Ayah 25:5264 قرآن کے ذریعے جہاد کبیر کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے جہاد کرو اس قرآن کے ذریعے بڑا جہاد "۔ یعنی قرآن حکیم کے احکام و مضامین کی تبلیغ وتعلیم کے ضمن میں اپنے بس کی حد تک جہاں تک ممکن ہو سکے کوشش کرتے جائیے اور اس راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات پیش آئیں انہیں عزم و استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتے جائیے کہ حق و صداقت اور کامیابی و نجات اور دارین کی فوز و فلاح کی راہ بہرحال یہی اور صرف یہی راہ ہے۔ اور یہ لوگ محض آپ کو زچ کرنے کیلئے نت نئے اور طرح طرح کے مطالبات پیش کرتے ہیں۔ ان کی آپ کوئی پرواہ نہ کریں بلکہ ان کے مقابلے میں قرآن حکیم کے اسی عظیم الشان اور مقدس ہتھیار کے ذریعے لگاتار جہاد کرتے رہیں۔ اور یہ جہاد ہرچند کہ ہے بڑا کٹھن اور صبر آزما جہاد لیکن آپ ﷺ اس قرآن حکیم کے ذریعے اس میں لگے رہیں۔ تاکہ ان پر اللہ کی حجت اچھی طرح پوری ہوجائے۔ اور جس کے اندر کوئی ادنی رمق بھی قبول حق کیلئے موجود ہو وہ حق کو قبول کرلے اور کسی کیلئے بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ سو یہ جہاد جہاد کبیر بہت بڑا جہاد ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور زندگی کا ہر لمحہ اپنی رضا و خوشنودی کے لیے صرف کرنے کی توفیق بخشے اور اس کو اپنی بارگہ میں قبول فرما لے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:5365 پانی کے دو عظیم الشان ذخیروں کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ وہی ہے جس نے ملا رکھا ہے پانی کے دو عظیم الشان ذخیروں کو "۔ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے۔ اور ان دو سمندروں سے مراد ایک تو میٹھے اور کھاری پانی کے دو ذخیرے ہیں جن میں سے ایک یعنی میٹھے پانی سے انسان اور حیوان پیتے اور دوسری طرح طرح کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں جو کہ چشموں، دریاؤں، نہروں اور تالابوں وغیرہ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ اور دوسرا ذخیرہ سمندروں اور خلیجوں وغیرہ کا وہ ذخیرہ ہے جس کا پانی کھارا اور تلخ ہوتا ہے۔ اور جو خشک زمین سے کہیں زیادہ ہے۔ اور جس سے تمہارے جہاز رانی، بحری نقل و حرکت اور مچھلیوں کے شکار وغیرہ کے بیشمار فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اسی پانی کے ذخیرے سے وہ آبی بخارات بھی اٹھتے ہیں جس سے بارش برستی ہے۔ پانی کے اس عظیم الشان ذخیرے کو قدرت نے کھارا اور سخت تلخ و شور بنادیا اور اس طرح اس میں مرنے سڑنے والے ہزاروں لاکھوں جانور اور دوسری طرح طرح کی غلاظتیں خود بخود بھسم ہو کر مٹتی رہتی ہیں۔ اور اس میں کوئی بو یا سڑاند پیدا نہیں ہونے پاتی۔ ورنہ اگر پانی کا یہ حصہ بھی میٹھا ہوتا اور یہ ہزارہا قسم کی جاندار چیزیں اور طرح طرح کی دوسری اشیاء اس میں مرتی اور گلتی سڑتی رہتیں تو یقیناً اس سے اس میں ایسا تعفن اور ایسی سخت بو اور سڑاند پیدا ہوجاتی کہ بنی نوع انسان کے لئے اس کرہ ارضی پر زندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا۔ { بحرین } کی تشریح و تفسیر سے متعلق اس قول کو جس کو راقم آثم نے یہاں اختیار کیا ہے اس کو ابن جریر طبری (رح) اور ابن کثیر (رح) (رح) وغیرہ مفسرین کرام نے بھی ترجیح دی ہے اور معارف القرآن وغیرہ میں بھی اس کو اختیار کیا گیا ہے۔ سو قدرت نے پانی کے ان دونوں ذخیروں کے درمیان ایسی مضبوط آڑ اور روک رکھ دی ہے کہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہو کر اس کے رنگ، مزے اور اثرات کو زائل نہیں کرسکتا۔ ورنہ اور کس کے بس میں تھا کہ وہ پانی کے ان دونوں عظیم الشان ذخیروں کو آپس میں ملنے سے روک دے ؟ ۔ فَسُبْحَانَہ مَا اَعْظَمَ شَاْنُہ وَمَا اَجَلَّ قُدْرَتُہ وَبُرْھَانُہ ۔ اور اس کے علاوہ خود ان کھاری سمندروں کے اندر بھی میٹھے پانی کے چشمے اور ذخیرے پائے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ دونوں قسم کے پانی آپس میں ملنے نہیں پاتے۔ اس سلسلہ میں علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) نے اس موقعہ پر اپنی تفسیر میں کچھ علماء کی شہادتیں بھی قلم بند کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اراکان سے چاٹگام تک، ضلع باریسال کے اندر اور جنوبی ہند کے ضلع گجرات وغیرہ میں اس کے نظائر پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے امیر البحر سید علی رئیس ۔ کاتب رومی ۔ نے اپنی کتاب " مرآۃ المیاہ " جو کہ سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے میں خلیج فارس کے اندر کئی ایسے چشموں کا ذکر کیا ہے جن سے وہ خود اپنی ضروریات کے لئے پانی حاصل کیا کرتا تھا اور وہ خود اور اس کے بحری بیڑے کے تمام افراد اسی سے اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ اور خود دور حاضر میں ماضی قریب کے اندر ہی جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل کی تلاش شروع کی تو یہ لوگ ابتداء میں خلیج فارس کے انہی چشموں سے پانی لیتے تھے۔ یہاں تک کہ سعودی شہر ظہران کے پاس کنوئیں کھود کر ان سے پانی لیا جانے لگا۔ اسی طرح بحرین کے قریب بھی کھاری سمندر کے اندر میٹھے پانی کے چشمے ہیں جن سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ پانی لیا کرتے تھے۔ اور اس کے علاوہ اس کی بھی جگہ جگہ مثالیں موجود ہیں کہ ایک ہی خطے میں زمین کے اندر کھاری پانی کے سوتے بھی ہیں اور میٹھے پانی کے بھی۔ مگر اس سب کے باوجود ان میں آپس میں کوئی خلط یا آمیزش نہیں ہونے پاتی۔ بلکہ سطح سمندر پر بھی ان دونوں پانیوں کو الگ الگ محسوس کیا جاتا ہے جس سے سمندری سفروں کے دوران لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ مگر اللہ پاک کی قدرت کاملہ نے ان دونوں کے درمیان ایسا مضبوط پردہ حائل کر رکھا ہے کہ دونوں پانی ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتے ۔ { فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَھُوَ عَلٰی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْرِ } ۔ سو جس قادر مطلق کی عظیم الشان قدرت اور بےنہایت حکمت کے یہ عظیم الشان نشان تمہارے سامنے موجود ہیں وہی ہے اللہ ۔ جل جلالہ ۔ جو کہ معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال -
Ayahs 25:54–5566 خلقت انسانی میں غور و فکر کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جس نے انسان کو پیدا فرمایا پانی سے۔ پھر اس کو نسب اور سسرال والا بنادیا "۔ ایک حقیر و بےجان پانی سے انسان جیسی اشرف المخلوقات کو پیدا کردینا ہی کیا کچھ کم اعجوبہ قدرت و عنایت تھا کہ اس نے اپنے کرم مزید سے اس کے لئے نسب وصہر کا ایک عظیم الشان اور حکمتوں بھرا سلسلہ بھی جاری فرما دیا۔ جس سے خاندانوں کے خاندان بنتے چلے گئے اور مسلسل و لگاتار بنتے چلے جارہے ہیں۔ واقعی تمہارے رب کی رحمت اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں۔ سو کتنا بڑا ظالم اور کس قدر بےانصاف ہے وہ شخص جو اس خالق ومالک اور قادر مطلق سے منہ موڑے اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگ ذرا سوچو تو سہی کہ کس طرح اس قادر مطلق نے پانی سے انسان کی تخلیق فرمائی اور پھر کس طرح اس سے اس کا جوڑا بھی پیدا فرما دیا۔ پھر ان دونوں کے اندر ایسے فطری داعیات ودیعت فرما دیئے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج ہوگا۔ اور اس حد تک کہ ہر ایک کی زندگی کی تکمیل اور اس کا سکون دوسرے کے وجود اور اس کے ارتباط پر موقوف ہوگیا۔ جسکے نتیجے میں انسان ایک طرف نسبی تعلقات کا حامل بن گیا اور دوسری طرف سسرالی روابط کے ساتھ جڑ گیا۔ اور اس طرح خاندانوں کی تکوین و تخلیق اور معاشرت و اجتماعیت کی تنسیق و تعمیر کے عظیم الشان اور حکمتوں بھرے سلسلے قائم ہوگئے۔ سو ایک ہی پانی اور مادئہ تخلیق سے اس طرح اضداد کو وجود میں لانا اور پھر ان کو اس طرح ایک پر حکمت سلسلے میں پرو دینا اس خالق کل اور مالک مطلق کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے۔ سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی حکیم و قدیر خدائے پاک کا حکم اور اس کا تصرف کارفرما ہے۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ ایک مادہ سے اضداد کو وجود میں لاتا ہے اور پھر اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے ان اضداد کے اندر ایک پر حکمت وابستگی اور پیوستگی پیدا فرما دیتا ہے۔ سو وہی وحدہ لاشریک خالق کل، مالک مطلق اور معبود برحق ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 25:5668 پیغمبر کا کام انذار اور تبشیر ہے اور بس : یعنی حق کی تبلیغ کرنے پر ماننے والوں کو دارین کی فوز و فلاح کی خوشخبری دے دینا اور نہ ماننے والوں کو ان کے انجام بد سے خبردار کردینا ہی آپ کا کام ہے اور بس۔ اس کے سوا آپ ﷺ کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ دلوں کو پھیرنا اور ان میں کلمہ حق اتار دینا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ کام آپ ﷺ کے ذمے ہے۔ پس تبلیغِ حق کرتے جائیے اور اس کے بعد ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک پر چھوڑ دیجئے۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ کا کام تو صرف تبلیغِ حق اور انذار وتبشیر ہے اور وہ آپ نے پورا کردیا۔ لہذا آپ کا ذمہ فارغ۔ اس سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کے لیے تنبیہ و تہدید ہے کہ تم لوگوں نے اگر نہ مانا تو اب تم اپنے انجام کو پہنچ کر رہو گے کہ حق کا پیغام تم تک پہنچ گیا اور اب تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ لہذا اب تم لوگ اپنے انجام کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لو۔
Ayah 25:5769 پیغمبر کی دعوت بالکل بےلوث : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں تم لوگوں سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا " تو پھر تمہارے ماننے سے میرا کیا فائدہ اور تمہارے نہ ماننے سے میرا کیا نقصان ؟ اور تمہیں خود یہ سوچنا چاہیئے کہ ایسے بےغرض و بےلوث شخص کی دعوت کے حق و صدق ہونے میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے جو نہ تو کسی اجر و معاوضے یا دنیاوی مفاد کا کوئی مطالبہ وسوال کرے اور نہ تم سے کچھ مانگے۔ بلکہ دعوت حق کی راہ میں سب کچھ قربان کر دے اور اپنے آرام و سکون تک کو تج دے۔ سو ایسی دعوت سے منہ موڑ نا کس قدر ظلم و زیادتی اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کی دعوت بالکل بےلوث اور سراسر اخلاص و للہیت پر مبنی ہوتی ہے ۔ اللہ ہمیں بھی اس کی توفیق فرمائے ۔ آمین۔
70 پیغمبر کا کام راہ حق کی راہنمائی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کی دعوت کا مقصد خدا کے راستے کی راہنمائی اور اس کو اپنانے کی تعلیم و تلقین اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے "۔ سو اس کو اگر تم لوگ اجر اور مزدوری کہتے ہو تو بیشک کہو کہ یہ میرا فرض منصبی ہے کہ بندوں کو خدا تک پہنچانے کی سعی کی جائے۔ ان کو اس کی رضا نصیب ہوجائے۔ یہ اس کے راستے پر آجائیں اور وہ دارین میں سرخرو ہو سکیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ ما سَاَلْتُکُمّ مِنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَکُمْ } ۔ (سبا :47) ۔ یعنی " جو کچھ بدلہ میں اس کام پر تم لوگوں سے چاہتا ہوں وہ خود تمہارے ہی لئے ہے " اور اس کا فائدہ خود تمہی لوگوں کو پہنچے گا۔ اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو اگر تم لوگ اپنے رب تک پہنچنے کی اس راہ کو اپناؤ گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ۔ نہیں تو تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔ اور اس کا خمیازہ خود تم ہی لوگوں کو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کا کام سراسر اخلاص و خیرخواہی پر مبنی ہوتا ہے ۔ اللہ ہمیں بھی ان کی اتباع و پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 25:58–5971 بھروسہ اللہ ہی پر رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بھروسہ ہمیشہ اسی زندئہ جاوید ہستی پر رکھو جسکو کبھی موت نہیں آتی "۔ کہ بھروسہ کرنے کے لائق وہی ذات اقدس و اعلیٰ ہے جس کی قدرت بھی کامل ہے اور اس کی رحمت بھی عام اور شامل۔ جو کارساز و کار فرما بھی ہے اور ازلی و ابدی بھی۔ جو سب کائنات کی خالق بھی ہے اور مالک و متصرف بھی۔ جو شہ رگ سے بھی زیادہ انسان کے قریب بھی ہے اور جو ہر کسی کی سنتی بھی ہے اور ہر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرنے والی بھی۔ جس کو نہ کبھی موت آسکتی ہے نہ فنا۔ اور جب اس ذات اقدس و اعلیٰ کے سوا یہ صفات اور کسی بھی ہستی میں نہ پائی جاتی ہیں نہ پائی جانی ممکن ہیں کہ اس کے سوا ہر ہستی بہرحال مخلوق، محدود اور فانی ہے۔ اور اس پر عدم و فنانے بہرحال طاری ہونا ہے تو پھر اس کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی دلی بھروسہ و اعتماد کے لائق آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی جامع مانع اور واضح تعلیم ہے۔ مگر اس کے باوجود آج کا جاہل مسلمان کیسی کیسی شرکیات میں مبتلا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر کرنا چاہیے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گا کہ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی محروم اور نامراد نہیں ہوتے۔ سو اس میں لطیف تعریض ہے ان مشرکوں پر جو اس وحدہ لاشریک کے سوا ان خودساختہ اور من گھڑت معبودوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو مردہ اور بےجان ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:6075 منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم سجدہ کرو خدائے رحمان کو تو یہ لوگ کہتے ہیں رحمن کیا ہوتا ہے ؟ "۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ رحمن کے مفہوم سے نا آشنا تھے۔ یہ تو خالص عربی زبان کا لفظ ہے اور ان کے کلام میں مستعمل تھا۔ اس کا مفہوم ان کے یہاں واضح تھا۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ فرعون نے کہا تھا ۔ " اور کیا ہوتا ہے رب العالمین " ۔ سو اگر ان کی یہ بات کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی جس طرح کہ عام مفسرین کرام نے فرمایا ہے تو قرآن حکیم میں ان کو اس طرح ٹوکنے اور گرفت کرنے کی بجائے خدائے رحمن کے مفہوم و مطلب سے صاف اور سیدھے طریقے پر آگاہ کردیتا۔ اس لئے عام طور پر اس بارے تفسیر کی کتابوں میں جو کہا جاتا ہے وہ صحیح نہیں۔ بلکہ اصل بات یہی ہے کہ یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسا کہتے تھے۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ان منکروں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کائنات کے خالق ومالک کی سب سے بڑی صفت رحمان جس کی شہادت و گواہی کائنات کی ایک ایک چیز دے رہی ہے۔ اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دے رہی ہے۔ اسی ذات اقدس و اعلیٰ کے بارے میں اور اس کی اسی صفت رحمان کے بارے میں ان ظالموں کا کہنا تھا { وما الرحمن } " کہ رحمان کیا ہوتا ہے "۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے محروم انسان کتنا اندھا اور کس قدر اوندھا ہوجاتا ہے اور وہ کیسے ہولناک ہاویے میں گر جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
76 بدنیتی اور خبث باطن کا نتیجہ وانجام محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے معبود و مسجود حقیقی کی طرف راہنمائی سے خوش ہوں اور صدق دل سے اس کی قدر کر کے اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کریں الٹا اس سے ان لوگوں کی نفرت ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سو جب کسی کا معدہ اور نظام ہضم خراب ہو تو عمدہ سے عمدہ غذا بھی اس کیلئے زہر بنتے لگتی ہے۔ اسی طرح شرک و کفر نے ان لوگوں کے باطن کو اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ ہادیٔ برحق کی روشن تعلیمات اور نورانی ارشادات سے روشنی اور نورانیت کی بجائے ان کی جہالت و نفرت ہی میں اضافہ ہوتا تھا اور ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ یہ ساری کائنات خدائے رحمن کی رحمت بےپایاں کا مظہر اور اس کی عکاس و آئینہ دار ہے۔ پس اسی کا حق ہے کہ سجدہ و رکوع وغیرہ کی ہر عبادت اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجالائی جائے۔ سو اس مطلوب حقیقی کی طرف سے اس کے حقِّ عبودیت کی ادائیگی کیلئے اس کی طرف سے ملنے والی دعوت پر بجائے اس کے کہ یہ لوگ خوش ہوتے اور صدق دل سے اس کی قدر کرتے اور اس کی طرف رجوع کرکے اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرتے الٹا اس سے ان کی نفرت اور بیزاری میں ہی اضافہ ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بدنیتی اور خبث باطن کا نتیجہ و انجام محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اس مہلک مرض کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:6177 اللہ تعالیٰ کی برکت کے بعض مظاہر میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمان میں عظیم الشان برج بنائے "۔ " برج " کے معنیٰ " قلعہ "، " قصر " اور مستحکم عمارت وغیرہ کے آتے ہیں۔ ہئیت قدیم میں سورج کی رفتار کے اعتبار سے جو بارہ منزلیں مقرر کی گئی ہیں ان کو بھی برج کہا گیا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین کرام انہی کو اس ارشاد ربانی کا مصداق قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے مراد مختلف ستارے اور سیارے لئے ہیں۔ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ان برجوں سے مراد عالم بالا کے وہ مختلف اور محفوظ خطے ہیں جن میں سے ایک کی مخلوق کو دوسرے خطے تک پہنچنا بہت مشکل ہے وغیرہ۔ سو اس بارے یہ مختلف اقوال و احتمال موجود ہیں۔ اس لئے ان میں سے کسی ایک کو آیت کریمہ کا اس طرح قطعی مصداق قرار دینا کہ دوسروں کی نفی اور انکار ہوجائے درست نہیں۔ ممکن ہے یہ سب ہی مراد ہوں یا ان میں سے بعض مراد ہوں لیکن قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے ۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بَاَسْرَار کَائِنَاتِہ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ کائنات عظیم الشان نشانہائے قدرت سے بھری ہوئی ہے جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ اس کائنات کا خالق کس قدر عظمت والا اور اس کی ذات کتنی ہی بابرکت ذات ہے کہ اس کی عظمت شان اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ لیکن کمی اور قصور اس جذبہ و ارادہ میں ہے جو انسان کو اس بارے غور و فکر کیلئے آمادہ کرتا اور ابھارتا ہے۔ ورنہ کائنات کا چپہ چپہ نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ سو اگر انسان صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو حضرت خالق ۔ جل شانہ ۔ کے شکر کے جذبات سے اس کا دل لبریزہوجائے اور وہ دل و جان سے اس کے حضور جھک جھک جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس طرح اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
78 سورج و چاند کے عظیم الشان نشان ہائے قدرت میں غور وفکر کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے اس میں رکھ دیا ایک عظیم الشان چراغ اور ایک چمکتا دمکتا روشن چاند "۔ " سراج " یعنی سورج سے مراد ہے سورج۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح فرما دی گئی ۔ { وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا } ۔ (نوح : 16) ۔ اور سورج کو " سراج " ۔ چراغ۔ سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس سے دوسرے سب روشنی حاصل کرتے ہیں جس طرح کہ ایک چراغ سے کئی چراغ جلائے جاتے ہیں۔ تو جس ذات اقدس و اعلیٰ نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے سورج کے اس سراج وہاج کا انتظام فرمایا اسی نے اپنی رحمت لامحدود اور عنایت بیکراں سے تمہارے لئے قرآن حکیم کی صورت میں قلوب و بواطن کو منور و معمور کرنے والے اس سراج منیر کو نازل فرمایا جو کہ قیامت تک دنیا کے دلوں اور سینوں کو منور کرتا رہے گا۔ اور صراط مستقیم کی اس شاہراہ اعظم کو تمام بنی نوع انسان کیلئے پوری طرح روشن اور واضح فرماتا رہے گا۔ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والی راہ ہے۔ سو آسمان کا یہ ظاہری سورج تو لوگوں کو اس ظاہری اور حسی روشنی سے سرفراز و فیضیاب کرتا ہے مگر قرآن حکیم کا یہ سراج منیر ان کے دلوں کی روشنی اور باطن کے معنوی نور کی اس دولت بےمثال سے سرفرازی کا سامان کرتا ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور کرتی ہے۔ نیز یہ ظاہری اور آسمانی سورج تو انسان کیلئے اس کے سر کی آنکھوں کی روشنی کا سامان کرتا ہے جبکہ قرآن حکیم کا یہ نور مبین اس کے دل کی آنکھوں کو روشن کرتا ہے جو کہ جسم انسانی کی فکر و فہم کی دنیا کا حاکم اور بادشاہ ہے۔ نیز یہ ظاہری سورج تو دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف دس بارہ گھنٹے یا اس سے کچھ کم و بیش روشنی دینے کے بعد ڈوب جاتا ہے اور پھر دس بارہ گھنٹے یا اس سے کم و بیش غائب رہنے کے بعد دوبارہ طلوع کرتا ہے۔ جبکہ قرآن حکیم کا یہ نور مبین دن رات کے چوبیس گھنٹے لگاتار و مسلسل ضیا باری اور فیض رسانی کرتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کتنی عظیم الشان دولت ہے یہ قرآن حکیم کی دولت جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے کرم لامتناہی سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ مگر کس قدر ناشکرے و بےانصاف اور محروم و بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس نعمت عظمیٰ سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کس قدر احسان ہے اس خالق ومالک کا ہم پر کہ ہمیں اپنی اس کتاب حکیم پر ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ومالا مال فرمایا۔ ہمیں اس سے تعلق کی سعادت و توفیق بخشی اور اس کی کچھ ٹوٹی پھوٹی خدمت کی عنایت سے نوازا ۔ فَلِلّہِ الْحَمْدُ رَبِّ العالمین اللّھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ یا اَرْحَمَ الرّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الْاَکْرِمِیْنَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سورج اور چاند کے ان دو عظیم الشان نشانہائے قدرت میں غور وفکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو صحیح طریقے سے غور وفکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 25:6279 تذکّر و تشکّر کی دو حیثیتوں کا ذکر وبیان : سو اس سے نشان ہائے قدرت میں تذکر و تشکر کی دو حیثیتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سو تذکر اور تشکر کے دو لفظوں سے در اصل ان نشانہائے قدرت کی دو حیثیتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یعنی ان سب نشانات قدرت کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک طرف تو یہ اپنے خالق کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کے کھلے دلائل ہیں۔ اس لئے جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہے وہ آنکھیں کھول کر ان کو دیکھے اور ان میں غور و فکر کر کے اپنے ایمان و یقین کو پکا کرے۔ جبکہ دوسری طرف ان میں انسان کے لئے طرح طرح کے فوائد اور بیشمار منافع بھی ہیں۔ لہذا ان پر نظر کرتے ہوئے وہ اس وہاب مطلق کا شکریہ ادا کرے اور اس کے حضور سراپا امتنان بن جائے جس نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کو ان عظیم الشان نعمتوں سے نواز ہے ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الذِّاکِرِیْنَ وَالشّٰکِرِیْنَ لَکَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو تذکر عقل کا فعل ہے اور شکر دل کا۔ پس انسان جب صحیح طور سے کائنات میں پھیلی بکھری اور ان عظیم الشان نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیتا ہے تو اس کی عقل و فکر کی دنیا کو جلا ملتی ہے۔ اور اس کے دل کی دنیا جذبات شکر سے لبریز و معمور ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح یہ نشانہائے قدرت انسان کے لیے فائدے پر فائدے اور نور علی نور کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جبکہ اس صحیح زاویہ نگاہ سے محرومی کی صورت میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے۔ اور وہ انہی ظواہر اور مادیات میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی پوجا کرنے لگتا ہے۔ اور اس طرح وہ اسفل السافلین کے ہاویہ ذلت و ہلاکت میں گر کر رہتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:6380 خدائے رحمن کے بندوں کی امتیازی صفات کا ذکر وبیان : سو یہاں سے ختم سورت تک خدائے رحمن کے خاص بندوں کے امتیازی اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں کہ یہ اضافت تعظیم و تکریم کی ہے۔ تاکہ اس طرح ایک طرف تو اہل حق کے سچے نمونے سامنے آجائیں تاکہ جو ان کو اپنانا چاہے اپنا سکے۔ اور دوسری طرف ہر انسان اپنی سیرت و کردار کو اس کے مطابق استوار کرسکے۔ اور اس مقدس و مثالی زندگی کے اولین و کامل مصداق رسول اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) اور آپ کے صحابہ کرام تھے ۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ اور ان کے بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین اور اَتْباع تابعین الی یَوْمِ الّدِین سب اس میں داخل ہیں۔ سو خدائے رحمن کے یہ خاص بندے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو کائنات کی اس کھلی کتاب میں پھیلی بکھری نشانیوں میں صحیح طور سے غور و فکر کرتے ہیں کہ ان کے دل و دماغ زندہ و سلامت ہوتے ہیں اور وہ ان نشانیوں سے صحیح سبق لیتے اور اپنے خالق ومالک کی طرف سے نازل فرمودہ کتاب حکیم کی آیات بنیات پر صدق دل سے ایمان لاتے اور اس کے آگے جھکتے ہیں۔ جس سے ان کی زندگیاں باقی تمام لوگوں سے الگ اور امتیازی شان کی ہوجاتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
81 عاجزی اور فروتنی کی صفت محمود کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ زمین پر چلتے ہیں عاجزی اور فروتنی کے ساتھ "۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی تصنع اور بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کوئی خاص چال اپناتے ہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر متکبرانہ انداز سے نہیں بلکہ تکبر سے خالی اللہ کے عاجز بندوں کی طرح شریفانہ اور فطری چال چلتے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں شمائل میں مذکور ہے کہ آپ اس طرح قوت اور مضبوطی سے پاؤں رکھتے تھے جیسا کہ کسی نشیب میں اتر رہے ہوں۔ اور حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے جب ایک آدمی کو مریل قسم کی چال چلتے دیکھا تو فرمایا کیا تم بیمار ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ تو آپ ؓ نے اپنا درہ اٹھا کر فرمایا کہ پھر سیدھے کیوں نہیں چلتے ؟ یعنی تکلف اور بناوٹ سے کام لینے کی بجائے فطری چال چلنا چاہیئے ؟ بہرکیف یہ خدائے رحمن کے بندوں کی پہلی صفت ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اکڑے ہوئے نہیں چلتے بلکہ خاکساری اور فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور ان کی چال ڈھال سے کبر و غرور کی بجائے تواضع اور انکساری ٹپک رہی ہوتی ہے۔ اور یہ چال دراصل ان کے باطن کی کیفیت کا اظہار اور اس کا عکس ہوتا ہے۔ ان کے بواطن و قلوب پر خداوند قدوس کی عظمت وکبریائی کی ہیبت ایسی چھائی ہوتی ہے کہ اس کا ظہور ان کے ہر اس قدم سے ہوتا ہے جو وہ زمین پر رکھتے ہیں۔ انسان کی چال ڈھال دراصل اس کے باطن کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔ متکبر انسان کا چلنا اور ہوتا ہے اور متواضع اور منکسر المزاج انسان کا اور۔ سو خدائے رحمن کے ایسے بندے حق کے سامنے اکڑنے کی بجائے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرکے عاجزانہ چلتے ہیں۔ جو ان کی شان بندگی کا عکس اور ان کا تقاضا ہوتا ہے۔
82 جاہلوں کے ساتھ الجھاؤ سے اجتناب و احتراز کی صفت محمود کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ خدائے رحمن کے بندوں کی دوسری خاص صفت یہ ہے کہ وہ جاہلوں سے الجھتے نہیں۔ جاہل سے یہاں پر مراد صرف ان پڑھ نہیں بلکہ ہر وہ شخص مراد ہے جو جہالت کے کام پر اتر آئے۔ خواہ وہ کتنی ہی ڈگریاں اور سندیں کیوں نہ اٹھائے ہوئے ہو۔ اسی لئے ہم نے جاہلوں کا ترجمہ " جہالت والے " سے کیا ہے۔ اور " خَاطَبَ " سے مراد محض تخاطب اور ہم کلام ہونا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے الجھنا اور جھگڑنا۔ جیسا کہ صیغہ مفاعلہ کا تقاضا ہے۔ بہرحال جب کوئی بھی جہالت والا اللہ کے ان خاص بندوں سے الجھنے اور جھگڑنے لگے تو یہ جواباً الجھنے اور جھگڑنے کی بجائے امن و سلامتی والی بات کہہ کر معاملہ ٹال دیتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ ان کی اس روش کے بارے میں ان کا قول اس طرح بیان فرمایا گیا ۔ { لَا نَبْتَغِی الْجَاہِلِیْن } ۔ " ہم جاہلوں کو منہ نہیں لگاتے " اور جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہَلِیْنَ } ۔ " اور کنارہ کشی کرلو جاہلوں سے "۔ سو جاہلوں کی طرف سے پیش آنے والی بدتمیزی اور انکے تمسخر و استہزاء کے جواب میں الجھنے کی بجائے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے انکو سلام کرکے یہ ان سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں اور سلام کرکے کسی سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے کا طریقہ بڑا مہذب، شائستہ اور بابرکت طریقہ ہے۔ اور اس طریقے کے ساتھ کسی سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے میں خیر و برکت کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی کے اندر خیر کی کوئی رمق موجود نہ ہوگی تو وہ اپنے رویئے پر نظر ثانی کرے گا اور الجھنے الجھانے کی بجائے بات کو صحیح طریقے سے سننے اور ماننے کیلئے تیار ہوجائے گا۔ اور اگر اس میں خیر کی کوئی رمق بھی نہیں ہوگی تو ایسے بےخیرے لوگوں کو منہ لگانا عباد الرحمن کی شان کے لائق نہیں ہوسکتا ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی ناشائستگی سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ایمان و یقین کی صفات عالیہ سے بہرہ ور و سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:6483 راتوں کے قیام اور سجدہ ریزیوں کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں ۔ عباد الرحمن ۔ کی صفات محمودہ کے ذکر وبیان کے ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنی راتیں اپنے رب کے حضور قیام اور سجدہ ریزیوں کی حالت میں گزارتے ہیں "۔ یعنی وہ اپنے دن اس طرح گزارتے ہیں اور رات اس طرح اپنے رب کے حضور قیام و سجود یعنی نماز کی حالت میں۔ قیام و سجود کے ذکر سے رکوع کا ذکر خود بخود آگیا کہ وہ ان دونوں کے درمیان میں ہوتا ہے۔ اور یہی تینوں نماز کے سب سے بڑے اور اہم ارکان ہیں۔ یعنی خدائے رحمن کے یہ بندے اپنی راتوں کو اپنے رب کی عبادت و بندگی میں گزارتے ہیں اور اسی کی یاد دلشاد میں مشغول رہتے ہیں۔ سو وہ اپنی راتیں دوسرے لوگوں کی طرح غفلت میں اور نرم و نازک بستروں پر نہیں گزارتے بلکہ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے، اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان بھلا بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی جہان میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 25:65–6684 اپنے رب سے عذاب دوزخ سے پناہ مانگنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ۔ عباد الرحمن ۔ یعنی خدائے رحمان کے خاص بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے دوزخ کے عذاب کو۔ یعنی اس سب کے باوجود ان میں کوئی غرور یا تکبر پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس کے باوجود دوزخ کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کے حضور قیام کرتے اس کی جناب اقدس و اعلیٰ میں سجدہ ریز ہوتے اور عاجزانہ طور پر رو رو کر اور گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ وہ محض اپنی رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے ان سے دوزخ کے عذاب کو پھیر دے۔ اوپر ان کی جلوت کے بعض کام بتائے گئے ہیں اور اب یہ ان کی خلوت کے بعض کام بتائے جارہے ہیں۔ " غرام " کے معنیٰ ہوتے ہیں لازم ہوجانے والی اور چپک کر رہ جانے والی چیز۔ سو جہنم کا عذاب ایک ایسی چپک کر رہ جانے والی چیز ہوگی جس سے جان چھڑانا ممکن نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آیت کریمہ کے آخر میں دوزخ کی ہولناکی کے اس بیان سے ان بندگان صدق و صفا کی اس روش کی تصدیق و تایید فرما دی گئی کہ اگر یہ لوگ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس طرح دعائیں کرتے اور دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں تو بالکل صحیح کرتے اور اپنی عاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہیں کہ جہنم کا وہ عذاب بڑا ہی سخت ہولناک اور ایسی چپک کر رہ جانے والی چیز ہے کہ اس سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہوگا۔ اور اس سے بچنے کے لیے جو کچھ کیا جاسکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق و عنایت ہی سے کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 25:6785 خرچ کے سلسلے میں میانہ روی کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ۔ عباد الرحمن ۔ کی خاص صفات کے بیان کے سلسلے میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ فضول خرچی اور اسی طرح کنجوسی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا مال ناجائز کاموں میں صرف کرے یا جائز کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرے۔ یا حقوق واجبہ اور ضروریات زندگی میں بھی کمی کرنے لگے وغیرہ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ نیک کاموں میں جتنا بھی خرچ کرے وہ فضول خرچی میں نہیں آتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ایک بزرگ نے جب ایک دوسرے بزرگ کو کارخیر میں بہت مال خرچ کرتے دیکھا تو انہوں نے کہا ۔ " لَاخَیْرَ فِیْ سَرْفٍ " ۔ " فضول خرچی میں کوئی بھلائی نہیں " تو انہوں نے فوراً جواب دیا ۔ " لَا سَرَفَ فِیْ خَیْرٍ " ۔ " بھلائی میں خرچ کرنا کوئی فضول خرچی نہیں ہوتا " بہرحال اللہ والوں کے خرچ میں بھی توسط اور اعتدال ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف وارد ہوا ہے ۔ " اِنَّ مِنْ فِقْہِ الرَّجُلِ قَصْدُہ فِیْ مَعِیْشَتِہٖ " ۔ یعنی " آدمی کی سمجھداری اور دانش مندی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرے "۔ (رواہ احمد (رح) و الطبرانی (رح) ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وعلی سبیل الدوام والتابید -
Ayahs 25:68–6986 قتل ناحق سے بچنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ کسی شخص کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ "۔ اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی حدیث پاک میں تین بڑی اور خاص صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو قصاص میں قتل کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ زنا بعد احصان کی صورت میں اس کو رجم اور سنگسار کیا جائے۔ اور تیسرے یہ کہ ارتداد عن الدین کی صورت میں اس کا سرقلم کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس ضمن میں واضح رہے کہ یہ کام ہر ایرے غیرے کے کرنے کا نہیں بلکہ یہ کام وقت کی حکومت کے ذمے ہے۔ اور قاضی کی قضا اور اس کے فیصلے کے تابع ہے۔ جو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد اس بارے میں فیصلہ کر دے کہ فلاں شخص پر فلاں جرم ثابت ہوگیا ہے۔ جس پر وہ فلاں سزا کا مستحق و مستوجب ہے۔ تب حکومت اس سزا کو نافذ کرے۔ بہرکیف یہاں پر شرک، قتل اور زنا کے جن تین جرائم کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلے کے سب سے بڑے جرائم ہیں۔ سو فرمایا گیا کہ خدائے رحمن کے بندے ایسے جرائم کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ اس کے نتیجہ و انجام سے لازماً دوچار ہو کر رہے گا۔ " اثام " کے معنیٰ جیسا کہ معتبر اور ثقہ اہل لغت نے لکھا ہے نتیجہ گناہ کے ہیں۔ جیسا کہ { سیلقون غیاً } وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ سو اس میں یہ درس پایا جاتا ہے کہ جرم و گناہ کی سزا دراصل اس جرم و گناہ کا ایک طبعی اور لازمی نتیجہ ہوتا ہے جو اس پر مرتب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے گناہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:7088 سچی توبہ کے عظیم الشان اثرات کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سچی توبہ پر اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا "۔ اس طرح کہ گزشتہ گناہ تو توبہ سے صاف ہوگئے اور آئندہ نیکیوں کی توفیق ملتی گئی اور اس کی نیکیوں کا سرمایہ جمع ہوتا گیا اور یوں بھی کہ جب انسان کبھی اپنی گزشتہ خطا کاریوں کو یاد کرکے معافی مانگتا رہا تو وہ ہر گناہ کی جگہ نیکی کماتا رہا اور پھر دلوں کی کیفیت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیا پتہ کس کی توبہ کس درجے کی ہے اور کس کا اخلاص کس مرتبے کا۔ اس کو دیکھتے ہوئے اللہ پاک اپنی رحمت سے اس کے تمام گناہوں کی جگہ اس کو نیکیاں ہی عطا فرما دے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ قیامت کے روز ایک آدمی پر جب اس کے صغیرہ گناہ پیش کئے جائیں گے اور وہ اپنے کبیرہ گناہوں کے بارے میں ڈر رہا ہوگا کہ اس کے بعد اس کا کیا حشر ہوگا تو اتنے میں حکم ہوگا کہ اس کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دو تو اس پر وہ شخص کہے گا اے میرے رب میں نے کچھ اور گناہ بھی کئے تھے جن کو میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔ اس پر آنحضرت ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک آشکارا ہوگئے۔ (رواہ مسلم عن ابی ذر ؓ وغیرہ) (روح، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ سو جب اس نے اپنی برائیوں کو ندامت اور شرمندگی سے بدلا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و عنایت سے اس کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور قیامت کے دن وہ واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ اپنی شان کرم و عنایت سے اس کی ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ جیسا کہ اوپر مسلم کی حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور دوسری متعدد احادیث صحیحہ میں بھی یہ مضمون وارد و منقول ہے۔ (المعارف، المراغی، ابن کثیر اور المحاسن وغیرہ) ۔ اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
89 اللہ کی بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بخشنہار نہایت ہی مہربان ہے اور اس کی بخشش بیکراں کا یہ عالم کہ عمر بھر کا پاپی جب ایک مرتبہ سچے دل سے توبہ کرلے تو وہ اپنے ربِّ غفور و رحیم کے کرم سے گناہوں کی میل سے ایسا پاک صاف ہوجائے گا کہ گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔ " اَلتَّائِبُ مِنَ الذَنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہ " ۔ اور اس کی وسعت رحمت کی شان یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے ۔ { رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ } ۔ سو وہ ہر کسی کو اپنی رحمت کی آغوش میں لینے کے لئے تیار ہے۔ پھر کسی مایوسی یا دل شکنی کا کیا سوال ؟ پس مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے اس ربِّ غفور و رحیم کے حضور صدق دل سے جھک جائے اور سچی توبہ و استغفار کے ذریعے معاصی وذنوب کے داغ دھبوں کو اپنے دامن سے اتاردے ۔ فَاغْفِرْلِیْ یارَبِّیْ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ سَمِیْعٌ مُجِیْبٌ الدّعُوَاتِ ۔ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِیْنَ وَیَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکَرَامِ ۔ سو وہ غفور و رحیم سچی توبہ پر گناہوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اور عظیم الشان اجر وثواب سے بھی نوازتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے ساتھ اپنے ظاہر وباطن کا تعلق صحیح رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 25:71–7290 توبہ کا معنی و مفہوم اور اس پر عظیم اشان بشارت کا ذکر : سو سچی توبہ کرنے والوں کیلئے عظیم الشان بشارت و خوشخبری ہے اور توبہ کے اصل معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں۔ سو ایک انسان جب گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اپنے رب سے اور اس کی رحمتوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر جب وہ سچی توبہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت بھی اس کی طرف عود کر آتی ہے۔ اور توبہ کا اصل تعلق دل سے ہے اور اس کی ظاہری نشانی اور ثبوت عمل صالح ہے کہ توبہ کرنے والے کی بعد کی زندگی پہلی زندگی سے یکسر بدلی ہوئی محسوس ہونے لگے۔ اور اگر وہ زبانی کلامی توبہ کی رٹ لگانے کے باوجود گناہوں کی دلدل میں اسی طرح پھنسا ہوا ہے تو یہ توبہ محض ظاہری اور نام کی توبہ ہے جسکی اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس میں توبہ کرنے والوں کیلئے عظیم الشان بشارت اور خوشخبری ہے کہ وہ نہایت سرخروئی کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ جو اس نور السموات والارض کی طرف رجوع ہوگیا تو وہ مراد کو پا گیا اور اس کی ظلمتیں متبدل با نور ہوگئیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 25:7392 آیات قرآن میں غور و تدبر کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان بندگان خدا کو آیات قرآن کے ذریعے تذکیر و نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کی آیتیں سننے پر اندھے بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ " خرور " کے اصل معنی جھکنے اور گرنے کے آتے ہیں۔ مگر یہاں اس کے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ محاورہ کے معنیٰ مراد ہیں۔ یعنی ایسے حضرات اپنے رب کی آیتوں سے غفلت نہیں برتتے بلکہ وہ ان کو غور سے سنتے اور ان کے آگے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ جیسا کہ اردو میں کہا جاتا ہے کہ " فلاں شخص مکان کو آگ لگنے کی خبر سن کر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا "۔ یا " اس نے حرکت تک نہ کی " وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی مثالوں میں لغوی معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ محاورے کے معنی مراد ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی مراد یہ ہے کہ اللہ کے یہ خاص بندے اس کی آیتیں سن کر اندھے بہرے بن کر نہیں رہ جاتے کہ ٹس سے مس نہ ہوں۔ بلکہ وہ ان میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور اس کے مطابق یہ اپنی اور پورے معاشرے کی اصلاح احوال کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ نیکی اور صلاحیت میں آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ بخلاف کفار و منکرین اور منافقین و مستبکرین کے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو سننے اور ان میں غور کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اندھے بہرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ نیز دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کو سن کر اندھے، بہرے بن کر نہیں گرتے کہ ان کو سمجھیں ہی نہ۔ اور ان سے متاثر ہی نہ ہوں۔ بلکہ یہ ان سے متاثر ہوتے ہیں اور دل و جان سے انکے آگے جھک جاتے ہیں۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ اللہ اپنی رحمت و عنایت سے اس کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 25:74–7593 فکر آخرت کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کے اندر اپنے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی عاقبت کی فکر کی صفت محمود و مطلوب بھی پائی جاتی ہے۔ سو وہ بندگان خدا اپنے اہل و عیال کی آخرت کی بھی فکر کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنے رب کے حضور دعائیں بھی کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔ یعنی ہماری بیویوں اور اولادوں کو ایسا صالح اور نیک بنا دے کہ وہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ بن جائیں۔ کیونکہ ایک صالح اور حقیقت شناس انسان کے لئے دنیا سے بڑھ کر آخرت اور صورت سے بڑھ کر سیرت کی بہتری ہی موجب فرحت و سرور اور ذریعہ تسکین ہوسکتی ہے۔ سو خدائے رحمن کے یہ بندگان صدق و صفا اپنے اہل و عیال کی اصلاح و بہتری کی ذمہ داری سے بھی غفلت نہیں برتتے بلکہ اس کا بھی برابر خیال رکھتے ہیں۔ اور وہ ان کیلئے اپنے خالق ومالک کے حضور دست بدعا رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست پر مستقیم رکھے۔ اور ان کو ایسی پاکیزہ زندگی عطا فرمائے جس سے وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوسکیں۔ اور اس طرح ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور انکے دل کے قرار کا ذریعہ بن سکیں۔ اللہ اپنی توفیق و عنایت سے اس سے سرفراز فرمائے ۔ آمین۔
94 پرہیزگاروں کی امامت و پیشوائی اور ایک نہایت عبرت ناک واقعہ : سو اس سے پرہیزگاروں کی امامت و پیشوائی کی دعا و درخواست کا ایک عمدہ نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس کا مطلب بھی عرض کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں ایک نہایت ہی عبرتناک واقعہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کے حضور یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ تو ہمیں پرہیزگاروں کا امام و پیشوا بنادے۔ یعنی نیکیوں میں ہمیں اس قدر آگے بڑھنے کی توفیق وسعادت نصیب فرما کہ ہم پیشوائی کے درجے کو پہنچ جائیں اور لوگ ہماری اقتدا کریں۔ یہ دراصل منصب اور دنیاوی بلندی کی طلب نہیں بلکہ حقیقت میں یہ زیادہ سے زیادہ نیک بننے کی خواہش و درخواست ہے۔ اور یہ کہ جس جماعت اور معاشرے میں ہمیں رہنا سہنا ہو وہ متقی اور پرہیزگاروں پر مشتمل ہو۔ سو امامت و پیشوائی وہی مطلوب و مقصود اور ذریعہ نجات ہے جو متقی اور پرہیزگار لوگوں کی ہو کہ جو کوئی تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ میں ہمارے پیچھے چلا اور اس نے راہ حق میں ہماری پیروی کی اس کا اجر وثواب بھی ہم کو ملے گا۔ جیسا کہ مختلف نصوص میں اس امر کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ اور اس بارے میں یہ قاعدہ کلیہ مقرر فرمایا گیا ہے کہ جس نے کسی نیکی کی راہ ڈالی تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور جو کوئی آئندہ اس راہ پر چلے گا اس کا اجر وثواب بھی اسی کا ملے گا۔ اور اس کے برعکس جس نے کسی برائی کی راہ ڈالی اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوگا اور آئندہ جو کوئی اس راہ پر چلے گا اس کا گناہ بھی۔ سو ایسوں کو آخرت میں تو اس کا بھگتان بھگتنا ہی ہوگا مگر اس سے پہلے اس دنیا میں بھی بعض اوقات ان کو ایسا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے جو دنیا کیلئے نمونہ عبرت و بصیرت بن جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال آج ہمارے سامنے موجود ہے جو کہ صرف دو دن پہلے پیش آئی۔ اور ایسی کہ اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ اور وہ ہے نیپال کے شاہی خاندان کا اجتماعی قتل اور نہایت عبرتناک قتل۔ کہ پورا شاہی خاندان اپنے شاہی محل میں بیٹھا تھا کہ باتوں باتوں میں ان کا اپنا جوان بیٹا جو ان کا ولی عہد بھی تھا اور اس کی عمر 29 سال تھی کسی بات پر غصے ہوگیا اور یکدم جاکر کلاشنکوف اٹھا لایا اور ٹک ٹک فائرنگ شروع کردی۔ جس سے اس نے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور چچاؤں وغیرہ میں سے جو بھی وہاں موجود تھے سب کو بھون ڈالا اور پھر خود اپنے سر میں بھی گولی مار دی۔ اور اس طرح شاہی خاندان کے دس آدمی وہیں ڈھیر ہوگئے۔ پورا شاہی خاندان ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سوگیا۔ طویل زمانے سے چلی آنے والی بادشاہت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا اور کل ان سب کی لاشوں کو آگ کے شعلوں کی نذر کردیا گیا۔ اور کفر پر مرنے کے باعث وہ سب فی النار والسقر ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسی حکومت و بادشاہی اور سربراہی و پیشوائی کا کیا فائدہ ؟ یہ تو نرا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے اللہ کے بندے اللہ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں متقی اور پرہیزگار لوگوں کا امام و پیشوا بنا تاکہ وہ ہمارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنے۔ ورنہ محض دنیاوی بادشاہی نہ مقصود و مطلوب ہے اور نہ مفید و دائم۔
Ayah 25:7697 جنت کی عظمت شان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہی عمدہ ٹھکانہ ہوگا وہ اور کیسی خوب وہ ابدی قیامگاہ ہوگی وہ "۔ یعنی ایسی جگہ میں عارضی طور پر قیام کی توفیق وسعادت بھی اگر نصیب ہوجائے تو اس کے بھی کیا کہنے ؟ چہ جائیکہ سدا رہنے کا ٹھکانہ مل جائے ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا اَللّٰہُ ۔ نہ کبھی وہاں سے نکلنا ہوگا اور نہ ہی کبھی ان کو وہاں پر موت آئے گی۔ بلکہ وہ وہاں کی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر فرمایا گیا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے محنت اور کوشش کرنی چاہیے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ اور اسی کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ { وَفِی ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ } ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:7798 منکرین و مکذبین کے لیے تہدید و دھمکی : سو اس سے سلسلہ کلام کے آخر میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہوسکتی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ یعنی اگر تم اس کو نہ پکارو، اس کی عبادت و بندگی نہ کرو، تو پھر تمہارے درمیان اور ایک بیکار پڑے ہوئے اینٹ پتھر کے درمیان آخر کیا فرق رہ جائے گا ؟ بلکہ ایسی صورت میں تم اس سے بھی کہیں گئے گزرے ہوجاؤ گے کہ تم نے عقل جیسی نعمت رکھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو ایسا گرا دیا اور اس قدر غیر ذمہ دار بنادیا۔ ایسی صورت میں میرے رب کو تمہاری کیا پڑی ہے ؟ اور اس کو تمہاری کیا پرواہ ہے کہ تم کیا ہو اور کس گڑھے میں گرتے ہو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی اصل قدر و قیمت ایمان و اطاعت ہی سے ہے کہ وہی باطن کی خوراک اور روح کی غذا ہے۔ اور اسی پر دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ میرے رب کو تمہاری یا کسی بھی اور ہستی یا مخلوق کی کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی خواہ وہ ہفت اقلیم کی مالک ہی کیوں نہ ہو۔ مقصود تو صرف حق کی دعوت دینا ہے تاکہ اس طرح تمہارا بھلا اور فائدہ ہو۔ سو اگر تم نے اس دعوت کو جھٹلا دیا تو تم اس کے انجام کے لیے تیار رہو کہ وہ لازمی ہے اور اس نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -