18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سورج کے ڈوبنے کے مقام تک پہنچ گیا تو اس نے دیکھا کہ وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ چشمے میں4 اور وہاں اسے ایک قوم ملی تو اس کے بارے میں ہم نے اس سے کہا اے ذوالقرنین، تم یہ بھی کرسکتے ہو کہ ان کو سزا دو اور یہ بھی کہ ان سے نیک سلوک کرو،

129 ذو القرنین کی مغربی مہم کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس نے اپنی فتوحات کے سلسلے میں " پہلے مغربی سمت کا رخ کیا یہاں تک کہ وہ سورج ڈوبنے کی جگہ تک پہنچ گیا اور اس نے سورج کو دیکھا کہ وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ چشمے میں "۔ یعنی وہاں چونکہ خشکی ختم ہوگئی تھی اور آگے پانی ہی کا ڈل تھا۔ اس لئے ظاہری طور پر دیکھنے میں یونہی لگ رہا تھا جیسا کہ سورج پانی کے دلدل میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ آج بھی سمندری سفر کے دوران نظر آتا ہے کہ سورج پانی کے اندر ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسے نہیں ہوتا۔ سو ذوالقرنین مغرب کی طرف سفر کرتے کرتے زمین کے اس آخری کنارے پہنچ گیا جہاں اس کے بعد اور کوئی زمین اور آبادی نہیں تھی۔ بلکہ آگے پانی ہی پانی تھا۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ سو وہ چلتے چلتے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک انسانی قدم اس زمانے میں پہنچ سکتے تھے۔ اس کے آگے سمندر ہی سمندر تھا۔ سو یہ سکندر کی مغربی فتوحات کا آخری کنارہ تھا۔ 130 سکندر کے کامل اقتدار اور مکمل کنٹرول کا ذکر : سو قول کا لفظ یہاں پر صورت حال کی عکاسی اور رویے کی تعبیر کے لیے استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی سکندر کی اس فتح کے نتیجے میں جو قوم اس کی رعایا بنی اور اس کے قبضے میں آئی اس کو ہم نے اس طرح ان کے قدموں میں ڈال دیا اور اس کو ان پر ایسا مکمل اختیار و اقتدار اور پورا کنٹرول دے دیا کہ وہ چاہے تو ان کو سزا دے اور چاہے تو ان کے ساتھ احسان کرے۔ بہرکیف سکندر کو وہاں کی اس قوم کو عذاب دینے اور حسن سلوک سے کام لینے کی دونوں صورتوں کا اختیار دیا گیا۔ یعنی اس سے کہا گیا کہ یہ دونوں باتیں تمہارے اختیار میں ہیں۔ تم ان دونوں میں سے جو چاہو کرسکتے ہو۔ خواہ ان کو قتل و قید کرو یا احسان اور فدیہ سے کام لو۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ کیونکہ وہ لوگ کافر اور منکر لوگ تھے۔ اور کفار و منکرین کے ساتھ یہ دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا تو ان کو ان کے کفر و انکار پر قتل و قید وغیرہ کی سزا دی جائے یا ان سے حسن سلوک کرتے ہوئے ان کو فدیہ وغیرہ کے بدلے میں چھوڑ دیا جائے۔ سو حضرت سکندر ذوالقرنین کو ان دونوں باتوں میں اختیار دیا گیا۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ یعنی وہاں کی صورت حال ایسی اور اس طرح کی تھی کہ سکندر کو اس قوم پر پورا قبضہ اور اقتدار و اختیار حاصل تھا۔ ان کے ساتھ جو سلوک چاہے کرے۔ سو انہوں نے عدل وانصاف کے طریقے ہی کو اپنایا۔
Ayah 18:87

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے عرض کیا کہ ان میں سے جس نے ظلم کیا تو اسے تو ہم ضرور سزا دیں گے پھر اس کو لوٹایا جائے گا اس کے رب کی طرف تب تو وہ ان کو اور بھی سخت سزا دے گا،

131 ظالموں کے لیے سزا کا اعلان وقرار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذوالقرنین نے کہا کہ جس نے ظلم کیا اور وہ اپنے کفر و باطل پر اڑا رہا۔ اور حق کو قبول کرنے اور اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ اور وہ بغاوت و سرکشی اور ضلال واضلال کی راہ کو ہی اپنائے رکھنا چاہے گا تو اس کو ہم ضرور سزا اور عذاب دیں گے۔ یعنی ذوالقرنین نے عدل و انصاف کی راہ کو اپنایا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور معارف وغیرہ) ۔ اور یہی شان ہوتی ہے عدل و انصاف والے بادشاہوں کی کہ وہ ظلم و بےانصافی کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں اور اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں۔ اچھائیوں کو فروغ مل سکے اور برائیوں کا قلع قمع ہوسکے۔ بہرکیف ذو القرنین نے اپنی اس مفتوحہ قوم کے بارے میں کہا کہ میں ان کو ملت ابراہیمی کی دعوت دوں گا تاکہ اس طرح یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکیں۔ پس جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے ان کو میں ان کے کفر و انکار اور ظلم واستکبار کی سخت سزا دوں گا۔ ( معارف وغیرہ ) ۔ اور یہی تقاضا ہے عدل وانصاف کا۔ 132 ظالموں کو اصل سزا ان کے رب کے ہاں ہی ملے گی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالموں کیلئے ان کے رب کے یہاں سخت سزا ہے "۔ ایسی سخت کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں ہوسکتی۔ کہ اصل عذاب تو آخرت ہی کا عذاب ہے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ہر باغی اور سرکش انسان کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق دیا جائے گا۔ سو ظالموں کو جو دنیا میں عذاب ملتا ہے اسی پر بات ختم نہیں ہوجاتی کہ وہ ان کی اصل اور پوری سزا نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ ان کے ظلم پر ایک طرح کی تنبیہ اور انکے ظلم کے عذاب کی معمولی قسط ہوتی ہے جو ان کو اس دنیا میں ملتی ہے۔ اصل اور پوری سزا تو بہرحال ان کو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں ہی میں ملے گی جو کہ جزا و سزا کا جہاں ہے۔ اور وہ بڑی ہولناک سزا ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغام حق و ہدایت سے اعراض و انکار اور کفر و شرک پر اصرار دارین کی ہلاکت و تباہی اور محرومی و خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 18:88–89

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی ایمان لا کر نیک عمل کرے گا تو اسے بہرحال اچھا بدلہ ملے گا اور ہم بھی اس سے اپنے معاملے میں آسان اور نرم بات کہیں گے1

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک دوسری مہم کے لیے اور سامان کیا

133 ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ذو القرنین نے ایمان والوں کے ساتھ نرمی کے برتاؤ کا اعلان و وعدہ کیا۔ یعنی پہلے گروہ کے برعکس جن لوگوں نے کفر و سرکشی اور ضلال واضلال کی بجائے اطاعت و بندگی کا راستہ اختیار کیا، اور انہوں نے صدق دل سے ایمان لاکر اعمال صالحہ کی راہ کو اپنایا۔ اور اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد و مشن بنایا تو ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے جزائے خیر اور عمدہ بدلہ ہے۔ اور ہم بھی اپنی طرف سے نہ صرف یہ کہ ان پر کوئی سختی نہیں کریں گے بلکہ ان سے ایسی نرم اور آسان بات کہیں گے جو ان کے لئے آسانی اور سہولت کا باعث ہوگی۔ اور ان سے ایسی آسانی کا معاملہ کریں گے کہ اس میں سختی والی کوئی بات نہیں ہوگی۔ سو ایمان و عمل صالح کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ بہرکیف ذوالقرنین نے ایمان والوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے اور نرم پالیسی اختیار کرنے کا وعدہ و اعلان کیا اور تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ذو القرنین اپنی مفتوحہ قوموں کے ساتھ سراپا رحمت و شفقت تھا۔ اور اس نے ان سے بھاری ٹیکس ہٹانے اور خراج کی معافی کا اعلان کردیا تھا۔ اور ان آیات کریمات سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مومن صادق اور موحد انسان تھا۔ اور تاریخی روایات سے بھی اس کی تائید و تصدیق ہوتی ہے ۔ والحمد للہ عز وجل -
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کے مقام کو پہنچ گیا تو وہاں اس نے سورج کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے پایا جس کے لیے ہم نے سورج کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی،

134 ذوالقرنین کی مشرقی مہم کا ذکر : سو اس سے ذوالقرنین کی دوسری مہم اور ایک اور قوم کا ذکر فرمایا گیا اور اس کی یہ مہم مشرقی جانب تھی۔ { سِتْراً } نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کیلئے سورج کی گرمی اور اس کی دھوپ سے بچنے کیلئے کوئی آڑ نہیں تھی کہ نہ ان کے جسموں پر لباس تھے اور نہ ان کے رہنے کو مکان اور نہ ہی درختوں وغیرہ کے سائے جو ان کو سورج کی گرمی وغیرہ سے بچا سکیں۔ بلکہ ان کا حال یہ تھا کہ سورج نکلنے پر وہ زمین کے اندر غاروں میں کہیں چھپ جاتے اور اس کے ڈوبنے پر باہر نکل آتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، کشاف، کبیر، مراغی اور صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اپنی مغربی مہم کی طرح وہ اپنی مشرقی مہم میں بھی اس کی آخری حدود تک پہنچ گیا اور ان کے بارے میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے درمیان اور سورج کے درمیان کوئی آڑ نہیں تھی تو اس سے اس قوم کے انتہائی وحشی اور غیر متمدن ہونے کی تصویر پیش فرما دی گئی۔ سو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کچھ ایسے وحشی قبائل تھے جو گھر در اور تعمیر و تمدن سے بالکل نا آشنا اور اپنی وحشت کے بالکل ابتدائی دور میں تھے۔ اور بالکل وحشیانہ اور خانہ بدوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس طرح ذوالقرنین کی آمد ان کے لیے باعث خیر وبرکت بن گئی ۔ والحمد للہ -
Ayah 18:91

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ قصہ اسی طرح ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھی تھا ہمیں اس کی پوری خبر ہے

135 ہمیں اس کے تمام حالات کی پوری خبر تھی : کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ۔ { لا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلا فِی السَّمَائِ } ۔ پس جو کچھ ہم نے بیان کیا وہی سچا اور مطابق واقعہ ہے۔ سو اس تذییل میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ ذوالقرنین کے پاس اسباب و وسائل اور ساز و سامان وغیرہ کا بہت کچھ ذخیرہ موجود تھا۔ اتنا کہ اسکا احاطہ ہمارے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز اس ارشاد میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ذو القرنین کو جو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں وہ سب اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور اسی کے انعام و احسان سے حاصل ہوئیں۔ سو فرمایا گیا کہ اس وسیع اقتدار اور عظیم الشان امانت کو سنبھالنے کے لیے جس عالی ظرفی اور عظیم صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ان کے اندر بدرجہ تمام و کمال موجود تھیں۔ اور ہم ان سے اور ان کی ان تمام صلاحیتوں سے پوری طرح واقف و آگاہ تھے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ حضرت مریم کے بارے میں فرمایا گیا ۔ { وَکُنَّا بِہ عَالِمِیْنَ } ۔ (الانعام :51) ۔
Ayah 18:92

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور مہم کا سامان کیا۔

136 ذوالقرنین کی تیسری مہم کا ذکر : سو اس سے ذو القرنین کی تیسری مہم کا ذکر فرمایا گیا جو کہ شمال مشرق کی جانب تھی۔ اور اس سے غالباً کا کیشیا کے وہ پہاڑی سلسلے مراد ہیں جو کہ بحیرئہ کیسپین اور بحیرئہ اسود کے درمیان واقع ہیں۔ کہ انہی کے اس طرف یاجوج ماجوج کی آبادی تھی۔ (جامع البیان، فتح القدیر، المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ذوالقرنین کا تیسرا بڑا سفر اور ایک نئی مہم تھی جس کا ذکر یہاں فرمایا جارہا ہے۔ اور بعض تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مہم جو شخص کا آخری بڑا سفر تھا اور اسی کے دوران وہ کسی کھڈ میں گر کر ہلاک ہوگیا۔
Ayahs 18:93–94

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ پہنچ گیا دو پہاڑوں کے درمیان تو اسے کچھ ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ لگتے تھے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

(پھر شاید کسی ترجمان وغیرہ کے واسطے سے) انہوں نے کہا اے ذوالقرنین واقعہ یہ ہے کہ یاجوج ماجوج اس ملک میں بڑا فساد مچاتے ہیں۔ تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ محصول مقرر کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں ؟

137 ذو القرنین کا ایک اور وحشی قوم سے واسطہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہ لگی تھی "۔ کہ ان کی اپنی زبان کچھ اور تھی۔ اور دوسری قوموں کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق تھا نہیں کہ ان کی زبان سمجھتے۔ اور اتنی سمجھ بوجھ کے مالک بھی وہ لوگ نہ تھے کہ اشاروں کنایوں سے بات سمجھ سکتے۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر، المحاسن وغیرہ) ۔ یعنی وہ لوگ بالکل وحشی اور کم عقل لوگ تھے۔ ورنہ عقل کی روشنی سے انسان اشاروں کنایوں سے بھی سمجھ لیتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے کسی ترجمان وغیرہ کے ذریعے اپنی بات ذوالقرنین کے سامنے پیش کردی۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ سو یہ ایک اور وحشی قوم تھی جس سے ذو القرنین کو اپنے اس سفر میں واسطہ پڑا تھا۔ اور اسی مہم کے دوران اس سد سکندری کی تعمیر کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 18:95–97

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے میرے رب نے جو قدرت دے رکھی ہے وہ بہت ہے، اس لیے مجھے تمہارے چندے وغیرہ کی تو ضرورت نہیں البتہ تم لوگ محنت سے میری مدد کرو تاکہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنادوں2

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تم مجھے لوہے کی چادریں لا کردو، یہاں تک کہ جب اس نے پاٹ دیا ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کو، تو کہا کہ اب تم آگ دہکاؤ، یہاں تک کہ جب اسے لال انگارا کردیا تو اس نے کہا لاؤ اب میں اس پر انڈیلتا ہوں پگھلا ہوا تانبا،

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

سو اس طرح یہ ایسی عظیم الشان دیوار تیار ہوگئی کہ یاجوج ماجوج نہ تو اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں نقب لگانا ان کے بس میں تھا۔

139 سدِّ سکندری کی تعمیر اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذو القرنین نے اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہا کہ " تم لوگ اپنی محنت اور مشقت کے ذریعے میری مدد کرو "۔ تاکہ میں تمہارے لیے تمہاری طلب اور درخواست کے مطابق ایسی ایک دیوار بنادوں یعنی تم لوگ جسمانی قوت و محنت اور رجال کار کے ذریعے۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے استعانت بغیر اللہ کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے اس ارشاد ربانی ۔ { اَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ } ۔ سے استدلال کی ناکام کوشش کی ہے ۔ { فَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ چناچہ موصوف اس مقام پر اپنے حواشی تفسیریہ ۔ بلکہ تحریفیہ ۔ میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ بندوں سے مانگنا جائز ہے اور یہ ۔ { وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ کے خلاف نہیں۔ سو یہ موصوف کی محض ایک خوش فہمی اور مغالطہ انگیزی ہے۔ ورنہ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا ذوالقرنین نے اس موقعہ پر مردوں سے یا غیر حاضر ہستیوں سے مدد مانگی تھی ؟ یا اپنے سامنے موجود لوگوں سے ؟ اور ان کو اسباب و وسائل کے درجے میں ایسا کرنے کو کہا تھا ؟ ممنوع و محذور تو وہ استعانت و استمداد ہے جو مافوق الاسباب ہو۔ جیسے مشرک لوگ مردوں وغیرہ سے اور مافوق الاسباب طور پر دوسروں سے مانگتے ہیں نہ کہ اسباب و وسائل کے درجے میں کہ اس کے تو کوئی بھی خلاف نہیں کہ یہ دنیا تو ہے ہی " دارالاسباب "۔ الغرض شرکیہ استمداد جو ظاہری اسباب و وسائل کے بغیر ہو اس سے اس آیت کریمہ کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اسباب و وسائل کے درجے میں جس مدد و استمداد کا یہاں ذکر ہے اس کا کسی کو بھی انکار نہیں۔ تو پھر یہ آیت کریمہ تمہارے مشرکانہ عقائد کی دلیل آخر کس طرح بن سکتی ہے ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ اس قدر بےباکی سے تم لوگ اللہ کے کلام کی تحریف کرتے ہو اور پھر بھی دعویٰ ہے ایمان و توحید اور عشق رسول ﷺ کا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ عقیدئہ و کردار کے ہر انحراف اور زیغ وضلال کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 140 سدِّ سکندری اور اس سے متعلق بعض اہم باتوں کا ذکر : سو ذو القرنین نے ان لوگوں سے کہا کہ " تم میری مدد کرو تاکہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنادوں "۔ جس کو پھلانگ کر یاجوج ماجوج تم تک نہ پہنچ سکیں۔ سو یاجوج ما جوج ایک شرپسند اور غارت گر قسم کی قوم تھی۔ سکندر نے اس دیوار کی تعمیر اور بندش کے ذریعے سے جو کہ انہوں نے ان لوگوں کی اپیل پر تعمیر کی تھی یاجوج ماجوج کی اس یورش اور شر انگیزی کو روک دیا۔ اور ان لوگوں کو یاجوج ماجوج کی ان فتنہ سامانیوں سے محفوظ کردیا۔ رہ گئی یہ بات کہ جغرافیائی حدود کے اعتبار سے یہ قوم اور یہ سدِّ سکندری کہاں واقع ہے ؟ تو اس پر نہ تو آیت قرآنی کی تفسیر موقوف ہے اور نہ ہی دین متین کا کوئی بنیادی عقیدہ اور ضروری مسئلہ۔ اگر ایسے ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور بیان فرما دیتا۔ اس لئے صحت و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ اللّٰہُ " کے کلیہ کے مطابق اس کو ایسے مبہم ہی رہنے دیا جائے اور خواہ مخواہ کے قیاسات اور ظنون کی بناء پر قائم کردہ کسی رائے کو آیات قرآنیہ کے قطعی مصداق کا درجہ اور یقینی محمل نہ قرار دیا جائے۔ اسی لئے جن لوگوں نے تاتاری فتنہ کو اس کا مصداق قرار دیا صاحب روح المعانی نے ان کو گمراہی کا مرتکب قرار دیا اور فرمایا کہ یہ نصوص حدیث کی مخالفت ہے۔ البتہ اگر تاتاری فتنہ کو یاجوج ماجوج کے فتنے کے مشابہ قرار دیا جائے تو یہ درست ہے۔ اور صاحب روح المعانی نے بھی اس احتمال و اعتبار کو درست مانا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے موجودہ روس اور چین کو یاجوج ماجوج کا مصداق قرار دیا تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ فتنہ یاجوج و ماجوج کے مشابہ یا اس کے ایک نمونے کے طور پر ہے تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ اور اس کی تغلیط کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر اس سے ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ یہ اسی فتنہ یا جوج و ماجوج کا مصداق ہے جس کی خبر نصوص قرآن و سنت میں علامت قیامت کے طور پر دی گئی ہے تو یہ بالکل غلط اور گمراہانہ بات ہے جس سے نصوص قرآن و سنت کا انکار لازم آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ صحیح احادیث کی رو سے یاجوج ماجوج کا یہ خروج حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے نزول کے بعد اور ان ہی کے زمانے میں ہوگا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا نزول ابھی تک نہیں ہوا۔ بلکہ وہ قیامت کے قریب ہوگا اور خدا ہی جانے وہ وقت کب آئے گا۔ اسی طرح سدِّ سکندری کے بارے میں بھی قطعیت اور یقین کے ساتھ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ کہاں واقع ہے ؟ اور یہ کہ کیا وہ باقی ہے یا نہیں ؟ بعید نہیں کہ وہ پہاڑیوں وغیرہ کے گرنے اور باہم مل جانے کی وجہ سے کسی پہاڑی کی شکل اختیار کرچکی ہو اور کوئی صریح اور قطعی قسم کی نص ایسی موجود نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ وہ دیوار قیامت تک جوں کی توں باقی رہے گی۔ اس کے تاقیام قیامت باقی رہنے پر بڑا استدلال اس ارشاد ربانی سے کیا جاتا ہے ۔ { فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ رِبِّیْ جَعَلَہ دَکًّا } ۔ اور بنیاد اس استدلال کی یہ ہے کہ یہاں پر { وَعْدُ رَبِّی } سے مراد قیامت ہے۔ حالانکہ یہ الفاظ کریمہ اس بارے میں قطعی نہیں۔ بلکہ اس کا صاف اور واضح مفہوم یہ ہے کہ سدِّ سکندر کی یہ روک ضروری نہیں کہ قیامت تک ایسے ہی باقی رہے۔ بلکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ جب چاہیں گے اور ان کے علم میں اس کا جو بھی وقت مقرر ہوگا وہ جب آپہنچے گا تو یہ دیوار مہندم ہوجائے گی۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ یہ بالکل قرب قیامت کے متصل ہو۔ چناچہ تفسیر بحرمحیط میں لکھا ہے " وَالْوَعْدُ یَحْتَمِلُ اَنْ یُّرَادَ بِہٖ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَاَنْ یُّرَادَ بِہٖ وَقْتُ خُرُوْجِ یَاجُوْجَ وَمَأْجُوْج " (بحوالہ معارف القرآن) ۔ دوسرا استدلال اس سلسلے میں مسند احمد (رح) و ترمذی (رح) کی اس حدیث سے کیا جاتا ہے جس میں مذکور ہے کہ یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے رہتے ہیں مگر " انشاء اللہ " نہ کہنے کی وجہ سے دوسرے روز وہ ویسے ہی ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ " انشاء اللہ " کہیں گے تو دوسرے روز اس کو پار کرلیں گے۔ (ملخص) ۔ مگر اول تو محققین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن کثیر نے اس کو " معلول " قرار دیا ہے۔ اور دوسرے اس میں بھی اس امر کی کوئی تصریح نہیں کہ جس روز وہ " انشاء اللہ " کی برکت سے اس کو پار کرلیں گے وہ قیام قیامت کے متصل ہی ہوگا۔ نیز اس میں اس کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ وہ سب کے سب اسی دیوار کے پیچھے رکے رہیں گے۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کچھ جماعتیں اور قومیں اس سے پہلے ہی نکل آئیں۔ سو خلاصہ بحث وبیان یہ ہوا کہ اول تو سدِّ سکندری کی پوری تحدید و تعیین مشکل امر ہے کہ اس طرح کی کئی دیواروں کا ذکر وبیان تاریخ و سیر کی کتابوں میں ملتا ہے۔ دوسرے نصوص قرآن و سنت سے اس کی بھی کوئی صاف وصریح دلیل نہیں ملتی کہ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔ نیز یہ کہ یاجوج ماجوج کا وہ انتہائی خوفناک اور تباہ کن خروج اور حملہ جو انسانی آبادی کو تباہ و برباد کر دے گا وہ تو یقیناً قیامت کے قریب اور اس کے متصل ہی ہوگا جیسا کہ نصوص و روایات حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ لیکن اس کے چھوٹے اور ابتدائی نوعیت کے نمونے اس سے پہلے بھی ظہور پذیر ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ فتنہ تاتار وغیرہ اور سدِّ سکندری کے ٹوٹنے اور اس کے ختم ہوجانے یا قیام قیامت تک اس کے باقی و برقرار رہنے کے بارے میں قطعیت اور یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دونوں احتمال موجود ہیں۔ (روح، معارف، مراغی، جامع، محاسن وغیرہ) ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ تعالیٰ وَھُوَ اَعْلَمْ بِمُرَادِ کَلَامِہٖ جَلّ وعَلَا ۔ مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں اگر قدرت کو منظور ہوا اور اس کا موقع مل سکا ۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِِّقُ وَھُوَا الْمُسُتعَانُ فی کل حین وآن -
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا یہ ایک خاص رحمت ہے میرے رب کی جانب سے، پھر جب آجائے گا میرے رب کے وعدے کا وقت تو وہ اس سب کو پاش پاش کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ بہرحال برحق ہے1

141 ذوالقرنین کا جذبہ شکر و تواضع : سو اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان دیوار بنانے پر تنگ ظرف لوگوں کی طرح ذو القرنین نے اپنے لیے کسی طرح کی تعلّی یا کسی عجب و غرور اور بڑائی کا کوئی اظہار نہیں کیا بلکہ اپنی عاجزی و فروتنی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو اپنے رب کی رحمت و عنایت قرار دیا۔ چناچہ ذو القرنین نے کہا کہ " یہ میرے رب کی رحمت ہے "۔ جو اس نے میرے ذریعے اپنے بندوں پر فرمائی ہے۔ اور وہ یاجوج ماجوج کی لوٹ مار سے محفوظ ہوگئے۔ اور اس طرح ذوالقرنین نے اپنے قول وقرار اور اپنی للہیت کا ایک اور ثبوت فراہم کردیا۔ سو اس میں انہوں نے نہ کسی تعلّی کا اظہار کیا اور نہ ہی کسی طرح کی بڑائی کا کوئی دعویٰ کیا۔ بلکہ کہا تو یہ کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمر ہے جو اس نے محض اپنے کرم سے اپنے بندوں پر فرمائی ہے۔ اور یہی نشانی ہوتی ہے اللہ کے مخلص بندوں کی کہ وہ جو بھی کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے کرتے ہیں۔ اور ہر خوبی کو اسی کی رحمت و عنایت سمجھتے ہیں۔ اور یہی چیز بندے کی شان عبدیت و بندگی کے لائق ہے۔ اور اسی میں اس کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا و آخرت میں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سو ذو القرنین نے اس دیوار کی تعمیر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ یہ کرشمہ میرے ہاتھوں ظہور پذیر ہو اور ایسی عظیم الشان آہنی دیوار کھڑی ہوگئی جس پر چڑھنا یا اس میں نقب لگانا یاجوج ماجوج کے لیے ممکن نہیں رہا ۔ فالحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال - 142 سدِّ سکندری کے فنا وزوال کا ذکر : سو ذو القرنین نے عجز و انکسار کے ساتھ کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ یہ عظیم الشان دیوار بن گئی لیکن یہ ابدی نہیں۔ بلکہ " جب آپہنچے گا میرے رب کے وعدے کا وہ وقت "۔ جو اس نے اس دیوار کے خاتمے اور یاجوج ماجوج کے خروج سے متعلق فرما رکھا ہے اور جس کا علم اسی کو ہے۔ (معارف، خازن، مراغی، جامع اور محاسن وغیرہ) ۔ تو اس وقت وہ اس دیوار کو پاش پاش کر دے گا کہ میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ سو یہ دیوار ہمیشہ کے لیے ایسی ناقابل شکست نہیں رہے گی بلکہ اس کی یہ شان ایک وقت تک کے لیے ہے۔ کیونکہ ذوالقرنین نے جب یہ کہا کہ میرے رب کا وعدئہ حق پورا ہو کر رہے گا اور جب اس کے وعدے کا وہ مقرر وقت آجائے گا تو اللہ اس سب کو پاش پاش کر دے گا۔ اور یہ تمام اونچ نیچ ختم ہوجائے گی۔ یہ سب بلندیاں پست اور یہ تمام تعمیرات مسمار ہوجائیں گی۔ سو اس سے ذکر قیامت کی مناسبت پیدا ہوگئی۔ تو اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و عنایت سے سرگشتگان دنیا کی تنبیہ و تذکیر کے لیے یہ ارشاد فرمایا اور اس طرح انذار کا وہی مضمون جو اس سورة کریمہ کے شروع میں ارشاد فرمایا گیا تھا ایک نئے اسلوب کے ساتھ پھر سامنے آگیا جو کہ نظم قرآنی کا ایک معروف اسلوب ہے ۔ والحمد للہ ۔ یہاں تک ذوالقرنین کا قصہ پورا ہوگیا۔ اب آگے قیامت کے احوال کا ذکر شروع ہوتا ہے۔
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اس روز ہم ان کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ وہ سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے میں موجیں مار رہے ہوں گے اور پھونک مار دی جائے گی صور میں، پھر اکٹھا کر لائیں گے ہم ان سب کو چن چن کر

143 فتنہ یاجوج و ماجوج کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ان کو اس دن اس طرح چھوڑ دیں گے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے میں موجیں مار رہے ہوں گے "۔ اپنی خوفناک کثرت کی بناء پر۔ جس کی تفصیلات احادیث و روایات میں مذکور و موجود ہیں۔ سو اس کا پورا ظہور تو قرب قیامت کے موقع پر ہی ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { حَتّٰی اِذَا فُتِحَتْ یَاجُوْجُ وَ مَاجُوْجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ } ۔ ( الانبیائ : 96) ۔ مگر اس سے پہلے جو مختلف فتنے مختلف ادوار میں ظاہر ہوتے رہے ان کو ان کا نمونہ قرار دیا جائے تو یہ کچھ بعید نہیں۔ جیسا کہ کچھ مفسرین کرام نے ان وحشی اور جنگجو قوموں اور قبائل کے بارے میں کہا ہے جو کہ کاکیشیا اور قفقاز وغیرہ کے دور دراز علاقوں میں رہتے تھے۔ اور وہ درہ عمر داریال سے نکل کر حملہ آور ہوتے تھے اور میدانی علاقوں میں آ کر لوٹ مار مچایا کرتے تھے۔ جس سے وہاں کے لوگ بہت تنگ اور سخت پریشان تھے۔ تو ذوالقرنین نے وہاں دیوار بنا کر ان کا راستہ بند کردیا تھا۔ (روح المعانی ج 16 ص 36، فتح الباری ج 6 ص 297 وغیرہ) ۔ یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں چنگیز خان ان بلند وبالا پہاڑیوں سے اپنے جرار لشکروں کے ساتھ نکل آیا تو اس نے ایک طرف توشمالی چین پر قبضہ جما لیا اور دوسری طرف اسلامی ممالک کو تاخت و تاراج کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے تو اس نے شاہ خوارزم کو زیر کیا اور اس کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی کہ وہی دراصل چنگیز خان کے اس غیظ و غضب کو بھڑکانے کا باعث بنا تھا۔ کیونکہ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس نے چنگیز خان کے کچھ آدمیوں کو قتل کر کے ان کا مال و اسباب ان سے چھین لیا تھا اور ان کے کچھ علاقے پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ جس پر چنگیز خان نے غصے سے بپھر کر شاہ خوارزم کو لکھا کہ تم کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ تم میرے آدمیوں پر ہاتھ اٹھاؤ اور ان کا مال و متاع لوٹو۔ کیا تم سوئے ہوئے فتنے کو جگانا چاہتے ہو ؟ اور چھپے ہوئے شرور کو ہوا دینا چاہتے ہو ؟ تم اپنے پیغمبر کی اس ہدایت کو بھول گئے ہو کہ تم اپنے مالداروں کو بےوقوفی سے روکو اور اپنے غلط کاروں کو کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز رکھو۔ اور کیا تمہیں اپنے رہبر کی یہ نصیحت نہیں پہنچی کہ ترکوں سے اس وقت تک نہیں جھگڑنا جب تک کہ وہ تم سے نہ جھگڑیں۔ تم کیسے لوگ ہو کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ برا سلوک کرتے ہو جبکہ تمہارے پیغمبر نے تمہیں اس سے حسن سلوک کی تعلیم دی ہے ؟ خبردار ! جو فتنہ سویا ہوا ہے اس کو مت جگاؤ۔ میری ان نصیحتوں کو کان کھول کر سن لو اور ان کو اچھی طرح یا دکر لو اور نقصان کی تلافی کرلو قبل اس سے کہ انتقام کا داعی تم پر کود پڑے۔ یاجوج ماجوج کو روکنے والی دیوار کھول دی جائے اور وہ تم پر ہر بلندو پست سے امڈ آئیں۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ آخر کار ساتویں صدی ہجری کے وسط تک وہ بغداد تک پہنچ گیا جو کہ اسلامی حکومت کا دارالخلافہ تھا اور دور حکومت اس وقت المستعصم باللہ کا تھا۔ اس دوران تاتاریوں نے وہ وہ مظالم ڈھائے کہ تاریخ میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سات دن تک انہوں نے بلا روک ٹوک بےتحاشا لوٹ مار مچائی اور خونریزی کی۔ کتابوں کے ذخائر کو دریا میں ڈال کر ان کا پل بنایا جس کے اوپر سے وہ اپنے گھوڑوں سمیت گزرتے تھے اور جن کی سیاہی سے دریا کا پانی کئی دنوں تک رنگین رہا۔ اور اس طرح صدیوں سے قائم عباسی حکومت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ صحیح بخاری و مسلم و غیر کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت زینب بنت حجش ؓ سے مروی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ سخت گھبراہٹ کے عالم میں تشریف لائے اور فرمایا " لَا الہَ اِلَاِ اللّٰہ بڑی خرابی ہے عربوں کے لئے اس بڑے اور ہولناک شر سے جو قریب آ لگا ہے " اور پھر اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنا کر اشارہ فرمایا کہ یاجوج ماجوج کو روکنے والی دیوار میں اس قدر شگاف پڑچکا ہے۔ حضرت زینب ؓ نے عرض کیا کہ حضرت ! کیا ہم اس حالت میں بھی ہلاک کر دئے جائیں گے جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ جبکہ خباثت ۔ اور شر۔ زیادہ ہوجائے گا۔ سو جیسا کہ اوپر گزرا کہ اس طرح کے فتنوں اور شر انگیزیوں کو یاجوج ماجوج کے فتنے کا ایک نمونہ یا پیش خیمہ تو کہا جاسکتا ہے مگر یاجوج ماجوج کا وہ بڑا فتنہ جو دنیا کی ایک بڑی آبادی کو تہس نہس کر دے گا اور جس کا تفصیلی ذکر مختلف احادیث میں آیا ہے وہ قرب قیامت ہی میں ظاہر ہوگا۔ جیسا کہ اوپر حاشیہ نمبر 140 میں تفصیل سے گزرا۔ اور آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب کہ سدِّ سکندری میں اس قدر سوراخ ہوچکا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئی یا ٹوٹنے کے قریب ہوگئی۔ یا یہ کہ اس میں سے کچھ قبائل یاجوج ماجوج وغیرہ کے نکل کر اس طرف آگئے۔ جیسا کہ تاتاری فتنہ وغیرہ ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ ہُ سبحانہ وتعالی ۔ وَہُوَ اَعْلَمْ بأسْرَارِکَلَامِہٖ جَلَّ وَعَلَا - 144 نفخ صور اور حشر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز صور میں پھونک دیا جائے گا پھر ہم اکٹھا کرلائیں گے ان سب کو چن چن کر "۔ اور اس طور پر کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جو اس حشر و اجتماع سے بچ سکے یا کہیں مخفی رہ سکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَری الْاَرْضَ بَارِزَۃً وَّحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا } ۔ (الکہف :47) ۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، ایمان لائے یا نہ لائے، حق اور حقیقت بہرکیف یہی اور صرف یہی ہے کہ سب کو اس روز اکٹھا کر کے میدان حشر میں لایا جائے گا تاکہ ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ وبدلہ پا سکے۔ اسی لئے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے دوسرے مقام پر اس حقیقت کے اعلان وبیان کا ذکر اس طرح تاکیدی طور پر فرمایا جاتا ہے ۔ { قُلْ اِنَّ الاَوَّلِیْنَ وَالاٰخَرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ } ۔ (الواقعۃ : 49 -50) ۔ یعنی " کہو ان سے اے پیغمبر کہ یقینا اگلوں پچھلوں سب کو اکٹھا کرکے لایا جائے گا ایک مقرر دن کے وقت پر "۔ سو کس قدر محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس یوم عظیم سے غافل ہو کر اپنی متاع زندگی کی محدود فرصت کو اس کی تیاری میں صرف کرنے کی بجائے یونہی ضائع کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ان سب کو میدان حشر میں اکٹھا کر کے لایا جائے گا اور { جمعا } کی تاکید سے اس حقیقت کو ظاہر فرما دیا گیا کہ صور قیامت سب کو جمع کرلے گا۔ چھوٹے اور بڑے عابد اور معبود اور حاضر و غائب سب اس روز یکجا ہوں گے۔ کوئی بھی بچ نہ سکے گا۔ سب کو پکڑ کر لایا جائے گا اور حضرت ابن عباس اور ابوسعید سے مرفوعا مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں کیسے چین سے بیٹھوں جبکہ صاحب قرن یعنی صور والے نے اپنے قرن یعنی صور کو اپنے منہ میں لے کر اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کان اللہ کے حکم کی طرف لگا رکھے ہیں کہ کب اللہ کا حکم ملتا ہے تاکہ صور پھونک دوں۔ صحابہ نے عرض کیا ایسے میں ہمیں کیا کہنا چاہیے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ و نعم الوکیل علی اللہ توکلنا " (ابن کثیر) باقی نفخ صور وغیرہ جیسے امور ان غیبیات اور متشابہات میں سے ہیں جنکی اصل حقیقت کا اس جہان رنگ و بو میں سمجھنا ہمارے بس میں نہیں۔ ہمیں تو ایسے تمام حقائق پر اسی طرح ایمان رکھنا چاہیے جس طرح ان کا ذکر کتاب و سنت میں ہوا ہے اور بس۔ ان کی اصل حقیقت اللہ ہی جانے یا جس کو وہ بتائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور پیش کردیں گے ہم اس روز دوزخ کو ان کافروں کے روبرو2

145 دوزخ کی پیشی کافروں کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور پیش کردیں گے ہم اس روز دوزخ کو ان کافروں کے سامنے "۔ یعنی { عَرَضْنَا } کا ماضی کا صیغہ یہاں پر مضارع کے معنیٰ میں ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی شیء کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جائے۔ چناچہ یہاں پر دوزخ کی اس عرض اور پیشی کو " نعرض " وغیرہ جیسے مضارع کے کسی صیغے سے تعبیر کرنے کی بجائے " عرضنا " ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس کو بلاغت میں تحقق وقوع سے تعبیر کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ حقیقت اس قدر قطعی اور ایسی یقینی ہے کہ گویا کہ یہ واقع ہوگئی ہے۔ اور یہ اسلوب دنیا بھر کی ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے۔ خود ہماری زبان اور ہمارے محاورے میں بھی اس کے نمونے جابجا ملتے ہیں۔ چناچہ ہمارے یہاں جب کوئی کسی سے کہتا ہے کہ اگلے مہینے میرا آدمی آپ کے پاس فلاں کام کیلئے آئے گا تو کیا آپ وہ کام کردیں گے ؟ وہ کہتا ہے ہاں کردونگا۔ آپ مزید اطمینان اور تاکید کیلئے اس سے پھر پوچھتے ہیں کیا آپ میرا کام کردیں گے ؟ میں مطمئن ہوجاؤں ؟ تو اس کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ ہاں بھئی آپ مطمئن ہوجائیں آپ کا کام ہوگیا۔ سو ہو کدھر ہوگیا ؟ وہ تو اگلے مہینے میں کرنا ہے۔ سو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ مطمئن ہوجائیں اور یقین کرلیں کہ یہ کام گویا کہ ابھی سے ہوگیا ہے۔ سو اس میں بلاغت کا یہی اسلوب کارفرما ہے۔ اور یہ تحقق وقوع کی علامت ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز دوزخ کو کافروں پر پیش کیا جائے گا " تاکہ وہ اس میں داخل ہونے سے پہلے اس کو دیکھ لیں اور یہ یقین کرلیں کہ انہوں نے اس میں داخل ہونا ہے۔ اور ان کو یقین ہوجائے کہ یہی وہ جہنم ہے جس کو مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے ۔ { ہٰذِہ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ } ۔ (الرحمن :43) ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 146 دوزخ اصل میں کافروں ہی کیلئے ہوگی : سو اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اصل میں کافروں ہی کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ نار دوزخ کے بارے میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ } ۔ یعنی " اس کو تیار کیا گیا ہے کافروں کیلئے "۔ اس لئے یہاں کافروں کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ ورنہ دیکھنے کو تو وہ ہر کسی کو سامنے نظر آئے گی۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی } ۔ (النازعات : 36) ۔ گناہگار مسلمانوں کو اس میں ان کے گناہوں کی بناء پر عارضی طور پر ڈالا جائے گا اور پھر سزا بھگتنے اور گناہوں کی میل سے پاک صاف ہوجانے کے بعد ان کو وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ جبکہ کافر اس میں ہمیشہ پڑے جلتے رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ عقل اور دل کے جن اندھوں کو آج وہ جہنم نظر نہیں آرہی اور جس کو آج یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہو رہے اس روز ان کو ہم انکے سامنے کھڑا کردیں گے کہ لو یہ ہے وہ چیز جس کو تم لوگ عقل کی آنکھ سے دنیا میں نہیں دیکھ سکے تھے۔ اب اس کو تجربہ کی آنکھ سے دیکھ لو۔ سو یہ کس قدر کرم ہے اس کتاب حکیم کا کہ اس نے غیب کے ان عظیم الشان حقائق کو دنیا میں اس قدر واشگاف الفاظ میں بیان فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا میری یاد دلشاد سے، اور وہ سننے کے لیے تیار نہ تھے میری نصیحت کو۔

147 کفر وعناد کا نتیجہ دائمی دوزخ ۔ والعیاذ باللہ -: سو منکرین کے کفر وعناد کا نتیجہ دائمی دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جبکہ کفر و انکار کے اپنے اختیاری پردے کی بناء پر وہ لوگ حق کو دیکھنے سے بھی محروم تھے اور سننے سے بھی۔ تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت اور اس کا نور میسر آتا تو کس طرح ؟ اس لئے انجام کار ان کو ہمیشہ کے لئے دوزخ کی اس آتش سوزاں کا ایندھن بننا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار اور عناد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور دائمی ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ اور اس کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ہولناک آگ اور ہمیشہ کا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان کافروں کی صفت بیان فرمائی گئی جو دوزخ کا دائمی ایندھن بنیں گے۔ اور یہی صفت ان کی محرومی کی اصل وجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے کفر وعناد کی وجہ سے ان کی مت ایسی مار دی گئی تھی کہ پیغمبر کی تذکیر و یاددہانی کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ نہ اس سے ان کی آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹتے تھے اور نہ ہی ان کے کان کھلتے تھے۔ اور یہ اندھے بہرے بن کر رہ گئے تھے۔ اور جب کسی کے دل آنکھ اور کان وغیرہ کے منافذ علم وادراک بند ہوجائیں اس کی ہدایت کا کیا سوال ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 18:102–103

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

تو کیا کافر لوگ پھر بھی یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز و حاجت روا بنالیں گے ؟ بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھا ہے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کے لیے

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

ان سے کہو کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتادیں جو سب سے زیادہ خسارے میں ہیں اعمال کے لحاظ سے ؟

148 مشرکوں کی مشرکانہ ذہنیت کی بیخ کنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا کافر لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں گے ؟ "۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے حضرت عزیر و مسیح کے ساتھ کیا۔ اور مشرکین عرب فرشتوں کے بارے میں ایسا کہتے اور کرتے تھے۔ اور افسوس کہ اس امت مرحومہ کے کلمہ گو مشرک کا بھی آج اپنے بڑوں بزرگوں کے بارے میں یہی کچھ کہنا کرنا ہے۔ وہ ان کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر غائبانہ بلاتا پکارتا، ان کے نام کی نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا، بکرے دنبے کاٹتا اور ان کے پھیرے لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور استفہام یہاں پر انکار و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ میرے بندوں کے ساتھ تمہاری اس طرح کی یہ دوستی اور تعلق تمہیں نفع دے گا ؟ اور تم لوگوں کو میری پکڑ سے بچا سکے گا ؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ بلکہ ہر ایک کو سچا ایمان و عقیدہ اور اس کا اپنا کردار و عمل ہی فائدے دے سکے گا اور بس۔ اور اللہ کے جن پیارے بندوں کے بارے میں انہوں نے اس طرح کی غلط توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور اس طرح غلو کیا ہے وہ الٹا ان کے خلاف ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان مشرکوں کا اس طرح کرنا خود ان کی تعلیمات اور ہدایات کے خلاف اور منافی ہے۔ جیسا کہ سورة مریم میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاتَّخُذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہۃً لِیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزََّا، کَلا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًُّا } ۔ (مریم :81 ۔ 82) ۔ سو اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے کسی بھی ہستی کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجنا پکارنا جائز نہیں۔ اور یہ سب اس ارشاد ربانی کے عموم میں داخل اور ممنوع ہے۔ (روح، ابن کثیر، مراغی، محاسن، قرطبی، خازن، صفوۃ، جامع، معارف اور ماجدی وغیرہ) ۔ سو ایسے تمام تصورات غلط، بےبنیاد اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہیں۔ سلامتی کی راہ جو کہ عقل و نقل کے عین مطابق ہے یہ ہے کہ انسان ایمان صادق کی دولت سے متمتع اور بہرہ مند ہو کر عمل صالح کی پونجی جمع کرے اور اللہ تعالیٰ کی ان پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کو حاجت روا، مشکل کشا قرار دے کر شرک کرنے کی بجائے ان کو اسوئہ اور قدوہ قرار دے کر ان کی اتباع و پیروی کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکوں کی مشرکانہ ذہنیت کی بیخ کنی فرما دی گئی کہ تم لوگوں نے ہمارے بندوں میں سے کچھ کو جو اپنا کارساز و مددگار بنا رکھا ہے کہ یہ کل قیامت کے روز ہماری گرفت و پکڑ سے تمہیں چھڑا سکیں گے تو یہ محض تمہاری خوش فہمی ہے۔ ایسے کافروں اور مشرکوں کے لیے تو ہمارے یہاں جہنم کی ضیافت تیار ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکروعمل کی ہر کجی اور ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ جن کی ساری کوشش اکارت چلی گئی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں

149 سب سے بڑے خسارے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتادیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں۔ سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش اور محنت اکارت چلی گئی دنیاوی زندگی میں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں "۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کی تمام تر کوشش و محنت اور ساری تگ و دو اسی دنیاوی زندگی کو سنوارنے بنانے اور جوڑنے جمع کرنے میں صرف ہوجائے کہ ان کے نزدیک سب کچھ یہ دنیا ہی دنیا ہے۔ جیسا کہ مادہ پرست لوگوں کا حال ہے کہ ان کا جینا مرنا سب کچھ اسی دنیائے دوں اور اس کے متاع فانی کے لئے ہے اور بس۔ آخرت کے لئے وہ سوچتے ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو مادیت سے آگے بڑھ کر روحانیت اور آخرت کے لئے سوچ و فکر تو رکھتے ہیں مگر وہ حق کی روشنی سے محروم ہونے کے باعث طرح طرح کے اندھیروں میں غوطے کھا رہے ہیں۔ جیسے راھب، جوگی اور پنڈت، پادری وغیرہ کہ اپنے طور پر یہ لوگ بھی آخرت کو مانتے اور اس کے لئے محنت و مشقت کرتے ہیں۔ چناچہ وہ چلے کاٹتے، طرح طرح کی ریاضتیں کرتے، مشقتیں اٹھاتے، بھوکے پیاسے رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر آخرت میں ان کو اس کا کچھ بھی اجر وثواب ملنے والا نہیں۔ کیونکہ وہ صحیح ایمان و یقین کے نور اور حق و ہدایت کی دولت سے محروم تھے اور محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ حضرت عمر فاروق ۔ ؓ ۔ جب اپنے دور خلافت میں شام تشریف لے گئے تو وہاں آپ ؓ نے ایک ایسے بوڑھے راہب کو دیکھا جس کا جسم طرح طرح کی ریاضتوں، مشقتوں اور چلہ کشیوں کی وجہ سے سوکھ کر لکڑی بن چکا تھا۔ تو اس کو دیکھ کر آپ ؓ کی آنکھوں میں اس کی اس بےمقصد اور بےفائدہ ریاضت و مشقت سے آنسو آگئے اور آپ نے اس موقع پر یہ آیات کریمہ تلاوت فرمائیں ۔ { وَجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ، عَامِلَۃٌ نَاصِبَۃٌ، تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ، تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ } ۔ (الغاشیہ : 2- 5) ۔ سو سلامتی اور نجات کی راہ ایک اور صرف ایک ہے کہ آخرت کے لئے فکر و کوشش ہو اور حق و ہدایت کی اس روشنی میں ہو جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کی راہنمائی کے لئے اپنے پیغمبروں کے ذریعے نازل فرمائی ہے۔ اور جو اب اپنی کامل، آخری اور دائمی شکل میں قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی ۔ انشاء اللہ العزیز۔ اس کے سوا نجات کی دوسری کوئی راہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ سو جن لوگوں نے حق و ہدایت کی اس شاہراہ اعظم کو چھوڑ کر کسی اور راہ کو اپنایا وہ سراسر خسارے اور ٹوٹے میں ہیں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ اسی لئے جو لوگ دین حق میں اپنی طرف سے مختلف قسم کی بدعات کا اضافہ کرتے ہیں وہ سب نصوص صریحہ کے مطابق باطل و مردود ہے۔ ان کو اس طرح کرنے والے ایسے اہل بدعت کے مونہوں پر مارا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ خواہ وہ عشق و محبت کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ نبی ٔ اکرم ﷺ کا صاف وصریح ارشاد گرامی ہے " مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ " یعنی جو ہمارے دین میں کوئی ایسی بات شامل کرے گا جو اس میں ثابت نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ (اور اس کو اس کے منہ پر مارا جائے گا) ۔ والعیاذ باللہ ۔ خلاصہ یہ کہ بڑے خسارے میں ہیں وہ مادہ پرست لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس دنیا ہی دنیا ہے۔ جس کو یہ مل گئی اس کو سب کچھ مل گیا۔ اس لئے وہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی طرح وہ لوگ بھی سخت خسارے اور گھاٹے میں ہیں جو آخرت کے لئے عمل تو کرتے ہیں مگر وحی کی روشنی اور پیغمبر کی اتباع کے بغیر کرتے ہیں جس سے وہ زندگی بھر طرح طرح کی محنتیں کرنے کے باوجود آخرت میں محرومی و ناکامی کے اسی انجام سے دو چار ہوں گے جس سے حق و ہدایت کے نور سے محروم دوسرے منکر لوگ دو چار ہوئے۔ جیسے راھب، پنڈت، جوگی اور بدعتی چلہ کش وغیرہ۔ پس سلامتی اور کامیابی کی راہ ایک اور صرف ایک ہے کہ آخرت کے لئے تیاری کی جائے اور ضرور کی جائے۔ لیکن قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں کی جائے ۔ واللہ الموفق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 150 برائی کو اچھائی سمجھنا محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ان سب سے بڑے خسارے والوں کی مزید توصیف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ غلط کار ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک کررہے ہیں "۔ جس کے باعث وہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اپنی بری اور غلط روش ان کو اچھی نظر آتی ہے۔ اپنے باطل کو وہ حق اور اچھا سمجھتے ہیں اور عمر رواں کی متاع عزیز کو وہ اسی غلط روی میں ضائع کردیتے ہیں۔ اور ان کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم اپنا کوئی نقصان کر رہے ہیں۔ اور یہ سب سے بڑا خسارہ و نقصان ہے ۔ وائے ناکامی متاع کاروں جاتا رہا ۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ۔ پس اپنی برائی کو اچھائی سمجھنا بہت بڑی ناکامی اور خرابی کی جڑ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہ سُوْئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا } ۔ (فاطر : 8) یعنی کیا اس شخص کی محرومی اور بدبختی کا کوئی ٹھکانا ہوسکتا ہے جس کے لیے اس کے برے عمل کو خوشنما بنادیا جائے جس سے وہ اس کو اچھا سمجھنے لگے۔ سو برائی کو اچھائی سمجھنا قدرت کی طرف سے ایک عذاب اور نقد سزا ہے جو ایسے بہکے بھٹکے لوگوں کو ان کے اپنے سوئِ اختیار اور خبث باطن کی بناء پر ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کے ہر انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 18:105–107

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کردیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کے حضور پیشی کا جس کے نتیجے میں اکارت چلے گئے ان کے سب عمل، پس ان کے لیے ہم قیامت کے روز قائم نہ کریں گے کسی طرح کا کوئی وزن۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ ہے ان کی جزا جہنم، اس کفر کے سبب جو وہ کرتے رہے تھے اور اس مذاق کے عوض جو وہ میری آیتوں اور میرے رسولوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے تھے3

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

اس کے برعکس بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ کام بھی نیک کرتے رہے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے وہ باغ ہوں گے

151 کافروں کے عمل بےوزن اور بےحقیقت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ کافروں کے کسی بھی عمل کا آخرت میں کوئی وزن نہیں ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز ایسے لوگوں کیلئے کوئی وزن نہیں قائم کیا جائے گا "۔ کیونکہ ان کے نیک عمل جب سب اکارت چلے گئے تو پھر وزن ہو تو کس کا ؟ سو ان کے وہ اعمال جن کو یہ لوگ اپنے زعم اور گمان کے مطابق بہت کچھ سمجھتے تھے اور ان پر ان کو بڑا ناز ہوا کرتا تھا، ان کا وہاں پر سرے سے کوئی وزن ہوگا ہی نہیں۔ کیونکہ وزن ہوتا ہے ایمان و اخلاص سے اور اس سے یہ لوگ عاری اور خالی تھے۔ آخرت پر ان لوگوں کا سرے سے ایمان و یقین ہی نہیں تھا۔ یا اگر کچھ تھا بھی تو ان کے اپنے زعم و گمان کے مطابق تھا۔ اور وہ نہ معتبر ہے اور نہ ہی اس کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر و قیمت ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں وہی ایمان معتبر ہوسکتا ہے اور قدر و قیمت اس کی ہوسکتی ہے جو اس کی رضا کے مطابق اور اس کی شرطوں پر ہو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو ایسے ابنائے کفر و باطل اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور بڑی چیز قرار دیتے ہیں لیکن قیامت کے روز ہم ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے کہ انہوں نے اپنے کبر و غرور میں مبتلا ہو کر ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور ہمارے رسولوں کا مذاق اڑایا اور دنیائے فانی کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو انہوں نے اپنا مطمح نظر اور مقصد زندگی بنا لیا۔ جس کی نتیجے میں وہاں ان کے لیے دوزخ ہی کا ٹھکانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی بھی نہیں چاہے گا1

152 اہل جنت کبھی وہاں اکتائیں گے نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا کبھی وہاں سے کہیں جانے کو جی نہیں چاہے گا "۔ کیونکہ نہ تو اس سے بہتر دوسرا کوئی مقام ان کے تصور میں ہوگا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ اور نہ ہی وہاں کی نعمتوں سے بڑھ کر کسی اور نعمت کا وہ سوچ بھی سکیں گے۔ سو خلود و دوام اور دائمی آرام و راحت جنت کی ایک ایسی ممتاز اور منفرد نعمت ہوگی جس کا اور کہیں پایا جانا ممکن نہیں۔ کیونکہ دنیا کی ہر نعمت اور خود دنیا ساری عارضی اور فانی ہے۔ نہ اس کی کوئی نعمت دائمی ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والا کوئی شخص۔ بلکہ یہاں کی ہر نعمت بھی فانی اور ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والا ہر انسان بھی فانی۔ جبکہ جنت خود بھی ابدی اور دائمی ہوگی اور اس کی تمام نعمتیں بھی۔ نہ اہل جنت کو وہاں سے کبھی نکالا جائے گا اور نہ ہی کبھی خود ان کا وہاں سے نکلنے کو دل چاہے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ سو اس سے ان خوش نصیبوں کا صلہ وانجام بیان فرمایا گیا ہے جو ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز و مالامال رہے ہوں گے کہ ان کے لیے فردوس بریں کی مہمانی تیار ہوگی جس میں وہ ہمیشہ رہنے کے باوجود کبھی اکتائیں گے نہیں۔ اس میں ان کے مراتب و درجات بھی ہمیشہ بلند ہوتے رہیں گے اور وہاں ان کے لیے نعمتیں بھی ان کی خواہشوں کے مطابق برابر بدلتی رہیں گی۔ اس لیے وہ ان کو چھوڑ کر اور کہیں جانے کی کبھی خواہش نہیں کریں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم اور اپنی رحمت و عنایت سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہو ان ابنائے دنیا سے کہ میرے رب کی شان یہ ہے کہ اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر سیاہی بن جائے تو یقینا وہ ختم ہوجائے قبل اس سے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہونے کو آئیں، اگرچہ اس کی مدد کے لیے ہم ایسا ہی ایک اور سمندر لے آئیں۔

153 کلمات رب سے مراد ؟ : یعنی اس کے علم، قدرت اور حکمت کی باتیں۔ (روح، ابن کثیر، جامع، مدارک، معارف وغیرہ) ۔ سو اگر سمندر کا سارا پانی سیاہی بن جائے اور زمین میں پائے جانے والے تمام درخت قلمیں بن جائیں اور میرے رب کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت کی باتیں لکھنا شروع کردیں تو یہ سب سمندر ختم ہوجائیں گے اگرچہ اسی جیسا ایک اور بلکہ سات سمندر اور لے آئیں۔ لیکن میرے رب کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوں گے کہ یہ سب کچھ محدود ہے اور میرے رب کے کلمات لامحدود ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کلمات رب سے مراد اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی قدرت و حکمت کی وہ عظیم الشان نشانیاں ہیں جو اس کی اس حکمتوں اور عبرتوں بھری کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری موجود ہیں اور آفاق وانفس سب میں پائی جاتی ہیں۔ سو کیسے ظالم اور کس قدر احمق وبے خبر ہیں وہ لوگ جو دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں جبکہ اس کی عظمت وشان اتنی بڑی اور اس قدر بےمثال ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا بکل حال من الاحوال وفی کل موطل من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام - 154 رب کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوسکتے : سو پیغمبر کی زبان سے کہلوایا گیا کہ " میرے رب کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوں گے "۔ کیونکہ سمندر اگرچہ ایک چھوڑ کئی ہی کیوں نہ ہوں وہ بہرحال محدود ہیں۔ جبکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے کلمات اور اس کی صفات اور اس کے کمالات لامحدود ہیں۔ تو پھر محدود کے لئے لا محدود کا احاطہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَزِدْنَا اَللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَیَقِیْنًا وَمَعْرِفَۃً وعِلْمًا وَحُبًّا فِیْکَ وَخُضُوْعًا لَّکَ وَعَبُوْدِیَّۃً یَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ وَ یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ جو اس معبود برحق کو چھوڑ کر دوسرے طرح طرح کے خودساختہ اور فرضی معبودوں کو پوجتے پکارتے ہیں وہ کتنے ظالم، کس قدر بےانصاف اور کیسے بدبخت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد عالی سے ان منکروں کے بارے میں پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی ہے جو قرآن حکیم کی آیات کریمات کا انکار کرتے اور پیغمبر سے ظاہری اور حسی معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ ان سے کہو اگر تم لوگ نشانیاں مانگتے ہو تو یہ کائنات اس خالق ومالک کی عظیم الشان نشانیوں سے بھری پڑی ہے جن کو قلمبند کرنے کے لیے سمندر بلکہ ساتوں سمندروں کی روشنائی اور زمین بھر کے درختوں کی قلمیں بھی ناکافی ہیں۔ اور اس بات میں ذرہ برابر کوئی مبالغہ نہیں بلکہ یہ سراسر حق اور حقیقت کا بیان ہے۔ لیکن یہ نشانیاں نظر انہی لوگوں کو آتی ہیں جن کے پاس آنکھیں ہوں۔ اور جو اندھے اور اوندھے بن جائیں ان کی آنکھیں کسی طرح نہیں کھل سکتیں ۔ والعیاذ باللہ -