36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 36:32–33

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

ان سب کو بہرحال اکٹھا کر کے ہمارے حضور حاضر کیا جانا ہے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک عظیم الشان نشانی تو (ان کے پیش پا افتادہ) یہ مردہ زمین بھی ہے جسے ہم زندہ کر کے اس سے نکالتے ہیں طرح طرح کے غلے جس سے یہ لوگ کھاتے ہیں

34 زمین میں غور و فکر کی دعوت : سو اس ارشاد سے انکے اپنے پیش پا افتادہ اس زمین کے بارے میں دعوت غور و فکر ہے۔ یعنی جب یہ سب کچھ تم لوگ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور بار بار دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی اچنبھا اور تعجب نہیں ہوتا، تو پھر اپنے دوبارہ جی اٹھنے پر تمہیں اس قدر تعجب آخر کیوں ہو رہا ہے ؟ تمہیں بھی اسی طرح اٹھایا جائے گا جس طرح کہ یہ چیزیں ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا ہوتی اور لہلہا اٹھتی ہیں ۔ { کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ۔ سو اس ارشاد ربانی میں لوگوں کو اس زمین اور اس کے احوال کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو کہ انکے پاؤں تلے بچھی ہوئی ہے اور جو طرح طرح کی نعمتوں سے بھرپور اور قسما قسم کی حکمتوں سے منور و معمور ہے۔ اگر لوگ اسی کے بارے میں صحیح طور پر سوچیں اور غور کریں تو ان کیلئے راہ حق و ہدایت اور اس کے تقاضے پوری طرح واضح ہوجائیں کہ آخر اس حکمتوں بھری زمین کو پیدا کس نے کیا ؟ اور اس کو وجود کس نے بخشا ؟ اور اس میں ان عظیم الشان اور گوناں گوں نعمتوں کو اس حیرت انگیز طریقے اور سلیقے سے چن کس نے دیا ؟ وہ کیسا وہاب و کریم اور کس قدر حکیم و قدیر ہے اور اس کا ہم پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور اس کا وہ حق ہم کس طرح ادا کرسکتے ہیں اور اس کی ناشکری اور اس سے اعراض و غفلت کتنی بےانصافی اور کس قدر بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہی اللہ ہے وحدہ لاشریک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا حق یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ اور ہر حال میں اس کا ممنون احسان اور اس کے آگے دل و جان سے جھکا رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں ہم نے طرح طرح کے باغ پیدا کردیئے کھجوروں اور انگوروں (وغیرہ) کے اور پھوڑ نکالے ہم نے اس میں قسما قسم کے چشمے1

35 نظام ربوبیت کا تقاضا شکر و عبادت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس مردہ پڑی ہوئی زمین کو ہم زندہ کرتے ہیں۔ پھر اس میں طرح طرح کے غلے اور کھجوروں، انگوروں وغیرہ کے قسما قسم کے باغات پیدا کرتے ہیں اور زمین کے اندر طرح طرح کے چشمے پھوڑ نکالتے ہیں۔ تاکہ یہ لوگ کھائیں اس کے پھلوں سے اور اس کی قسما قسم کی پیداوار۔ یعنی یہ سب کچھ تمہاری روزی رسانی کے لئے ہے تاکہ تم کھا کر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرو جس نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے اور اس کی بندگی کو بجا لاؤ۔ ولنعم ما قال العارف الشیرازی ۔ ابرو باد ومہ و خورشید و فلک درکاراند ۔ تاتو نانے بکف آری و بغفلت نخوری ۔ ایں ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمانبردار۔ شرط انصاف نہ باشد تو فرماں نہ بری ۔ پھر کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ جس ربِّ قدیر نے تمہاری جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایسے ایسے اور اتنے اتنے انتظامات فرمائے ہوں وہ تمہاری روحانی غذا کا کوئی انتظام نہ فرمائے جبکہ جسم و روح میں اصل چیز روح ہی ہے نہ کہ جسم ؟ تو پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری جسمانی پیاس دور کرنے کے لئے تو زمین میں چشمے بہا دے مگر تمہاری روحانی پیاس کے ازالے کے لئے کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ پس وحی کی اس مقدس و رحمت بھری بارش کے تم کہیں زیادہ محتاج ہو۔ اور اس کا انتظام اس نے اپنی اس کتاب حکیم اور وحی مبین کے ذریعے فرمایا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر یہیں سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ ان نعمتوں کے استعمال کرنے کے بعد آگے لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو ان نعمتوں کو استعمال کرکے ان کے بخشنے والے کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کے بندے بن کر رہتے ہیں اور زندگی بھر اس کی رضا و خوشنودی کی طلب و تلاش میں رہتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو ان تمام نعمتوں سے مسلسل و لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتے رہنے کے باوجود نہ اس خالق ومالک کو یاد کرتے ہیں جس نے انکو ان گوناگوں نعمتوں سے نوازا ہے اور نہ اس کے حقِّ بندگی کی پروا کرتے ہیں۔ بلکہ وہ بغاوت و سرکشی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیا میں یہ دونوں قسم کے لوگ پہلے بھی پائے جاتے تھے اور آج بھی پائے جاتے ہیں۔ اور سنت ابتلاء و آزمائش کے تقاضوں کے مطابق آئندہ بھی پائے جاتے رہیں گے۔ تو کیا یہ دونوں قسم کے لوگ ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ ۔ { اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ } ۔ (القلم : 35-36) ۔ اور جب ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر لازماً ایک دن ایسا آنا چاہیئے جبکہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو تاکہ نیکوکاروں اور فرمانبرداروں کو ان کی نیکی اور فرمانبرداری کا صلہ ملے اور نافرمانوں اور سرکشوں اور باغیوں کو انکے کیے کرائے کی سزا ملے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے جو کہ یوم الفصل ہے اور جو دنیا کے اس دار الامتحان کے بعد آئے گا۔ سو عبرتوں اور حکمتوں بھری اس زمین میں صحیح طور پر غور و فکر کرنے سے توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدوں کے بارے میں قوی اور روشن دلائل ملیں گے۔ لیکن مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ لوگ اس بارے صحیح طور سے سوچتے ہی نہیں۔ وہ یا تو اس کے ان فوائد و منافع کو دیکھتے ہوئے اس زمین کی پوجا کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مزید اوندھے اور اسفل السافلین ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور یا پھر وہ اس سے ملنے والے مادی فوائد و منافع میں زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھانے کی فکر و کوشش میں لگے ہیں اور دن رات اس سے طرح طرح کے خزانے نکالتے اور اس سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ لیکن وہ ظالم یہ نہیں سوچتے کہ یہ طرح طرح کے بےحد و حساب اور عظیم الشان فائدے اس زمین کے اندر رکھے کس نے ہیں ؟ اور اسکا ہم پر کیا حق بنتا ہے ؟ اور اس طرح وہ واہب مطلق کے نور معرفت اور اس کے حقِّ شکر کی ادائیگی سے قاصر اور محروم رہتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ ۔ { من ثمرہ } ۔ کی ضمیر مجرور کا مرجع " ارض " یعنی " زمین " ہے۔ اور اس کی طرف مذکر کی ضمیر کا رجوع " بلد طیب " کی تاویل کے اعتبار سے ہے۔ اور یہ اس لیے کہ بارش ہونے کو تو ہر خشک وتر اور ہر بنجر و زرخیز پر ہوتی ہے لیکن بارآور وہی زمین ہوتی ہے جو زرخیز ہوتی ہے۔ اسی مضمون کو سورة اَعراف میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِاِذْنِ رَبِّہ وَالَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا } ۔ ( الاعراف : 58) یعنی " جو زمین زرخیز ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اس رب کے اذن سے خوب اپچتی ہے اور جو زمین ناقص ہوتی ہے اس سے ناقص اور بیکار چیز ہی نکلتی ہے۔ بہرکیف زمین کے اس عظیم الشان بچھونے کے اندر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس میں صحیح طور پر اور صحیح زاویہ نگاہ سے غور کرتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ 36 شکر خداوندی پر ابھارنے والی ایک اہم تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کو انکے ہاتھوں نے نہیں بنایا "۔ یعنی ۔ { مَا عَمِلَتْ } ۔ میں " ما " نافیہ ہے۔ سو اس ارشاد کا مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ یہ گوناگوں نعمتیں جو اس زمین میں پائی جاتی ہیں اور جن سے تم لوگ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں مسلسل اور لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتے رہتے ہو اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، یہ تمہارے ہاتھوں کی کارفرمائی نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایک ربِّ رحیم و کریم اور قدیر و حکیم کی قدرت و عنایت اور اس کی عطا و بخشش کا نتیجہ وثمرہ ہے جس سے اس نے انکو انکے کسی استحقاق کے بغیر اور تمہاری طرف سے اپیل و درخواست کے بغیر ازخود اپنے کرم بےپایاں سے نوازا ہے۔ جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم اس کے لیے سراسر شکر وسپاس بن جاؤ۔ سو اس کے باوجود اس سے منہ موڑنا اور اس کی ناشکری کرنا کیسی بےانصافی اور کتنا بڑا ظلم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح اس ارشاد میں شکر خداوندی پر ابھارنے والی ایک اہم تنبیہ و تذکیر ہے جبکہ اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس " ما " کو موصولہ قرا ردیا جائے، جس کی تائید ابن مسعود ؓ کی اس قراءت سے بھی ہوتی ہے جس میں ۔ { مِمَّا عَمِلَتْ } ۔ فرمایا گیا ہے۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ان چیزوں سے بھی کھائیں جن کو یہ اپنے ہاتھوں سے خود تیار کرتے ہیں۔ یعنی زمین سے پیدا ہونے والی ان طرح طرح کی چیزوں سے آگے انسان اپنے کھانے اور استعمال کے لئے طرح طرح کے کھانے، مٹھائیاں اور جو دوسری کھٹی میٹھی اور نمکین وغیرہ بیشمار چیزیں تیار کرتا ہے۔ تاکہ ان سے وہ طرح طرح سے مستفید اور لطف اندوز ہوسکے۔ اور اسی طرح زمین کی پیداوار سے طرح طرح کی پوشاکیں بھی بناتے ہیں۔ سو ایک طرف تو زمین کے اندر ان بیشمار چیزوں کو پیدا کرنا جن میں طرح طرح کے ذائقے اور مزے بھی ہیں اور قسما قسم کے فوائد اور منافع بھی اور دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیت اور قابلیت رکھ دینا کہ وہ قدرت کی پیدا کردہ ان اشیاء سے آگے طرح طرح کے سامان تیار کرے، قدرت کا کرم بالائے اور انعام پر انعام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سب کا عقلی اور فطری طور پر تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کیلئے سراپا شکر وسپاس بن جائے تاکہ اس طرح خود اس کا بھلا ہو۔ سو اس حقیقت کا تذکرہ اور اس کا احساس و ادراک جذبہ شکر کو ابھارتا ہے۔ اور جذبہ شکر وسپاس ہی دین کی اساس و بنیاد ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 36:35–36

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ لوگ کھائیں اس کے پھلوں سے اور (یہ سب کچھ ہم نے ہی کیا ورنہ) ان کے ہاتھوں نے اس کو نہیں بنایا تو کیا پھر بھی یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کئے جوڑے ہر قسم کے ان چیزوں میں سے بھی جن کو زمین اگاتی ہے اور خود ان کی اپنی جانوں سے بھی اور ان چیزوں سے بھی جن کو یہ لوگ جانتے تک نہیں

37 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی پر استدلال : سو ارشاد فرمایا گیا " پاک ہے وہ ذات جس نے طرح طرح کی مختلف الانواع اور گوناگوں اشیاء کو وجود بخشا "۔ سو وہ پاک ہے ہر قسم کے نقص و عیب اور شرک و شائبہ شرک سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو زمین کے اندر پائی جانے والی ان گوناگوں نعمتوں میں جو تنوع اور تضاد پایا جاتا ہے، اس کے اندر ایک نہایت ہی پر حکمت ہم آہنگی، مقصدیت اور توافق پایا جاتا ہے جس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی خدائے واحد کی قدرت اور اسی کا ارادہ کارفرما ہے۔ کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ سو وہ ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے پاک ہے۔ سو یہ کائنات اپنے وجود سے اپنے خالق ومالک کی وحدانیت اور یکتائی کی گواہی دے رہی ہے۔ پس اس کی خدائی میں نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس میں کسی کسی شرکت ممکن ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 38 " اَزواج " کا معنیٰ و مفہوم ؟ اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : " ازواج " کا لفظ انواع و اَقسام کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے جوڑے کے مفہوم میں بھی۔ یہاں پر یہ لفظ ان دونوں ہی معنوں کا جامع ہے اور ان دونوں ہی میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے ہر قسم کے جوڑے "۔ اور ایسے پر حکمت طریقے سے پیدا کئے کہ ایک کی تکمیل دوسرے پر موقوف ہے۔ اور اس طور پر کہ ان میں سے ہر ایک میں دوسرے کی ضروریات و مقتضیات کا پورا پورا انتظام ہے۔ اور اس طور پر کہ ہر چیز اپنے جوڑ سے مل کر اپنے مقصد وجود کو پورا کرتی ہے۔ ورنہ اس کا وجود ہی بیکار اور بےمقصد ہو کر رہ جاتا۔ سو اسی سے لازم آتا ہے کہ اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہو۔ اور وہ ہے آخرت۔ ورنہ اس دنیا کا وجود بیکار اور بےمقصد ہو کر رہ جائے گا۔ سو اس دنیا کے وجود اور اس کی تخلیق کی حکمت عقیدئہ آخرت کے بغیر متحقق نہیں ہوسکتی۔ پس دنیا کا وجود بذات خود آخرت کا متقاضی ہے۔ 39 اللہ تعالیٰ کی وسعت قدرت کا حوالہ و ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی وسعت قدرت کے حوالہ و ذکر کے طور پر انسان کے دائرئہ علم سے باہر کی مخلوق کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سو انسان کے دائرئہ علم اور احاطہ ادراک سے باہر کی مخلوق کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو یہ جانتے بھی نہیں "۔ یعنی طرح طرح کی وہ بیشمار مخلوق جو ابھی تک اس انسان ضعیف البنیان کے احاطہ علم و ادارک میں بھی نہیں آئی ۔ فَسُبْحَانَ مَنْ لَّا حَدَّ لِقُدْرَتِہٖ وَلَا نِہَایَۃَ لعلْمِہِ ۔ جَلَّ جَلالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ سو خشکی اور تری کی کتنی ہی چیزیں ہیں جن کو عام انسان جانتا تک نہیں۔ ان میں بھی قدرت نے جوڑے بنائے ہیں جس سے آگے حکمت کے کئی باب کھلتے ہیں۔ پس کبھی کوئی اس زعم اور گھمنڈ میں مبتلا نہ ہوجائے کہ اس نے تمام مخلوق کا احاطہ کرلیا۔ بلکہ کتنی ہی مخلوق ایسی ہے جس کا انسان کو ابھی تک پتہ ہی نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ } ۔ یعنی وہ خالق کل قادر مطلق وہ وہ کچھ پیدا کرتا ہے اور پیدا کرتا جائے گا جو ابھی تک تمہارے علم میں نہیں آیا۔ بہرکیف جس طرح زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کے اندر تنوع اور گوناگونی ہے اسی طرح یہ چیز انسانوں کی شکلوں اور ان کے رنگوں اور زبانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور یہی حال اس عالم کا بھی ہے جو ابھی تک ان لوگوں کی رسائی پر ہے ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ پس اس وحدہ لا شریک کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 36:37–38

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک اور عظیم الشان نشانی ان کے لئے یہ رات بھی ہے جس سے کھینچ نکالتے ہیں ہم (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) دن کو جس سے یہ لوگ (چمکتی دمکتی روشنی کی بجائے) اندھیرے میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج بھی جو کہ چلے جا رہا ہے اپنے مقرر ٹھکانے کی طرف یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اس ذات کا جو (سب پر) غالب انتہائی علم والی ہے

40 رات کی نشانی میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے ایک عظیم الشان نشانی یہ رات بھی ہے جس سے کھینچ نکالتے ہیں ہم دن کو "۔ " سلخ " دراصل جانور کی کھال اتارنے کو کہا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح بکری وغیرہ کی کھال اتار دینے سے اس کے اندر کا سب کچھ سامنے آجاتا ہے اسی طرح رات کے اندھیرے کے اوپر سے جب دن کی نورانی چادر ہٹا دی جاتی ہے تو رات کا اندھیرا سب کو ڈھانپ لیتا ہے۔ سو رات کا اس طرح آنا اور جانا قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے جس میں طرح طرح کے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مگر رات دن کے یہ دونوں سلسلے چونکہ نہایت پر حکمت طریقے سے بےمثال پابندی اور باقاعدگی سے چلتے ہیں اس لیے لوگ ان کے بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ ورنہ اگر یہ اس میں صحیح طور سے غور و فکر سے کام لیں تو ان کو اس میں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے عظیم الشان دلائل و مظاہر نظر آئیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ہم ہی ہیں جو اس اندھیری رات کے اوپر نور کی ایک عظیم الشان چادر چڑھا دیتے ہیں جس سے ان کے لیے دن نمودار ہوجاتا ہے جس میں یہ لوگ اپنے طرح طرح کے کام کاج کرتے ہیں۔ پھر ہم اس کے اوپر سے اس عظیم الشان چادر کو کھینج لیتے ہیں جس سے یہ سب اندھیرے کی آغوش میں چلے جاتے ہیں جس میں یہ آرام کرتے اور ایک نہایت پرسکون وقت گزارتے ہیں۔ سو اگر ہم رات پر یہ نورانی چادر نہ ڈالیں تو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں ڈوبے رہ جائیں اور کبھی دن کی روشنی نہ دیکھ سکیں۔ اور اگر ہم دن کی اس نورانی چادر کو اس سے نہ ہٹائیں تو ان کو کبھی رات کا سکون میسر نہ آئے۔ سو شب و روز کی اس آمد و رفت اور اس سے وابستہ مخلوق کے ان گوناگوں اور عظیم الشان فائدوں میں اور مخلوق کے لیے ان کی اس موافقت و سازگاری میں توحید خداوندی کے عظیم الشان دلائل ہیں لیکن ان کے لیے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ 41 سورج کی نشانی میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور سورج بھی جو کہ چلے جا رہا ہے اپنے مقرر ٹھکانے کی طرف " سو سورج بھی قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے کہ یہ انتہائی گرم اور روشن کرہ جو زمین سے 3 لاکھ تیتیس (33) ہزار گنا بڑا ہے۔ جس کا قطر زمین سے 109 گنا بڑھ کر ہے، کس طرح نہایت باریک حساب اور انتہائی پابندی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل دور ہونے کے باوجود یہ کس طرح گرمی اور روشنی پہنچا رہا ہے ؟۔ تو کیا اس خالق ومالک کے سوا کوئی اور معبود و کارساز ہوسکتا ہے ؟۔ کَلَّا ثُمَّ کَلَّا فَسُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ وَ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْم ۔ سو سورج کا اس قدر پر حکمت طریقے سے طلوع و غروب اور اس قدر پابندی سے اس کا آنا اور جانا خالق کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ اور عنایت متواصلہ کا ایک عظیم الشان ثبوت اور مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو سورج دن کے اندر ظاہر ہونے والی قدرت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ سو دیکھو یہ کس قدر پابندی کے ساتھ اپنے معین محور و مدار پر گردش کرتا ہے۔ مجال نہیں کہ اس سے ذرہ برابر آگے پیچھے ہو سکے یا اس کی پابندی میں منٹ سیکنڈ کا کوئی فرق واقع ہوجائے۔ سو یہ قدرت کی عظمت اور توحید و وحدانیت کی عظیم الشان دلیل ہے۔ اور یہ مخلوق کا مسجود و معبود نہیں بلکہ یہ ان کا خادم ہے۔ پس بڑے ہی غلط کار ہیں وہ لوگ جو اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 36:39–40

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ وہ (ان سے گزرتا ہوا آخرکار) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو کر رہ جاتا ہے

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ ہی رات سبقت لے جاسکتی ہے دن پر ہر ایک تیرے جا رہا ہے اپنے مستقل دائرے میں

42 کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کی پابند : سو اس اعتبار سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو کبھی ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے پر غالب آ کر اس کی روشنی کو مٹا دے۔ سو ایسے نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک اپنے محدود و مقرر وقت میں آتا ہے اور ہر ایک اپنے رب کے حکم اور اپنے وقت کا پورا پابند ہے۔ دوسرا اس میں کسی طرح کا کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ (روح، ابن کثیر، صفوہ، جامع، مراغی، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک خالق ومالک کی بےپایاں قدرت و عنایت اور حکمت بالغہ کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے مگر تم لوگ پھر بھی سوچتے نہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے تاکہ حق و ہدایت کے نور مبین سے سرشار و سرفراز ہوسکو۔ بلکہ کتنے ہی ایسے اندھے اور اوندھے ہیں جو سورج اور چاند کی ان دو عظیم الشان نشانیوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرشار ہونے کی بجائے الٹا وہ انہی کی پوجا پاٹ میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے لیے ذلت پر ذلت اور خسارے پر خسارے کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو سورج وچاند کے یہ دو عظیم الشان کرے اور کائنات کے نمایاں ترین نشان اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں اور اسی کے حکم وارشاد کی پابند ہے۔ پس وہی خالق ومالک معبود برحق ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک اور نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کو سوار کیا اس بھری کشتی میں

43 بھری کشتی کی نشانی میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایک اور عظیم الشان نشانی ان کیلئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کو سوار کیا اس بھری کشتی میں "۔ یعنی کشتی نوح کہ وہ پہلی کشتی تھی جو آنجناب نے اللہ پاک کے حکم وارشاد سے بنائی تھی اور جس میں آپ نے اللہ پاک کے حکم کے مطابق ہر چیز کا ایک ایک جوڑا رکھ دیا تھا تاکہ بعد میں نسل چلے۔ اگر اللہ پاک کی عنایت سے ایسے نہ ہوتا تو ان لوگوں کا تخم بھی نہ رہتا۔ سو اس طرح قدرت کا یہ عظیم الشان انعام و احسان جو ان کے بڑوں پر ہوا تھا، وہ بالواسطہ ان لوگوں پر بھی ہوا۔ سو اس عظیم الشان انعام و احسان کا تقاضا یہ تھا اور ہے کہ یہ لوگ صدق دل سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جائیں تاکہ اس طرح یہ اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف یہ ایک قول ہے کہ اس فلک مشحون ۔ بھری کشتی ۔ سے مراد کشتی نوح ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال اس بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مطلق کشتیاں ہیں جو کہ انکے کام آنے والے طرح طرح کے سامان لیے سمندر کی سطح پر رواں دواں ہیں۔ جن سے انکے طرح طرح کے مفادات وابستہ ہیں۔ سو ایک طرف تو ہم نے ان کیلئے ان کشتیوں اور دیوہیکل جہازوں میں کام آنے والا سامان پیدا کیا اور دوسری طرف انسان کو عقل کے اس جوہر سے بھی ہم ہی نے نوازا جس سے وہ طرح طرح کی ایسی چیزیں بناتا اور قسما قسم کی ایجادات کرتا ہے۔ ورنہ یہ انسان کچھ بھی کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ سو یہ ترقیات اور ایجادات جو بھی کچھ انسان کرتا ہے سب ہماری ہی توفیق و عنایت سے کرتا ہے۔ سو یہاں پر یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا کہ ہم ہی نے انکو سوار کیا اس بھری کشتی میں۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ۔ { ذریتھم } ۔ میں ضمیر " ھم " سے مراد یہ لوگ بحیثیت اشخاص نہیں بلکہ بحیثیت انسان ہیں۔ یعنی مطلق نوع انسانی۔ اور " ذریت " سے مراد نسل ہے۔ سو مطلب یہ ہوگا کہ ہم ہی نے نسل انسانی کیلئے ان عظیم الشان کشتیوں اور دیوہیکل بحری جہازوں کے ذریعے بحری سفروں کا انتظام کیا جس سے ہزاروں ٹن کے یہ وزنی جہاز اور کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی سمندروں کے سینوں پر رواں دواں ہیں۔ جس سے انکے طرح طرح کے عظیم الشان مفادات اور قسما قسم کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ سو یہ قدرت کی خاص عنایات اور عظیم الشان دلائل وبراہین میں سے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِنْ آیَاتِہ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لآیٰتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شُکُوْر } ۔ (لقمن : 31) ۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لئے اسی جیسی اور بھی ایسی چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

44 سواریوں کی نعمت میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کیلئے اسی جیسی اور بھی ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں "۔ جیسے مختلف جانور اور طرح طرح کی دوسری سواریاں جن پر انسان سوار ہوتا اور سفر کرتا ہے۔ اور اس میں انسانی عمل و محنت کا جو دخل ہے وہ بھی سراسر اللہ پاک ہی کی عنایت ہے کہ اسی کے الہام وتعلیم سے انسان اس قابل ہوا ہے ۔ وَھِی اْلِابلُ وَسَائرُ المْرکُوبَاتِ- (صفوہ وغیرہ) ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْہَا وَ زِیْنَۃً وَّیَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 8) اور اسی حکم میں طرح طرح کی وہ تمام سواریاں بھی داخل ہیں جو اب سائنس کی مدد سے ایجاد ہوئی ہیں یا آئندہ ایجاد ہونگی۔ جیسے مختلف قسم کی لاریاں، موٹریں، کاریں، ٹرینیں اور ہوائی جہاز وغیرہ کہ ان میں کام آنے والا خام مواد بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی بےپناہ عنایتوں سے پیدا فرمایا ہے اور انسان کو اس عقل و خرد اور اہلیت و صلاحیت سے بھی اسی قادر مطلق نے نوازا ہے جس سے کام لیکر انسان یہ طرح طرح کی ایجادات کرتا ہے۔ اور اس کائنات میں ان قوانین فطرت کو بھی اسی وحدہ لاشریک نے جاری اور لاگو فرمایا ہے جن کے مطابق یہ سب چیزیں کام دیتی ہیں۔ اور ان میں سے کوئی سواری خشکی پر چلتی ہے، کوئی تری میں اور کوئی ہواؤں میں، فضاؤں میں۔ سو یہ سب اسی خالق ومالک کا کرم و احسان ہے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ جس کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اسی کے آگے سرنگوں اور سجدہ ریز رہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو اس طرح غرق کر کے رکھ دیں کہ نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ ہی ان کو کسی طرح بچایا جاسکے

45 حفظ وامان کی نعمت میں سامان غور و فکر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ انکو حفظ وامان کی نعمت بھی قدرت کی رحمت و عنایت ہی سے میسر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو انکو غرق کردیں "۔ یعنی پانی میں سفر کے دوران یا کسی بھی اور صورت میں اور کسی بھی دوسرے موقع پر۔ کہ نہ تو ایسا کرنا ہماری قدرت سے خارج ہے اور کچھ بعید ہے اور نہ ہی یہ لوگ کبھی بھی اور کسی بھی طور پر ہماری گرفت اور پکڑ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ سو یہ ہماری رحمت و عنایت اور ہمارے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ اس طرح امن وامان اور سکون و اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہیں ورنہ ہم انکو کہیں بھی اور کسی بھی طرح پکڑ سکتے ہیں۔ اور جب ہم انکو پکڑیں گے تو نہ کوئی فریاد کرسکے گا اور نہ ہی انکا کوئی فریاد رس ہوسکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " صریخ " کے معنیٰ فریاد کرنے کے بھی آتے ہیں اور فریاد رسی کے بھی اور فریاد رسی کرنے والے کے بھی۔ اس مقام پر یہ لفظ ان سب ہی معانی کے اعتبار سے موزوں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں " اور اس طور پر کہ اس وقت نہ یہ کوئی فریاد کرسکیں اور نہ کوئی ان کی فریاد رسی کرسکے اور نہ یہ اس ورطہ حیرت سے کسی طرح نجات پاسکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 46 اللہ کے عذاب سے ڈرنے اور بچنے کی ہدایت : کہ اللہ کا عذاب کہیں سے بھی اور کسی بھی طرح آسکتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے سامنے ہے۔ یعنی گزشتہ قوموں والا عذاب کہ کہیں وہ تم پر بھی نہ آجائے ۔ أیْ مِنَ الْوَقَائِعِ الَّتِیْ مَضَتْ ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 197) ۔ سو تم ڈرو اس عذاب سے جو ان پہلی قوموں پر آچکا ہے کہ جس جرم کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کا ارتکاب انہوں نے کیا، اسی کا ارتکاب تم بھی کر رہے ہو۔ اور اللہ کا قانون یکساں و بےلاگ اور سب کیلئے ایک ہے۔ سو اس کا عذاب تم پر کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ اور بالفعل جگہ جگہ، طرح طرح سے اور مختلف شکلوں میں آتا رہتا ہے۔ کہیں زلزلے کی صورت میں، کہیں سیلاب کی شکل میں اور کہیں سمندری طوفان کی شکل میں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس کے مختلف نمونے تم لوگ دن رات اور جگہ جگہ اپنے سامنے دیکھتے ہو مگر تم سبق نہیں لیتے۔ اور سمجھتے ہو کہ یہ دوسروں پر آیا ہے اور بس۔ حالانکہ تم پر بھی اسی طرح کا کوئی عذاب کہیں سے بھی آسکتا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ؟ " یعنی یہ لوگ آسمان و زمین کی اس کائنات میں غور نہیں کرتے جو ان کو آگے اور پیچھے ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے برسا دیں۔ یعنی ان پر عذاب کہیں سے بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ اس لیے اس سے ڈرنے بچنے کی فکر کرنی چاہیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل نوع من انواع العذاب فی الدنیا والآخرۃ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 36:44–45

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہم نے محض اپنی رحمت کی وجہ سے اور ایک مدت تک ان کو فائدہ اٹھانے کا موقع دینے کے لئے (ان کو مہلت دے رکھی ہے)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کردیتے ہیں)

47 اللہ کا عذاب کہیں سے بھی آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے "۔ یعنی آخرت و قیامت کا عذاب ۔ " اَیْ اَمْرُ السَّاعَۃِ " ۔ (جامع وغیرہ) اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ۔ { مَا بَیْنَ اَیْدیکُمْ } ۔ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی اس سے بچاؤ کے لئے تیاری کرو۔ اور ۔ { خَلْفَکُمْ } ۔ سے مراد دنیا ہے۔ اور اس عذاب سے بچنے کا ذریعہ اور طریقہ ہے گناہوں سے بچنا۔ اسی لئے مجاہد نے اس کی تفسیر گناہوں سے کی ہے۔ (ابن کثیر، الجامع، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو گناہوں سے بچنا عذاب سے بچنا ہے اور گناہوں میں ملوث ہونا دراصل عذاب میں چھلانگ لگانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب ان لوگوں سے عذاب سے بچنے کو کہا جاتا ہے جو کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے تو یہ اس سے بچنے اور متنبہ ہونے کی بجائے اعراض کرتے اور عذاب لانے اور اس کی نشانی پیش کرنے کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ سو یہ ان کی بےحسی اور بدبختی کی انتہاء ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف آگے اور پیچھے کے اس عذاب سے وقت کے اعتبار سے بھی آگے اور پیچھے ہونا مراد ہوسکتا ہے۔ اور اسی بناء پر ان حضرات اہل علم نے اس سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد لیا ہے۔ اور اس سے مراد جگہ اور مکان کے اعتبار سے بھی آگے اور پیچھے ہونا مراد ہوسکتا ہے جیسا کہ ابھی سورة سبا کی آیت نمبر 9 کے حوالے سے گزرا۔ سو ۔ { مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَ مَا خَلْفَکُمْ } ۔ کے کلمات کریمہ کے عموم میں یہ دونوں ہی صورتیں داخل اور اس میں شامل ہیں۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس جو بھی کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے آتی ہے تو یہ اس سے اعراض (اور سرتابی) ہی کرتے ہیں1

48 ۔ اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی، والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے پاس ان کے رب کی آیتوں اور نشانیوں میں سے کوئی آیت اور نشانی آتی ہے تو یہ اس سے اعراض اور روگردانی ہی برتتے ہیں اور اس سے نہ موڑے ہی رہتے ہیں، تو پھر ایسے میں ان کو حق و ہدایت کی کوئی روشنی ملے تو کیسے ملے ؟ جبکہ اس کے لیے اصل اور اولیں شرط طلب صادق ہے، سو اعراض و روگردانی اور دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا محرومیوں کی محرومی اور خرابیوں کی خرابی ہے، والعیاذ باللہ۔ پس صلاح وف لاح کی اصل اور اساس ہے سننا اور ماننا، اور کائنات کے ا ندر بھی یہی نظام کارفرما ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں اس کے لیے جابجا زمین کی مثال دی گئی ہے کہ جو زمین نمر اور زرخیر ہوتی ہے وہ جب آسمان سے برسنے والی بارش اور شینچائی کے لیے ملنے والے پانی کے لیے اپنے مسام کھولتی ہے اور اس کو اپنے اندر جذب کرتی ہے تو اس کے اندر طرح طرح کی پیداواریں نکلتی ہیں، اور وہ گل و گلزار بن جاتی ہے، لیکن اس کے برعکس جو زمین پتھر کی سخت ہوتی ہے وہ پانی کے لیے اپنے مسام کھولتے ہی نہیں اور پانی اس کے اندر سرایت کرتا ہی نہیں تو وہ محروم کی محروم ہی رہتی ہے، سو سمع وطاعت سعادت و سرفرازی کی اصل اور اساس ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ خرچ کرو اس میں سے جو کہ تم کو اللہ نے بخشا ہے (اپنی رحمت و عنایت سے) تو وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر پر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان کو کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا تم لوگ تو صاف طور پر پڑے ہو کھلی گمراہی میں

49 منکرین کی بےحسی اور مت ماری کا ایک نمونہ : سو اس سے ان منکرین کی بےحسی، ہٹ دھرمی اور مت ماری کا ایک نمونہ و مظہرسامنے آتا ہے کہ جب ان سے اللہ کے دیے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے جس میں خود انہی کا بھلا ہوتا ہے تو یہ اس کے جواب میں اس طرح کہتے ہیں۔ یعنی ان کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ غریبوں پر خرچ کرنا جو کہ ان کے نزدیک بھی نیکی کا کام ہے، جب اس کے بارے میں ان سے کہا جاتا ہے تو اس کے جواب میں یہ لوگ تقدیر کے حیلے و حوالے سے انکار کردیتے ہیں۔ تو پھر ان سے قبول حق کی کیا امید ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ انفاق فی سبیل اللہ کے حکم وارشاد کے جواب میں کہتے ہیں کہ جن کو اللہ نے نہیں کھلایا انکو ہم کیوں کھلائیں ؟ 50 قلب و نظر کے بگاڑ و انحراف کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے تو کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ تم لوگ تو گمراہی میں پڑے ہو "۔ سو یہ ایسے مادہ پرست لوگوں کی بڑی غلط فہمی اور بنیادی بھول ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے دیے بخشے اس رزق و فضل کو اپنا ذاتی استحقاق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ دیتا اور کھلاتا تو سب کو وہی وحدہ لاشریک ہے، مگر اس نے ابتلاء و آزمائش اور دوسری حکمتوں کے پیش نظر دنیاوی معیشت میں بعض کو بعض پر فوقیت و فضلیت دے رکھی ہے۔ تاکہ اس طرح ہر ایک کی آزمائش ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃ، اَ تَصْبِرُوْنَ وَ کاَنَ رَبُّکَ بَصِیْرًا } ۔ ( الفرقان : 20) ۔ سو وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو تمہارے ہاتھ سے ملے تاکہ اس طرح اس ابتلاء و آزمائش کے تقاضے بھی پورے ہوں اور خود تمہارا بھی بھلا ہو۔ ورنہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم سے یہ سب کچھ یک لخت چھین لے جس کے تم لوگ آج مالک بنے بیٹھے ہو۔ پھر تم ہمیشہ کے لئے ہاتھ ملتے رہ جاؤ۔ سو اپنے ہاتھوں سے دینے کے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اس کے نام پر خرچ کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف انفاق فی سبیل اللہ کے مطالبے پر ان لوگوں کا جواب یہ ہوتا تھا جو ابھی گزرا جس سے ان کی حماقت اور ان کے قلب و نظر کا بگاڑ و انحراف سامنے آتا ہے اور ان کی قساوت قلبی اور حماقت و سفاہت کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی لیے ان کے اس جواب سے متعلق یہاں پر کوئی تبصرہ نہیں فرمایا گیا کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جب دل بگڑتے ہیں تو عقلیں اسی طرح ٹیڑھی اور اوندھی ہوجاتی ہیں اور آدمی اس طرح ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ آخر کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

51 منکرین کی طرف سے مطالبہ عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ دعوت حق کے لیے کان دھرنے اور حق کو قبول کرنے کی بجائے مذاق و استہزا کے طور پر کہتے کہ آخر کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟۔ اور یہ استفہام کوئی جاننے اور ماننے کے لئے نہیں تھا کہ اگر ہمیں اس کا صحیح وقت اور تاریخ بتادی جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے بلکہ ان کا یہ پوچھنا دراصل تکذیب و استہزاء کے طور پر تھا کہ عذاب اور قیامت وغیرہ کچھ ہونے کا نہیں۔ یہ سب کچھ محض دھمکی اور خام خیالی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ان کی بےحسی اور بدبختی کی انتہاء ہے اور یہ اللہ پاک ہی کا حلم اور کرم ہے کہ وہ انکو اس کے باوجود ڈھیل اور مہلت دیتا ہے۔ بہرکیف ان کا کہنا یہ تھا کہ لا دکھاؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو۔ اس کے بغیر ہم اس کو ماننے والے نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہر قسم کے فساد وبگاڑ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ لوگ تو بس ایک ایسی ہولناک آواز ہی کی راہ تک رہے ہیں جو ان کو یکایک عین اس وقت آپکڑے گی جب کہ یہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے

52 عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کی تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک ہی ہولناک جھڑکی کی "۔ یعنی قیامت کی وہ قطعی اور یقینی گھڑی کوئی آہستہ آہستہ اور ان کو خبردار کرکے نہیں آئے گی۔ بلکہ وہ اس طرح اچانک آئے گی کہ ان لوگوں کو اس کا خیال تک نہیں ہوگا۔ سو وہ ایک ہی ہولناک جھڑکی اور خوفناک آواز ہوگی جو ان سب کو آپکڑے گی۔ اور اس طرح کہ یہ لوگ اپنے اپنے کاروبار اور اپنی لڑائی جھگڑوں میں اس طرح لگے ہوں گے کہ وہ اچانک ان پر آپہنچے گی۔ جیسا کہ قرآن و سنت کی دوسری بہت سی نصوص میں اس کی تصریح و توضیح فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَا تَاتِیْکُمْ الاَّ بَغْتَۃً } ۔ (الاعراف : 187) ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کی جائے کہ پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان متکبرین کو تنبیہ فرمائی گئی کہ یہ لوگ جو آج اتنی لاپرواہی اور ایسے طنطنے کے ساتھ اس ہولناک عذاب کے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان پر عذاب واقع کرنے کے لیے کسی طرح کی کوئی تیاری کرنی پڑے گی جس کی بنا پر اس میں دیر ہو رہی ہے۔ سو ایسی کسی بات کا وہاں کوئی تصور ہی نہیں۔ ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے یہ سب ربِّ رحمن و رحیم کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ ورنہ جب اس کا وقت آجائے گا تو اس کے لیے ایک ایسی ڈانٹ ہی کافی ہوگی جو ان سب کو ایسی دبوچ لیگی جبکہ یہ اپنی کج بحثیوں میں لگے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

اس وقت نہ تو یہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے2

53 عذاب کے موقع پر منکرین کی بےبسی کی تصویر : سو ان متکبر منکروں کی عذاب کے آنے کے موقع پر بےبسی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہولناک آواز انکو ایسا اچانک آدبوچے گی کہ نہ یہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ اس طور پر ان کو پکڑے گی کہ یہ کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہوں گے۔ پس جو جہاں اور جس حال میں ہوگا وہیں اور اسی حال میں دھر لیا جائے گا۔ اگر کوئی بات کرنا چاہے گا تو اس کی کوئی فرصت نہ پائے گا۔ اگر کوئی اپنے گھر سے باہر کسی کام میں ہوگا تو وہاں سے واپس اپنے گھر لوٹنے کا موقع بھی نہ پا سکے گا۔ اس لئے عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے لئے ہر وقت اور ہر اعتبار سے تیار و مستعد رہے، نہ یہ کہ اس سے غفلت برتے۔ یہاں تک کہ وہ آخری وقت آپہنچے اور کوئی ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لما یحب ویرید وِبِہ نَسْتَعِیْنُ ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ان اچانک عذابوں کے نمونے آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں اچانک زلزلہ آتا ہے کہ چند سیکنڈوں میں شہروں کے شہر اجڑ جاتے ہیں یا کہیں کوئی سیلاب یا طوفان آتا ہے تو کتنے علاقے ویران ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عذاب اور مشیت سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور جب پھونک مار دی جائے گی صور میں (دوسری مرتبہ) تو یہ سب یکایک اپنی قبروں سے نکل نکل کر دوڑے چلے جا رہے ہوں گے اپنے رب کی طرف

54 قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب صور میں پھونک مار دی جائے گی تو سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے "۔ " یَنْسِلُوْن "، " نَسْلان " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ دوڑنے اور تیز چلنے کے ہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، جامع، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ سو اس روز ایک جھڑکی ملتے ہی یہ منکرین و مکذبین بغیر کسی ٹال مٹول اور حیل و حجت کے اپنے خالق ومالک کے حضور حاضری کے لئے دوڑ پڑیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ } ۔ (المعارج : 43) اور ان کی وہ تمام اکڑفوں اور استکبار یکسر ختم ہوجائے گا جس سے یہ بدبخت اور منحوس لوگ آج کام لے رہے ہیں۔ اور اس روز یہ اپنی زبان سے اس کی تسبیح کرتے اور اس کی حمد و ثنا کے گیت گاتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَسَتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہَ وَتَظْنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا } ۔ (بنی اسرائیل : 52) ۔ سو قیامت کے بپا کرنے کیلئے کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ صرف حضرت قادر مطلق کے حکم و ارشاد کی ضرورت ہوگی۔ اور جونہی حکم ہوگا یہ سب آموجود ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وہ تو بس ایک جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب میدان میں آموجود ہوں گے۔ سو قیامت تو چشم زدن میں بپا ہوجائے گی اور تمہیں جو فرصت ملی ہوئی ہے وہ صرف تمہاری بہتری کیلئے ہے کہ تم اس کیلئے تیاری کرسکو اور ہمیشہ کے عذاب سے بچ جاؤ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

تب یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری قبروں سے ؟ (جواب ملے گا کہ) یہی ہے وہ جس کا وعدہ فرمایا تھا (خدائے) رحمان نے اور سچ کہا تھا اس کے رسولوں نے بھی

55 مذاق اڑانے والوں کا حال قیامت کے روز ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو اس ارشاد سے مذاق اڑانے والے کفار و منکرین کا حشر کے روز انتہائی یاس و حسرت کے اظہار و اعلان کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو وہ انتہائی یاس وحسرت کے عالم میں کہیں گے " ہائے ہماری کم بختی۔ یہ کس نے اٹھا دیا ہمیں ہماری قبروں سے ؟ " جواب ملے گا " یہی ہے وہ کچھ جس کا وعدہ فرمایا تھا خدائے رحمن نے اور سچی ثابت ہوئی بات پیغمبروں کی "۔ یہ جواب ان کو فرشتوں کی طرف سے دیا جائے گا یا اہل ایمان کی طرف سے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو اس طرح جواب دیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ الفاظ میں بہرکیف ان سب ہی احتمالات کی گنجائش و موجود ہے۔ سو اس روز یہ لوگ بڑے ہی حسرت بھرے انداز میں ایسے کہیں گے کہ خدائے رحمن نے بھی سچ فرمایا تھا اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں نے بھی سچ کہا تھا۔ اور اس موقع پر یہ لوگ اپنے ایمان و یقین کا اظہار و اعلان کریں گے۔ لیکن کہاں اور کیسے ؟ اس کا وقت تو گزر چکا ہوگا ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ سو یہ اہل کفر و باطل کی حسرت اور ان کی انتہائی ملامت کا اظہار ہوگا۔ مگر بےوقت کی اس ندامت کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سو اس روز مذاق اڑانے والے ان منکروں کا حال بہت برا ہوگا۔ ان کو نہایت ہی سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ان کی تذلیل و تخجیل کے لیے ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے فیصلے کا وہ دن جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ۔ { ہٰذا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہ تُکَذِّبُوْنَ } ۔ (الصافات :21) ۔ سو یہی ہے فیصلے کا وہ دن جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ سو اب سر پیٹو اپنی بدبختی پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 36:53–54

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس زور کی ایک ایسی آواز ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب یکایک ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے3

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

سو آج کسی بھی شخص پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں تمہارے انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم لوگ خود کرتے رہے تھے (اپنی دنیاوی زندگی میں)1

56 قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے اپنے اعمال ہی کا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز کہا جائے گا کہ آج کسی شخص پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ تم لوگوں کو تمہارے انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم خود کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں "۔ سو دوزخ اور اس کا عذاب انسان کو اپنے کئے کرائے کے نتیجے اور بدلے میں ملے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی سے یہ بات نکالی گئی ہے کہ کفار کے چھوٹے بچوں کو دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ گناہ کا زمانہ اور اس کی عمر انہوں نے پائی ہی نہیں۔ بہرکیف حساب اور بدلے کے اس دن میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ دیا جائے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو اس روز کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ ہر کسی کو اس کی اپنی ہی کمائی اور زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل ملے گا۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ کل کے اس یوم حساب کے لیے کیا آگے بھیج رہا ہے ۔ { وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ } ۔ ( الحشر : 180) ۔ اللہ تعالیٰ زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی رضا کے حصول اور اپنی آخرت کی تیاری کے لیے صرف کرنے کی توفیق بخشے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

جنت والے بلاشبہ اس دن دل پسند چیزوں میں خوش ہو رہے ہوں گے

57 اہل جنت کے آرام و راحت اور ان کی نعمتوں کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اہل جنت اپنی دلچسپیوں میں محو ہوں گے "۔ یعنی جنت کی نعمتوں میں۔ ان کی خوشحالیوں اور فارغ البالیوں کا یہ عالم ہوگا کہ دوزخیوں کی ان کربناکیوں کا بھی ان کو کوئی پتہ اور احساس نہیں ہوگا تاکہ اس طرح ان کے تنعم میں کوئی فرق نہ آئے پائے ۔ فَاجْعَلنَا مِنْہُمْ یَا اَرْحَمَ الرّاحِمِیْن بِمَحْضِ مَنِّکَ وکَرَمِک فَاِنَّکَ اَکْرَمُ الاکرمین ۔ " شغل " کی تنکیر تعظیم و تفخیم کیلئے ہے۔ یعنی یہ خوش نصیب لوگ وہاں کے عظیم الشان مشاغل اور بےمثال دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کے بےمثال آرام و راحت اور ان کو ملنے والی عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ وہاں پر وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی بےمثال مشاغل اور عظیم الشان دلچسپیوں میں مگن ہوں گے۔ وہ عظیم الشان نشست گاہوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور ان کو وہاں پر ہر قسم کے پھل پیش کیے جا رہے ہوں گے۔ وہ جو کچھ وہاں پر مانگیں گے اور طلب کریں گے وہ ان کو ملے گا۔ ایسی حقیقی اور ابدی بادشاہی سے ان کو وہاں پر سرفرازی نصیب ہوگی جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ اور یہ ایسی بےمثال بادشاہی ہوگی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال نہ کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ کبھی پائی جانی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین -
Ayahs 36:56–58

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں اپنی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کو وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ طلب کریں گے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

(مزید ایک اور بڑا انعام ان کے لئے یہ ہوگا کہ) ان کو سلام کہا جائے گا رب رحیم کی طرف سے2

58 اہل جنت کے لیے ایک اور انعام واعزاز کا ذکر : سو اس سے اہل جنت کے لیے ربِّ رحیم کی طرف سے سلام کے ایک اور عظیم الشان اور بےمثال انعام و اکرام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انکو سلام کہا جائے گا ربِّ رحیم کی طرف سے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس نعمت اور اس کرم کے۔ دنیا میں اگر کوئی بادشاہ کسی شخص کو سلام بھیج دے تو وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ اور یہاں بات کسی بادشاہ کی نہیں بلکہ بادشاہوں کے بادشاہ ملک الملوک اور بادشاہ حقیقی کی طرف سے سلام کرنے کی ہے کہ ان کو وہاں پر اس احکم الحاکمین اور ربِّ رحیم کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا ۔ فَشَرِّفْنَا بِہٖ یَا اَکْرَمَ الاکرمین ۔ سو یہ سلام ان کیلئے ہر شر اور مکروہ سے حفاظت اور ہر نعمت اور خوبی سے سرفرازی کا پیغام ہوگا جو کہ روحانی اور جسمانی نعمتوں کا عروج اور انکا کمال ہوگا۔ جس سے اہل جنت کو سرفراز کیا جائے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے اس سب سے بڑی سرفرازی کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے اہل جنت کو وہاں پر نوازا جائے گا۔ سو ربِّ رحیم کی طرف سے ان کو ملنی والی دعا وہاں پر سلام ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہ سَلاَمٌ } (الاحزاب : 44) ۔ سو وہاں پر ان کے لیے سلامتی ہی سلامتی اور اکرام ہی اکرام ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور (دوسری طرف دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ) الگ ہوجاؤ آج کے دن تم اے مجرمو !

59 حشر میں مجرموں کے حال کا ذکر وبیان : اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب مجرموں کا حشر اور ان حال بیان فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فیصلے کے اس دن حکم ہوگا کہ الگ ہوجاؤ اب تم اے مجرمو ! "۔ یعنی اہل ایمان سے کہ دنیا میں اگرچہ تم ان کے ساتھ رہتے بستے اور چلتے پھرتے رہے کہ وہ دارالامتحان تھا جس کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔ مگر اب فصل وتمیز کے اس دن میں تم ان سے الگ ہوجاؤ کہ یہ دارالجزاء ہے۔ یہاں تمہارا انجام الگ ہے، ان کا الگ۔ ان کا ٹھکانا جنت ہے اور تمہارا دوزخ۔ نیز الگ ہوجانے کے حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ اب تم اپنی وہ تمام جماعتیں، گروپ اور دھڑے چھوڑ دو جو تم نے دنیا میں قائم کر رکھے تھے اور جن پر تم کو بڑا فخر و ناز ہوا کرتا تھا۔ اور ان کے زور پر تم حق اور اہل حق کے خلاف صف آرائی کیا کرتے تھے کہ آج ان میں سے کوئی بھی چیز تمہیں کام آنے کی نہیں ۔ { مَا اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ- (الاعراف : 48) یہاں تو ہر کسی کو اپنا بھگتان تنہا خود ہی بھگتنا ہوگا۔ نیز یہ کہ دوسروں سے الگ ہو کر اب تم اپنے اپنے عقیدئہ و عمل کی بنا پر نئی گروپ بندی اور نئے جماعتی سسٹم میں شامل ہوجاؤ۔ تاکہ اس طرح تم جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ دوزخ میں داخل ہوتے جاؤ۔ یعنی اس طرح کہ کافر کافر کے ساتھ، مشرک مشرک کے ساتھ، یہودی یہودی کے ساتھ، مجوسی مجوسی کے ساتھ، بدعتی بدعتی کے ساتھ اور قبر پرست قبر پرست کے ساتھ وغیرہ وغیرہ۔ کہ اس روز ہر ایک کا حشر اس کے اپنے ہی دوست کے ساتھ ہوگا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " الْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ " ۔ اور جیسا کہ سورة تکویر میں فرمایا گیا ۔ { وَاِذَ ا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ } ۔ بہرکیف فصل وتمیز کے اس یوم حساب میں مومن اور کافر آپس میں پھٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذ یَتَفَرَّقُوْنَ } ۔ (الروم : 14) ۔ اور فیصلے کے اس دن ظالموں اور انکے ہم مشربوں کو انکے معبودان باطلہ سمیت دوزخ کی نار سعیر کی راہ پر ڈال دیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجُہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ } ۔ (الصافات : 23-22) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 36:60–61

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

کیا میں نے تم کو تاکید نہ کردی تھی کہ تم شیطان کی بندگی نہ کرنا کہ وہ قطعی طور پر تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ بندگی صرف میری ہی کرنا کہ یہی ہے سیدھا راستہ ؟3

61 اللہ کی عبادت و بندگی ہی صراط مستقیم کا تقاضا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری ہی بندگی کرنا یہی ہے سیدھی راہ "۔ جس پر چل کر تم لوگ میرے پاس پہنچ سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ رَبِّیْ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ } ۔ (ھود : 56) ۔ سو یہی ایک سیدھا راستہ ہے جو کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ اور فائز المرامی کا ضامن و کفیل ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمُ عَنْ سَبِیْلِہ } ۔ (الانعام : 154) ۔ یعنی " یہی ہے میرا سیدھا راستہ پس تم سب اسی کی پیروی کرنا۔ اس کے سوا دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرنا کہ اس کے نتیجے میں تم لوگ اس کی سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کی راہ ہی وہ سیدھی اور صحیح راہ ہے جس پر چل کر انسان اپنے خالق ومالک تک پہنچ سکتا ہے اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز اور بہرہ ور ہوسکتا ہے کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ سو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت و بندگی صراط مستقیم کا طبعی تقاضا ہے۔
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

مگر (اس کے باوجود) اس نے گمراہ کردیا تم میں سے ایک بڑی خلقت کو (طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے) تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے ؟

62 عقل و خرد سے کام لینے کی دعوت : سو ان مجرموں سے مزید کہا جائے گا کہ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے ؟ کہ اس کی پیروی کرتے رہے جو تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے اور جس نے تمہیں گمراہ کرنے اور جہنم رسید کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اور قسم بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے اور علی الاعلان کھائی تھی۔ تو آخر تم لوگوں کو ہو کیا گیا تھا ؟ سو اپنے انجام اور اپنی آخرت سے غفلت و لاپرواہی برتنے والے عقلمند نہیں ہوسکتے ورنہ وہ اتنے بڑے خسارے میں مبتلا نہ ہوتے۔ بہرکیف اس ارشاد سے عقل و خرد سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ انسان اپنے نفع و نقصان کو پہچان سکے اور اپنے دوست اور دشمن کے درمیان فرق وتمیز کرسکے۔ اور اپنے دشمن کی فریب کاریوں سے بچ سکے۔ خاص کر ابلیس لعین جیسے اس عدو مبین کی فریب کاریوں سے جس نے اپنی فریب کاریوں سے ان کے جدِّ امجد حضرت آدم کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور جس کی دشمنی اولاد آدم کے ساتھ قیامت تک کے لیے ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -