18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 18:25–27

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنی غار میں رہے تین سو برس، اور نو برس مزید برآں،

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے، اسی کے لئے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا کیا ہی خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے وہ (اپنی مخلوق کے احوال کو) ان کے لئے اس کے سوا نہ کوئی حمایتی (و کارساز) ہے اور نہ ہی وہ اپنے حکم میں شریک کرتا ہے کسی کو،1

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور پڑھتے (اور سناتے) جاؤ (اے پیغمبر ! ) اس وحی کو جو بھیجی گئی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، کوئی نہیں جو بدل سکے اس کے فرمودات کو، اور (اگر آپ نے کسی کی خاطر اس میں کوئی کمی و بیشی کردی تو) آپ اس کے سوا ہرگز کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکو گے،

47۔ غار میں بقاء کی مدت کے بارے میں ارشاد :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اس غار میں تین سو برس رہے اور نو مزید برآں یعنی شمسی حساب سے یہ مدت پورے تین سو سال بنتی تھی، اور قمری حساب سے تین سو نو سال، سو یہ فرق شمسی اور قمری حساب کے فرق پر مبنی ہے، کیونکہ عربوں کے یہاں قمری حساب کا رواج تھا، جب کہ یہود کے یہاں شمسی حساب کا، جو کہ اصل میں آنحضرت ﷺ سے اس سوال کے محرک تھے، اور قمری حساب سے ہر سو سال شمسی سال کے مقابلے میں تین سال زیادہ بنتا ہے اور اس طرح اس فرق کا اظہار وبیان آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ قرار پاتا ہے، کہ آپ ﷺ نے صدیوں پہلے کہ اس واقعہ کو اس باریکی سے بیان فرما دیا، حالانکہ آپ نے نہ کبھی کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا تھا، اور نہ کبھی کسی کتاب کا مطالعہ فرمایا تھا، بلکہ آپ ﷺ کی صفت ہی نبی امی تھی اور ہے، کہ آپ ﷺ نے زندگی بھر کبھی کسی سے کچھ سیکھا پڑھا نہیں تھا، مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے دنیا کو علوم و معارف کے ان خزانوں سے نوازا جن کو کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد قیامت تک، تو اس طرح اصحاب کہف کے بارے میں آپ ﷺ کا یہ بیان بھی ایک مستقل معجزہ قرار پاتا ہے، جیسا کہ تفسیر المراغی میں لکھا ہے، جب کہ علامہ شام علامہ جمال الدین القاسمی وغیرہ حضرات کا کہنا ہے کہ یہ فرق شمسی اور قمری حساب کا نہیں، بلکہ یہ مطلق بیان ہے ان کی مدت لبث ورقاد کا، اور یہ اسلوب بیان فواصل اور رؤس آیات کی بناء پر اختیار فرمایا گیا ہے۔ (تفسیر القاسمی) بہرکیف ان دونوں صورتوں میں یہ تفسیر اس آیت کریمہ کی تفسیر کے ایک ہی احتمال کا بیان ہے کہ، تین سو نو سال کی یہ مدت حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے بیان فرمائی گئی ہے، یہی ابن جریر وغیرہ کا اختیار اور جمہورکا قول ہے، جب کہ دوسرا قول اس ضمن میں قتادہ وغیرہ حضرات کا ہے کہ یہ بیان دراصل حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے نہیں بلکہ یہ منجلہ اقوال اہل کتاب کے ہے، اسی قول کو ہمارے دور کے بعض حضرات نے اپنی تفسیر میں پیش کیا ہے لیکن اس کو پیش انہوں نے اس طرح کیا ہے کہ گویا کہ یہ انہی کا قول ہے، ان سے پہلے کسی نے بھی ایسا نہیں کیا، تاکہ اس سے ان کی انفرادیت کا تاثر ملے، حالانکہ یہ قول سلف سے بھی منقول ہے، بہرکیف اس میں سلف کے یہ اقوال پائے جاتے ہیں ، (ابن جریر، ابن کثیر، الصفوہ، وغیرہ) والعلم عند اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور روکے رکھو اپنے آپ کو ان (بندگان صدق و صفا) کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام، اس کی رضا چاہتے ہوئے اور ہٹنے نہ پائیں آپ کی نگاہیں ان سے دنیاوی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے، اور کبھی کان نہ دھرنا کسی ایسے شخص کی (چکنی چپڑی) باتوں پر جس کے دل کو ہم نے غافل کردیا ہو اپنی یاد (دلشاد) سے، (اس کے سواء اختیارات بد کی بناء پر) ، اور وہ پیچھے لگ گیا ہو اپنی خواہشات کے، اور اس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہو،2

53۔ اپنے آپ کو اہل صدق وصفا کے ساتھ روکے رکھنے کی ہدایت :۔ کہ تمہارے رب کے یہاں اصل قدروقیمت اس ایمان و یقین اور صدق و اخلاص ہی کی ہے جس سے یہ فقراء و مساکین بہرہ ور ہیں، اور اس دنیاوی مال و متاع اور اس کی چمک دمک کی اس کے یہاں کوئی حقیقت و حیثیت ہی نہیں، چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے آپ کو ہمیشہ ایسے مخلص اور فقراء صحابہ کرام کے ساتھ روکے رکھا، حضرت ابو سعید ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ تشریف فرما تھے جبکہ ایک آدمی سورة حجر اور سورة کہف کی تلاوت کررہا تھا تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے، پھر فرمایا کہ ایسے ہی لوگوں کی مجلس کے بارے میں مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ، (ابن کثیر، فتح القدیر اور مراغی وغیرہ) 54۔ ذکر خداوندی سے محروم لوگوں کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت، اور ابناء دنیا کی دنیا پرستی کے کچھ نمونے :۔ اس کی اپنی بدنیتی اور خبث باطنی کی وجہ سے روایت میں ہے کہ کفار قریظ کے کچھ سرداروں نے آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے خاص مجلس رکھی جائے جس میں حضرت عمار ؓ حضرت صہیب ؓ اور بلال ؓ جیسے فقراء صحابہ نہ بیٹھا کریں، کہ ان مساکین وفقراء کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہماری شان کیخلاف ہے تو رحمت عالم کے قلب طاہر ونقی میں خیال پیدا ہوا کہ اگر اس طرح کرنے سے یہ صنادید قریش اسلام کے حلقہ میں داخل ہو کر نارجحیم سے بچ جاتے ہیں، اور دعوت حق کو بھی اس طرح تقویت مل جاتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے کہ ان کے اس مطالبے کو مان لیا جائے، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو اس سے منع فرما دیا گیا (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، روح قرطبی، مراغی اور فتح القدیر وغیرہ) اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اس بارے خود اپنا قصہ سناتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، میں، ابن مسعود، بلال، ایک آدمی بنو ہذیل کا اور دو شخص جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے، تو مشرکوں نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے سے دور کردو تاکہ یہ ہمارے مقابلے میں بیٹھنے کی جرات نہ کرسیں، تو اس سے آنحضرت ﷺ کے دل میں جو خیال پیدا ہونا تھا وہ پیدا ہوا تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں آپ ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی گئی ، (مسلم، کتاب فضائل الصحابتہ) (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی، المعارف، وغیرہ) سو اس قصہ سے چند اہم حقائق واضح ہوجاتے ہیں اور عظیم الشان درس ملتے ہیں، پہلا یہ کہ ابناء دنیا کے یہاں اصل چیز یہی دنیا اور اس کا متاع فانی ہے، اور ان کی نظروں میں اصل قدروقیمت اسی متاع غرور کی ہے اور بس، سو جس کے پاس دنیاوی مال ودولت کی چکا چوند ہوگی، وہی ان کے یہاں سب کچھ ہے، اگرچہ اپنے باطن اور حقیقت کے اعتبار سے، ایسے لوگ کفر وباطل اور ضلالت و گمراہی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ہی ڈوبے ہوئے کیوں نہ ہوں، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جیسا کہ مشرکین مکہ کے اس کافرانہ مطالبہ سے ظاہر وواضح ہے، اور جیسا کہ اس سے بھی ہزاروں برس قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کفار ناہنجار نے آپ سے یہی مطالبہ کیا تھا انؤمن لک واتبعک الارذلون، (الشعرائ : 111) (کیا ہم آپ کی بات مان لیں جب کہ تمہاری پیروی کرنے والے سب سے رزیل اور گھٹیا لوگ ہیں) اور آج بھی عامۃ الناس کا یہ حال ہے کہ ایک رقاص ومغنی اور ڈانسر کی ان کے یہاں جو پذیرائی اور تعظیم و تکریم ہوگی وہ ایک بڑے سے بڑے عالم دین کی بھی نہیں ہوگی، یہاں تک یہ اس ضمن میں ان کے یہاں دین و ایمان کی قدروقیمت بھی ثانوی درجے کی ہو کر رہ جائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کی تازہ مثال انگلستان کی لیڈی ڈایانا، اور ہندوستان کی مدرٹریسا کی موت کی صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہے، ان دونوں کی موت اسی ہفتہ عشرہ میں ہوئی جب کہ راقم آثم یہ سطور تحریر کررہا ہے کہ آج دنیا ساری میں ان دونوں کی موت اور ان کی زندگی کا چرچا ہے، جس میں مسلمانوں کا بھی یہ حال ہے کہ وہ دوسرے غیر مسلموں کے برابر، بلکہ بعض جگہوں میں ان سے بھی بڑھ کر سوگ منا رہے ہیں، حالانکہ یہ دونوں دو غیر مسلم عورتیں تھیں اور ایمان سے محرومی ہی کہ حالت میں ان کی موت آئی، اور مزید یہ کہ ان میں سے پہلی خاتون کی موت تو فرانس کے ایک بڑے اونچے درجے کے پر تعیش ہوٹل میں اپنے بعض دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کے بعد اور اسی کے نتیجے میں ایک حادثے کے ذریعے ہوئی، اور اس طور پر ہوئی کہ اگر کسی غیرت مند شخص کی کسی عزیزہ کی موت اس طرح ہوجاتی تو وہ اپنی غیرت کے باعث اور شرم کے مارے کسی کے سامنے سرنہ اٹھا سکتا۔ مگر یہاں اس کے برعکس اس فاحشہ عورت کو اس قدرتپاک سے رخصت کیا گیا جس طرح کسی قومی ہیروکو بھی نہیں کیا جاتا، جب کہ ان میں سے دوسری عورت باقاعدہ طور پر کلیسا کی پجارن اور مشیزی خدمت گار کارکن اور عیسائیوں کی راہبہ اور عیسائیت کی بڑی موثر پرچارک تھی، مگر ایک دنیا ہے اور خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے کہ ان سب باتوں کو بھول کر اور ان کو پس پشت ڈال کر وہ ان دونوں عورتوں کے سوگ میں شریک ہے کہ ان سب کے یہاں اصل چیز دنیا اور اس کے مادی منافع اور مظاہر ہیں اور بس۔ والعیاذ باللہ، سو قرآن حکیم نے اپنے اس ارشاد حق وصدق سے یہ بتا کر واضح کردیا کہ اصل چیز یہ مادی فوائد و منافع اور حطام دنیا نہیں، بلکہ ایمان و یقین کا وہ نور ہے جو انسان کے باطن کو روشن کرتا ہے اور اسے جلا بخشتا ہے، اور اصل چیز حق و ہدایت اور صدق و اخلاص کی وہ دولت ہے جو انسان کو عظیم مرتبہ اور شان بخشی اور اسے حضرت خالق جل مجدہ، اور اس کی مخلوق کے یہاں محبوب بناتی ہے، دوسری اہم بات جو اس آیت کریمہ سے ثابت اور واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں اور جیسا چاہیں کریں، ورنہ آنحضرت ﷺ کو اپنے اس ارادہ کو رو بعمل لانے سے اس طرح منع نہ فرمایا جاتا، سو پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس وحی کا تابع اور پیرو و پابند ہوتا ہے جو اس کی طرف اس کے رب کی طرف سے بھیجی جاتی ہے اور قرآن حکیم میں اس حقیقت کی جابجا توضیح و تصریح فرمائی گئی ہے، اور پیغمبر کو اس حقیقت کے اعلان واظہار کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، کہ کہو کہ میرا کام تو صرف پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف میرے رب کی جانب سے بھیجی جاتی ہے اور بس قل انمآاتبع مایوحی الی من ربی الآیۃ ، (الاعراف : 203) نیز ملاحظہ ہو سورة انعام آیت نمبر 50 اور نمبر 52، یونس آیت نمبر 10، اور الاحقاف آیت نمبر 99، کہ ان تمام آیات کریمہ میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ پیغمبر کا کام صرف پیروی کرنا ہوتا ہے، اس وحی کی وجہ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے بھیجی جاتی ہے اور بس ،۔ مگر اس سب باوجود اہل بدعت اور ان کے بڑوں کا کہنا ہے کہ نہیں ! پیغمبر مختار کل ہوتا ہے جو چاہے کرے، وغیرہ وغیرہ ،۔ والعیاذ باللہ العظیم فالی اللہ المشتکی وھو المستعان، تیسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ دنیاوی مال ومنال اور جاہ جلال بالعموم انسان کیلئے نور حق و ہدایت سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس سے تنگ ظرف انسان کے اندر تکبر پیدا ہوتا ہے جس سے وہ حق کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہیں ہوتا، اور اس کو وہ اپنے لئے کسر شان سمجھتا ہے، اور اس طرح وہ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر دنیا وآخرت کے اس خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے، جو کہ خسران مبین ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے دین حنیف نے تواضع اور عاجزی کی تعلیم دی، حضرت نبی معصوم علیہ الصلوۃ السلام نے اپنے لئے مسکینی کی دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! مجھے زندگی دے مسکینوں والی اور موت دے مسکینوں والی اور موت دے مسکینی کی حالت میں اور میرا حشر فرما مسکینوں کے زمرے میں اللہم احینی مسکینا وامتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المساکین صلوات اللہ وسلامہ علیہ، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کیلئے تواضع اور عاجزی اختیار کی اللہ تعالیٰ نے اس کو رفعت و بلندی سے نوازدیا، من تواضع للہ رفعہ اللہ، سوتواضع اور عاجزی ہی بندے کے لائق ہے اور اسی میں اس کی عظمت شان اور رفعت مقام ہے، عظمت وکبریائی اللہ پاک ہی کے لائق اور اسی کے شایان شان ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور (ان سے صاف) کہہ دو کہ حق تمہارے رب ہی کی طرف سے ہے، سو جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرے (ہمارا نہ کوئی نفع نہ نقصان، پر یہ واضح رہے کہ) ہم نے یقیناً تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لئے ایک ایسی ہولناک آگ، جس کی لپیٹوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، اور اگر یہ (پیاس کے مارے) پانی مانگیں گے تو ان کی تواضع ایک ایسے پانی سے کی جائے گی جو (بدشکل میں تو) تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا (مگر کھولتا ہوا گرم اس قدر ہوگا کہ) بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو، کیسا برا پانی ہوگا وہ، اور کیسی بری رہائش گاہ ہوگی وہ،

55۔ حق رب ہی کی طرف سے مل سکتا ہے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ حق تمہارے رب ہی کی طرف سے ہے اور بس “۔ اور جو ہمارے ذریعے تمہارے پاس پہنچ چکا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی مرضی، لیکن حق بہرکیف یہی اور صرف یہی ہے۔ جس سے محرومی ہر محرومی سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ نور حق کی اس عظیم الشان روشنی سے محرومی کے بعد اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح ان لوگوں کو آخری جواب دے دیا گیا کہ حق تمہارے رب کی طرف سے آگیا اور تم لوگوں کو پہنچا بھی دیا گیا، اب کسی کے کفر و ایمان کی ذمہ داری ہم پر نہیں۔ اب جس کا جی چاہے ایمان لا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے اور جس کا جی چاہے کفر وانکار کی راہ کو اپنا کر اپنے آپ کو دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا مستحق بنالے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، 56۔ کافر ومنکر لوگ آتش دوزخ کے گھرے میں۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ظالموں کیلئے ہم نے ایسی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی فناتوں اور لپٹوں نے انکو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ جیسا کہ دیواریں اپنے اندر والوں کو گھیرے میں لئے ہوتی ہیں۔ سو اسی طرح کفر و شرک کے مارے ان بدبختوں کو دوزخ کی ہولناک آگ کے شعلوں اور اس کی لپٹوں نے اپنے احاطے اور گھیرے میں لے رکھا ہے۔ مگر دنیوی زندگی کی اس امتحان گاہ میں ایسے حقائق پر جو پردہ پڑا ہوا ہے اس کی بناء پر آج ان کو یہ آگ اور اس کی یہ لپٹیں نظر نہیں آرہیں۔ مشاہدہ اور کشف حقائق کے اس جہاں میں کل جب ایسے تمام حقائق ننگے ہو کر اپنی اصل شکل میں ان کے سامنے آجائیں گے تو تب ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا اور اپنے مآل وانجام کا پتہ انکو خود لگ جائے گا، اس وقت مارے افسوس کے یہ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے عالم غیب سے تعلق رکھنے والے ان حقائق کو ان کے سامنے اس طرح آشکارا فرمادیا تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا اور کف افسوس ملنا پڑجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 57۔ بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا دوزخیوں کا ،۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” بڑی ہی بری ہوگی دوزخ کی وہ رہائش گاہ جس میں ان لوگوں کو رہنا ہوگا “۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، اور اتنی بری کہ الفاظ کے احاطہ سے باہر ہے۔ پس کتنے ہی محروم اور کیسے ہی بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی آخرت اور اپنے انجام کو بھول کر اور حق سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کو اور ان کے عارضی متاع اور فانی فائدوں کو مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں اور وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ، اور وہ کفر والحاد اور شرک وبے دینی کے مہیت اندھیروں میں ڈوبے اسی ہولناک انجام کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔” مہل “ پگھلے ہوئے تانبے کو کہتے ہیں۔ یہاں اس لفظ کے استعمال سے اس پانی کی حدت اور شدت کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔ سو وہ نہایت ہی کھولتا ہوا پانی ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اس کے برعکس) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے (ان کے لئے بڑا ہی عمدہ اجر ہے کہ) بیشک ہم کسی بھی ایسے شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جس نے اچھی طرح کام کیا ہوگا،1

58۔ اللہ پاک کسی نیکوکار کے اجر کو ضائع نہیں کرتا :۔ یعنی کسی ایسے مومن شخص کے عمل کو جس کی نیت و ارادہ بھی نیک اور درست ہو کہ وہ جو کچھ کرے اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے کرے۔ اور طریقہ بھی صحیح ہو کہ اس کا عمل اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات کے مطابق ہو۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین ! سو ایسے خوش نصیبوں کو وہ رب غفور وشکور ان کے پورے پورے اجروثواب سے نوازے کا۔ ان کی کسی طرح کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی۔ بلکہ وہ انکو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا۔ سو منکرین و مکذبین کے انجام کو بیان کرنے کے انجام کو بیان کرنے بعد اب اس ارشاد سے ان خوش نصیبوں کے انجام کو بیان فرمایا گیا ہے جنہوں نے حکیم کی دعوت پر لبیک کہا اروہ صدق دل سے ایمان لانے کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ابنائے دنیا تو ایسے مخلصوں کو ان کی مفلوک الحالی کی بناء پر کچھ نہیں سمجھتے اور ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ حضرات ایسی عظمت شان کے مالک ہیں کہ ان کے ایمان و اخلاص کے مطابق ان کو آخرت کے اس ابدی جہاں اور وہاں کی حقیقی اور دائمی زندگی میں ان خوش نصیبوں کو ایسے ایسے عظیم الشان اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ وباللہ التوفیق ولہ الحمد والشکر جل وعلا۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے (خوش نصیب) لوگوں کیلئے سدا بہار جنتیں ہوں گی ان کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں، ان کو وہاں پر پہنائے جائیں گے کنگن سونے کے، اور سبز رنگ کے لباس باریک اور دبیز ریشم کے، (نہایت سکون و اطمینان سے) تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، یہ وہاں پر اونچی (اور عالی شان) مسندوں پر، کیا ہی خوب بدلہ ہوگا وہ، اور کیسی ہی عمدہ آرام گاہ ہوگی وہ،2

59۔ اہل جنت کو ملنے والے شاہانہ انعامات میں سے کچھ کا تذکرہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے ایسی سدا بہار جنتیں ہونگی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں۔ ان کو وہاں پر کنگن پہنائے جائینگے، سونے کے اور وہ سبز رنگ کے لباس پہنے ہوں گے باریک اور دبیز ریشم کے، جو علامت ہوگی بڑے اعزازو اکرام کی کہ دنیا میں یہ چیز بڑے بڑے بادشاہوں کیلئے خاص ہوا کرتی تھی۔ سو جنت کے باسیوں کو ایسی شاہانہ زندگی نصیب ہوگی کہ اس کے سامنے دنیاوی بادشاہوں کی بادشاہتیں بھی ہیچ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین ! سو ابنائے دنیا تو اپنے مال ودولت اور دنیائے دوں کے ظاہری ٹھاٹھ باٹھ اور اپنے فانی سامان عیش و عشرت کی بناء پر مست و مغرور ہیں اور اپنے کبرو و غرور کی بناء پر ایسے بندگان صدق وصفا کو ان کی غربت وافلاس کی بناء پر کچھ نہیں سمجھتے لیکن ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی جس متاع گراں مایہ سے یہ فقراء و مساکین متمتع ومالا مال ہیں اس کی بناء پر اور اس کے نتیجے میں ان کو آخرت کے اس ابدی جہاں اور وہاں کی حقیقی زندگی میں ایسی ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے نوازا جائے گا جن کے سامنے اس دنیائے دوں کے بادشاہوں کی بادشاہتیں بھی ہیچ ہیں۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ! 60۔ اہل جنت کے سکون واطمینان اور آرام وراحت کا نقشہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اونچی اور عالیشان مسندوں پر “۔ جو نشانی ہوگی ان کے سکون واطمینان کی۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا سکون واطمینان اور کہیں اور کسی اور صورت میں ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین ! یا رب العالمین۔ سو جنہوں نے دنیا کی یہ عارضی فانی اور مختصر و محدود زندگی اپنے رب کی رضا و خوشنودی کی طلب وتلاش میں گذاری ہوگی انکو وہاں پر ایسی ابدی بادشاہی نصیب ہوگی۔ وباللہ التوفیق۔ سو اصل دولت وہ نہیں جس پر ابنائے دنیا مست و مغرور ہیں بلکہ اصل دولت ایمان و یقین کی وہ مقدس دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے اور جس کے نتیجے میں وہ سدا بہار جنتوں اور وہاں کی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین۔ 61۔ کیا ہی خوب بدلہ اور کیسی عمدہ آرام گاہ ہوگی وہ ؟:۔ وہ جس سے ان اصحاب ایمان و یقین کو سرفراز کیا جائے گا اور جس کے سامنے دنیائے فانی کی سب لذتیں اور نعمتیں ہیچ ہیں اللہم اجعلنا من اہلھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اہل جنت کے اعمال کا پورا بدلہ اور ثواب ہوگا جس سے حق تعالیٰ شانہ اپنے کرم بےپایاں سے ان کو نوازے گا۔ سو جنت ہوگی تو خاص اللہ کی رحمت و عنایت لیکن اس کا سبب انسان کا اپنا ایمان وعمل ہی ہوگا۔ واضح رہے کہ جنت اور دوزخ سے متعلق یہ احوال ان غیبی حقائق میں سے ہیں جن کو اس جہان رنگ وبو میں اور محسوسات تک ہی رسائی رکھنے والی عقل وخرد کیلئے پوری طرح سمجھنا ناممکن نہیں کہ ان کا تعلق ان متشابہات سے ہے جو عقل نارسا کی حدود سے باہر اور وراء الوراء ہیں۔ قرآن حکیم اپنی تمثیلات و تشبیہات کے ذریعے اس عالم نادیدہ کے ان عـظیم الشان احوال کو انسانی عقل اور اس کے فہم و ادراک کے قریب لانا چاہتا ہے اور ان تمثیلات و تشبیہات میں بھی قرآن حکیم بنیادی طور پر اہل عرب کی معلومات اور ان ہی کے ذوق کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس کے اولین مخاطب وہی لوگ تھے اور ہیں اور تشبیہ و تمثیل میں موثر وہی چیزیں ہوسکتی ہیں جن سے مخاطب واقف اور مانوس ہوں۔ سو ان تمثیلات و تشبیہات سے مقصود اصل میں تقریب الی الافہام ہے اور بس۔ رہ گئے ان کے اصل مفاہیم ومصادیق تو ان کو پوری طرح اس دنیا میں سمجھنا کسی کیلئے ممکن نہیں۔ سو دوزخ کے ” مہل “ یا جنت کے کنگن اور وہاں سندس واستبرق کی اصل حقیقت کو اس دنیا میں سمجھنا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 18:32–33

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور بیان کرو ان (کی عبرت پذیری) کے لئے ایک مثال، کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ دئیے تھے انگوروں کے، اور گھیر دیا تھا ہم نے ان دونوں کو کھجور کی ایک عمدہ باڑ سے، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی (کے قابل زمین) بھی رکھ دی تھی، یہ دونوں باغ خوب پھلے پھولے،

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

اور پھل لانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک نہر بھی جاری کردی تھی،

62۔ عمدہ باغ کی تصویر :۔ سو ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں کی ایک عمدہ باڑھ سے محفوظ کردیا گیا تھا۔ تاکہ اس سے ان کے حسن وجمال میں بھی اضافہ ہو اور سورج ودھوپ کی تپش سے ان کی حفاظت بھی ہو۔ اور عربوں کے یہاں عمدہ باغ کی تعریف یہی تھی کہ انگوروں وغیرہ پھلدار درختوں کا باغ ہو اور اس کے اردا گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگی ہو۔ سو یہ عمدہ باغ کی تصویر کشی ہے۔ سو اس تمثیل سے ابنائے دنیا اور خاص کر کفار قریش و مشرکین مکہ کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا کہ وہ اس میں اپنے حال اور مآل کو دیکھ لیں اور اس سے درس عبرت و بصیرت لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ویا اکرم الاکرمین۔ 63۔ ان دونوں باغوں کی خوبی مزید کا ذکر وبیان :۔ سو ان دونوں باغوں کی خوبی مزید کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اور ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی موجود تھی جس سے اس شخص کو ڈبل فائدہ حاصل ہورہا تھا۔ ایک طرف تو اس کو ان دونوں عمدہ باغوں سے بہترین پھل مل رہے تھے اور دوسری طرف ان کے درمیان سے اس کو طرح طرح کی دوسری مختلف پیداواریں بھی حاصل ہورہی تھیں کہ ان دونوں باغوں کے درمیان مختلف قسم کے چھوٹے زرعی قطعات بھی موجود تھے۔ اور اس طرح وہ باغ نعمت بالائے نعمت کے مصداق بنے ہوئے تھے جس کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے رب کا شکر بھی دوگنا ادا کرتے اور اس طرح کی ان پہ نعمت انکے لئے ذریعہ خیر بن جاتی۔
Ayahs 18:34–35

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس کا کچھ اور بھی مال تھا تو (ایک مرتبہ ترنگ میں آکر) وہ اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میں تجھ سے مال میں بھی بہت زیادہ ہوں، اور جتھے کے اعتبار سے بھی تجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہوں،

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایک مرتبہ اسی نشے میں چور) وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اس حال میں کہ وہ (کبر و غرور سے) خود اپنے ہی اوپر ظلم کر رہا تھا، اور اس نے (تکبر بھرے انداز میں) کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ بھی کبھی برباد ہوجائے گا

66۔ اور اس کیلئے اور مال بھی تھا :۔ یعنی اس شخص کے پاس ان دو باغوں کے علاوہ اور کبھی کئی طرح کا مال تھا اور ثمر کا اطلاق مال پر بھی ہوتا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس انگوروں اور کھجوروں کے علاوہ اور بھی طرح طرح کے پھل تھے۔ حضرات مفسرین کرام نے دونوں مطلب بیان کئے ہیں۔ (روح، ابن کثیر، مراغی، محاسن، وغیرہ ) ۔ بہرکیف اپنے اس مال ودولت کی کثرت کی بناء پر اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تم سے کہیں بہتر ہوں۔ سو رب تعالیٰ کی ایسی نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایسا شخص اپنے رب کے حضور سراپا شکروسپاس بن جاتا اور اپنے ہر بن مو سے اس واہب مطلق کا شکرادا کرتا۔ اور اس طرح وہ نعمت اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی۔ مگر اس نے کفر وانکار اور ناسپاسی کا ارتکاب کرکے اس کو اپنے لئے باعث وبال بنادیا اور اس طرح فوز دارین کی راہ سے منہ موڑ کر اس نے مہالک کے راستے کو اپنایا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین ! 67۔ دنیا دار شخص کے کبر و غرور کا حال :۔ سو اس منکر و متکبر شخص نے اپنے مومن ساتھی کے مقابلے میں اظہار تکبر کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے کے لحاظ سے بھی۔ لہذا میں تم سے بہتر ہوں کہ تم مال میں بھی مجھ سے کم ہو اور جتھا اور پارٹی کے اعتبار سے بھی میرے مقابلے میں کمزرو ہو۔ اور روایات کے مطابق اور محوی کلام الہی کے بموجب اس کے مومن ساتھی نے جب اس کو ازراہ نصیحت و خیرخواہی دین و ایمان کی بات کی۔ اس کو کفران نعمت اور ناشکری کے انجام سے خبردار کیا۔ اور اس کو آخرت اور وہاں کی باز پرس کی یاددہانی کرائی تو اس نے اس کے جواب میں اپنی ترنگ اور تکبر میں اس کو اس طرح جواب دیا اور حق و ہدایت کی بات ماننے اور کلمہ نصیحت و خیرخواہی قبول کرنے کی بجائے اس نے اس سے بحث شروع کردی کہ تم مجھے کیا نصیحت کرسکتے ہو۔ جبکہ تم میرے برابر کے بھی نہیں ہو کہ میرے پاس مال ودولت بھی تم سے زیادہ ہے اور میں جتھا اور پارٹی کے لحاظ سے بھی تم سے کہیں بڑھ کر عزت و عظمت رکھتا ہوں۔ سو میں صحیح راستے پر اور بالکل ٹھیک جارہا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی حال ابناء دنیا کا کل تھا، اور یہی حال انکا آج بھی ہے الا ماشاء اللہ۔
Ayahs 18:36–37

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ ہی یہ ماننے کو تیار ہوں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (وہاں پر) اس سے بھی کہیں بڑھ کر اچھی جگہ پاؤں گا،1

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے (فہمائش اور تنبیہ کے طور پر) اس سے کہا کہ کیا تو اسی ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے پیدا فرمایا مٹی سے، پھر نطفہ سے، پھر تجھے بنا کھڑا کیا ایک صحیح وسالم انسان کے طور پر ؟2

68۔ منکرین کے لئے انکا مال ودولت باعث محرومی و خرابی ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو دنیاوی مال ودولت کا یہ سب سے خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہے کہ منکر شخص اس کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھنے لگتا چناچہ اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ دنیا میں جو مجھے یہ سب کچھ ملا ہوا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ اور میں ہی صحیح طریقے پر ہوں۔ لہذا آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں بھی کامیابی میری ہی ہوگی۔ سودنیاوی مال ودولت کا یہ پہلو سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہوتا ہے کہ بگڑا ہوا انسان اس کی بناء پر باطل پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس بناء پر وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے دور اور محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ حالانکہ اللہ پاک کے یہاں جب اس ساری دنیا کی بھی کوئی حیثیت نہیں تو پھر اس میں سے کسی کو کچھ مل جانے کو حق کی علامت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ، سودنای میں جو بھی کچھ کسی کو ملتا ہے اس کی اصل حیثیت انعام و اکرام کی نہیں ہوتی بلکہ ابتلاء و آزمائش کی ہوتی ہے کہ دنیا ہے ہی دارالعمل ودارالابتلاء۔ جبکہ انعام واحسان اور صلہ وبدلہ کا اصل گھر آخرت ہی ہے مگر دنیا اس اہم بنیادی حقیقت کو سمجھتی نہیں۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

(تو پھر بھی اگر کفر ہی کرتا ہے تو کیا کر باقی) رہا میں، تو میرا رب تو بہر حال وہی اللہ ہے، اور میں اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراتا (کسی بھی حال میں) ،

70۔ مومن صادق کا شرک سے برات و بیزاری کا اعلان :۔ سو اس مومن صادق نے اس منکرومتکبر شخص سے کہا کہ میں تو بہرحال کسی کو بھی اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتا کہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے ہی نہیں۔ اس کے سوا نہ کوئی کچھ دے سکتا ہے نہ چھین سکتا ہے۔ اور وہ جس کو چاہے دے اور جیسے چاہے رکھے صحیح اور درست ہے کہ وہ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔ اور اس کی حکمتوں کا علم و احاطہ بھی خود اسی وحدہ لاشریک کو ہوسکتا ہے۔ تو تجھے اے منکرومتکبر شخص اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی چاہئے تھی اور ” ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ “ کہنا چاہئے تھا۔ تاکہ اس کا حق شکر بھی ادا ہوتا اور تیرے باغ کی آفات وبلیات سے حفاظت بھی ہوتی۔ بہرکیف اس بندہ مومن نے اس منکرومتکبر ساتھی کے سامنے اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کو بھی واضح کردیا کہ ایمان کیلئے صرف خداوند قدوس کو مان لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے سامنے یہ بھی ضروری ہے کہ خدا ہی کو اپنا رب، پروردگار اور آقا ومالک مانا جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کا اقرار کرتا ہے لیکن وہ رب دوسروں کو بھی مانتا ہے تو وہ مشرک ہے اور یہ شرک بھی کفر ہے اور اگر کوئی شخص اپنی دولت وغیرہ پر مغرور ہو کر یہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی اپنی لیاقت و قابلیت کا نتیجہ وثمرہ ہے اور کوئی اس کو اس سے چھین نہیں سکتا تو یہ بھی شرک ہے کہ ایسا شخص اپنے آپ کو خدائی میں شریک سمجھتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ شرک اور اس کے ہر شائبہ سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے، آمین ثم آمین !
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور ایسے کیوں نہ ہوا کہ جب تو داخل ہوا تھا اپنے باغ میں تو تو (دل و جان سے) سے پکار اٹھتا " ماشاء اللّٰہ لاقوۃ الا باللّٰہ " اور اگر تو مجھے اپنے سے کمتر دیکھتا ہے مال اور اولاد کے اعتبار سے،3

71۔ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ کہنے کی تعلیم و تلقین :۔ سو اس بندہ مومن نے اس منکرومتکبر شخص سے کہا کہ اگر تم اکڑتے اور تکبر میں مبتلا ہوتے بلکہ اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنتے۔ اور جب تم میووں سے لدے لدائے اس ہرے بھرے باغ میں داخل ہوتے تو ” ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ کہتے۔ اور اس طرح اس بات کا اقرار و اعتراف کرتے کہ یہ سب کچھ اس رب کریم کا عطیہ واحسان ہے۔ اس کے بغیر کسی کی یہ قوت وطاقت نہیں کہ وہ کچھ بنایا بگاڑ سکے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس ہر نعمت پر انسان کو یہی کہنا چاہئے ” ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ “ کہ اس میں حق اور حقیقت کا اقرار و اعتراف اور ذکر بد سے بھی محفوظ رہتی ہے جیسا کہ حضرت انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ کیونکہ اللہ پاک کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہی ہوتا ہے۔ سو جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ بھی اسی کی رحمت و عنایت سے۔ سو ” ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ “ ایک عظیم الشان وردودعا ہے۔ اس میں بندہ اپنے رب کے حضور اپنی عبدیت و بندگی کا اظہار اور اپنے خالق ومالک کی رحمت و عنایت کا اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ اور یہی اصل اساس ہے فوز و فلاح دارین کی۔ اسی لئے صحیح حدیث میں اس کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ۔” کنز من کنور الجنۃ “ قرار دیا گیا ہے۔ اور حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی کو مال واولاد وغیرہ کی کسی نعمت سے نوازتا ہے اور وہ اس پر ” ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ “ کہتا ہے تو اس کی اس نعمت پر کوئی آفت نہیں آسکتی سوائے موت کے اور یہ بات آنحضرت ﷺ نے اسی آیت کریمہ کا مطلب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمائی۔ (ابن کثیر وغیرہ) روایت میں ہے کہ امام دارالہجرۃ حضرت امام مالک (رح) نے اپنے مکان کے دروازے پر ” ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ “ لکھ رکھا تھا۔ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے جواب میں اسی آیت کریمہ کا حوالہ دیا۔ (معارف القرآن للکاندھلوی) ۔ الحمد للہ راقم آثم نے آج سے کئی سال پہلے اپنے اس عظیم الشان مکان (مدنی منزل، معمورہ المدنی آزاد کشمیر، پاکستان) کے چاروں کونوں پر یہ دعا لکھ کر لگائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے تعمیر کرنے کی توفیق عطا کی تھی۔ اور اب اپنے اسلام آباد والے اس مکان پر بھی لکھ کر لگانے کا ارادہ پروگرام ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق و عنایت سے تعمیر و تکمیل کے آخری مراحل میں سے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین !
Ayahs 18:40–41

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو (یاد رکھ کہ) بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بھی کہیں بڑھ کر اچھا باغ دے دے، اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی ایسی آفت بھیج دے کہ یہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے،

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی ہی زمین میں ایسا اتر جائے کہ تو اسے کسی بھی طرح تلاش کر کے نہ لاسکے،

72۔ رب کی رحمت کی امید کا درس :۔ سو اس مومن صادق نے اس منکر و متکبر شخص سے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بھی بڑھ کر کوئی باغ دے دے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اور خواہ دنیا وآخرت دونوں میں کہ دینے اور بخشنے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے اور وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس کو کس نعمت سے نوازا جائے اور کب اور کس طرح نوازا جائے۔ یہ سب کچھ وہی بہتر طور پر جانتا ہے اور میرا اسی پر بھروسہ و اعتماد ہے۔ سو دینے والا بہرحال اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے ہاتھ بند نہیں ہوئے۔ بلکہ اس کی عطاء وبخشش برابر جاری وساری ہے اور ایسی اور اس قدر کے ہر ہر لمحہ اور لحظہ کے اندر اس کے جو خزانے تقسیم ہوتے ہیں ان کا حساب اور اندازہ کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فکن لی واجعلنی لک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یاذالجلال والاکرام۔
Ayahs 18:42–43

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

آخرکار گھیر لیا گیا اس کے سارے پھل کو (ایک ناگہانی آفت سے) جس سے وہ اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا، اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس باغ پر کیا تھا، جب کہ وہ گرا پڑتا تھا اپنی چھتریوں پر، اور وہ (مارے حسرت کے) کہہ رہا تھا کہ اے کاش میں نے شریک نہ ٹھہرایا ہوتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو،

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور نہ کوئی جماعت ایسی تھی جو اس کی مدد کرتی اللہ کے سوا، اور نہ وہ خود بدلہ لینے کے قابل تھا،1

74۔ منکر انسان آخر کار پنجہ عذاب کی گرفت میں، والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار گھیر لیا گیا اس کے باغ کو ایک ناگہانی آفت سے جس سے وہ تباہ و برباد اور کان لم یکن ہو کر رہ گیا، سو آخر کار وہی ہوا جس سے اس بندہ مومن نے اس شخـص کو خبردار کیا تھا اور جس سے وہ سب کچھ مٹ مٹا گیا۔ جس کا اس شخص کو بڑا گھمنڈ اور غرور تھا۔ اور جس کی بناء پر وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ اب اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ والعیاذ باللہ، سو جس باغ کے بارے میں اس شخص کا کہنا تھا کہ میں کبھی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ باغ بھی کبھی تباہ ہوسکتا ہے۔ ما اظن ان تبیدھذہ ابدا وہ اس طرح اجڑ کرنیست ونابود ہوچکا تھا۔ اور جس کی سرسبزی اور شادابی پر اس کو اس قدر گھمنڈ اور غرور تھا وہ اس طرح قصہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 75۔ باغ کی تباہی کی منظر کشی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس عذاب کے نتیجے میں وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر، یعنی وہی باغ جس کے بارے میں اس متکبر اور مغرور شخص کا کہنا تھا کہ میں گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ بھی کبھی تباہ ہوگا وہ آج اس طرح تباہ ہوچکا تھا اور اپنی زبان حال سے دیکھنے والوں کو درس عبرت سنارہا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ دنیا والو ! دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو، میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو، اور دیکھ لوانجام ان لوگوں کا جو حطام دنیا پر پھول کر حق سے منہ موڑ لیتے ہیں اور حق کی تکذیب انکار کے جرم کا ارتکاب کرکے وہ دائمی خسارے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لیکن متاع دنای کے چند ٹکوں پر پھول کر اپنے مال وانجام کو بھول جانے والے مغروروں اور متکبروں کا حال یہی ہوتا ہے۔ اپنے جن قلعوں کو وہ ناقابل شکست سمجھتے ہیں وہ قدرت کی طرف سے پہنچنے والی ایک ہی جنبش سے ڈھیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس وقت ان کی آنکھ کھلتی ہے اور ان کو نظر آتا ہے کہ جس چیز کو وہ اتنا بعید سمجھتے تھے وہ بالکل ان کے پاؤں کے نیچے سے برآمد ہوگئی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 76۔ بعد از وقت کی ندامت بےفائدہ و لاحاصل :۔ سو وہ شخص مارے افسوس کے کہہ رہا تھا کہ ” کاش کہ میں شریک نہ ٹھہراتا اپنے رب کے ساتھ کسی “ اور آج مجھے یہ انجام نہ دیکھنا پڑتا۔ مگر اب اس بےوقت کے پچھتاوے سے کیا حاصل تباہی کا باعث اور تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ اس لئے اس شخص نے یہاں پر اپنی خرابیوں اور کرتوتوں میں سے صرف شرک ہی کا ذکر کیا والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب الکفر والشرک، بہرکیف بعد از وقت کی ندامت اور پچھتاوا بےسود اور لاحاصل ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (سے واضح ہوگیا کہ کارسازی کا) سب اختیار خدائے برحق ہی کے لئے ہے، اسی کا بخشا ہوا انعام بھی سب سے اچھا ہے، اور اسی کا دکھایا ہوا انجام بھی سب سے بہتر،

78۔ غلبہ واختیار سب اللہ ہی کے لئے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اس موقعہ پر کہ ” اختیار سب اللہ ہی کے ہاتھ میں تھا “ اور اللہ کا بتایا ہوا انجام ہی سب سے بہتر ہے اس سے ڈرنے والوں کیلئے اور صدق دل سے اس کی اطاعت و بندگی کرنے والوں کیلئے اور اس قدر بہتر اور عمدہ انعام وانجام کہ اس کی عمدگی اور بہتری کا ادراک و احاطہ بھی کسی بشر کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حق اور صدق بہرحال وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول بتائے۔ اور اس اور اس کے رسول کے ارشادات کیخلاف جو بھی کچھ ہوگا وہ سب باطل اور اس کا انجام نہایت ہی برا اور انتہائی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صالح بندوں کو بہترین ثواب اور نہایت عمدہ انجام سے نوازتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ اس کا کام اور اس کی شان نوازنا ہی نوازنا ہے۔ سب کو نوازنا اور ہمیشہ نوازنا اور اس کی نوازشوں کا سلسلہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ جاری وساری رہتا ہے الا یہ کہ کوئی اپنی محرومی اور بدبختی کی بناء پر اس کی جناب اقدس واعلیٰ سے منہ موڑ لے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بندے کی بہتری اور بھلائی اسی میں ہے کہ ہو ہمیشہ اور ہر حال میں اس کا بندہ بن کر رہے، حدود بندگی کے اندر اور اس کے حضور صدق دل سے سرتسلیم خم رہے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید جل وعلا۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان (کی عبرت) کے لئے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو کہ جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، جس سے خوب گھنی ہو کر نکلی اس کی انگوری، پھر (چندے بعد) وہ اس طرح چورا بن کر رہ گئی کہ اڑائے پھریں اس کو ہوائیں، اور واقعہ یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر پوری طرح قابو رکھنے والا ہے،2

79۔ دنیا کی مثال اس کی فنا اور بےثباتی میں :۔ پس جس طرح زمین اور اس کی لہلہاتی اور خوش منظر کھیتی کی بہار عارضی اور چند روزہ ہوتی ہے اس کے بعد وہ چورا چورا ہو کر ختم ہوجاتی ہے اور مٹ مٹا جاتی ہے اسی طرح اس دنیائے فانی کی یہ زیب وزینت اور چکاچوند بھی چند روزہ اور عارضی وفانی ہے۔ اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے اور اسی کیلئے اصل تیاری کرے۔ وباللہ التوفیق۔ سو جو لوگ اس دنیا ہی کو مقصد حیات بنالیتے ہیں اور وہ اسی کے عیش وتنعم، کھیل تماشوں، عیش و عشرت، لذت کام ودہن کے سامانوں، کاروں، کوٹھیوں، مادہ ومعدہ کے تقاضوں کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہیں کے مال وجائیداد، روپیہ پیسہ، بینک بیلنس اور عہدوں اور مناصب کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور انہی کیلئے جیتے اور مرتے ہیں وہ سخت خسارے میں ہیں کہ یہ سب کچھ عارضی اور فانی ہے۔ جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی اور اصل آرام وہیں کا آرام ہے۔ دنیاوی زندگی کا اصل مصرف اور اس کی اصل قدروقیمت یہی ہے کہ اس میں آخرت کیلئے کمائی کی جائے۔ وباللہ التوفیق۔ 80۔ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے :۔ پس وہ جس طرح عدم سے وجود میں لانے اور نیست سے ہست کرنے پر قادر ہے اسی طرح فنا کرنے اور مٹا دینے پر بھی قادر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اور مٹا دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور اس کو وجود بخشنا بھی اس کیلئے کچھ مشکل نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جس طرح وہ بہار اور اس کا سبزہ اور جوبن دکھاتا ہے اسی طرح اس پر خزاں بھی طاری کردیتا ہے۔ سو یہی حال اس دنیا کا سمجھو کہ اس کی یہ شب چکا چوند بھی عارضی اور فانی ہے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال و اولاد تو دراصل زیب وزینت ہیں اس (چند روزہ) دنیاوی زندگی کی، (اور بس) اور (سدا) باقی رہنے والی نیکیاں ہی ہیں جو تمہارے رب کے یہاں ثواب کے لحاظ سے بھی سب سے اچھی ہیں، اور امیدیں وابستہ کرنے کے اعتبار سے بھی سب سے عمدہ،3

81۔ مال واولاد محض دنیاوی زیب وزینت کا سامان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” مال واولاد تو اصل میں اسی دنیاوی زندگی کی زیب وزینت کا سامان ہیں اور بس “۔ جبکہ ان سے مقصود دنیا ہی کا مفاد ہو۔ جیسا کہ ابنائے دنیاکا حال پہلے بھی رہا اور آج بھی ہے۔ ورنہ اگر ان چیزوں کی آخرت کی کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو پھر یہ سب کچھ دنیا نہیں دین بن جاتا ہے اور ان کے ذریعے آخرت کی وہ نیکیاں کمائی جاسکتی ہیں جو ان کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ سو مال ودولت اور اولاد وغیرہ کی یہ نعمتیں دو دھاری تلوار کی طرح ہیں کہ اگر خیر کے ذریعے مل گئیں اور خیر کی راہ پر لگ گئیں تو خیردر خیر ورنہ نرا عذاب۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بڑے خسارے میں ہیں وہ لوگ جو مال اور اولاد کے اس سامان زیب وزینت میں پھنس کر اور الجھ کر وہ جائیں اور ان کے عشق میں دیوانے ہو کر اپنے انجام اور آخرت کو بھول جائیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ تو محض دنیاوی زندگی کی چند روزفرصت کا سامان ہیں اور بس۔ اصل چیز تو آخرت اور وہاں کیلئے سعی و کوشش ہے۔ اسی کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین بنانا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سو السبیل۔ 82۔ باقیات صالحات کا مفہوم اور اس سے مراد ؟:۔ سوباقیات صالحات سے مراد ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ یعنی وہ نیک اعمال جو انسان کو آخرت میں کام دیں گے۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات وغیرہ اعمال خیر۔ طبرانی وغیرہ میں حضرت ابوالدرداء ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم “ باقیات صالحات ہیں۔ یہ گناہوں کو ایسے گراتے ہیں جیسا کہ درخت اپنے پتے گراتا ہے اور یہ جنت کے خزانوں میں سے ہیں۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ سے مروی دوسری روایت میں ان کلمات کریمہ کو دوزخ کی آتش سوزاں سے بچانے والی ڈھال ” جنتہ “ قرار دیا ہے۔ اخرجہ النسائی (رح) والبیھقی (رح) والطبرانی (رح) عن ابی ہریرہ ؓ اور اسی لئے آپ ﷺ نے انکے استکثار یعنی زیادہ پڑھنے کا حکم دیا۔ سو ان کلمات کریمہ کو بطور تمثیل باقیات صالحات کی تفسیر میں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی عظمت شان کی بناء پر۔ ورنہ باقیات صالحات کے کلمات کریمہ اپنے عموم کے اعتبار سے سب ہی اعمال صالحۃ کو شامل ہیں۔ (ابن جریر، محاسن التاویل، ابن کثیر، فتح القدیر، المراغی، المعارف، روح وغیرہ) فسبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ اللہ واللہ اکبر ولا حول قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ سودنیائے فانی کے حطام زائل اور متاع فانی کو جوڑنے اور جمع کرنے کی بجائے ان باقیات صالحات کو جوڑنے اور جمع کرنے کی فکر و کوشش کرنی چاہئے جو آخرت کی اس حقیقی زندگی اور ابدی جہاں میں کام آسکیں۔ وباللہ التوفیق۔ لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال :۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور (یاد کرو اے لوگو، اس دن کو کہ) جس دن چلا دیں گے ہم ان (بھاری بھرکم اور فلک بوس) پہاڑوں کو، اور تم بالکل کھلا (اور برہنہ) دیکھو گے اس زمین کو، (ایک چٹیل میدان کی شکل میں) اور اکٹھا کر لائیں گے ہم ان سب کو اس طور پر کہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے،4

83۔ قیامت کے روز اس زمین کا حال :۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ قیامت کے روز یہ زمین ایک صفا چٹ میدان ہوگی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” اس روز زمین کو بالکل کھلا اور برہنہ ایک چٹیل میدان کی شکل میں دیکھو گے “۔ پس قیامت کے روز زمین کی یہ حالت قدرت خداوندی کا ایک اور عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے کیونکہ اس روز اس پر پائے جانے والے وہ تمام پردے جو آج حائل ہیں ہٹا دیئے جائیں گے۔ اور وہ تمام اوٹ وغیرہ یکسر ختم کردیئے جائیں گے جو آج اس پر عظیم الشان پہاڑوں، وسیع و عریض گھنے جنگلوں، درختوں اور بڑی بڑی عمارتوں وغیرہ کی صورت میں موجودہ قائم ہیں جو کہ قادر مطلق کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک اور عظیم الشان مظہر ہوگا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ زمین اور اس کے اوپر جو کچھ ہے وہ اس روز سب کا سب ختم ہوجائے گا، جیسا کہ اسی سورة کریمہ کے شروع میں ارشاد فرمایا گیا۔ اس پر جو زیب وزینت اور رونق و خوشنمائی ہے اس سب کو اس روز مٹا کر اس زمین کو بالکل ایک چٹیل میدان بنادیا جائیگا۔ اور ایسا چٹیل اور صفا چٹ میدان کہ اس روز تم اس میں نہ کوئی اونچ دیکھو گے نہ نیچ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس امر کی اسطرح تصریح فرمائی گئی۔ فیذرھا قاعا صفصفا لاتری فیھا عوجاولا امتا، (طہ 106۔ 107)
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور پیش کردیا جائے گا ان سب کو آپ کے رب کے حضور صف در صف (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آخر آگئے ناں تم لوگ ہمارے پاس، جیسا کہ ہم نے تم کو پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ، مگر تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے (لوٹنے کے) لئے کوئی وقت ہی مقرر نہ کریں گے،

84۔ سب کی اپنے رب کے حضور صف بستہ پیشی :۔ یہ پیشی بھی تنہا ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ ” اور آگے تم ہمارے پاس اس طرح جس طرح کہ ہم نے تم کو پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ “۔ کہ تم بالکل تنہا، سراپا برہنہ اور عاجز و لاچار اس دنیا میں آئے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ کما بدا کم تعودون، اور کھوگئے تم سے تمہارے وہ تمام مصنوعی اور خود ساختہ سہارے جو تم نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے تھے اور گم ہوگئے تم سے وہ تمام جتھے اور گروہ اور پارٹیاں اور جماعتیں جن کا تم لوگوں کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا اور تمہاری امارت و حکومت اور ریاست و قیادت وغیرہ کے وہ تمام مزاعم پادر ہوا ہوگئے جن کا تم کو دنیا میں بڑا گھمنڈ تھا۔ جن کی بناء پر تم لوگ اپنی اس رعونت واستکبار میں مبتلا تھے۔ اور تم حق بات کے سننے اور ماننے کیلئے آمادہ وتیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ دنیاوی زندگی کی وہ فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی۔ تم آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے کچھ کمائے بغیر اور کچھ پونجی جمع کئے بدوں دنیا سے کوچ کر گئے کسب واکتساب کی وہ فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی۔ اور تم ہاتھ عاجز غلاموں کی طرح ہمارے حضور پہنچ گئے ہو۔ اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا بخشا تھا اور جس پر تم بہت نازاں تھے وہ سب تم نے وہیں چھوڑ دیا۔ وترکتم ما خولنا کم واراء ظہورکم، یعنی تم لوگوں نے وہ سب کچھ اپنے پیچھے چھوڑ دیا جو تم نے ہمیں دیا، بخشا تھا۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (ان کے سامنے) رکھ دیا جائے گا نامہ اعمال کو، تب تم دیکھو گے مجرموں کو کہ وہ ڈر (کے مارے کانپ) رہے ہوں گے، ان مندرجات سے جو اس کے اندر موجود ہوں گے، اور (مارے افسوس کے) وہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے کسی چھوٹی بات کو چھوڑا اور نہ کسی بڑی بات کو، جس کو درج نہ کیا ہو، اور وہ حاضر (و موجود) پائیں گے وہ سب کچھ جو انہوں نے (زندگی بھر) کیا ہوگا، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا،1

85۔ انکار آخرت محرومیوں کی محرومی، اور ہلاکتوں کی ہلاکت ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لوٹنے کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے “۔ اور تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ دنیائے فانی اور اس کی عارضی وناپائیدار لذتیں ہی سب کچھ ہیں۔ اسی لئے تم ان اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے جن کے پاس دنیاوی مال ودولت کچھ نہیں تھا۔ سو اب یہ وقت آگیا اور جس مال ودولت اور دنیاوی اسباب و وسائل پر تم لوگ پھولے نہیں سماتے تھے وہ سب کچھ دنیا ہی میں رہ گیا اور تم کو خالی ہاتھ ہمارے حضور حاضر ہونا پڑا۔ سو انکار حق اور عقیدہ آخرت سے محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے اور اس سے انسان ایک بےمقصد اور لایعنی حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بدترین مخلوق ” شرالبریۃ “ بن جاتا ہے۔ اور وہ بےفکر اور بےپرواہ ہو کر اوندھا بہرا بن کر دوزخ کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اور ایسا اور اس حد تک کہ اس کو اس کا کوئی شعور و احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو سکے۔ اور یہی ہے خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 86۔ اور تمہارا رب کسی پر کوئی ظلم نہیں کرتا :۔ کہ کسی کی کوئی نیکی کم کردی جائے یا کسی کو کسی ناکردہ برائی کی سزادی جائے۔ اور ظلم کیا معنی کہ وہاں تو کرم ہی کرم ہے کہ برائی کا محض ارادہ کرنے پر برائی نہیں لکھی جاتی جبکہ نیکی کا ارادہ کرنے پر بھی نیکی لکھی جاتی ہے۔ پھر برائی کا ارتکاب کرنے پر۔ والعیاذ باللہ۔ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور نیکی کا عمل کرنے پر ایک کے بدلے دس گنا، سوگنا سات سوگنا اور اس سے بھی زیادہ اجر وثواب سے نوازا جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ مزید کرم یہ کہ سچی توبہ کرنے پر وہ عمر بھر کی سب برائیوں سے اس طرح پاک وصاف فرما دیتا ہے کہ گویا ایسے شخص نے گناہ کیا ہی نہیں تھا سبحان اللہ۔ کیا کہنے اس کرم لامتناہی اور اس شان بخشش وعطاء کے۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم سجدہ کرو آدم کو، تو وہ سب کے سب (فوراً ) سجدے میں گرپڑے، بجز ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، اس لئے اس نے سر تابی کی اپنے رب کے حکم سے، تو کیا تم لوگ پھر بھی دوست بناتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر ؟ حالانکہ وہ تمہارے (اصلی اور پکے) دشمن بھی ہیں، کیا ہی برا بدل ملا ظالموں کو،2

87۔ غرور وتکبر کی راہ ابلیس لعین کی راہ :۔ جس نے اپنے اس زعم فاسد میں مبتلا ہو کر اپنے رب کے حکم کے باوجود آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اور اس بناء پر وہ ہمیشہ کیلئے مردود قرار پایا۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر، سو کبر و غرور اور اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ ہلاکت و تباہی اور محرومی و خرابی کی جڑ بنیاد ہے۔ اور یہ ابلیس کا طریقہ ہے۔ جبکہ عجز وانکسار اور مسکنت و تواضع آدم کا طریقہ ہے اور یہ سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ پس جو لوگ دنیاوی مال و متاع اور منصب وجاہ کی بناء پر اکڑتے اور حق و ہدایت سے منہ موڑتے ہیں وہ ابلیس لعین کی راہ پر چل کر دائمی ہلاکت اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ! 88۔ منکرین و مشرکین کے قلب وضمیر پر ایک دستک :۔ سومنکرین و مکذبین اور مشرکوں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کی قلب وضمیر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” کیا پھر بھی تم لوگ ابلیس اور اس کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو ؟ “ اور ان کے کہنے پر چلتے اور میرے احکام واوامر کو توڑتے ہو۔ والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب ھذا التجاہ۔ یعنی کیا تم لوگ ابلیس لعین کے ان قبائح اور اس کی تم سے اور تمہارے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) سے کھلی عداوت و دشمنی کے باوجود تم اس کو اپنا دوست بناتے ہو اپنے خالق ومالک کے مقابلے میں ؟ اور اس کو چھوڑ کر جس کی نعمتوں میں تم سرتاپا ڈوبے ہوئے ہو ؟ یعنی یہ کس قدر ظلم، بےانصافی اور کتنی حماقت کی بات ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا کرنا ظلم درظلم اور حماقت بالائے حماقت ہے۔ اور یہ انسانی غیرت کا خون کرنے کے مترادف ہے کہ انسان ایسے جدی پشتی دشمن کو اپنا دوست بنالے اور وہ بھی اپنے خالق ومالک اور خدائے رحمان ورحیم کے مقابلے میں اور اس کو چھوڑ کر۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 89۔ کیا ہی برا بدل ملا ظالموں کو ؟:۔ کہ وہ خدائے رحمن کو چھوڑ کر شیطان لعین کے پیچھے لگ گئے اور اس کے پیروبن گئے۔ والعیاذ باللہ۔ اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ بدبخت انسان اس خدائے رحمن کو چھوڑ کر جس کی رحمتوں میں وہ سر سے پاؤں تک ڈوبا اور لپٹا ہوا ہے وہ اس کے برعکس اس ابلیس لعین کو اپنا دوست بنا لے جو اس کا جدی پشتی دشمن اور عدومبین ہے۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہو کر ابدی ہلاکت و خسران کی راہ پر چل پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس قدر ہولناک خسارے کا سودا اور سامان وہی کرسکتا ہے جس کی عقل کھو گئی ہو اور اس کی مت ماری دی گئی ہو اور اس کی محرومی اور بدبختی اس پر مسلط ہوگئی ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔