35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور برابر نہیں ہوسکتے پانی کے یہ دونوں عظیم الشان ذخیرے ایک تو میٹھا پیاس بجھانے والا اور خوشگوار (و لذیذ) ہے پینے میں اور دوسرا سخت کھاری حلق چھیل دینے والا اور ہر ایک سے تم لوگ تازہ گوشت بھی کھاتے ہو اور وہ زیور بھی نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور اسی پانی میں تم وہ (دیو پیکر) جہاز بھی چلتے دیکھتے ہو جو اس کو چیرتے ہوئے جاتے ہیں تاکہ تم لوگ تلاش کرسکو اس کے فضل سے (اپنی روزی) اور تاکہ تم شکر گزار بنو

31 شرک کی تردید اضداد میں سازگاری کے پہلو سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " باہم برابر نہیں ہوسکتے پانی کے دو عظیم الشان ذخیرے "۔ ان میں سے ایک میٹھا، پیاس بجھانے والا جو خوشگوار۔ اور لذیذ۔ ہے پینے میں اور دوسرا سخت کھاری حلق چھیل دینے والا۔ اور ان میں سے ہر ایک سے تم لوگ تازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ یعنی مچھلی۔ جسے ذبح کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے اسے لحم فرمایا گیا کہ وہ تو بنا بنایا اور تیار و تازہ گوشت ہے ۔ والحمد للہ رب العلمین ۔ سو میٹھے اور کھاری پانی دونوں کے یہ عظیم الشان ذخیرے جو اپنی ظاہری صفات و خصوصیات کی بنا پر ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور اس کی ضد ہیں۔ دونوں برابر موجود ہیں اور انسان کی طرح طرح کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان قدرت کی طرف سے ایک ایسی آڑ حائل ہے کہ ان دونوں میں سے کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ دوسرے پر غالب آ کر اس کے مزاج اور اس کی نوعیت کو بدل دے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَّ یَبْغِیَانِ } ۔ ( الرحمن : 19-20) ۔ سو اضداد کے اندر پائی جانے والی یہ پر حکمت سازگاری اور موافقت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی ارادئہ وقدرت کا کنٹرول اور اسی کی حکمرانی ہے۔ سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 32 سامان زیب وزینت کی عنایت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس مالک الملک نے غذا کی ضرورت کے ساتھ ساتھ تمہارے لیے سامان زیب وزینت کا بھی انتظام فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہاری غذائی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے تازہ گوشت کے علاوہ ان ہی میں سے تم لوگ وہ زیور بھی نکالتے ہو جسکو تم پہنتے ہو "۔ یعنی مونگے اور موتی وغیرہ جن کو تمہاری عورتیں پہنتی ہیں۔ مگر وہ چونکہ تمہارے ہی لئے پہنتی ہیں اور ان کی وہ زیب وزینت تمہارے ہی سرور کا ذریعہ بنتی ہے اس لئے گویا ان کو تم نے خود پہنا۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت مطلقہ اور اس کی وحدانیت کا ایک بڑا اور کھلا ثبوت ہے۔ کیونکہ کائنات میں موجود ان اضداد کے اندر پائے جانے والے اس پر حکمت توافق سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے اوپر ایک ہی قوت قاہرہ کی حکومت کارفرما ہے۔ اسی کا اس پوری کائنات پر اور اس کی تمام چیزوں پر کنٹرول ہے۔ اور اسی قادر مطلق نے طرح طرح کی ان اضداد کو اس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ سب کچھ اس کی قدرت وحکمت، رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا کھلا ثبوت ہے۔ 33 جہاز رانی کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی پانی میں تم طرح طرح کے ۔ دیوپیکر۔ جہازوں کو رواں دواں دیکھتے ہو "۔ " فلک " کے اصل معنیٰ چیرنے پھاڑنے اور چھیلنے تراشنے کے آتے ہیں۔ اور کشتی و جہاز چونکہ پانی کو چیرتے پھاڑتے اور اس کی ساکن سطح کو چھیلتے تراشتے اور اچھالتے ابھارتے جاتے ہیں اس لئے ان کو " فلک " کہا جاتا ہے ۔ " لاَنَّہَا تَسْفُنُ المآئَ کَاَنَّہَا تَقْشِرُہَ کما تمخرہ ۔ " (الکشاف : ج 3 ص 304) ۔ مگر عام طور پر چونکہ اس کے معنیٰ کشتی سے کئے جاتے ہیں جس سے خیال ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ لفظ صرف کشتی ہی کے لئے موضوع ہے، بحری جہاز اس میں داخل نہیں۔ حالانکہ وہ اس کے اولین مصداق ہیں کیونکہ ان بڑے بڑے قوی ہیکل اور دیوپیکر جہازوں میں یہ معنیٰ زیادہ اور واضح طور پر پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی کی رعایت رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں قدرت کی ان بعض بحری نعمتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے جن سے انسان طرح طرح سے اور لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے۔ لیکن حضرت واہب مطلق کی ان عظیم الشان اور گوناگوں عنایات کی طرف متوجہ نہیں ہوتا جن سے وہ قدم قدم پر مستفید ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تم ان عظیم الشان نعمتوں کو دیکھو اور اپنے خالق ومالک کا شکر بجا لاؤ تاکہ اس طرح خود تمہارا بھلا ہو۔ سو شکر نعمت اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کا حق بھی ہے جو اس کے بندوں پر اس ضمن میں عائد ہوتا ہے اور اسی میں بندوں کا بھلا بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جہاز رانی کی اس صنعت میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ 34 بندوں کے اسباب رزق و روزی میں دعوت غور و فکر : سو اس سے بندوں کے رزق و روزی کے انتظام میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے طرح طرح کے ان جہازوں کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا جو سمندروں کی موجوں اور ان کے سینوں کو چیرتے ہوئے جاتے ہیں تاکہ اس طرح تم ایک سے دوسری جگہ تک کا سفر کرسکو اور تاکہ اس طرح تم تلاش کرسکو اس کے فضل میں سے۔ اور بحری جہاز سامان کے نقل و حمل کے لئے کل کی طرح آج بھی سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہیں اور اس سے کتنے ہی لوگوں کی طرح طرح سے روزی وابستہ ہے ۔ فالحمد للہ ۔ یہاں پر بھی روزی کو فضل یعنی " مہربانی " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ روزی کچھ تمہاری تگ و دو اور دوڑ دھوپ کی رہین منت نہیں بلکہ اس کا مدارو انحصار محض اللہ پاک کی عنایت اور اس کی بخشش و مہربانی پر ہے۔ پس کوشش تو تم لوگ بیشک کرو اور بھرپور طریقے سے کرو مگر بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رہے کہ ملے گا وہی جو اس قادر مطلق کو منظور ہوگا کہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور وہی ہے فضل فرمانے والا روزی رساں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تم لوگ اگر کائنات میں پائے جانے والے ان اضداد کی باہمی سازگاری اور اس کے توافق پر صحیح طریقے اور سچے دل سے غور کرو تو تمہارے سامنے یہ حقیقت پوری طرح روشن اور واضح ہوجائے کہ اس پوری کائنات پر ایک ہی خدائے قادر وقیوم کی حکومت ہے۔ اسی نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس پوری کائنات کو وجود بخشا اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ سو وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ داخل کرتا ہے (حد درجہ پابندی اور باریکی کے ساتھ) رات کو دن میں اور دن کو رات میں اور اسی نے کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند (کے ان دو عظیم الشان کُرُّوں) کو ہر ایک چلے جا رہا ہے (پوری پابندی کے ساتھ) ایک وقت مقرر تک یہ ہے اللہ رب تم سب کا (اے دنیا جہاں کے انسانو ! ) اسی کے لئے ہے بادشاہی اور اس کے سوا جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو وہ گھٹلی کے چھلکے تک کے بھی مالک نہیں1

35 رات دن کے ادلنے بدلنے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں "۔ جس سے کبھی رات بڑی کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ سو یہ اس کی قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے جسے تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور ہمیشہ دیکھتے ہو۔ لیکن سوچتے اور غور نہیں کرتے کہ یہ کس کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کا کرشمہ ہے۔ نیز دن رات کی اس آمدورفت اور ادلنے بدلنے میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس بھی ہے کہ وہ خالق ومالک ہر لحظہ اپنی مخلوق اور اپنی اس عظیم الشان کائنات کی تدبیر فرماتا اور اس کی نگرانی میں لگا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر تم لوگ پھر بھی اس سے سبق نہیں لیتے۔ نیز اس میں تمہارے لیے یہ درس عظیم بھی ہے کہ دن رات کی ان دونوں ضدوں کا اس طرح تمہارے کام میں لگا رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات میں ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔ ورنہ ان اضداد کا اس طرح پر حکمت طریقے سے تمہارے کام میں لگے رہنا ممکن نہ تھا۔ سو وہی ہے اللہ جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور بلاشرکت غیرے اس میں حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو رات اور دن کے یہ دونوں ہی سلسلے جو تمہاری معیشت و معاشرت اور تمہارے سکون وراحت کے لیے از بس ضروری ہیں اسی قادرمطلق کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور حمت و عنایت شاملہ کا نتیجہ وثمرہ ہیں۔ اور سورج و چاند کے یہ دونوں عظیم الشان کرے تمہارے خادم ہیں۔ سو کس قدر بہکے بھٹکے اور عقل کے دشمن اور مت کے مارے ہیں وہ لوگ جو اپنے خالق ومالک حقیقی سے منہ موڑ کر سورج، چاند جیسے اپنے ان ہی خادموں کی پوجا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 36 تسخیر شمس و قمر کا مطلب اور اس کا تقاضا ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند ۔ کے ان عظیم الشان کروں ۔ کو "۔ جو نہایت پابندی کے ساتھ آتے جاتے اور تمہارے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ کبھی خراب ہوں نہ کام سے رکیں نہ اصلاح و مرمت کی کبھی ضرورت پڑے۔ اور یہی مطلب ہے ان کی تسخیر کا کہ اللہ پاک نے اپنے ارادئہ وقدرت اور حکمت و عنایت سے ان کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ مطلب نہیں جو آج کا برخود غلط انسان لیتا ہے کہ ہم نے چاند کو مسخر کرلیا کہ اس پر آدمی اتار دیا۔ کیونکہ تسخیر کے معنیٰ یہ ہوتے ہیں کسی چیز کو کسی کے ارادے کے تابع کردیا جائے۔ تو کیا یہ انسان ضعیف البنیان اس کا دعویٰ کرسکتا ہے کہ چاند اس کے ارادے کے تابع ہوگیا ہے ؟ کیا یہ چاند کی رفتار اور اس کے نظام میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے ؟ اس مسکین کی حیثیت تو اس مکھی و مچھر کی سی ہے جو کسی ہاتھی کی پیٹھ پر بیٹھ کر کہے کہ میں نے اس کو مسخر کرلیا ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تو اس سے بھی کمزور اور گئی گزری ہے کہ وہ تو ہاتھی کی پیٹھ پر جب چاہے آسانی سے بیٹھ سکتا ہے اور بغیر کسی خارجی چیز کی ضرورت اور مدد کے۔ اور جب چاہے، جیسے چاہے، جہاں چاہے بیٹھ سکتا ہے۔ اکیلا بیٹھے یا اپنی برادری کے کسی گروہ اور لشکر کے ساتھ بیٹھے۔ جبکہ انسان ان میں سے کسی چیز پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔ تو پھر یہ قاصر الفہم اور کوتاہ دست انسان کس طرح اور کس منہ سے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ہم نے چاند کو مسخر کرلیا ؟ سو سورج اور چاند کے یہ عظیم الشان کرے دراصل تمہارے خادم ہیں اے لوگو جنکو تمہارے خالق ومالک نے اس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جس کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ اس کے حق شکر میں اپنے اس خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھک جھک جاتے اور اسی وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی سے سرشار ہوجاتے۔ مگر تم ہو کہ غفلت میں پڑے ہو۔ اور کتنے ہی عقل کے اوندھے اور مت کے مارے ایسے ہیں جو الٹا اپنے انہی خادموں کی پوجا کرتے اور ذلت پر ذلت اٹھاتے ہیں۔ اور اس طرح یہ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں ڈال رہے ہیں اور ان کو اس کا احساس بھی نہیں کہ یہ کس ہاویے میں گرتے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 37 رب کی معرفت اس کی کائنات میں غور و فکر کے ذریعے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رب کی معرفت سے سرشاری کا ایک اہم طریقہ اس کی کائنات میں غور و فکر ہے۔ اور غور وفکر بھی صحیح طریقے سے اور صحیح خطوط پر۔ سو اوپر کے دلائل اور ساری بحث کا خلاصہ اور نتیجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے اللہ، رب تم سب کا ۔ اے دنیا جہاں کے انسانو !۔۔ یعنی جس کی یہ اور یہ صفات ہیں وہی اللہ خالق ومالک برحق ہے۔ تو پھر تم لوگ اس کے سوا اوروں کو کیوں پوجتے پکارتے ہو ؟ کیا ان میں سے کسی میں بھی ایسی کوئی صفت تم دکھا سکتے ہو ؟ جب نہیں اور یقینا و ہرگز نہیں تو پھر ان کو معبود بنانے کا آخر کیا جواز ہوسکتا ہے ؟ سو معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور بس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ رب کی معرفت سے سرشاری و سرفرازی کا اصل اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کی اس عظیم الشان کائنات اور گونا گوں مخلوق میں غور و فکر سے کام لیکر اس کو پہچانا جائے۔ اور یہی مقصود ہوتا ہے کائنات میں غور و فکر سے کام لینے کا کہ اس سے انسان اس کائنات کے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے۔ تاکہ اس طرح اس کی زندگی صحیح راہ پر آسکے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ ہے اللہ رب تم سب کا اے لوگو یعنی جس کی شانوں، حکمتوں اور قدرتوں کے یہ عظیم الشان نمونے اور مظاہر تم لوگ اس کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے دیکھتے ہو ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو مخلوق میں غور و فکر سے خالق کی معرفت سے سرفرازی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ یہ معرفت خداوندی کا پہلا مرحلہ ہے۔ یعنی یہ کہ خدا وہ ہے جس نے ایسی اور ایسی حکمتوں بھری کائنات پیدا فرمائی لیکن اس سے آگے بڑھ کر دوسرا مرحلہ اس کا یہ ہے کہ وہ خدا کیسا ہے ؟۔ اس کی صفات کیا ہیں ؟ اور اس کے حقوق و اختیارات کیا ہیں ؟ وہ راضی کس سے ہوتا ہے اور ناراض کس سے ؟۔ اس کی عبادت اور اس کے حقوق بندگی کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسے تمام سوالات کا جواب وحی خداوندی ہی سے مل سکتا ہے کہ یہ مرحلہ عقل و فہم سے بالا ہے۔ سو اس کو ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔ 38 بادشاہی اور حکمرانی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کیلئے ہے بادشاہی "۔ یعنی حقیقی اور دائمی بادشاہی۔ کامل و مکمل اور زمین و آسمان کی اس پوری کائنات کی بادشاہی۔ اسی کے لئے اور صرف اسی وحدہ لاشریک کے لئے ہے۔ سو جب خالق ومالک بھی وہی ہے متصرف و کار ساز بھی وہی بادشاہ حقیقی بھی وہی۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ ٔ قدرت و اختیار میں ہے۔ تو پھر اس کے سوا حاجت روا و مشکل کشا اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کی اس حکومت و بادشاہی میں مافوق الاسباب طور پر دوسری طرح طرح کی ایسی فرضی اور وہمی " سرکاریں " بناتے ہیں جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس سوائے اوہام و خرافات کے مختلف پلندوں کے۔ اور انہوں نے " کانواں والی سرکار "، " بلیوں والی سرکار " اور " کمبل والی سرکار " وغیرہ مختلف ناموں سے طرح طرح کی ایسی خودساختہ " سرکاریں " گھڑ رکھی ہیں جہاں طرح طرح کی شرکیات کا بازار گرم ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے اللہ جو رب ہے تم سب کا اور اسی کی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس کے سوا جن کو تم لوگ پکارتے ہو وہ ذرہ برابر کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ 39 { مِنْ دُوْنہ } سے مراد ؟ اور بعض اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کو تم لوگ اس کے سوا پوجتے پکارتے ہو وہ ذرہ برابر کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے "۔ خواہ وہ کوئی لکڑی پتھر کا بت ہو یا کوئی خود ساختہ قبر و آستانہ اور خواہ کوئی جن و فرشتہ ہو یا کوئی زندہ یا فوت شدہ انسان۔ غرضیکہ جس کسی کو بھی خدائی اختیارات کا حامل قرار دے کر مافوق الاسباب طور پر پوجا پکارا جائے وہ اس میں داخل ہے کہ { من دونہ } ۔ اس کے سوا ۔ کا عموم ان سب کو شامل و محیط ہے۔ اور جمہور علماء و مفسرین کرام بھی یہی فرماتے ہیں۔ چناچہ چند حوالے ملاحظہ ہوں ۔ " مِنْ مَّلَکٍ اَوْ صَنَمٍ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 188) ۔ " کَالْمَلٓئِکَۃِ وَ الْجِنِّ وَ الاَنْبِیَائِ وَالشَّیَاطِیْنِ " ۔ (القرطبی : ج 13 ص 336) ۔ " وَہُمُ الاَصْنَام وَغَیْرُہَا وَکُلُّ شَیْئٍ دُوْنَہ التیھی علی صورۃ من تزعمون من الملئکۃ المقربین وغیرھم " ۔ (ابن کثیر) ۔ " وھم الملئکۃ والجن و الشیاطین " ۔ (فتح القدیر) پس اہل بدعت کا یہ کہنا کہ { مِنُ دُوْنِہ } سے مراد صرف بےجان بت ہیں، باطل و مردود ہے۔ اور اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کا زمانہ تھا۔ بتاؤ کون صحابی نبیوں ولیوں کو پکارتے تھے اور مشرک تھے۔ کیونکہ { تدعون } حال ہے۔ تمہاری تفسیر پر تمام صحابہ مشرک ہوئے ۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ ۔ دیکھا شرک و بدعت کی نحوست سے کس طرح انسان کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اچھا تم یہ بتادو کہ کون صحابی ایسے تھے جو بتوں کو پکارتے تھے۔ کیونکہ بتوں کو تو تم بھی اس کا مصداق مانتے ہو۔ کیا حضرات صحابہ کرام ؓ میں سے کسی کے لئے اس طرح کا کوئی تصور بھی کیا جاسکتا ہے ؟۔ فَمَاہُوَ جَوَابُکُمْ فَہُوَ جَوَابُنَا ۔ حالانکہ یہاں خطاب صحابہ کرام سے نہیں کہ وہ ایسے قدسی صفت اور پاکیزہ انسان تھے کہ ان کے بارے میں ایسا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ان کے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو پکارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہاں پر خطاب مشرکوں سے ہے خواہ وہ اس وقت کے ہوں یا آج کے ہوں۔ یا اس کے بھی بعد کے ہوں۔ کیونکہ قرآن پاک قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے ہے۔ نہ کہ کسی خاص دور اور خاص طبقہ کے لئے۔ بلکہ اس کی ہدایت و راہنمائی قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کے لئے ہے۔ پس یہ ارشاد ربانی عام اور سب لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ لوگ لکڑی پتھر کے بتوں کو پوجتے پکارتے ہوں یا کسی جن و انسان اور فرشتہ کو یا کسی اور چیز کو جیسا کہ جمہور مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے جس سے متعلق چند حوالے ابھی اوپر بھی گزر چکے ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ مشرکین بھی ہر ایرے غیرے پتھر وغیرہ کو نہ تب پوجتے تھے اور نہ اب پوجتے ہیں۔ بلکہ وہ انہی خاص قسم کے پتھروں کی پوجا کرتے تھے اور کرتے ہیں جن کو وہ اپنے زعم میں کسی نبی ولی وغیرہ کی شکل پر بناتے ہیں۔ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس بزرگ یا نبی اور ولی کا اس پتھر سے خاص تعلق ہوگیا ہے اور اس کی روح اس کے اندر آگئی ہے۔ وہ اس میں حلول کرگئی ہے۔ اور یہ اب اس کا مظہر بن گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ 40 معبودان من دون اللہ کی بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کو تم لوگ اللہ کے سوا پوجتے پکارتے ہو وہ قطمیر کے بھی مالک نہیں "۔ " قطمیر " کہتے ہیں اس باریک قسم کے چھلکے کو جو کہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔ محاورے میں اس کو کسی شی کی تقلیل اور تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ " ہو لفافۃ النُّواۃ ویضرب بہ المثل فی القلۃ و الحقارۃ " ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص 46) ۔ " وہو مثل یضرب بہ فی القلۃ و الحقارۃ " ۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 570) ۔ سو مطلب یہ ہوا کہ جن کو تم لوگ اللہ کے سوا پوجتے پکارتے ہو اے مشرکو وہ ذرہ برابر کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ نہ اس دنیا کی تخلیق وتکوین میں اور نہ اس کی بقا و تدبیر میں۔ تو پھر ایسی عاجز اور بےبس چیزوں کو اس خالق کل اور مالک مطلق کا شریک وسہیم قرار دینا اور انکو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجنا پکارنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی حماقت اور زیادتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ وحدہ لا شریک کے سوا جس کسی مخلوق کو بھی ما فوق الاسباب اور غائبانہ طور پر پوجا پکارا جائے گا وہ سب اس میں داخل ہے۔ اور سب شرک اور ممنوع ہے۔ اور اس کے لیے نہ کوئی دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے کہ اس وحدہ لا شریک کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ تو پھر اس کے لیے کسی دلیل کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہُ بِہ فَاِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ } ۔ (المؤمنون : 117) ۔ بہرکیف اس سے معبودان باطلہ کی بےبسی کی تصویر پیش فرما دی گئی ہے تاکہ مشرکوں کی آنکھیں کھل سکیں اور وہ شرک سے باز آسکیں۔ مگر جن کی مت مار دی گئی ہو ان کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال -
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ صاف طور پر انکار کردیں گے تمہارے اس شرک کا اور تم کو کوئی خبر نہیں دے سکے گا (حق اور حقیقت کے بارے میں) ایک انتہائی باخبر ہستی کی طرح

41 معبودان من دون اللہ کسی کی پکار نہیں سن سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم انکو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے " کہ وہ جَمَادِ لا یعقل ہیں جیسے بت۔ یا وہ ایسی ہستیاں ہیں کہ فوق الاسباب طریقے سے مدد کرنا ان کے بس میں ہی نہیں۔ جیسے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور اولیائے کرام اور بزرگان دین ۔ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَانُ ۔ اسی لئے ایسے تمام حضرات زندگی بھر اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کی عبادت و بندگی کرتے رہے۔ اور خلق خدا کو بھی اسی کی تعلیم و تلقین کرتے رہے کہ مانگو اسی ایک اللہ سے کہ سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " اذا سالت فاسال اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ " ۔ یعنی " جب تم کو سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو اور جب مدد مانگنی ہو تو اللہ ہی سے مانگو "۔ سو مشرک لوگ جن کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے پکارتے ہیں یا تو انکا کوئی وجود ہی نہیں بلکہ وہ محض فرضی اور وہمی چیزوں کو مختلف خودساختہ اور من گھڑت ناموں سے پکارتے ہیں یا ان ملائکہ اور انبیاء کو جو صاف اور صریح لفظوں میں ان سے براءت اور بیزاری کا اعلان کردیں گے یا ان شیاطین اور اشرار کو جو ان سے کہیں گے کہ تم نے ہماری پوجا کیوں کی تھی۔ اب اپنے کیے کا انجام خود بھگتو۔ سو جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے پکارتے ہیں وہ سراسر بےبنیاد چیزوں کو پکارتے ہیں۔ اور جن کے معبود ہی بےبنیاد ہوں گے وہ خود کیا ہوں گے ؟- { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ } ۔ سو شرک اور مشرکین کی کوئی اساس و بنیاد نہ ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 42 معبودان من دون اللہ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں : سو ان کی بےبسی اور بےحقیقتی کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو تمہاری پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے "۔ یعنی اگر بالفرض سن بھی لیں تو اسے قبول کرنا اور اسکا جواب دینا ان کے بس میں نہیں۔ بتوں میں تو سرے سے اس کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں اور انبیاء و اولیائے کرام وغیرہ مافوق الاسباب طریقے سے سننے اور قبول کرنے سے عاجز ہیں کہ یہ اللہ پاک کی خصوصیت اور اسی کی صفت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ معبودان من دون اللہ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ سو ایسے میں جو لوگ غیر اللہ کی پوجا پاٹ کرتے اور اس ذلت کو اپناتے اور اختیار کرتے ہیں وہ کتنے بدبخت اور کس قدر محروم اور ذلیل ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 43 قیامت کے روز مشرکوں کی تذلیل کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ معبودان من دون اللہ قیامت کے روز مشرکوں کے شرک کا صاف اور صریح طور پر انکار کردیں گے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے "۔ کہ نہ تو ہم نے ان سے ایسا کرنے کو کہا تھا اور نہ ہی ہمیں اس کا کوئی پتہ تھا کہ انہوں نے ہمارے انتقال کے بعد ہمارے پیچھے کیا کیا۔ اور نہ ہم کبھی اس سے خوش ہوسکتے تھے ۔ { مَاکَانُوْا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ } ۔ سو اس طرح وہ سب کے سامنے اور اعلانیہ طور پر تم کو جھٹلا دیں گے اے مشرکو۔ سو تم سوچ لو کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا اور تم پر کیا گزرے گی ؟ بلکہ اس روز وہ انکے دشمن بن جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی ۔ { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَائًا وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کَافِرِیْنَ } ۔ (الاحقاف : 6) نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰئِکَۃِ اَہٰوُلاَئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ قَالُوا سُبْحَانَکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْ بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَکْثَرُہُمْ بِہِمْ مُوْمِنُوْنَ } ۔ (سبا : 41-40) ۔ سو اس سے قیامت کے روز مشرکین کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور نمونہ اور مظہر سامنے آتا ہے کہ اپنے جن خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کی پوجا پاٹ میں انہوں نے اپنی زندگی صرف کردی تھی اور جن کو یہ اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتے تھے اور جن کا ان کو بڑا ناز اور گھمنڈ تھا کہ یہ مشکل وقت میں ہمیں کام آئیں گے اور ہماری بگڑی بنادیں گے وہ اس روز سرے سے ان کی اس پوجا پاٹ ہی کا انکار کردیں گے اور صاف وصریح طور پر ان سے اعلان بیزاری کردیں گے۔ 44 بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کو ایک تنبیہ : سو بےقدرے اور نا شکرے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور تم کو کوئی خبر نہیں دے سکے گا ایک انتہائی باخبر ہستی کی طرح "۔ اور وہ ذات اقدس و اعلیٰ ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی حضرت حق ۔ جل مجدہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو کہ اپنی ہر مخلوق کی اصل اور حقیقت سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، فتح القدیر اور جامع البیان وغیرہ) ۔ پس تم لوگ ان باتوں کو اچھی طرح سن کر پلے باندھ لو کیونکہ غیب کے پردوں میں کیا ہے اور کل کیا کچھ ہونے والا ہے اس کو ایک حقیقی باخبر یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ سو تمہاری بڑی ہی بدقسمتی ہوگی اگر تم نے اس کی قدر نہ کی اور تم اپنی آرزؤوں ہی میں پھنسے رہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 35:15–16

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگوں تم سب محتاج ہو اللہ کے اور اللہ ہی ہے جو ہر طرح سے بےنیاز ہر تعریف کا حق دار ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ اگر چاہے تو لے جائے تم سب کو اور لا بسائے تمہاری جگہ کسی اور نئی مخلوق کو

45 سب اللہ تعالیٰ ہی کی محتاج ہیں : سو اس ارشاد میں غافل اور ناشکرے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا اور ایسے غافل اور نا شکرے لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " لوگو ! تم سب محتاج ہو اللہ کے اور اللہ ہی ہے جو ہر طرح سے اور ہر کسی سے غنی و بےنیاز اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ سو تم سب لوگ محتاج ہو اللہ کے۔ اپنے وجود میں، اپنی بقا میں اور اپنی ہر ضرورت و حاجت کی تحصیل و تکمیل میں۔ تم سب ہر وقت اور ہر اعتبار سے اس کے محتاج ہو کہ سب کا اور ہر طرح سے حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ تم سے ہمیشہ اور ہر لحاظ و اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے۔ اور اللہ کے رسول جو تمہیں اللہ کی طرف بلانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تو اس لیے نہیں کہ تمہارے ایمان نہ لانے سے اللہ کا کوئی کام رکا ہوا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نہیں بلکہ یہ سب کچھ محض اس لیے ہے کہ اس سے خود تمہارا بھلا ہو اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔
Ayah 35:17

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور ایسا کرنا اللہ کے لئے کچھ بھی دشوار نہیں2

46 نعمت امہال کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ کیلئے تمہاری جگہ کسی نئی مخلوق کو لا بسانا کچھ مشکل نہیں "۔ کہ وہ قادر مطلق ہے جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ سو تمہارے نزدیک تو شاید یہ بڑی مشکل اور ایک انہونی سی بات ہو مگر اللہ پاک کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ قادر مطلق ہے جو چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اس کی شان قدرت تو یہ ہے کہ جب اس کو کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو اس کیلئے صرف اس کے حکم اور اشارہ کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ وہ جو تم لوگوں کو تمہاری بےقدری اور نا شکری کے باوجود ڈھیل اور مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے تو محض اپنی شان کرم اور حمت و عنایت کی بنا پر دیے جا رہا ہے۔ سو تمہارے لیے بہتری اور بھلا اسی میں ہے کہ تم اس کی اس رحمت و عنایت کی قدر کر کے صدق دل سے اس کے آگے جھک جاؤ۔ ورنہ یاد رکھو کہ نہ تم اللہ کا کچھ بگاڑوگے اور نہ اس کے رسول کا بلکہ خود اپنی ہی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرو گے اور ایسی ہولناک تباہی کا کہ اس سے تم پھر کبھی نکل نہیں سکو گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 35:18–19

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی (گناہ کا) بوجھ لدا ہوا شخص اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے کسی کو پکارے گا بھی تب بھی اس کے بوجھ کا کچھ بھی حصہ اٹھانے کیلئے کوئی تیار نہ ہوگا اگرچہ وہ اس کا کوئی (قریبی) رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو آپ کے خبردار کرنے کا اثر تو انہی لوگوں پر ہوسکتا ہے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کوئی پاکی اختیار کرے گا تو وہ اپنے ہی لئے کرے گا اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے (سب کو)

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور آپس میں برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور آنکھوں والا

47 قیامت کے روز کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا "۔ پس کبھی تم لوگ اس طرح کی کسی غلط فہمی میں نہ رہنا کہ ہم نے فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ ہمارا بوجھ وہ خود اٹھا لیں گے۔ اور اس طرح ہمارا کام یونہی بن جائے گا وغیرہ کہ اس طرح کی ہر غلطی تمہیں بڑی ہولناک ہلاکت اور تباہی میں ڈال دے گی ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو یہ تو ہوسکتا ہے۔ ہونا چاہیئے اور ہوگا کہ دوسروں کو گمراہ کرنے والوں کو دوہرا عذاب دیا جائے۔ ایک ضلال کا اور دوسرا اضلال کا۔ یعنی ایک گمراہ ہونے کا اور دوسرا گمراہ کرنے کا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِہِمْ } ۔ (العنکبوت : 13) مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی دوسروں کے گناہ اپنے سر لے کر ان کو اس طرح فارغ کر دے کہ ان کی کوئی پوچھ ہی نہ ہو۔ سو ایسا ہرگز نہ ہوگا بلکہ ہر کسی کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہوگا۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے اور سوچ لے کہ وہ اس دن کیلئے کیا تیاری کر رہا ہے اور اس یوم حساب میں اپنے لیے کس نتیجہ و انجام کی توقع اور امید رکھتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 48 قیامت کے روز کوئی رشتہ دار بھی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کوئی بوجھ لدا ہوا نسان کسی کو اپنے بوجھ کی طرف پکارے گا تو بھی وہ اس کے بوجھ میں سے کچھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوگا اگرچہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو "۔ یعنی خود اٹھانا تو درکنار کسی قریبی سے قریبی شخص کے بلانے پر بھی وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی ۔ { لِکُلِّ امْرِئْ مِنْہُمْ یَوَمَئِذٍ شَأْنٌ یُغْنِیْہِ } ۔ نیز اس لیے کہ جس کو وہ اپنی مدد کیلئے پکارے گا اگر وہ کوئی نیک شخص ہوگا تو وہ اس لیے اس کا کوئی ہاتھ نہیں بٹائے گا کہ وہ جب دنیا میں اس کے گناہوں میں اسکا ساتھی نہیں تھا تو آخرت میں اسکا ساتھی کیوں بنے گا۔ اور اگر وہ کوئی برا شخص ہوگا تو وہ اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے اس طرح دبا ہوا ہوگا کہ کسی دوسرے کے بوجھ میں سے کچھ اٹھانے کیلئے اس کے پاس کوئی گنجائش ہی نہیں ہوگی۔ سو اس ہولناک دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اگرچہ وہ اسکا قریبی ہی کیوں نہ ہو بلکہ ہر کسی کو اس کا اپنا ایمان وعمل ہی کام آسکے گا ۔ وباللہ التوفیق - 49 پیغام حق سے فیضیابی کے لیے چند بنیادی شرائط و خصال کا ذکر وبیان : سو اسی سے پیغمبر کے انذار و تبلیغ سے فیضیاب ہونے والوں کی صفات و خصال اور اس امر سے متعلق چند ضروری شرائط کو ذکر اور بیان فرما دیا گیا۔ پس پیغمبر کے انذار اور آپکی دعوت و تبلیغ سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوں گے جن کے اندر یہ اور یہ صفات پائی جائینگی کہ وہ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہوں اور نماز قائم کرتے ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی عقل و فکر، سمع و بصر اور قلب و نظر کی صلاحیتوں سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں اور پیغام حق و ہدایت کو قبول کرکے اپنے باطن کو نور ایمان و یقین سے منور و معمور کرتے ہیں۔ ورنہ لوگ ایسے اندھے، بہرے اور اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں کہ حق کی بات کو سمجھنے اور قبول کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اوندھے منہ جاکر ہاویہ میں گرتے ہیں تو ان کے لیے پیغام حق سے کوئی فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی میں پیغمبر کیلئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی حق کیلئے سامان تسکین وتسلیہ ہے کہ اگر ایسے اوندھے اور اندھے لوگ حق بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو اس میں قصور آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے اپنے زیغ طبع اور کجی فطرت کا ہے۔ پس اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ ﷺ نہ تو ان کیلئے پریشان ہوں اور نہ ہی زیادہ انکے پیچھے پڑیں۔ انکو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ یہ اپنا بھگتان خود بھگت لیں گے اور پوری طرح بھگتیں گے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ آپ کا کام تو پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس کے بعد آپ فارغ الذمہ۔ 50 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے سب کو "۔ تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا سکے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ پس ہر کوئی دیکھ اور سوچ لے کہ وہ وہاں کیلئے کیا سامان کررہا ہے۔ سو جھوٹے سہاروں پر اعتماد کرنے کی بجائے ہر کوئی نماز قائم کرنے اور اپنے باطن کو پاک کرنے کی فکر و کوشش کرے۔ سو جو کوئی ایسا کرے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی اور بےنیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس خالق ومالک کے یہاں کامیابی اور سرفرازی کے حصول کے لیے ظاہری طہارت سے پہلے باطن کی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ اور باطن کی پاکیزگی کا ذریعہ نماز ہے۔ پس جو کوئی گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش اور پاکیزہ ہونا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ جھوٹے سہاروں پر اعتماد کرنے کی بجائے نماز کا اہتمام کرے کہ اس سے خود اسی کا بھلا ہوگا اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت و بندگی اور اطاعت کا محتاج نہیں۔ وہ احتیاج کے تمام شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ ہی اندھیرے اور روشنی

52 ایمان نور ہے اور کفر و شرک اندھیرا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی اندھیرے اور روشنی باہم برابر ہوسکتے ہیں "۔ اور جب اندھیرے اور روشنی برابر نہیں ہوسکتے تو پھر ایمان و توحید کی روشنی اور کفر و شرک کی اندھیریاں کیونکر باہم برابر ہوسکتی ہیں ؟ یہاں پر نور کو مفرد لایا گیا کہ حق ایک ہی ہے اور ظلمات کو جمع کہ اندھیرے بہت، مختلف اور طرح طرح کے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو یہ درس عظیم پایا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ رکھا ہے انہوں نے اپنی آنکھوں کو پھوڑ دیا اور اپنی صلاحیتوں کو برباد کردیا ہے۔ تو ایسوں کے دلوں میں نور حق و ہدایت اترے تو کیونکر ؟ ایسے اندھوں بہروں کو سنانا اور ان سے حق کو منوا لینا آپ ﷺ کے بس میں نہیں اے پیغمبر۔ خاص کر جب وہ پیٹھ دے کر پھرجائیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدَّعَائَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ } ۔ (النمل : 82-81) اور دوسری بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت کے یوم حساب کا آنا لازمی ہے تاکہ وہاں پر اہل ایمان اور اہل کفر و طغیان کے درمیان ایک آخری اور عملی فیصلہ ہوسکے۔ ورنہ دنیا میں تو یہ دونوں ہی فریق رہتے بستے ہیں۔ سو آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے اسی یوم جزا میں ہوگا جس میں کھرا کھوٹا سب نکھر کر سامنے آجائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ ہی سایہ اور دھوپ کی تپش

53 ایمان و یقین راحت بخش سایہ اور کفر و شرک دھوپ کی تپش : سو ارشاد فرمایا " اور نہ ہی سایہ اور دھوپ کی تپش باہم برابر ہوسکتے ہیں "۔ سو اسی طرح ایمان و توحید کا سایہ رحمت اور کفر و شرک کی جھلساتی لو بھی آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ پس قیامت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو سکے۔ اور ہر ایک کا نتیجہ و انجام عملاً اور آخری طور پر واضح ہوجائے۔ اور ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا صلہ اور بدلہ پا سکے۔ سو اس کے مطابق ایمان اور تقویٰ کی دولت رکھنے والے جنت کی سدابہار نعمتوں اور اس کے ظلِّ ظلیل میں ہوں گے اور کفر و شرک کے اندھیروں والے دوزخ کی نار شدید اور دور حجیم میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایمان و یقین کی دولت سے سرشار و سرفراز اور کفر و شرک کے علمبرداروں کے انجام کو بیان فرما دیا گیا ہے تاکہ ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے۔
Ayahs 35:22–23

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ ہی برابر ہوسکتے ہیں زندے اور مردے بلاشبہ اللہ سناتا ہے جسے چاہتا ہے اور آپ (اے پیغمبر ! ) ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (پڑے) ہیں1

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ کا کام تو بس خبردار کردینا ہے (برے انجام سے)

54 مومن زندہ اور کافر و مشرک مردہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی زندے اور مردے آپس میں برابر ہوسکتے ہیں "۔ یہ اس تمثیل و توضیح میں مزید ترقی ہے کہ یہ لوگ صرف اندھوں ہی کی طرح نہیں بلکہ یہ تو مردے ہیں۔ کیونکہ اندھوں میں تو ان کے اندھے پن کے باوجود افادہ و استفادہ کی قوت و صلاحیت موجود ہوتی ہے بخلاف مردوں کے کہ ان میں کسی افادہ و استفادہ کی کوئی صلاحیت ہی سرے سے نہیں ہوتی۔ پس یہ کفار و مشرکین دراصل مردہ ہیں۔ ان کے ضمیر مرچکے ہیں اور ان کے سینے ان کے ان مردہ ضمیروں کے لئے مدفن اور قبرستان بن چکے ہیں۔ پس نہ تو ان سے خیر کی کوئی توقع رکھو اور نہ ان کے سلوک و کردار سے دل گرفتہ ہوؤ کہ یہ اگرچہ اپنی دو ٹانگوں پر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ مردے ہیں کہ ان کے اندر احساس و شعور اور علم و ادراک کے قویٰ مرچکے ہیں جس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے نفع و نقصان اور نتیجہ و انجام کے فہم و ادراک اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کی اہلیت اور صلاحیت ہی سے محروم ہوگئے۔ اور محض چلتے پھرتے مردے بن کر رہ گئے بلکہ ان کا حال قبروں میں پڑے مردوں سے بھی کہیں بدتر ہے کیونکہ قبروں میں پڑے ہوئے مردے اگرچہ افادہ واستفادہ کی اہلیت سے محروم ہیں لیکن وہ نہ کسی کو دکھ دیتے ہیں اور نہ کسی کا کچھ نقصان کرتے ہیں۔ جبکہ زندوں کی شکل میں چلنے پھرنے والے یہ مردے دنیا جہاں کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں۔ یہ دنیا کو نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کی سعی نامراد میں مشغول ہیں اور حق والوں پر طرح طرح کی مظالم ڈھاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جعل اللہ کیدہم فی نحورہم واعاذ الاسلام والمسلمین من شرورہم وہو علی کل شیء قدیر ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 55 مردوں کو سنانا پیغمبر کا کام نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور آپ ۔ اے پیغمبر !۔ انکو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں "۔ یعنی ان ہٹ دھرم کفار و مشرکین کا حال تو ان مردوں کا سا ہے جو قبروں میں پڑے ہیں۔ جیسے آپ ﷺ ان قبروں کے مردوں کو نہیں سنا سکتے اسی طرح ان ضمیر کے مردوں کو سنانا بھی آپ ﷺ کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ ہاں اللہ پاک جس کو سنانا چاہے سنا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی شان ہے ۔ { عَلیٰ کُلِّ شَیئِ قَدِیر } ۔ " اس کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے "۔ معلوم ہوا کہ مردے نہیں سنتے ورنہ اس تشبیہ کا کوئی معنیٰ ہی نہیں رہے گا۔ باقی جہاں جہاں روایات میں مردوں کے سننے کا ذکر پایا جاتا ہے وہ بتقدیر صحت اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت و مشیت پر محمول ہے۔ وہ جس کو چاہے اور جب اور جیسے چاہے سنائے۔ وہ سب ۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآئُ } ۔ میں داخل ہے۔ اس پر آگے قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل اور سورة روم جہاں اسی طرح کی آیات کریمہ کے تحت اس مسئلے پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف اگر مردے سنتے ہوں تو پھر ان مشرکوں کو مردوں سے اور قبروں میں پڑے ہوئے مردوں سے تشبیہ کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہ جاتا۔ اس لیے حضرات مفسرین کرام اس کو اس طرح بیان فرماتے ہیں ۔ " ای لا تسمع من مات فکذلک لا تسمع من مات قلبہ " ۔ (القرطبی : ج 14 صفحہ 340) ۔ " شبہ الکفار بالموتی حیث لا ینتفعون بمسموعہم " ۔ (مدارک التنزیل : جلد 3 صفحہ 1423 طبع دار القلم بیروت ) ۔ یعنی جس طرح مردوں کو سنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کفر و شرک کے مارے ان چلتے پھرتے مردوں کو سنانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، تفسیر ابن الجوزی، المراغی، الفتح اور الجامع وغیرہ) ۔ سو مردوں کو سنانا اور حق کی بات ان کے دلوں تک پہنچادینا پیغمبر کا کام نہیں۔
Ayahs 35:24–25

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر (سب لوگوں کے لئے) حق کے ساتھ اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نہ کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کریں تو (یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں کہ) ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں (حق اور حقیقت کو) ان کے پاس بھی ان کے رسول آئے کھلے دلائل صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لے کر2

56 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ کو بھیجا خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر " یعنی حق کو منوانا اور اس کے قبول پر مجبور کرنا نہ تو آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے۔ آپ ﷺ کا کام تو حق کو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ اور ماننے والوں کو خوشخبری سنا دینا اور نہ ماننے والوں کو خبردار کردینا ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ مختار کل تو اللہ پاک ہی کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ پیغمبر کا کام ہے ابلاغ و تبلیغ اور انذاز وتبشیر اور بس ۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلّا الْبَلاغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں پیغمبر کی ذمہ داری کی حدود کو واضح فرما دیا گیا تاکہ منکرین کے انکار وعناد سے پیغمبر کو رنج وغم اور دکھ وصدمہ نہ ہو کہ آپ کا کام منوانا نہیں، پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ 57 ہر امت میں کوئی نہ کوئی نذیر ہوا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نہ کوئی نذیر۔ خبردار کرنے والا ۔ نہ گزرا ہو "۔ خواہ وہ براہ راست کوئی نبی و رسول ہو یا کسی نبی و رسول کے پیغام کو پہنچانے والا۔ بہرکیف بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ہر امت کو حق کا پیغام ضرور پہنچایا گیا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں خبر نہ تھی۔ اس لئے کہ ہمارا دستور یہی رہا ہے کہ ہم پیغام پہنچائے بغیر کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے ۔ { وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً } ۔ سو آپ ﷺ اے پیغمبر کوئی نئے رسول اور انوکھے نذیر نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ سے پہلے بھی ہر امت میں کوئی نہ کوئی نذیر ہو گزرا ہے۔ اور آج آپ ﷺ کی قوم جو کچھ آپ ﷺ کے ساتھ کرتی ہے وہ بھی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ پہلے سے ہوتا آیا ہے۔ سو گزشتہ انبیاء و رسل کی سرگزشتوں میں آپ ﷺ کیلئے بھی سامان تسکین وتسلیہ ہے اور آپ ﷺ کی قوم کیلئے بھی درس عبرت۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کا رب وہی معاملہ فرمائے گا جو اس نے اپنے گزشتہ انبیاء و رسل کے ساتھ فرمایا اور آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ بھی وہی کچھ کرے گا جو اس نے گزشتہ قوموں کے ساتھ کیا کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

مگر ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا پھر آخرکار میں نے پکڑا ان لوگوں کو جو اڑے رہے تھے اپنے کفر (و باطل) پر سو دیکھو کیسا تھا میرا عذاب

59 کفر و انکار کا نتیجہ وانجام ہولناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار میں نے پکڑا کافروں کو، سو دیکھو کیسا تھا میرا عذاب ؟ "۔ کہ ان سب کو نیست و نابود کرکے اور قصہ پارینہ بنا کر رکھ دیا۔ سو کہاں ہیں اب عاد وثمود وغیرہ کی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی متمدن قومیں جن کو اپنے ڈیل ڈول، قدوقامت، فکر و دانش اور تعمیر و ترقی پر بڑا ناز تھا۔ کہاں گئی وہ قوم لوط، قوم شعیب اور قوم سباء وغیرہ جن کے بڑے چرچے تھے۔ اب قصے کہانیوں کے سوا ان کا کوئی وجود تک نہیں ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃٌ } ۔ سو کفر و انکار اور تکذیبِ حق کا انجام بہت برا اور بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے۔ اس ضمن میں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ایسے منکروں کو جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ایسی ڈھیل اس وحدہ لاشریک کی طرف سے اس کی رحمت و عنایت کی بنا پر اور اس لیے ہوتی ہے کہ ایسے لوگ اپنی روش کی اصلاح کرلیں۔ نہیں تو آخرکار انکا انجام بھی وہی ہونا ہے جو اس سے پہلے کی منکر اور معاند قوموں کا ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار کا جرم بڑا سنگین جرم ہے اور اس کا نتیجہ وانجام بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ (کس طرح) اتارتا ہے آسمان سے پانی پھر اس کے ذریعے ہم نکالتے ہیں طرح طرح کے پھل (اور قسما قسم کی پیداواریں) جنکے مختلف رنگ ہوتے ہیں اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ پھر ان میں بھی مختلف رنگوں والے اور بالکل سیاہ کالے (بھجنگے) بھی

60 پانی سے زمین کی زندگی اور اس میں سامان عبرت و بصیرت : سو اس بارے دعوت غور و فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم دیکھتے اور غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس پانی کے ذریعے ہم نکالتے ہیں طرح طرح کے پھل ۔ اور قسما قسم کی پیداواریں ۔ جن کے مختلف رنگ ہوتے ہیں "۔ جیسے انار، سیب، آم، انگور وغیرہ وغیرہ طرح طرح کے بیشمار پھل اور ان کی ان گنت رنگتیں اور طرح طرح کے ذائقے اور فائدے اور قسما قسم کے غلے اور دوسری پیداواریں۔ سو یہ سب چیزیں اور عظیم الشان نعمتیں ایک طرف تو اس قادر مطلق کی لامتناہی قدرت و عظمت اور اپنی مخلوق پر اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کی نشانیاں ہونے کی وجہ سے اس کی وحدانیت کا درس دیتی ہیں اور دوسری طرف بیش بہا نعمتیں ہونے کی وجہ سے یہ اس وحدہ لاشریک کے حقیقی اور دلی شکرئیے کا تقاضا بھی کرتی ہیں۔ پس تم لوگ اس کو وحدہ لاشریک جانتے اور مانتے ہوئے اس کی عبادت و بندگی بجا لاؤ کہ یہی تقاضا ہے حق و انصاف کا اور اسی میں خود تمہاری بہتری اور بھلائی ہے۔ اس جہان فانی میں بھی اور آخرت کی اس حقیقی زندگی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَبِہٖ نَسْتَعِیْنُ ۔ اور اس کے برعکس اس کی ان گوناگوں اور ان گنت نعمتوں سے لگاتار مستفید و فیضیاب ہونے کے باوجود اس واہب مطلق سے منہ موڑنا اور دوسروں کو اس کا شریک ماننا حق و انصاف کا خون کرنا اور ظلم عظیم ہے۔ اور ایسے ظالموں اور بےانصافوں کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 61 پہاڑوں کے مختلف حصوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں "۔ " جُدَد " جمع ہے " جدہ " کی جس کے معنیٰ ٹکڑے اور دھاری وغیرہ کے آتے ہیں ۔ " خُطَط وَ طَرَآئِق " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 189) ۔ " اَیْ طرائِق مختلفۃ الالوان " ۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اصل میں یہ لفظ ہر نوں اور خچروں وغیرہ کی ان دھاریوں کے لیے بولا جاتا ہے جو ان کی پیٹھوں پر پائی جاتی ہیں۔ اور یہاں پر یہ ان مختلف الالوان سلوں اور چٹانوں کے لیے استعمال فرمایا گیا ہے جن کی دھاریاں یا قطاریں پہاڑوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ سو ان میں اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو قدرت کے عجائب نظر آتے ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ چیزیں بھی اس وحدہ لاشریک کی عظیم الشان قدرت و حکمت اور کمال صناعی پر دلالت کرتی ہیں۔ پس عبادت و بندگی اسی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے جسکی عظمت شان اور قدرت مطلقہ کے یہ نشان تمہارے گرد و پیش اس کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ کس کی کارستانی اور قدرت و حکمت کا نتیجہ ہے۔ وہ کیسا قادر و حکیم ہے ؟ اور اس کا حق کتنا بڑا اور کس قدر عظیم ہے ؟ ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 62 " اور بالکل کالے بھجنگے بھی " : " غرابیب " جمع ہے " غربیب " کی جو " اسود " کی تاکید کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ لفظِ " قانی "، " احمر " کی تاکید کے لئے آتا ہے اور " فاقع "، " اصفر " کی تاکید کے لئے۔ اس لئے یہاں دراصل تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی اصل کے اعتبار سے " سُوْدٌ غَرَابِیْبٌ " تھا۔ (قرطبی : ج 14 ص 343 جامع البیان : ج 2 ص 189 اور محاسن التاویل : ج 14 ص 51 وغیرہ) ۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ ۔ بہرحال یہ سب کچھ اس قادر مطلق کی بےپایاں قدرت، وحدانیت مطلقہ اور توحید خالص پر دال اور اس کا آئینہ دار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی ان شؤون مختلفہ میں سے کسی میں بھی کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو جب خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے تو حاکم و معبود بھی وہی ہے ۔ { اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالاَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : 54) ۔ اس کے سوا کسی کے لیے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم بجالانا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور انسانوں جانوروں اور چوپایوں کے بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں (حق اور حقیقت کا) بلاشبہ اللہ نہایت ہی زبردست بڑا ہی بخشنے والا ہے

63 جمادات کی طرح حیوانات کی بھی مختلف قسمیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں "۔ سو یہ بھی اس قادر مطلق کی بےپایاں قدرت و عظمت کی ایک بڑی نشانی ہے کہ اتنے لاتعداد افراد میں سے کوئی بھی دو فرد آپس میں ایک جیسے نہیں ہیں ۔ فَسُبْحَانَہ مَا اَعْظَمَ شَانُہ وَمَا اَجَلَّ بُرْہَانُہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جمادات کی طرح انسانوں، جانداروں اور چوپایوں میں بھی قدرت کی ایسی ہی گوناگونی اور بوقلمونی پائی جاتی ہے۔ بلکہ ان کی یہ رنگا رنگی صرف ظاہر تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ بوقلمونی ان کی صورت سیرت، عادت وصفات، اَطوار و خصوصیات اور مزاج۔۔ تک میں پائی جاتی ہے۔ اور یہ فرق و اختلاف ان تمام اعتبارات سے ظاہر اور واضح ہے۔ سو جس طرح ہر جانور سے دودھ کی توقع نہیں کی جاسکتی اسی طرح ہر انسان سے خوف و خشیت خداوندی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بہرکیف حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی مخلوق کی یہ گوناگونی اور بوقلمونی اپنے اندر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت رکھتی ہے ان لوگوں کے لیے جو صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف مخلوق کی یہ بوقلمونی خالق کی عظمت کی ایک کھلی دلیل ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 64 علم حقیقی کا ثمرئہ و نتیجہ خوف وخشیت خداوندی سے سرفرازی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ علم حقیقی کا ثمرہ و نتیجہ خوف و خشیت خداوندی سے سرفرازی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں "۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ پاک سے ڈرتے نہیں وہ عالم نہیں اگرچہ وہ کتنی ہی کچھ ڈگریاں اور کیسی ہی کچھ سندیں اپنے پاس کیوں نہ رکھتے ہوں کیونکہ یہاں " اِنَّما " کا کلمہ حصر اختیار فرمایا گیا ہے۔ اور " العلمائ " میں الف لام جو کہ مفید عموم ہے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ جو اللہ سے ڈرتا نہیں وہ عالم نہیں ۔ " اَفَادَ انَّہ مَنْ لم یخش اللہ لم یکن عالما " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 190) ۔ اسی لئے سلف سے منقول ہے کہ علم کثرت کلام کا نام نہیں بلکہ وہ حقیقت میں عبارت ہے کثرت خشیت سے۔ اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جبکہ انسان کے دل و دماغ کی دنیا اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان اور جلالت قدر کے تصور و احساس سے معمور ومنور ہوں۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ سو علماء سے مراد وہی لوگ ہیں جو حق اور حقیقت کے علم سے آگہی رکھتے ہوں کیونکہ جو لوگ مادہ اور مادیت ہی کے غلام اور بطن وفرج کی خواہشات ہی کے پجاری بن جاتے ہیں ان کی نگاہیں مادیت اور مادی ظواہر و مظاہر ہی میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اس سے آگے نہ ان کو کچھ نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو دیکھنے کی کوشش ہی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا تو مسئلہ ہی الگ ہے۔ لیکن دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس سے آگے سوچتے ہیں۔ ان کا معاملہ بطن و فرج کے تقاضوں کے ان غلاموں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ مادی ظواہرو مظاہر میں الجھنے اور اٹکنے کی بجائے ان اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں اور اس طرح ان کی حقیقت بیں اور حقیقت رسا نگاہیں انہی مادی ظواہر و مظاہر کے ذریعے عالم غیب تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ سو ایسے ہی لوگ اصل میں انسانیت کے گل سرسبد ہوتے ہیں۔ اور یہی علماء کے لقب کے اصل مستحق ہوتے ہیں۔ انہی کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی خشیت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور انہی کو اللہ کے رسولوں کی دعوت اپیل کرتی ہے۔ 65 اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز و غفور کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی درگزر فرمانے والا ہے "۔ سو عزیز و زبردست ہونے کے اعتبار سے وہ جس کو جب چاہے اور جیسے چاہے گرفتار کرسکتا ہے۔ مگر غفور ہونے کی بنا پر وہ بےمثال عفو و درگزر سے کام لیتا ہے ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَلَہ الشُّکْرُ ۔ سو اس میں ایک طرف تو پیغمبر کیلئے تسلی کا سامان ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو رد کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور دوسری طرف اس میں ان منکرین و معاندین کیلئے بخشش کی نوید بھی ہے کہ اگر وہ اپنی روش تبدیل کرکے صدق دل سے حق کو اپنا لیں تو اللہ کی رحمت و عنایت انکو اب بھی اپنی آغوش میں لے سکتی ہے کہ اس کی رحمت و بخشش اور اس کے کرم و عنایت کی کوئی حد نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی صفات کریمہ بڑی انقلاب آفریں صفات ہیں۔