتظام فرمایا ہے۔ ایک طرف تو اس نے انسان کو عقل کے اس عظیم الشان جوہر سے نوازا ہے جس کی بنا پر اس کو باقی تمام مخلوقات پر تفوق و امتیاز حاصل ہوگیا ہے۔ اور پھر کائنات کی حکمتوں بھری یہ عظیم الشان اور کھلی کتاب اس کے سامنے رکھ دی ہے کہ اس میں غور و فکر سے کام لے کر وہ اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے۔ اور دوسری طرف اس مہربان مطلق نے اپنے انبیائے کرام کی بعثت اور اپنی کتابوں اور ہدایات کو اتارنے کا عظیم الشان، نہایت پاکیزہ اور انتہائی مقدس سلسلہ قائم فرمایا۔ اور جس کی تکمیل اس نے امام الانبیاء والرسل حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور اکمل الکتب قرآن حکیم کے انزال سے فرما دی جو کہ ۔ { تِبْیَاناً لکُلِ شیٍ } ۔ کی شان رفیع کی حامل و امین اور قیامت تک راہ حق و ہدایت کی کفیل وضامن کتاب ہے۔ سو اس سے اور اس کی مقدس تعلیمات سے منہ موڑنا جہاں سخت ظلم اور انتہائی بےانصافی ہے وہاں یہ طرز عمل انسانیت کے لئے بھی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل و فکر اور ہوش و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کتاب حکیم کی ہدایت وتعلیمات سے سرفراز و فیضیاب ہو کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر قائم اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 47 قسما قسم کی پیداواروں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہ اس کے ذریعے نکالتا ہے قسما قسم کی رنگا نگ کھیتیاں "۔ جن کے رنگ مختلف، شکلیں مختلف، فوائد اور مزے مختلف اور جن سے تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے اور قسما قسم کے مزے لیتے ہو۔ سو کس قدر ظلم اور کتنی بےانصافی ہوگی کہ اس کے باوجود یہ انسان اپنے اسی خالق ومالک اور اس وہاب مطلق رب کریم کو بھول جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر اس آیت کریمہ میں ۔ { یخرج بہ } ۔ کی تصریح سے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ بارش کے اترنے کے بعد زمین کے اندر سے ان طرح طرح کی پیداواروں اور قسما قسم کی کھیتیوں اور انگوریوں کا نکل آنا بھی ازخود نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کچھ بھی اسی قادر مطلق کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کی یہ کوتاہ نظری ہے کہ اس کی نگاہیں ظاہری اسباب ہی میں اٹک کر رہ جاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہ ان ظواہر و مظاہر کے پیچھے کارفرما دست قدرت کو نہیں دیکھتا۔ اور نہ اس کے بارے میں غور و فکر سے کام لیتا ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ سو اس ساری کارستانی میں بڑے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ آسمان اور زمین کے اس باہمی تعامل و توافق سے جہاں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے وجود باجود اور اس کی بےپایاں قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا پتہ چلتا ہے وہیں اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ایک ہی ہے۔ اور اس سب میں ایک ہی ارادئہ وحکم کارفرما ہے۔ ورنہ یہ انتہائی پر حکمت اور حیرت انگیز نظام کبھی نہ چل سکتا۔ سو یہ توحید اور وحدانیت خداوندی کی ایک جلی اور واضح دلیل ہے۔ اسی طرح یہ امکان بعث و قیامت اور ضرورت بعث و قیامت کی بھی قطعی دلیل ہے ۔ { اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْریٰ لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ } - 48 کھیتی کے انجام سے ایک عظیم الشان درس عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہ لہلہاتی کھیتیاں سوکھ جاتی ہیں۔ پھر تم ان کو زرد پڑا دیکھتے ہو۔ پھر وہ ان کو چورا چورا کردیتا ہے "۔ سو اسی پر قیاس کرلو تم لوگ اپنی دنیوی زندگی کی اس ریل پیل اور چہل پہل کو جو آج تمہاری نگاہوں کو چکا چوند کئے دے رہی ہے۔ سو اس کا انجام بھی بالآخر وہی ہونا ہے جو ہری بھری کھیتی کا ہوتا ہے۔ اصل اور حقیقی زندگی وہ ہے جو اس دنیوی زندگی کے بعد آئے گی۔ لہذا اصل فکر و کوشش اسی ابدی زندگی کو بنانے سنوارنے کے لئے کرنی چاہیئے۔ یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے مالک لوگوں کیلئے قسما قسم کی ان فصلوں اور رنگ برنگی پیداواروں میں دنیا کی فنا اور بےثباتی کیلئے ایک عظیم الشان درس عبرت و بصیرت ہے۔ اور ہر سال اور ہر موسم میں اور ہمیشہ پیش آنے والے یہ مناظر فطرت انسان کو ہمیشہ یہ درسہائے عبرت و بصیرت دیتے اور اس کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ بیدار ہوجائے اور اپنی زندگی کے حال اور مآل کو پہچانے۔ اور راہ حق و صواب کو اپنا کر خود اپنے لیے بھلے کا سامان کرے۔ لیکن انسان ہے کہ وہ پھر بھی خواب غفلت میں پڑا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا بکل حالٍ من الاحوالِ- 49 عقول سلیمہ والوں کے لیے عظیم الشان تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نصیحت ہے عقول سلیمہ رکھنے والوں کیلئے "۔ جن کی عقلیں سلامت و محفوظ ہیں ہر طرح کے زیغ و ضلال اور میول و اہواء اور خواہشات نفس کی کدورات سے کہ ایسے لوگ ایک طرف تو ان چیزوں سے ان کے خالق کی عظمت اور قدرت مطلقہ پر استدلال کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس کی ان بےپایاں رحمتوں اور عنایتوں میں غور و فکر سے کام لے کر اس کی حمد و ثنا سے رطب اللسان ہوجاتے ہیں اور دل و جان سے اس واہب مطلق کے حضور جھک جھک جاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی ان نعمتوں سے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتے ہیں۔ اور تیسری طرف انہی چیزوں اور ان کے طرح طرح کے فوائد و منافع کو دیکھ کر وہ لوگ اس کائنات کی مقصدیت کا سراغ بھی لگا لیتے ہیں اور بےساختہ پکار اٹھتے ہیں ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا } ۔ اور چوتھی طرف ایسے حضرات اس سے اس دنیوی زندگی کی فنا و بےثباتی کا درس لے کر اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے لئے تیاری کرتے اور اسی کو مقصد حیات اور مطمح نظر بناتے ہیں۔ جبکہ عقول سلیمہ سے محروم لوگ ان تمام پہلوؤں سے یکسر غافل اپنی آخرت و انجام سے بےفکر و بیخبر ، حیوانوں کی طرح کھاتے پیتے اور خواہشات نفس کی تحصیل و تکمیل میں لگے ہوئے دوزخ کی ہولناک آگ اور دائمی تباہی کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں ۔ { یَاکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الانَعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } (محمد -12) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کچھ عقل کے اندھے ایسے بھی ہوتے ہیں جو قدرت کے ان عظیم الشان مظاہر سے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنے کی بجائے الٹا انہی کے آگے جھک کر اور انہی کی پوجا میں لگ کر اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں ڈالتے ہیں۔ اور اس طرح وہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر اسفل السافلین کے حضیض مذلت میں پہنچ جاتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

تو کیا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہو اسلام (کی حقانیت) کے لئے جس کے باعث وہ ایک عظیم الشان نور پر قائم ہو اپنے رب کی طرف سے (تو کیا ایسا شخص اور وہ سنگ دل انسان باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ جو اس نور سے محروم ہو ؟ ) سو بڑی خرابی (اور ہلاکت) ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل سخت (اور محروم) ہوگئے اللہ کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) سے ایسے لوگ پڑے ہیں کھلی گمراہی میں

50 شرح صدر کی نعمت اور اس کا صلہ وثمرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہو اسلام کے لیے جس کے نتیجے میں وہ اپنے رب کی طرف سے ملنے والے ایک عظیم الشان نور پر قائم ہو "۔ یعنی ایمان و یقین کے اس عظیم الشان اور بےمثل نور پر جس سے اس کے قلب و باطن کی دنیا روشن ومنور ہوچکی ہو اور جس کی بنیاد پر اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی تعلیمات مقدسہ کے نور مبین سے استفادے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی ہو۔ اور اس طرح وہ نور علی نور کے شرف سے مشرف ہوگیا ہو اور جس کے نتیجے میں وہ ہر قدم صاف اور کھلی روشنی میں اٹھاتا ہو۔ تو کیا ایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو اس کے بالکل برعکس ہو ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ جب نہیں اور یقینا اور ہرگز نہیں تو پھر ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام آخر ایک برابر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو ان دونوں کے انجام کے درمیان فرق وتمیز کے ظہور کے لئے " یوم الدین " ۔ " بدلے کے دن " کا ہونا ضروری ہے۔ پس فیصلے کا وہ دن بہرحال بپا ہو کر رہے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکیں۔ اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے۔ اور اس طرح اس دنیا کی تخلیق اور اس کے وجود کی حکمت متحقق ہوسکے۔ سو شرح صدر کی نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے سرفرازی کے بعد انسان کا باطن ایسا منور و معمور ہوجاتا ہے کہ اس کو ہر وقت باطن کے نور و سرور سے سرفرازی نصیب ہوتی رہتی ہے اور اس کا ہر قدم کھلی روشنی میں اور صحیح سمت میں اٹھتا ہے۔ جبکہ اس سے محروم لوگ طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبے پڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہُ فِی الظُّلُمٰاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا } ۔ (الانعام : 123) سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نور ایمان سے سرفراز شخص زندہ اور اس کا باطن منور و معمور ہوتا ہے۔ جبکہ اس سے محروم شخص مردہ اور اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی کچھ کیوں نہ سمجھتا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 51 قسوت قلوب محرومی کی جڑ بنیاد : والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنکے دل سخت اور غافل ہیں اللہ کی یاد سے " اور جب اس کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد ہی اصل میں روحوں کی غذا، دلوں کی قوت اور انسانوں کی زندگی ہے تو پھر اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے قسوت قلب سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ہوسکتی۔ اور یہ کہ جب اللہ پاک کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو ان سے اپنی رحمت کو چھین لیتا ہے۔ (خازن، مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز اس میں دوسرا احتمال جیسا کہ بعض اہل علم نے اس کی تصریح کی ہے یہ بھی ہے کہ ذکر اللہ سے یہاں پر مراد تذکیر اللہ ہے۔ یعنی ان لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی تذکیر و یاددہانی کے باوجود نہیں پسیجتے کہ انہوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنی فطری صلاحیتوں کو اس طرح ضائع کردیا اور اپنے دلوں کو انہوں نے ایسا پتھر بنادیا کہ حق و ہدایت کی بات انکے اندر کوئی اثر ہی نہیں کرتی۔ سو ایسوں کیلئے بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہے کہ انہوں نے رات کے اندھیرے میں ٹھوکر نہیں کھائی بلکہ انہوں نے دن کے اجالے میں اور جان بوجھ کر راہ حق و ہدایت سے منہ موڑا اور جان بوجھ کر ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں چھلانگ لگائی۔ سو یہ لوگ کھلی گمراہی میں ڈوبے پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے سب سے عمدہ کلام ایک ایسی عظیم الشان کتاب کی شکل میں جو باہم ملتی جلتی دوہرے بیان والی ہے جس سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے پھر نرم ہوجاتے ہیں ان کے بدن اور موم ہو کر جھک پڑتے ہیں ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف یہ ہے اللہ کی ہدایت جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے (راہ حق و صواب کی) جس کو وہ چاہتا ہے (اس کی طلب صادق کی بنا پر) اور جس کو اللہ ہی ڈال دے گمراہی میں (اس کے خبث باطن کی بناء پر) تو اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا

52 کتاب متشابہ سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم الشان کتاب تاری جو " متشابہ " یعنی باہم ملتی جلتی ہے "۔ صداقت و حقانیت میں۔ فصاحت و بلاغت میں اور قوت و تاثیر میں۔ اور اس طرح کہ جس طرح پانی اور ہوا کے اجزا باہم مشابہ ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو غور و فکر کے ساتھ دیکھنے میں اس کی آیات بینات میں اول سے لیکر آخر تک ایک ہی عظمت شان، جلالت قدر اور روعت بیان کا جلال اور دبدبہ نظر آئے گا۔ اس کے احکام و ارشادات، اس کے علوم و معارف اور اس کی تاثیر و برکت میں ایک بےمثال یکسانیت پائی جائے گی جو اس بات کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ یہ کلام حق ترجمان اسی ذات وحدہ لاشریک کا کلام صدق نظام ہے جو خود بےمثال ہے۔ اگر اس کے سوا یہ کسی اور ہستی کا کلام ہوتا تو اس میں لازماً اختلاف پایا جاتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ۔ { اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا } ۔ (النسائ : 82) ۔ سو یہ اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو ہے۔ 53 " مثانی " سے مقصود و مراد ؟ : " مثانی " جمع ہے " مثنیٰ " کی جس کے معنیٰ دوہرے اور دو دو کے آتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جسکی آیتیں دوہرے بیان والی ہیں کہ اس میں بیان فرمودہ قصص و احکام، اوامرو نواہی اور مواعظ عبر وغیرہ وغیرہ کو بار بار دوہرایا اور مختلف انداز میں پیش فرمایا جاتا ہے۔ نیز اس میں " وعد " کے ساتھ " وعید "، جنت کے ساتھ دوزخ، اہل ایمان کے ساتھ اہل کفر اور اہل حق کے ساتھ اہل باطل وغیرہ وغیرہ متقابلات کا ذکر وبیان بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرمایا جاتا ہے۔ پھر اس کتاب حکیم اور اس کے معانی و مطالب کو تلاوت وبیان، تعلیم و تذکیر اور دعوت و تبلیغ وغیرہ کے ذریعے بار بار اور طرح طرح سے دوہرایا جاتا ہے۔ سو " مثانی " کا مفہوم ان سب ہی مطالب کو عام اور شامل ہے۔ سو یہ بھی اس کتاب حکیم کی ایک ایسی عظیم الشان اور منفرد صفت ہے جو اس کے سوا اور کسی بھی کتاب میں نہ کبھی پائی گئی ہے نہ پائی جاسکتی ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ بہرکیف " مثانی " کے معنیٰ و مطلب کے بارے میں یہ رائے جمہور مفسرین کرام کی ہے۔ جبکہ بعض اہل علم نے جمہور کی اس رائے سے اختلاف کیا اور اس کو لغت اور نظائرِ قرآن کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس سے مراد قرآن حکیم کی سورتوں کا مختلف قسم کے گروپوں کی شکل میں نازل ہونا ہے۔ اور قرآن حکیم کا اس طرح نازل ہونا تعلیم کے پہلو سے اپنے اندر ایک عظیم الشان افادیت رکھتا ہے کہ اس طرح قاری کو ان تمام حقائق کا مختلف زاویوں سے مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے جنکی دعوت قرآن حکیم دنیا کو دیتا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 54 قرآن حکیم کی قوت تاثیر کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے قرآن حکیم کی قوت تاثیر کو بیان فرما گیا ہے کہ " یہ وہ کتاب حکیم ہے جس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے "۔ اس کتاب حق اور کلام صدق کی ہیبت و اجلال کی بناء پر جس سے ان کے گناہ جھڑتے اور قصور معاف ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ " جب بندے کے رونگٹے اس کلام حق کے سننے سے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اس کے گناہ اس طرح گرتے اور جھڑتے ہیں جس طرح کہ درخت کے خشک پتے "۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس کتاب حکیم کی عظمتوں اور عنایتوں کے۔ سو اس کتاب حکیم کے سماع اور اس کی تاثیر سے ایسے دل کانپ اور لرز اٹھتے ہیں جو خوف و خشیت خداوندی سے منور و معمور ہوتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس سے اثر پذیر نہیں ہوتا تو اس کا معنیٰ و مطلب یہ ہے کہ اسکا دل نور خداوندی سے خالی اور عاری ہوتا ہے اور وہ پتھر بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " جلود "، " جلد " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ چمڑے اور کھال کے بھی آتے ہیں اور اس کا اطلاق پورے جسم اور اس کے رونگٹوں پر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں کل بول کر جزء مراد لینا مشہور و معروف ہے۔ اور یہاں پر یہ لفظ ان سب ہی معانی کو عام اور شامل ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم کی اس تاثیر کا تعلق ان سب ہی سے ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 55 قرآن حکیم کی تاثیر قلب اور قالب دونوں پر : سو اس کتاب حکیم کے ظاہر و باطن اور قلب و قالب دونوں پر تاثیر کے ذکر کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر انکے بدن اور انکے دل نرم ہو کر جھک پڑے ہیں اللہ کے ذکر کی طرف "۔ اس کی رحمت و عنایت کے ذکر پر۔ حضرت اسمائ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کی تلاوت اسی شان کی ہوا کرتی تھی۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قرآن حکیم کی تاثیر اور اس کی برکت سے دلوں کے اندر جو گداز پیدا ہوتا ہے اس سے انکے جسم اور ان کے دل دونوں نرم ہو کر اللہ کی یاد دلشاد کی طرف جھک پڑتے ہیں اور انکے دلوں کے گداز اور ان کی رقت و نرمی کا اثر انکے جسموں پر بھی پڑتا ہے جس سے انکے اندر کبر و غرور کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ ورنہ جن لوگوں کے دلوں کے اندر کبر و غرور ہوتا ہے ان کی گردنیں اکڑی ہوئی اور انکے جسم تنے ہوئے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " تلین " کا لفظ یہاں پر " تمیل " کے معنیٰ پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اس کے بعد " الیٰ " کا صلہ آیا ہے۔ سو ایسے لوگوں کے قلوب و قوالب اور ان کے ظاہر اور باطن سب اللہ پاک کے آگے اور اس کے حضور جھک پڑتے ہیں اور ان کے اندر کے خوف کا اثر ان کے ظاہر پر بھی پڑتا ہے جس کا اثر ان کی چال ڈھال اور ان کے جسم کی ایک ایک ادا سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے اندر فروتنی اور عاجزی و تواضع کے پاکیزہ جذبات پیدا ہوتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ 56 نور حق و ہدایت کی تعیین و تشخیص : سو نور حق و ہدایت کی تعیین و تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " یہ ہے اللہ کی ہدایت جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے جسکی چاہتا ہے "۔ جس کی نیت صحیح اور اردہ درست ہوتا ہے اور جو اپنے اندر طلب صادق رکھتا ہے کہ یہ چیز اس کتاب حکیم سے صحیح معنوں میں مستفید و فیضیاب ہونے کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا ہے۔ سو ذالک کے اسم اشارہ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ قرآن حکیم ہی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا واحد منبع ومصدر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ سنت اور اس کے دستور کے مطابق جو لوگ نور حق و ہدایت کے مستحق اور اس کے لائق ہوں گے وہ انکو اس سے نوازے گا اور جو اس کے لائق نہیں ہوں گے وہ انکو انکے اپنے سوئِ اختیار کی بنا پر گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

تو کیا (اس شخص کی حرمان نصیبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ؟ ) جو اپنے چہرے کے ذریعے اپنا بچاؤ کرنے پر مجبور ہوگا قیامت کے روز (وہاں کے) اس برے عذاب سے ؟ اور (مزید یہ کہ اس روز) کہا جائے گا ایسے ظالموں سے (ان کی توبیخ و تذلیل کے لئے) کہ اب چکھو مزہ تم لوگ اپنی اس کمائی کا جو تم (زندگی بھر) کرتے رہے تھے1

57 قیامت کے روز منکرین کے حال بد کی ایک تصویر : سو اس سے منکرین کی قیامت کے دن کی بےبسی اور ذلت و رسوائی اور ان کے حال بد کی ایک تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ سو اس سے منکرین آخرت کی بےبسی اور ان کی ذلت و رسوائی کا ایک نہایت ہی ہولناک منظر پیش فرمایا گیا ہے کہ اس روز ایسے لوگ وہاں کے ہولناک عذاب سے بچنے کے لیے اپنے چہروں کو ڈھال بنانے پر مجبور ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کے ہاتھ جکڑے اور بندھے ہوئے ہوں گے۔ سو یہ ایسے بدبخت شخص کی انتہائی عاجزی اور بےبسی کی ہولناک تصویر ہے۔ کیونکہ چہرہ انسان کا وہ اشرف و اعلیٰ عضو ہے جس کو بچانے کے لئے وہ سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ مگر وہاں پر ایسا شخص اپنے چہرے ہی کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ بنانے پر مجبور ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ دن ان مستکبرین کی بےبسی کی تصویر ہے جو دنیا میں اپنے کبر و غرور اور رعونت و خرمستی کی بنا پر آخرت کے اس یوم حساب اور اس کی بازپرس کی تکذیب کیا کرتے تھے۔ سو ایسے لوگ اس دن کے ہولناک انجام اور وہاں کے عذاب شدید سے بچنے کیلئے اپنے چہروں کو اپنی ڈھال بنانے پر مجبور ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے - 58 منکرین و مستکبرین کی ایک اور تذلیل کا ذکر : سو اس سے منکرین و مستکبرین کی تذلیل مزید کے لیے ان سے اس خطاب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ان کی اس حالت بد کی بنا پر نہ کسی کے دل میں ان کے لیے کوئی ہمدردی پیدا ہوگی اور نہ ہی کسی کو ان پر کوئی ترس آئے گا کہ یہ سب کچھ ان کے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا طبعی نتیجہ اور اس کا منطقی تقاضا ہوگا۔ اس لیے ان سے کہا جائے گا کہ اب تم مزہ چکھتے رہو اپنی اس کمائی کا جو تم زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ اس طرح ان کے باطن کی آگ اور بھڑکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم چکھو مزہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ سو ہم نے تم پر کسی طرح کی کوئی زیادتی نہیں کی۔ بلکہ یہ سب کچھ خود تمہارا اپنا ہی کیا کرایا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک بات تو یہ واضح فرما دی گئی کہ دین حق سے منہ موڑنا اور خاص کر عقیدئہ آخرت کی تکذیب کرنا خود اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے۔ اور اسکا خمیازہ ظالموں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ آج نہیں تو کل بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری حقیقت یہ واضح فرما دی گئی کہ کل کے اس یوم حساب میں اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں اور منکروں پر کوئی رحم نہیں فرمائے گا بلکہ ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ اب تم چکھو مزہ اپنی اس کمائی کا جو تم لوگ زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ اور یہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے کفر و انکار کی بنا پر اپنے لیے کسی رحم و ترس کی کوئی گنجائش چھوڑی ہی نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان لوگوں نے بھی جھٹلایا (حق اور ہدایت کو) جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے سو (آخرکار) ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو خیال (و گمان) بھی نہ تھا

59 منکرین کے لیے عذاب بےگماں سے تنبیہ : سو دور حاضر کے منکرین کو عذاب ِبے گماں سے خبردار کرنے کے لیے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان منکرین و مکذبین پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے انکو گمان بھی نہیں تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کبھی شکلوں اور صورتوں کے فساد و بگاڑ اور مسنح کی صورت میں۔ کبھی طوفان و زلزلہ کی صورت میں۔ اور کبھی قتل و قید کی صورت میں وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ تو دنیا میں ہوا جبکہ اصل عذاب آخرت میں ہونے والا ہے جس کی شدت اور ہولناکی کا تصور بھی اس جہاں میں ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بغاوت و سرکشی، کفر و شرک اور معاصی وذنوب کا نتیجہ و انجام بہرحال برا ہے۔ اس سے کبھی بھی بےفکر اور بےخوف و نڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ وہ کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے اور اللہ پاک کی طرف سے دی ہوئی ڈھیل اور ملی ہوئی فرصت کی بنا پر کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ { فَلَا یَأَمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ } ۔ سو اس ارشاد ربانی سے دور حاضر کے منکرین و مکذبین کو تنبیہ فرما دی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے امہال سے کبھی غفلت اور دھوکے میں نہ پڑیں۔ بلکہ گزرے دور کے منکرین و مکذبین کے انجام سے درس عبرت لیں کہ جو انجام انکا ہوا وہ انکا بھی ہوسکتا ہے۔ اور جس طرح ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے انکو وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح ان پر بھی آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے یکساں اور بےلاگ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

اس طرح اللہ نے چکھا دیا ان لوگوں کو مزہ رسوائی کا دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو یقینی طور پر اس سے کہیں بڑھ کر (ہولناک اور رسوا کن) ہوگا کاش کہ یہ لوگ جان لیتے

60 منکرین کے لیے ذلت و رسوائی کا عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار اللہ نے انکو چکھایا ذلت و رسوائی کا عذاب اس دنیاوی زندگی میں "۔ معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے کئے کرائے کی سزا کبھی اور کسی حد تک آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی مل کر رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی سنت اور اسکا دستور ہمیشہ یہ رہا کہ اس نے مکذبین و منکرین کو ایک حد تک مہلت دی تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔ اس کے بعد اگر وہ لوگ اپنی تکذیب و انکار سے باز نہ آئے تو لازماً انکو تباہ کردیا گیا۔ اور پھر اسی دنیاوی عذاب پر بس نہیں بلکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بڑا ہی سخت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَلَعَذَاب الآخِرَۃِ اَشَقُّ وَمَا لَہُمْ مِنَ اللّٰہِ مِن وَّاقٍ } ۔ (الرعد : 34) ۔ نیز آخرت کا عذاب بڑا سخت بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ۔ { وَلَعَذَاب الآخِرَۃ اَخْزیٰ } ۔ ( طہ : 127) ۔ سو کفر و انکار ہلاکتوں کی ہلاکت اور ہمیشہ کی خرابی و بربادی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 61 علم حق سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور بڑے درد و سوز بھرے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کاش کہ یہ لوگ جان لیتے "۔ حق اور حقیقت کو۔ اور اپنے مآل و انجام کو۔ تاکہ اس طرح یہ بچ جاتے ہلاکت و تباہی کے راستوں سے اور برے نتیجے اور انجام سے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات اور مہلت عمل ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوگئی کہ علم حق نجات کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ کیونکہ یہی وہ نور ہے جو انسان کو مہالک سے بچاتا اور سیدھی راہ سے روشناس کراتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس سے مراد عام دنیاوی علم نہیں۔ جیسا کہ عام لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ وہ علم انسان کو خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ بلکہ علم سے مراد یہاں پر حق اور حقیقت کا وہ علم ہے جو انسان کو وحی کے نور سے ملتا ہے اور جو صرف قرآن اور سنت کی شکل میں موجود ہے۔ اور قیامت تک موجود رہے گا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ اب نجات صرف قرآن و سنت سے وابستگی میں ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور جو لوگ اس نور علم سے محروم و بےبہرہ ہیں وہ سراسر محروم اور تہ در تہ اندھیروں میں ہیں اگرچہ وہ چاند پر ہی کیوں نہ پہنچ جائیں اور مریخ پر ہی کمندیں کیوں نہ ڈالتے ہوں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے بیان کیا لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون تاکہ یہ سبق لیں (اور نصیحت حاصل کریں)

62 قرآن حکیم میں ہر عمدہ مضمون کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون بیان کیا "۔ راہ حق و ہدایت کی توضیح و تشریح کے لئے اور اس کو ان کے لئے اتنا اور اس حد تک صاف اور واضح کردیا کہ اب اس میں کسی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ میں نے تم کو ایسی صاف و سیدھی اور واضح شاہراہ پر چھوڑ دیا ہے کہ اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے۔ اس سے ٹیڑھا نہیں ہوگا مگر وہی شخص جس کے نصیب میں ہی ہلاکت لکھ دی گئی ہو ۔ " تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْمَحَجَّۃِ الْبَیْضَائَ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لَا یَزِیْعُ عَنْہَا اِلَّا ہَالِکٌ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہ اِلَّا ہُوَ جَلَّ وَعَلا ۔ ضرب مثل کے معنیٰ ہیں کہ حکمت اور عظمت کی بات کو تمثیل کے انداز میں بیان کیا جائے۔ کیونکہ تمثیل کا انداز و اسلوب حقائق کی تعلیم و تفہیم کیلئے زیادہ موثر و مفید ہوتا ہے۔ خاص کر ان حقائق کے بارے میں جن کا تعلق عالم غیب سے ہو۔ اس لیے حضرات انبیائے کرام اس اسلوب کلام سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ تورات، انجیل اور زبور سب امثال سے مملو و معمور ہیں اور حضرت سلیمان کے صحیفہ حکمت کا تو نام ہی " امثال " ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کی بناء پر " ضرب مثل " کا محاورہ مجرد حکمت کی بات کہنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اگرچہ وہ عام اسلوب میں ہو۔ اسی لیے ہر عمدہ مضمون کو بھی مثال کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ کے اندر اسی کو اختیار کیا ہے کہ قرآن حکیم کا ہر مضمون عمدہ و بےمثال ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ بہرکیف قرآن حکیم حق و ہدایت اور ارشاد و راہنمائی سے متعلق ہر عمدہ مضمون پر مشتمل ہے۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ایسے عظیم الشان قرآن کی شکل میں جو کہ عربی زبان میں ہے اور جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ یہ لوگ بچ سکیں

63 قرآن حکیم ہر قسم کے عوج اور کجی سے پاک : سو ارشاد فرمایا گیا " ایک ایسے عظیم الشان عربی قرآن کی صورت میں جس میں کسی طرح کی کوئی کجی نہیں "۔ کسی بھی طرح کی کوئی کجی خواہ اس کا تعلق زبان وبیان اور کلمات و تراکیب سے ہو اور خواہ معانی و مطالب اور تفہیم وادا سے۔ ہر اعتبار سے یہ کتاب، کتاب مبین اور صاف وصریح اور سراسر حق و صدق ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان کی اس کتاب حکیم کے ذریعے نہایت فصیح وبلیغ زبان اور انتہائی موثر اور ہر دلعزیز اسلوب میں انسان کیلئے ان تمام باتوں کو واضح فرما دیا جو اس کی دنیا و آخرت کی فلاح کیلئے ضروری ہیں۔ اب اگر انسان اس سے منہ موڑے گا تو وہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرے گا۔ سو اس میں ایک طرف تو عربوں پر اتمام حجت ہے کہ ان کی اپنی زبان میں اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ حق کو اس کے ہر پہلو کے اعتبار سے واضح کردیا گیا جس کے بعد ان کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اور دوسری طرف اس میں تمام بنی نوع انسان کے لیے اتمام حجت ہے کہ اس میں حق و ہدایت کے تمام تقاضوں کو پوری طرح واضح فرما دیا گیا اور اس طور پر جو کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور ایسے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی گنجلک یا کوئی خفا و غموض باقی نہیں اس کے باوجود جو اس سے منہ موڑیں گے وہ بڑے بدبخت ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ 64 اِنزال قرآن کے مقصد کی توضیح و تصریح : سو انزال قرآن کی غرض وغایت اور اس کے مقصد کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ یہ لوگ بچ سکیں اپنے خالق ومالک کے غضب اور اس کی ناراضگی کی راہوں سے۔ اور اس کے نتیجے میں یہ بچ سکیں دوزخ کی ہولناک آگ اور دائمی عذاب سے ۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں پر پہلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ۔ { لعلہم یتذکرون } ۔ یعنی " تاکہ یہ لوگ سبق لیں "۔ اور دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ۔ { لعلہم یتقون } ۔ یعنی " تاکہ یہ لوگ بچ سکیں "۔ سو اس میں دو مرحلوں کو واضح فرمایا گیا ہے۔ اول یہ کہ انسان غفلت سے چونک کر اس کتاب حکیم کی طرف رجوع کرے اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنائے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اس کے عذاب سے بچ سکے۔ سو یہ کتاب حکیم غافلوں کے لیے ایک عظیم الشان تنبیہ و تذکیر ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور اپنے اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکیں جو ان کی غفلت و لاپرواہی اور انکے اندھے اور اوندھے پن کی بنا پر ان کو پیش آنے والا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے (موحد اور مشرک کے بارے میں) ایک مثالی بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص تو وہ ہے جس (کی ملکیت) میں کئی ضدی قسم کے مالک شریک ہوں اور ایک پورے کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہو کیا ان دونوں کا حال ایک برابر ہوسکتا ہے ؟ الحمد للہ (کہ حق ثابت اور واضح ہوگیا) لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

65 موحد اور مشرک کے بارے میں ایک مثال کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایک تو وہ شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی ضدی مالک شریک ہوں "۔ جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک اس کو اپنی طرف کھینچتا اور اپنی مقصد براری کے لئے بلاتا ہو۔ اور یہ حیران و پریشان ہو کہ ایسے میں کس کس کو راضی کرے۔ سو یہی حال مشرک کا ہوتا ہے کہ اس کا دل بیک وقت کئی شریکوں میں لٹکا اور پھنسا ہوتا ہے۔ اور وہ ایک طرف تو فطرت میں موجود توحید کے داعیہ کیخلاف برسرپیکار ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ کئی قسم کے خودساختہ معبودوں کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ جبکہ مومن موحد خدائے واحد کی عبادت سے سرشار اور مطمئن البال رہتا ہے۔ سو توحید امن و اطمینان کا ذریعہ و وسیلہ اور شرک پراگندگی اور پریشان حالی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ عقیدئہ توحید سے سرشار اور راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 66 مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجوڑنے والا ایک سوال : سو مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجوڑنے اور ان کے قلوب پر دستک دینے کے طور پر فرمایا گیا کہ " کیا ان دونوں کا حال ایک برابر ہوسکتا ہے ؟ "۔ جب نہیں اور ہرگز و یقینا نہیں تو پھر موحد اور مشرک آپس میں برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ مومن چونکہ " یکجائی " ہوتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ ایک ہی خالق ومالک اور اپنے حقیقی آقا ومولیٰ کی عبادت و بندگی اور رضا و خوشنودی کے حصول کی کوشش میں لگا رہتا ہے جو کہ مالک و معبود برحق ہے اور ہر شرک اور شائبہء شرک سے پاک ہے۔ اس لئے موحد امن وامان اور سکون و اطمینان کی عظیم الشان دولت سے بہرہ ور و سرشار ہوتا ہے۔ جبکہ مشرک " ہر جائی " ہونے کی وجہ سے ہر در پہ جھکتا اور ہر طرح کی ذلت اٹھاتا ہے۔ اور وہ حرمان نصیبی کا شکار ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عقیدئہ توحید اور نور ایمان و یقین سعادتوں کی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل و اساس ہے۔ جبکہ شرک محرومیوں کی محرومی اور ناکامی و نامرادی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 67 اکثریت نور علم سے محروم و بےبہرہ : سو ارشاد فرمایا گیا " لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو " اور وہ آگاہ نہیں حق اور باطل کے درمیان فرق و اختلاف سے۔ اس لئے وہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور عقیدئہ توحید کے شرف و امتیاز سے بےبہرہ ہو کر طرح طرح کے شرک میں مبتلا اور شرکیات میں ملوث ہوتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے لئے طرح طرح کی ذلتوں کا سامان خود کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ علم حق و حقیقت سے محرومی منبع شر و فساد اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور نور علم سے محرومی کے باعث انسان اندھیروں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ وہ اپنے سے گھٹیا مخلوق کی پوجا پاٹ میں لگ کر ذلتوں پر ذلتیں اٹھاتا ہے اور یہاں تک کہ وہ خودساختہ اور من گھڑت معبودوں کے آگے جھک کر اپنی فطرت سے بغاوت کرنے لگتا ہے اور غیر اللہ کی غلامی اور اس کی بندگی کا پٹہ اپنی گردن میں ڈال کر وہ خود کو اپنے ہاتھوں ایک ایسے مخمصے میں ڈال دیتا ہے جس میں پھنسنے کیلئے کوئی ذی ہوش شخص تیار نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے نتیجے میں آخرکار وہ ہلاکت و تباہی کے دائمی گھاٹ پر اتر کر رہتا ہے۔ نیز یہاں سے یہ حقیقت بھی ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ عوام الناس کی اکثریت تایید یا تردید کسی بات کے صحیح یا غلط ہونے کے لیے مدار اور معیار نہیں بن سکتی جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے علمبرداروں اور پرستاروں کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ عوام کی اکثریت بہرحال ان پڑھوں، جاہلوں، فاسقوں، فاجروں اور غلط کاروں ہی کی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ سو حق وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات کے مطابق حق قرار پائے اور باطل وہ ہے جو اس اعتبار سے باطل قرار پائے ۔ اللہ ہمیشہ نور حق و ہدایت سے سرشار اور ظلمات کفر و شرک سے دور اور محفوظ رکھے ۔ آمین ثما آمین۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بیشک آپ کو بھی مرنا ہے (اے پیغمبر ! ) اور ان سب کو بھی بہر حال مرنا ہے

68 موت کا مزہ ہر کسی نے بہرحال چکھنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ آپ نے بھی ۔ اے پیغمبر۔ مرنا ہے اور یقینا ان سب نے بھی بہرحال مرنا ہے "۔ تو پھر ان دشمنانِ حق کے لئے آپ کی موت سے خوشی کا کون سا موقع ہوسکتا ہے جو یہ اس کی انتظار میں لگے ہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اَمْ یَقُوْلُوْن شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْن } ۔ یعنی ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک شاعر ہے جس نے باقی لوگوں اور دوسرے شاعروں کی طرح مر مٹ جانا ہے اور اس طرح اس کا لایا ہوا دین بھی ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کے حادثہ موت تک انتظار کرلو۔ اس کے بعد معاملہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ تو اس پر ان بدبختوں کو بتایا گیا کہ مرنا تو تم نے بھی ہے۔ پھر تمہارے لئے پیغمبر کی موت میں خوشی کی کون سی بات ہوسکتی ہے ؟ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ لفظ " میت " اور " میت " دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ " میت " ۔ بالتخفیف۔ اس کو کہتے ہیں جو بالفعل مرچکا ہو۔ اور " میت " ۔ بالتشدید ۔ اس کو کہا جاتا ہے جس نے آئندہ مرنا ہو۔ ابھی بالفعل اس کی موت واقع نہ ہوئی ہو۔ عربی کا شاعر کہتا ہے ۔ فَمَنْ کَانَ ذَا رُوْحٍ فَذَالِکَ مَیَّتٌ۔ وَمَا الْمَیْتُ اِلَّا مَنْ کَانَ اِلٰی القَبْرِ یُحْمَلُ ۔ یعنی " جو بھی ذی روح ہوگا اس نے بہرحال مرنا ہے۔ اور میت ۔ یعنی بالفعل مرا ہوا شخص۔ وہ ہوتا ہے جس کو قبر کی طرف اٹھا کرلے جایا جا رہا ہو۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں حضرت نبی اکرم ﷺ کی موت کی پیشگی خبر دے دی گئی تاکہ کل آپ ﷺ کے انتقال کے موقع پر امت اختلاف میں نہ پڑجائے۔ جیسا کہ آپ ﷺ کے انتقال کے موقع پر واقعتہً حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے بھی ایسے ہی کیا تھا جس پر حضرت ابوبکر صدیق ۔ ؓ ۔ نے آنحضرت ﷺ کی وفات اور آپ ﷺ کے انتقال پر ملال کے بارے میں جن قرآنی آیات کریمہ سے استدلال و استشہاد کیا تھا ان میں یہ آیت کریمہ بھی تھی۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، مدارک، خازن اور صفوہ وغیرہ) ۔