27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 27:40–42

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

اس کے برعکس اس شخص نے جس کے پاس علم تھا کتاب الٰہی کا اس نے کہا کہ میں تو اسے آپ کے پاس آپ کی پلک جھپکنے سے بھی پہلے لائے دیتا ہوں،2 چناچہ جب سلیم نے پل بھر میں اس کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو وہ خوشی و مسرت میں جھوم کر شکر نعمت کے طور پر پکار اٹھے کہ یہ سب کچھ فضل و کرم ہے میرے رب کا، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو وہ بھی اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ میرا رب تو قطعی طور پر اور ہر طرح سے بےنیاز اور بڑا ہی کرم والا ہے

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

اس کے بعد سلیمان نے حکم دیا کہ کچھ تبدیلی کردو اس کی آزمائش کے لیے اس کے تخت میں تاکہ ہم دیکھیں کہ اسے پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں پتہ نہیں لگتا،

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا پھر جب وہ پہنچ گئی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو گویا وہی ہے اور یہ معجزہ دکھانے کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ ہمیں تو اس سے پہلے ہی اس سب کا علم ہوگیا تھا اور ہم نے سر اطاعت و تسلیم جھکا دیا تھا

43 ملکہ نے کہا یہ تو گویا وہی ہے : سو نہ تو اس نے یہ کہا کہ یہ بالکل وہی ہے اور نہ یہ کہ یہ وہ نہیں۔ بلکہ کہا " گویا کہ یہ وہی ہے " اور امر واقع بھی ایسے ہی تھا۔ سو اس سے اس کی زیرکی اور عقل مندی کا پتہ چلتا ہے کہ ذاتی طور پر وہ واقعی بڑی ذہین فطین عورت تھی۔ مگر کفر و شرک کے ماحول اور اس کی نحوست کی بنا پر اس کی مت مار دی گئی تھی اور وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہوگئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت سلیمن کے اس معجزے کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں اور پھر صاف اور صریح لفظوں میں اعتراف اور اقرار کیا کہ ہمیں سلیمان کی عظمت شان آپ کے مرتبہ و مقام اور آپ کے کارناموں کا علم اس سے پہلے ہی ہوگیا تھا اور ہم قلبی طور پر آپ کے مطیع و منقاد ہوگئے تھے۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

مگر اس قدر عقل مند عورت ہونے کے باوجود اس کو روک رکھا تھا راہ حق و صواب سے اس کے ان خود ساختہ معبودوں نے جن کی وہ پوجا پاٹ کرتی تھی اللہ کے سوا، کہ تھی تو وہ بہرحال ایک کافر قوم ہی میں سے،

44 ماحول کے اثرات کا نتیجہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تھی تو کافر قوم ہی میں سے یعنی خود ذاتی طور پر تو وہ اگرچہ بڑی زیرک اور سمجھدار عورت تھی لیکن اس نے جب سے آنکھ کھولی وہ یہی بت پرستی اور مظاہر پرستی دیکھتی رہی۔ تو اس قدر سمجھ دار ہونے کے باوجود ماحول اور گرد و پیش کا یہ اثر اس پر چھا گیا اور اصل حقیقت اس سے گم ہوگئی۔ سو اس سے ماحول کے انسانی بناؤ و بگاڑ میں اثر اندازی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ۔ صحبت صالح ترا صالح کند ۔ صحبت طالح ترا طالح تراکند ۔ کہ " اچھی صحبت تم کو اچھا اور صالح انسان بنا دے گی اور بری صحبت تم کو بگاڑ کر رکھ دی گے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ملکہ سبا اس قدر زیرک ہونے کے باوجود اور حضرت سلیمن کی عظمت شان اور آپ (علیہ السلام) کے کارناموں سے آگہی رکھنے کے باوصف اپنے گندے ماحول اور برے گرد و پیش کی بنا پر کفر و شرک کی دلدل ہی میں پھنسی رہی اور بتوں کی پوجا و پرستش میں مبتلا رہی کہ تھی تو وہ ایک کافر قوم ہی میں سے کہ روایات اور علاقائی قومی روابط کے بندھنوں کو توڑنا اور ان سے آزادی اور گلوخلاصی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اور یہ مشکل یوں تو ایسے ہر شخص کو پیش آتی ہے جو اس طرح کے ماحول میں پھنسا ہو لیکن جن لوگوں کو سیادت اور قیادت کا منصب حاصل ہوتا ہے ان کیلئے یہ مشکل دوچند ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگ اپنے ماحول اور ایسی روایات کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ دعویٰ تو ان کا حکومت اور پیشوائی کا ہوتا ہے لیکن ہوتے وہ عوامی خواہشات و روایات کے غلام ہیں۔ اور ان کے بندھنوں سے رہائی پانا ان کے بس میں نہیں رہتا۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس کے بعد اس سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ تم اس محل میں سو اس نے جو اس کے صحن کو دیکھا تو اسے پانی کا ایک حوض سمجھ کر اپنے پانچے اٹھا لیے،1 اس پر سلیمان نے فرمایا کہ پانچے اٹھانے کی ضرورت نہیں کہ یہ پانی نہیں بلکہ یہ تو ایک محل ہے جس کے صحن میں بھی شیشے جڑے ہوئے ہیں تب وہ بےساختہ پکار اٹھی کے اے میرے رب بیشک میں نے اب تک نور حق و ہدایت سے دور رہ کر بڑا ظلم ڈھایا اپنی جان پر اور اب میں نے سر تسلیم خم کرلیا۔ سلیمان کے ساتھ اللہ کے لیے جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کاف 2

45 حضرت سلیمن کے شیش محل کے اندر ملکہ سبا کی حیرانی : سو اس نے محل کے صحن کو پانی کا حوض سمجھ کر اپنے پائینچے اٹھا لیے۔ تاکہ اس کے پائینچے پانی میں بھیگ نہ جائیں۔ تو اسے بتایا گیا کہ یہ پانی نہیں بلکہ چمکتے شیشے کا ایک محل ہے۔ روایات میں ہے کہ جب حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کا محل دیکھا تو جنوں کو حکم دے کر فوری طور پر شیشے کا ایک عظیم الشان محل بنوا دیا۔ اور اس کے صحن میں جس سے گزر کر محل کے اندر حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کے پاس جانا پڑتا تھا ایک عظیم الشان اور سفید قسم کا شیشہ لگوا دیا جو نظر نہیں آتا تھا اور اس کے نیچے پانی کا انتظام کردیا جس میں مچھلیاں بھی چھوڑ دی گئی تھیں۔ یہاں پر بعض اسرائیلی روایات میں جو کہ بعض تفسیروں میں بھی نقل ہوگئی ہیں یہ بھی آیا ہے کہ چونکہ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اس عورت سے شادی کرنا چاہتے تھے اس لئے آپ نے یہ طریقہ اپنایا تاکہ اس کو دیکھ سکیں۔ اور اہل بدعت کے بعض بڑوں نے جو کہ اس طرح کی گری پڑی روایات کی تلاش میں رہتے ہیں، اس من گھڑت قصے کو نقل کر کے اس سے بزعم خود مخطوبہ کے دیکھنے وغیرہ کے مسائل بھی مستنبط کرنے شروع کر دئیے۔ مگر جبکہ اس طرح کی روایات ہی محققین کے نزدیک بناوٹی اور اسرائیلیات میں سے ہیں اور جو عصمت انبیاء کے اجماعی اور بنیادی عقیدے کے خلاف ہیں تو پھر ان سے استنباط مسائل کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے ایسی روایات کے بارے میں کہا کہ یہ اوھام ہیں۔ نیز انہوں نے ان کو منکر قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر اور جواہر وغیرہ) ۔ سو ایسے نہیں بلکہ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) نے ایسا اس لئے کیا تھا تاکہ اس طرح اس عورت پر سلطنت سلیٰمانی کا رعب قائم ہو جس سے متاثر ہو کر وہ صدق دل سے اسلام قبول کرلے اور عذاب دوزخ سے بچ جائے۔ جیسا کہ جمہور اور ثقہ مفسرین کرام نے لکھا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ چناچہ اس کے نتیجے میں جب اس عورت پر حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کی عظمت شان پوری طرح واضح ہوگئی تو اس نے اپنے ایمان و اسلام کا اعلان کردیا اور کہا کہ میں بڑی غلطی پر تھی اور گمراہی میں پڑی ہوئی تھی جو اب تک اس دین حق سے محروم رہی۔ اور جس طرح میں نے شیشے کو پانی سمجھ کر اپنے پائینچے اٹھا لئے اسی طرح میں بےحقیقت چیزوں کو معبود سمجھ کر پوجنے کی زبردست غلطی کرتی رہی۔ سو اس سے حضرت سلیمن کے فنِّ تعمیر کے کمال کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ملکہ سبا جیسی زیرک اور صاحب تاج و تخت عورت بھی اس کو دیکھ کر دنگ رہ گئی اور اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور اس سے بےساختہ ایک ایسی حرکت صادر ہوگئی جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس کو زندگی میں یہ منظر پہلی مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور اس طرح ملکہ سبا اس دیہاتی شخص کی طرح ہوگئیں جو پہلی مرتبہ کسی متمدن شہر کے ایوانوں اور اس کے محلوں کے اندر داخل ہوتا ہے۔ 46 ملکہ سبا کا اعتراف تقصیر اور اعلانِ حق : سو اس نے کہا کہ " اب میں نے سر تسلیم خم کردیا سلیمان کے ساتھ "۔ " سلیٰمن (علیہ السلام) کے ساتھ " کہا۔ کیونکہ وہ بھی آخر اپنے ملک کی ملکہ اور حکمران تھی نہ کہ کوئی ماتحت و زیرِدست شخصیت۔ اس لئے اس نے کہا کہ میں نے سلیمن کے ساتھ سر تسلیم خم کردیا اس ذات اقدس و اعلیٰ کیلئے جو کہ سارے جہانوں کی خالق ومالک اور پروردگار ذات ہے۔ قرآن حکیم نے یہ قصہ یہیں تک بیان فرمایا ہے۔ آگے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کے ساتھ اس کے نکاح وغیرہ کے بارے میں نہ تو قرآن پاک نے کچھ بتایا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کا کوئی ذکر و ثبوت موجود ہے۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک اثر میں اس سے نکاح کا ذکر کیا گیا ہے مگر ابن کثیر نے اس کو منکر اور سخت غریب بتایا ہے۔ نیز فرمایا کہ یہ روایتیں ان اسرائیلیات میں سے ہیں جو کعب احبار اور وہب بن منبہ وغیرہ کے ذریعے اسلام میں منتقل ہوگئی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہیں اور کچھ مبدل و منسوخ اور کچھ محرف وغیرہ۔ جبکہ اللہ پاک نے ہمیں قرآن و سنت کی سچی اور پاکیزہ تعلیمات سے نواز کر ایسی تمام چیزوں سے بےنیاز کردیا ہے اور قرآن و سنت کے یہ علوم اصح و اثبت بھی ہیں اور انفع و ابلغ بھی۔ (مراغی، خازن، کبیر، جامع البیان، ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت سلیمان اس عظیم الشان شیش محل کو دیکھ کر اور عظمت سلیمانی سے متاثر ہو کر ملکہ سبا نے اپنے قصور اور اپنی تقصیر کا اعتراف بھی کیا کہ میں نے آج تک کفر و شرک کے اندھیروں میں مبتلا رہ کر اپنی جان پر بڑا ظلم ڈھایا اور ساتھ ہی یہ اعلانِ حق کردیا کہ میں نے اپنے آپ کو پروردگار عالم کے حوالے کردیا۔ اور اس طرح وہ اسلام کے حظیرئہ قدس میں داخل ہوگئی۔ سو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ شیش محل اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی جسکے ساتھ عبدیت وانابت اور شکرگزاری اور رجوع الی اللہ کی وہ روشنی شامل تھی جو حضرت سلیمان کے اندر موجود تھی کہ اس سے خلق خدا کو راہنمائی ملتی ہے۔ اور ایسی صورت میں اس طرح کا محل آنکھوں کو خیرہ کرنے کی بجائے ان کو بصیرت بخشتا ہے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو وہ کبر و غرور کا نشان اور ایک ظلم خانہ ہوتا ہے اگرچہ دنیا اس کو قصر ابیض (White House) ہی کیوں نہ کہتی ہو۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ثمود کی طرف بھی ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم سب لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو تو وہ لوگ یکایک دو گروہ بن کر آپس میں جھگڑنے لگے،

47 پیغمبر اپنی قوم کے بھائی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا پیغمبر بناکر "۔ پہلے داؤد و سلیمنٰ کا ذکر تھا جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ اب یہ حضرت صالح کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن کا تعلق عربوں سے تھا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ انبیائے کرام خواہ عرب ہوں یا غیر عرب ان سب کی دعوت بہرحال ایک ہی رہی ہے۔ اور وہ ہے اللہ پاک کی وحدانیت کو اپنانا اور کفر و شرک سے بچنا کہ ان سب حضرات نے ہمیشہ یہی پیغام دیا۔ اور بھائی سے مراد ہے قومی اور نسبی بھائی۔ اور انبیائے کرام کی شان ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ اپنی قوموں کے قومی اور نسلی ونسبی اعتبار سے بھائی ہی رہے ہیں۔ لہذا نبی کو اپنی امت کا بھائی کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ اور اسی بنا پر ان لوگوں نے حضرت شاہ اسماعیل شہید ۔ (رح) ۔ کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بپا کیا۔ سو یہ سب کچھ ان لوگوں کی اپنی جہالت، حماقت اور عناد و ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ورنہ اصل حقیقت واضح اور بےغبار ہے۔ 48 دعوت حق کا نتیجہ وثمرہ حق وباطل کی تفریق وتمیز : سو دعوت حق کا نتیجہ وثمرہ تھا کہ وہ کافر و منکر قوم دو حصوں میں بٹ گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا " اور انہوں نے ان کو دعوت حق دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم سب لوگ ایک اللہ ہی کی بندگی کرو تو اس پر یکایک وہ لوگ گروہوں میں بٹ کر آپس میں جھگڑنے لگے۔ ایک وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہا۔ دوسرے وہ جو اپنے کفر پر رہے۔ اور یہ دونوں گروہ باہم برسر پیکار ہوگئے۔ حالانکہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت بالکل صاف اور واضح تھی۔ مگر وہ لوگ باہمی عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر دو گروہوں میں بٹ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت صالح کی دعوت سراسر حق تھی۔ جس میں کسی نزاع و اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اور حق و ہدایت کی اس دعوت صادقہ کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کرتے اور صدق دل سے اس پر لبیک کہتے۔ لیکن ہوا یہ کہ اس پر وہ لوگ بٹ گیے۔ کچھ نے اس کو قبول کیا اور کچھ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور پوری قوم دو گروہوں میں بٹ گئی۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں جلدی مچاتے ہو برائی کے لیے بھلائی سے پہلے، تم لوگ اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے ؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

49 حضرت صالح کا ان لوگوں سے درد بھرا خطاب : سو حضرت صالح نے اپنے درد بھرے خطاب میں ان سے فرمایا کہ تم لوگ اچھائی سے پہلے برائی کے لیے جلد بازی کیوں کرتے ہو۔ یعنی تم لوگ عافیت سے پہلے عذاب کیوں مانگتے ہو۔ کیونکہ ان کا مطالبہ تھا ۔ { اِئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ } " لا دکھاؤ ہمیں وہ عذاب جس کی دھمکی آپ ہمیں دے رہے ہیں "۔ سو منکر اور بدبخت قوموں کا وطیرہ ہمیشہ یہی رہا کہ انہوں نے دعوت حق کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا پیغمبر سے عذاب لانے کا مطالبہ کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو خدا کی رحمت کی دعوت دے رہا ہوں اور تم ہو کہ رحمت کی بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ تم لوگ خداوند قدوس کی رحمت کی بجائے اس کی نقمت مانگتے ہو۔ تم لوگ اپنے جرائم کی معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ سو یہ نور حق و ہدایت سے محروم اور بگڑے ہوئے انسان کی بدبختی ہے کہ وہ الٹا سوچتا ہے۔ اور وہ خیر کی بجائے شر مانگنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا ہم تو نحوست کا شکار ہوگئے تمہاری وجہ سے اور ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہارے ساتھ ہیں، صالح نے فرمایا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے کفر کی بدولت اللہ کی طرف سے ہے اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے

50 برے آدمی کی نحوست خود اس کے ساتھ ۔ والعیاذ باللہ -: سو حضرت صالح نے ان سے کہا کہ تمہاری نحوست تو خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ حضرت صالح کی تکذیب کی وجہ سے وہ لوگ قحط سالی کا شکار ہوگئے تھے۔ تو اس بنا پر ان لوگوں نے حضرت صالح سے کہا کہ ہم تو تمہاری وجہ سے نحوست کا شکار ہو گیے۔ سو نحوست سے ان کی یا تو یہی مراد تھی یا اس سے مراد ان لوگوں کی یہ تھی کہ تمہاری وجہ سے ہم لوگ دو حصوں میں بٹ گئے اور باہم سر پھٹول ہو رہا ہے۔ اور اس طرح ان بدبختوں نے اپنی بدبختی کو پہچاننے اور اس پر توجہ دینے کی بجائے الٹا حضرت صالح جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستی کو نحوست کا باعث قرار دے دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی نحوست دراصل اس کا اپنا کفر و باطل اور اپنا برا عمل و کردار ہے۔ لیکن یہ انسان کی ہمیشہ کی غلط روش رہی کہ وہ اپنی غلطی اور کوتاہی کو ماننے اور اس کی اصلاح کرنے کی بجائے الٹا اپنا قصور بھی دوسروں پر ڈالنے اور ان کے ذمے لگانے کی کوشش کرتا ہے جو بذات خود ایک بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 51 ایک سنت الہی اور دستور خداوندی کا ذکر وبیان : سو اس سے بعثت ِ ِ پیغمبر کے بعد قوموں کی ابتلاء و آزمائش کے دستور خداوندی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے۔ یعنی تمہاری آزمائش ہو رہی ہے تاکہ کھرا کھوٹا نکھر کر سامنے آجائے۔ جیسا کہ فرمایا ۔ { وَنَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیِرِ فِتْنَۃً وَّاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 35) ۔ سو اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام کی بعثت کے بعد اور لوگوں کے انکار کے باعث ان قوموں کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ تاکہ ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم پیدا ہو اور وہ حق کے آگے جھک کر اپنے ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ مگر جن لوگوں پر ان کی بدبختی غالب آجاتی ہے وہ اس سے راہ حق کی طرف مڑنے کی بجائے الٹا اپنی شقاوت و بدبختی میں اور پکے ہوجاتے ہیں۔ سو کبھی وہ اس کو ان پیغمبروں کی نحوست قرار دیتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں یہ اچھے برے حالات یونہی آتے جاتے رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح وہ لوگ اپنی بیماری کے علاج اور اپنے بگاڑ کی اصلاح کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ اور سدھرنے کی بجائے بگڑتے ہی چلے جاتے ہیں اور اپنے ہولناک انجام کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 27:48–49

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں تو ایسے سرغنے رہتے تھے جو فساد مچاتے تھے اللہ کی زمین میں اور وہ اصلاح نہیں کرتے تھے

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر کہا کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے پھر اگر تحقیق کی نوبت آئی تو ہم اس کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہیں تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔

54 حضرت صالح پر شب خون مارنے کا پروگرام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بدبختوں نے باہم قسمیں کھاکر حضرت صالح پر شبخون مارنے کا پروگرام بنایا "۔ یہ ترجمہ صیغہ ماضی کا ہے۔ یعنی جبکہ { تقاسموا } کو فعل ماضی قرار دیا جائے۔ اور دوسرا احتمال اور قوی احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ { تقاسموا } امر کا صیغہ ہو۔ تب معنیٰ ہوں گے کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم قسمیں کھاؤ کہ ہم یہ شبخون ماریں گے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا تھا۔ تو حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اب تین دن کے اندر تم لوگوں پر ایک انتہائی ہولناک عذاب آ کر رہے گا۔ اس پر انہوں نے باہم یہ منصوبہ بنایا کہ ہم اس سے پہلے صالح ہی کا کام تمام کردیتے ہیں۔ تب اللہ پاک نے اپنے فرشتوں کے ذریعے پہلے ان کا کام تمام کیا پھر ان کی قوم کا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے بدنیتی اور بدبختی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ان بدبختوں نے آپس میں یہ منصوبہ بنایا اور قسمیں کھا کر یہ عہد کیا کہ ہم صالح پر رات کے اندھیرے میں یکبارگی حملہ کرکے ان کا کام تمام کردیں گے۔ اور بعد میں ان کے وارثوں میں سے کوئی مدعی اگر کھڑا ہوا تو اس کو ہم اطمینان دلا دیں گے کہ ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔ بعینہ اسی طرح کا منصوبہ کفار قریش مکہ نے اپنے " دارالندوہ " میں بیٹھ کر حضور ﷺ کیخلاف بنایا تھا۔ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ بہرکیف اشرار نے ہمیشہ ایسی ہی شرانگیزیوں سے کام لیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

تو انہوں نے ایک سازش کی اور ہم نے ان کی سازش کا توڑ اس طرح پیش کیا کہ انھیں پتہ تک نہ چلا،

55 مفسدین کی چال کے مقابلے میں اللہ کی چال : یعنی انہوں نے تو اپنی چال کے ذریعے اللہ کے نبی کو ختم کرنا چاہا مگر اللہ پاک نے اس کے نتیجے میں ان کو اس طرح پکڑا کہ ان کو اس کی خبر تک نہ ہونے پائی۔ اور یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کیلئے مٹ مٹا کر قصہ پارینہ بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انہوں نے تو آپس میں مل کر اللہ کے پیغمبر پر شبخون مارنے اور دھاوا بولنے کی تدبیر کی۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی اس چال کیخلاف کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ مگر اس کیخلاف جس چال کا فیصلہ ہم نے کیا تھا اس کا مقابلہ تو درکنار انکو اس کا پتہ بھی نہیں چلا۔ سو دیکھ لو اے دیدئہ عبرت و بصیرت رکھنے والو کہ کیسا ہوا ان کا انجام کہ انکو ہمیشہ ہمیش کیلئے تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق کا انکار اور اس کی تکذیب کا آخری نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کے ہر زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 27:51–52

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سو دیکھو کیسا ہوا انجام ان کی سازش کا، کہ ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ان کو بھی اور ان کی پوری قوم کو بھی سب کو،

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ ہیں ان کے گھر ویران پڑے ہوئے اس ظلم کی پاداش میں جو کہ وہ لوگ کرتے رہے تھے، بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں1

56 درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈرات سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہیں ان کے ویران پڑے ہوئے گھر ان کے اپنے ظلم کی بناء پر "۔ جن کو تم لوگ اے عربو ! اپنے سفروں کے دوران دن رات دیکھتے ہو۔ اور مدائنِ صالح کے نام سے ان کے یہ کھنڈرات تب تک سامان عبرت بنے ہوئے تھے اور اب تک بنے ہوئے ہیں۔ لیکن غافل لوگ کل کی طرح آج بھی اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں اور وہ اس بارے میں نہ کوئی غور کرتے ہیں اور نہ توجہ دینے کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں کہ آخر یہ کون لوگ تھے ؟ جو اس ہولناک انجام کو پہنچے ؟ اور وہ کیا عوامل و اسباب تھے جن کی بنا پر ان بدبخت لوگوں کو اس ہولناک انجام اور ابدی ہلاکت و تباہی سے دو چار ہونا پڑا ؟ اور اس میں ہمارے لئے کیا درس عبرت اور سامان بصیرت ہے ؟ ۔ الا ما شاء اللہ ۔ سو ان بدبختوں کی یہ داستان کوئی دور کی داستان نہیں بلکہ ان کے کھنڈرات تمہاری راہ میں پڑے اور تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ ۔ دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو ۔ لیکن افسوس کہ دنیا والوں کی نگاہ عبرت ہی سب سے نادر و نایاب چیز ہے ۔ الا ما شاء اللہ جل وعلا - 57 علم والوں کے لیے بڑی بھاری نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو علم رکھتے ہیں "۔ یعنی اس قصے میں حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز اور ان دونوں کے مآل و انجام سے متعلق اس میں نشانی تو بہت بڑی موجود ہے لیکن اس سے کام وہی لے سکتے ہیں اور فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جو علم صحیح کی دولت رکھتے ہوں۔ سو اس سے نور علم و حکمت کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ { یعلمون } کا ایک مطلب اور ایک احتمال ہے۔ یعنی اس سے مراد ہے کہ یہ نشانی ان لوگوں کیلئے ہے جو علم کی روشنی رکھتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر علم سے مراد ارادئہ علم ہو۔ فعل بول کر ارادئہ فعل مراد لینا بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ سو اس صورت میں معنیٰ و مطلب یہ ہوگا کہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو جاننا چاہتے ہوں۔ اور ظاہر ہے کہ جو جاننا چاہتے ہی نہ ہوں ان کیلئے کسی نشانی کا کوئی فائدہ نہیں خواہ وہ کتنی ہی بڑی نشانی کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دے دی اپنی رحمت و عنایت سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور وہ بچتے رہے تھے اپنے رب کی نافرمانی سے2

58 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے نجات دے دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے "۔ " ہم نے نجات دے دی " سے پھر اسی بنیادی حقیقت کی تاکید فرما دی گئی کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف اور صرف اسی ذات حق کا کام ہے۔ لہذا کسی مخلوق کو اس میں شریک اور حصہ دار ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم اور سب سے بڑا گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ نجات کے لئے بنیادی سبب دو ہی ہیں۔ ایمان اور تقویٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ انبیاء و رسل اور اولیاء و صلحاء سب اسی کے محتاج ہیں اس کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 27:54–55

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا سو یاد کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ دیدہ دانستہ اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ؟

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے آتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔

59 حضرت لوط کا اپنی قوم سے درد بھرا خطاب : سو اس سے حضرت لوـط کے درد بھرے خطاب کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ اس دیکھیے اور دور حاضر کے ایک جمہوری ملک کا ایک حیا باختہ کردار بھی ملاحظہ کیجیے۔ سو حضرت لوط نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " تم لوگ آنکھوں دیکھتے ہوئے ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ "۔ جس کو شریف انسان کیلئے زبان پر لانا بھی مشکل ہے ؟۔ اور کیا تم لوگ ایک ایسا شرمناک اور بےہودہ کام کرتے ہو جو ایک جانور بھی نہیں کرتا اور جو تمہارے لئے دنیا و آخرت اور ایمان و غیرت سب کی تباہی کا باعث ہے۔ مگر یہاں پر ذرا رک کر اس فعل شنیع کی شناعت و قباحت کو بھی دیکھئے اور اس سے متعلق دور حاضر کی روشن خیال دنیا کا رویہ بھی دیکھئے کہ دور حاضر میں روشن خیالی کی سب سے بڑی دعویدار برطانوی حکومت کی پارلیمنٹ بھرے اجلاس میں اور تالیوں کی گونج میں بھاری اکثریت سے یہ قانون پاس کرتی ہے کہ مرد مرد سے بدفعلی کرسکتا ہے۔ کہ یہ اس کی آزادی کا تقاضا ہے۔ یہ ہیں اس مادر پدر آزاد جمہوریت کے کرشمے اور اس کے زہریلے اثرات وثمرات جس کا چار دانگ عالم میں ایک شور بپا ہے۔ کیا ایسی جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق اور جوڑ ہوسکتا ہے ؟ اور کیا اسلام جیسا دین حق اس طرح کی کسی بےغیرتی اور دیوثی کو کسی بھی درجے میں کبھی برداشت کرسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت لوط نے اپنی قوم کے ان بدبختوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ان سے یہ درد و سوز بھرا خطاب فرمایا کہ تم لوگ کیسے اندھے اور اوندھے ہوگئے ہو کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے احکام کی خلاف ورزی اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف جنگ ہے۔ اور اس کا نتیجہ وانجام بڑا برا۔ اور نہایت ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

ان کی قوم کا جواب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ نکال دو لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں،3

60 حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف سے بیہودہ اور متکبرانہ جواب : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت لوط کو اپنی قوم کی طرف سے یہ جواب ملا کہ نکال باہر کرو لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے کہ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں "۔ تو ایسے پاک بازوں کو ہمارے معاشرے میں رہنے کا کیا حق ؟ سو اس طرح انہوں نے گویا اپنی ہلاکت کے وثیقہ پر خود دستخط کردیئے۔ کیونکہ ٹوکرے میں جب کوئی ایک آدھ دانہ بھی صحیح نہیں رہتا تو ظاہر ہے کہ ایسے میں اس پورے ٹوکرے کو فوراً اٹھا کر اور دور لے جا کر گندگی کے کسی ڈھیر میں یا آگ کے کسی الاؤ میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ تعفن نہ پھیلنے پائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قوم لوط نے اپنے اس جواب سے صاف کردیا کہ اب ان میں خیر کی کوئی رمق باقی نہیں اور اب یہ باقی رہنے کے قابل نہیں۔ اور ان کی بدبختی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے حضرت لوط کے خلاف اپنی قوم کے جذبات کو ابھارنے کے لیے کہا کہ یہ لوگ ہم سب کو اور ہماری پوری قوم کو غنڈوں اور بدمعاشوں کی قوم قرار دیتے ہیں۔ اور خود بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ اور جب کوئی برائی کسی معاشرے میں وبا کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو وہاں پر حق اور داعی حق کی آواز کے خلاف لوگوں کو ابھارنا اور دعوت حق کا راستہ روکنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا۔ آج اگر کسی نے اس کا تجربہ کرنا ہو تو آج کی بےپردہ بیگمات کی کسی محفل میں بےپردگی کے خلاف دو کلمات کہہ کر دیکھ لے۔ اس کو خود معلوم ہوجائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخرکار اس قوم پر عذاب نازل ہوا اور ہم نے بچا لیا لوط کو بھی اور ان کے تمام متعلقین کو بھی سوائے ان کی بیوی کے کہ اس لیے ہم نے مقدر کردیا تھا اس کے کفر و انکار کی بناء پر کہ اس کو بھی رہنا ہے ان لوگوں کے ساتھ جن کو پیچھے رہنا تھا،4

61 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا لوط کو اور انکے متعلقین کو سوائے ان کی بیوی کے "۔ کہ وہ بھی دوسرے کافروں کی طرح اپنے کفر کے انجام کو پہنچ کر رہی۔ اور حضرت لوط جیسے عظیم الشان پیغمبر کے رشتہ زوجیت میں منسلک ہونا اس کے کچھ کام نہ آسکا کہ وہ ایمان کی دولت سے محروم اور شرک کی غلاظتوں سے آلودہ تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے نہ کہ نبی کے ہاتھ میں۔ اور دوسرے یہ کہ اگر اپنا ایمان و عمل صحیح نہ ہو تو کوئی بڑے سے بڑا رشتہ وتعلق بھی کام نہیں آسکتا۔ اور تیسرے یہ کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو حضرت لوط کی اپنی بیوی ایمان و یقین کی دولت سے محروم نہ رہتی اور بالآخر اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز { انجیناہ } " ہم نے نجات دی ان کو " کے ارشاد سے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر واضح اور آشکارا فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 27:58–59

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور برسادی ہم نے ان پر ایک بڑی ہولناک بارش، سو بڑی ہی بری بارش تھی ان لوگوں کی جن کو خبردار کیا جا چکا تھا

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہو سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے چن لیا اپنی نبوت و رسالت کے لیے، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبودان باطلہ جنہیں یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ؟

62 سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو تعریفیں سب کی سب اللہ ہی کے لیے اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ " کہو سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں اور سلام ہو اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ یعنی ماقبل کے قصوں کے ذیل میں جن نعمتوں اور اہم بنیادی حقائق کا ذکر ہوا ان پر " الحمد للہ " کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور آگے جو مسئلہ توحید اور اس کے دلائل کا ذکر شروع ہو رہا ہے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرو۔ سو یہ اس سے پہلے حمد وسلام پر مشتمل خطبہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ یہ تعلیم و درس ہو کہ ہر قول و فعل کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہونا چاہیئے۔ سو اس طرح یہ پیچھے اور آگے کے مطالب کے درمیان نہایت خوبصورت حلقہ اتصال ہے اور چنے ہوئے بندوں سے مراد انبیائے کرام ہیں ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ (مراغی وغیرہ) ۔ نیز یہاں سے یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ صلوۃ وسلام کا تعلق حضرات انبیائے کرام سے ہے۔ ان کے سوا کسی بھی اور ہستی کیلئے " (علیہ السلام) " کہنا درست نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ ایسا کہتے رہے ہیں کہ اب یہ ایک اصطلاح بن گئی ہے۔ اس لئے اس کو اپنے مخصوص موقعہ و محل ہی میں استعمال کیا جائے گا۔ یعنی حضرات انبیاء و رسل ہی کیلئے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی اس پر حکمت کائنات میں جو بھی کوئی خوبی و کمال موجود ہے یا موجود تھا یا آئندہ وجود میں آئے گا وہ سب اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ اسی کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف سے ہوگا۔ نیز اس کا یہ بھی ایک احسان اور بہت بڑا احسان ہے کہ وہ اپنی مخلوق پر برابر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ورنہ یہ شر و فساد سے بھر جاتی۔ اس لیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ اور ہر تعریف اور خوبی و کمال کا اصل حقدار وہی وحدہ لا شریک ہے۔ لہذا اس کا پیغام صلاح واصلاح اور رشد و ہدایت اس کی مخلوق کی طرف اس کے رسولوں ہی کے ذریعے پہنچتا ہے۔ جس کے ذریعے ان کے فوز و فلاح کی راہیں روشن ہوتی ہیں۔ ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے اس کے رسول ہی سلام کے مستحق ہیں ۔ اللہ ہمیشہ ان ہی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 63 مشرکوں سے سوال ان کے دلوں کو جھنجھوڑنے کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنکو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ؟ " اس میں ان کی انتہائی تحجیل و تقبیح ہے ایسے مشرک لوگوں کیلئے کہ اللہ پاک کے سامنے تمہارے ان معبودوں کی حقیقت و حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ اور تم کتنے احمق ہو جو ان کی پوجا کرتے ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس طرح ان مشرک لوگوں کے دلوں پر دستک دی گئی ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں اور عنایتوں کے یہ مظہر ہیں اور دوسری طرف تمہارے یہ من گھڑت اور خودساختہ معبود ہیں جو نہ اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ اپنے پجاریوں کیلئے۔ سو اب تم ہی بتاؤ اے مشرکو کہ ان دونوں میں سے بہتر کون ہے۔ اور عبادت و بندگی کے لائق کون ہوسکتا ہے ؟ تو اس طرح ان کے دلوں پر دستک دے کر ان کو جھنجھوڑا گیا ہے تاکہ یہ ہوش کے ناخن لیں۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کون ہے وہ جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو اور اتارا اس نے تمہارے لئے آسمانوں سے پانی پھر اگائے ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کے بارونق باغات تہارے بس میں تو یہ بھی نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو ہی اگا سکو تو کیا ایسی ایسی قدرتوں والے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود و شریک ہوسکتا ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ سیدھے راستے سے ہٹ کر چل رہے ہیں (1)

64 تم لوگ تو اس کا کوئی درخت بھی نہیں اگا سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے بس میں تو یہ بھی نہیں تھا کہ تم ان کے کسی درخت کو ہی اگا سکو۔ تو پھر سوچو کہ ان طرح طرح کے خوشنما باغوں کو کس نے اگایا اور اس طرح وجود بخشا۔ اور جب تمہارے بس میں ایک درخت کو اگانا بھی نہیں تو پھر ان میں پھل پھول لگانا تو دور کی بات ہے۔ تم سے تو یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ تم ایسے کسی درخت کو ہی اگا سکو۔ اور تمہارے خود ساختہ معبود تو تم سے بھی گئے گزرے ہیں۔ پھر کس قدر ظلم و ناانصافی اور کتنی بڑی نمک حرامی و ناشکری ہے کہ تم اس خالق حقیقی اور واہب مطلق سے منہ موڑو۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کا شریک ماننے لگو جس نے محض اپنے فضل و کرم سے تم کو ان طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے اور برابر نوازے جا رہا ہے۔ اور تمہاری طرف سے بغیر کسی اپیل و درخواست کے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی شان ربوبیت سے تم کو ان طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے۔ سو کس قدر مہربان اور رحمن و رحیم ہے وہ خالق کل اور مالک مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور کس قدر ظالم اور بےانصاف ہے وہ انسان جو اس سب کے باوجود اس سے منہ موڑ کر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

اس کی قدرت کے دلائل مزید سنو بھلا کون ہے وہ جس نے اس زمین کو جائے قرار بنایا اس کے اندر دریا رواں کردیے اس کیلئے پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر بنا دئیے اور (میٹھے و کھاری) پانی کے ان دونوں عظیم الشان ذخیروں کے درمیان آڑ بنادی (2) کیا ایسی عظیم و بےمثال قدرتوں والے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہوسکتا ہے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے (حق اور حقیقت کا)

65 بھلا وہ کون ہے جس نے جائے قرار بنادیا اس زمین کو : اپنی بےپایاں قدرت و عنایت سے تاکہ تم لوگ سکون و اطمینان کے ساتھ اس میں رہ بس سکو۔ اس کو ڈولنے سے بچایا۔ اور تمہاری ضرورت کے ہر سامان سے اس کو آراستہ و پیراستہ فرما دیا۔ محض اپنی رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس خدائے ذوالجلال کی معرفت کیلئے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے تم لوگ اپنی پیش پا افتادہ اسی زمین کے بارے میں غور کرلو جس پر تم لوگ رہتے بستے اور چلتے پھرتے ہو۔ سو ذرا سوچو کہ اس کو تمہارے لیے اس طرح جائے قرار و سکون کس نے بنایا ؟ کیا تمہارے ان خودساختہ اور من گھڑت معبودوں، دیویوں اور دیوتاؤں اور خودساختہ " سرکاروں " میں سے کسی کا اس میں کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ سب کچھ آخر کس نے کیا ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک جو کہ معبود برحق ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کی کسی بھی شکل و صورت میں کسی کو اس کا شریک ماننا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ - 66 پانی کے دو عظیم الشان اور بےمثل ذخیروں کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اسی نے رکھ دی پانی کے ان دو ذخیروں کے درمیان ایک عظیم الشان آڑ "۔ جس سے وہ دونوں ایک دوسرے میں ملنے نہیں پاتے۔ سو ذرا تم لوگ سوچو تو سہی کہ آخر کس کے بس میں تھا اور کس کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ پانی کے ان دو عظیم الشان ذخیروں کے درمیان ایسی عظیم الشان آڑ رکھ سکے۔ سو کتنا مہربان اور کس قدر قادر مطلق اور حکیم مطلق ہے تمہارا وہ رب جس نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے تمہاری زندگی اور تمہاری گزران کیلئے یہ طرح طرح کے عظیم الشان انتظامات فرمائے۔ اور کتنا بڑا ظلم ہے اس سے اعراض و روگردانی ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ سورة فرقان حاشیہ نمبر 64 ۔ بہرکیف میٹھے اور کھاری پانی کے ان عظیم الشان ذخیروں کو اس طرح وجود بخشنا اور ان دونوں کے درمیان اس طرح ایک حدِّ فاصل قائم کردینا کہ ان میں سے ایک دوسرے کے اندر اثرانداز ہو کر اس کے اثرات کو زائل نہ کر دے۔ اور انسان اور دوسری گوناگوں مخلوق کی زندگیوں کی ضروریات میں سے کوئی چیز متاثر نہ ہو اس قادر مطلق خدائے مہربان کی کتنی بڑی عنایت اور کس قدر بڑی رحمت و مہربانی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 67 منبع شر و فساد کی نشاندہی : سو منبع شر و فساد کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اصل بات یہ ہے کہ " اکثر لوگ علم نہیں رکھتے حق و حقیقت کا جس سے وہ اندھیروں میں پڑے ہیں "۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ان دلائل سے کام لے کر اس کی وحدانیت کے قائل نہیں ہوتے۔ اور اس کی صفات میں دوسروں کو بھی شریک مانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق اور حقیقت کا علم ہی وہ نور مبین اور عظیم الشان روشنی ہے جس سے انسان کیلئے راہ حق و صواب واضح ہوتی ہے۔ ورنہ وہ اندھیروں میں ہی بھٹکتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور حق و حقیقت کا علم ملتا ہے وحی خداوندی سے ہے جس سے یہ لوگ بےبہرہ و محروم اور دور و نفور ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں یہ طرح طرح کی گمراہیوں اور قسما قسم کی شرکیات میں مبتلا و ملوث ہیں۔ سو بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی نور علم و ہدایت سے محرومی ہے۔ اور یہی ہے منبع ہر شر و فساد کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون ہے وہ جو دعا وپکار سنتا ہے مجبور و لاچار شخص کی جب کہ وہ پکارتا ہے اس وحدہ لا شریک کو اور کون اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور وہ کون ہے جو تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے ؟ (3) کیا ایسے قادر مطلق اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہونے کے لائق ہوسکتا ہے ؟ بہت ہی کم سبق لیتے اور نصیحت حاصل کرتے ہو تم لوگ

68 مضطر کی فریاد رسی اسی وحدہ لا شریک کی شان : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا کون ہے وہ جو مجبور و لاچار کی پکار سنتا ہے جبکہ وہ اس کو پکارتا ہے اور وہ اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے ؟ "۔ یعنی جب سب سہارے توڑ کر اور سب رشتے چھوڑ کر کوئی اس اکرم الاکرمین کی بارگہ اقدس میں حاضری دیتا ہے اور اپنی تکلیف پیش کرتا ہے تو وہ اسے اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے اس کو نوازتا ہے اور عجز و انکسار اور بےچارگی و درماندگی جس قدر زیادہ ہوگی اس کی رحمتوں کا نزول اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ اس سے مانگتے وقت رویا کرو۔ اور رونا اگر نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو۔ نیز بیماروں، عاجزوں اور مسکینوں، محتاجوں سے دعا کرانے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے دل ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان کرم کے ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ معبود برحق ہی ہے جو ایسے مضطر اور مجبور و لاچار لوگوں کی دعا و پکار کو سنتا اور ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ آگے جیسا اس کی حکمت و مشیت کا تقاضا ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے۔ کبھی کسی کو وہی مل گیا جو اس نے مانگا اور کبھی اس کی بجائے اور عنایت سے نواز دیا گیا۔ اور کبھی اس کی بجائے کسی اور موقعہ پر اس کو سرفراز فرما دیا گیا۔ اور کبھی اس کو اس کی آخرت کے لیے محفوظ کردیا گیا کہ وہی ربِّ رحیم و کریم جانتا ہے کہ اس کے بندے کے لیے کیا بہتر ہے۔ 69 غفلت و لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ محرومی کی ایک بڑی وجہ غفلت و لاپرواہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بہت ہی کم سبق لیتے ہو تم لوگ "۔ ورنہ تم نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر کفر و شرک کی دلدل میں نہ پھنستے۔ اور تمہاری اسی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ تم لوگ ان تنبیہات اور آزمائشوں سے بھی کام نہیں لیتے جو تم کو زندگی میں بار بار اور طرح طرح سے پیش آتی ہیں۔ ان آزمائشوں اور مصیبتوں کے دوران تو تم لوگ خدا خدا پکارتے ہو لیکن جب وہ گزر جاتی ہیں تو تم لوگ خدا کو بھول کر اپنی انہی خدا فراموشیوں میں لگ جاتے ہو جن میں اس سے پہلے محو تھے اور تمہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ تم نے کبھی خدا کو بھی پکارا تھا۔ اور اس سے بھی کوئی قول وقرار کیا تھا۔ اور اس کا بھی تم پر کوئی حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اور قلت کا لفظ عدم کے معنیٰ میں بھی آتا ہے۔ یعنی تم لوگ سبق لیتے ہی نہیں ہو اور نصیحت قبول کرتے ہی نہیں ہو ورنہ تمہارا یہ حال نہ ہوتا۔ تم لوگ تو حیوانوں کا جینا جیتے ہو۔ اور حیوانی تقاضوں سے آگے تم سوچنے سمجھنے کے لیے آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ تو پھر تم کو نور حق و ہدایت ملے تو کیسے اور کہاں سے ملے اور یہ چیز محرومیوں کی محرومی اور خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

اور سنو بھلا کون ہے وہ جو تم کو راستہ دکھاتا ہے خشکی اور تری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ؟ اور کون ہے وہ جو چلاتا ہے ہواؤں کو اپنی باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے کو ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ایسا ہوسکتا ہے بہت بلند وبالا ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

70 خشکی اور تری میں راستہ دکھانے کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا وہ کون ہے جو تمہیں راہ دکھاتا ہے خشکی اور تری کے اندھیروں میں ؟ "۔ دریاؤں، نہروں، پہاڑوں اور دروں وغیرہ کے طرح طرح کے نشانات کے علاوہ آسمانی ستاروں اور سورج و چاند کے ذریعے۔ اور جب اس نے تمہارے لئے ان دنیاوی راستوں کی راہنمائی کا اس قدر انتظام و اہتمام فرمایا ہے تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری ابدی سعادتوں کے لئے راہنمائی کا کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ نیز انہی راستوں سے تم لوگ اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ تک رسائی حاصل کرسکتے ہو کہ جس نے اس قدر پر حکمت طریقے سے ہمارے لیے قسما قسم کے ان راستوں کا انتظام فرمایا وہی ہمارا رب ہے۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ۔ { وَاَلْقٰی فِی الاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ وَاَنْہَارًا وَّ سُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ، وَعَلٰمٰتٍ وَّبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ } (النحل :15-16) ۔ سو اس خالق ومالک خدائے مہربان سے اعراض و روگردانی کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی اور ناشکری ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مالک الملک، یہ ہماری پیشانیاں تیرے سامنے حاضر و موجود ہیں۔ ان سے پکڑ کر ہمیں ہر لحظہ اور لمحہ اپنے ذکر و شکر میں مشغول و منہمک اور شاد و آباد رکھ۔ اور غفلت و لاپرواہی اور اعراض و روگردانی کی ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور امان میں رکھ ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 71 باران رحمت کے بارے میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کون ہے وہ جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو چلاتا ہے "۔ یعنی بارش سے پہلے ٹھنڈی ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوائے تازہ کے جھونکے لاتا ہے اپنی رحمت و عنایت سے۔ جو باران رحمت کے نزول کی نوید جانفزا سناتے ہیں۔ پھر وہ ہوائیں بادلوں کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتی جمع کرتیں اور ان کو تہ بہ تہ کرکے گہرے بادل بنا دیتی ہیں جس سے وہ جہاں چاہتا ہے بارش برسا دیتا ہے۔ سو کیا اس میں اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کا کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر معبود برحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ اس میں اور کسی کو بھی کسی بھی درجے میں شریک ماننا ظلم بلکہ ظلم عظیم ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے وہ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے ؟ پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کر دے گا اور کون ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ایسا ہوسکتا ہے ؟ ان سے کہو کہ لاؤ تم لوگ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو

72 اِبدائِ خلق اور اعادئہ خلق کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا کون ہے وہ جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا "۔ تو جو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرتا ہے اور کریگا۔ سو قیامت کے روز بھی وہ سب کو دوبارہ زندہ فرمائے گا اور اس سے پہلے اس دنیا میں اور آج بھی۔ اِحیاء و اماتت کا یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں برابر جاری وساری ہے جو اس کی قدرت و عنایت اور رحمت بےنہایت کا ایک عظیم الشان اور کھلا مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور اس بارے غور و فکر سے کام لو کہ کون ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے ؟ کیا تمہارے ان خودساختہ فرضی اور من گھڑت معبودوں میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر معبود برحق بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ نیز اسی سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جو پہلی مرتبہ پیدا کرسکتا ہے اور بالفعل پیدا کرتا ہے اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور ضرور کریگا تاکہ اس پر حکمت کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہوسکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود بیکار اور بےمقصد ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ اس طرح کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 73 مشرکین سے دلیل کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ لاؤ تم لوگ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں "۔ یعنی اگر توحید کے ان واضح اور ٹھوس دلائل کے مقابلے میں تم کوئی دلیل رکھتے ہو تو پیش کرو۔ مگر کہاں اور کیسے ؟- { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ لا بُرْہَانَ لَہ بِہ } ۔ (المومنون : 117) ۔ شرک پر کوئی دلیل ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟۔ سو یہ ساری چیزیں جن کا ذکر ہوا اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ان کا ایک خالق ہے جو نہایت ہی حکیم، انتہائی مہربان اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ سب کچھ تنہا اسی کی قدرت و حکمت اور ارادئہ مطلقہ کا رہین منت ہے۔ کسی اور کے ارادے اور اس کی مشیت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اور کائنات اور اس کی ہر چیز کی اس گواہی سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدائے حی وقیوم اور اس کی وحدانیت ویکتائی کا ثبوت و وجود برہان قطعی پر مبنی ہے۔ اس لیے اس کو ماننا اور اس پر ایمان لانا اور یقین کرنا عقل و نقل اور بداہت فطرت سب کا صریح اور واضح تقاضا ہے۔ اور اس کے خلاف جو بھی کچھ ہے وہ سب اوہام و خرافات ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

اپنی شرکیات میں کہو کوئی بھی غیب نہیں جانتا آسمانوں اور زمین میں سوائے ایک اللہ کے اور انھیں تو اس کی بھی خبر نہیں کہ یہ خود کب اٹھائے جائیں گے (1)

74 غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے "۔ " لا " اور " الا " کے حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اس میں فرشتے، انبیاء اور اولیاء وغیرہ سب ہی آگئے۔ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا عالم غیب اور کوئی بھی نہیں۔ پس جس طرح کلمہ طیبہ " لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ " میں " لَا " اور " اِلَّا " کے حصر کی بنا پر اللہ پاک کے سوا کوئی کسی بھی طرح معبود اور خدا نہیں ہوسکتا اسی طرح یہاں کے اس حصر سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی کسی بھی طرح عالم غیب نہیں ہوسکتا۔ لہذا اگر کوئی کسی نبی یا ولی کو اللہ تعالیٰ کے سوا عالم غیب مانے گا خواہ وہ عطائی وغیرہ کسی تاویل سے ہی کیوں نہ ہو وہ اس ارشاد ربانی کی صریح خلاف ورزی کرے گا۔ اور وہ اللہ پر افتراء اور جھوٹ باندھنے کا مرتکب قرار پائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت مسروق ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ حضرت محمد ﷺ کل کی خبر رکھتے ہیں یقیناً اس نے بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ پھر آپ نے اس کی تائید میں سورة نمل کی یہی آیت کریمہ بطور استشہاد پیش فرمائی ۔ " من زعم أن النَّبی ﷺ یعلم ما فی غد فقد اعظم الفریۃ علی اللّٰہ تعالیٰ یقول تعالیٰ { قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہ } " ۔ (روح المعانی، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، فتح القدیر، مدارک التنزیل، خازن، جامع البیان اور جواہر وغیرہ) ۔ اور جس طرح کلمہ طیبہ میں اسی نفی و اثبات والے حصر کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی الہٰ ماننا جائز نہیں اسی طرح یہاں بھی اللہ کے سوا کسی اور کو بھی عالم غیب ماننا جائز نہیں۔ جیسے وہاں کسی بھی قسم کا معبود ماننا شرک ہے اسی طرح یہاں بھی ایسا ماننا شرک ہوگا۔ باقی حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو غیب کے وہ علوم دئیے گئے جن کی ان کو اپنے منصب نبوت و رسالت کے لئے ضرورت تھی۔ جس طرح کہ ۔ { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہ مَنْ یَّشَآئُ } ۔ (آل عمران :179) میں۔ اور ۔ { اِلَّا مَنِ اَرْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ۔ (جن : 47) میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور اس ضمن میں سب سے زیادہ علم سید الاولین والآخرین امام الانبیا والمرسلین ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ کو عطا فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی ہر صفت میں دوسرے تمام انبیائے کرام سے ممتاز ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود عالم الغیب ان میں سے کسی کو بھی کہنا جائز نہیں کہ ان تمام علوم کو اللہ پاک کے علم غیر متناہی سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک قطرہ کو سمندر سے ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ قصہ موسیٰ و خضر میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اسی لئے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے ان اخبار و علوم کو { مِنْ اَنبائِ الغَیْبِ } ۔ " غیب کی کچھ خبریں " فرمایا گیا ہے ۔ الحمد للہ ۔ کہ اس مسئلہ پر علمائے حق نے مستقل اور بڑی عمدہ اور وقیع کتابیں لکھی ہیں۔ خاص کر برصغیر پاک و ہند کے علمائے کرام نے۔ اور اس مسئلہ کو پوری طرح اور ہر اعتبار سے واضح اور مبرہن کردیا گیا۔ اس ضمن میں خاص کر شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صاحب ۔ مدظلہم ۔ نے اپنی عظیم الشان کتاب " ازالۃ الریب عن عقیدۃ علم الغیب " میں اس موضوع سے متعلق ہر پہلو کو پوری طرح نکھار کر اور واضح کر کے بیان فرما دیا ہے ۔ فَجَزَاہُمُ اللّٰہُ خَیْرًا ۔ جو کوئی اس موضوع سے متعلق ہر پہلو سے آگہی حاصل کرنا چاہے وہ اس کتاب کا مطالعہ کرے۔ ایک اور بات یہ بھی واضح رہنی چاہیئے کہ یہاں علم سے مراد قطعی اور یقینی علم ہے نہ کہ ظنی اور غیر یقینی۔ جیسا کہ ہمارے یہاں محکمہ موسمیات والے موسم کے بارے میں پیشینگوئیاں کرتے رہتے ہیں۔ جو کبھی سچی نکل جاتی ہیں اور کبھی نہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے کشوف و الہامات وغیرہ بھی۔ سو یہ سب ظنی چیزیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی چیز مدار اور معیار نہیں بن سکتی۔ اس لئے فقہائے کرام نے ان پر کسی مسئلہ کی بنا رکھنے کو جائز نہیں سمجھا۔ روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب کہ کفار قریش نے آنحضرت ﷺ سے قیامت کا وقت دریافت کیا کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ تو اس سے ان کو جواب دیا گیا کہ اس کا تعلق تو غیب سے ہے۔ اور غیب علم کا آسمان و زمین میں صرف اللہ پاک ہی کے پاس ہے۔ اور { مَنْ فِی السَّمٰوَاتَ وَالاَرْضِ } کا عموم فرشتوں، نبیوں اور ولیوں وغیرہ سب ہی کو شامل ہے کہ ان میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ اور یہ بھی عامۃ الناس کے خیال کے مطابق ہے کہ ان کے نزدیک جو بھی کچھ موجودہ ہے وہ آسمان و زمین ہی میں پایا جاتا ہے۔ ورنہ اللہ پاک کی کائنات تو اس سے بہت وسیع ہے۔ اور اس کی وسعتوں کا احاطہ و ادراک بھی اس کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ (جامع البیان، خازن، مدارک وغیرہ) ۔ سو اس کی اس پوری کائنات میں کوئی غیب نہیں جانتا سوائے اس وحدہ لاشریک کے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جو لوگ اس کے باوجود غیر اللہ کیلئے علم غیب کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ اپنے بارے میں خود سوچ لیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جارہے ہیں۔ اور دیکھ لیں کہ نصوص کتاب و سنت کی تصریح اور انکا تقاضا کیا ہے۔ بہرکیف عالم غیب صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 75 اور ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ خود ان کو کب اٹھایا جائے گا : یعنی غیب کا علم رکھنا تو دور کی بات ہے آسمان و زمین کے ان باشندوں کو یہ تک پتہ نہیں کہ وہ خود کب اٹھائے جائیں گے۔ کیونکہ قیامت کی وہ گھڑی غیب کے ان علوم میں سے ہے جن کا پتہ اللہ پاک۔ وحدہ لاشریک۔ کے سوا اور کسی کو بھی نہیں۔ اور وہ بالکل اچانک آئے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضِ لَا تَأْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ (الاعراف : 187) (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ سو جب ان کو خود اپنے بارے میں بھی یہ پتہ نہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا تو ان کے عالم غیب ہونے کا کیا سوال ؟ اور جب ان کو خود اپنے اٹھائے جانے کی بھی خبر نہیں تو ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنا اور ان کو معبود مان کر ان کی پرستش کرنے کے کیا معنیٰ ؟ اور یہی بات سورة نمل کی بیسویں اور اکیسویں آیت میں ارشاد فرمائی گئی۔ چناچہ وہاں ارشاد فرمایا " اور جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ وہ مردہ نہیں زندہ ہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا "۔ (النمل : 21-20) ۔ سو اس سے اس حقیقت کو مزید موکد اور واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کے اندر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب کو جاننے والا نہیں۔ اور جن ہستیوں کو کچھ لوگ عالم غیب سمجھتے ہیں ان کو خود اپنے بارے میں کوئی پتہ نہیں کہ ان کو کب دربارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو عالم غیب اللہ ۔ وحدہ لا شریک۔ ہی ہے۔ اس میں اس کا کوئی بھی شریک نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -