30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری سنانے کو (تاکہ تم خوش ہوجاؤ) اور تاکہ وہ چکھائے تم کہ اپنی رحمت (و عنایت) سے اور تاکہ کشتیاں چلیں اس کے حکم سے اور تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل (و مہربانی) سے اور تاکہ تم شکرگزار بنو

62 باران رحمت کی خوشخبری دینے والی ہواؤں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری سنانے کو "۔ کہ باران رحمت آنے والی ہے جس سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوں گے۔ سو اس طرح وہ خالق کل اور مالک مطلق اپنی گوناں گوں مخلوق کی طرح طرح کی ضروریات کی تحصیل و تکمیل کیلئے پانی کا انتظام فرماتا ہے جس پر ہر جاندار کی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ سو ذرا دیکھو کہ وہ خالق ومالک اپنی رحمت و عنایت سے ان بنیادی ضروریات کا کس طرح رحمتوں بھرا انتظام فرماتا ہے تاکہ تم لوگ اس کی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے مستفید و فیضاب ہوسکو۔ سو اس سب کے باوجود اس سے منہ موڑنا کس قدر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں پیغمبر کے لیے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسکین وتسلیہ کا یہ سامان بھی ہے کہ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ گھٹی ہوئی فضا کے اندر سے سازگار ہوا چلا دیتا ہے جو تمہارے لیے اس کی باران رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہے تاکہ اس طرح وہ تمہیں اپنے رزق و فضل سے نوازے۔ اسی طرح وہ تمہارے لیے ناموافق حالات کے اندر سے خوش کن سازگار حالات بھی پیدا فرما دے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 63 نعمت سے سرفرازی کا تقاضا شکر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ شکرگزار بنو۔ اپنے خالق ومالک کے کہ اس نے ہمیں ان اور ان نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ مگر تم تو پھر بھی غیروں کے در پر جھکتے اور ان کو طرح طرح سے اس وحدہ لاشریک کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان گوناگوں اور عظیم الشان نعمتوں پر حضرت حق جل مجدہ کا شکر بجا لانا اور اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں دل و جان سے جھک جانا اس واہب مطلق جل جلالہ کا اس کے بندوں پر اس کا حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ اور اس کے حق شکر سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا ناشکری اور ظلم بھی ہے اور اس میں اس کے عذاب کو دعوت دینا بھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَْنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد } ۔ (ابراہیم : 7) سو شکر نعمت ایک عظیم الشان سعادت اور دین حنیف کا ایک اہم مطلب ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنے شکر کی توفیق و عنایت سے سرفراز رکھے ۔ آمین۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا ان کی قوموں کی طرف سو وہ بھی ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر پہنچے (مگر جنہوں نے نہیں ماننا تھا انہوں نے نہیں مانا) تو آخرکار ہم نے انتقام لیا ان سے جو (تکذیب و مخالفت حق جیسے) جرائم کے مرتکب ہوئے اور ہمارے ذمے لازم ہے ایمان والوں کی مدد کرنا

64 پیغمبر کے لیے تسلی کا سامان تاریخ کے حوالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا ان کی قوموں کی طرف جو ان کے پاس کھلے دلائل لے کر آئے "۔ سو آپ کوئی نئے اور انوکھے رسول تو نہیں ہیں کہ یہ لوگ اس طرح بدکیں اور تعجب کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ (الاحقاف : 9) ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ ان کی نبوت و رسالت ان کی اپنی قوموں کی طرف اور خاص علاقوں اور محدود زمانوں کے لئے تھی۔ جبکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت قیامت تک کے تمام زمانوں تک کیلئے اور ساری دنیا اور جملہ اقوام کے لئے ہے۔ مگر گزشتہ اقوام نے اپنے رسولوں کو انکے کھلے دلائل اور روشن نشانیوں کے باوجود جھٹلایا جس سے بالآخر وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے۔ اور تکذیبِ رسل کی اس مجرمانہ روش کی بناء پر ہم نے ان سے انتقام لیا۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی نصرت و امداد ہم پر حق ہے۔ سو یہی معاملہ تمہارے دشمنوں سے بھی ہوگا کہ ہماری سنت سب کیلئے ایک اور ہمارا دستور سب کے لیے یکساں ہے۔ پس تم لوگ مطمئن رہو اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک سے اپنا تعلق درست اور صحیح رکھو۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے اور آپ کے توسط سے جملہ اہل حق کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف اس میں مکذبین و منکرین کیلئے تنبیہ و تذکیر بھی کہ وہ گزشتہ امتوں کے انجام سے سبق لیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں ورنہ ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو کہ ان گزشتہ قوموں کا انکے جرم انکار و تکذیب کی بناء پر ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 65 اہل ایمان کے لیے نصرت خداوندی کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے "۔ یعنی یوں تو ہم پر کسی کا کوئی حق واجب ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں مگر ہم نے اپنے انتہائی کرم کے باعث ایسے ایمانداروں کی مدد کرنا اپنے ذمے لے رکھا ہے اور اپنے ذمے کو نبھانا اور ایمان والوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ سو اہل ایمان کے نصرت خداوندی کا یہ ایک عظیم الشان مژدئہ جانفزا ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بندئہ مومن کی شان کتنی بڑی اور کس قدر بلند ہے۔ اور یہ کہ ایمان کی دولت کس قدر عظیم الشان دولت ہے جو انسان کو ایسی عظمتوں اور بلندیوں سے ہمکنار کردیتی ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ بہرکیف اس سے اہل ایمان کو نصرت خداوندی کے مژدئہ جانفزا سے نوازا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو اس طرح بھیجتا ہے کہ وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر اللہ اس (بادل) کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اور وہ اس کو تقسیم کردیتا ہے مختلف ٹکڑیوں کی شکل میں پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے بیچ سے (چھن چھن) کر آرہی ہوتی ہے پھر وہ جب اس کو اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوشی سے اچھلنے لگتے ہیں

66 بادلوں اور باد و باراں میں درسہائے عبرت و بصیرت کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اس طور پر کہ وہ بادل اٹھاتی ہیں۔ پھر اللہ اس بادل کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور وہ اس کو تقسیم کردیتا ہے مختلف ٹکڑیوں کی شکل میں "۔ یعنی کبھی تو بادل سارے آسمان پر محیط ہوجاتے ہیں اور کبھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹ جاتے ہیں۔ سو یہ سب اللہ پاک ہی کی قدرت و عنایت کے مظاہر ہیں جو تمہارے سامنے بار بار آتے اور تم کو دعوت غور و فکر دیتے ہیں مگر لوگ ان سے سبق نہیں لیتے۔ ورنہ ابرو باد کے ان مختلف سلسلوں میں طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت پوشیدہ و پنہاں ہیں جن میں غور و فکر کرنے سے تم لوگوں کو عبرتوں بھرے درسہائے فکر و بصیرت ملیں گے۔ سو تم دیکھو اور نگاہ عبرت سے دیکھو کہ اللہ کس طرح بھیجتا ہے ہواؤں کو کھلی فضا میں۔ پھر وہ بادلوں کو ابھارتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر وہ اپنی حکمت وقدرت کے مطابق انکو فضا میں پھیلاتا اور مختلف ٹکڑیوں میں بانٹ دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے مینہ نکل نکل کر برسنے لگتا ہے۔ پھر جو لوگ خدا کی اس رحمت سے فیضیاب ہوتے ہیں، وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں۔ حالانکہ اس سے ذرا پہلے وہ اس سے بالکل مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ بہرکیف بادلوں اور بارشوں کے اس حکمتوں بھرے نظام میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ 67 بارش کی تقسیم اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اس کو بھیج دیتا ہے "۔ چناچہ تم دیکھتے ہو کہ یہاں بارش ہے وہاں نہیں۔ ایک جگہ پانی ہی پانی ہوتا ہے اور اس کے برعکس دوسری جگہ مٹی اڑ رہی ہوتی ہے۔ سو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اسی طرح روحانی بارش یعنی نبوت و دین کو بھی وہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہے تقسیم فرماتا ہے ۔ { اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے یہ مختلف مظاہر اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تم لوگوں کو دعوت غور و فکر دیتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی یہی شان رحمت تمہارے لیے بھی ظاہر ہوگی۔ آج یہ چیز تمہیں بہت بعید نظر آتی ہے لیکن جب ظاہر ہوگی تو اس وقت تم کو یہ بہت قریب کی چیز معلوم ہوگی اور اس وقت تم خوش ہوجاؤ گے۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے کہ یہ بارش ان پر برسائی جاتی یہ بالکل آس توڑے بیٹھے تھے2

68 مایوسی کے بعد خوشی کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگرچہ بارش کے اترنے سے پہلے یہ لوگ آس توڑے بیٹھے تھے اور اس کے اترنے کے بعد خوشیاں منانے لگتے ہیں "۔ وہی بات کہ انسان بڑا تنگ ظرف اور تھڑ حوصلہ ہے۔ تھوڑی سی نعمت ملنے پر اچھل پڑتا ہے اور تنگی پہنچنے پر وہ ملول و مایوس ہوجاتا ہے بجز ان لوگوں کے جو ایمان و استقامت کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ بہرکیف قدرت کے اس عظیم الشان مظہر کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ دیکھو کہ اللہ کس طرح اپنی قدرت و عنایت اور رحمت و حکمت سے ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں۔ پھر وہ اپنی قدرت و عنایت سے ان بادلوں کو جس طرح چاہتا ہے فضا میں پھیلا دیتا ہے اور ان کو تہ در تہ کرتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے مینہ چھن چھن کر نکلتا اور برستا ہے جس سے لوگ خوشیاں مناتے ہیں حالانکہ اس سے ذرا پہلے وہ مایوس اور دل برداشتہ ہوتے ہیں۔ سو بارش کے اس سلسلہ انتظام میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس میں نگاہ عبرت ڈالتے اور غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو غافلوں کے محرومی اور بدبختی ہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 30:50–51

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سو تم دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار کو کہ وہ (قادر مطلق اس کے ذریعے) کس طرح زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے بعد کہ وہ مرچکی ہوتی ہے بلاشبہ وہی ذات زندہ کرنے والی ہے مردوں کو اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر کوئی ایسی ہوا بھیج دیں جس کے نتیجے میں یہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو اس کے بعد یہ کفر بکنے لگتے ہیں

70 لفظِ " ریاح " اور " ریح " کے درمیان فرق : " ریاح " کا اطلاق عموماً ان ہواؤں پر ہوتا ہے جو رحمت کا ذریعہ ہوتی ہیں اور " ریح " کا ان پر جو کہ عذاب کا باعث ہوتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ ہوا چلنے کے موقع پر یوں دعا فرمایا کرتے تھے ۔ " اللَّھُمَّ اجْعَلْہا رِیَاحًا وََّلَا تَجْعَلْہَا رِیْحًا " ۔ " اے اللہ ان کو نفع دینے والی ہوائیں بنانا نہ کہ نقصان پہنچانے والی " (جامع البیان، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ عام لوگوں کی تنگ ظرفی کا حال یہ ہے کہ ذرا دیر میں مایوس اور ذرا دیر میں مست و مگن ہوجاتے ہیں۔ بارش میں ذرا توقف اور بندش ہوجائے تو وہ مایوس ہو کر حوصلے چھوڑ دیتے ہیں اور بارش ہوجائے تو ناچنے کو دنے لگتے ہیں۔ اور اگر بارش کے بعد ہم کوئی ناسازگار ہوا بھیج دیں تو یہ اپنی اپچی ہوئی فصلوں کا رنگ زرد پڑتے دیکھ کر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور وہی مردنی و مایوسی اور ناشکری ان پر چھا جاتی ہے۔ سو ایسے تنگ ظرف تھڑ حوصلہ اور متلون مزاج لوگوں سے خیر کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال - 71 انسان کی تنگ ظرفی اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہم ان پر کوئی ایسی ہوا بھیج دیں جس سے یہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو ایسے میں یہ لوگ کفر بکنے لگتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی سابقہ تمام نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔ سو قرآن حکیم کی ارشاد فرمودہ یہی انسانی نفسیات آپ اپنے یہاں کے آج کے انسان میں بھی بتمام و کمال ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ تھوڑا سا کچھ مال و منال اور جاہ و جلال و اقتدار ملا تو یہ پھول کر کہیں سے کہیں پہنچ گیا اور کیا سے کیا کچھ کہنے اور کرنے لگ گیا۔ اور اگر کبھی تھوڑا سا نقصان ہوگیا تو یہ ایسا بےصبرا اور اس قدر پریشان اور ناشکرا بن جاتا ہے کہ مرنے مارنے پر آجاتا ہے اور یہاں تک کہ وہ خود کشی تک پر اتر آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے تنگ ظرف اور متلون مزاج لوگوں سے خیر کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیئے۔ حق بات انہی لوگوں کے دل میں اتر سکے گی اور وہی اس کو قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرنے کا مزاج رکھتے ہوں۔ سو صبر و استقامت اور مستقل مزاجی بڑی اہم اور عظیم الشان صفات ہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 30:52

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

سو آپ (اے پیغمبر ! ) نہ تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ہی آپ بہروں کو اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ چل دیں پیٹھ پھر کر

72 مردوں اور بہروں کو سنانا کسی کے بس میں نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو آواز پہنچا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں "۔ یعنی بہرہ اگر آپ ﷺ کی طرف دیکھتا ہو تو آواز نہ سننے کے باوجود وہ اشارے سے آپ ﷺ کی بات سمجھ سکتا ہے۔ مگر جب وہ پیٹھ دے کر چل پڑے تو اس کو آپ اپنی آواز کس طرح پہنچا سکتے ہیں ؟ اور اس کو راستہ کس طرح دکھا سکتے ہیں ؟ سو یہی حال ہے عقل کے ان اندھوں اور دل و دماغ کے ان بہروں کا جو نور حق و یقین سے محروم ہیں۔ پس ان کو آواز پہنچانا اور حق سنانا، یعنی اس کو ان سے منوا لینا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ آپ ﷺ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تبلیغ اور دعوت حق سے وہی لوگ مستفید و مستنیر ہوسکتے ہیں جو ایمان لانا چاہتے ہوں۔ کیونکہ ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ پس جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے اور فرمانبرداری کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہوں وہی اس دعوت حق سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ تصریح فرمائی گئی ۔ { اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُؤْمِنْ بآیَاتِنَا } ۔ (النمل :81) ۔ سو نور ایمان و یقین سے محروم لوگ حقیقت میں مردہ ہیں اگرچہ وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہوں۔ پس اس تشبیہ سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اسی طرح آپ ان کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے کہ ان کے دل مرچکے ہیں۔ لہذا آپ ﷺ کو ان کے بارے میں غم اور افسوس نہیں کرنا چاہیئے۔ سو ایسی آیات سے مردوں کے عدم سماع پر استدلال بالکل درست اور برمحل ہے۔ سماع موتیٰ کا مسئلہ اگرچہ قدیم سے مختلف فیہ چلا آ رہا ہے اور اس میں حضرات اہل علم کے دو قول ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک راحج قول یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے الا یہ کہ اللہ خود سنا دے۔ پس جہاں نص سے ثابت ہو، اس کو ثابت مانا جائے گا مگر اس پر آگے قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اور زیر بحث آیت کریمہ سے بھی اسی کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ یہاں فرمایا گیا ہے ۔ { اِنَّکَ لا تُسْمِع } ۔ " کہ آپ نہیں سنا سکتے " اور دوسری جگہ فرمایا ۔ { وَمَا اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ } ۔ " قبروں والوں کو سنانا آپ کے بس میں نہیں ہے " ۔ (فاطر : 22) لیکن اللہ پاک اگر سنوانا چاہے تو سنوا سکتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جیسا کہ قلیب بدر اور خفق نعال والی حدیثوں میں مذکور ہے۔ پس ان کو اپنے مورد تک ہی بند رکھا جائے گا۔ آگے ان پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اصول میں اس کی تصریح ہے کہ قیاس معقول المعنیٰ چیز کا ہوتا ہے نہ کہ غیر معقول المعنیٰ کا۔ اس مسئلے کا کچھ بیان اس سے پہلے سورة نمل میں بھی ہوچکا ہے۔ وہاں کی مراجعت بھی فرمالی جائے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مردوں کو سنانا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے آپ ﷺ اس بارے غمگین اور پریشان نہ ہوں۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں جو سننا اور ماننا چاہتے ہوں کہ ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ نفع ان ہی کو ہوسکتا ہے جو سننا اور ماننا چاہتے ہوں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 30:53

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ ہی آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر سیدھی راہ پر ڈال سکتے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو (سچے دل سے) ایمان رکھتے ہوں ہماری آیتوں پر اور وہ فرمانبردار ہوں1

73 سننا اور ماننا سعادت و سرفرازی کی اصل و اساس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں "۔ اور وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ " آیات " سے یہاں پر مراد آفاق وانفس کی وہ نشانیاں ہیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی وحدانیت اور اس کی عظمت شان پر دلالت کرتی ہیں اور جن کا ذکر اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ ہوچکا ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن پاک سے مستفید ہونے کی شرط اولین اس پر ایمان رکھنا اور اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنا اور اسکے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے ۔ وَقَدْ مَرَّ اَکْثَرَ مِنْ مَرِّۃ ۔ سو جو لوگ اس پر ایمان رکھنے کی سعادت سے محروم ہیں وہ اس سے کما حقہ فیضیاب نہیں ہوسکتے خواہ وہ اس کا کتنا ہی مطالعہ کیوں نہ کریں۔ جیسا کہ مستشرقین وغیرہ کا حال ہے۔ " آیات " کے لفظ سے یہاں پر مراد بعض حضرات اہل علم کے نزدیک آفاق وانفس کی وہ نشانیاں ہیں جو حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کی گواہی دے رہی ہیں اور وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر خالق ومالک پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہیں۔ سو حق و ہدایت کی دعوت ایسے ہی لوگوں پر اثرانداز و کارگر ہوسکتی ہے جو کائنات میں پھیلی بکھری ان نشانیوں کو مانتے ہوں۔ اور وہ حق بات کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اور جو لوگ ان کو نہ مانتے ہوں، ان کے آگے سارا وعظ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ سو سننے اور ماننے کی طبیعت سعادت و سرخروئی کی اصل اساس و بنیاد ہے۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا کمزوری (اور ناتوانی) سے پھر اس نے کمزوری کے بعد تم کو قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد اس نے تمہارے اندر (ایک تدریج کے ساتھ) کمزوری بھی رکھ دی اور بڑھاپا بھی اور وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی ہے سب کچھ جانتا پوری قدرت والاف 2

74 خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب لوگوں کو کمزوری وناتوانی سے " سو اپنی تخلیق کے شروع و آخر کی یہ کمزوریاں جن کو روکنا اور ان سے بچنا تمہارے بس میں نہیں بلکہ آغاز و انجام کی ان دونوں کمزوریوں کے سامنے تم سراسر عاجز اور لاچار ہو۔ تو پھر تمہارے لیے کسی تکبر و اعراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ؟ پس اپنے اندر کی اس شہادت و گواہی اور اپنی جانوں کے اندر پائی جانے والی اس حقیقت واقعیہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہوئے اور اپنے آغاز و انجام کو دیکھتے ہوئے تم لوگ ان دونوں کے بیچ میں ملنے والی قوت و فرصت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کو اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لئے صرف کرو اور آخرت کی اس حقیقی زندگی کے لئے کمائی کرو جو ابدی ہے کہ دنیا کی اس زندگی کے خاتمے کے بعد پھر یہ موقع ملنے والا نہیں ۔ اللہ پاک توفیق و عنایت سے نوازے ۔ آمین ثم آمین ۔ سو تم میں سے کسی کو اپنی قوت و طاقت اور کسی قابلیت و صلاحیت پر ناز نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ سب ہی کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا دیا بخشا ہے اور اس نے پھر اپنے وقت پر اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ اس کیلئے تم لوگ خود اپنے وجود ہی پر غور کرلو کہ اس قادر مطلق نے کس طرح تم سب کو نہایت کمزور اور ناتواں حالت میں وجود بخشا ؟ پھر اس نے تم کو اس کمزوری اور ناتوانی کے بعد بڑھاتے بڑھاتے جوانی کی بھرپور قوتوں اور صلاحیتوں تک پہنچایا۔ پھر اس کے بعد بڑھاپے کی صورت میں تم کو پھر سابق کمزوری اور ناتوانی کی طرف لوٹا دیا۔ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی جوانی کی قوتوں کو برابر قائم اور برقرار رکھ سکے۔ اور یہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے کہ وہ جو چاہے پیدا کرے۔ اور وہی ہے جو ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس آغاز و انجام والے انسان کے لیے یہ کسی طرح بھی روا نہیں ہوسکتا کہ یہ کبر و غرور اور عجب و استکبار میں مبتلا ہو اور اس بناء پر حق سے منہ موڑے کہ یہ سخت بےانصافی اور انتہائی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے اسی طرح (دنیا کی زندگی میں بھی) ان کی مت ماری جا رہی تھی

75 قیامت کے روز مجرموں کی بدحواسی کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو اس سے قیامت کے روز مجرموں کی بدحواسی اور ان کے یاس وحسرت کا ایک منظر پیش فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے "۔ یعنی دنیا و برزخ میں کہ آخرت کی اس لامحدود زندگی اور وہاں کے ان خوفناک عذابوں کے مقابلے میں ان کو دنیا و برزخ کی یہ تمام مدت طویلہ گھڑی بھر کے برابر معلوم ہوگی۔ جبکہ آج اپنی اسی عارضی وفانی زندگی پر مست ہو کر یہ لوگ آخرت اور اس کی زندگی کا مذاق اڑانے اور جلد عذاب لانے کے مطالبے کرتے ہیں مگر اس روز اس کبر و غرور کا ان میں کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔ اور یہ رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ کاش کہ ہم دنیا میں ایمان لے آتے اور راہ راست کو اپنا لیتے ۔ { لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ } ۔ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایسے لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ وہ زندگی کی اس مختصر و محدود فرصت کو بہت طویل سمجھ کر لاپرواہی نہ برتیں بلکہ عمر رواں کی اس فرصت محدود کو غنیمت جان کر آخرت کیلئے تیاری کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 76 منکروں کی مت ماری دنیا و آخرت دونوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح ان کی مت ماری جاتی تھی "۔ یعنی دنیا میں۔ سو جس طرح آج یہاں حشر کے دن یہ لوگ اس طرح کی خلاف واقع اور الٹی بات کہہ رہے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ان کی مت ایسی مار دی گئی تھی کہ وہاں پر حق بات ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی اور اس کے خلاف انہوں نے طرح طرح کے عقیدے گھڑ رکھے تھے۔ اور یہ لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے تھے اور ان کو اصل حقائق سمجھنے کی توفیق نہیں ملی تھی۔ وہاں پر یہ لوگ حشر و نشر کے ان مراحل کو بہت طویل بلکہ ناممکن اور بعید سمجھتے تھے۔ اور اسی بناء پر انہوں نے اس کیلئے تیاری کی کبھی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ یہ اس کا مذاق اڑاتے رہے تھے۔ مگر قیامت کے روز ان کو اپنا سارا ماضی پل جھپکتے ختم ہوتا نظر آئے گا۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر بڑا احسان ہے کہ ان حقائق کی پیشگی خبر دے دی ۔ فالحمدللہ ۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں پڑی ہے الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن کو علم اور ایمان کی دولت بخشی گئی ہوگی وہ کہیں گے کہ (غلط کہتے ہو) تم تو اللہ کی کتاب کے مطابق یقینا حشر کے دن تک رہے ہو سو یہ ہے حشر کا وہ دن (جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) لیکن تم لوگ (اس کو) جانتے (اور مانتے) نہ تھے

77 ایمان و علم کی روشنی ایک عظیم الشان اور بےمثال روشنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کی اس بات کی تردید و تغلیط کے لیے ایمان و علم والے ان سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم تو اللہ کی کتاب کے مطابق حشر کے دن تک اس طرح پڑے رہے ہو۔ سو اس سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ علم و ایمان کی روشنی دارین میں راہنمائی کرنے والی روشنی ہے ۔ سبحان اللہ !۔ علم و ایمان کی شان کیسی عظیم شان ہے کہ وہاں بھی ایسے حضرات ان لوگوں کے اس قول باطل کی تصحیح کریں گے۔ سو علم و ایمان کی راہنمائی و روشنی دونوں جہانوں میں کام آنے والی روشنی اور دولت ہے۔ کیا کہنے اس کی عظمت شان کے ؟ سو کتنے کوتاہ نظر اور ناقص الفہم ہیں وہ لوگ جو اس کے مقابلے میں دنیاوی مال و دولت کو اصل چیز سمجھتے ہیں اور اپنی متاع عمر کو اسی کے لئے صرف کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جن کی عقل دنیا میں درست اور سیدھی رہی اور ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات کا علم اور خدا اور آخرت پر ایمان نصیب ہوا وہ اس دن ان لوگوں کو ان کی اس بدحواسی پر ٹوکیں گے کہ تمہارا یہ اندازہ بالکل غلط ہے۔ تم لوگ تو اللہ کی کتاب کی رو سے قیامت تک رہے ہو۔ سو آج قیامت کا یہ دن تمہارے سامنے موجود ہے لیکن تم لوگ جانتے نہیں تھے۔ 78 ایمان و علم والوں کا منکرین کو جواب : سو ایمان وعلم والے ان لوگوں سے کہیں گے کہ تم لوگ تو یقینا حشر تک ٹھہرے رہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نوشت و تحریر کے مطابق جتنا ٹھہرنا تھا اتنا تم ٹھہر چکے ہو۔ (المراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ یا اس سے مراد لوح محفوظ ہے (جامع البیان) ۔ بہرکیف جن لوگوں کو دنیا میں علم اور ایمان کی روشنی ملی ہوگی ۔ علم سے مراد ہے اللہ کی آیات کا علم کہ یہی علم انسان کو حق کی دولت سے بہرہ ور کرسکتا ہے ۔ اور ان کو اللہ اور آخرت پر ایمان کی دولت نصیب ہوئی ہوگی وہ اس روز ان بدحواس منکروں کو اس طرح جواب دیں گے۔ سو جو لوگ وحی کے نور اور علم سے محروم ہیں وہ یقینی اور قطعی طور پر گھٹاٹوپ اندھیروں کے اندر ڈوبے ہوئے ہیں خواہ وہ اپنے آپ کو کیا ہی کچھ کیوں نہ سمجھتے ہوں اور دنیا ان کو کیا ہی کچھ کیوں نہ کہتی اور مانتی ہو کہ ایسے لوگ نہ اپنے آغاز و انجام سے واقف و آگاہ ہیں اور نہ ان کو اپنے مقصد زندگی کا پتہ ہے اور نہ ہی انکو اپنے خالق ومالک اور اس کے حقوق سے کچھ آگہی ہے۔ مگر وہ پھر بھی مست و مگن ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں { وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال اور غفلت و لاپرواہی کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 79 علم حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ : سو اہل علم ان سے کہیں گے " لیکن تم لوگ جانتے نہیں تھے "۔ اور تم کہا کرتے تھے کہ زندگی تو یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اور بس۔ سو اب تم مزہ چکھو اپنے کئے کرائے کا۔ اور اب ہمیشہ کے لئے عذاب میں رہو کہ کمائی کا موقع تم نے خود گنوا دیا کہ اس کا موقع دنیا میں تھا جس کے اب واپس ملنے کی کوئی صورت اور کوئی امکان نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اہل علم و ایمان ان سے کہیں گے کہ تم لوگ چونکہ نور علم و ہدایت سے محروم تھے اس لیے تم قیامت کے اس یوم حساب کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اور تم اس کو محض ایک خیالی چیز سمجھتے تھے۔ اس لیے تم نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کی قدر و قیمت پہچانتے اور اس کو آخرت کے نصب العین کے تحت گزارتے ہیں ان پر حشر کے اس یوم عظیم میں کسی طرح کی کوئی بدحواسی طاری نہیں ہوگی۔ بلکہ وہ یہ محسوس کریں گے کہ زندگی کا جو سفر انہوں نے شروع کیا تھا اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے پروگرام کے مطابق اب وہ اس سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ سو ایمان وعلم کی روشنی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی روشنی ہے۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

سو اس دن ظالموں کو نہ تو ان کی معذرت کچھ کام دے سکے گی اور نہ ہی ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا

80 ظالموں کے لیے آخرت میں کسی معافی کا کوئی موقع نہیں ہوگا : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آخرت میں ظالموں کے لیے معافی کا کوئی موقع و محل نہیں ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالموں کو اس روز نہ کوئی معذرت کام دیگی اور نہ ہی انکے لیے کسی استعتاب کا کوئی موقع ہوگا کہ اس سب کا وقت گزر چکا ہوگا۔ " اِسْتِعْتَابَ " کے معنی " اِسْتِرْضَاء " کے آتے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے " اِسْتَعْتَبَنِیْ فَلانٌ فَاَعْتَبْتُہ ۔ اَیْ اِسْتَرْضَانِیْ فَاَرْضَیْتُہ " (الکشاف : ج 3 ص 227) ۔ یعنی اس وقت ان سے یہ نہیں کہا جائے گا تم اپنے رب کو راضی کرو کہ اس کا موقع دنیاوی زندگی میں تھا جس کو انہوں نے ضائع کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس روز ایسوں کو نہ کوئی معذرت کام دے گی اور نہ ہی ان سے توبہ کرنے اور گناہوں سے معافی مانگنے کیلئے کہا جائے گا بلکہ اب ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود جو آج ہمیں حاصل و میسر ہے کس قدر عظیم الشان فرصت اور قدرت کی طرف سے دی گئی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس میں ہم اپنے رب کو راضی کرنے اور اپنی آخرت کو بنانے اور اس کا سامان کرنے کے لیے جو چاہیں اور جیسا چاہیں کرسکتے ہیں۔ مگر اس کے خاتمے کے بعد اس کا نہ کوئی موقع ہوگا نہ امکان ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے بیان کی لوگوں (کی فہمائش اور بھلائی) کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مثال اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں تو جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر انہوں نے یقینا یہی کہنا ہے کہ تم لوگ تو محض باطل پر ہو1

81 قرآن میں ہر عمدہ مضمون کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے لوگوں ۔ کی فہمائش۔ کیلئے اس قرآن میں ہر عمدہ مثال بیان فرمائی "۔ یعنی حق اور حقیقت کی توضیح و تشریح اور لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہم نے اس قرآن عظیم میں ہر ایسا عمدہ مضمون بیان فرمایا جو ضرب المثل کا درجہ رکھتا ہے۔ جس کے بعد حق کے وضوح اور اس کے نکھار سے متعلق کسی طرح کا کوئی غموض و خفا اور اشتباہ باقی نہیں رہ جاتا مگر جن کے دلوں پر کفر وعناد اور شرک و بدعت وغیرہ کے ایسے تالے پڑچکے ہیں وہ پھر بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ نہ ان کو توحید و رسالت کا مسئلہ سمجھ آتا ہے اور نہ ہی ان کا دل عقیدہ آخرت پر ٹکتا ہے ۔ " اَیْ وَصَفْنَا لَہُمْ کُلّ صِفَۃٍ کَاَنَّہَا مثل فِیْ غَرَابَتِہَا " ۔ (الکشاف : ج 3 ص 328) ۔ سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جو باتیں بتانے اور سمجھانے کی تھیں وہ سب ہم نے اس قرآن میں بیان کردیں۔ آپ ان کو ان لوگوں کے سامنے پیش کردیں۔ جو اس کے بعد بھی نہیں مانیں گے ان کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ وہ اپنے ذمہ دار خود ہیں۔ کہ منوا دینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے بلکہ آپ کے ذمے صرف تبلیغ حق ہے۔ 82 منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں تو بھی ان لوگوں نے جو کہ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں یقینا یہی کہنا ہے کہ تم لوگ تو محض باطل پر ہو "۔ کیونکہ جو ضد پر اڑ جائے اور حق ماننا ہی نہ چاہے اس پر کسی چیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور یہی ہے وہ مہرجباریت جو قدرت کے قانونِ حق و انصاف کے مطابق ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں پر ان کی اپنی ہی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر لگ جاتی ہے۔ جیسا کہ اس کے بعد والی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو اس کے بعد ایسے لوگ ہر خیر سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جہاں تک حق کی توضیح کا تعلق ہے وہ تو پوری طرح کردی گئی۔ پس آپ ﷺ اس قرآن کو ان تک پہنچا دو ۔ اس کے بعد یہ لوگ اگر نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ اور ہٹ دھرم لوگ اگر ہر نشانی بھی دیکھ لیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح اس فرمائی گئی ہے ۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْہِمْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَا یُوْمِنُوْنَ وَلَوْ جَائَ تْہُمْ کُلُّ آیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُوْا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ } ۔ (یونس : 97-96) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 30:59–60

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو جانتے (اور مانتے) نہیں (حق اور حقیقت کو)2

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز کبھی آپ کو ہلکا نہ پائیں (اے پیغمبر ! ) وہ لوگ جو (ایمان و) یقین نہیں رکھتے

83 صبر واستقامت سے کام لینے کی ہدایت : سو اس سے پیغمبر کو صبر و استقامت سے کام لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ صبر و ضبط سے کام لیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور کبھی ہلکا نہ پائیں آپ وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے "۔ پس آپ ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے مقابلے میں صبر و ضبط اور ثبات و استقامت ہی سے کام لیتے رہیں۔ آپ کے رب نے آپ ﷺ سے دین حق کے غلبہ اور آپ ﷺ کی نصرت و امداد کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ سو وہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ پاک اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور لوگوں کا یہ سلوک و رویہ آپ ﷺ کے لئے قلق و اضطراب اور خفت و بےصبری کا باعث نہیں بننا چاہیئے۔ نہ آپ ﷺ ان کی طعن وتشنیع کی پروا کریں نہ تضحیک و استہزاء کی۔ نہ ان کی بہتان طرازیوں کو خاطر میں لائیں اور نہ ان کی دھمکیوں اور الزام تراشیوں کو کہ آپ ﷺ بہرحال اور قطعی طور پر حق پر ہیں۔ اور آپ کی راہ بہرطور حق و ہدایت کی راہ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ، عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ۔ (یٰسٓ : 3-4) ۔ یعنی " یقینا آپ قطعی طور پر رسولوں میں سے ہیں اور یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں "۔ اور جیسا کہ ایک اور مقام پر اسی طرح تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ } ۔ ( النمل : 79) ۔ یعنی " آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں کہ یقینا آپ کھلے اور واضح حق پر ہیں "۔ سو آپ ﷺ اپنی دعوت اور اپنے موقف پر جمے رہیں۔ یہ منکرین و معاندین خود رسوا اور ذلیل و خوار ہوں گے۔ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے کہ غلبہ بہرحال حق ہی کا ہے۔ سو راہ حق و ہدایت پر صبر و استقامت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اسی کے ذریعے راہ حق میں پیش آنے والے مصائب و مشاکل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -