Ayah 30:2628 کائنات پوری میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سو وہ سب اسی کا ہے خَلْقًا وَ مِلْکًا ومُلْکًا وَ تَصَرُّفًا یعنی سب کو پیدا بھی تنہا اسی نے کیا ہے۔ سب کا مالک اور بادشاہ بھی وہی ہے اور سب پر حکم اور تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی کے حکم و ارشاد کا پابند اور اسی کی ملکیت ہے۔ کسی کی جان نہیں کہ اس کے حکم و ارشاد سے سرتابی کرسکے۔ پس اس کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جن لوگوں نے طرح طرح کی وہمی اور فرضی " سرکاریں " بنا رکھی ہیں وہ سب اوہام و خرافات کا پلندہ ہے جس کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
29 سب اللہ ہی کی فرمانبردار ہیں ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔ تکوینی دائرے میں تو سب ہی اس کے حکم کے پابند ہیں۔ جس کو اس نے جس کام اور جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا اور اس کو اس پر مامور فرما دیا وہ اسی میں لگا ہوا ہے۔ اور تشریعی دائرے میں جہاں اس نے انسانوں کو ارادئہ و اختیار کی آزادی دے رکھی ہے کہ امتحان اور آزمائش کا تقاضا یہی ہے وہاں بھی بہت سے لوگ اپنے جسم و جان کے ایک ایک روئیں سے اس کی حمد و ثنا اور عبادت و بندگی میں مصروف ہیں۔ سو انہی کو جنت کی سدا بہار نعمتوں سے نوازا جائے گا ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ اور اس کے برعکس جو باغی اور سرکش لوگ اپنے ارادئہ و اختیار کے اس دائرے میں اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ اپنے لئے خود نار جہنم کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف آسمان و زمین کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی ملکیت اور اسی کے حکم کا پابند ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس کے حکم و ارشاد سے تجاوز کرسکے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب انسان کے گردو پیش کی ساری کائنات اور اس کی ہر چیز اور خود انسان بھی اپنے دائرہ تکوین و تخلیق میں اللہ تعالیٰ ہی کا مطیع و فرمانبردار ہے تو پھر انسان کے لیے یہ امر کس طرح روا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے دائرہ ارادئہ و اختیار میں اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری کی بجائے فرمانی و سرکشی کی راہ اختیار کرے ؟ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی راہ پر قائم اور ثابت قدم رکھے اور اعراض و روگردانی اور انحراف و سرکشی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 30:2730 اعادئہ خلق ابدائِ خلق سے آسان تر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ۔ یعنی دوبارہ پیدا کرنا ۔ اس کیلئے زیادہ آسان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ پہلی مرتبہ پیدا فرماتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا اور یہ اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ یعنی تمہارے خیال اور تجربے کے مطابق۔ کیونکہ تمہارا خیال اور تجربہ یہی ہے کہ دوبارہ بنانا پہلی بار بنانے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ ورنہ حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کے لئے یہ سب ایک برابر ہے کہ وہاں اسباب و مواد کی ترتیب وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہاں تو { کُنْ فَیَکُوْنُ } کی شان کار فرما ہوتی ہے۔ جو چاہا ہوگیا۔ جس کا ارادہ فرمایا کردیا۔ البتہ تم لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوتی ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور جب تم لوگ یہ بات مانتے ہو کہ پہلی مرتبہ اسی وحدہ لاشریک نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اس کیلئے دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ تو پھر تمہیں بعث بعد الموت کے بارے میں آخر یہ اچنبھا اور تعجب کیوں ہے ؟ سو تمہارا بالفعل موجود ہونا اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ اور جس طرح تم لوگ اس دنیا میں اپنی مرضی سے اور اپنے اراداے کے مطابق نہیں آئے تھے اسی طرح تمہارے دوبارہ پیدا کرنے میں بھی تمہاری مرضی و ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ سب کچھ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
31 اللہ کی شان سب سے بلند ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی شان سب سے بلند ہے کہ وہی وحدہ لا شریک اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی کی شان سب سے بلند ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی " کہ اس کا کوئی ہمسر کہیں بھی نہیں کہ وہ ۔ { وَلَمْ یَکُنْ لَّہ ‘ کُفُوًا اَحَدٌ } ۔ کی شان کا مالک ہے۔ پس تم لوگ مخلوق کے لائق کوئی تصور بھی اس کے بارے میں کبھی قائم نہ کرنا۔ اور نہ ہی اس کے لئے دنیاوی حاکموں اور بادشاہوں کی مثالیں گھڑنا کہ وہ ان سب تصورات سے پاک اور وراء الورا ہے ۔ { تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ اور جب آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں ہر عمدہ صفت کا حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کے حقِّ عبودیت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ اپنی ذات وصفات اور اپنے حقوق و اختیارات وغیرہ ہر اعتبار سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ تبارک و تعالیٰ -
32 اللہ تعالیٰ کی صفت عزت و حکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا۔ پس نہ تو اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی رائے اور مشورے کی۔ اور نہ ہی کسی اور کی یہ جان اور یہ شان ہے کہ وہ ایسا کرسکے۔ اور نہ ہی کوئی ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے ارادے میں حائل اور مزاحم ہوسکے۔ اور نہ ہی کوئی ایسا ہوسکتا جو اس کی گرفت و پکڑ سے نکل سکے۔ اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ سو اس کیلئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے ارادے میں اس کی حکمت کے سوا اور کسی بھی چیز کا دخل نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر لحاظ سے یکتا اور بےمثال ہے۔ اور وہی ہے جو عبادت و بندگی کی ہر شکل کا حقدار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو { مثل } کا لفظ یہاں صفت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے لیے قرآن حکیم میں یہ لفظ اس لیے استعمال فرمایا گیا ہے کہ اس کی صفات انہی لفظوں میں بیان ہوئی ہیں جو ہماری زبان کے الفاظ ہیں اور جن کو ہم اپنے لیے بھی بولتے ہیں۔ اور ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ ایسی تمثیلی صورت اختیار کیے بغیر اس کی صفات علیا ہماری سمجھ کے قریب نہیں آسکتی تھیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اس اعلیٰ مفہوم ہی میں استعمال ہوئی ہیں جو اس وحدہ لا شریک کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین میں تمام اعلیٰ صفتوں کا اصل حق دار وہی ہے۔ اس میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 30:2833 تردید شرک کے لیے ایک مثال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام انکار فرمایا گیا کہ " کیا تمہارے غلاموں میں کوئی ایسا ہوسکتا ہے جو تمہارا برابر کا شریک ہو ؟ "۔ کہ تم ان کی اجازت اور مرضی کے بغیر کوئی تصرف نہ کرسکو اور تمہیں ان کے ناراض ہوجانے، بگڑ جانے اور کام خراب کرنے کا کوئی خوف و اندیشہ ہو وغیرہ وغیرہ ؟ کیا تمہارے غلاموں میں سے کسی کی بھی یہ پوزیشن ہوسکتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو جب تم لوگ اپنے غلاموں اور نوکروں میں سے کسی کو اپنے ساتھ اس طرح شریک بنانے کو تیار نہیں ہو حالانکہ انسان ہونے میں، مخلوق ہونے میں، اللہ کے بندے اور اس کے مملوک ہونے میں تم لوگ آپس میں برابر ہو۔ تو پھر تم خداوند قدوس کے ساتھ کسی کو اس طرح کا شریک کیونکر مان سکتے ہو ؟ جبکہ اس کے ساتھ تمہارا اس طرح کا کوئی بھی رشتہ وتعلق نہیں۔ بلکہ اس سے تو تمہارا رشتہ وتعلق خالق و مخلوق اور عابد و معبود کا رشتہ ہے اور بس ؟ سو شرک کیخلاف اور توحید کے حق میں دلیل ڈھونڈنے کیلئے تمہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ خود اپنے اندر جھانک کر اور اپنے حالات میں غور و فکر کرکے ہی دیکھ لو۔ اس لیے اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ خود تمہارے اپنے باہمی طرز عمل ہی کو تمہارے سامنے بطور دلیل پیش فرماتا ہے کہ تم لوگوں کو ہم نے جس رزق و روزی سے نواز رکھا ہے کیا تم لوگ اس میں اپنے غلاموں کیلئے بھی اس طرح کی حصہ داری تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوسکتے ہو کہ وہ اور تم اس میں برابر کے شریک ہوجاؤ ؟ اور تم ان کا اسی طرح لحاظ رکھو جس طرح تم اپنا اور اپنے حقداروں کا لحاظ رکھتے ہو ؟ اور جب ایسا نہیں اور یقینا نہیں اور تم لوگ اپنے حقوق میں اپنے مملوکوں کو مساوی درجہ دینے اور ان کی حصہ داری تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہو حالانکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ہمارا ہی دیا بخشا ہے تو پھر تم لوگ خدا کے حقوق میں اس کی مخلوق کو کس طرح شریک مانتے اور حصہ دار ٹھہراتے ہو ؟ سو یہ کیسی بھونڈی بات ہے کہ جس چیز کو تم لوگ اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو خدا کیلئے پسند کرتے ہو ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں اعلیٰ صفات اور برتر حقوق کا اصل حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 30:2934 خواہشات کی پیروی ہلاکت و تباہی کی راہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں کی گمراہی کے اصل سبب کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ظالم لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں بغیر کسی علم ۔ اور دلیل ۔ کے۔ اور جس کفر و باطل کو انہوں نے اپنا رکھا ہے اس کی لیے نہ کوئی علم اور دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو کسی علم وحجت اور دلیل و سند سے کوئی غرض ہی ہوتی ہے۔ ان کو تو اپنی خواہشات کی پرستش و پیروی سے غرض ہوتی ہے اور بس۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ علم و معرفت اور سند و دلیل کے بغیر محض خواہشات کے پیچھے چلنا اصل بیماری اور تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کیونکہ جو لوگ اتباع ھویٰ ۔ خواہش پرستی ۔ کے اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ پھر حق بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اندھے اور بہرے بن کر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عقل کی روشنی سے راہنمائی حاصل کرنے کی بجائے اپنے نفوس کی باگ ڈور خواہشات نفس کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور شرک جیسے ظلم عظیم میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور آنکھ بند کرکے خواہشات نفس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خواہشات نفس کی پیروی ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ اور یہ ایک ظاہر اور واضح حقیقت ہے۔ کیونکہ نجات کی راہ اتباع ہدی کی راہ ہے جبکہ اتباع ہویٰ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ والعیاذ باللہ -
35 ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں : سو ارشاد فرمایا گیا " جس کو اللہ گمراہی میں ڈال دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا "۔ اور اللہ پاک کے گمراہی میں ڈالنے کا یہی مطلب ہے کہ جب کوئی ہدایت نہیں چاہتا اور وہ راہ حق و صواب سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس کا قانون یہ ہے کہ ایسے لوگ ہدایت سے محروم کر دئے جاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَنُصلہ جَہَنَّمَ وَسَائَ تْ مَصِیْرًا } ۔ (النسائ :115) کیونکہ ہدایت کی دولت سے سرفرازی کیلئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہے۔ اور اس سے ایسے لوگ محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے کج فہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی اپنی اختیار کردہ خواہشات کے پیچھے ہی آوارہ گردی کیلئے چھوڑ دیتا ہے جسکے نتیجے میں وہ اپنی گمراہی کے اندھیروں ہی میں پڑے بھٹکتے رہتے ہیں اور ایسے کہ انکو حق و ہدایت کی راہ سوجھتی ہی نہیں اور ان کیلئے کوئی ایسا مددگار نہیں ہوسکتا جو انکو گمراہی کے ان اندھیروں سے نکال سکے یا ان کو آخرت میں انکے ہولناک اور مہلک انجام سے بچا سکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آ کر گمراہ ہوچکے ہیں ان کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلتے رہیں گے یہاں تک کہ اپنے آخری انجام سے دوچار و ہمکنار ہوں گے اور جہنم کے انتہائی ہولناک گڑھے میں گر کر اور گھر کر رہیں گے جو خساروں کا خسارہ ہے۔ اور ایسا خسارہ جو کہ اصل اور حقیقی خسارہ ہے اور جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے صلاح و فساد اور اس کے بناؤ و بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ اور یہ کہ انسان کی اصلاح کے لیے اصل چیز اور اولین بنیاد اس کی طلب صادق ہے ورنہ ہلاکت و محرومی ہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:3036 دین فطرت کو اپنانے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لازم پکڑو تم لوگ اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔ یعنی فطرۃ اللہ کا ناصب محذوف ہے جو " اِتَّبِعُوْا " یَا " اَلْزَمُوْا " جیسے کسی فعل کی صورت میں مقدر مانا جاسکتا ہے۔ اور ارشاد فرمایا گیا کہ اسی دین فطرت یعنی اسلام کو لازم پکڑو اور اسی کی پیروی کرو جس پر اللہ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے۔ یہاں پر " اَقِمْ " کا صیغہ اختیار فرمایا گیا ہے جو کہ مفرد کا صیغہ ہے۔ کہ اس کے اصل اور اولین مخاطب حضور ﷺ ہی ہیں لیکن آپ ﷺ سے یہ خطاب چونکہ امت کے وکیل اور ان کے امام و پیشوا ہونے کے اعتبار سے ہے، اس لیے یہ خطاب پوری امت کیلئے ہے۔ اسی لیے اس کے بعد کے تمام صیغے جمع کے اختیار فرمائے گئے ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اوپر کے دلائل سے جب یہ امر واضح ہوگیا کہ دین حق وہی ہے جسکی دعوت یہ پیغمبر دے رہے ہیں تو تم اس کو لازم پکڑو۔ اور یہ کوئی باہر کی چیز نہیں جسکو تم پر خواہ مخواہ تھوپا جارہا ہو بلکہ یہ تمہاری اپنی فطرت کی پکار اور تمہارے اپنے باطن کا بروز ہے جسکو تمہارے سامنے رکھا جارہا ہے۔ اس کو اپنانا فطرت کی صدا و پکار پر لبیک کہنا ہوگا اور اس سے گریز و فرار فطرت کے تقاضوں سے انحراف اور گریز و فرار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
37 دین حق فطرت سلیمہ کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی تبدیلی نہیں اللہ کی پیدائش میں۔ پس تم لوگ اس دین حق اور دین فطرت میں کوئی تبدیلی نہ کرو۔ یعنی لا تبدیل میں لاء نفی نہی کے معنی میں ہے۔ (المراغی، الصفوۃ، وغیرہ) ۔ بلکہ تم لوگ بھی اپنے ارادہ و اختیار سے اسی کو اپناؤ۔ جبکہ دوسرا قول اور احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر لاء نفی نہی کے معنی میں نہیں بلکہ اپنے ظاہر ہی پر ہے یعنی نفی کے معنی میں۔ مطلب یہ کہ اللہ پاک نے انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا بلکہ سب کو ایک ہی فطرت وجبلت پر پیدا فرمایا ہے۔ یعنی دین اسلام پر جو کہ دین فطرت ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو یہ دونوں ہی قول و احتمال اس میں موجود ہیں اور مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی رہتا ہے کہ دین فطرت دین اسلام ہی ہے۔ اسی کو اپناؤ۔ اور یہ دونوں ہی احتمال صحیح اور درست ہیں۔ سو آیت کریمہ میں موجود ان دونوں احتمالوں میں معنی یہی رہتا ہے کہ دین فطرت جس پر اللہ پاک نے سب انسانوں کو پیدا فرمایا وہ اسلام ہی ہے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں وارد ہے کہ " ہر بچہ پیدائشی طور پر اسلام ہی پر پیدا ہوتا ہے۔ آگے اس کے ماں باپ چاہے اس کو یہودی بنادیں یا نصرانی یا مجوسی "۔ سو پیدائشی طور پر ہر بچہ مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے اگرچہ وہ کسی کافر کے گھر میں ہی پیدا ہوا ہو۔ پھر آگے جیسے اس کے ماں باپ ہوں گے وہ ویسا ہی ہوجائے گا۔
38 سیدھے راستے کی تعیین و تشخیص : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے سیدھا اور درست دین جس کو خالق نے اپنی مخلوق کے لئے پسند فرمایا ہے اور جو انسانی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل وضامن ہے۔ اور جس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو لوگ اپنی نفسانی خواہشات وغیرہ کی بنا پر اس دین فطرت کو بدلنا چاہیں گے تو وہ اپنا نقصان تو ضرور کریں گے مگر اللہ پاک کی طرف سے طے کردہ اس حقیقت میں کبھی کوئی فرق نہیں آسکتا کہ مالک و معبود برحق صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس وسیع کائنات کی ہر شے اس کے حضور جھکی ہوئی اور اسی کے آگے سر بسجود ہے۔ پس تمہیں بھی اے لوگو اپنے اختیار کے دائرے میں اس حقیقت کے خلاف عمل کر کے اپنے لئے جہنم کا ایندھن فراہم نہیں کرنا چاہیئے بلکہ تمہیں صدق دل سے اس کے حضور جھک جانا اور جھکے رہنا چاہیئے۔ تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
39 اکثر لوگ جاہل ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سیدھا اور درست دین تو بہرحال یہی ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں جس کے نتیجے میں وہ اس دین حق اور دین توحید کو چھوڑ کر طرح طرح کی گمراہیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سو جہالت و بیخبر ی بیماریوں کی بیماری اور فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف سیدھا اور درست دین یہی ہے جو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور یہ اللہ تک پہنچنے کا واحد ذریعہ اور صحیح وسیلہ ہے۔ یہی وہ دین حق اور دین فطرت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز اور بہرہ مند کرتا ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو جانتی نہیں اس لیے انہوں نے اس میں بگاڑ پیدا کیا۔ اور اب وہ ممسوخ الفطرت ہو کر اسی بگاڑ پر قائم رہنا اور دوسروں کو قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ فکر و نظر کے ہر زیغ و ضلال اور ہر قسم کے انحراف سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 30:3140 اِنابت و رجوع الی اللہ کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم فطرت الہیہ یعنی اسی دین حنیف کی پیروی کرو۔ اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو۔ نماز قائم کرو اور کبھی مشرکوں سے نہیں ہونا۔ یعنی اللہ پاک کی طرف انابت و رجوع کا اصل تعلق تو دل سے ہے جو ظاہراً نظر آنے والی چیز نہیں۔ پس تم دل کی اس انابت و رجوع کے ساتھ ساتھ نماز بھی قائم کرو کہ یہ اس انابت و رجوع کا ایک کامل اور جامع ترین مظہر ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی ہمیشہ خیال رہے کہ مشرکین سے ہمیشہ اور ہر حال میں دور اور مجتنب رہو تاکہ ان کی شرکیات کے ہر دھول دھبے سے محفوظ رہ سکو۔ سو اوپر دین حق کو اپنانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی اور اب یہ انابت و رجوع الی اللہ اور تقوی و پرہیزگاری کی تعلیم و تلقین فرمائی جارہی ہے کہ محض عقلی انابت کافی نہیں بلکہ دل کی خشیت وانابت اور حدود الہی کی پابندی و پاسداری بھی ضروری ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 30:3241 مشرکوں سے اجتناب و بیزاری کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجانا جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہ اور گروپ بن گئے۔ ہر فرقہ اور گروہ اپنے اسی طریقے پر نازاں اور مست و مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ " یعنی اصل دین تو دین توحید ہی تھا جو کہ ہمیشہ سے ایک ہی دین رہا ہے اور تمام انبیاء و رسل نے ہمیشہ اسی کی دعوت دی ہے۔ مگر لوگوں نے اس پر اپنی طرف سے طرح طرح کے اضافے کرکے اس کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ طرح طرح کے طریقے اور دین گھڑ لئے اور وہ ان پر اس طرح جم گئے کہ اس کے خلاف حق بات سننے تک کو تیار نہیں ہوتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کا اولین اور واضح مصداق مشرکین قریش ہیں جنہوں نے اس دین حنیف کو جو ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے ملا تھا بگاڑ کر کچھ کا کچھ کردیا تھا اور دین توحید کو دین شرک کا ایسا ملغوبہ بنادیا تھا کہ خدائے واحد کی عبادت و بندگی کرنے کی بجائے انہوں نے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا تھا اور سینکڑوں بت گھڑ کر بیت اللہ میں رکھ دیئے تھے۔ اور ہر کوئی اپنے من پسند اور من گھڑت بت پر ایسا فریفتہ اور مست و مگن تھا کہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہوتا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد کا اولین مصداق اگرچہ مشرکین مکہ ہی تھے لیکن الفاظ و کلمات کے عموم و شمول کے مطابق ہر دور اور ہر ملک و قوم کے مشرک اس میں شامل اور داخل ہیں۔ سو اس ارشاد ربانی میں شرک اور مشرکوں سے اجتناب اور بیزاری کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور یہ بات مشرکوں کی بجائے مسلمانوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمائی گئی کہ مشرک اپنے شرک کے باعث اس قابل نہیں کہ ان سے براہ راست خطاب کیا جائے۔ اس لیے اپنوں کو خطاب کرکے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ان مشرکوں سے کوئی لگاؤ نہیں رکھنا کہ انہوں نے یہ ساری چیزیں برباد کردیں جو دین قیم کے لوازم میں سے ہیں۔ سو کفر و شرک باعث ذلت و خواری ہے اور ایمان و توحید وسیلہ نجات و سرفرازی ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 30:3342 مصیبت کے وقت مشرکین کا رجوع الی اللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں "۔ اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سو یہ اسی اصل اور فطرت کی پکار اور اس کا اظہار ہے جو اللہ پاک نے انسان کے اندر ودیعت فرما رکھی ہے کہ اس وقت مشرک لوگ اپنے تمام معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتے ہیں کہ ان کے تحت الشعور میں یہ حقیقت پیوست و جاگزین ہوتی ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا اللہ ہی ہے۔ مشکلوں اور مصیبتوں کو ٹالنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ مشکل و مصیبت کے ایسے وقت میں بھی اللہ تعالیٰ کی بجائے اس کی کسی عاجز اور فانی مخلوق ہی کو پکارتا ہے جسکے مظاہر جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ العظیم ۔
43 مشرکوں کا معاملہ نعمت ملنے کے بعد ؟ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نعمت ملنے کے بعد مشرکوں کا معاملہ پھر اپنے شرک کی طرف عود کر جانا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اللہ ان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں کا ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے "۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دنیا میں جو بھی کچھ کسی کو ملتا ہے وہ محض مزہ چکھانے کے طور پر ہوتا ہے۔ مثلاً کچھ مال مل گیا یا کسی طرح کا کوئی اقتدار وغیرہ حاصل ہوگیا۔ بہرکیف " اذاق " کے اس لفظ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ دنیا میں انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے یا اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ محض ایک قسم کا ذائقہ چکھانا ہوتا ہے ورنہ اس کا اصل اور کامل ظہور اور پورا بدلہ تو آخرت ہی میں ملے گا۔ پس عقل مند اور ہوش مند انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی نظر اس دنیا میں ملنے والے عارضی اور وقتی فائدوں کی بجائے آخرت کی حقیقی اور دائمی جزا و سزا پر رکھے اور رجوع ہمیشہ اللہ پاک ہی کی طرف رکھے کہ اس دنیا میں کسی کو بھی جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لیے انسان نعمت کے ملنے اور اس کے باقی رہنے کے سلسلے میں اللہ ہی کی طرف رجوع رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کی مشرکانہ ذہنیت اور مشرکانہ طور طریقوں کی وضاحت فرما دی گئی کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب یہ کسی گرداب بلا میں پھنستے ہیں تو نہایت نیازمندی اور تذلل و عاجزی کے ساتھ اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں۔ لیکن جب وہ ان کو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے تو یہ اس کو بھول کر اپنے انہی معبودان باطلہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن کو انہوں نے از خود اس کا شریک ٹھہرا رکھا ہوتا ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ ناشکری اور بےانصافی کا ارتکاب کر کے اپنے لیے ہلاکت اور تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
44 مشرکوں کی ناشکری اور اس کے مختلف مظاہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مصیبت سے نجات پاتے ہی ایسے لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں "۔ چناچہ ایسے لوگ اس طرح کے موقع پر کہتے ہیں کہ صاحب ہمیں تو فلاں ہستی نے بچایا۔ وہ ہمارے مشکل کشا، حاجت روا اور نجات دہندہ ہیں۔ ہمیں جو کچھ ملا تو یہ فلاں نے دیا۔ یہ انہی کی مہربانی اور کرم ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کے لئے اظہار تشکر کے طور پر غیر اللہ کے نام کے بکرے کاٹے جاتے ہیں۔ نیازیں دی جاتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ دیگیں پکائی جاتی ہیں۔ پھیرے مانے جاتے ہیں۔ طواف کئے جاتے ہیں۔ ڈالیاں پیش کی جاتی ہیں اور انہی " سرکاروں " کو خوش کرنے کے لئے ہر کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ پاک کی رضا اور ناراضگی کی بھی بسا اوقات کوئی پروا نہیں کی جاتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ مشرکوں کی ناشکری اور مت ماری کا ایک عمومی مظہر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے شکر سے سرفراز رکھے اور ناشکری کی ہر صورت سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 30:3445 شرک کا نتیجہ کفران نعمت : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ایسے موقع پر یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اس طرح یہ لوگ کفر کریں ہمارے بخشی ہوئی نعمتوں کے ساتھ۔ معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی عنایت فرمودہ کسی نعمت کو اس واہب مطلق کی بجائے اس کی مخلوق میں سے کسی کی طرف منسوب کرنا اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے توجہ ہٹا دنیا کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ منعم حقیقی کو بھول کر اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرنا کفر اور ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ سو ایسوں سے نہایت تند لہجے میں ارشاد فرمایا گیا کہ میری نعمتوں پر دوسروں کے گن گانے والو ! تم لوگ کچھ عرصہ تک مزے کرلو۔ عنقریب ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تم لوگوں کو اس کا کس قدر ہولناک خمیازہ بھگتنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ نعمت تو پاتے ہیں خدا سے لیکن گن گاتے ہیں ان دوسروں کے جن کا اس نعمت کی بخشش و عطا میں سرے سے کوئی عمل دخل ہوتا ہی نہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 30:3546 شرک کی تردید کے لیے مشرکوں سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے ان پر ایسی کوئی سند اتاری ہے جو انکے شرک کے حق میں گواہی دے رہی ہو ؟۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کسی نقل صحیح یا عقل سلیم کی کوئی سند و دلیل ایسی ہے ہی نہیں جو تمہاری ان مزعومات کی تصدیق و تائید کرسکے ؟ قرآن و سنت کی ایسی کوئی نص اگر تمہارے پاس موجود ہے تو اس کو پیش کرو۔ اور اگر نہیں ہے، اور یقینا نہیں ہے، تو پھر تم لوگ کیوں شیطان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہو ؟ اور کیوں ان شرکیات کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر ظلم ڈھا رہے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شرک کے جواز کیلئے کسی سند اور دلیل کا کوئی سوال نہیں پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل اور بنیادی سبب انسان کی غفلت اور اس کی لاپرواہی ہے۔ جب کبھی اس کو قدرت کی طرف سے کسی مصیبت اور مشکل کے ذریعے تنبیہ و تذکیر کی جاتی ہے تو اس سے اس کی غفلت کا پردہ ہٹ جاتا ہے اور وہ اللہ کی طرف رجوع ہوجاتا ہے۔ سو اس اعتبار سے مصیبت بھی انسان کے لیے قدرت کی ایک خاص رحمت اور عنایت ہوتی ہے جبکہ بندہ اس پر صبر و برداشت سے کام لے اور اس سے سبق لینے کے لیے تیار ہو۔ ورنہ باعث خسارہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کو تکلیف اور مصیبت کبھی مانگنی نہیں چاہیے بلکہ ہمیشہ عافیت ہی مانگے اور اسی کا سوال کرے۔ لیکن جب مصیبت آجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس پر صبر و برداشت سے کام لے ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید -
Ayah 30:3647 ہر نعمت اور رحمت اللہ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھا دیتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں "۔ سو اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ رحمت سے تو اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے البتہ تکلیف اور مصیبت جو پیش آتی ہے وہ انسان کے اپنے اعمال کی شامت اور اس کے اپنے کئے کے نتیجے میں ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہم لوگوں کو کسی رحمت اور نعمت سے نواز دیتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں اور اپنے آپکو بہت کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اور حق سے منہ موڑ کر اترانے اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ نعمت اور تکلیف کی جو بھی کوئی حالت کسی انسان کو پیش آتی ہے وہ اصل میں اس کے امتحان اور ابتلاء و آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔ نعمت ملنے پر اس کی صفت شکر کی آزمائش ہوتی ہے اور تکلیف پہنچنے پر ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کی صفت صبر کی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ اور صبر و شکر کی ان دونوں صفتوں ہی سے انسان کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین
48 مادہ پرست انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ " جب اس کو کوئی نعمت ملتی ہے تو یہ بھول جاتا ہے اور جب کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ مایوس ہوجاتا ہے "۔ سو یہ ہے دنیا کے طالب اور مادہ پرست انسان کی نفسیات اور اس کی ذہنیت کہ اگر دنیائے دوں کی کوئی نعمت مل گئی تو یہ اس پر پھول گیا۔ اور کوئی تکلیف پیش آگئی تو یہ آس توڑ بیٹھا بخلاف اس مرد مومن کے جو حلاوت ایمان سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے کہ وہ نعمت ملنے پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہے۔ تو اس طرح وہ اس کے لئے خیر بن جاتی ہے۔ اور تکلیف پہنچنے پر وہ صبر و ضبط سے کام لیتا ہے تو اس طرح وہ نعمت بھی اس کے لئے باعث خیر و برکت بن جاتی ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ " مومن کی شان بھی عجیب ہے کہ اس کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے ۔ اور یہ شان مومن کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ اگر اس کو کوئی نعمت ملتی ہے تو اس پر یہ اللہ کا شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لئے خیر بن جاتی ہے۔ اور اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس پر یہ صبر کرتا ہے تو بھی وہ اس کے لئے خیر بن جاتی ہے "۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی وہ دولت ہے جسکے بعد انسان کو اگر دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کی صورت میں اگر کسی کو دنیا ملے تو بھی عذاب اور نہ ملے تو بھی عذاب کہ ایسا شخص دنیاوی دولت ملنے پر عجب و استکبار میں مبتلا ہو کر طرح طرح کی خرمستیاں کرنے لگتا ہے۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے دور اور محروم سے محروم تر ہوجاتا ہے۔ اور دنیاوی دولت نہ ملنے کی صورت میں وہ جزع و فزع کرنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خودکشی کر کے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ والعیاذ باللہ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو کما یحب ویرید ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 30:37–3849 مالداروں کے مال میں دوسروں کے حقوق ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " مالداروں کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں "۔ سو فرمایا گیا پس تم ۔ خوشی خوشی ۔ دے دیا کرو رشتہ داروں کو اس کا حق "۔ یعنی جب روزی کی کشائش اور اس کی تنگی دونوں اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں تو پھر تمہیں نہ تو کسی اور کے در پر بھیک مانگنے اور لجاجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی کے خوف اور خطرے کی کوئی پروا۔ پس تم اللہ کے بندوں کے وہ حقوق پوری طرح ادا کردیا کرو جو اس نے تمہارے مالوں میں رکھ دئیے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اوپر آیت نمبر 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر فرمایا جاچکا ہے۔ اس کے بعد مقام کی مناسبت سے بعض ضروری تنبیہات ذکر فرمائی گئیں، جن میں آخری تنبیہ یہ تھی کہ جس کو رزق کی فراوانی حاصل ہو تو اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو اپنی جدی پشتی میراث یا اپنا ذاتی کمال سمجھنے لگے۔ بلکہ اس کو چاہیئے کہ وہ اس کو اپنے خالق ومالک کا عطیہ و احسان سمجھ کر دل و جان سے اس کا شکر ادا کرے اور اس کو اس کی رضا و خوشنودی کی راہ میں خرچ کرے جس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس مال میں سے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دے۔ سو مالداروں کے مال میں ان لوگوں کا حق ہے۔ لہذا مالدار لوگوں کو اہل حقوق کے حقوق پورے اہتمام سے ادا کرنے چاہئیں ۔ وباللہ التوفیق -
50 حق داروں کو ان کے حقوق دینے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم دے دیا کرو رشتہ داروں کو ان کا حق "۔ یعنی ان لوگوں کو دے کر تم ان پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ اس طرح تم ان کا وہ حق ادا کر رہے ہو جو تمہارے ذمے عائد ہوتا ہے اور جو اللہ پاک آزمائش کی غرض سے اور خود تمہارے بھلے کے لئے تمہارے ہاتھ سے ان کو دلوانا چاہتا ہے۔ ورنہ وہ اگر چاہے تو یہ تمام اموال تم سے چھین کر خود ان کے حوالے کر دے مگر اسنے اپنے کرم بالائے کرم سے ان کا مالک تم کو بنادیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ حقوق تمہارے ذریعے اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو ملیں تاکہ اس طرح خود تمہارا بھلا ہو ۔ فسبحان اللہ والحمد للہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں وارد لفظ " حقہ " سے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسکو مال و دولت میں کشادگی عطا فرماتا ہے، اس میں دراصل دوسروں کے حقوق بھی ہوتے ہیں جو ایسے شخص کے ذمے امانت ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔ اور اگر اس نے اس میں کوتاہی برتی تو وہ حقوق کا غصب کرنے والا ٹھہرے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ خدا کی رضا کے طالب ہوتے ہیں ان کیلئے بہتر طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے اموال پر عائد ہونے والے ایسے حقوق کو صدق دل سے ادا کریں۔ اور ایسے ہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے بنیں گے۔ سو اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اس کے برعکس اپنے مال کو فخر و غرور یا عیش و تنعم یا ذخیرہ اندوزی وغیرہ کا ذریعہ بنائیں گے، ان کا مال خدا تعالیٰ کے یہاں ان کے لیے وبال و خسران کا ذریعہ بنے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ضیاع و خسران کے ہر راستے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
51 اللہ کی رضا چاہنے والے ہی فلاح پاتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں وہی ہیں فلاح پانے والے کہ دنیا میں ایسے لوگوں کو حقیقی عزت و احترام کے علاوہ راحت نفس اور اطمینان قلب و ضمیر کی دولت بھی نصیب ہوگی اور آخرت میں ایسے لوگ سدا بہار نعمتوں او دائمی کامیابی سے ہمکنار و سرفراز ہوں گے جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ایمان و یقین سے سرفرازی کی صورت میں دنیاوی مال و دولت کا ملنا انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنتا ہے، ورنہ یہی مال ہلاکت و تباہی اور وبال و خسران کا باعث بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل دولت جیسا کہ اس سے پہلے بھی مختلف مقامات پر گزرا ایمان و یقین کی دولت ہے۔ اس کی موجودگی میں اگر دنیاوی مال و دولت ملے تو بھی خیر اور اگر نہ ملے تو بھی خیر۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ بہرکیف اس سے یہ اہم درس ملتا ہے کہ ہمیشہ رضاء خداوندی ہی کو اپنا نصیب العین بنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 30:3952 لفظِ { ربوا } کا مفہوم اور اس کی حقیقت کا بیان : بعض مفسرین کرام کے نزدیک یہاں پر اس " ربوا " ۔ زیادتی ۔ سے مراد اصطلاحی سود نہیں کہ اس کی حرمت تو مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ یہ سورة کریمہ مکی ہے۔ بلکہ اس سے مراد ہر وہ مال ہے جو دوسروں کو اس غرض سے دیا جائے کہ وہ اس کے بدلے میں اسے بڑھا کر واپس کریں۔ جیسا کہ اس غرض کے لئے دیا جانے والا کوئی ہدیہ اور نیوتہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ طریقہ ان مکارم اخلاق کے خلاف ہے جو اسلام اپنے پیروکاروں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا یہ اگر حرام نہ بھی ہو تو بھی یہ مذموم ضرور ہے۔ اور پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی عظمت شان کے پیش نظر ان کے لئے تو سرے سے جائز ہی نہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَلا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ } ۔ بہرکیف یہ حضرات اہل علم کے ایک حلقے کی رائے ہے۔ جبکہ دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ " ربوا " کا لفظ یہاں پر اپنے معروف معنی و مفہوم ہی میں ہے۔ اور معروف " ربوا " کی قطعی اور تفصیلی حرمت اگرچہ ہجرت نبوی کے بعد اور مدنی دور میں ہی نازل ہوئی۔ لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ خبیث عمل اسلام میں پہلے سے ہی حرام قرار پانے کے لائق تھا۔ جیسا کہ نماز وغیرہ کے احکام اپنی جامع اور کامل شکل میں تو اگرچہ مدینہ طیبہ میں ارشاد فرمائے گئے مگر ان کی اصل مکہ مکرمہ میں بھی محمود و مطلوب تھی۔ اور حق یہ ہے کہ لفظ " ربوا " کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا جائے جو ِ " ربوا " کی ان دونوں قسموں کو عام اور شامل ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالی ۔ یہاں پر دو اور باتیں بھی بطور خاص اہمیت کے قابل ہیں۔ ایک یہ کہ لفظ ِ " ربوا " کا ترجمہ عام طور پر " سود "، " منافع " اور profit جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے جن کے معانی میں فائدے اور نفع ہی کا مفہوم پایا جاتا ہے جس سے سود کی خطورت اور خباثت کا کوئی اظہار نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ یہ اتنی خبیث اور مہلک چیز ہے کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اور یوں لفظِ ِ " ربوا " کا اصل معنی و مفہوم منافع اور سود نہیں کہ سود کے معنی بھی منافع کے اور فائدے کے آتے ہیں۔ بلکہ " ربوا " کا اصل مفہوم ہے " بڑھوتری "، " اضافہ " اور " زیادتی " وغیرہ۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ " زیادتی " کے لفظ سے کیا تاکہ اس کی خطورت اور خباثت کا بھی کسی حد تک اور بقدر امکان اظہار ہوسکے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ کو اپنانا اور ضرورت مندوں کی ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھانے سے بڑھ کر زیادتی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری بات جو یہاں پر بطورخاص توجہ کے لائق ہے وہ آیت کریمہ کے یہ الفاظ ہیں { فی اموال الناس } یعنی تم لوگ جو اپنا مال دوسروں کو اس لئے دیتے ہو کہ وہ دوسروں کے مالوں میں شامل ہو کر تمہارے لئے بڑھ جائے اور زیادہ بن کر واپس تمہاری طرف لوٹے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا سانڈھ دوسرے کی چراگاہ میں چھوڑ دے تاکہ وہ وہاں سے چر کر اور موٹا ہو کر مالک کے پاس واپس آئے۔ سو اسی طرح سود خور انسان اپنا مال دوسرے کے مال میں ڈال کر اس کے ذریعے دوسروں کے مالوں کو کھینچنے، سمیٹنے اور اپنے مال کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح سود خور عناصر اپنی سودخوری کے ذریعے دوسروں کا خون چوستے ہیں جس سے امیر طبقہ امیر تر ہوتا جاتا ہے اور غریب طبقہ غریب تر۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ سود کی ہر شکل و صورت سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
53{ ربوا } ۔ سود ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑھوتری کا ذریعہ نہیں بنتا : بلکہ وہ اپنی خباثت باطنی کے باعث خیر و برکت سے محروم اور مٹنے ہی کے لائق ہے اگرچہ ظاہر میں وہ کچھ ہی نظر آئے۔ مال جمع کرنے کی خواہش بالعموم مستقبل کے اندیشوں کے پیش نظر ہوتی ہے لیکن مادہ پرست اور دنیا دار انسان مستقبل کو بہت تنگ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس بنا پر اس کی نظر اسی دنیاوی زندگی اور اس کے فانی مفادات ہی تک محدود ہوتی ہے حالانکہ اصل مستقبل آخرت کی وہ زندگی ہے جو کہ حقیقی بھی ہے اور دائمی اور ابدی بھی۔ اور جس کیلئے کمائی اسی دنیاوی زندگی میں کی جاسکتی ہے۔ اوپر کی آیت کریمہ میں جو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا تھا اس کے مقابلے میں اس آیت کریمہ میں اس کے ضد کردار کو بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی میں خرچ کرنے کی بجائے ان کو دوسروں کے مال کھینچنے میں لگا دیتے ہیں اور وہ دوسروں کا بھلا کرنے کی بجائے مال پروری کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور اپنے مال کو سودی قرض کے طور پر دوسروں کا خون چوسنے لگ جاتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کا مال اس دنیا میں اور کچھ مدت کے لیے ہوتا ہو تو ہو لیکن اللہ کے یہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ ایسے مال کو مٹاتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو اصل فائدہ صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے مال کو دنیا کے بینکوں کی بجائے خدا کے بینک میں جمع کرائے تاکہ وہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں اس کو کئی گنا ہو کر ملے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
54 اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال ہی اصل میں بڑھتا ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہی حقیقت میں اپنے مالوں کو بڑھانے والے ہیں۔ کتنے گنا بڑھانے والے ہیں ؟ اس کی یہاں تصریح نہیں فرمائی گئی کہ اس کا تعلق دراصل اخلاص نیت، خرچ کرنے کے احوال و ظروف اور اللہ پاک کے کرم بےپایاں اور رحمت و عنایت سے ہے۔ اس لئے اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ قادر مطلق اس کو کس قدر اور کتنے گنا بڑھا کر دے گا ؟ اور وہ کتنے گنا بڑھ کر اس کو واپس ملے گا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی حلال اور پاکیزہ کمائی میں سے اخلاص نیت کے ساتھ ایک کھجور کے دانے کے برابر بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ پاک اس کو اپنے داہنے ہاتھ سے قبول فرماتا ہے۔ اور پھر اس کو وہ اس طرح پالتا اور بڑھاتا جاتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو وہ احد پہاڑ کے برابر کردیتا ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس شان کرم کے۔ سو انسان کو اس کے مال کا اصل اور حقیقی فائدہ اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جبکہ وہ اپنے مال کو دنیا کے بینکوں میں جمع کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے بینک میں جمع کرائے تاکہ وہ اس کو اس کی اصل حقیقی اور ابدی زندگی میں کام آئے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ایک تاجر یا کاروباری شخص جو اپنے سرمائے کو کسی جائز تجارت یا کاروبار میں لگا کر اپنے مال کو بڑھاتا ہے، اس کے سرمائے میں اور ایک سودخور کے اس سرمائے میں جو وہ اپنا حصہ سود پر قرض دے کر حاصل کرتا ہے یہ بنیادی فرق ہے کہ تاجر کا سرمایہ ہر قسم کے حالات اور خطرات کا مقابلہ کرکے خود اپنی چراگاہ میں فربہی اور توانائی حاصل کرتا ہے۔ جبکہ سودخور کا سرمایہ ایک کمین گاہ میں چھپ کر کوئی خطرہ مول لیے بغیر ضرورتمندوں کی ضرورتمندی سے فائدہ اٹھا کر موٹا ہوتا ہے۔ سو ان دونوں کے اسی بنیادی فرق کی بنا پر اسلام نے تجارت اور کاروبار کی بڑھوتری کو حلال اور مبارک قرار دیا ہے اور سود کی بڑھوتری کو حرام اور فاسد ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:4055 توحید کے بعض دلائل انفسی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا اور تمہیں وجود بخشا۔ پھر اسی نے تمہاری روزی کا انتظام فرمایا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا اور زندگی بخشتا ہے "۔ تو کیا تمہارے ان شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے سوا کسی بھی اور کیلئے عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کس طرح جائز ہوسکتی ہے ؟ سو یہ توحید خداوندی کے بعض وہ دلائل ہیں جو خود تمہاری جانوں کے اندر موجود ہیں۔ تمہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم خود اپنے ہی حالات میں غور کرکے دیکھ لو۔ اس کے نتیجے میں تمہارے دل و دماغ نور توحید سے معمور ومنور ہوجائیں گے۔
Ayah 30:4156 لوگوں کے اعمال کا کچھ بدلہ اسی دنیا میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فساد پھیل گیا خشکی اور تری میں لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر۔ تاکہ اللہ انکو مزہ چکھائے انکے کچھ اعمال کا "۔ معلوم ہوا کہ اعمال کی اصل اور کامل سزا و جزا تو اگرچہ انسان کو آخرت ہی میں ملے گی لیکن اس کا کچھ اثر یہاں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ نیکی کا بدلہ نیکی اور برائی کا بدلہ برائی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب لوگ اپنے اعمالِ بد سے زندگی کے ہر شعبے کو فساد سے بھر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے ان کرتوتوں کا کچھ مزہ ان کو اسی دنیا میں چکھا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے بحر و بر یعنی خشکی و تری اور لوگوں کی انفرادی و اجتماعی اور اعتقادی و عملی زندگی کے ہر میدان میں فساد پھیل چکا ہے اور فکر و نظر کی صحت کا تمام تر انحصار اللہ تعالیٰ پر ایمان اور عمل کی ساری استقامت اسلام پر مبنی ہے اور یہ دونوں چیزیں باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی فقدان دوسرے کے فقدان کو مستلزم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان دونوں کے فقدان کے نتیجے میں بحر و بر اور زندگی کے ہر شعبے میں فساد کا غالب آجانا ایک طبعی اور منطقی امر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
57 عذاب الہی کا مقصد تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فساد پھیلانے والوں پر اللہ عذاب بھیجتا ہے تاکہ وہ انکو انکے کیے کرائے کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ یہ لوگ لوٹ آئیں حق اور حقیقت کی طرف "۔ سو اس سے تکلیف اور مصیبت کے اس فلسفے پر روشنی پڑتی ہے جو اس کے اندر موجود اور پس پردہ کارفرما ہوتا ہے کہ اس سے دراصل انسان کو سبق سکھانا اور اس کو اس کی غلط روش سے باز رکھنا مطلوب ہوتا ہے۔ اور یہ کہ وہ لوٹ آئے راہ حق و صواب کی طرف۔ سو قوموں پر پہلے تنبیہی عذاب بھیجا جاتا ہے اور پھر فیصلہ کن عذاب۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اگر تنبیہی عذاب سے ان کی آنکھیں نہ کھلیں اور انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو پھر فیصلہ کن عذاب کے ذریعے ان کا ہمیشہ کے لیے صفایا کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قوم عاد اور ثمود وغیرہ کا ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 30:4258 ہلاک شدہ قوموں پر نگاہ عبرت ڈالنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ چلو پھرو زمین میں تاکہ تمہارے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ شرک اور مشرکوں کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی زیادہ تر لوگوں کی تباہی شرک کی نحوست ہی کی وجہ سے ہوئی۔ کیونکہ ان میں کے اکثر مشرک ہی تھے۔ معلوم ہوا کہ شرک کا جرم اور اس کی نحوست سب سے بڑھ کر ہے اور اس کا انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آج توحید کی دعویدار و علمبردار امت مسلمہ میں بھی کتنے ہی لوگ ہیں جو طرح طرح سے اسی جرم کے مرتکب اور اسی گناہ میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی بنا پر یہاں { سیروا فی الارض } کے حکم و ارشاد سے پہلی قوموں کے عبرتناک انجاموں کو دیکھنے اور ان سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر اور گزشتہ قوموں کے آثار و نشانات میں نگاہ عبرت ڈال کر دیکھ لو کہ وہ آخر کار کس انجام سے درچار ہوئیں۔ ان میں اکثریت مشرکوں کی تھی۔ سو کفر و شرک فساد و بگاڑ کی سب سے بڑی اور بنیادی شکل ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 30:43–4561 قیام قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو نوازنا : سو قیام قیامت کی غرض وغایت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے نوازے "۔ یعنی جنت تو انسان کو اپنے اعمال کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے ملے گی۔ ورنہ ہمارے تو زندگی بھر کے تمام نیک اعمال تو اللہ پاک کی ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتے جن سے ہم لوگ اس دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور پھر انسانی اعمال تو بہرحال محدود ہیں جبکہ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ابدی اور لامحدود۔ تو وہاں کی لامحدود نعمتیں ان محدود اعمال کا صلہ اور بدلہ کس طرح ہوسکتی ہیں ؟ سو جنت محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوگا جس سے وہ اپنی رحمت و عنایت کی بنا پر اپنے خاص بندوں کو نوازے گا۔ البتہ اس عنایت و نوازش کا ذریعہ و سبب ایمان اور عمل صالح کی پونجی ہی ہوگی۔ سو اس آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ قیام قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو ان کے بدلہ و جزا سے نوازنا ہے کفار کو سزا دینا اس کا اصل مقصد نہیں۔ بلکہ اس کا لازمی اور طبعی نتیجہ ہے جو کہ ان کے اعمال کے پیمانے سے تول کر نہیں ملے گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے مطابق ملے گا اور اللہ کا فضل ایسی چیز ہے کہ اس کا اندازہ ہم اپنے پیمانوں اور قیاسوں سے نہیں کرسکتے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -