Ayahs 25:23–2431 اہل کفر و باطل کے اعمال بےوزن وبے حقیقت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اہل کفر کے اعمال کو اس روز غبار پریشان کی طرح اڑا دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کے ایسے اعمال جو انہوں نے اپنے طور پر نیکی سمجھ کر کئے کرائے ہوں گے۔ مثلاً غریبوں کی پرورش، یتیموں کی خبر گیری، محتاجوں کو کھلانا پلانا، سڑکیں بنانا، ہسپتال قائم کرنا، فلاحی ادارے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ سو انکے ان تمام کاموں کو اس دن روزن دیوار سے داخل ہونے والی دھوپ میں اڑتے ہوئے نظر آنے والے ان بےوزن اور بےقدر و قیمت ذروں کی طرح غبار پریشان کر کے ضائع کردیا جائے گا۔ اور یہ وہاں پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ کفر و شرک کے باعث ایسے اعمال کسی بھی درجہ میں وہاں پر قابل قبول اور لائقِ اعتناء نہیں ہوں گے کہ قبولیت عند اللہ کے لئے ایمان و توحید کی شرط بنیادی شرط اور اولین اساس ہے۔ اسی لئے دوسری جگہ ان اعمال کو راکھ کے اس ڈھیر سے تشبیہ دی گئی ہے جس کو ایک سخت زور دار ہوا اڑا کر " کَاَن لَّمْ یَکُنْ " کر دے۔ اس پر یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ پھر اللہ پاک کے اس عدل و انصاف کا ظہور ان کے حق میں کس طرح ہوگا جس کے مطابق ہر عمل پر بدلہ دیئے جانے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ کسی کا عمل ضائع نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر اس کی تصریح فرما دی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کے اس طرح کے تمام اعمال کا بدلہ ان کو اسی دنیا میں دے دیا جائے گا اور بس۔ چناچہ دنیاوی مال و منال، جاہ و جلال، صحت و عافیت، سیادت و قیادت، حکومت و اقتدار اور شہرت و ناموری وغیرہ کی طرح طرح کی نعمتوں کی شکل میں ان لوگوں کو جو نوازا جاتا ہے ان کے ذریعے ان کا حساب کتاب یہیں چکا دیا جاتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ اس بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیْہَا وَہُمْ فِیْہَا لَا یُبْخَسُوْنَ ، اُوْلِٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَہُمْ فِیْ الاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَبَاطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ۔ (ہود : 16-15) ۔ سو آخرت میں اعمال کی قبولیت اور ان کے نافع ہونے کے لئے تین شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایمان و یقین، صدق و اخلاص اور اتباع ھدی ۔ وباللہ التوفیق ۔ ورنہ وہاں پر کسی عمل کا کوئی وزن نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:2532 قیامت کے آغاز اور ظہور ملائکہ کا ذکر : سو اس یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن آسمان پھٹ پڑیگا اور فرشتوں کو اتار دیا جائے گا پرے کے بعد پرے "۔ سب سے پہلے آسمان دنیا کے فرشتے اتریں گے جو کہ روئے زمین پر موجودہ تمام جن وانس سے زیادہ ہوں گے۔ وہ تمام کے تمام صف بنا کر سب لوگوں کو میدان حشر میں اپنے گھیرے میں لے جائیں گے۔ پھر دوسرے آسمان کے فرشتے اتریں گے جو ان سے بھی زیادہ ہوں گے اور وہ ان کے گرد گھیرا ڈال لیں گے۔ اور اسی طرح باقی سب آسمانوں کے فرشتے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر، الجمل، الروح وغیرہ) ۔ سو اس روز فرشتے اتریں گے اور اس کثرت سے اتریں گے مگر اس روز ان لوگوں کیلئے خوشی کا کوئی موقع نہیں ہوگا جو آج اس یوم حساب کا انکار کر رہے ہیں۔ اور یہ اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بدلہ پانے کیلئے سب کے سب وہاں پر حاضر و موجود ہوں گے۔ اور ان کے یہ خودساختہ معبود جن کا انکو بڑا ناز اور گھمنڈ ہے ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔
Ayah 25:2633 حقیقی بادشاہی اس روز خدائے رحمن ہی کی ہوگی : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ حقیقی بادشاہی اس روز خدائے رحمان ہی کی ہوگی۔ یعنی یہ آج دنیا میں جو عارضی، وقتی اور فانی قسم کی حکومتیں اور بادشاہتیں جابجا نظر آتی ہیں اس دن ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گی اور خدائے رحمن کی حقیقی بادشاہی ہی اپنی پوری عظمت شان اور تمام تر جلوہ افروزیوں کے ساتھ سب پر سایہ فگن ہوگی۔ سو حقیقی بادشاہی اور حکومت و اختیار اگرچہ آج اور اس دنیا میں بھی اسی وحدہ لاشریک کا ہے لیکن دنیا کے اس دارالامتحان میں آج چونکہ اس حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے آج بہت سے ناداں غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ اپنی خدائی کا ڈنکا بجانے کے خبط و خمار میں مبتلا ہیں۔ لیکن کل قیامت کے اس عالم مشاہدہ میں یہ سب پردے ہٹ جائیں گے اور جملہ حقائق اپنی اصل شکل میں سامنے آجائیں گے۔ اس لیے وہاں پر یہ حقیقت جو کہ حقیقتوں کی حقیقت ہے سب کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ سارا زور اور حقیقی اختیار اللہ ہی کا ہے۔ اور کسی کو بھی زور و اختیار حاصل نہیں۔ اور یہ کہ بادشاہ حقیقی اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اور حکومت اسی کی حکومت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہم فکن لنا واجعلنا لک یا ذا الجلال والاکرام فانک انت الاعز الاکرم وانت المستعان فی کل حین وآن -
Ayah 25:2734 ظالموں کی انتہائی یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا "۔ اور کہے گا کہ کاش میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا۔ شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ یہ آیتیں عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی تھیں جس نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر ایمان قبول کرلیا تھا لیکن بعد میں اپنے دوست ابی بن خلف کے کہنے پر وہ مرتد ہوگیا تھا۔ لیکن یہ ارشاد عام ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو ان الفاظ کے عموم میں آسکتا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس ہولناک دن سے ڈریں اور اس کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں جس دن کہ ظالم لوگ حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے اور کہیں گے کہ کاش کہ ہم نے رسول کی دعوت و ہدایت کے مطابق ان کے ساتھ راستہ اپنایا ہوتا اور اس کے مطابق زندگی گزاری ہوتی تو آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔ مگر کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس دن کے اس افسوس سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 25:28–2935 صحبتِ بد باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے صحبت بد سے احتراز اور صحبت صالح کو اپنانے کی ضرورت کو واضح فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالم شخص اس روز کہے گا کہ کاش کہ میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا اور فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ " کہ اس کی دوستی نے مجھے نور حق و ہدایت سے محروم کردیا۔ سو بروں سے دوستی اور غلط لوگوں سے تعلقداری انسان کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ " انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ہر انسان کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی لگا رہا ہے " ۔ " اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُر اَحَدُکُْمَْ مَنْ یُّخَالِل " ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی (رح) ) ۔ نیز اچھے اور برے ساتھی کی صحبت اور اس کی تاثیر اور دونوں کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لئے آپ ﷺ نے حامل مسک ۔ کستوری کی خوشبو اٹھائے ہوئے انسان ۔ اور " نافخ الکیر " یعنی " بھٹی کی آگ دھنکنے والے شخص " کی مثال سے بیان فرمائی۔ کہ جلیس صالح یعنی اچھے ساتھی کی مثال حامل مسک کی طرح ہے کہ وہ یا تو تمہیں خوشبو یونہی دے دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا کم سے کم بات یہ ہے کہ تمہیں اس کی خوشبو ہی ملتی رہے گی۔ جبکہ برے ساتھی کی مثال " نافخ الکیر " جیسی ہے کہ یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس کی میل کچیل یا گندی ہوا ہی پہنچے گی۔ (متفق علیہ عن ابی سعید الخدری) نیز ابو سعید خدری ۔ ؓ ۔ ہی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری صحبت اور ہمنشینی مومن ہی کے ساتھ ہونی چاہیئے اور تمہارا کھانا متقی اور پرہیزگار انسان ہی کھائے ۔ " لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُوْمِنًا وَلَا یَأَکُلْ طَعَامَکَ الا تَقِیٌّ " ۔ (ابوداؤ، ترمذی) ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اچھی صحبت نصیب فرمائے اور بری صحبت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 25:30–3236 رسول کی اپنے رب کے حضور شکایت کا ذکر وبیان : سو اس سے رسول کی اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " ماضی یہاں پر مضارع کے معنیٰ میں ہے۔ سو رسول کا یہ فرمانا اگرچہ قیامت کے روز ہوگا لیکن تحقق و قوع یعنی اس کے یقینی اور قطعی ہونے کے اعتبار سے یہ بات ایسی ہے کہ گویا یہ واقع ہوچکی ہے۔ اسلئے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " کے ساتھ۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ شکوہ اور فرمان و ارشاد آخرت میں نہیں بلکہ اسی دنیا میں ہوا ہے۔ اور یہیں پر آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی قوم قریش کے اعراض اور ان کی بےرخی پر یہ شکوہ اپنے رب کے حضور کیا تھا۔ اور اپنے دکھ اور درد بھرے انداز میں اس طرح فرمایا تھا۔ حضرات اہل علم سے یہ دونوں قول مروی و منقول ہیں۔ کسی نے پہلے قول کو اختیار کیا اور اسی کو ترجیح دی اور کہا کہ چونکہ سیاق وسباق میں ذکر آخرت ہی کا ہو رہا ہے اس لئے یہی قول یہاں پر مناسب ہے۔ جبکہ اس کے برعکس دوسرے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ دوسرا قول زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ لفظ ماضی کا تقاضا یہی ہے۔ (روح، ابن کثیر، محاسن التاویل خازن، مدارک، جلالین، فتح القدیر اور الفتوحات الالہیۃ وغیرہ) ۔ احتمال بہرکیف دونوں موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک راحج ۔ قابل ترجیح۔ قول پہلا ہے کہ پیغمبر اپنے رب کے حضور آخرت ہی میں ایسا عرض کریں گے جو کہ ان کفار و منکرین کے تابوت میں آخری کیل کی طرح ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ بدبخت ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ والعِلْمُ عِنْدَ اللّہِ سُبَحَانَہ وَتَعَالٰی وَہُوَ اعْلَمُ بِمُرَادِ کَلَامِہٖ جَلَّ وَ عَلَا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
37 رسول کی طرف سے قرآن کو پس پشت ڈالنے کا شکوہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کہیں گے " اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو پس پشت ڈال رکھا تھا "۔ جس کے ساتھ آپ نے مجھے مبعوث فرمایا اور جس میں خود ان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ سو لوگوں کا حال ہمیشہ یہی رہا کہ ان میں کے اکثر نہ اس کے سننے ماننے اور اس پر ایمان لانے کے روا دار ہیں اور نہ ہی یہ اس سے متعلق غور و فکر اور فہم و تدبر کی ضرورت سمجھتے ہیں اور نہ ہی یہ اس کی ہدایت و راہنمائی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور اس نور حق سے منہ موڑ کر اور پیٹھ پھیر کر یہ دوسری مختلف چیزوں اور لایعنی مشاغل میں مشغول و منہمک ہوتے ہیں۔ کہیں شعر و شاعری کا شغل ہے اور کہیں افسانوں اور ناولوں میں انہماک و اشتغال ہے اور کہیں گانے بجانے کا کاروبار اور کہیں تصویر کشی اور مجسمہ سازی جیسے لایعنی بلکہ گناہ کے کاموں کا وہ دور جن کو آرٹ اور فن کا نام دے کر اپنایا اور گلے لگایا جا رہا ہے۔ اور طرح طرح کے شرکیات کو فن پاروں کا نام دے کر اور ثقافت کا حصہ قرار دے کر گلے لگایا جا رہا ہے۔ اسی طرح طرح کی خرافات کے لئے طرح طرح کے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ ان سب لایعنی بلکہ ممنوع کاموں کے لئے ان کے پاس وقت بھی ہے اور محنت و روپیہ پیسہ بھی۔ اور اس کے لئے ذرائع و وسائل بھی بےدھڑک صرف کئے جاتے ہیں۔ لیکن قرآن حکیم کو سیکھنے پڑھنے اور اس میں غور و فکر سے کام لینے کے لئے نہ ان کے پاس وقت ہے نہ فرصت اور نہ ذرائع نہ وسائل ۔ الا ماشا اللہ ۔ سو لوگوں کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ فَالِی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ سو آیت کریمہ کے الفاظ کا عموم ہجر اور ترک کی ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، معارف، مراغی وغیرہ) ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہ لفظ یعنی " مہجور "، " ہجر " سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی چھوڑنے اور ترک کرنے کے ہیں۔ اور اس صورت میں آیت کریمہ کا یہ مطلب ہوگا جو اوپر بیان ہوا۔ جبکہ اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ ہجر سے مشتق ہو جس کے معنیٰ یا وہ گوئی اور بکواس کے آتے ہیں۔ اس صورت میں اس لفظ کے دو معنیٰ و مطلب ہوں گے۔ ایک یہ کہ ان بدبختوں نے اس کلام حق و ہدایت کو بکواس اور یا وہ گوئی سمجھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس کتاب حکیم کے خلاف بکواس اور یا وہ گوئی سے کام لیا۔ اور اس طرح انہوں نے خود اپنی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف قرآن حکیم سے اعراض و لاپرواہی اور غفلت و روگردانی بڑے ہی سخت خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:3340 مثل سے مقصود و مراد ؟ : " مثل " سے مراد ہیں ان لوگوں کے ایسے سوالات جن کے عجیب و غریب اور نہایت الٹے سیدھے ہونے کے باعث ان کو " مثل " سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور حق اور احسن تفسیر سے مراد ان کے ایسے سوالات کے ٹھیک ٹھیک جوابات اور صحیح مطالب ہیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ارشاد فرمائے گئے۔ بہرکیف معترضین کے اعتراضوں کا دلنشین جواب دینے کے بعد اب پیغمبر کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ یہ لوگ جو بھی کوئی اعتراض آپ پر کریں گے اس کا جواب ہم دیں گے۔ اور ہم اس سے متعلق بہترین توجیہ و تفسیر آپ پر نازل کریں گے۔ لہذا آپ اس بارے مطمئن رہیں۔ بہرکیف ضرب مثل کا محاورہ جیسا کہ اس سے پہلے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 9 کے تحت گزر چکا ہے اعتراض کرنے اور نکتہ چینی کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سو جس طرح یہ لفظ کوئی تمثیل بیان کرنے یا حکمت کی بات کہنے کے لیے آتا ہے اسی طرح یہ لفظ پھبتی چست کرنے اور اعتراض کے معنیٰ میں بھی آتا ہے۔ سو یہاں پر یہ اسی مفہوم میں آیا ہے اور اس آیت کریمہ میں اس کے بالمقابل لفظ حق استعمال ہوا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں پر اس سے مراد اعتراض باطل ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 25:3441 دوزخیوں کی تذلیل و تحقیر اور ان کی بدحالی کی ایک تصویر : سو ان کی تذلیل و تحقیر اور بدحالی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو ان کے مونہوں کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ انکا ٹھکانا بھی بہت برا اور ان کا راستہ بھی سخت گمراہی کا "۔ یعنی جس طرح دنیا میں یہ لوگ حق کے مقابلے میں الٹے اور اوندھے ہو کر چلتے رہے تھے اسی طرح وہاں یہ الٹے اور اوندھے کر دئیے جائیں گے اور ان کو پاؤں کی بجائے مونہوں کے بل چلا کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے جب اس بارے عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مونہوں کے بل کس طرح چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے ان کو پاؤں پر چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان کو مونہوں کے بل چلا دے ۔ والعیاذ باللّٰہِ الْعَزِیْزِ الّٰذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں { اضل سبیلا } سے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ گمراہوں کو اپنی اصل منزل کا پتہ نہیں ہوتا اور ان کو اس حقیقت کا احساس و داراک نہیں ہوتا کہ جس راہ پر وہ چل رہے ہوتے ہیں وہ سیدھی دوزخ کو جارہی ہے۔ اور آخرت میں جب ان کی اصل منزل یعنی دوزخ انکے سامنے آجائیگی تب ان کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کس راہ پر چل رہے تھے اور اس کا انجام کیا تھا۔ مگر بےوقت کے اس افسوس سے ان کو فائدہ نہیں ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو راہ حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ و انجام بہرحال دوزخ اور وہاں کا ہولناک ٹھکانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:3542 حضرت ہارون کی وزارت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ کے ساتھ انکے بھائی ہارون کو بھی ان کا وزیر بنایا "۔ " وزیر " ۔ " وزر " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ بوجھ کے آتے ہیں۔ تو " وزیر " کے معنیٰ ہوئے بوجھ اٹھانے والا۔ ہاتھ بٹانے والا وغیرہ۔ انسان جتنا بھی قوی ہو اس کو بہرحال مدد و مساعدت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا گیا تاکہ وہ ادائے رسالت کے عظیم الشان کام میں ان کی مدد و معاونت کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک کا کوئی وزیر نہیں ہوسکتا کہ اس کو کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ بلکہ وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے بےنیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ ایک ایسی واضح اور جلی حقیقت ہے جس کو اہل بدعت کے بعض بڑوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار نہیں۔ اور ان کے بعض بڑوں نے اس موقعہ پر اپنے حواشی میں بھی اس بات کو درج کیا ہے لیکن اس کے باوجود اہل بدعت اپنی خانہ ساز منطق اور فلسفہ طرازیوں کی بنا پر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کے ساتھ انہی کی دعا و درخواست کی بنا پر ان کا وزیر اور معاون بنا کر بھیجا گیا تاکہ وہ راہ حق میں ان کا ساتھ دیں۔
Ayah 25:3643 حق کی تکذیب و انکار کا نتیجہ ہلاکت و تباہی : سو حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کو فرعونیوں کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو حق کا پیغام پہنچا سکیں مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان دونوں کو جادو گر کہہ کر ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار ان کو ہلاکت و تباہی کے گھاٹ اتار کر ہمیشہ ہمیش کے لیے مٹا دیا۔ اور ایسا مٹایا کہ دنیا میں غرقابی کے بعد ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ کا ایندھن بنادیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جو قومیں حق کو جھٹلاتی ہیں اور وہ داعیانِ حق کے مقابلے میں کفر و انکار ہی سے کام لیتی ہیں ان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت اور ہمیشہ کی تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں حضرت امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کیلئے تسلی کا سامان ہے اور ساتھ ہی کفار قریش کیلئے تنبیہ و تذکیر بھی ہے کہ اگر وہ اپنے کفر و انکار سے باز نہ آئے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے کفار و منکرین کا ہوچکا ہے کہ اللہ کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ سو ایسوں کو اس سے درس عبرت و بصیرت لینا چاہیے۔
Ayah 25:3744 قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قوم نوح کو بھی ہم نے ہلاک کیا جبکہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کے رسولوں کو " کہ تکذیبِ حق کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے جھٹلایا اگرچہ ایک نوح کو ہی تھا مگر یہاں صیغہ جمع کا ۔ یعنی الرسل ۔ لایا گیا ہے۔ یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب دراصل سب کی تکذیب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ تمام انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی دعوت ایک ہی ہوتی ہے اور اصول دین میں وہ سب مشترک اور باہم متفق ہوتے ہیں ۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ سو اس طرز تعبیر میں جرم کی سنگینی کا بیان اور یہ درس عبرت ہے کہ رسول کی تکذیب کا معاملہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ اس لیے اس جرم کے مرتکب دیکھ لیں کہ وہ کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو قدرت کے قانون امہال کی بنا پر جو مہلت ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو وہ بہرحال ایک مہلت ہوتی ہے جس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال ختم ہوجانا ہوتا ہے۔
45 ظالموں کیلئے دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ظالموں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب تیار ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو بھی ظالم ہو۔ مگر ظلم کا سب سے بڑا مصداق شرک ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ} ۔ سو ظلم کا نتیجہ و انجام بہت ہولناک ہے اور ان کیلئے دنیا کے عذاب ہی پر بس نہیں بلکہ ان کیلئے اس کے ساتھ آخرت کا دردناک عذاب بھی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ارتکاب ظلم پر ملنے والی ڈھیل پر کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل اور مہلت ہی ہے جس نے بہرحال گزر کر اور ختم ہو کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین حق سے منہ موڑنے والے حق کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ اور ایسا نقصان کہ اس کے تدارک و تلافی کی بھی کوئی صورت ان کے لیے اس جہاں میں ممکن نہ ہوگی۔ مگر ابتلاء و آزمائش کے اس جہاں میں جہاں کہ اصل حقائق پر پردے پڑے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔
Ayahs 25:38–3946 اصحاب الرسّ یعنی کنویں والوں سے مراد ؟ : ان کنوئیں والوں کی تعیین کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں مگر ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآن " ۔ کے ضابطہ عام کے مطابق اس بارے میں زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ یہ بھی کفار ناہنجار ہی کی کوئی ایسی قوم تھی جو اپنے کفر و انکار کی بناء پر تباہ ہوئی۔ رسّ کے معنیٰ پرانے کنوئیں یا اندھے کنوئیں کے آتے ہیں۔ سو یہ لوگ کسی ایسے ہی کنوئیں کے پاس رہتے تھے۔ اور ان بدبختوں نے اپنے پیغمبر کو اس کنویں میں ڈال کر یا اس میں لٹکا کر ہلاک کردیا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو تباہ کردیا گیا۔ علامہ آلوسی (رح) اپنی تفسیر میں ان سے متعلق لکھتے ہیں ۔ " قَوْمٌ اَہْلَکَہُمُ اللّٰہُ بَکُفْرِہِمْ مَنْ اَرْسَلَ اِلَیْہِمْ " ۔ یعنی یہ کوئی ایسی قوم تھی جس نے اپنے رسول کی تکذیب اور انکا انکار کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمیشہ کیلئے ہلاک کردیا۔ یہاں پر ان کا ذکر عاد اور ثمود کے ساتھ فرما کر اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے بھی عاد اور ثمود کی کافر قوموں کی طرح اپنے رسول کی تکذیب کی جس کے نتیجے میں ان کو بھی اسی طرح ہلاکت و برباد کردیا گیا جس طرح عاد اور ثمود کو کیا گیا تھا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 25:4047 قوم لوط کی بستی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور یقینا ان لوگوں کا گزر اس بستی پر بھی ہوتا ہے جس پر بڑی بری بارش برسائی گئی ہے "۔ اس سے مراد قوم لوط کی وہ تباہ شدہ اور الٹی ہوئی بستیاں ہیں جسکے باشندے اپنے خلاف وضع فطری فعل کے ارتکاب کی بنا پر اس ہولناک اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے تھے۔ اور اہل مکہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان کی ان تباہ شدہ بستیوں پر سے گزرا کرتے تھے۔ اس لئے ان کو اس طرح دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ یہ لوگ دوسری قوموں کے حالات سے اگر ناواقف و نابلد ہیں تو کیا یہ اس بدبخت قوم کے انجام سے بھی ناواقف ہیں جو کہ ان سے زیادہ دور بھی نہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ } ۔ یعنی وہ بستی آج کے ان ظالموں سے کچھ زیادہ دور نہیں۔ (ھود :83) اور اپنے تجارتی سفروں کے دوران یہ لوگ ان کے کھنڈرات اور ان کے آثار و نشانات پر سے رات دن گزرتے رہتے ہیں۔ تو پھر یہ ان کے اس انجام سے درس عبرت کیوں نہیں لیتے۔ مگر غافلوں کی غفلت کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ -
48 کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں ؟ : یعنی اس میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے تاکہ ان کو درس عبرت مل سکے۔ سو صرف ظاہری آنکھوں سے دیکھنا کافی نہیں کہ یہ دیکھنا تو حیوانوں کا دیکھنا ہے۔ اور یہ ان لوگوں کو بھی حاصل تھا۔ کیونکہ ایسا دیکھنا نہ مقصود ہے نہ مطلوب۔ بلکہ مقصود و مطلوب وہ دیکھنا ہے جو دل کی آنکھوں سے اور عبرت و بصیرت کی نگاہ سے ہو جو کہ اس بارے غور کرنے کے لیے ہو کہ یہ کون لوگ تھے جن کے یہ کھنڈرات موجود و مشاہد ہیں۔ اور ان لوگوں کا یہ حشر و انجام آخر کیوں ہوا ؟ کس نے کیا ؟ اور اس میں ہمارے لئے کیا درس عبرت و بصیرت ہے ؟ وغیرہ۔ مگر انسان کی غفلت شعاری اور بےحسی کل بھی ایسے ہی تھی اور آج بھی ایسے ہی ہے کہ وہ ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتا اور کوئی دھیان نہیں کرتا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو کل کی طرح آج بھی آثار قدیمہ کی حفاظت کے نام و عنوان سے گڑھے مردے تو جگہ جگہ سے کھود کھود کر نکالے جاتے ہیں اور اس پر بڑے بڑے اخراجات کے بوجھ بھی اٹھائے جاتے ہیں مگر عبرت گیری اور درس آموزی کے اصل مقصد سے دنیا آج بھی اسی طرح غافل ہے جس طرح کل تھی۔ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر۔ اِلَّامَا شَائَ اللّٰہُ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو آخرت کے عقیدئہ و یقین سے محرومی کے بعد انسان کی زندگی بےمقصد، لایعنی، حرارت سے خالی اور بجھ کر رہ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جس قدر اس بارے میں کسی کا ایمان و یقین پکا پختہ اور صحیح ہوگا اسی قدر اس کی زندگی سنجیدہ بامقصد اور فعال ہوگی ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃِ اِلْاِیْمَانِ وَالْیَقِیْنِ ۔ اَللّٰہُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ و ثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔
49 عقیدئہ آخرت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ان کے اصل مرض کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ اس لیے یہ غیر ذمہ دار اور لاپرواہ ہو کر رہ گئے۔ ان کی نگاہیں دنیائے دوں کے عارضی فائدوں اور وقتی لذتوں میں اٹک کر اور کھو کر رہ گئیں اور فانی دنیا کے عارضی اور فانی فائدوں ہی کو انہوں نے اپنا مقصد بنالیا ہے۔ یہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اس سے آگے دیکھنے اور سوچنے کیلئے یہ تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور حق اور حقیقت کو دیکھنے اور جانچنے پرکھنے کیلئے یہ آنکھیں کھولتے ہی نہیں جس سے یہ اپنے قصد و اختیار سے اندھے اور اوندھے بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ آدمی کی نگاہوں کے اندر بصیرت کی روشنی آخرت کے تصور ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر یہ چیز نہ ہو تو اس کی نگاہوں کو ٹک ٹک دیکھنے کے باوجود حق اور حقیقت کی کوئی چیز نظر نہیں آتی اور وہ دل کا اندھا بن کر رہ جاتا ہے۔ اور دل کا اندھا ہوجانا ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّہَا لاَ تَعْمَی الاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ } ۔ (الحج : 46) سو " آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہوتے ہیں " ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:4150 حق اور اہل حق کا مذاق اڑانا محرومی دارین کا باعث۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان کے اس سنگین مرض اور اس میں اضافے کے بیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا اور درس عبرت و بصیرت لینا اور نور حق و ہدایت سے سرفراز ہونا تو درکنار یہ لوگ تو مرض کی اس انتہاء کو پہنچ چکے ہیں کہ الٹا ھادی برحق اور حضرت امام الرسل ۔ علیہ و علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ان صاحب کو دیکھو اور ان کے دعوائے رسالت کو دیکھو۔ کیا اس منصب کے لئے بس یہی رہ گئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر ایسے بدنصیبوں کو دولت حق و ہدایت نصیب ہو تو کس طرح اور کیونکر ؟ سو اس سے معلوم ہوا کہ اہل حق اور دعوت حق کی تحقیر و توہین بڑا خطرناک جرم اور سنگین مرض ہے جس کی سزا میں انسان ہدایت کی دولت اور اس کی سعادت سے محروم ہوجاتا ہے اور جو حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہوگیا وہ دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہوگیا جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر طرح کے شرور و فتن سے محفوط رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 25:4251 منکرین کے اضطراب و بوکھلاہٹ کا نمونہ و مظہر : سو اس سے منکرین حق کے انکار اور ان کی بوکھلاہٹ و اضطراب کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس سے ان لوگوں کی بوکھلاہٹ اور انکے نفسیاتی اضطراب کی کیفیت ذرا ملاحظہ ہو۔ ادھر مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا یہی صاحب ہیں جن کو خدا نے رسول بنا کر بھیجنا تھا اور ادھر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تاثیر کلام کے احساس و اعتراف کا یہ عالم ہے کہ خود کہتے ہیں کہ اگر ہم پوری بےشرمی اور ہٹ دھرمی سے اپنے ان ٹھاکروں اور معبودان باطلہ پر جمے اور ڈٹے نہ رہتے تو یہ شخص محض اپنی قوت تاثیر سے ہمیں اس سے بھٹکا دیتا۔ سو حق و صداقت کے انکار اور اس کی راہ میں ہٹ دھرمی برتنے کا نتیجہ و انجام ایسا ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انسان اپنی ہٹ دھرمی اور محرومی پہ افسوس کرنے کی بجائے الٹا اس پر فخر کرنے لگتا ہے اور اس طرح وہ ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس طرح اور اس طور پر کہ اس کو اس کا احساس و شعور بھی نہیں ہوتا جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
52 نتیجہ وانجام کے انتظار کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب ہی ان کو معلوم ہوجائیگا کہ راہ حق سے بھٹکا ہوا کون تھا ؟ "۔ یعنی دلائل وبیان کی حد تک تو حق کی توضیح میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اب بھی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو پھر قیامت کے روز اور جب حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے اور یہ لوگ اپنے انجام اور عذاب کو خود دیکھ لیں گے تو ان کو خود معلوم ہوجائے گا کہ حق اور ہدایت کی راہ پر کون تھا اور گمراہ کون ؟ مگر اس وقت کے اس علم اور بےوقت کے اس پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے حسرت و افسوس میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں لیکن کل قیامت کے اس یوم فصل میں جب یہ اپنے اس انجام اور عذاب سے دوچار ہوں گے جسکا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنالیا ہے تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ پیغمبر نے ان کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ ان کو اس راہ حق و ہدایت کی دعوت دی تھی جو انسان کو سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی راہ ہے۔ اور اس سے محرومی کا نتیجہ دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ہٹ دھرموں کے لیے آخری جواب یہی ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:4353 اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا دینے والوں کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے اس شخص کے حال پر بھی کبھی غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا رکھا ہو ؟ "۔ یعنی نفس کی خواہش نے جو چاہا وہی کیا۔ جائز و ناجائز اور حرام و حلال کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اور وہ شتر بےمہار کی طرح آزادانہ اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلا۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ کفار قریش کو جب کوئی عمدہ اور چمکتا پتھر نظر آتا تو وہ اسی کا بت بنا کر پوجنے لگتے۔ اور جب اس سے دوسرا کوئی اچھا اور چمکیلا پتھر مل جاتا تو اس کو چھوڑ کر اس کو پوجنے لگتے۔ جس طرح آج کل کے بہت سے کلمہ گو مشرکوں اور جاہل مسلمانوں کا حال ہے کہ جو کوئی بڑا درخت یا پتھر نظر آیا یا کوئی گری پڑی قبر مل گئی وہیں جھنڈے گاڑ دئیے اور شرک کا کاروبار شروع کردیا۔ " توڑی شاہ "، " لسوڑی شاہ "، " کھٹے شاہ "، " میٹھے شاہ "، " کانواں والی سرکار "، " بلیوں والی سرکار " وغیرہ وغیرہ کوئی سا نام رکھ لیا۔ اس پر چڑھاوے چڑھوانے، نذریں منوانے اور طرح طرح کی رنگ رلیاں منانے کا کام شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اونے کے پونے ہوگئے۔ چاندی بکھرنے لگی اور خزانے جڑنے لگے۔ اور جو کوئی اللہ کا بندہ شرک کے اس کاروبار کے خلاف آواز اٹھائے اس پر گستاخ ہونے کی پھبتی کس دی اور حسب خواہش جو فتویٰ چاہا جڑ دیا۔ اور ایسے لوگ اس طرح عوام الناس کی کالی بھیڑوں کی اون برابر مونڈھتے چلے گئے۔ نہ خدا کا خوف نہ آخرت کی فکر۔ نہ قرآنی تعلیمات کا پتہ نہ سنت رسول سے مس۔ اور اگر کسی کو کچھ شد بدھ ہے بھی تو وہ الٹا نصوص قرآن و سنت کی تحریف و تغییر کے درپے ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بجائے اس کے کہ وہ جاہل دنیا کو اس کاروبار شرک سے روکتا اور ان کو اس پر ٹوکتا وہ الٹا ان کیلئے جواز کے دلائل گھڑنے میں لگ گیا۔ اور اس طرح ایسے کاروبار شرک میں شریک و شامل ہوگیا جس کا نتیجہ وانجام ہولناک تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
54 ہٹ دھرموں اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا آپ ایسے شخص کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں ؟ "۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے۔ معلوم ہوا کہ خواہشات نفس کی پرستش و پیروی اور ہٹ دھرمی خرابی اور فساد کی وہ جڑ ہے جس کے بعد پند و نصیحت کی کوئی بات اثر نہیں کرتی خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہستی کی طرف سے کیوں نہ ہو کہ اصل چیز ہے طلب صادق جس پر نور حق و ہدایت سے سرفرازی کا مداروانحصار ہے۔ اور اس سے ایسے لوگ محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کو اپنا مقصد بنالینا بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان کے اندر راہنمائی کا چراغ اس کی عقل ہے۔ اور اس کی روشنی کو درجہ کمال تک پہنچنے کیلئے ہدایت وحی کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے انسان کا باطن بھی روشن ہوجاتا ہے اور وہ نور علی نور کا مصداق بن کر حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز کرتی ہے۔ لیکن جب بدبخت انسان نور حق و ہدایت سے منہ موڑے اور اپنی عقل کے جوہر منیر کو معطل کرکے اپنے نفس کی باگ ڈور اپنی خواہشات کے ہاتھ میں پکڑا دے تو پھر اس کی اصلاح اور کس طرح ہوسکتی ہے اور آپ اس کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔
Ayahs 25:44–4555 لوگوں کی اکثریت حق کو سننے سمجھنے سے عاری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ "۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ اور جب یہ سنتے سمجھتے ہی نہیں اور انہوں نے اپنے کانوں اور دلوں کو حق کے سننے اور سمجھنے سے بند کر رکھا ہے تو پھر ان سے کسی خیر کی توقع ہی کیا اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور پھر ان کی ایذاء رسانیوں اور حق دشمنیوں سے صدمہ اور دکھ ہی کیا ؟ پس ضد اور عناد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ ایسے ضدی عناصر کو چھوڑ دو یہ اپنے انجام کو خود پہنچ جائیں گے ۔ { فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ } ۔ (الانعام : 113) ۔ سو قصور آپ کی دعوت و تبلیغ کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا اپنا ہے کہ انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور خواہش پرستی کی بنا پر اپنے کانوں کو سماع حق اور اپنے دلوں کو قبول حق سے بند اور اپنی عقلوں کو صحیح غور و فکر سے ماؤف کر رکھا ہے۔ تو پھر ان کو حق و ہدایت کی روشنی اور دولت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ نیز یہاں سے یہ حقیقت بھی ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی کہ عوام کی اکثریت کی رائے کا کسی امر کے حق میں یا اس کے خلاف ہوجانا اس کے حق یا باطل اور صحیح یا غلط ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے پرستاروں کا کہنا ہے اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ فلاں فلاں بدعات چونکہ عوام کی اکثریت میں پائی جاتی ہیں لہذا یہ ٹھیک ہیں۔ سو ایسا کہنا اور ماننا غلط ہے کہ عوام کی اکثریت اس طرح کی نصوص صریحہ کے مطابق نہ سنتی ہے نہ سمجھتی ہے۔ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ تو پھر ایسوں کی اکثریت کا آخر کیا وزن اور اعتبار ہوسکتا ہے ؟۔
56 نور حق و ہدایت سے محروم لوگ چوپایوں سے بھی بدتر ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ نور حق و ہدایت سے محروم لوگ چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ تو محض چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر گمراہ ہیں "۔ کہ جانوروں اور چوپایوں کو تو عقل ہی نہیں دی گئی تھی اس لئے وہ احکام و شرائع کے مکلف ہی نہیں۔ جبکہ ان کو عقل و فکر کی دولت سے نواز کر مکلف بنایا گیا تھا۔ جانور تو اپنے مالک و محسن کو پہچانتے ہیں اور اس سے انس و محبت رکھتے ہیں جبکہ یہ اپنے رب کے احسانات سے غافل اور اس کے ناشکرے ہیں۔ جانور تو اپنے دشمن کو پہچان کر اس سے دور و نفور رہتے ہیں مگر ایسے لوگ اپنے اس دشمن سے محبت رکھتے اور اس کے پیچھے چلتے ہیں جو ان کو جہنم کی طرف لے جا رہا ہے۔ جانور اگر کسی کو نقصان پہنچائے تو بس وہیں تک جہاں تک کہ ان کے سینگ پہنچ سکیں یا لات مارسکیں یا اپنے دانتوں سے کاٹ سکیں وغیرہ۔ جبکہ انسان جب جانوروں کی راہ پر چلتا ہے تو سب سے بڑا درندہ بن جاتا ہے اور اس کی تباہ کاریوں اور ہلاکت سامانیوں سے ساری دنیا اپنے آپ کو آگ کے منہ میں تصور کرتی ہے۔ اور یہ ایسے ایسے آلات ایجاد کرتا ہے کہ ہزاروں، لاکھوں بےگناہوں کی جان لینے میں بس ایک بٹن دبانے کی دیر رہ جاتی ہے۔ پھر چوپایہ جانور کسی کو راہ حق و ہدایت سے نہیں روکے گا جبکہ یہ بہکا بھٹکا انسان دوسروں کو بھی راہ حق و صواب سے روکنے اور ان کو نور ہدایت سے محروم کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے حوالے اور ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح کے ان امور سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ انسان جب نور حق و ہدایت سے محروم ہوتا ہے تو یہ سب سے بڑھ کر گمراہ ۔ اضل ۔ اور سب نیچوں سے نیچ ۔ اسفل سافلین ۔ بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ایسے لوگ اگر حق کو قبول نہیں کرتے تو اس سے نہ کسی کو کوئی تعجب اور اچنبھا ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی صدمہ و افسوس کہ یہ انسان نہیں حیوان ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بدتر۔ تو پھر ایسوں سے قبول حق کی امید اور خیر کی کوئی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:4658 سائے کے سمٹنے سکڑنے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں "۔ اپنی طرف سمیٹنے سے مراد ہے کہ اسے ہم مٹاتے رہتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز مٹ جاتی ہے وہ اسی کی طرف لوٹتی ہے کہ مرجع و منتہٰی سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی } ۔ (العلق : 8) ۔ ورنہ اللہ پاک کی ذات جہت و مکان سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور سایہ کے اس بتدریج سمیٹنے میں بھی کئی حکمتیں کار فرما ہیں۔ سو تمہارے پیش افتادہ اس سائے میں ایک طرف تو پیدا ہونے اور مٹتے رہنے اور فنا وزوال کا درس عظیم ہے اور دوسری طرف یہ اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور سر بسجود ہونے اور عجز و انکسار کا درس عظیم بھی ہوتا ہے۔ تیسری طرف یہ سایہ سورج کی الٹی سمت جھک کر شرک کی تردید اور توحید خدا وندی کا درس بھی دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے سورج کو اس کی دلیل بنایا۔ سو جس طرح کسی چیز کی دلیل سے وہ چیز کھلتی اور واضح ہوتی ہے اسی طرح سورج اور اس کی روشنی سے سائے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ اس کے کم و کیف کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا چھوٹا یا بڑا ہے۔ پھر اسی سائے کی ایک بڑی اور کامل شکل رات کا وہ مہیب اندھیرا ہے جو ایک دنیا کی دنیا پر چھا اور پھیل جاتا ہے۔ پھر یہ سورج کا کرہ اور اس کی تیز روشنی ہی ہے جو رات کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیر کر اس سے سپیدئہ سحر کی چمک لاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کیلئے طرح طرح کی راہیں کھلتی ہیں اور ان کی انواع و اقسام کی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان ہوتا ہے۔ ورنہ اگر دنیا تاریکیِ شب کے اسی ہولناک اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبی رہتی تو اس کا کیا بنتا ؟ اس کو بےدر کے اس گنبد میں کوئی راہ نہ سوجھتی۔ سو یہ سب کچھ ایک طرف تو اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے اور دوسری طرف یہ عظیم الشان درس عبرت و بصیرت بھی ہے کہ سورج اور چاند وغیرہ کے یہ عظیم الشان کرے انسان کے خادم ہیں نہ کہ اس کے مخدوم و معبود۔ سو کس قدر بہکے بھٹکے اور اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو اپنے ان خادموں کو اپنا معبود قرار دے کر ان کی پوجا کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و بربادی کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظم -
Ayah 25:4759 رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو ایک عظیم الشان لباس بنادیا۔ سو اس نے رات کو ایک ایسا عظیم الشان اور ممتاز لباس بنایا کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال موجود نہیں۔ سو ذرا دیکھو کہ کس طرح ایک سیاہ چادر سارے عالم پر تان دی جاتی ہے۔ ایک سناٹا ہے جو چار سوچھا جاتا ہے اور سکون و راحت کے لئے ایک نہایت ہی پرسکون اور مناسب ماحول مہیا فرما دیا جاتا ہے۔ اور نیند کا آرام ایک ایسا آرام ہے کہ اس کا دوسرا کوئی بدل نہیں۔ چناچہ انسان جب سو کراٹھتا ہے تو ایک نئی قوت و توانائی سے سرشار ہوتا ہے اور پھر دن کا وہ بےمثال اجالا کردیا جاتا ہے جس میں انسان اٹھتے ہی اپنے کاروبار میں مشغول ہوجاتا ہے۔ کیا ہزارہا سال سے چلنے والا یہ اس قدر مستحکم اور مربوط نظام کسی قادر مطلق کی قدرت و فرمانروائی کے بغیر از خود یونہی چل سکتا ہے ؟ نیز اس میں یہ درس عبرت بھی ہے کہ جس طرح تم لوگ روزانہ رات کی خاموشی میں سو جاتے ہو اور موت سے ملتی جلتی کیفیت سے دو چار ہوجاتے ہو اور صبح کی روشنی میں اٹھ کر پھر اپنی اپنی چلت پھرت میں لگ جاتے ہو اسی طرح موت کے بعد بھی تم لوگ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوؤ گے۔ سو اس طرح روزمرہ کا تمہارا یہ سونا جاگنا تمہارے لئے طرح طرح کی ظاہری اور جسمانی فوائد کے علاوہ آخرت کی تذکیر اور یاددہانی کا بھی ایک عظیم الشان ذریعہ ہے تاکہ اس طرح تم لوگ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے لئے تیاری کرسکو قبل اس سے کہ فرصت عمر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور اس طرح تم اپنی آخرت کو ہمیشہ یاد رکھو جو کہ اصل بنیاد ہے فرد اور معاشرے کی اصلاح کی۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے سونے کے بعد اٹھنے کے موقعہ پر اپنی امت کو جو دعا تلقین فرمائی ہے اس میں بھی اسی کا تذکرہ ہے۔ اور وہ دعا یہ ہے ۔ " اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ " ۔ یعنی شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی اس کے بعد کہ اس نے ہمیں موت سے ہمکنار کردیا تھا اور اسی کی طرف جانا ہے دوبارہ زندہ ہوکر۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر عظیم الشان اور کتنی مقدس اور پاکیزہ ہیں دین متین کی یہ تعلیمات مقدسہ جو عام طبعی امور کو بھی نیکی اور عبادت بنا دیتی ہیں۔ کہاں مومن کا یہ سونا اور جاگنا جس میں اس قدر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور کہاں ایمان سے محروم کافر و منکر انسان کا وہ سونا جو خالص ایک حیوان کا سونا اور جاگنا ہے۔ جس میں ایسے کسی درس عبرت و بصیرت کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 25:4860 آسمان سے اتارے جانے والے مائے طہور میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے اتارا آسمان سے پاک صاف پانی "۔ جو کہ پاک صاف ہوتا ہے ہر طرح کی گندگی اور آمیزش سے۔ اور جو کہ طاہر و محفوظ ہوتا ہے ہر قسم کے زہریلے مادوں اور جراثیم سے۔ اور جو کہ صرف پاک ہی نہیں ہوتا بلکہ پاک کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ یعنی طاہر کے ساتھ ساتھ وہ مطہر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ طہور کے معنیٰ ہیں طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ جیسے وضو کے معنیٰ ہیں وضو کرنے کا ذریعہ اور " وقود " کے معنیٰ ہیں جلانے کا ذریعہ۔ یعنی " ایندھن "۔ سو اس پانی سے طرح طرح کی نجاستوں اور گندگیوں و غلاظتوں کو دھویا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ پانی کا یہ حیات آفریں اور زندگی بخش جوہر ایسا عظیم الشان جوہر اور قدرت کا اس قدر جلیل القدرتحفہ اور عطیہ ہے کہ اس سے انسانوں، حیوانوں اور نباتات وغیرہ سب کی زندگی اور ان کی بقا وابستہ ہے۔ اور یہیں سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جس قادر مطلق اور حکیم مطلق نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے اس قدر حکیمانہ انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ جبکہ جسم و جان کے اس مجموعے میں اصل چیز روح ہی ہے۔ سو تمہاری ان روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے اس نے وحی و رسالت کا انتظام فرمایا جس کی آخری اور کامل شکل اب قرآن حکیم کی صورت میں تمہارے سامنے موجود ہے۔ سو اس خالق ومالک ربِّ رحمن و رحیم کی ان عظیم الشان نعمتوں اور جلیل القدر احسانات کے باوجود اس سے اعراض و روگردانی اختیار کرنا اور اس کے حقِّ بندگی سے غفلت برتنا کس قدر ظلم اور کتنی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 25:4961 پانی ذریعہء حیات و بقا اور وسیلہء سیرابی : سو اس ارشاد میں پانی کی اس عظیم الشان اور حیات آفریں نعمت میں اس اعتبار سے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ اس سے یہ مردہ زمین حیات تازہ اور ایک نئی زندگی پا کر تمہارے لئے طرح طرح کی چیزیں اگاتی اور پیدا کرتی ہے اور یہ پاکیزہ پانی دریاؤں، نہروں، ندیوں اور نالوں اور تالابوں وغیرہ کے علاوہ زمین کے اندرونی سوتوں کی شکل میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ جس سے چوپائے اور انسان وغیرہ سب مستفید و فیضیاب ہوتے اور اپنی طرح طرح کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ سو یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں کا ایک کرشمہ اور اس کی رحمت بےنہایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جس طرح اس نے تمہاری ظاہری اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے پانی کی اس عظیم الشان نعمت کا اس حیرت انگیز اور حکمت بھرے طریقے سے انتظام فرمایا۔ اسی طرح اس نے تمہاری معنوی اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے وحی کی اس معنوی بارش کا بھی انتظام فرمایا جو تمہارے دلوں کی زندگی اور ان کی آبادی کا ذریعہ ہے۔ سو اس کے حق معرفت و بندگی سے اعراض و روگردانی برتنا جہاں اس واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کی حق تلفی ہے وہیں یہ اپنے دلوں کی دنیا کو اجاڑنے اور ویران کرنے کا باعث بھی ہے۔ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے خسارے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:5062 حکمت تصریف کی توضیح و تشریح : سو اس سے قرآن حکیم کو مختلف اسالیب میں بیان کرنے کے احسان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے اس کو انکے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے تاکہ لوگ سبق لیں "۔ یعنی ہدایت کے اس مضمون کو ہم نے طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ لوگ سبق لیں اور نصیحت حاصل کرلیں۔ اور ہدایت کے نور سے اپنے باطن کو منور کریں کہ اس میں ان کی سعادت و کامرانی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ تفسیر مبنی ہے اس قول و احتمال پر کہ { صرفناہ } کی ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے۔ جیسا کہ بعض اہل علم نے اس کو ترجیح دی ہے۔ جبکہ اس میں دوسرا قول و احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع بارش ہی ہو۔ یعنی ہم اس بارش کو پھیر پھیر کر برساتے ہیں۔ کبھی کہیں کبھی کہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ اور کہیں مسلسل و لگاتار اور کہیں بالکل نہیں وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ بارش کسی سال کم یا زیادہ نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے اعمال کے مطابق اس کو پھیرا کر کبھی کہیں اور کبھی کہیں کسی جگہ کم اور کسی جگہ زیادہ برسایا جاتا ہے۔ جس سے کسی پر انعام کرنا اور کسی کو عذاب دینا مقصود ہوتا ہے وغیرہ۔ تو یہ اس کی قدرت بےنہایت اور رحمت و عنایت بےغایت کی عظیم الشان دلیل ہے۔ مگر لوگوں کی اکثریت ہے کہ اس میں غور کرنے اور سبق لینے کی بجائے کفر و ناشکری ہی کی راہ پر چلی جا رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ قدرت کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے جس میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکتا ہے۔ لیکن ٹیڑھی کھوپڑی اور الٹی سمجھ والے لوگ اپنی کج فکری اور الٹی روش کی بنا پر الٹا اس سے اپنی ہلاکت و محرومی کا سامان کرتے ہیں۔ کوئی اس کو اپنی دیویوں اور دیوتاؤں کی کارستانی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ کوئی اس کو ستاروں کی طرف منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی اور طرف ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ نور معرفت و بصیرت سے سرشار و سرفراز رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:5163 حضرت خاتم الانبیاء کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر : کہ آپ کی نبوت و رسالت کا فیضان قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کے لیے جاری وساری ہے۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے۔ مگر چونکہ آپ ﷺ کا درجہ و مرتبہ اور اجرو ثواب بڑھانا اور آپ ﷺ کا مقام سب سے بڑا اور سب سے بلند کرنا مقصود تھا اس لئے آپ ہی کی نبوت کو سب کے لئے عام کردیا کہ آفتاب عالمتاب کے ہوتے ہوئے ستاروں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ سو جس طرح ایک آفتاب عالمتاب کی روشنی سب دنیا جہاں کیلئے کافی ہے اسی طرح آپ ﷺ کا آفتاب نبوت بھی قیامت تک کی سب دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے کافی ہے۔ تاکہ اس سب کا اجر وثواب آپ ہی کو ملتا رہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا } ۔ (الفرقان : 1) ۔ نیز جیسا کہ دوسرے مقام پر یہ فرمایا گیا { قُلْ یٰا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا } ۔ (الاعراف : 158) ۔ پس اس کے صلے و بدلے اور اس کے شکر میں آپ راہ حق میں مزید استقامت و ثابت قدمی سے کام لیں اور ان کے انکار و اعراض کی پرواہ نہ کریں۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ سو آپ کی نبوت اور آپ کا پیغام سب جہانوں اور جملہ انسانوں کے لیے ہے۔ اور یہ شان آپ کے سوا اور کسی بھی رسول کی نہیں ۔ (علیہ السلام) -