35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ (صدق دل سے) پڑھتے ہیں اللہ کی کتاب اور وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہوتا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں (ہماری رضا کے لئے) پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے عام بھی وہ بلاشبہ امید رکھتے ہیں ایک ایسی عظیم الشان تجارت کی جس میں ہرگز کوئی خسارہ نہیں1

66 اہل حق کی تین اہم صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کو قائم رکھتے ہیں اور وہ خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انکو دیا ہوتا ہے "۔ یعنی دیا ہوا تو سب کا سب ہمارا ہی ہوتا ہے مگر مطالبہ سب کا نہیں بلکہ اس میں سے کچھ کا ہے۔ اور وہ بھی اس لئے کہ تاکہ خود اس دینے والے کو ہی نوازا جائے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس کرم اور اس عنایت کے۔ بہرکیف اللہ کی کتاب کی تلاوت، نماز کو قائم کرنا اور اللہ پاک کے دیئے ہوئے میں سے اس کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرنا وہ عظیم الشان اور پاکیزہ صفات ہیں جن سے انسان ایک طرف خشیت خداوندی سے سرشار ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ ایک ایسی عظیم الشان تجارت سے سرفراز ومالا مال ہوتا ہے جس میں کبھی کوئی خسارہ نہیں۔ روایات میں یہ وارد ہے کہ امام احمد بن جنبل کو خواب میں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی زیارت نصیب ہوئی تو آپ نے اللہ پاک کے حضور عرض کیا کہ اللہ آپ تک پہنچنے کا سب سے قریبی راستہ کونسا ہے ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تلاوت قرآن۔ یعنی میرے قرآن کو پڑھنا۔ عرض کیا سمجھ کر پڑھنا یا بغیر سمجھے پڑھنا ؟۔ ارشاد ہوا خواہ سمجھ کر پڑھا جائے یا بغیر سمجھے۔ یعنی یہ دونوں ہی صورتوں میں موجبِ قرُب ہے۔ (المعارف وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال - 67 انفاق فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم صفت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ خرچ کرتے ہیں پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے عام بھی "۔ یعنی ترغیب کے موقع پر اور جہاں فرض و واجب انفاق کا تعلق ہو وہاں تو وہ علانیہ خرچ کرتے ہیں تاکہ ترغیب بھی ہو اور دوسروں کو تہمت و بدظنی کے گناہ سے بھی بچایا جاسکے۔ اور جہاں نفلی صدقات کی بات ہو یا ریا و نمود کا خدشہ ہو وہاں وہ چھپا کر اور پوشیدہ طور پر خرچ کرتے ہیں۔ دیتے بہرحال اللہ ہی کے لئے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرنا اصل مطلوب ہے۔ آگے حسب ضرورت و موقع پوشیدہ طور پر بھی دیا جاسکتا ہے اور کھلے عام بھی۔ بہرکیف انفاق فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم صفت ہے کہ ایسے پاکیزہ لوگ اپنے مالوں پر مار گنج بن کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ وہ ان کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے دوسروں کے بھلے اور بہتری کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ سو کتاب اللہ کی تلاوت، اِقامت صلاۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی یہ تین صفات دین حق کی محافظ اور خشیت الہی کی علامت اور سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی صفات ہیں۔ یہود انہی صفات سے محروم ہونے کے نتیجے میں قرآن پر ایمان لانے کی توفیق وسعادت سے محروم ہوئے اور " مغضوب علیہم " بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 68 ایک بےمثال تجارت کی نشاندہی : سو اس سے ایک ایسی بےمثال تجارت کی نشاندہی فرمائی گئی ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں۔ سو ایسی بےمثال تجارت کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ ایک ایسی عظیم الشان تجارت کی امید رکھتے ہیں جس میں کوئی خسارہ نہیں "۔ سو جس طرح ایک شخص تجارت میں مال لگاتا اور محنت کرتا ہے کہ سرمایہ بڑھے اور ایک کا کئی گنا ہو کر ملے، اسی طرح ایک مومن اس امید پر نیک عمل کرتا اور متاع حیات کی پونجی اس میں صرف کرتا ہے کہ وہ اللہ پاک کے یہاں اس کا کئی گنا اجر و وصلہ پا سکے۔ پھر دنیا و آخرت کی ان دونوں تجارتوں میں ایک بڑا اور بنیادی فرق یہ ہے کہ دنیاوی تجارت میں خسارہ بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اصل سرمایہ بھی ضائع ہوجاتا ہے، جبکہ اللہ پاک سے کئے گئے اس سودے میں کسی ضیاع و خسارے کا کوئی سوال ہی نہیں بشرطیکہ مال صحیح ہو اور نیت و ارادہ بھی خالص اور درست ہو ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا مَنْ لا حَدَّ لِکَرَمِہ وَلا نِہَایَۃَ لِجُوْدِہ وَ اِحْسَانِہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں یہ درس عظیم ہے کہ جن لوگوں نے اس دنیاوی زندگی کو اصل مقصود قرار دے کر اسی کے متاع فانی اور حطام زائل کو جوڑنے اور جمع کرنے کی کوشش کی، اور جو اسی کے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ مالدار بننے کے خبط میں مبتلا رہے، ان کا حشر ایک دن یہ ہونا ہے کہ ان کی یہ ساری دولت خاک اور راکھ بن کر اڑ جائے گی اور ان کے پاس یاس و حسرت کے کڑوے گھونٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں رہ جائے گا۔ لیکن اس کے بالمقابل جنہوں نے اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے کی سعادت حاصل کی ہوگی وہ یقینا ایک ایسی عظیم الشان تجارت اور بےمثل کاروبار سے مشرف و سرفراز ہوں گے جس میں کسی خسارے کا کوئی خطرہ و اندیشہ نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ اللہ پورے پورے دے ان کو ان کے اجر اور ان کو نوازے اپنے مذید فضل (و کرم) سے بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی قدر دان ہے

69 اہل ایمان کے انفاق کے اصل محرک کی طرف اشارہ : سو اہل ایمان کے اصل محرک کی طرف اشارہ اور ان کے اجر و صلہ کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ انکو نوازے انکے اجر اور اپنے فضل مزید سے۔ یعنی یہ لوگ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا رب ان کو اپنے کئے کا پورا پورا صلہ و بدلہ اور اجر وثواب عطا فرمائے اور جو آخرت ہی میں مل سکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّاعَمِلَتْ وَھُوَ اَعْلَمْ بِمَا یَفْعَلُوْنَ } ۔ (الزمر : 70) کہ دنیا کے ظرف محدود میں اس کی گنجائش ہی نہیں کہ یہاں انسان کو اس کے عمل و کردار کو پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ ہم اس کو مختلف مقامات پر واضح کرچکے ہیں۔ سو یہ بندگان صدق و صفا جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کیلئے کرتے ہیں تو وہ انکو پورے پورے اجر وثواب اور اپنے فضل سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس اکرم الاکرمین کی عطا وبخشش کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 70 اللہ تعالیٰ کی صفت بخشش و قدردانی کا حوالہ و ذکر : سو مخلصین کی حوصلہ افزائی کے لیے اللہ پاک کی ان دو صفتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور قدردانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و بخشش اور شکر و قدردانی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی قدرداں ہے "۔ اور یہ اس کی عظیم الشان قدر دانی اور بندہ نوازی ہی کا ایک مظہر ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دنیائے دوں کی اس مختصر سی فرصت کے ان معمولی سے اعمال پر جنت کی ان اعلیٰ وارفع اور ابدی و لازوال نعمتوں سے سرفراز فرما دیتا ہے جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ فلہ الحمد و لہ الشکر۔ بہرحال یہاں ان صفات کریمہ کا حوالہ دیکر بندوں کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی کہ ان کی نیکیوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ بڑے ہی کرم اور چشم پوشی کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور انکے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی وہ قدر اور عزت کے ساتھ قبول فرماتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور لگاتار و مسلسل کرم و احسان کا معاملہ کرنا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ اپنے ان مخلص بندوں کے ساتھ ان کی توقعات کے مطابق معاملہ فرمائے گا۔ ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر وہ ان کی نیکیوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں چشم پوشی اور بڑی چشم پوشی سے کام لے گا کہ وہ " غفور " اور " غفّار " ہے اور ان کے ان چھوٹے چھوٹے اعمال کو بھی قدر و عزت سے نوازے گا اور شرف قبولیت سے سرفراز فرمائے گا کہ وہ " شکور " اور بڑا ہی قدردان بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجی ہے (اے پیغمبر ! ) وہی حق ہے جو تصدیق کرنے والی ہے ان تمام کتابوں کی جو کہ آچکی ہیں اس سے پہلے بلاشبہ اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر سب کچھ دیکھتا ہے

71 کتاب حق کی تعیین و تصریح : سو کتاب حق کی تعیین و تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے وہی حق ہے "۔ مبتدا و خبر کی تعریف سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔ یعنی حق صرف وہی ہے جو اس کتاب ہدایت سے ملے اور بس۔ سو اس کتاب حکیم کے سوا حق اور ہدایت کی دعوت اور کہیں سے بھی نہیں مل سکتی۔ کیونکہ اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں آئی تھیں انکو انکے حاملین نے بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ اور اس حد تک کہ اب ان کتابوں کی اصل اور حقیقی تعلیم کا کہیں ملنا ہی ممکن نہیں بجز ان کے ان حصوں کے جن کو اس کتاب حکیم قرآن مجید نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ سو ایسے میں طالبینِ حق کو صدق دل سے اسی کتاب حکیم کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جو کہ نور حق و ہدایت کا واحد منبع ومصدر ہے جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کی " مہیمن " اور " محافظ " کتاب ہے۔ ورنہ محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 72 قرآن حکیم گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ قرآن حکیم تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں۔ سو اس سے قرآن حکیم کی حقانیت کی ایک دلیل اور اہل کتاب پر اتمام حجت کا ذکر وبیان فرما دیا گیا۔ سو قرآن حکیم کی حقانیت کی ایک دلیل کے ذکر اور اہل کتاب پر اتمام حجت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں "۔ سو جس دین متین کو اس کتاب حکیم کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے یہ کوئی نیا دین نہیں بلکہ یہ وہی دین ہے جو اس سے پہلے کی کتابوں کی شکل میں آچکا ہے جس کی دعوت اس سے پہلے کے انبیائے کرام بھی دیتے چلے آئے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ " ان سے کہئے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں "۔ پھر اس پیغام حق سے بدکنے اور اس پر ناک بھوں چڑھانے کی آخر وجہ کیا ہے ؟ نیز یہ کتاب مصداق ہے ان پیشینگوئیوں کی جو آخری نبی اور آخری کتاب کے بارے میں پہلی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ سو اس پر ایمان لانا ان پہلی کتابوں پر ایمان کا تقاضا اور ان کی تصدیق ہے۔ اور اس سے انحراف ان سے انحراف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ کتاب کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ یہ وحی خداوندی کے اسی سلسلہ مقدسہ کا تسلسل اور اس کی آخری اور کامل شکل ہے جو اس سے پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئ کہ یہ کتاب حکیم گزشتہ آسمانی صحیفوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کا مصداق ہے۔ پس یہود وغیرہ جو لوگ گزشتہ آسمانی صحیفوں پر ایمان کے دعویدار ہیں ان کے ایسے تمام دعو وں کا لازمی اور طبعی تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کتاب حکیم پر صدق دل سے ایمان لے آئیں ورنہ وہ اپنے تمام دعو وں میں جھوٹے قرار پائیں گے۔ اور تیسری اہم حقیقت اس ارشاد سے یہ واضح فرما دی گئی کہ نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر اب بہرحال یہی اور صرف یہی کتاب ہے۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم پر ایمان سے محروم ہیں وہ اور خواہ کچھ بھی ہوں اور دنیا ان کو خواہ کچھ بھی کہتی اور مانتی ہو، نور حق و ہدایت سے وہ بہرحال محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 73 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں کے حال سے بیخبر نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر اور سب کچھ دیکھتا ہے "۔ اس لئے وہی پوری طرح اور بہتر طور پر جانتا ہے کہ اس کے بندوں کا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں۔ اور ان کے لئے مفید کیا ہے اور مضر کیا۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی ممکن ہی نہیں۔ اس لئے اس کے بندوں کی فوز و فلاح اور سعادت و نجات اس کی تعلیمات مقدسہ اور ارشادات عالیہ کے بغیر ممکن نہیں۔ سو اس کی اس شان خبیر وبصیر ہی کا تقاضا تھا کہ اس نے قرآن حکیم کی صورت میں اپنی یہ آخری اور کامل کتاب نازل فرمائی جو قیامت تک تمام دنیا کی راہنمائی کیلئے کافی و وافی ہے۔ کیونکہ اس خبیر وبصیر نے جب دیکھا کہ گزشتہ کتابوں میں تحریف کر کے انکو کچھ کا کچھ کردیا گیا۔ یہاں تک کہ دنیا حق و ہدایت کے نور سے محروم ہوگئی تو اس نے اس نئی اور آخری کتاب کو نازل فرمانا ضروری سمجھا تاکہ اس کے بندے اندھیروں میں بھکٹتے نہ رہ جائیں۔ سو اگر وہ یہ کتاب نازل نہ فرماتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی مخلوق کے خیر و شر سے لاتعلق ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں اس لیے اس نے یہ کتاب نازل فرمائی۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنی اس کتاب کا وارث بنادیا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا تھا (اس شرف کیلئے) اپنے بندوں میں سے پھر ان میں سے کوئی تو ظلم ڈھانے والا ہے خود اپنی جان پر کوئی میانہ رو ہے اور کوئی سبقت لیجانے والا ہے نیکیوں میں اس کے اذن (و عنایت) سے یہی ہے بڑا فضل

74 مخلوق کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے انتظام کا ذکر : سو مخلوق کی ہدایت و راہنمائی کے لیے خداوند قدوس کے انتظام کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " پھر ہم نے اپنی اس کتاب کا وارث بنادیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو "۔ یعنی اس سے پہلے کتاب ہدایت کے حامل ہونے کا شرف و اعزاز ایک عرصہ دراز تک بنی اسرائیل کو حاصل رہا، مگر جب انہوں نے اس کا حق ادا کرنے میں تقصیر و کوتاہی سے کام لیا اور وہ نااہل قرار پائے تو ہم نے ان سے یہ اعزاز چھین کر بنی اسماعیل کو دے دیا اور اپنی آخری کتاب ہم نے آپ ﷺ کی طرف اتاری۔ پھر یہ کتاب حق جو ہم نے آپ کو بذریعہ وحی عنایت فرمائی آپ ﷺ کے بعد اس کا وارث ہم نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو بنادیا ہے۔ یعنی امت محمدیہ کو جو کہ خیر الامم ہے۔ اور اس شرف و اعزاز کو تا قیامت ہمیشہ کے لئے انہی کے اندر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے یہود ان پر حسد کرنے لگے اور وہ ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسی حسد کی بنا پر جانتے بوجھتے اس حق کا انکار کردیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ } ۔ (البقرۃ : 109) ۔ حالانکہ یہ فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ خالق ومالک بھی ہے اور اس کا ہر فیصلہ ہر اعتبار سے حق و انصاف پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے ایک اور مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاس علیٰ مَا اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ } ۔ (النساء : 54) ۔ یعنی کیا یہ یہود وغیرہ ان لوگوں پر حسد کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا ؟ سو ان کا ایسا کرنا عقل و نقل سب کے تقاضوں کے خلاف اور خود ان کی اپنی محرومی میں اضافے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ 75 حاملین کتاب کے تین گروہوں کا ذکر : اللہ تعالیٰ نے تو ان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے یہ انتظام فرمایا مگر آگے یہ لوگ تین حصوں میں بٹ گیے۔ یعنی کچھ تو وہ ہیں جنہوں اس کتاب کے بارے میں تقصیر و کوتاہی سے کام لیا اور اس طرح وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ٹھہرے۔ اور کچھ وہ ہیں جو متوسط اور میانہ رو ہیں کہ اکثر اوقات تو اس کے مطابق عمل کرتے ہیں لیکن بعض اوقات کوتاہی بھی کر جاتے ہیں ۔ " یعمل بہ فی غالب الاوقات و یقصر فی بعض الفترات " ۔ (صفوۃ، روح اور قرطبی وغیرہ) ۔ اور کچھ اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ پس " ظالم " تو ہے گناہ گار اور " سابق " پرہیزگار اور " مقتصد " ان دونوں کے درمیان۔ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر زیادہ اور غالب ہوں وہ تو ہے " سابق " اور جس کی برائیاں زیادہ ہوں وہ ہے " ظالم "۔ اور جس کی نیکیاں اور برائیاں دونوں مساوی و برابر ہوں وہ ہے " مقتصد "۔ اور یہ سب جنت میں داخل ہوں گے۔ اور قول راحج یہی ہے کہ ان تینوں گروہوں کا تعلق امت محمدیہ ہی سے ہے۔ اسی کو ابن جریر طبری نے اختیار فرمایا ہے اور اسی کو جمہور علماء و مفسرین نے راحج قرار دیا ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس کی تائید و ترجیح میں مختلف روایات اور آثار کو بھی جمع فرمایا ہے۔ اور اسی کی تائید بلکہ تصریح حضرت اسامہ بن زید ؓ کی اس روایت میں بھی موجود ہے جس کو طبرانی، اور بہیقی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ یہ تینوں قسم کے لوگ اسی امت کے ہوں گے۔ اور تینوں جنت میں داخل ہوں گے ۔ " کلہم من ہذہ الامہ وکلہم فی الجنۃ " ۔ (فتح القدیر، ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، صفوۃ اور مراغی وغیرہ) ۔ جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک یہاں پر " ظالم " سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کتاب حق سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں جیسا کہ سورة نساء کی آیت نمبر 55 میں ارشاد فرمایا گیا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنکا ذکر سورة واقعہ میں " اَصحاب المشئمۃ " سے فرمایا گیا ہے۔ اور یہی قول بعض روایات کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد سے بھی مروی ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور " مقتصد " سے مراد ان حضرات اہل علم کے نزدیک وہ لوگ ہیں کہ جو دعوت حق کی مخالفت تو نہیں کرتے لیکن وہ آگے بڑھ کر اس کی حمایت کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔ اور " سابق بالخیرات " سے مراد ان حضرات کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کی خاطر ہر مشکل برداشت کرتے اور اس کیلئے ہر قربانی دینے کو مستعد اور تیار رہتے ہیں۔ سو ان حضرات کے نزدیک اس آیت کریمہ کا مصداق صرف امت اجابت نہیں بلکہ پوری امت دعوت ہے ۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 76 " سابقون بالخیرات " کے مرتبہ بلند کا ذکر وبیان : سو " سابقون بالخیرات " کو حاصل ہونے والے مرتبہ بلند کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور یہی ہے وہ بڑا فضل " یعنی اس کو اپنا مقصد اور نصب العین بنانا چاہیے۔ واضح رہے کہ " ذالک " کا اشارہ " سبق " ۔ پیش قدمی ۔ کی طرف بھی ہوسکتا ہے جو کہ " سابق " کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ اور توریث و ایراث کی طرف بھی جو کہ " اور ثنا " سے مفہوم ہوتا ہے۔ اور بلاشبہ ان میں سے ہر صورت میں اللہ پاک کا بڑا فضل ہے۔ (الجامع، الصفوۃ، المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ سو امت محمدیہ ۔ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ۔ کو نعمت قرآن سے نواز کر اور ان کو قیامت تک ہدایت و پیشوائی کے شرف سے مشرف فرما کر ان پر جو فضل و احسان فرمایا گیا ہے وہ یقیناً بہت بڑا فضل و شرف ہے جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے محض اپنے کرم و احسان سے اس امت کو نوازا ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اور اس نعمت کو اپنانے کیلئے سبقت سے کام لینا بھی بلاشبہ بڑی سعادت اور عظیم الشان فضل خداوندی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کی وہ جنتیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے وہاں ان کو آراستہ کیا جائے گا سونے کے کنگنوں سے اور عظیم الشان موتیوں سے اور لباس ان کا وہاں پر ریشم ہوگا

77 جنتیوں کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکر وبیان : سو ان جانبازوں کے آخرت کے صلہ وبدلہ کے ذکر وبیان کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ " ان کے لیے دائمی اقامت کے وہ باغ ہوں گے جن میں ان کو عزت و احترام کے ساتھ داخل کیا جائے گا " اور ان کا یہ داخلہ بھی محض کسی وقتی سیر و تفریح کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے قیام کے لیے ہوگا۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں کا لباس ریشم ہوگا۔ یعنی شاہانہ لباس جیسا کہ دنیا کے بادشاہ پہنا کرتے تھے۔ مگر یہ بھی صرف اشتراک اسمی ہے تقریب الی الفہم کے لئے۔ ورنہ وہاں کی کسی بھی نعمت کا یہاں پر پورا صحیح تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سو سونا اور ریشم پہننا فی نفسہ کوئی برائی اور معیوب شے نہیں۔ دنیا میں ابتلا و آزمائش وغیرہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر مردوں کے لئے ان کا پہننا ممنوع قرار دیا گیا جن کا احاطہ اللہ پاک ہی کرسکتا ہے مگر وہاں منع نہیں ہوگا کہ وہ جہاں ابتلاء و آزمائش کا نہیں، بدلہ اور جزاء کا جہاں ہوگا۔ سو سونے کے کنگنوں اور موتی اور ریشم وغیرہ کا ذکر محض تقریب فہم کیلئے ہے تاکہ مخاطبین جنت کی نعمتوں کا بقدر امکان تصور کرسکیں۔ ان چیزوں کی حقیقت اللہ ہی جانے اور ان کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوسکے گا جبکہ یہ آخرت میں سامنے آئیں گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل جنت کی بعض اہم اور عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور یہ (خوش نصیب) لوگ (خوشیوں میں جھوم جھوم کر) کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے دور کردیا ہم سے غم (اور ہر قسم کا فکر) بلاشبہ ہمارا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی قدر داں ہے2

اہل جنت کا نعیم جنت سے سرفرازی پر اظہار تشکر و امتنان : سو اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کے تمام وعدوں کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو فورا اور بےساختہ کہیں گے کہ " شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے دور کردیا غم کو "۔ یعنی وہ تمام رنج و غم جو اس سے پہلے دنیا میں ہمیں لاحق ہوا کرتے تھے۔ سو ان تمام سے اب ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ گئی۔ نیز وہ تمام غم جو ہمیں اپنی عاقبت اور اپنے انجام کے بارے میں لاحق رہتے تھے وہ بھی اب ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے کہ ہمارے ربِّ غفور و شکور نے اپنے فضل و کرم اور انعام و احسان سے ہمیں جنت کی ان ابدی نعمتوں سے سرفراز فرما دیا ۔ اللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُم ۔ بہرکیف اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو بےساختہ ان کی زبانوں پر کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر پورا فرما دیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 79 رب کی صفت غفور و شکور کا حوالہ و ذکر : سو اہل جنت اپنے اس اظہار تشکر و امتنان کے ضمن میں کہیں گے کہ " بلاشبہ ہمارا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی قدرداں ہے "۔ کہ اس نے ہمیں ہر ہر مرحلے پر اپنی شان ربوبیت و بخشش اور رحمت و عنایت سے نوازا۔ جو غلطیاں اور کو تاہیاں ہم سے نفس و شیطان کے اغوا واضلال سے سرزد ہوتی رہیں ان کو محض اپنے فضل و کرم اور اپنی شان غفوری و غفاری سے معاف فرما دیا۔ اور جو ٹوٹے پھوٹے عمل ہم نے اپنی حیات مستعار میں کئے تھے، ان کو شرف قبولیت سے نوازا کر ہمیں جنت کی ایسی دائمی و بےمثال نعمتوں سے بہرہ ور اور سرفراز فرما دیا ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ کَمَا یَنْبَغِیْ لِجَلالِ وَجْہِہِ وَ عَظِیْمِ سُلْطَانِہ سُبْحَانَہ و َتَعَالٰی ۔ سو اہل جنت اللہ پاک کی ان عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہی سراپا شکر وسپاس بن کر ایسا پکار اٹھیں گے کہ شکر نعمت انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اتار دیا ہمیں اپنے فضل (و کرم) سے سدا رہنے کی اس (عظیم الشان) جگہ میں جس میں ہمیں نہ کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور نہ کوئی تھکان

80 ہمیشہ کی اقامت گاہ سے سرفرازی کی نعمت کا ذکر : سو اس ارشاد سے ذکر فرمایا گیا کہ اہل جنت اپنے اس اظہار تشکر و امتنان کے ضمن میں کہیں گے " شکر اس خدا کا جس نے اتار دیا ہمیں ہمیشہ کی اس اقامت گاہ میں "۔ جس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کی سعادت نصیب ہوگی۔ نہ کسی تبدیلی کا کوئی ڈر اور نہ کسی تبادلے کا کوئی خوف اور خطرہ ۔ " لَا تَحَوُّلُ عَنْہَا وَلا نُقْلَۃ " ۔ (المراغی : ج 22 ص 131) ۔ اور جس سے نہ خود ہی کبھی نکلنے کا جی چاہے گا ۔ { خَالِدِیْنَ فیْہَا لا یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلاً } ۔ (الکہف : 108) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسا مقام ہوگا وہ ! ۔ اللہ اپنے کرم سے نصیب فرما دے ۔ آمین۔ بہرکیف اہل جنت کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم لوگ دنیا کے دار فانی میں رہتے تھے اور اس کو ہم نے دار فانی ہی سمجھا تھا۔ سو اب ہمارے رب نے ہمیں اس دائمی اقامت گاہ سے نواز دیا جو ہمیشہ رہے گی اور جس میں ہمارا رہنا بھی ہمیشہ کیلئے ہے۔ اس میں ہمارے لیے نہ کوئی محنت نہ مشقت نہ کوئی تکان نہ افسردگی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور اس کے برعکس جو لوگ اڑے رہے ہوں گے اپنے کفر (و باطل) پر ان کے لئے جہنم کی آگ ہے نہ تو ان پر قضاء آئے گی کہ وہ مر ہی جائیں اور نہ ہی کسی طرح ان سے اس کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی (کہ کچھ آرام پاسکیں) اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں (اور دیں گے) ہر بڑے ناشکرے (کافر) کو

81 اہل جنت کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال بد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ ہوگی "۔ نہ تو ان کے لیے قضا آئیگی یعنی نہ انکو وہاں موت آئیگی تاکہ اس عذاب سے رہائی پاسکیں اور نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی تاکہ وہ کچھ دم لے سکیں۔ سو اس آیت کریمہ میں اہل جنت کے مقابلے میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انکا حال بڑا ہی برا اور نہایت ہی عبرتناک ہوگا کہ ان بدبختوں کو نہ تو وہاں موت آئے گی کہ ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے اور اس طرح یہ اس ہولناک عذاب سے چھوٹ سکیں اور نہ ہی انکے عذاب میں کسی طرح کی کوئی تخفیف کی جائے گی کہ یہ راحت کا کوئی سانس لے سکیں۔ بلکہ انکو وہاں پر ہمیشہ رہنے والی وہ زندگی گزارنا ہوگی جس کو نہ زندگی کہا جاس کے گا نہ موت ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 82 نا شکری کی سزا آتش دوزخ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے ۔ کافر۔ کو "۔ جو حق کا انکار کرتا اور اپنے خالق ومالک کی نعمتوں کو جھٹلاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ کسی خاص فرد یا گروہ کی بات نہیں بلکہ یہ ہمارا عام قانون و دستور اور مستقل سنت ہے کہ ہم ہر نابکار کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ سو آج بھی جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہوں گے یا آئندہ بھی جو اس راہ پر چلیں گے ان سب کیلئے ہمارا قانون اور ضابطہ یہی ہے کہ ہمارا قانون و دستور بےلاگ اور سب کیلئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ اللہ کفر و انکار اور کفران نعمت کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ اس میں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں (ایک بار) نکال دے اس سے تاکہ ہم نیک کام کریں ان کاموں کے خلاف جو کہ ہم (اس سے پہلے) کرتے رہے تھے (جواب ملے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں سبق لے لیتا جس نے سبق لینا ہوتا اور پہنچ چکا تھا تمہارے پاس ہماری طرف سے خبردار کرنے والا ؟ پس اب تم لوگ مزہ چکھتے رہو (اپنے کئے کا) سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں1

83 دوزخیوں کی وہاں پر چیخ و پکار اور اسکا ان کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دوزخی لوگ وہاں پر چیخ چیخ کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب اب ہمیں یہاں سے ایک مرتبہ نکال دے تاکہ ہم دنیا میں جا کر نیک عمل کریں۔ اس کے بالکل برعکس جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے۔ سو ان کی اس چیخ و پکار پر ان کو جواب ملے گا کہ کیا ہم نے تم لوگوں کو اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں سبق لے لیتا جس نے سبق لینا ہوتا ؟ "۔ یعنی ایسی عمر تم لوگوں کو ضرور دی گئی مگر تم نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اس کو تم لوگوں نے انکار و تکذیب اور لایعنی امور میں ضائع کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس عمر کی تحدید و تعیین میں حضرات علمائے کرام سے مختلف اقوال مروی و منقول ہیں۔ سترہ سال، اٹھارہ سال، چالیس، ساٹھ اور ستر سال وغیرہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان مختلف اقوال میں آپس میں کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ کم سے کم درجہ اس عمر کا سن بلوغ ہے جس میں انسان کے قوائے فکریہ مکمل ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے آگے وہ جوں جوں بڑھتا چلا جائے گا، اس پر حجت اور پکی ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ ساٹھ ستر سال تک کی عمر پانے والے کے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کا ارشاد منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ " مااَعْذَرَ اللّٰہُ اِلٰی امْرِئٍ اَخَّرَ اَجَلَہ حَتّٰی بَلَغَ سِتِّیْنَ سَنَۃً " ۔ " اللہ پاک نے اس شخص کے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جس کو ساٹھ سال تک کی عمر عطا فرما دی "۔ (ابن کثیر، مراغی اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو دوزخیوں کے اس سوال اور مطالبے کے جواب میں ان سے فرمایا جائے گا کہ جب تم لوگوں کو اتنی عمر بھی مل گئی تھی اور تمہارے پاس " نذیر " یعنی اللہ کا رسول بھی آگیا تھا مگر تم نے اس سب کے باوجود حق کو قبول نہیں کیا تھا اور تم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے بلکہ تم برابر اپنے کفر و باطل پر ہی اڑے رہے۔ تو اب تم لوگ کس طرح اور کس بنا پر مہلت مانگتے ہو ؟ سو اب اپنے کیے کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 84 اِنذار و آگہی کے بعد کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں : سو ان لوگوں کی اس چیخ و پکار کے جواب میں ان سے کہا جائے گا کہ " کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی تھی کہ اس میں نصیحت حاصل کرلیتا جس نے نصیحت حاصل کرنا ہوتی اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آگیا تھا تمہارے پاس خبردار کرنے والا "۔ یعنی امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ جن کو آخری اور کامل کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا کہ تاکہ آپ ﷺ ساری دنیا کو خبردار کریں ۔ { لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا } ۔ (ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ اسی طرح بعض نے کہا کہ " نذیر " سے مراد " مشیب " یعنی بڑھاپا ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں تمہارے انجام سے خبردار کرنے کیلئے سب ضروری انتظامات کیے گئے مگر تم لوگ ہوش میں نہ آئے۔ اور رسول اور شیب دونوں ہی نذیر میں داخل ہیں۔ (مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ اور امام بخاری نے ترجمہ الباب میں " نذیر " سے مراد " مشیب " یعنی بڑھاپا لیا ہے اور عکرمہ اور ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ " نذیر " سے مراد اللہ کے رسول ہیں۔ اسی کو ابن جریر نے اختیار کیا اور یہی صحیح بھی ہے اور ظاہر بھی ۔ " وہو محمد ۔ (علیہ السلام) ۔ الذی بعث بین یدی الساعۃ " ۔ ( صفوۃ التفاسیر) ۔ اور لفظِ " نذیر " کا عموم ان سب ہی اقوال اور احتمالات کو شامل ہے۔ بہرکیف اس جواب سے ان بدبختوں کے لیے واضح فرما دیا جائے گا کہ ان کے لیے انذار و آگہی کے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی ہے جاننے والا آسمانوں اور زمین کے غیب کا بلاشبہ وہ پوری طرح جانتا ہے سینوں کے بھیدوں کو2

85 عالم غیب اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ ہی ہے آسمانوں اور زمین کے غیب جاننے والا "۔ مبتدا اور خبر دونوں یہاں پر معرفہ ہیں جو کہ مفید حصر ہے۔ یعنی عالم غیب ۔ سب غیبوں کو جاننے والا ۔ اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ پس اللہ پاک کے سوا اور کسی کو بھی عالم غیب ماننا صحیح نہیں۔ سو اس عالم الغیب نے ان غیبی حقائق کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ تمام حقائق ایک دن اسی طرح سامنے آئیں گے۔ اس لیے ان کو محض ڈراوا یا خالی خولی دھمکی نہ سمجھا جائے۔ اس لیے انکو حقائق جان کر اس آنے والے وقت کے لیے تیاری کی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 86 اللہ سینوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " وہ پوری طرح جانتا ہے سینوں کے بھیدوں کو "۔ پس اس سے تمہاری کوئی حالت و کیفیت اور کوئی حرکت وسکون کسی بھی طرح چھپی نہیں رہ سکتی۔ لہذا اس سے اپنے دل کا تعلق ہمیشہ صحیح رکھو اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہونا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو وہ علیم بذات الصدور جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ یہ لوگ جو دوبارہ دنیا میں جانے کی مہلت مانگ رہے ہیں کہ وہاں جاکر یہ نیک عمل کریں۔ تو وہ جانتا ہے کہ یہ اپنے اس قول وقرار میں جھوٹے ہیں۔ انکو اگر دوبارہ مہلت مل بھی جائے تو بھی انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جو اب تک کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی { وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ } ۔ ( الانعام : 28) ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے تم لوگوں کو خلیفہ (اور جانشین) بنایا اپنی زمین میں سو جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال خود اسی پر ہوگا اور کافروں کا کفر ان کے رب کے یہاں ناراضگی ہی میں اضافہ کرتا ہے اور کافروں کے لئے ان کا کفر خسارے (اور گھاٹے) ہی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے3

87 اللہ تعالیٰ کا قانون عدل و انصاف سب کے لیے یکساں : سو ارشاد فرمایا گیا " وہ ۔ اللہ ۔ وہی ہے جس نے جانشین بنایا تم لوگوں کو اپنی اس زمین میں "۔ " خلٓیِف "، " خلیفہ " کی جمع ہے جس کے معنیٰ نائب اور جانشین کے ہیں۔ اور یہ دونوں ہی معنیٰ یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک نے تمہیں اپنا نائب اور خلیفہ بنادیا تاکہ تم لوگ اس کی زمین میں اس کے احکام نافذ کرو۔ پس تم آزاد اور خود مختار نہیں ہو کہ جو مرضی کرو۔ بلکہ تم اپنے اس خالق ومالک کے احکامات و ارشادات کے پابند ہو کہ خلیفہ اپنے احکام نہیں چلایا کرتا۔ بلکہ وہ اس ہستی کے حکم و ارشاد کا پابند ہوتا ہے جس نے اس کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ہوتا ہے۔ نیز تم خلیفہ اور جانشین ہو ان اقوام کے جو تم سے پہلے اس زمین پر گزر چکی ہیں۔ پس تم ان کے حالات اور انجام سے سبق سیکھو اور عبرت حاصل کرو تاکہ تم اس برے انجام سے بچ سکو اور محفوظ رہ سکو جس سے پہلے کی وہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عدل و انصاف سب کیلئے ایک اور یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ وبہ العیاذ جل وعلا - 88 کافروں کے لیے خسارہ ہی خسارہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافروں کیلئے انکا کفر انکے خسارے ہی میں اضافے کا باعث بنتا ہے "۔ کہ وہ اپنے کفر و انکار کے باعث عمر عزیز کی متاع گرانمایہ کو راہ حق میں صرف کرنے کی بجائے اللہ پاک کے غضب اور اس کی ناراضگی میں کھپا کر دائمی عذاب کے مستحق بن گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کافر کے کفر کا وبال خود اسی پر ہے۔ اور کافر جس قدر اپنے کفر میں بڑھتا جائے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب میں اضافہ کرتا جائے گا۔ اور اس طرح وہ اپنے خسارے میں اضافہ کرتا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کافر لوگ اپنے کفر و انکار سے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ رہے بلکہ اس طرح وہ خود اپنے ہی خسارے پر خسارے کے ردے چڑھائے جاتے ہیں اور اپنے ہی نقصان میں اضافہ کرتے جاتے ہیں جس کا خمیازہ ان کو خود ہی بھگتنا ہوگا اور بڑی ہی ہولناک شکل میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ کیا تم لوگوں نے کبھی غور (نہیں) کیا اپنے ان خود ساختہ شریکوں کے بارے میں ؟ جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ (وحدہ لاشریک) کے سوا ؟ مجھے دکھاؤ (اور بتاؤ) تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا زمین میں سے یا ان کا کوئی حصہ ہے آسمانوں میں ؟ یا ہم نے ان کو کوئی ایسی کتاب دے رکھی ہے جس کی بناء پر یہ لوگ کسی کھلی سند پر قائم ہوں ؟ (کچھ بھی نہیں) بلکہ ظالم لوگ ایک دوسرے کو محض دھوکے (کے جھانسے) دئیے چلے جا رہے ہیں

89 مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء کی بےحقیقتی : سو مشرکوں سے انکے خود ساختہ شریکوں کی بےحقیقتی کے بارے میں یہ اہم سوال کیا گیا کہ " کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا زمین میں یا ان کا کوئی حصہ ہے آسمانوں میں " ؟۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں کہ نہ تو انہوں نے کسی چیز کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی آسمان و زمین کے کسی حصے میں یہ خدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ تو پھر آخر عقل و نقل کی کون سی دلیل ان کو پوجنے پکارنے کا جواز مہیا کرسکتی ہے ؟ سو اس استفہام کے ذریعے مشرکوں کے ان خودساختہ شریکوں کی بےحقیقی واضح فرما دی گئی ہے کہ اپنے ان من گھڑت اور بےحقیقت شرکاء کے بل پر تم لوگ جو خداوند قدوس کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور نچنت بیٹھے ہو، آخر سوچو اور غور کرو کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انکے بھروسے اور سہارے پر تم لوگ کس قدر ہولناک اور دائمی خسارے کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 90 شرک اور شرکاء کے وجود پر کوئی سند نہ ہے نہ ہوسکتی ہے : سو مشرکین کے ان خود ساختہ شرکاء کے لیے عقلی دلیل کی نفی کے بعد ان کے لیے نقلی دلیل کی نفی کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " یا ہم نے انکو کوئی ایسی کتاب دی ہے جسکی بنا پر یہ لوگ کسی کھلی سند پر قائم ہوں ؟ "۔ جس میں کوئی ایسی تحریر یا پروانہ موجود ہو کہ ہم نے فلاں ہستی کو بیماریوں کو شفا بخشنے یا بےاولادوں کو اولاد دینے یا بےروزگاروں کو روزگار مہیا کرنے یا مصیبت زدوں اور مشکلوں میں پھنسے ہوؤوں کی حاجت روائی و مشکل کشائی کے اختیارات دے دئیے ہیں۔ یا فلاں فلاں ہستیوں کو اپنی زمین کے فلاں فلاں علاقوں کا مالک و مختار کار بنادیا ہے کہ ان علاقوں کے لوگوں کی قسمتیں بنانا بگاڑنا اور ان میں تصرف کرنا ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا اب انہی سے دعائیں مانگی جائیں۔ انہی کے حضور نیازیں اور نذرانے پیش کئے جائیں۔ چڑھاوے چڑھائے جائیں۔ چکر لگائے جائیں اور ان کی قبروں اور آستانوں کو غسل دئیے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسی کوئی سند یا کوئی پروانہ تمہارے پاس موجود ہے اے مشرکو تو لاؤ اسے پیش کرو۔ اور جب ایسا نہیں اور یقینا نہیں اور عقل و نقل کی کوئی بھی دلیل تمہارے پاس ایسی موجود نہیں اور نہیں ہوسکتی تو پھر تم لوگ ان ہستیوں کو آخر اس وحدہ لاشریک کا شریک قرار دیتے ہو تو کس طرح اور کس بنیاد پر ؟ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور تم کس طرح اپنے خالق ومالک کے حقوق سے غافل و لاپرواہ اور اس کی گرفت و پکڑ سے نچنت ہو کر دائمی ہلاکت کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھے جا رہے ہو۔ سو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شریک کے عقل و نقل کی کوئی دلیل نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 91 گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں کی دھوکہ دہی اور فریب کاری کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ظالم لوگ محض ایک دوسرے کو دھوکے کے جھانسے دیئے جا رہے ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ اپنے خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو ہی سب کچھ جانتے اور مانتے ہیں۔ اور یہ دوسرے لوگوں سے کہتے ہیں کہ صاحب حضرت کے تصرف کے کیا کہنے ! اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اپنی قبر کے اندر سے ہو کر کتنوں کی حاجت روائی کرتے، مشکلات کو ٹالتے اور دور کرتے ہیں۔ گرتوں کو تھامتے، ڈوبتوں کو بچاتے ہیں۔ بچے دیتے اور روزگار مہیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے لوگ اس طرح کے جھوٹ گھڑ گھڑ کر پیش کرتے، دوسروں کو دھوکہ دیتے اور اپنی دکان چمکاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان ظالموں کے پاس اپنے ان وعدوں اور مفروضوں کیلئے نہ کوئی سند ہے نہ دلیل۔ نہ اساس ہے نہ بنیاد سوائے فرضی، وہمی اور من گھڑت ڈھکوسلوں کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جن کو یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہو کر پھیلاتے ہیں اور اس طرح دوسروں کی گمراہی کے علاوہ خود اپنی گمراہی کو پکا کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ اور ان کو اس کا کوئی خیال و احساس تک نہیں کہ یہ ضلال اور اضلال کے اس دوہرے جرم کے ارتکاب سے اپنے لیے کتنے ہولناک خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال -
Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی نے روک (اور تھام) رکھا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو اس سے کہ یہ دونوں ٹل جائیں اپنی اپنی جگہ سے اور اگر کبھی یہ ٹل جائیں تو پھر کون ہے جو ان کو روک سکے اس کے بعد ؟ بیشک وہ بڑا ہی بردبار نہایت ہی (درگزر اور) معاف کرنے والا ہے1

92 اللہ تعالیٰ کی صفت حلم و مغفرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ۔ اللہ ۔ بڑا ہی بردبار، انتہائی درگزر فرمانے والا ہے "۔ اور یہ اسی حلیم مطلق کی شان حلم و کرم ہے کہ اس نے اتنی بےمثال و لا محدود قوت وقدرت کے باوجود ایسے مشرکوں اور باغیوں کو اتنی ڈھیل دے رکھی ہے۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ اگر مجرموں کو فوری طور پر پکڑتا نہیں تو اس سے کسی کو کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ جرم و قصور پر گرفت و پکڑ نہیں ہوگی۔ نہیں ایسا نہیں اور ہرگز نہیں کہ ایسا ہونا اس کی شان عدل و انصاف کیخلاف اور اس کی پیدا کردہ اس کائنات کے وجود اور اس کی حکمت کے منافی ہے۔ سو وہ جو جرم و قصور پر فوری طور پر پکڑتا نہیں تو اس لیے کہ وہ بڑا ہی حلیم و غفور ہے۔ اس لیے وہ مجرم اور قصوروار لوگوں کو لگاتار ڈھیل اور مہلت دیئے چلا جاتا ہے تاکہ جس نے توبہ کرنی ہو کرلے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنا پیمانہ بھرلے تاکہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال -
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو بڑی زور دار قسمیں کھا (کر کہا کرتے) تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آگیا تو یہ ضرور بالضرور دوسری ہر امت سے بڑھ کر راست رو ہونگے مگر جب آپہنچا ان کے پاس ایک عظیم الشان خبردار کرنے والا تو اس کی آمد (اور تشریف آوری) سے ان کی نفرت (اور حق سے فرار) ہی میں اضافہ ہوا2

93 انسان کے کفران نعمت اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہلے تو یہ لوگ کڑی اور زوردار قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آجائے تو یہ ضرور بالضرور دوسری ہر امت سے بڑھ کر راست رو ہوں گے۔ لیکن جب ان کے پاس ایک عظیم الشان خبردار کرنے والا آگیا تو ان کی نفرت اور گریز و فرار ہی میں اضافہ ہوتا گیا۔ یعنی مشرکین مکہ پہلے تو رسول اور آسمانی وحی کی تمنائیں کیا کرتے تھے۔ مگر جب اللہ پاک نے ان کو اس نعمت سے سرفراز فرما دیا تو یہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ اور یہی حال اس انسان کفور کا ہمیشہ رہا کہ جب اس کو کوئی نعمت نہیں ملتی تو یہ رہ رہ کر اس کی تمنائیں کرتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کو میسر آجاتی ہے تو یہ اپنے منعم کو اور اس کے انعام کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے اور کفران نعمت اور ناشکری کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ کل بھی ایسے انسان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو اس سے انسان کے کفران نعمت اور اس کی ناشکری کا ایک کھلا نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے اور ایسے لوگوں کی اس ناشکری کا ذکر سورة صافات میں بھی فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 35:43–44

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

اپنی بڑائی کے گھمنڈ کی بناء پر (اللہ کی) اس زمین میں اور اپنی بری چالوں کے نتیجے میں اور بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو گھیر کر (اور پھانس کر) رہتی ہیں تو کیا یہ لوگ اب اسی برتاؤ (اور انجام) کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ ہوچکا ہے ؟ تو تم ہرگز اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم ہرگز اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے3

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (عبرتوں بھری) اس زمین میں ؟ تاکہ یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے اور اللہ ایسا نہیں کہ کوئی چیز اس کے قابو سے نکل جائے نہ آسمانوں (کی بلندیوں) میں اور نہ زمین (کی پستیوں) میں بیشک وہ سب کچھ جانتا پوری قدرت والا ہے

94 استکبار باعث خسارہ و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ استکبار انسان کی محرومی کا ایک اہم اور بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہی ہے وہ اہم اور بنیادی وجہ جو ہمیشہ ایسے لوگوں کے لئے حق کے انکار اور اس سے محرومی کا باعث بنی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ پس استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ خرابی و فساد اور خسارئہ محرومی کی اصل وجہ اور جڑ بنیاد ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ کلمہ حق سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور حق بات انکے دلوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ تو پھر وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز ہوں تو کس طرح اور کیونکر ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم - 95 حق کیخلاف بری چالوں کا نتیجہ خود اپنی ہلاکت سامان ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے خلاف بری چالیں چلنے والے اپنی چالوں میں خود ہی پھنس کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس طرح کی بری چالوں کی بنا پر ایسے لوگ حق کی نعمت سے محروم ہو کر ہمیشہ کی محرومی اور دائمی عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ اور اہل حق کو اگر کوئی ظاہری تکلیف پہنچتی بھی ہے تو وہ ان کے لئے اجر وثواب میں اضافے ہی کا باعث بنتی ہے ان کے ایمان و یقین اور صبر و استقامت کی بناء پر۔ سبحان اللہ !۔ کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت کہ اس کے بعد ایک مومن صادق کے لئے خسارئہ و نقصان کی کوئی صورت ہے ہی نہیں۔ بلکہ کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ والحمد للہ رب العلمین ۔ سو حق کیخلاف سازشیں کرنے اور بری چالیں چلنے والا درحقیقت یہ سب کچھ خود اپنے ہی خلاف کرتا ہے اور جو جال وہ دوسروں کیلئے بنتا ہے اس میں سب سے پہلے خود ہی پھنستا ہے۔ اور راہ حق بتانے والے کی مخالفت کرنا دراصل خود اپنی راہ گم کرنا اور اپنی عاقبت برباد کرنا ہے۔ دوسروں کو تو کوئی نقصان وہ اللہ کے اذن کے بغیر نہیں پہنچا سکے گا لیکن حق کی دشمنی اور اہل عداوت کی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہرحال ہلاکت اور تباہی کے ہولناک گڑھے کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور " مکر " کا لفظ چونکہ اچھے معنوں میں بھی آتا ہے اس لیے یہاں پر " مکر " کے ساتھ " سیی " کی قید لگاکر " مکر " کی نوعیت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس سے مراد بری چال ہے ۔ والعیاذ باللہ - 96 اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " تم اللہ کے دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے "۔ یعنی نہ تو یہ ہو سکے گا کہ مجرم سزا سے بچ جائے اور نہ یہ کہ جرم کسی کا ہو اور سزا کسی اور کو ملے۔ یعنی کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوگا بلکہ ہر کسی کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اس کے کئے کرائے کی جزا و سزا ملے گی اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اور بھرپور طور پر ملے گی۔ سو دور حاضر کے یہ منکر اگر حق کی اسقدر وضاحت اور توضیح کے باوجود کبر و غرور اور اپنی سرکشی و سازش کی اسی روش پر اڑے ہوئے ہیں جس پر انکے پیش رو اڑے رہے تھے تو اس کے معنیٰ یہی ہیں کہ یہ لوگ اب اسی ہولناک انجام کے منتظر ہیں جس سے ان کی پیش رو منکر و مستکبر قومیں دوچار ہوچکی ہیں کہ جس طرح وہ گزشتہ قومیں ہلاکت و تباہی کے گھاٹ پر اتر چکی ہیں وہی حشر انکا بھی ہو۔ کیونکہ حق کی وضاحت میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ سو اگر یہی بات ہے تو یہ لوگ اپنے اس آخری انجام کا انتظار کریں کہ اللہ کا دستور اور اس کی سنت سب کیلئے ایک اور یکساں و بےلاگ ہے۔ سو اللہ کی وہ سنت جب انکے حق میں ظاہر ہوگی تو اس کو ٹالنا یا بدلنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر " سنت اللہ " یعنی دستور خداوندی کے بارے میں تبدیل اور تحویل کے دو لفظ وارد ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ کی سنت نہ بدلتی ہے نہ ٹلتی ہے۔ سو اس کے بدلنے سے مراد یہ ہے کہ ہر قوم کے لیے اللہ کا دستور ایک ہی ہے اور وہ سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو رویہ ایک قوم کے لیے باعث ہلاکت ہو وہی رویہ دوسری قوم اختیار کرنے پر اس انجام بد سے بچ جائے اور اللہ کی اس سنت کے نہ ٹلنے سے مراد و مقصود یہ ہے کہ جب اس کے ظہور کا وقت آجائے گا تو وہ لازما ظاہر ہو کر رہیگی۔ پھر اس کو ٹالنا یا اس کے رخ کو پھیر اور بدل دینا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ بےراہ روی کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر کہیں اللہ پکڑنے لگتا لوگوں کو ان کے کئے کرائے پر تو وہ کسی متنفس کو بھی روئے زمین پر (زندہ) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ڈھیل دئیے جا رہا ہے ایک وقت مقرر تک پھر جب آپہنچے گا ان کا وہ وقت مقرر تو ان کا حساب پوری طرح چکا دیا جائے گا بیشک اللہ پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے ہے اپنے بندوں پر1

100 اللہ تعالیٰ کی سنت امہال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ کہیں لوگوں کو انکے کیے کرائے پر۔ فوری طور پر۔ پکڑنے لگتا تو زمین پر کس جاندار کو باقی نہ چھوڑتا۔ کہ انسان اپنے گناہوں کی پاداش میں نیست و نابود کر دئیے جاتے اور جانور وغیرہ جو اس کی خدمت اور فائدے کے لئے تھے ان کے باقی رکھنے کا کوئی مقصد نہ رہ جاتا کہ وہ تو انسان ہی کی خدمت اور بھلے کے لئے پیدا کئے جاتے ہیں۔ تو جب مخدوم ہی نہ رہے تو پھر خادموں کے باقی رکھنے کا کیا فائدہ ؟ اس لئے ان کو بھی مٹا دیا جاتا۔ مگر اللہ پاک اپنی شان کریمی سے کام لیتے ہوئے انسان کو ڈھیل پر ڈھیل اور مہلت پر مہلت ہی دئیے جا رہا ہے کہ شاید یہ سنبھل جائے سدھر جائے اور اپنے کرتوتوں سے رک جائے اور باز آجائے۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے اس ہولناک انجام سے بچ جائیں جس کی طرف یہ بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ اور اگر یہ نہیں تو پھر یہ لوگ اپنا پیمانہ اچھی طرح لبریز کرلیں تاکہ ان کا پھوڑا پوری طرح پک کر آخری آپریشن کے قابل ہوجائے۔ اور ایسے لوگ اپنے کئے کرائے کا بھرپور بدلہ پاسکیں۔ اور اس طرح کہ ان کے لئے کوئی عذر اور حجت باقی نہ رہ جائے ۔ { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُہُمْ وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْئُ الدَّارِ } ۔ (المومن : 52) اور یہی سب سے بڑا خسارہ اور دائمی ناکامی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 101 اللہ کے بندے اللہ کی نگاہ میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے ہے اپنے بندوں پر "۔ لہذا وہ پوری طرح جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور کون کس سزا و جزا کا مستحق ہے۔ نہ کوئی اس کی نگاہ سے اوجھل ہوسکتا ہے اور نہ کسی کی کوئی نیت اور کوئی عمل اس سے مخفی و پوشیدہ رہ سکتا ہے۔ اسی کے مطابق وہ ہر ایک کو اس کے صلہ و بدلہ سے نوازے گا اور پورے عدل و انصاف کا معاملہ فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ { اَللّٰہُمَّ کُنْ لَنَا وَ لا تَکُنْ عَلَیْنَا وَاہْدِنَا وَاہْد بِنَا وَاجْعَلْنَا عَلٰی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمِ وَارْضَ عَنَّا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَ یَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اگر مجرموں کو انکے کیے کرائے کی پاداش میں فوراً نہیں پکڑتا تو یہ اس کی اس کریمانہ سنت کی بنا پر ہے جو اس کے حلم اور کرم بےپایاں پر مبنی ہے۔ ورنہ وہ اگر پکڑنے پر آجائے تو کوئی اسکا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن جائے اور اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔ وہ اگر چاہے تو چشم زدن میں روئے زمین سے ہر متنفس کو مٹا دے۔ مگر وہ چونکہ حلیم و کریم اور غفور و رحیم ہے۔ اس لیے لوگوں کو ایک مدت معین تک مہلت دیئے جا رہا ہے تاکہ جو چاہے توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے اپنی اصلاح کرلے۔ اور جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ہی پر اڑا رہے اس پر حجت تمام ہوجائے۔ پس اس کی سنت امہال سے کسی کو بھی کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -