Ayahs 36:63–6564 مجرموں کے مونہوں پر مہر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آج ہم مہر لگادیں گے انکے مونہوں پر " اور اس وقت ہوگا جب کہ یہ مجرم لوگ اپنے اعمال کا انکار کردیں گے کہ ہم نے تو یہ جرم کیے ہی نہیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی گواہ ہی نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ تو اس پر ان کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی بولتی بند ہوجائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں خود گواہی دینے لگیں ان سب کاموں کی جو یہ لوگ کرتے رہے تھے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ مَکْرُوْہٍ ۔ بہرکیف فصل وتمیز کے اس دن میں ان لوگوں کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی بولتی بند ہو کر رہ جائے گی اور اس کے بعد یہ نہ کوئی بہانہ بازی کرسکیں گے اور نہ ہی کوئی حجت پیش کرسکیں گے۔ اور انکے ہاتھ پاؤں خود انکے کیے کرائے کی گواہی دیں گے جس سے ان پر حجت قائم ہوجائے گی۔ اور یہ حجت تمام حجتوں پر بھاری ہوگی۔ سو زبان چونکہ جھوٹ بھی بول سکتی ہے، عذر بھی تراش سکتی ہے، لیکن ہاتھ پاؤں وہی کچھ بیان کریں گے جو انہوں نے کیا ہوگا۔ اس لیے ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی۔ اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں سے ان کے خلاف گواہی دلوائی جائے گی ۔ والعیاذ باللہ -
65 مجرموں کے خلاف خود انکے اپنے ہاتھ پاؤں کی گواہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ان کے اپنے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے انکے سب کیے کرائے کی "۔ سو اس کے بعد ان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی اور ان کو مانے اور تسلیم کئے بغیر کوئی چارئہ کار نہ رہے گا۔ کیونکہ یہ ان کے سامنے اوروں کے خلاف ایسی کھلی اور ٹھوس گواہی ہوگی جس سے بڑھ کر قطعی اور یقینی گواہی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ اور اس طرح ہاتھ پاؤں کی اس گواہی کے بعد ان لوگوں پر سب سے ٹھوس اور قطعی حجت قائم ہوجائے گی اور اس کے نتیجے میں مجرموں کا جرم اس قدر قطعی اور واضح طور پر ثابت ہوجائے گا کہ اس کے لیے مزید کسی پوچھ پاچھ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرما دی گئی کہ کسی انسان یا جن سے کچھ پوچھنے کی کوئی ضرورت نہ رہیگی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہ اِنْسٌ وَّلَا جَانٌّ } ۔ ( الرحمن : 39) ۔ اور اس وقت مجرم لوگ اپنے ان اعضاء وجوارح سے برہم ہو کر کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف اس طرح گواہی کیوں دی ؟ تو وہ جواب میں اس سے کہیں گے کہ ہمیں تو اسی اللہ نے گواہی بخشی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کیا ہے ( حم السجدۃ : 21) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 36:6666 مجرموں کے لیے ایک سخت تنبیہ و ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو مٹا دیں ان کی آنکھوں کو پھر یہ لپکیں راستے کی طرف مگر پھر کہاں کچھ سوجھ سکے انکو ؟۔ مگر ہم نے اپنے حلم بےپایاں کے باعث ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کیا۔ بلکہ اپنے کرم سے ہم نے ان کو ان نعمتوں سے بھرپور استفادے کے مواقع دے رکھے ہیں ورنہ ہم اگر چاہیں تو کبھی بھی ان سے یہ سب کچھ چھین لیں۔ تو پھر ان کو پتہ چلے۔ سو ان کو ہماری اس ڈھیل سے غفلت میں پڑنے کی بجائے اس کی قدر کرنی چاہئے اور اس فرصت اور موقع سے اپنی عاقبت سنوارنے کا کام لینا چاہئے ۔ اللّٰھُمَّ ارْزُقْنا التَوفیق ۔ بہرکیف یہ قدرت کا ایک قانون اور ضابطہ ہے کہ جس نعمت کی قدر نہ کی جائے اور اس کو اس غرض کیلئے استعمال نہ کیا جائے جس کیلئے قدرت نے اس کو پیدا فرمایا اور وجود بخشا ہوتا ہے تو وہ اس سے چھین لی جاتی ہے۔ سو اگر یہ لوگ ہماری بخشی ہوئی آنکھوں کے ذریعے راہ حق نہیں دیکھتے تو یہ اس لائق ہیں کہ ان سے آنکھوں کی اس نعمت کو چھین لیا جائے۔ اور ایسا کہ انکے نشانات تک کو مٹا دیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:6767 منکرین کو مسخ کردینے کی تہدید و تنبیہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو انکو ان کی اپنی جگہ پر ہی مسخ کردیں "۔ یعنی یہ لوگ کسی بھی حال میں اور کسی بھی موقع و مقام پر ہماری گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتے۔ ہم ان کو جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جس طرح چاہیں، پکڑ سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہم نے اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ سو ان کو اسے غنیمت سمجھتے ہوئے ہماری رضا کے حصول اور اپنی عاقبت کو بنانے کی فکر کرنی چاہیئے قبل اس سے کہ یہ فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُسْتَعَانُ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اگر چاہیں تو انکو ان کی جگہ پر ہی ایسے مسخ کرکے اور مٹا کر رکھ دیں کہ یہ نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے ہٹ سکیں لیکن اس کے باوجود ہم نے انکو اپنے فضل و کرم سے ڈھیل دے رکھی ہے اور ان سے ایسا حشر نہیں کیا تاکہ یہ اگر چاہیں تو سنبھل جائیں اور اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی قدر پہچانیں۔ انکو صحیح طور پر استعمال کرکے اس کے شکرگزار بنیں۔ اور اس طرح خود اپنی بہتری اور بھلائی کا سامان کریں تاکہ ابدی خسارے سے بچ سکیں۔ کیونکہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کا نتیجہ بڑا سنگین اور انتہائی ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 36:6868 انسانی زندگی کے احوال میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں اس کو الٹا کردیتے ہیں اس کی خلقت میں "۔ سو ایسے میں یہ اپنی بھرپور قوتوں کے بعد کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نظر کمزور ہوتے ہوتے بعض اوقات بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ قوت سماعت جواب دے جاتی ہے۔ چلنے پھرنے اور سننے سمجھنے سے یہ معذور ہوجاتا ہے۔ پیشاب پاخانے تک میں یہ دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کوئی نہیں جو اس کو اس زوال و انحطاط سے بچا سکے اور اس کے اس ضعف و اضمحلال کو روک سکے۔ سو معلوم ہوا کہ یہ قوتیں جن پر آج انسان ناز کرتا اور اکڑتا ہے نہ اس کی اپنی ذاتی اور اس کے اپنے اختیار میں ہیں اور نہ ہی یہ دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہیں۔ بلکہ یہ سب کسی کی عطا فرمودہ اور فانی و عارضی ہیں۔ لہذا جہاں تک ہو سکے تم ان کو نیکی اور خیر میں صرف کرو تاکہ یہ تمہارے لئے ابدی اور دائمی نعمتوں کا ذریعہ بن سکیں اور ہمیشہ اور دل و جان سے شکر بجا لاؤ اس وَہَّاب مُطْلَق جَلَّ وَعَلا کا جس نے یہ سب کچھ تمہیں بخشا اور عطا فرمایا ہے اے لوگو اور بغیر کسی قیمت و مول کے اور بغیر تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخوست کے از خود اور محض اپنے کرم و احسان سے عطا فرمایا ہے۔ سو کس قدر ظالم اور بےانصاف ہے وہ انسان جو اس سب کے باوجود اس واہب مطلق ۔ جل و علاشانہ ۔ سے منہ موڑے اور اس کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اور اس کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس طرح وہ اپنی قوتوں کے بام عروج کو پہنچ کر پھر رفتہ رفتہ ایسی کمزوری اور بےبسی کی طرف لوٹنے لگتا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جان رہا ہوتا۔ جیسا کہ سورة نحل کی آیت نمبر 7 میں اس کی تصریح فرمائی گئی اور اس کی اس عاجزی اور بےبسی کی تصویر سورة روم کی آیت نمبر 54 میں پیش فرمائی گئی۔ سو انسانی زندگی کے ان مختلف احوال و مراحل میں غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اگر انسان اس بارے صحیح طور پر سوچے اور درست زاویے سے غور و فکر کرے تو اس کے دل و دماغ کی دنیا حق و ہدایت کے نور مبین سے منور ہوجائے { وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ } ۔ ( الذاریات : 31) ۔ مگر غافل دنیا اس سے بےفکر اور لا پروا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:6969 پیغمبر کو شاعری نہیں سکھائی گئی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کو نہ شاعری سکھائی گئی اور نہ ہی یہ ان کی شان کے لائق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے نہ تو پیغمبر کو شاعری سکھائی اور نہ ہی یہ اس کی شان کے لائق ہوسکتی ہے "۔ کیونکہ شاعری میں تو تصنع، مبالغہ آمیزی، خیال آرائی، تفاخر و تعلّی اور تک بندی جیسی چیزیں ہوتی ہیں۔ اور اس میں یہ چیزیں جس قدر زیادہ ہوں گی اسی قدر شعر کی قدر و قیمت بڑھے گی اور زیادہ ہوگی۔ چناچہ شعر کے بارے میں مشہور ہے کہ " اَکْذَبُہ اَحْسَنُہ " کہ اس میں جتنا زیادہ جھوٹ اور مبالغہ ہوگا اتنا ہی وہ اچھا سمجھا جائے گا۔ جبکہ پیغمبر تو وہ حقائق بیان فرماتے ہیں جو " دو دونے چار " کی طرح سچے اور کھرے ہوتے ہیں۔ تو پھر صنعت شعر آپ ﷺ کی شان کے مناسب اور لائق کس طرح ہوسکتی ہے ؟ اسی لئے آپ ﷺ نے زندگی بھر کبھی کوئی شعر نہیں کہا۔ اور اگر کبھی کسی دوسرے کا کوئی شعر پڑھا بھی تو اسے سیدھا نہ پڑھا۔ صحابہ کرام کے توجہ دلانے پر آپ ﷺ فرماتے کہ مجھے اس سے کیا لگے۔ میں نہ تو شاعر ہوں، نہ ہی شعر گوئی میرے لائق و مناسب ہے۔ اور علمائے سلف کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے زندگی بھر کبھی کوئی شعر نہیں کہا۔ اور اگر کبھی کوئی مقفیٰ و موزون کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوا بھی ہو تو اس کے بارے علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ وہ شعر نہیں تھا۔ کیونکہ اسے آپ ﷺ نے شعر کے ارادے سے نہیں فرمایا۔ اس طرح یہ آیت کریمہ بھی اس بات کے قطعی دلائل میں سے ایک ہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) عالم غیب نہ تھے، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اہل بدعت کے شرکیہ عقیدے پر جب اس حجت قطعی کی چوٹ پڑی تو انہوں نے اس کے جواب میں طرح طرح کے پیچ و تاب کھائے اور ان کے ایک بڑے تحریف پسند نے کہا کہ یہاں آپ سے شعر گوئی کی نفی نہیں بلکہ اس کے ملکہ کی نفی ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس فکر و دانش کے کہ اللہ پاک تو فرمائے کہ " نہ تو ہم نے آپ ﷺ کو شعر کہنا سکھایا اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے مناسب اور آپ ﷺ کی شان کے لائق ہے " لیکن یہ حضرت اس کے علی الرغم اگر مگر کے چکر دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہاں پر نفی نفس شعر کی ہے نہ کہ اس کے ملکہ کی۔ اور شعر سے ملکہ شعر مراد لینے کا یہاں پر نہ کوئی قرینہ موجود ہے نہ دلیل۔ اور اگر علی سبیل الفرض اس کو اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ کے جس علم کا دعویٰ یہ لوگ کرتے ہیں اس کی نفی تو پھر بھی ہوگئی کہ ملکہ شعر کی نفی تو ان کو بھی تسلیم ہے۔ بہرکیف جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نہ شعر سکھایا گیا تھا اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی شان کے لائق تھا۔ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ نفرت شعر سے تھی ۔ " کان الشِّعْر اْبغَضَ الْکَلاَمِ الیہ " ۔ ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ اس لئے جمہور علماء و مفسرین کرام کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کو نہ شعر آتا تھا اور نہ ہی یہ شعر گوئی آپ ﷺ کی شان کے لائق تھی۔ (روح، قرطبی، بیضاوی، مراغی، ابن جریر، ابن کثیر، مدارک، صفوہ وغیرہ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کی تردید فرما دی گئی جو قرآن کو شعر اور پیغمبر کو شاعر قرار دیتے تھے اور صاف طور پر بتادیا گیا کہ ہم نے نہ تو پیغمبر کو شعرگوئی سکھائی اور نہ ہی یہ چیز آپ ﷺ کی شان اور آپ ﷺ کے منصب عالی کے لائق ہی تھی کہ شعر گوئی اور شاعری شان نبوت سے ایک فروتر چیز ہے۔ پیغمبر کا مرتبہ اور آپ کی شان اس سے کہیں اعلیٰ وارفع ہوتی ہے۔ وہاں پر سراسر حق وصدق کی ترجمانی ہوتی ہے۔
Ayah 36:7070 اِنزال قرآن کے اصل مقصد کی وضاحت : سو قرآن مبین کے اتارے جانے کے مقصد کے بیان اور اس کی وضاحت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن اس لیے اتارا کہ وہ خبردار کرے ہر اس شخص کو جو زندہ ہو "۔ یعنی جس کا قلب و ضمیر زندہ ہو اور وہ حق و حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت و صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہو۔ اور وہ اس طور پر حق و ہدایت کو لینے اور قبول کرنے کے لئے تیار و مستعد ہو۔ کیونکہ جو ایسا نہیں ہوگا وہ درحقیقت مردہ ہے اگرچہ وہ بظاہر دو ٹانگوں پر چلتا اور بہت کچھ دعوے بھی کرتا ہو۔ اس کیلئے اس کو اس نور مبین سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کلّ زیْعٍ وَّ ضَلَال ۔ بہرکیف اس ارشاد سے قرآن حکیم کے اتارے جانے کے مقصد کو واضح فرما دیا گیا تاکہ اس کے ذریعے پیغمبر لوگوں کو انکے اس ہولناک انجام سے آگاہ و خبردار کرسکیں جسکی طرف وہ بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ لیکن پیغمبر کے اس انذار سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوں گے جن کے اندر حیات عقل و روح کی کوئی رمق باقی ہوگی۔ رہے وہ لوگ جنکے دل مرچکے ہیں تو ان کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہوجائے اور کل قیامت میں وہ اس طرح نہ کہہ سکیں کہ انکو کسی نے خبردار نہیں کیا تھا۔ بہرکیف جنکی فطرت زندہ اور سلامت ہوتی ہے نور حق و ہدایت سے مستفید اور فیضیاب وہی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کے خبردار کرنے سے اے پیغمبر فائدہ انہی لوگوں کو پہنچ سکتا ہے جو نصیحت پر دھیان دیں اور وہ خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈریں۔ (یٰسٓن : 11) اور جو اس وصف سے محروم ہیں آپ ﷺ انکو نہیں سنا سکتے کہ وہ زندہ نہیں مردہ ہیں۔ جو چلتے پھرتے جسموں کی ان قبروں میں دفن ہیں۔ جیسا کہ اوپر دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ } ۔ (فاطر : 22) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 36:7171 آیات کونیہ میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی ان چیزوں میں غور نہیں کیا جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ؟ "۔ یعنی خاص حکمت کے ساتھ اور اہتمام سے بنایا ہے۔ جن سے یہ لوگ زندگی میں طرح طرح کے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ سو جب یہ سب چیزیں ہم ہی نے پیدا کیں، کسی اور کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، تو پھر ہمارا کوئی شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور ہمارے ساتھ کسی اور کیلئے کسی بھی طرح کی عبادت و بندگی کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اگر یہ لوگ ان چیزوں میں غور و فکر سے کام لیں تو انکے سامنے واضح ہوجائے کہ یہ سب کی سب اپنی زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی عظمت شان، اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ اور اس کی وحدانیت مقدسہ کی گواہی دیتی ہیں، مگر مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ سوچتے ہی نہیں۔ سو اگر یہ لوگ صحیح طور سے غور وفکر سے کام لیں تو ان کو نظر آئے کہ یہ سب چیزیں اپنے وجود سے اور اپنی زبان حال سے گواہی دے رہی ہیں کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ ہی نے وجود بخشا ہے۔ کسی اور کا ان میں کسی بھی طرح کا کوئی عمل دخل اور عمل و اشتراک نہیں۔ اور اللہ ہی سب کا خالق ومالک اور حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
72 اپنی ملکیت کے جانوروں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان چوپایوں میں بھی جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں "۔ سو ان کی یہ لوگ ایسی ملکیت رکھتے ہیں کہ ان میں یہ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں تصرف کرتے ہیں۔ تو کیا یہ سوچتے نہیں کہ انکو پیدا کس نے کیا اور کس طرح انکے وجود کو انسان کی طرح طرح کی ضروریات کیلئے ایسا سازگار بنایا کہ یہ سرتاپا اپنے اندر و باہر اور اپنے جسم کے ہر ہر حصے سے اس کیلئے مفید اور سازگار ہیں۔ ان سے انسان تازہ بتازہ عمدہ اور لذیذ گوشت حاصل کرتا ہے جس سے آگے یہ طرح طرح کے فائدے اٹھاتا ہے۔ ان کی خریدو فروخت کے ذریعے یہ اپنی روزی روٹی کماتا اور دوسرے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے۔ ان کی کھالوں، ان کی اونوں اور ان کے بالوں کے ذریعے قسما قسم کے فائدے اٹھاتا اور کاروبار کرتا ہے۔ تو کیا یہ انسان کبھی سوچتا اور غور نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی قدرت، حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے ؟ سو وہی معبود برحق اور ہر عبادت کا حقدار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فایاہ نعبد وبہ نستعین -
Ayah 36:7273 چوپایوں کی نعمت میں سامان غور وفکر : سو اس سے چوپایوں کی نعمت اور ان کی انسانی ضروریات کے لیے سازگاری میں دعوت غور و فکر ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہم نے اپنی رحمت و عنایت سے ان چوپایوں کو انسان کی طرح طرح کی ضروریات کے لیے نہایت سازگار بنایا اور پھر ان کو ہر طرح سے انسان کا مطیع فرمان بنادیا۔ اور ایسا کہ اونٹ جیسے ایک قوی ہیکل جانور کو، بلکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کو ایک چھوٹا سا بچہ مہار کی ایک چھوٹی سی رسی کے ذریعے جہاں چاہے کھینچ کرلے جاتا ہے۔ وہ کوئی چوں و چرا تک نہیں کرتے۔ سو یہ سب کچھ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی اسی تسخیر اور تذلیل کا نتیجہ و اثر ہے کہ ایسے ایسے بڑے بڑے جانور اس طرح تمہارے کام میں لگے ہوئے اور تمہارے لئے مطیع و منقاد ہیں۔ ورنہ تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ازخود اس طرح کرسکتے۔ سو اس کا لازمی نتیجہ وثمرہ یہ ہے اور یہی ہونا چاہیئے کہ تم لوگ زندگی کے ہر دائرے میں دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جاؤ جس نے اپنے فضل و کرم سے تم کو اس طرح کی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور اس کی کی عظمت وکبریائی کے گن گاؤ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَذَالِکَ سَخَّرْنَاھَا لَکُمْ لِتُکَبِّروا اللّٰہَ عَلٰی مَاھَدٰکُمْ } ۔ کہ شکر منعم تو عقل و نقل دونوں کا تقاضا اور ایک طبعی اور فطری امر ہے ۔ فَسُبْحان اللّٰہِ الَّذِیْ سَخَّرَھَا وَذَلَّلَہاَ لَنا بِمَحْضِ مَنِّہٖ وکَرمِہٖ فانَّہ اَرْحَمُ الرَّاحمین واکرم الاکرمین ۔ بہرکیف انسان کیلئے ان جانوروں میں بھی بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں بشرطیکہ وہ غور و فکر سے کام لے اور غور و فکر بھی صحیح طور پر اور درست زاویہ نگاہ سے ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 36:7374 چوپایوں کے عظیم الشان فوائد کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے طرح طرح کے عظیم الشان فائدے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ان چوپایوں میں اور بھی طرح طرح کے فائدے ہیں "۔ کہ یہ ان کے چمڑوں، بالوں، ہڈیوں، کھالوں، ان کی چربیوں، خونوں اور گوبر وغیرہ سے بھی طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں۔ ان سے یہ قسما قسم کی چیزیں بناتے، طرح طرح کے کاروبار چلاتے اور بھاری بھرکم فوائد و منافع کماتے ہیں۔ تو کیا خداوند قدوس کے سوا اور کسی کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کیلئے ایسی منافع بخش مخلوق پیدا کرے جو سرتاپا اس کیلئے نفع بخش اور طرح طرح کے فوائد و منافع کا ذریعہ بنے ؟ اور وہ اس کیلئے ایسی مسخر اور مطیع و فرمانبردار ہوجائے کہ وہ اس سے جو چاہے اور جیسے چاہے خدمت لے اور فائدہ اٹھائے ؟ اور جب ایسی دوسری کوئی ہستی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو پھر معبود بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور پھر اس سے یہ بھی سوچو کہ جس انسان کی خدمت و بہتری کے لیے قدرت نے اپنی بےپایاں رحمت و عنایت سے ایسی نفع بخش مخلوق پیدا کی ہو کیا وہ انسان بیکار اور بےمقصد ہوسکتا ہے ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو اس کا لازمی تقاضا اور طبعی نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں انسان سے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کے بارے میں پوچھ ہو کہ اس نے ان کا کیا حق ادا کیا ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں اور شکر گزاروں کو ان کا صلہ وبدلہ ملے اور منکرو ناشکرے اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتیں تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں جو کہ اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کا تقاضا ہے۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
75 چوپایوں کے ذریعے پینے کی طرح طرح کی نعمتوں میں غور وفکر : سو اس کے ذریعے چوپایوں سے حاصل ہونے والی پینے کی طرح طرح کی چیزوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں ان کے لیے قسما قسم کی پینے کی چیزیں بھی ہیں۔ یعنی دودھ اور اس سے بننے والی مختلف چیزیں جیسے دہی، لسی، مکھن اور پنیر وغیرہ وغیرہ جن میں آگے طرح طرح کے فوائد و منافع ہیں جو سب انسانوں کیلئے مفید و لذیذ اور صحت و توانائی بخش ہیں۔ تو کیا طرح طرح کی یہ عظیم الشان نعمتیں جن سے یہ لوگ دن رات مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں کیا ان کا کوئی تقاضا نہیں ؟ اور کیا یہ ان پر کوئی حق واجب نہیں کرتیں ؟ اور کیا یہ ان سے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر نہیں کہہ رہیں ؟ کہ یہ لوگ اس واہب مطلق کے حضور دل و جان سے جھک جھک جائیں جو اس فیاضی سے انکو ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں سے نواز رہا ہے۔ سو یہ تمام نعمتیں اپنی زبان حال سے انسان کو وہی درس دے رہی ہیں جس کی تذکیر و یاددہانی یہ کتاب حکیم کرتی ہے۔ تو پھر یہ کیسی بےانصافی اور کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ انسان اس کتاب حکیم کی تعلیمات مقدسہ کو حرز جان بنانے کی بجائے اس کو شاعری قرار دے کر اس کی تعلیمات عالیہ سے گریز و فرار کی راہیں تلاش کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
76 نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تحضیض و ترغیب کے لیے استفہام کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ پھر بھی شکر نہیں بجا لاتے ؟ "۔ اس واہب مطلق کا جس نے ان کو ان طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے کہ یہ دل و جان سے اس کے حضور جھک جائیں۔ اس کی توحید و وحدانیت کا اقرار کریں اور اس کا عقیدہ رکھیں۔ اور اس کی بخشی ہوئی ان چیزوں کو اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بنائیں اور ان کو اس کی راہ میں خرچ کریں کہ اس طرح یہ حضرت واہب مطلق کی بخشی ہوئی نعمتوں کے شکر واجب کا حق بھی ادا کرسکیں گے اور خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان بھی کرسکیں گے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر خداوندی ہے جو کہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں کے ذمے حقِّ واجب بھی ہے اور اسی میں خود ان اپنا بھلا بھی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ جبکہ ناشکری باعث عذاب و محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 36:74–7577 معبودان من دون اللہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کھلے حقائق کے باوجود ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس موہوم اور بےبنیاد امید پر کہ وہ ان کی مدد کریں گے۔ حالانکہ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ کبھی کرسکیں گے۔ الٹا یہ خود انکے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں کہ ان کے دربار بناتے، آستانے سجاتے، جھنڈے لہراتے، ان پر چادریں ڈالتے، نذرانے و شیرینیاں پیش کرتے، ان کے گیت گاتے اور ان کی تاثیر و تصرف کے قصے و افسانے گھڑ گھڑ کر لوگوں کو سناتے اور پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی دکان چمکتی رہے اور ان کی چاندی مزید از مزید کھری ہوتی جائے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح ایسے لوگ شکر نعمت کی بجائے کفران نعمت کی اس راہ کو اپناتے ہیں جو دائمی اور ہولناک ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے والی راہ ہے۔ اور اس کے نتیجے میں یہ کل قیامت کے اس یوم حساب میں اپنے ان خودساختہ معبودوں کے ساتھ فوج کی فوج بنے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ پھر وہی فیصلہ فرمائے گا کہ یہ کس سزا کے مستحق ہیں اور اس وقت ان کی محرومی و بدبختی اور ان کے خسارے کا جو حال ہوگا اسکا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ اور یہی سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:7678 پیغمبر کو تسلی ۔ ﷺ : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " پس غم میں نہ ڈالنے پائیں آپ ﷺ کو ان کی باتیں ۔ اے پیغمبر !- " یعنی یہ جب اپنے اس خالق ومالک کی نافرمانی و نمک حرامی سے نہیں ٹلتے جس کی نعمتوں اور عنایتوں میں یہ سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہیں تو پھر آپ ﷺ کی تکذیب کرنا اور دکھ دہ باتیں کہنا ان سے کیا بعید ہوسکتا ہے۔ پس ان کی یہ باتیں آپ ﷺ کے لئے باعث غم نہیں ہونی چاہئیں کہ یہ کوئی انوکھی اور خلاف توقع چیز نہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء و رسل کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ (حٓمٰ السّجدۃ :43) ۔ پس یہ آپ ﷺ کو شاعر، ساحر، خبطی اور مفتری وغیرہ جو بھی کچھ کہتے ہیں اس سے آپ ﷺ غمگین نہ ہوں۔ ان کی ان خفیہ اور ظاہری شرارتوں اور شرانگیزیوں سے ہم پوری طرح واقف و آگاہ ہیں۔ ہم ان سے ٹھیک طور سے اور پوری طرح نپٹ لیں گے۔ اور اس ارشاد میں پیغمبر کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسکین کا یہ درس عظیم ہے کہ جب اللہ کے رسول اور رسولوں کے امام و پیشوا بھی منکروں اور بدبختوں کی ایذا رسانیوں سے محفوظ نہیں رہ سکے تو پھر اور کون اس سے بچ سکتا ہے ؟۔ پس تم اس کی کبھی توقع نہ رکھنا اور یہ کبھی نہ سوچنا کہ تم کو کوئی کچھ نہیں کہے گا اور سب تمہارا ساتھ دیں گے کہ ایسا نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ ایسا اگر ممکن ہوتا تو حضرت امام الانبیاء کے ساتھ ہوتا۔ اور جب وہاں بھی ایسے نہیں ہوا تو پھر اور کہاں اور کس کے لیے ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔ پس تم یہ کبھی نہ سوچنا کہ تم کو سب اچھا کہیں بلکہ کوشش ہمیشہ اس کی کرنا کہ میرا اپنا راستہ صحیح ہو۔ اور یہ کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ میرا معاملہ درست رہے۔ اس کے بعد کوئی اچھا کہے یا برا اس کی کوئی پروا نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
79 منکروں کی کوئی بھی حالت اللہ سے مخفی نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم خوب جانتے ہیں وہ سب کچھ جسکو یہ لوگ چھپاتے ہیں اور جسکو یہ ظاہر کرتے ہیں "۔ سو ان کا کوئی بھی کام اور کوئی بھی حرکت ہم سے مخفی نہیں۔ لہذا یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بدلہ بہرحال پا کر رہیں گے بچ نہیں سکیں گے۔ اس لئے ان کو ان کے انجام کے حوالہ کردیا جائے جس کو یہ لوگ اپنے طور پر چھپاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں وہ دونوں ایک برابر ہیں۔ اور ہم سے ان کی کوئی بھی بات مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ لہذا وقت آنے پر یہ اپنی شرارتوں اور شرانگیزیوں کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے۔ سو جب اللہ سب کچھ جانتا ہے اور ان لوگوں کا ظاہر و باطن اس کے یہاں ایک برابر ہے تو پھر آپ کو اس بارے سوچنے اور ان کی باتوں سے غمگین اور افسردہ ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ وقت آنے پر وہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق بھرپور طریقوں سے نمٹے گا۔ پس آپ اپنے رب کے بھروسے پر اپنا کام کیے جاؤ اور ان کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کردو ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 36:77–7880 انسان کی خودفراموشی کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر انسان ہمارے لیے مثالیں گھڑتا ہے اور خود اپنے آپ کو اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے حالانکہ ایک وقت وہ تھا جبکہ خود اس کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا ۔ { لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا } ۔ تو جب اس عدم محض اور نیستی مطلق سے نکال کر اللہ پاک نے اس کو وجود بخشا اور اس کو ایسا عمدہ انسان بنادیا تو پھر آخر اس قادر مطلق کے لئے اسے دوبارہ پیدا کرلینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر خود اپنے بارے میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو حق اور حقیقت اس کیلئے پوری طرح واضح ہوجائے۔ لیکن وہ خودفراموشی کا شکار ہے اور اس کی خود فراموشی اور کفران نعمت کا ایک کھلا نمونہ اور مظہر ہے کہ یہ اپنے خالق ومالک ہی کے بارے میں ایسی مثالیں گھڑنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
81 منکرین کا ایک اچنبھا اور اس کا جواب : سو منکر انسان کے اس اچنبھے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ " کون زندہ کرے گا ان ہڈیوں کو جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہونگی ؟ "۔ جیسا کہ روایات کے مطابق ابی بن خلف یا عاص بن وائل نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک بوسیدہ ہڈی پیش کر کے پوچھا تھا کہ اس کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ اس طرح گل سڑ چکی ہوگی ؟ یعنی ان لوگوں کے نزدیک ایسے لوگوں کا دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ایک ناممکن اور انہونی بات ہے جبکہ ان کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہونگی۔ سو منکرین کے اس اچنبھے کے جواب اور ان کے اس شبہ کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہی دوبارہ پیدا کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ زندگی بخشی۔ بھلا جو نیست سے ہست کرسکتا ہے اور عدم محض کے اندھیروں سے نکال کر وجود کی روشنی میں لاسکتا ہے اس کے لیے اعادہ یعنی دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟۔ مگر منکرین کی مت ماری کے باعث ان کو یہ صاف بات سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:7982 بعث بعد الموت کے اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو بعث بعد الموت کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر مخلوق کو پوری طرح جانتا ہے۔ لہٰذا تمہارے جسموں کے پوشیدہ اور بوسیدہ ذرات اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتے۔ " علق " کا لفظ یہاں پر مخلوق کے معنیٰ میں ہے۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ اپنی ہر مخلوق اور اس کی ہر حالت کو پوری طرح جانتا ہے۔ بھلا خالق سے اس کی کوئی مخلوق یا کسی مخلوق کی کوئی حالت کس طرح اور کیونکہ مخفی رہ سکتی ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ یعنی " کیا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا فرمایا اور وہ بڑا ہی باریک بین، نہایت ہی باخبر ہے " ( الملک : 14) ۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الاَرْضُ مِنْہُمْ وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ } ۔ یعنی " ہم پوری طرح جانتے ہیں وہ سب کچھ جو زمین ان کے اندر سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ان کا پورا ریکارڈ رکھنے والی ایک عظیم الشان کتاب بھی موجود ہے " (ق :4) ۔
Ayahs 36:80–8183 بعث بعد الموت کے کائنات کے وجود سے استدلال : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کے خالق کیلئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کے مقابلے میں یہ انسان ضعیف البنیان ایک ذرئہ بےمقدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَخَلْقُ السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } ۔ (المومن : 57) ۔ سو جب اس قادر مطلق، خالق کل نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرما دیا اور اس کو کسی طرح کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں تو پھر اس کیلئے اس چند فٹ کے اس انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کس طرح مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ وہ خالق بھی ہے اور علیم بھی۔ سو اس کیلئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خلاق اور علیم کی ان دو صفتوں کے ذکر سے اس مضمون میں اور زور پیدا فرما دیا گیا کہ وہ خلاق ہے اس لیے جو چاہے اور جب اور جیسا چاہے پیدا فرمائے۔ اور علیم ہے اس لیے کوئی بھی چیز اور انسان کی کوئی بھی حالت اور کیفیت اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں ہوسکتی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے وہ جب چاہے گا انسان کو دوبارہ پیدا کر دے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 36:8284 اللہ تعالیٰ کی شان کن فیکون کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی شان کن فیکون کی شان ہے۔ یعنی اس کو تخلیق و پیدائش کے لئے کسی تیاری کی یا نقشہ بنانے اور میٹیریل جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہاں تو معاملہ کُنْ فَیَکُوْنُ کا ہے۔ اور وہاں محض ارادئہ واشارہ کی دیر ہوتی ہے۔ ادھر ارادہ ہوا ادھر وہ چیز تیار ہوگئی۔ لہذا تم لوگ اس کی بےپایاں قدرت و حکمت وغیرہ کو اپنی محدود قدرت و قوت پر قیاس نہ کرنا کہ یہی بات دراصل جڑ بنیاد ہے بہت سی خرابیوں اور مفاسد کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو مخلوق پر قیاس کرکے اس کے بارے میں وہی تصورات قائم کرنا جو مخلوق کے لائق اور اسی کی شان کے شایان ہوتے ہیں بہت سی گمراہیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں صاف اور صریح طور پر اللہ تعالیٰ کیلئے مثالیں گھڑنے سے منع فرمایا گیا کہ انسان اپنے طور پر جو بھی کوئی مثال پیش کریگا وہ مخلوق ہی کے دائرے میں اور مخلوق ہی کے مناسب حال ہوگی کہ انسان خود مخلوق اور اس کی کھوپڑی بھی محدود و مخلوق ہے۔ مخلوق کے دائرے سے نکلنا اس کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ اس لیے لوگوں کو حضرت خالق کیلئے ایسی مثالیں پیش کرنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا ہے۔ (النحل : 74) ۔ پس اللہ تعالیٰ کو ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے اور بس۔
Ayah 36:8385 اللہ تعالیٰ کے تنزیہ اور تقدیس کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے وہ ذات جسکے قبضہ قدرت میں ہر چیز کا پورا اقتدار و اختیار ہے "۔ یعنی اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا اختیار اس نے کسی اور کے حوالے نہیں کردیا بلکہ اس کا پورا قبضہ و کنٹرول بھی اس نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہے۔ پس جس طرح خالق وہ ہے اسی طرح مالک و مختار اور متصرف و کارساز بھی وہی ہے۔ اور تم سب نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب بہرحال دینا ہے اور اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پانا ہے ۔ فَخُذْ بِنَوَاصِیْنَا یَا اللّٰہُ اِلٰی مَا فِیْہِ حُبَّکَ وَرِضَاکَ فَاِنَّکَ اَکْرَمُ الاَکْرَمِیْنَ وَاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَاَرْحَمُ بِنَا مِنَّا لِاَنْفُسِنَا ۔ " ملکوت " کا لفظ " ملک " سے ماخوذ ہے جسکے معنیٰ اختیار و اقتدار کے آتے ہیں۔ سو اس ارشاد عالی سے اس سورة کریمہ کے آخر میں یہ تنبیہ فرما دی گئی کہ جس ذات اقدس و اعلیٰ کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام و اقتدار ہے وہ ہر قسم کے نقص و عیب اور ہر طرح کے شرک اور شائبہ شرک سے پاک ہے۔ اور تم سب نے آخرکار بہرحال اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور " تُرْجَعُون " کے صیغہ مجہول سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ایسے بہرحال ہونا ہے اور تم سب نے بہرحال لوٹ کر اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، مانے یا نہ مانے، خوش ہو یا ناخوش ایسے بہرطور ہو کر رہے گا۔ نیز " سبحان " کے اس کلمہ سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس خالق کل اور مالک مطلق نے اس کائنات کو یونہی عبث و بیکار نہیں پیدا فرمایا۔ اس لیے یہ بات لازم اور ضروری ہے کہ ہر کوئی اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جوابدہی کرے۔ نیز اس کیلئے لوگوں کے مرنے اور سڑگل جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نہ کوئی چیز اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی کا کوئی قول و فعل اس کے علم سے مخفی رہ سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین