27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ نیست ہوگیا ان کا علم آخرت کی حقیقت اور عظمت شان کے بارے میں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ اس کے بارے میں اندھے ہیں

76{ اِدَّارَکَ علمہم } کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی نیست ہوگیا ان کا علم آخرت کے بارے میں۔ اور یہ { ادارک } کا ایک معنیٰ ہے ۔ " اَیْ فنی واضمحل علمہم فی الاخرۃ " ۔ (ابن کثیر، مدارک، کبیر، جواہر، معارف وغیرہ) ۔ یعنی یہ لوگ چونکہ آخرت کے بارے میں لاپرواہ اور بےفکر ہیں اس لیے یہ اس کیلئے سوچنے اور غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہ بطن و فرج کی شہوات میں ایسے مشغول و منہمک ہیں کہ محض حیوان بن کر رہ گئے ہیں۔ اور بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کے سوا اور کسی بات کیلئے یہ سوچنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے آخرت کے بارے میں ان کا علم مٹ گیا۔ { ادارک } اصل میں " تدارک " ہے۔ جیسے " اثاقل " اصل میں " ثقاقل " ہے۔ تعلیل اور ادغام کے معروف قاعدے کے مطابق یہ " ادارک " بن گیا۔ اور " تدارک القوم " کے معنیٰ ہوتے ہیں کہ قوم کے آگے پیچھے سب ایک جگہ اکھٹے ہوگئے۔ باہم مل گئے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { حتی اذا ادارکو فیہا جمیعا } ۔ (الاعراف : 38) ۔ یعنی " یہاں تک کہ جب وہ سب اس میں ۔ یعنی دوزخ میں ۔ اکھٹے ہوجائیں گے "۔ اور یہیں سے اس میں اختلاط اور گڈمڈ ہونے کے معنیٰ پیدا ہوگئے۔ تو اس اعتبار سے معنیٰ ہوں گے کہ یہ لوگ قیامت کے بارے میں الجھن میں پڑے ہیں۔ کسی واضح عقیدے پر قائم نہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ اور۔ اور اس کے معنی " تَکَامَلَ وَاسْتَحْکَمَ " کے بھی کئے گئے ہیں۔ یعنی اسباب و دلائل اس کے لئے سب جمع کر دئے گئے۔ اب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ حق پوری طرح واضح ہوگیا ہے۔ نیز ان کے پاس ایمان و یقین کا تحقق و وقوع اپنی کامل اور آخری شکل میں اس وقت ہوگا جبکہ یہ لوگ اس عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس لئے اس ماضی کو مضارع کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَأْتُوْنَنَا } ۔ (مریم :38) یعنی " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے یہاں حاضر ہوں گے "۔ مگر اس وقت کا یہ جاننا اور ماننا ان کو کچھ کام نہ دے گا۔ (جامع البیان، ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) کہ وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ایمان بالمشاھدہ ہوگا۔ جبکہ اصل مطلوب ایمان بالغیب ہے نہ کہ علم مشاہدہ۔ 77 اِنکارِ حق کی اصل علت کی نشاندہی : سو حق سے اعراض اور اس کی تکذیب پر اصل علت کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ یہ لوگ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ اور جس طرح اندھے کو کچھ دکھتا سوجھتا نہیں اسی طرح ان کو بھی آخرت کے بارے میں کچھ نہیں سوجھتا۔ اور حق کی صاف اور سیدھی راہ ان کو نظر نہیں آتی کہ انہوں نے اپنی آنکھوں پر ضد اور ہٹ دھرمی کی پٹی باندھ رکھی ہے۔ اور حق کے سننے سے اپنے کانوں کو انہوں نے بند کر رکھا ہے جس کا لازمی اثر اور طبعی نتیجہ یہی محرومی اور اندھا پن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور آخرت کو ماننے کے نتیجے میں چونکہ ان پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں جس کیلئے یہ تیار نہیں اس لیے یہ دلائل وبراہین میں غور و فکر سے کام لینے کی بجائے آخرت اور اس کے تقاضوں سے اندھے بن گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ احقاقِ حق اور اثبات باطل کے ان کھلے اور روشن دلائل کے باوجود اگر یہ لوگ حق کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اس لیے نہیں کہ ان کے لیے اس بارے کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ بلکہ یہ لوگ آخرت کے بارے میں سخت ذہنی الجھن میں مبتلا ہیں۔ بلکہ یہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہیں۔ بلکہ یہ اس کی طرف سے اندھے بنے ہوئے ہیں تاکہ یہ لوگ عقیدئہ آخرت کے نتیجے میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے بچ کر خالص حیوانی زندگی گزار سکیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر وباطل پر کہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے ہم بھی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہمیں پھر زندہ کر کے قبروں سے نکالا جائے گا ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا وعدہ تو ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی ہوتا چلا آیا ہے یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی

78 اور کہتے ہیں کہ یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی : یہی تعجب اور یہی منطق آج بھی بہت سے لوگوں کا طرہ امتیاز ہے۔ مگر یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ پاک کے یہاں ایک قانون مہلت و امہال ہے۔ اور ہر چیز کا اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ فوراً کرسکتا ہے۔ مگر اس کا قانون اور دستور یہ ہے کہ ہر چیز کا تحقق و وقوع اس کے وقت مقرر کے ساتھ مربوط ہے۔ جس طرح شادی کے بعد بچے کا پیدا ہونا۔ پھر اس کا جوانی اور بڑھاپے کو پہچنا۔ دن رات کا اپنے اپنے وقت پر آنا جانا، سورج کا چڑھنا ڈوبنا، ہر درخت اور پودے کا بڑھنا اور پھل پھول دینا وغیرہ وغیرہ ہر چیز اپنے وقت مقرر کے ساتھ مربوط ہے اس سے پہلے نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح قیامت کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ وہ اس سے پہلے نہیں آسکتی۔ اور اس کے اس وقت کا علم اللہ پاک ہی کو ہے۔ پھر ایسے لوگ اس کے لئے یہ مطالبہ آخر کیوں کرتے ہیں کہ اس کو اپنے وقت سے پہلے ابھی لا کر دکھاؤ جبکہ دنیا ساری میں اس کا قانون امہال و تاجیل ہر طرف جاری وساری ہے۔ بہرکیف ان منکرین کا کہنا تھا کہ اول تو قیامت کا بپا ہونا ہی بعید از قیاس ہے۔ بھلا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم دوبارہ کس طرح اٹھائے جائیں گے۔ اور دوسری بات یہ کہ ایسا اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کہا جاتا رہا لیکن یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا۔ لہذا یہ ایسی کہانیاں ہیں جو پہلوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور بس۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

ان سے کہو کہ تم لوگ چلو پھرو اللہ کی عبرتوں بھری اس زمین میں پھر دیکھو کہ کیسا ہوا انجام مجرموں کا ؟

79 مجرموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ چل پھر کر دیکھو کہ کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ سو جس طرح ان کے انجام کے بارے میں انبیائے کرام کی خبریں سچی ثابت ہوئیں اسی طرح قیامت کے بارے میں بھی یقیناً سچ ثابت ہوں گی۔ سو یہ ان لوگوں کے اندھے پن کا علاج بیان فرمایا گیا ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یعنی تم لوگ عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر دیکھو اور پچھلی قوموں کے آثار و انجام پر نگاہ عبرت ڈالو کہ اللہ کے رسولوں نے ان کو جس عذاب سے ڈرایا تھا وہ کس طرح ان پر آکر رہا۔ سو اس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس عذاب سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے وہ اگلوں کے افسانے نہیں بلکہ قطعی حقیقت ہے۔ جس نے اپنے وقت پر بہرحال ظاہر ہو کر رہنا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے مجرموں کے انجام سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ مجرم لوگوں کو ڈھیل جتنی بھی ملے وہ بہرکیف ایک مہلت اور ڈھیل ہی ہوتی ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ سو عقل و خرد کا تقاضا ہے کہ مجرموں کے انجام سے درس عبرت لیا جائے اور اپنے فساد و بگاڑ کی کوشش کی جائے قبل اس سے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور نہ غم کھاؤ آپ ان لوگوں پر اور نہ کسی تنگی اور گھٹن میں پڑو ان کی ان چال بازیوں کی بناء پر جو یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں

80 پیغمبر کو تسلیہ و تسکین کی تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " نہ ان پر غم کھاؤ اور نہ ان کی چالبازیوں سے تنگی میں پڑو "۔ یعنی نہ تو آپ فرط شفقت کی وجہ سے ان کے بارے میں غم میں پڑیں کہ آپ نے نصیحت و خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کی وجہ سے آپ دل تنگ ہوں کہ یہ لوگ اپنے کئے کرائے کے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ بہرکیف اس میں حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ ﷺ ان کیلئے بھلا کر رہے ہیں اور یہ برا مانگ رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کیلئے خیر چاہتے ہیں اور یہ شر مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ ان کو روٹی دے رہے ہیں اور یہ پتھر مانگتے ہیں۔ سو یہ ان کی اپنی بدبختی اور محرومی ہے۔ آپ ﷺ اپنا فرض ادا کرکے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ یہ اپنے انجام کو خود پہنچ کر رہیں گے بقول اکبر الہ آبادی مرحوم ۔ آگ ان کی خود ہی دے گی ان کو بھون ۔ { لا تَکُنُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْن } ۔ سو ان کی چالبازیاں اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتیں۔ اور انہوں نے اس کا نتیجہ وانجام بہرحال بھگت کر رہنا ہے۔
Ayahs 27:71–72

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

کہ کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہو ہوسکتا ہے کہ قریب ہی آلگا کچھ حصہ اس ہولناک انجام و عذاب کا جس کے لئے تم لوگ جلدی مچاتے ہو اور جس کے تم مستحق ہو

81 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہوسکتا ہے کہ تمہارے اس عذاب کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو جس سے تم لوگ جلدی مچاتے ہو "۔ سو اس ارشاد میں منکرین کے مطالبہ عذاب کا جواب بھی ہے اور ان کو اس پر تنبیہ بھی ہے۔ جیسا کہ مختلف عذابوں کی شکل میں پہلے بھی ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ اور پھر ہر آدمی کی قیامت تو اس کی اپنی موت ہے۔ اور وہ پتہ نہیں کب آپکڑے۔ جیسا کہ مختلف حوادث وغیرہ کی شکل میں آئے دن یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس کے نمونے اور مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ سو تم پر اس عذاب کا کچھ حصہ کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ اس لیے تمہارے اندر اگر عقل کی کچھ بھی رمق باقی ہے تو تم اس کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کرو۔ ورنہ اپنے ہولناک انجام کیلئے تیار رہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رکھے اور فکر و عمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے لوگوں پر لیکن لوگوں کی اکثریت ہے کہ وہ پھر بھی اس کا شکر نہیں ادا کرتے

82 عذ 1 ب کے لیے جلدی مچانے والوں کے حال پر اظہار افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے لوگوں پر "۔ اور یہ اسی کا فضل و کرم ہے کہ ایسی ایسی باتوں پر بھی نہ صرف یہ کہ اس نے ایسے لوگوں کو چھوٹ اور ڈھیل دے رکھی ہے بلکہ وہ انہیں اس دنیا کی طرح طرح کی نعمتوں سے بھی نوازے جا رہا ہے۔ مگر ان منکروں کی بےقدری اور ناشکری کا یہ عالم ہے کہ یہ اس کا شکر بجا لانے کی بجائے الٹا اس سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سو وہ تو اپنے اسی بےپایاں فضل و کرم سے لوگوں کو ڈھیل دے رہا ہے تاکہ یہ لوگ عذاب سے بچ کر اس کی رحمت کے مستحق بنیں مگر یہ ہیں کہ اس کی اس ڈھیل اور مہلت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹا اس کو اس کے رسول کے جھوٹا ہونے کی دلیل بنالیتے ہیں۔ اور اس طرح جہاں سے انکو رحمت لیکر اٹھنا چاہیئے تھا وہاں سے یہ اس کا غضب لیکر لوٹتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں ان لوگوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازنا چاہتا ہے اور یہ لوگ اس سے منہ موڑ کر انکے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور خیر کی بجائے شر مانگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارا رب پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے ان سب باتوں کو جن کو یہ لوگ چھپائے رکھتے ہیں اپنے سینوں میں اور جن کو یہ ظاہر کرتے ہیں

83 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان اور پیغمبر کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے ان سب باتوں کو جن کو یہ لوگ چھپائے رکھتے ہیں اپنے سینوں میں اور جن کو یہ ظاہر کرتے ہیں "۔ تو جس رب کی یہ شان ہے اس سے کوئی کس طرح چھپ سکتا ہے ؟ اور اس کی گرفت و پکڑ سے کس طرح بچ کر نکل سکتا ہے ؟ سو اس ارشاد عالی میں ایک طرف تو حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ یہ لوگ اپنے سینوں میں جو مخفی منصوبے رکھتے ہیں اور جن شرانگیزیوں کا برملا اعلان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا اور ایک برابر اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس لیے وہ ان کے ہر فتنے کے تدارک کا سامان خود فرما لے گا۔ لہذا آپ کو انکے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسطرح یہ ارشاد اوپر والے مضمون کی تاکید اور اس کا اعادہ و تکرار ہے۔ اور دوسری طرف اس میں منکرین و معاندین کیلئے تنبیہہ و تذکیر کا سامان بھی ہے کہ تم لوگ اپنی روش کی اصلاح کرلو اور اس سے باز آجاؤ۔ ورنہ اپنے ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجاؤ کہ تمہاری ظاہری اور باطنی کوئی بھی کیفیت اللہ تعالیٰ سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 27:75–77

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور کوئی چھپی بات ایسی نہیں آسمان اور زمین میں جو ثبت اور مندرج نہ ہو ایک عظیم الشان کھلی کتاب میں

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن حقیقت بتاتا ہے بنی اسرائیل کو اکثر ان باتوں کی جن کے بارے میں یہ لوگ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر رحمت ہے دولت ایمان رکھنے والوں کیلئے

85 قرآن حکیم سے استفادے کیلئے اولین شرط ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر ہدایت و رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ سو یوں تو اس کا فیض سب کے لئے عام ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھا سکے گا جو اس پر ایمان رکھتا ہوگا۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم سے صحیح معنوں میں استفادے کیلئے اولین شرط اس پر ایمان رکھنا ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایمان والوں کیلئے عظیم الشان ہدایت اور سراسر رحمت ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ اور ہدایت و رحمت یہ دونوں صفتیں ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کو پہلے تو یہ کتاب اپنی ہدایت اور راہنمائی سے نوازتی ہے جس سے انکو صراط مستقیم کی وہ راہ حق و صواب نصیب ہوتی ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی کرنے والی واحد راہ ہے۔ اور پھر اس کے نتیجے میں وہ اس ابدی رحمت سے سرفراز ہوتے ہیں جس کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے اس سے سرفراز و سرشار فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

یقینا تمہارا رب عملی طور پر فیصلہ فرما دے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے اور وہی ہے سب پر غالب سب کچھ جانتا (1)

86 رب کے آخری اور عملی فیصلے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ تمہارا رب ہی فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے " یعنی عملی اور آخری فیصلہ۔ اور فیصلہ کے بارے میں غلطی یا تو ناقص العلمی کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر قوت وقدرت کے نقص کے سبب سے اس کی تنفیذ نہیں کرائی جاسکتی۔ سو عزیز وعلیم کی ان دو صفتوں کے ذکر وبیان سے ان دونوں باتوں کی نفی فرما دی گئی کہ نہ تو اس کے فیصلے میں کسی خطا و قصور کا کوئی احتمال ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے یہاں سے کسی کے لئے بچنے اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو معاملہ ان لوگوں کے ارادئہ و اختیار پر ہے۔ سو اگر انہوں نے آج اس قرآن کی قدر نہ پہچانی اور اس کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں صحیح راہ نہ اپنائی تو یہ لوگ یاد رکھیں کہ آخرکار وہ یوم حساب بھی آنے والا ہے جس میں وہ اپنے حکم ناطق کے ذریعے ان کے درمیان آخری اور عملی فیصلہ فرما دے گا۔ جس کے نتیجے میں ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور اس طور پر اور اس شکل میں کہ پھر ان کے لیے اس سے گلو خلاصی اور رہائی کی کوئی صورت ممکن نہ رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 27:79–80

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

بس آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں کہ بلاشبہ آپ قطعی طور پر صریح حق پر ہیں

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

آپ نہ تو مردوں کو کسی قیمت پر سنا سکتے ہیں اور نہ ہی ان بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جو پھرجائیں حق سے پیٹھ دے کر

87 مردوں کو سنانا کسی کے بس میں نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ مردوں کو نہیں سنا سکتے "۔ یہاں پر کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح آپ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے اسی طرح ان کفار کو بھی سنانا اور حق قبول کرا دینا آپ کے بس میں نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے جبکہ مردے نہ سنتے ہوں۔ ورنہ اس تشبیہ کا کوئی معنیٰ ہی نہیں رہ جاتا۔ لہذا اہل بدعت کی یہ خوشی فہمی یا مغالطہ آفرینی پا در ہوا ہوجاتی ہے کہ اس سے سماع موتیٰ کی نفی نہیں ہوتی۔ مگر واضح رہے کہ یہاں پر { تسمع } فرمایا گیا ہے۔ یعنی " آپ نہیں سنا سکتے "۔ تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ اگر سنانا چاہے تو سنا سکتا ہے کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ جیسا کہ قلیب بدر میں حضور کا مردوں سے خطاب فرمانا یا قرع نعال والی حدیث وغیرہ سے ثابت ہے کہ یہ سب خرق عادت اور معجزے کے قبیل میں سے ہے ۔ فلا یَقَاس علیہ و ظاہر نفی سماع الموتی العموم فلا یخصّ منہ اِلَّا ما ورد بدلیل ۔ (المراغی : ج 20 ص 19) ۔ مسئلہ بہرحال اختلافی ہے۔ سلف میں بھی اور خلف میں بھی۔ کسی نے ایک رائے کو ترجیح دی اور کسی نے دوسری کو ۔ والتفصیل فی المطولات ۔ ہمارے نزدیک راحج قول یہ ہے کہ جہاں پر روایات میں ثابت ہے وہ ثابت ہے۔ اور اس کے علاوہ محض قیاس و رائے سے ثابت کرنا درست نہیں ۔ وَالْعِلمَ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعالٰی وھو اعلْمُ بالصّواب وَعِلْمَہ اَتَمُّ واَحْکَمُ فِیْ کُلِّ بابٍ ۔ سو اس آیت کریمہ میں پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں مانتے اور دعوت حق کو قبول نہیں کرتے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ بلکہ قصور سب کا سب انہی لوگوں کا ہے کہ انہوں نے حق کو ماننے اور قبول کرنے کے سب راستے اپنے لیے بند کردیئے۔ اور یہ اندھے اور بہرے بن کر رہ گئے۔ اور اندھوں بہروں کو سنانا اور ان کو کفر و باطل کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر حق و ہدایت کی شاہراہ پر لے آنا اور نور حق و ہدایت سے منور و سرشار کرنا آپ ﷺ کے بس میں نہیں۔ آپ ﷺ تو انہیں کو سنا سکتے ہیں اور راہ حق پر لاسکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لانے کیلئے تیار ہوں اور وہ بات ماننے والے ہوں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وعلی سبیل الدوام والتابید ۔ وہو فعال لما یرید -
Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ ہی آپ اندھوں کو راہ حق و ہدایت پر پھر لاسکتے ہیں ان کو گمراہی کی دلدل سے نکال کر آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں ہماری آیتوں پر وہی فرمانبردار ہوں گے (2) اپنے ایمان و یقین کی برکت سے

88{ دابۃ الارض } سے مقصود و مراد ؟ : اس جانور کے بارے میں تفسیری روایات میں بہت کچھ مروی و منقول ہے۔ مگر ان کا زیادہ تر تعلق اسرائیلیات سے ہے۔ قرآن حکیم اور صحیح احادیث میں اس سے متعلق جو کچھ ثابت ہے اس کا خلاصہ اس قدر ہے کہ قرب قیامت کے وقت خرق عادت کے طور پر یہ جانور مکہ مکرمہ یا کسی اور مقام پر زمین سے ظاہر ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق قرب قیامت کے وقت جن دس بڑی نشانیوں کا ظہور ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ یعنی خروج دابہ، جو اس وقت ظاہر ہوگا جب کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا۔ اور ان دونوں میں سے جو بھی نشانی پہلے ظاہر ہوگی دوسری اس کے ساتھ ساتھ ہوگی۔ اور اس کے بعد نہ کسی کا ایمان معتبر ہوگا نہ توبہ قبول ہوگی۔ (روح، ابن کثیر، فتح وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ پیغمبر کی تعلیم و تذکیر اور انذار وتبشیر سے نہیں مان رہے اور نشانی عذاب کا مطالبہ کرتے جا رہے ہیں تو ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ سنت الہیہ کے مطابق جب ان کی مدت اور مہلت ختم ہوجائے گی تو ہم ان کیلئے زمین سے ایک جانور اٹھا کھڑا کریں گے۔ جو اس بات کی گواہی دے گا کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں پر یقین کرنے والے نہیں۔ اس لیے اب یہ قہر الہی کے مستحق ہیں۔ تب ان لوگوں کیلئے اپنے اس ہولناک انجام سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب پوری ہوجائے گی ان پر ہماری بات تو ہم نکال کھڑا کریں گے ان کے لئے ایک عجیب و غریب قسم کا جانور زمین سے جو ان سے باتیں کرے گا اور ان کو بتائے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے

89 منکرین کیلئے جانور کے ذریعے اتمام حجت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وقت آنے پر ہم ان کے لیے زمین سے ایک ایسا جانور نکال لائیں گے جو ان سے باتیں کرے گا اور ان کو بتائے گا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے یہ خرق عادت دکھا کر ان پر حجت تمام کردی جائے گی کہ جس حق کی گواہی ایک جانور بھی دے رہا ہے اس کے قبول کرنے کی ہمت اور توفیق تم کو نہ ہوسکی اے منکرو۔ اور اس میں ان کی اس طرح سخت تحقیر و تذلیل بھی ہوگی کہ جن حقائق کو تم لوگوں نے پیغمبروں کے کہنے پر نہیں مانا تھا اب ان کو تم ایک جانور کے کہنے پر مانو اور تسلیم کرو۔ سو اس طرح وہ لوگ ان حقائق کو ایک جانور کے کہنے پر تسلیم کرلیں گے جو انہوں نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور ان کے وارثان اور نائبین یعنی علمائے حقانیین کے کہنے پر نہیں مانے تھے۔ مگر بےوقت کے اس ماننے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نہ ان کی توبہ قبول ہوگی اور نہ ان کا ایمان معتبر ہوگا کہ اس کا موقعہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، التحریر والتنویر، صفوۃ التفاسیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو منکرین کیلئے بہتری اور خیر اسی میں ہے کہ وہ پیغمبر کی دعوت حق کو صدق دل سے قبول کرکے اپنی اصلاح کرلیں، ورنہ اس آخری اور ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر قسم اور ہر شکل سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

یاد کرو اس دن کو جس دن ہم گھیر لائیں گے ایک فوج کی فوج ان لوگوں میں سے جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پھر ان کو روکا جائے گا

90 روز حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد رکھو تم اے لوگو اپنے اس ہولناک دن کو کہ جس دن ہم گھیر لائیں گے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو۔ پھر ان کو روکا جائے گا "۔ یعنی اگلوں کو روکا جائے گا تاکہ پچھلے بھی ان تک پہنچ کر ان میں شامل ہوجائیں۔ اور سب یکجا ہو کر اس تقریح و تقبیح کو سن سکیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان کو وہاں سنائی جائے گی اور جس کا ذکر وبیان اس کے بعد فرمایا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد عالی سے روز حشر کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ تاکہ غفلت میں پڑے لوگ چونک جائیں اور اپنے لیے اصلاح احوال کی فکر کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے اور ایسا کہ اس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سب موقف میں آپہنچیں گے تو ان کا رب ان سے پوچھے گا کہ یا تم نے جھٹلایا تھا میری آیتوں کو حالانکہ تم ان کا کسی طور پر علمی احاطہ بھی نہیں کرسکے تھے ؟ یا پھر تم خود ہی بتاؤ کہ اور کیا تھے وہ کام جو تم لوگ کرتے رہے تھے ؟

91 تکذیبِ حق کے مجرموں سے ایک سوال :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ میدان حشر میں حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا جبکہ تم نے علمی اعتبار سے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ یا تم خود ہی بتاؤ کہ تم لوگ کیا کرتے رہے تھے ؟ یعنی یہ نہیں کہ تم ان کی تہ اور حقیقت تک پہنچ گئے تھے اور اپنی تحقیق کی بنا پر ان کی تکذیب کے لئے تمہیں کوئی جواز مل گیا تھا۔ نہیں بلکہ سوچے سمجھے بغیر اور غور و فکر کئے بدوں تم نے محض اپنی خواہشات کی پیروی میں اور دوسری اغراض اور دنیوی اسباب کے پیش نظر ایسے کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حشر کے روز جب مجرموں کو اکٹھا کرلیا جائے گا تو حق تعالیٰ ان سے سوال فرمائے گا کہ کیا تم لوگوں نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی درآنحالیکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہیں کیا تھا یا بتاؤ کہ تم لوگ کیا کرتے رہے تھے ؟ سو جب تم لوگوں نے دنیا میں میرے انبیاء و رسل کی طرف سے پیش کی جانے والی دعوت حق اور ہدایت کو جھٹلا دیا، بغیر اس کے کہ تمہارے پاس تمام اسرارِ کائنات کا علم محیط ہو۔ تم نے میری آیتوں کی تکذیب کی اور میری طرف سے ملنے والی طرح طرح کی تنبیہات پر بھی کان نہ دھرا اور اپنی متاع حیات کو تم نے کفر و تکذیب کی اس باغیانہ روش میں گزار دیا تو بتاؤ اب تمہارے پاس کیا عذر ہوسکتا ہے ؟ سو اگر تم لوگوں نے حشر و نشر اور جزا و سزا کے اس یوم عظیم کو محض اس بنا پر جھٹلایا تھا کہ تمہارے پاس کائنات کے تمام اسرار کا علم آگیا تھا تو تمہارے اس موقف کا کوئی جواز ہوسکتا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ کائنات کے تمام اسرار کا علم واحاطہ کسی بشر کے لیے اور خاص کر عامہ الناس کے لیے ممکن ہی نہیں۔ سو اس طرح کا علم محیط نہ رکھنے کے باوجود اگر تم لوگوں نے میری آیات اور تنبیہات کی تکذیب کی تو اب تمہارے لیے کسی عذر و معذرت کی آخر کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ سو آفاق وانفس کے اندر موجود دلائل عقل و فطرت کے باوجود کسی حقیقت کا محض اس بنا پر انکار کرنا کہ اس کے تمام اطراف و جوانب ہمارے احاطہ علمی میں نہیں آسکے قطعا غلط ہے کہ کائنات کے جملہ اسرار و رموز کا علم نہ کسی کو حاصل ہے اور نہ ہوسکتا ہے کہ کائنات کے جملہ اسرار و رموز کا علم فاطرِ کائنات کے سوا اور کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور انسان کو جو بھی اور جتنا بھی علم ملے وہ بہرحال بہت کم اور محدود ہے ۔ { وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیِلاً } ۔ علم سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے جو ہر چیز کو محیط اور اس پر حاوی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 27:85–86

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور وعدہ عذاب کے بارے میں ہماری بات ان پر اس طرح ثابت ہو کر رہے گی ان کی ظلم کے بنا پر کہ وہ کچھ بول بھی نہ سکیں گے

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے کس طرح ان کے لئے رات کو اندھیری بنایا تاکہ یہ اس میں سکون حاصل کرسکیں اور دن کو روشن اور آنکھیں کھولنے والا تاکہ اس میں یہ کام کرسکیں بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں (1)

92 دن اور رات کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دن رات کے ادلنے بدلنے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے "۔ سو دن رات کے اس نہایت پر حکمت اور مضبوط نظام میں صحیح غور و فکر سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خالق ومالک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کتنی عظیم الشان قدرت، کس قدر محیر العقول حکمت اور کمال علم کا مالک ہے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان، کتنا بڑا فیاض و وہاب اور کس قدر کرم فرما ہے کہ ایسی عظیم الشان نعمتوں سے انسان کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود نوازا اور برابر نوازے اور بہرہ مند فرمائے جا رہا ہے۔ نیز دن رات کے اس ہیر پھیر اور ادل بدل میں حیات بعد الممات کے لئے عظیم الشان ریہرسل اور یاد دہانی بھی ہے جو انسان کو برابر کرائی جاتی ہے۔ تاکہ وہ آخرت کی اپنی حقیقی اور ابدی زندگی کے لئے تیاری کرسکے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وَبِاللّٰہِ الْعِیَاذُ وَالتَّوْفِیْقُ ۔ مگر یہ سب کچھ انسان کو تب ہی نصیب ہوسکتا ہے جبکہ اس کا باطن نور ایمان سے منور ہو۔ ورنہ اس انسان میں اور ایک حیوان میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گمراہ ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے یہاں فرمایا گیا ہے { لِقَوْمٍ یُوْمِنُوْن } یعنی " یہ نشانیاں ان لوگوں کیلئے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں "۔ سو ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور جہاں نہ ایمان ہو اور نہ ایمان لانے کا ارادہ اور اس کی چاہت ہو وہاں ان کو کوئی فائدہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور کیا گزرے گی اس دن جس دن کہ پھونک دیا جائے گا صور میں جسے سے دھل کر رہ جائیں گے وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں مگر جسے اللہ چاہے اور سب حاضر ہوں گے اس کے حضور حضور بےجھکے

93 ہول قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن پھونک دیا جائے گا صوراسرافیل میں "۔ اور اس کے نتیجے میں تہس نہس ہو کر رہ جائے گا یہ سارا نظام عالم۔ نفخ صور کے بارے میں مفسرین کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ مگر راحج یہی معلوم ہوتا ہے کہ نفخ تین بار ہوگا۔ پہلی بار جس سے ہوش اڑ جائیں گے اور یہ نفخ فزع ہوگا۔ دوسری بار نفخ صعق ہوگا جس سے سب لوگ مرجائیں گے۔ اور تیسری بار نفخ قیام و احیا ہوگا۔ اور جبکہ بعض کا کہنا ہے " خزع " اور " صعق " سے مراد ایک ہی ہے۔ اس لئے نفخ صور دو ہی مرتبہ ہوگا۔ یہ حضرات مفسرین کرام ۔ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَان ۔ کے ان مختلف اقوال کا خلاصہ اور نچوڑ ہے جو اس بارے میں مختلف تفاسیر میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، مدارک، صفوۃ، تفسیر التحریر والتنویر وغیرہ۔ بہرکیف صور پھونکنے کا یہ عمل دراصل اعلان واظہار ہوگا اس بات کا کہ دنیا کی امتحان و آزمائش کی فرصت ختم ہوگئی ہے اور اب اس کے بعد نتائج اور دائمی فیصلوں کا اعلان ہونا ہے اور ہر انسان نے اپنی زندگی بھر کی کمائی کا پھل پانا ہے۔ دائمی جنت یا ہمیشہ کا عذاب۔ والعیاذ باللہ العزیز الرحمن ۔ بہرکیف اس ارشاد سے قیامت کے اس ہول شدید کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے تاکہ غافل دنیا چونک کر اس کے لیے فکرمند ہوجائے اور اس کے لیے تیاری میں لگ جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 94 ہول قیامت کی شدت کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز دہل کر رہ جائیں گے وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو کہ زمین میں ہیں مگر جسے اللہ چاہے "۔ اور اس استثناء سے مراد فرشتے، انبیاء اور شہداء ہیں۔ (ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ یا جبرائیل، اسرافیل، میکائیل اور ملک الموت مراد ہیں۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ وفیہ اقوال اخری ۔ بہرکیف نفخ صور کے وقت سب مر مرا کر ختم ہوجائیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ باقی رکھنا چاہے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے قیامت کے اس ہولناک دن کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ وہ بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ اس لیے اس کو کوئی آسان اور معمولی چیز نہ سمجھا جائے کہ وہ ایسا ہولناک دن ہوگا جب صور پھونکا جائے گا تو اس کے ہول سے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنکو اللہ تعالیٰ امن میں رکھے گا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ الا من شاء اللہ ۔ کہ وہ اس ہول اور خوف سے محفوظ ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انہی لوگوں میں کرے جو قیامت کے اس ہول شدید سے محفوظ ہوں گے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے ہول قیامت کی شدت کی تصویر پیش فرما دی گئی۔ تاکہ غافل و لاپرواہ لوگ خواب غفلت سے چونک جائیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم دیکھتے ہو ان عظیم الشان پہاڑوں کو اور ان کو خوب جما ہوا سمجھتے ہو حالانکہ یہ رواں دواں ہیں یا رواں دواں ہوں گے اس روز بادلوں کی طرح کارستانی ہے اس اللہ جل جلالہ کی جس نے استوار کیا ہر چیز کو نہایت حکمت اور مضبوطی کے ساتھ بیشک وہ پوری طرح باخبر ہے ان سب کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو (2)

95 قیامت کے روز پہاڑوں کا حال : سو اس سے ہول قیامت کی مزید تفصیل فرما دی گئی کہ اس روز دوسری چیزوں کا تو ذکر ہی کیا پہاڑوں جیسی ٹھوس اور مستحکم مخلوق کا بھی اس روز حال یہ ہوگا کہ یہ بظاہر ٹکے ہوئے اور جمے ہوئے نظر آئیں گے مگر حقیقت میں یہ بادلوں کی طرح اڑے جا رہے ہو نگے۔ عام طور پر حضرات علما و مفسرین کا کہنا ہے کہ اس ارشاد کا تعلق قیامت سے ہے اور یہ کہ یہ وہی مضمون ہے جسے دوسری مختلف آیات کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے جیسے ۔ { وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا } ۔ (الانبیائ :20) ۔ { وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ } ۔ (المرسلات : 10) وغیرہ۔ لیکن بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس کو قیامت سے متعلق ماننا صحیح نہیں ۔ { صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَئٍ } ۔ اس پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتا۔ کیونکہ قیامت کے اس ہولناک منظر کا تعلق " صنع " سے نہیں۔ بلکہ ہلاک و فساد اور دمار و خراب سے ہوگا۔ دوسرے اس لئے کہ قیامت کے اس منظر کو جو دیکھے گا وہ جان لے گا کہ یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ کر اور اکھڑ کر چل رہے ہیں کہ یہ اس روز دھنکی ہوئی روئی { کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ } کی طرح ہوجائیں گے۔ جبکہ یہاں پر ان سے متعلق فرمایا جا رہا ہے ۔ { تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً } ۔ کہ " تم ان کو اپنی جگہ جامد و ساکن دیکھتے ہو "۔ اس لئے ان حضرات کا کہنا ہے کہ پہاڑوں کا یہ چلنا اسی دنیا میں موجود ہے جو کرہ ارضی کے ساتھ ساتھ گھوم رہے ہیں اور اس طرح یہ دوران ارضی کی ایک واضح اور کھلی دلیل ہوگی اور قرآن حکیم کا ایک عظیم الشان معجزہ ہوگا۔ (تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور (رح) ، تفسیر القاسمی (رح) وغیرہ) ۔ ترجمے میں دونوں قولوں کی رعایت رکھی گئی ہے ۔ وَالتَّفِصَیْلُ فِی الْمُطوّلِ انْ شَائَ اللّٰہ ۔ لیکن راحج قول جمہور ہی کا لگتا ہے اور سیاق وسباق بھی اسی کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔ اور { صنع الذی اتقن کل شئی } کا ارشاد بھی اس پر منطبق ہوتا ہے۔ یعنی یہ اسی خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم اور مضبوط بنایا ہے۔ سو جس طرح اس نے ہر چیز کو محکم بنایا ہے اسی طرح اس کی قدرت کا یہ نمونہ اور مظہر بھی سامنے آئیگا کہ یہ پہاڑ بظاہر جمے ہوئے نظر آئیں گے مگر یہ ہوا میں اڑتے بھی پھر رہے ہوں گے۔ اور یہ شروع میں ہوگا بعد میں ان کو کوٹ کوٹ کر ریزے ریزے کردیا جائے گا۔ اور پھر یہ ریگ رواں کے ٹیلے بن کر رہ جائیں گے۔ سو ان کے یہ مختلف حالات اور مختلف اوقات کے اعتبار سے ہوں گے۔ اس لیے ان میں کوئی تعارض نہیں ہوگا۔ (المراغی، المعارف اور الکبیر وغیرہ) ۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو اس سے کہیں بڑھ کر اچھا بدلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے امن میں ہوں گے

96 نیکی کے کئی گنا اجر وثواب کا وعدہ و بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے کہیں بڑھ کر بہتر اجر ملے گا "۔ کیونکہ وہ اکرم الاکرمین صرف عدل اور برابری نہیں، بلکہ فضل و احسان کا معاملہ فرمائے گا۔ اور بدلہ بھی اپنی شان کریمی کے مطابق عطا فرمائے گا نہ کہ ہمارے اعتبار سے ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا مَنْ تَقَدَّسَ وَ تَعَالٰی عَنْ کُلِّ مَا نَتَصَوَّر۔ پھر اس خیر ۔ اچھے بدلے ۔ کی بھی کوئی حد نہیں بیان فرمائی گئی کہ وہ بدلہ و جزا کس قدر بہتر ہوگا۔ کم سے کم دس گنا اور اس کے آگے کتنے ہی گنا بڑھا کر دے گا۔ یعنی ایمان کی قوت اور صدق و اخلاص کی دولت جس قدر زیادہ ہوگی اسی قدر اس کی بخشش بھی بڑی اور زیادہ ہوگی کہ یہی چیز اصل میں مدارو معیار ہے اور وہ دلوں کی دنیا اور باطن کے خبا یاو نوایا کو پوری طرح جانتا اور سینوں کے بھیدوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ بعض نے اس کی تجدید بھی کی ہے مگر اصل یہ ہے کہ اس کو عام ہی رکھا جائے تاکہ ہر نیکی کو شامل ہو۔ پس ایمان و اخلاص کے ساتھ جو بھی کوئی نیکی کی جائے گی وہ اس میں داخل ہے۔ کیونکہ ایمان و اخلاص کے بغیر اس کی جناب اقدس و اعلیٰ میں کوئی بھی نیکی قابل قبول نہیں۔ اور ایمان و اخلاص کے ساتھ جو بھی نیکی کی جائے گی اس کا بدلہ وہ کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر دے گا کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف جو نیکی کما کر اس دن حاضر ہوں گے ان کو اس سے کہیں زیادہ بہتر بدلہ سے بھی نوازا جائے گا اور وہی خوش نصیب ہوں گے جو اس دن کی گھبراہٹ میں امن میں ہوں گے۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا آگ میں اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں تو انہی کاموں کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم خود کرتے رہے تھے (3)

97 بروں کے برے انجام کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے اس دن برائی کے ساتھ حاضر ہونے والوں کا معاملہ وانجام بیان فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسوں کو اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا دوزخ کی آگ میں "۔ { سیئہ } یعنی " برائی " کا لفظ اگرچہ عام اور ہر برائی کو شامل ہے مگر اکثر اہل علم کے نزدیک یہاں پر اس سے مراد کفر و شرک کی برائی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔ اور آگے جو سزا بیان فرمائی گئی ہے وہ اس کفر و شرک ہی کی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (جامع، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اسی لئے کہ شرک دراصل بغاوت ہے اور بغاوت کا جرم ناقابل معافی جرم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو ظلم عظیم فرمایا گیا ہے ۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ } ۔ (لقمن : 13) ۔ بہرکیف جو لوگ اس روز نیکی کی بجائے برائی کے ساتھ حاضر ہوں گے انکو اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ دنیا میں حق و ہدایت اور اس کی عظمتوں سے منہ موڑ کر اوندھے ہوگئے تھے۔ اس لیے ان کو وہاں اوندھے منہ دوزخ میں ڈالنے کی وہ سزا دی جائیگی جو انکے جرم کے عین مناسب ہوگی۔ اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان ہی اعمال کا بدلہ ہے جو تم لوگ زندگی بھر کرتے رہتے تھے۔ سو اس طرح ان کا وہ عذاب اور بھی سخت اور دوگنا ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 27:91–92

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں بندگی کرتا رہوں اس شہر مکہ کے رب کی جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے اس بات کا کہ میں ہو رہوں فرمانبرداروں میں سے

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ میں پڑھ کر سناتا رہوں یہ قرآن پھر جو کوئی راہ پر آگیا تو وہ اپنے ہی بھلے کے لئے راہ پر آئے گا اور جو کوئی گمراہ ہوا تو یقینا اس میں میرا کوئی نقصان نہیں کہ میں تو صرف خبردار کرنے والوں میں سے ہوں اور بس

100 پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان پر ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو بہرحال یہی ہے کہ میں اس شہر کے اس رب کی ہی عبادت و بندگی کرتا رہوں جس نے اس کو حرمت والا بنایا ہے اور یہ کہ میں فرماں برداروں میں سے رہوں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن سناتا جاؤں۔ سو اس کے بعد جس نے راہ حق و ہدایت کو اپنایا اس کا اپنا ہی بھلا اور جو بھٹک گیا اس کی ذمہ داری خود اسی پر۔ میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے اور بس۔ اور وہ میں اپنے بس کی حد تک کرچکا۔ اس سے آگے میری کوئی ذمہ داری نہیں۔ حق کو منوانا اور تمہارے دلوں میں اس کو اتار دینا نہ میرے بس میں ہے اور نہ ہی یہ میری ذمہ داری ہے۔ اور قرآن حکیم جو کہ رب العالمین کا پیغام ہے اور اسی کی روشنی میں اس کے بندے اسکا حق اطاعت و بندگی ادا کرسکتے ہیں وہ پڑھ کر سنانا میرا کام اور وہی میری اصل ذمہ داری ہے۔ اور وہ میں کر رہا ہوں اور کرتا رہونگا۔ اس کے بعد جو اس پر ایمان لائے گا وہ اپنے ہی بھلے کا سامان کرے گا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ اپنا ہی نقصان کریگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو پیغمبر کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے اور بس۔ پس جو اس کو قبول کریں گے ان کا اپنا بھلا اور جو منہ موڑیں گے ان کا اپنا نقصان ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہو ان سے کہ تعریف اللہ ہی کے لئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں اس طرح دکھا دے گا کہ تم انھیں خود پہچان لو گے اور تمہارا رب کچھ بیخبر نہیں ہے ان کاموں سے جو تم لوگ کر رہے ہو۔ (1)

101 سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ تعریف سب اللہ ہی کیلئے ہے "۔ کیونکہ جو بھی کوئی خوبی جہاں بھی کہیں پائی گئی یا َپائی جاتی ہے یا پائی جائے گی وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ پس تعریف کا اصل حقدار وہی اور صرف وہی ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے مجھے شرف نبوت سے مشرف فرمایا اور قرآن جیسی نعمت عظمیٰ مجھ پر اتاری۔ اب اگر تم لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرو گے اور مجھ سے نشانیوں ہی کا مطالبہ کرتے جاؤ گے تو عنقریب ہی جب تمہیں وہ اپنی نشانیاں دکھائے گا تو اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق کیا ہے اور تمہارا بھلا کس میں تھا۔ اور تمہیں کس قدر عظیم الشان نعمت سے نوازا گیا تھا مگر تم نے اس کی قدر نہیں کی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی امان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 102 غافل لوگوں کے لیے آخری تنبیہ : سو غافل لوگوں کو آخری تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارا رب غافل نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کر رہے ہو "۔ پس ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بدلہ اپنے وقت پر بہرحال پا کر رہے گا۔ لہذا ہر کوئی خود دیکھ لے کہ اس نے کیا کمائی کی ہے اور وہ کس کی امید رکھتا ہے۔ پس کوئی کبھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس سے وہ بیخبر ہے اور اس کی کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ کوئی ایسا مت سمجھے وہ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔ تمہارے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ ہر چیز کا بہرحال ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت مقررہ پر ہر کسی کو اپنا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔