18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 18:51–52

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے تو ان کو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا، اور نہ ہی خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور نہ ہی یہ میری شان ہے کہ میں گمراہ کرنے والوں کو دست و باز و (اور مددگار) بناؤں،

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور (کیا حال ہوگا مشرکوں کا اس دن) جس دن کہ حق تعالیٰ (ان سے فرمائے گا کہ پکارو تم لوگ میرے ان شریکوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے تھے، پھر وہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ ان کو اس کا کوئی جواب نہ دیں گے، اور ہم ان کے درمیان ہلاکت (و تباہی) کا ایک ہولناک گڑھا حائل کردیں گے،3

90۔ اس وحدہ لاشریک کا کوئی بھی شریک نہیں :۔ کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں۔ اشھدتھم، کی ضمیر منصوب کا مرجع اکثر مفسرین کے نزدیک وہ شرکاء ہیں جن کو مشرک لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھا ہے۔ تو آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ تمہارے ان خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو نہ تو میں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق و پیدائش کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کو ایک دوسرے کی پیدائش کے وقت۔ تو پھر تم ان کو میرا شریک اور اپنا معبود کس طرح قرار دیتے ہو ؟ (فتح القدیر، محاسن التاویل اور ابن کثیر وغیرہ) بلکہ خلق وتکوین کا یہ سارا کام میں نے بغیر کسی کی شرکت واشتراک کے از خود کیا۔ پس نہ کوئی اس وحدہ لاشریک کی صفت خلق میں اس کا شریک ہے اور نہ ہی صفت امر میں۔ اس آیت کریمہ کا یہ اسلوب و انداز طنزیہ ہے۔ یعنی جب میں نے کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور نہ خود ان لوگوں کی تخلیق و پیدائش میں۔ اور نہ ہی یہ میرے شان کے شایان ہوسکتا ہے کہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بناؤں۔ تو پھر تم لوگوں نے ان کو اے مشرکو ! میری خدائی میں آخرکس طرح شریک بنا رکھا ہے ؟ اور تم لوگ کس طرح فیاضی سے ان کو خدائی منصب پر فائز کرتے ہو۔ ان کو طرح طرح کے ناموں سے موسوم کرتے ان کے ناموں کی طرح طرح کی مورتیاں اور تصاویر بناتے قسما قسم کے من گھڑت ناموں سے سرکاریں بناتے اور ان کے آگے جھکتے اور جھکاتے ہو۔ آخرکیوں ؟ اور کس بنیاد پر ؟ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھتے ہی یقین کرلیں گے کہ انھیں قطعی طور پر اس میں گرنا ہے، اور وہ اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے،

93۔ مجرم لوگوں کی آتش دوزخ کے سامنے بےبسی کی ایک تصویر :۔ سو اس یوم مہیب میں مجرم لوگوں کو دوزخ کی آگ دیکھتے ہی یہ یقین ہوجائے گا کہ انہوں نے اس میں گر کر رہنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ وہ ان کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے چکی ہوگی۔ ان کے اپنے اس عمل و کردار کی وجہ سے جس کو انہوں نے اپنے خالق ومالک کے احکام واوامر سے منہ موڑ کر زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ اور جنہوں نے حیات دنیا کی فرصت عمل کو کفر وانکار اور بغاوت و سرکشی میں گزار دیا ہوگا۔ سو ان کیلئے اب اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ کافر چالیس برس اور دوسری روایت کے مطابق چار سو برس کی مسافت سے دوزخ کی آگ کو دیکھ کر یہ یقین کرلے گا کہ اس نے یقینا اور بہرحال اس ہولناک دوزخ میں گرنا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ قیامت کے روز مجرم لوگ جب دوزخ کی دہکتی بھڑکتی اس ہولناک آگ کو دیکھیں گے تو ان کو یقین ہوجائے گا کہ اب انہوں نے بہرحال اس میں گرنا ہے۔ اب ان کیلئے اس سے بچنے اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ سو اس میں ان بدبختوں کی بےبسی کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ وہ آنکھوں دیکھتے اس طرح دوزخ میں گریں گے۔ مگر قرآن حکیم کی ایسی تمام تصریحات اور توضیحات کے باوجود ایسے لوگوں کی نہ آنکھیں کھلتی ہیں اور نہ یہ حق کو سننے اور ماننے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 18:54–55

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں (کو سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے، مگر انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو واقع ہوا ہے،1

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آچکی تو انھیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی چاہنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اگلوں کے ساتھ ہوچکا ہے، یا نمودار ہوجائے عذاب الٰہی ان کے سامنے،2

94۔ انسان کا جھگڑالو پن باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو واقع ہوا ہے اپنی عقل وفکر اور قوت کلام اور زور بیان کی ان قوتوں کی بناء پر جو حق تعالیٰ نے اس کو اپنے کرم سے بخشی تھیں تاکہ وہ انہیں صحیح طور پر استعمال کرکے حق کی خدمت میں صرف کرے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے اونچا مقام حاصل کرلے اور دائمی وابدی سعادتوں سے ہمکنار ہوجائے۔ مگر اس ناشکرے انسان نے ان کو الٹا اور غلط استعمال کرکے بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنا یا اور اس طرح ایسے لوگوں نے اپنے آپ کو اپنے امتیازی منصب اور شرف سے گرا کر سب نیچوں سے نیچ بنادیا۔ اور اسطرح وہ ذلت و رسوائی اور شقاوت و بدبختی کے ہاوے میں پہنچ گیا۔ والعیاذ باللہ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین :۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے ہر عمدہ مضمون کو طرح طرح سے اور اسالیب و انداز بدل بدل کر بیان کیا۔ مگر ناشکرے اور غافل انسان نے اپنے جھگڑالوپن سے ان کو ماننے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے کسی نہ کسی اعتراض اور حجت بازی کی راہ ہی کو اپنایا۔ سو انسان کا جھگڑالو پن سے اس کیلئے باعث محرومی بن گیا۔ پس صحت و سلامتی کی راہ سمع وطاعت کی راہ ہے۔ یعنی حق بات کو سننے اور ماننے کی راہ، جبکہ اس سے اعراض و روگردانی باعث محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 18:56–57

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے، اور خبرداری کرنے والے بنا کر،3 اور کافر لوگ لڑتے ہیں باطل کے (ہتھیاروں کے) ساتھ، تاکہ وہ نیچا دکھا سکیں اس کے ذریعے حق کو، اور انہوں نے ٹھہرا رکھا ہے میری آیتوں اور ان تنبیہات کو جو ان کو کی گئیں (ٹھٹھا اور) مذاق،

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جس کو نصیحت کی جائے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے، بیشک ہم نے ایسے لوگوں کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں اس سے کہ وہ سمجھیں اس (پیغام و صداقت) کو، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دئیے ہیں (اس سے کہ وہ اس کو سنیں) ، اور اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو ایسی صورت میں وہ کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکیں گے،

98۔ کافروں کی طرف سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کافر لوگ باطل کے ہتھیاروں سے لڑتے ہیں تاکہ اس طرح وہ حق کو نیچا دکھا سکیں “۔ نت نئے قضیے کھڑے کرکے اور طرح طرح کے شکوک ڈال کر اور شبہات پیدا کرکے۔ سو اس طرح یہ لوگ حق کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے البتہ اس پر خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان ضرور کرتے ہیں کہ سورج پر تھوکنے سے اس کا تو کچھ نہیں بگڑتا مگر تھوکنے والے کی تحقیر و تذلیل کا سامان ضرور ہوتا ہے۔ سو اس طرح یہ لوگ اپنے لئے ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کا ارتکاب اور ڈبل بوجھ کا سامان کرتے ہیں اور یہی ایسے لوگوں کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک کھلا ثبوت ہے جس کے باعث ایسے لوگ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہوتے ہیں جو کہ سب سے بڑی محرومی ہے اور اس کے نتیجے میں دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہو کر ابدی ہلاکت میں گرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رسولوں کا کام صرف انذار وتبشیر ہوتا ہے۔ ان سے عذاب لانے کا مطالبہ ایک بالکل بےتکی بات اور باطل کے ذریعے حق کو نیچا دکھانے کے ہم معنی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 99۔ حق سے مذاق واستہزاء کا کافرانہ جرم۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور حق کے مذاق اڑانے کے اس سنگین جرم کا ارتکاب یہ لوگ طرح طرح سے کرتے ہیں۔ تو پھر ان کو نورحق و ہدایت کی دولت سے سرفرازی و بہرہ مندی کس طرح نصیب ہوسکتی ہے ـ؟ جبکہ اس کیلئے اولین شرط طلب صادق ہے۔ سو حق اور اہل حق سے استہزاء و تمسخر انسان کی محرومی کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ جیسا کہ دوسرے کئی مقامات پر ارشاد فرمایا گیا۔ مثلا سورة یسین میں حسرت کے لفظ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ یحسرۃ علی العباد مایاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزء ون) (یسین : 30) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور مذاق واستہزا کے اس سنگین جرم کا ارتکاب ایسے لوگ اس لئے کرتے ہیں کہ یہ قیامت اور اس کے عذاب کی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں۔ ورنہ ان کے ہوش ٹھکانے لگ جاتے۔ مگر اس کی حقیقت کو نہ جاننے کی وجہ سے ایسے لوگ لایعنی اور لاپرواہ ہوگئے ہیں۔ اور اس بناء پر یہ ہماری آیات اور عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور (تاخیر عذاب سے کہیں دھوکہ میں نہیں پڑنا کہ) تمہارا رب بڑا ہی درگزر کرنے والا، انتہائی مہربان ہے، (ورنہ) وہ اگر ان کو ان کے کئے کرائے پر فوراً پکڑنے لگتا، تو ان کو کبھی کا عذاب دے چکا ہوتا مگر ان کے لئے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے جس سے ورے (بچنے کے لیے) یہ کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکیں گے،1

104۔ رب تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ وذکر۔ سبحانہ وتعالیٰ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تمہارا رب بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے “ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے وہ مجرموں کو فورا نہیں پکڑتا کہ شاید یہ توبہ کرکے صحیح راستے پر آجائیں۔ اور ایسی صورت میں وہ غفور ورحیم ان کے تمام گناہ بھی ان کی سچی توبہ پر معاف فرما دیتا ہے اور ایسا اور اس حد تک کہ ان کے گناہوں کے آثار و نشانات تک کو بھی مٹا دیتا ہے۔ سو اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ مگر جو بدنصیب اس کی طرف رجوع ہی نہ کریں ان کا کیا علاج ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ، پس نہ تو کوئی اس کی مغفرت وبخشش اور رحمت و عنایت سے مایوس ہو اور نہ ہی کوئی اس کی طرف سے ملنے والی ڈھیل کی بناء پر کبھی مست و مغرور ہوجائے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس سبب کو بیان فرمادیا گیا جس کی بناء پر ایسے بدبختوں کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ جس سے اس سوال کا جواب بھی جاتا ہے کہ ایسے منکروں اور ہٹ دھرموں کو آخراس زمین پر بوجھ بنائے رکھنے کا کیا فائدہ ؟ ان پر عذاب بھیج کر ان کا صفایا کیوں نہیں کردیا جاتا جس کا یہ مطالبہ کرتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب۔ سبحانہ وتعالیٰ نہایت ہی درگزر فرمانے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔ اس لئے وہ مجرموں کو انتہائی حد تک مہلت دیتا ہے تاکہ یہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں۔ ورنہ اپنے ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں۔ 105۔ ظالموں کے لئے ڈھیل رحمت خداوندی کا ایک مظہر :۔ سو اللہ پاک اپنی رحمت و عنایت سے ظالموں کو ڈھیل دیئے جارہا ہے ورنہ وہ اگر لوگوں کو ان کی کمائی کی بناء پر فورا پکڑتا تو ان کو کبھی کا عذاب دے چکا ہوتا کہ یہ اپنے اعمال اور اپنے کرتوتوں کی بناء پر اس عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر یہ اس کی رحمت اور اس کے حلم وکرم کی بناء پر اس کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر یہ اس کی رحمت اور اس کے حکم وکرم کی بناء پر اس کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان رحمت و عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی جیسے سنگین جرائم پر بھی ڈھیل پہ ڈھیل دئیے جارہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ورنہ وہ اگر ان کو پکڑنا چاہے تو فورا نہیں پکڑتا۔ اور اس نے ایسے ظالموں کے عذاب اور ان کی گرفت وپکڑ کیلئے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے۔ اور جب وہ وقت آجائے گا تو ایسے لوگ نہ اس کی گرفت وپکڑ سے کسی طرح بھاگ سکیں گے اور نہ ہی اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے لئے کوئی پناہ گاہ پاس کیں گے۔ سو عقل وخرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کی گرفت وپکڑ اور اس کے سخط وغضب سے ہمیشہ بچنے کی فکر اور کوشش کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔ 106۔ منکرین کے عذاب کیلئے وقت مقرر ہے :۔ سو ایسے نہیں جیسا کہ منکرین نے سمجھ رکھا ہے کہ ان کی کوئی گرفت وپکڑ ہونی ہی نہیں۔ اور یہ ایسے ہی رہیں گے۔ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کیلئے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ وہ کب آپہنچے گا۔ مگر اپنے وقت پر اس نے آنا بہرحال ضرور ہے اور اس وقت ان کو اپنے کئے کرائے کا اور پورا بدلہ بہرحال مل کر رہے گا اور بھر پور طریقے سے ملے گا تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں پس عذاب میں تاخیر سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اس قادر مطلق اور حکیم مطلق رب ذوالجلال نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ قد جعل اللہ لکل شئی قدرا (الطلاق : 3) اور یہ ایک ایسا ضابطہ واصول ہے جو اس مالک الملک کی حکمتوں بھری اس کائنات میں ہر جگہ کار فرما نظر آتا ہے اور اس کے آثار و مظاہر اس دنیا میں ہر طرف پھیلے بکھرے نظر آتے ہیں۔ سو جن لوگوں کو ان کے تمردوسرکشی کے باوجود ڈھیل ملتی ہے وہ اس سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ یہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جو وقت آنے پر ختم ہوجائے گی۔ پس اس کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگ اپنی آنکھیں کھولیں اور راہ حق و ہدایت کو اپنا لیں ورنہ ان کیلئے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں جن (کے باشندوں) کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ انہوں نے ظلم ہی کو روا رکھا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے بھی ایک وقت مقرر کر رکھا تھا،2

107۔ پاداش عمل کے ثبوت کیلئے تاریخی حوالہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بستیاں یعنی قوم عاد وثمود اور قوم لوط وغیرہ عذاب یافتہ قوموں کی بستیاں۔ جن کو ہلاک اور تباہ کیا گیا سب ایسی ہی تھیں کہ ان کے باشندے جب اپنے کفر وانکار اور تمردو سرکشی سے باز نہ آئے تو ان کو آخر کار اسی طرح مٹا کر پیوند خاک کردیا گیا۔ والعیاذ باللہ من کل نوع من انواع غضب الجبار وعذابہ۔ سو ان تمام بستیوں، یعنی ان بستیوں کے باشندوں کو ان کے کفر وعناد اور تکذیب و سرکشی پر ڈھیل ملتی گئی۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے حد کردی اور وہ حق کی دعوت کو کسی بھی طرح ماننے کو تیار نہ ہوئے تو ہم نے انکو حرف غلط کی طرح مٹاکر ہمیشہ ہمیش کیلئے ختم کردیا۔ سو پاداش عمل اس سلسلہ خیروشر میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو آنکھیں کھولے اور سبق لینا چاہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ 108۔ ہلاک شدہ بستیوں سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین :۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ ان ہلاک شدہ بستیوں کیلئے بھی عذاب کا ایک وقت مقرر تھا جو ہم نے اپنے علم وحکمت اور اپنے دستور وسنت کے مطابق ان کیلئے مقرر کیا تھا اور جس پر وہ عذاب ان پر آکر رہا پس اسی طرح وہ عذاب دورحال کے ان کفار و منکرین اور مکذبین پر بھی آسکتا ہے کہ یہ بھی اسی جرم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ یعنی حق و صداقت کی تکذیب اور انکار کے اس جرم عظیم کا ارتکاب جس کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا تھا بلکہ ان کا جرم ان کے جرم سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ کیونکہ ان کا یہ معاملہ ان پیغمبر اعظم ﷺ سے ہے جو کہ سب نبیوں کے امام و پیشوا ہیں۔ اور جن کا پیش کردہ دین باقی سب دینوں کا ناسخ اور ان سب کی اصولی تعلیمات کا جامع دین ہے۔ اور جو قیامت تک کی سب دنیا کی راہنمائی کیلئے آٰیا ہے اور ان کی پیش فرمودہ کتاب حکیم یعنی قرآن مجید دوسری تمام آسمانی کتابوں کی اصولی تعلیمات کی جامع وناسخ اور بذات خود ایک زندہ وجاوید معجزہ ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان گزشتہ قوموں کی ہلاکت اور ان کے عذاب کیلئے ایک وقت مقرر تھا جس پر وہ ہلاک ہو کر رہیں اور اس طور پر کہ نہ ان میں سے کوئی قوم اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوئی اور نہ اس کے بعد باقی رہ سکی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ مانسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون۔ (الحجر : 5) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور (ان کو وہ بھی سنا دو کہ) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ میں اپنا سفر ختم نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں پہنچ جاؤں دونوں دریاؤں کے سنگم پر، یا چلتا رہوں گا برسہا برس تک،3

109۔ قصہ موسیٰ وخضر کی تذکیر و یاددہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی سنو اور سناؤ جبکہ یہ قصہ پیش آیا۔ کیونکہ اس قصے میں بھی عبرت و بصیرت کے بڑے بڑے درس پنہاں ہیں۔ مثلا یہ کہ پیغمبر کیلئے سب ہی علوم کا جاننا نہ ضروری ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے منصب کا تقاضا۔ بلکہ پیغمبر کا منصب اور ان کا اصل امتیاز یہ ہوتا ہے کہ ہدایت سے متعلق علوم میں اس کو کمال حاصل ہو۔ رہ گئے وہ دوسرے علوم جن کا تعلق تکوینیات یا دوسرے تجرباتی امور سے ہوتا ہے ان میں غیر نبی کا علم نبی سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اس قصے سے ظاہر اور واضح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی و رسول بلکہ اولوالعزم رسول ہونے کے باوجود حضرت خضر کے پاس حصول علم کیلئے اتنا طویل اور کٹھن سفر طے کرکے پہنچے ہیں۔ حالانکہ خضر نبی بھی نہیں تھے۔ اور مثلا یہ کہ حصول علم کیلئے انسان کو ہمیشہ کوشاں رہنا چاہئے۔ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اس سے بےنیاز نہیں ہوسکتے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح اس حقیقت کا اظہار وبیان کہ انسان کے علم کی رسائی بہرحال محدود ہے۔ اس لئے خداوند قدوس کے ہر ارادے کی حکمت جاننا اور ہر بات کی تہہ تک پہنچنا اس کے بس میں نہیں۔ اس لئے اس کے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اس کے ہر فیصلے پر صابر وشاکر اور مطمئن رہے اور اس کا یقین رکھے کہ آج کی ان تلخیوں میں جو کہ اس کو راہ حق میں پیش آرہی ہیں انہی کے اندر وہ حلاوت اور شیرینی مخفی ومستور ہے جو وقت آنے پر اس کیلئے فرحت ومسرت کا ذریعہ بنے گی۔ پس بندے کا کام ہے کہ وہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ خیر ہی کی امید رکھے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 110۔” فتی “ کا مفہوم اور اس سے مراد ؟:۔ ” فتی “ کے معنی ” جوان “ ،” خادم “ اور ” شاگرد “ وغیرہ کے آتے ہٰں۔ اور اس سے مراد ہیں حضرت یوشع بن نون۔ جو کہ بعد میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم تھے۔ ’ فتی “ کے اصل معنی ” نوجوان “ کے ہوتے ہیں۔ اور خادم چونکہ عام طور پر نوجوان ہی ہوتے ہیں کہ خدمت اصل میں نوجوان ہی کرسکتا ہے۔ اس لئے عرب خادم کو ” فتی “ ہی کہتے ہیں۔ اسی طرح غلام کو بھی ” فتی “ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے مالک کی خدمت کرتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا گیا کہ تم میں سے کوئی اپنے غلام کو ” عبدی “ اور اپنی باندی کو ” امتی “ نہ کہے بلکہ ان کو ” فتای “ اور فتاتی “ کہا کرو۔ سو یہ محاسن آداب کی اعلی تعلیم ہے جو اللہ کے نبی نے اپنی امت کو دی ہے۔ کیونکہ غلام اور بندہ تو ہر کوئی اللہ ہی کا ہے۔ البتہ خادم اور خادمہ ایک دوسرے کے ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ کیسی کیسی باریکیوں کا خیال رکھا گیا۔ والحمد للہ۔ 111۔” مجمع البحرین “ سے کیا مراد ؟:۔ ایک قول واحتمام اس بارے میں یہ ہے کہ اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد خلیج عقبہ اور سویز کا وہ مقام اتصال ہے جہاں سے بعد میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ گزرے ہیں۔ اور ایک اور قول و احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد باب المندب کا وہ مقام ہے جہاں پر بحر ہند اور بحر احمر باہم ملتے ہیں۔ یا طنجہ کا وہ مقام جو مغرب میں واقع ہے۔ جہاں بحرابیض متوسط اور محیط اٹلانٹی باہم ملتے ہیں۔ یا اس سے مراد سوڈان کے شہر خرطوم کے نزدیک کا یہ مقام ہے جہاں دریائے نیل کی دونوں شاخیں نیل ابیض اور نیل ازرق آپس میں ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی اقوال تفاسیر میں پائے جاتے ہیں مگر مذکورہ بالا چند اقوال و احتمال زیادہ مشہور ہیں۔ پھر ان مذکورہ بالا اقوال واحتمالات میں سے طنجہ اور باب المندب کے دونوں قول بہت بعید لگتی ہیں کیونکہ ان میں سے ایک یعنی باب المندب براعظم افریقہ کے مشرق میں واقع ہے۔ جبکہ دوسرا یعنی طنجہ اس براعظم کے بالکل مغرب میں واقع ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اتنے دور دراز کے کسی سفر کا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا۔ سو اس اعتبار سے ان میں سے پہلا اور تیسرا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے لیکن ان میں سے تیسرے قول میں یہ مشکل ہے کہ آیت کریمہ میں ” مجمع البحرین “ کا ذکر ہے جبکہ خرطوم کے پاس نیل کی جن دو شاخوں کے ملاپ کا ذکر ہے وہ ” مجمع البحرین “ نہیں ” مجمع النھرین “ ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں ” بحر “ سمندر کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ دریا کیلئے ” نہر “ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ الا یہ کہ اس کو تجویز پر محمول قرار دیا جائے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس کو ” ابھموا ما ابھمہ القرآن “ کے کلیئے کے مطابق مبہم ہی رہنے دیا جائے کہ وہ کوئی جگہ ایسی تھی جو دوسمندروں کے سنگم پر واقع تھی اور اس تعین و تخصیص کے پیچھے نہ پڑا جائے کہ وہ جگہ کون سی اور کہاں تھی۔ کیونکہ اس تعین پر کوئی خاص فائدہ اور مقصد موقوف نہیں اور اگر اس کا بیان ضروری ہوتا تو اللہ پاک اس کو خود بیان فرما دیتے اور اس کو یوں مبہم نہ رہنے دیتے۔ والعلم عندہ سبحانہ وتعالیٰ وھو اعلم باسرار کلامہ جل وعلا فالیہ نفوض امرنا ھذا وامورنا کلھا فی کل شان من شؤن الحیاۃ۔ بہرکیف یہ کوئی ایسا مقام تھا جو ” مجمع البحرین “ کا مصداق تھا اور جس تک پہنچنے کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جانے اور وہاں اللہ کے ایک خاص بندے سے ملنے کا حکم دیا گیا تھا کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت مخفی وومستور تھے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے ان دونوں دریاؤں کے سنگم پر، تو وہ بھول گئے اپنی مچھلی کو، اور اس نے دریا میں ایک سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا،

112۔ مچھلی کو بھول جانے کا قصہ اور اس میں درس عبرت :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم دونوں اس مچھلی کو بھول گئے جس کو وہ بھون کر علامت کے طور پر اپنے ساتھ لائے تھے کہ جس جگہ یہ زندہ ہوجائے گی اسی مقام پر وہ ہستی موجود ہوگی جس سے ملنے کیلئے آپ یہ سفر کررہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے۔ ورنہ نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی کو علامت کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی بعد میں اس کے بھولنے کا سوال پیدا ہوتا۔ مگر افسوس کہ قرآن وسنت کی ایسی بیشمار صاف وصریح نصوص کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ پیغمبر عالم غیب ہوتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ان لوگوں کا یہ بھی کہنا اور ماننا ہے کہ ان کے پیر فقیر حضرات بھی غیب جانتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر کے اس قصہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل اور نہ ہر جگہ حاضر وناظر۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 18:62–63

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں وہاں سے آگے چلے گئے، تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ لاؤ ہمارا ناشہ، ہم تو اس سفر میں بری طرح تھک گئے ہیں،

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے عرض کیا (اوہو ! ) دیکھا آپ نے (حضرت، یہ کیا ہوا) کہ جب ہم ٹھہرے تھے اس چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی (کے معاملہ) کو، اور شیطان نے مجھے ایسا بھلا دیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر بھی نہ کرسکا، اور (قصہ اس کا یہ ہوا کہ) وہ (زندہ ہو کر) دریا میں چلی گئی ایک عجیب سا (سرنگ نما) راستہ بناتی ہوئی،

113۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تھکاوٹ اور صورت حال سے اطلاع و آگہی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم تو اپنے اس سفر میں سخت تھگ گئے ہیں “۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اس مقام پر آگے گذر گئے تو ان کو تکان محسوس ہونے لگی۔ اس سے پہلے ایسے نہیں تھا۔ تب آپ نے اس طرح فرمایا۔ اور یوں یہ سفر تھا بھی کافی لمبا اور مشقت طلب۔ کیونکہ ” مجمع البحرین “ کے اس مقام مقصود سے گزرنے کے بعد وہ دونوں بقیہ پورا دن چلتے رہے اور اگلی رات بھی۔ اور اگلے روز صبح کے وقت جب سورج کافی اوپر چلا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک محسوس ہوئی اور آپ نے اپنے خادم سے کھانا لانے کو کہا تو تب ان کو یاد آیا کہ وہ مچھلی تو زندہ ہو کر پانی میں چلی گئی تھی۔ (المراغی، المعارف وغیرہ ) ۔ سو اس سے یہ حقیقت مزید ظاہر اور واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ اور نہ ہر جگہ حاضر وناظر۔ ورنہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کو یہ ساری صورت حال پیش نہ آتی۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا کہ یہی تو وہ جگہ تھی جس کی ہم تلاش میں تھے،4 چناچہ وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقش قدم دیکھتے ہوئے

114۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے نشانات قدم پر واپس لوٹنا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر وہ دونوں واپس لوٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے “ کہ وہ صحرائی علاقہ تھا جس میں قدموں کے نشانات ان کی راہنمائی کررہے تھے۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ ان دونوں حضرات کو اس طرح قدموں کے نشانات دیکھنے کی اور ان کی مدد سے لوٹنے اور چلنے کی ضرورت نہ ہوتی، اور نہ ہی پیغمبر ہر جگہ حاضر اور موجود ہوتے ہیں۔ سو اس واقعہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی، اختیاری کلی اور حاضر وناضر کے خود ساختہ شرکیہ عقیدوں کی جڑ نکل جاتی ہے کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا طویل سفر کرنے کی ضرورت ہوتی نہ مچھلی کی نشانی رکھنے کی۔ اور نہ وہ اس مقام مقصود سے آگے بڑھتے اور نہ نشان قدم دیکھتے ہوئے واپس آنے کی ضرورت ہوتی۔ اللہ کرے ان کھلے حقائق اور واضح نشانات سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں اور یہ ایسے خود ساختہ اور شرکیہ عقائد سے باز آجائیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید وھو الھادی الی السواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayahs 18:65–68

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

آخرکار انہوں نے (وہاں پہنچ کر) ہمارے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو پا لیا، جس کو ہم نے اپنی ایک خاص رحمت سے نوازا تھا، اور اسے اپنے یہاں سے ایک خاص علم سے سرفراز فرمایا تھا،

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے (وہاں پہنچ کر ان سے) عرض کیا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس بناء پر کہ آپ مجھے بھی سکھا دیں کچھ (تکوینی) راہنمائی کے اس علم میں سے جو کہ آپ کو دیا گیا ہے،1

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے،

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور اس چیز پر بھلا آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جس کی آپ کو پوری واقفیت نہ ہو،

115۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر سے ملاقات :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہاں پہنچ کر انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا “ جن کا نام نامی صحیح حدیث کے مطابق خضر تھا۔ جن کی نبوت کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ اور راجح قول کے مطابق آپ نبی نہیں تھے۔ اور اگر ان کی نبوت تسلیم بھی کرلی جائے تو پھر بھی آپ کا درجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے برابر نہیں پہنچتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے۔ اور رسول بھی اولو العزم رسول۔ جن کے پاس نئی شریعت اور نئی کتاب تھی اور آپ ایک مستقل امت کے ہادی اور راہنما تھے۔ بخلاف حضرت خضر کے کہ ان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز نہ تھی پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے پاس جانے کا جو حکم ہوا تھا وہ دراصل ایک ابتلا وآازمائش تھی جس میں حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنجناب کو ڈالا گیا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کی روایات میں وارد ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں ایک بڑا ہی پراثر وعظ فرمایا۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس موقع پر متاثر ہو کر آپ سے عرض کیا کہ حضرت ! کیا اس وقت دنیا میں آپ سے بھی کوئی بڑا عالم موجود ہے ؟ تو آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا نہیں۔ یہ جواب اپنی جگہ بالکل صحیح اور درست تھا کیونکہ نبی اپنے زمانے میں واقعتا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ مگر یہ جواب چونکہ آپ کے اس مقام رفیع کے مناسب نہ تھا جو کہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آپ کو عطا فرمایا گیا تھا کہ اس میں ایک طرح سے اپنی بڑائی اور عجب وخود پسندی کا اظہار تھا۔ جو کہ مقام عبدیت اور اس شان تواضع کے شایان نہ تھا جو کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امتیازی شان ہوتی ہے۔ اور جس کے مطابق آپ کو ” اللہ اعلم “ یا اس طرح کا کوئی اور جواب دینا چاہئے تھا۔ اس لئے اس پر حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ” مجمع البحرین “ یعنی دونوں دریاؤں کے سنگم پر چل کر ہمارے ایک خاص بندہ سے ملیں۔ جس کو ہم نے اپنی طرف سے ایک خاص علم وفضل سے نواز رکھا ہے۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں نعوذ باللہ کوئی نقص تھا جس کو پورا کرنے اور سیکھنے کیلئے آپ حضرت خضر کے پاس گئے تھے۔ کیونکہ شریعت کے جس علم کا حامل آپ کو بنایا گیا تھا وہ بدرجہ اتم واکمل آپ کو دے دیا گیا تھا۔ اور یوں نبی کا علم اکتسابی ہوتا ہے بھی نہیں، کہ وہ مخلوق میں سے کسی سے علم سیکھ کر کار نبوت چلائے۔ بلکہ اس کا علم براہ راست حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لئے پیغمبر دنیا میں کبھی انسان سے علم نہیں حاصل کرتے۔ 116۔ حضرت خضر کے علم کی نوعیت ؟:۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” جس کو ہم نے اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا “ یعنی کونیات کے اسرار وحکم سے متعلق اس علم سے جو کہ اللہ تعالیٰ کسی تعلم واکتساب کے بغیر محض اپنے فضل وکرم سے اپنی کسی بندے کو بذریعہ الہام ودالقاء عطا فرما دیتا ہے۔ پھر جو وحی ونبوت کے ذریعے کسی کو ملتا ہے اس کو علم نبوی کہا جاتا ہے۔ اور یہ علم ظنی ہوتا ہے۔ (مدارک محاسن اور صفوۃ وغیرہ) مگر یہ افضلیت کا مدارو معیار نہیں ہوتا۔ بلکہ افضلیت کا اصل مدارو معیار شریعت ووحی کا وہ علم ہوتا ہے جو انسان کو اپنے رب سے ملاتا ہے اور اس کو اپنے مقصد زندگی سے آگاہ کرتا ہے۔ اور وہ حضرات انبیائے کرام کو بدرجہ اتم دیا گیا ہوتا ہے۔ رہ گئے دوسرے دنیاوی علوم تو یہ چونکہ معیار فضیلت نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ اگر کسی غیر نبی کو نبی سے زیادہ دے دیئے جائیں تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جیسا کہ ” تابیرنخل “ کے قصہ میں ہوا ہے جو کہ صحیح احادیث میں وارد ہے اور وہاں پر آنحضرت ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ” انتم اعلم بامور دنیاکم “ کی اپنے دنیاوی امور کو تم لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہو “ بہرکیف یہاں پر حضرت خضر سے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو ایک خاص علم سے نوازا تھا یعنی ایسے خاص علم سے جو کہ فکر و نظر اور کسب واکتساب سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اور جس کو جیسا کہ اوپر گزرا ” علم لدنی “ کہا جاتا ہے۔ اور جس سے سرفرازی میں ظاہری اسباب و وسائل کا دخل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے القاء والہام کے ذریعے عطا فرمایا جاتا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور بخشش و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہوتا ہے (محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر اور معارف القرآن وغیرہ) سو اللہ تعالیٰ کی عطاء وبخشش کی صورتیں بےحد وحساب ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 18:69–75

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا،

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس نے کہا اچھا تو اگر آپ نے میرے ساتھ چلنا ہے تو پھر کسی بھی چیز کے بارے میں مجھ سے اس وقت تک کچھ پوچھنا نہیں، یہاں تک کہ میں خود ہی اس کے بارے میں آپ سے کوئی ذکر نہ کروں،2

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

چناچہ (اس قرار داد کے بعد) وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ وہ دونوں سوار ہوگئے ایک کشتی میں، پھر (اس سے اترتے وقت) اس شخص نے اس میں شگاف ڈال دیا، اس پر موسیٰ نے اس سے کہا کیا آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ آپ اس کے لوگوں کو غرق کردیں، بلاشبہ آپ نے ایک بڑی ہی عجیب حرکت کا ارتکاب کیا ہے،3

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے ؟

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ جو میں بھول گیا اس پر آپ میری گرفت نہ کریں، اور میرے معاملے میں سختی سے کام نہ لیں،

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا، تو اس شخص نے اس کو قتل کردیا، تو اس پر موسیٰ (غضبناک اور مشتعل ہو کر) بول اٹھے کہ کیا آپ نے ایک بےگناہ جان کو بغیر کسی جان کے بدلے کے (یونہی ناحق) قتل کردیا ؟ بلاشبہ آپ نے ایک بہت ہی برا کام کردیا۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟1

118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب نے آپ کی صحبت اور معیت کا حکم دیا ہے تو آپ ایسا کوئی کام بہرحال نہیں کرینگے جو مقتضائے شریعت کیخلاف ہو۔ (معارف وغیرہ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کلام دراصل جواب تھا حضرت خضر کی اس بات کا۔ انک لن تستطیع معی صبرا یعنی ” آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے “۔ جو بظاہر اگرچہ بڑے سیدھے سادھے عام فہم الفاظ پر مشتمل ہے لیکن اس میں بڑے اہم درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا آنجناب کی تواضع کا یہ مظہر و نمونہ کہ آپ اتنے بڑے اولوالعزم رسول ہونے کے باوجود حضرت خضر کی اتباع اور ان کے ساتھ رہنے کی اس طرح اجازت مانگتے ہیں جو ادب اور تواضع کا ایک اعلیٰ اور عمدہ نمونہ ہے۔ نیز علی ان تعلمنی، کے کلمات کریمہ میں حضرت خضر کو عالم اور معلم اور اپنے آپ کو متعلم قرار دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ اور مماعلمت کے کلمہ سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ کو جو علم ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔ الھی :۔ انت ربی، خلقتنی وانا علی عہدک ووعدک ما استطعت ولا حول ولا قوہ الا بک، علیک توکلت، والیک انیب، فاغفربی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم انت المستعان وعلیک التکلان، فی کل حین وان، فخذنی بناصیتی الی مافیہ حبک والرضابکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، یامن رحمتہ وسعت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ وتعالیٰ ۔ 15 شوال 1428 ھ 25 اکتوبر 2007 ء دبئی ، متحدہ عرب امارات والحمد للہ رب العالمین۔:
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کچھ پوچھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ بلاشبہ آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ گئے،2

1. 119 حضرت موسیٰ کی طرف سے آخری موقعہ کی تعیین : سو حضرت موسیٰ نے آخری موقعہ کی تعیین کرتے ہوئے حضرت خضر سے کہا کہ " اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کچھ پوچھا تو آپ مجھے اپنے سے علیحدہ کردینا " کہ یقینا ایسی صورت میں آپ میری طرف سے معذوری کو پہنچ گئے۔ یعنی اب مجھے الگ کردینے پر آپ معذور ہوں گے اور آپ پر کوئی الزام و اعتراض نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسے میں آپ بھی معذوری کی انتہاء کو پہنچ چکے ہوں گے اور اس کے بعد میں بھی آپ کے ساتھ نہیں چل سکوں گا۔ کیونکہ تین مرتبہ دینے سے حجت پوری ہوجائے گی اور حضرت موسیٰ کا یہ کلام انتہائی ندامت کی بناء پر تھا کہ مجھے اپنی طرف سے پختہ وعدہ کرنے کے باوجود حضرت خضر سے اس طرح بار بار پوچھنا پڑرہا ہے۔ اسی لیے صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت موسیٰ پر۔ اگر آپ (علیہ السلام) صبر کرلیتے تو کچھ اور عجائب کا اظہار ہوجاتا۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ سو یہاں سے پھر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ ورنہ حضرت موسیٰ نہ اس طرح کرتے اور نہ ان کو ایسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا۔ بہرکیف دوران سفر جب حضرت خضر نے ایک لڑکے کو بلاوجہ قتل کردیا تو حضرت موسیٰ اپنی معروف شان جلالی اور اپنے عظیم منصب مقدس کی بنا پر اس کو ٹھنڈے دل سے برداشت نہ کرسکے۔ اور غصے میں بپھر کر حضرت خضر سے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ اور معصوم بچے کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یونہی قتل کردیا۔ یقینا آپ نے ایک بڑی بےجا حرکت کا ارتکاب کیا تو حضرت خضر نے آپ کو یاد دلایا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ تو اس پر حضرت موسیٰ نے کہا کہ اگر اس کے بعد میں آپ سے اس طرح کا کوئی سوال کروں تو آپ کو حق ہوگا کہ آپ مجھے اپنے سے علیحدہ کردیں۔ یقینا اس صورت میں آپ میری طرف سے معذور ہوں گے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چل دئیے یہاں تک کہ جب وہ دونوں پہنچے ایک بستی والوں کے پاس، تو ان سے کھانا مانگا، مگر انہوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا۔ اسی اثنا میں انہوں نے اس بستی میں ایک دیوار دیکھی جو کہ گرا چاہتی تھی، تو اس (بندہ خدا) نے اس دیوار کو سیدھا کردیا، اس پر موسیٰ پھر بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت ہی لے لیتے،3

120 مکارمِ اَخلاق کا ایک نہایت عمدہ اور بےمثال نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے شہر میں ایک ایسی دیوار کو پایا جو گرا چاہتی تھی تو اس بندئہ خدا نے اس دیوار کو سیدھا کردیا "۔ اپنے ہاتھ سے دبا کر۔ اپنی کرامت کے طور پر۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) ۔ اس لئے جمہور مفسرین کرام کے نزدیک یہ کام آپ سے خرق عادت اور معجزانہ طور پر صادر ہوا۔ (مراغی، ابن کثیر اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یوں دوسرا قول اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس کو گرا کر دوبارہ بنایا۔ ابن عباس سے دونوں قول مروی ہیں۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ وَالظَّاھِرُ ھُوَ الْاَوَّلُ وَعَلَیْہِ الْجَمْھُوْرُ ۔ بہرکیف لفظوں میں دونوں کا احتمال موجود ہے اور دونوں میں دو عظیم درس موجود ہیں۔ پہلی صورت میں یہ ایک معجزانہ عمل ہوگا جو خرق عادت کے طور پر آپ کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا گیا۔ اور دوسری صورت میں یہ مکارم اخلاق اور خدمت خلق کا ایک اعلیٰ نمونہ اور نمایاں عملی مظہر ہوگا۔ اور وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے ان کی مہمانی کرنے اور ان کو کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا تھا۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی ۔ اللہ ہمیں بھی ایسے مکارم اخلاق اور خدمت خلق کے جذبہ صادقہ سے نوازے اور سرفراز فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو اس بستی کے ان کمینے لوگوں کی کمینگی اور بخالت کا یہ نمونہ پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے دو عظیم الشان اور مبارک و مسعود مہمانوں کو کھانا دینے کے لیے بھی تیار نہ ہوئے لیکن دوسری طرف حضرت خضر نے ان کی اس کمینگی کے باوجود ان کے گاؤں میں پائی جانے والی اس دیوار کو ازخود اور یونہی مفت سیدھا کردیا۔ اور کسی محنت و مزدوری یا اجرت وغیرہ کا کوئی سوال تک نہیں۔ سو یہ مکارم اخلاق کا ایک نہایت ہی عمدہ اور بےمثال نمونہ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 121 حضرت موسیٰ کا حضرت خضر پر پھر اعتراض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر کوئی اجرت ہی لے لیتے تاکہ اس سے ہم اپنے کھانے پینے کا سامان کرلیتے۔ اور ان لوگوں کیلئے بھی ایک درس عبرت ہوجاتا جنہوں نے ہمیں ضرورت و طلب اور مانگنے کے باوجود کھانا تک نہ دیا۔ تو آپ نے ایسا کیوں نہ کیا کہ ان بےقدرے اور ناشکرے لوگوں سے کوئی اجرت ہی لے لیتے جو کہ آپ کے اس عمل کا حق بنتا تھا اور جس کے ہم ضرورتمند بھی ہیں۔ اور ایسے بداخلاق لوگ اس قابل ہی نہیں کہ ان کا کوئی کام مفت کیا جائے۔ سو ظاہر کے اعتبار سے حضرت موسیٰ کا سوال و اعتراض بالکل صحیح اور درست تھا۔ لیکن اصل حقیقت اور باطن امر کے لحاظ سے حضرت خضر کا عمل درست تھا۔ جیسا کہ آگے کشف حقیقت کے بعد واضح ہوا۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی درس ملتا ہے کہ کسی کے بارے میں محض ظاہر کے اعتبار سے کوئی حکم نہیں لگا دینا چاہیے جب تک کہ اصل حقیقت کی پوری طرح چھان بین نہ کرلی جائے اور حقیقت حال پوری طرح واضح نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص اپنا کیس لے کر آئے جس کی ایک آنکھ نکلی ہوئی ہو تو بھی تم اس کے حق میں کوئی فیصلہ مت کرو یہاں تک کہ دوسرے فریق کی بات بھی نہ سن لو۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ دوسرا شخص آئے تو اس کی دونوں آنکھیں نکلی ہوئی ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نور حق و ہدایت سے سرفراز و مالامال رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

اس پر اس شخص نے کہا کہ یہ جدائی کا وقت ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو حقیقت بتائے دیتا ہوں ان سب چیزوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔4

122 حضرت موسیٰ و خضر کی جدائی اور مسئلہ حیات خضر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس سے حضرت موسیٰ اور خضر کی جدائی ہوگئی۔ سو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ " یہ ہمارے درمیان جدائی کا وقت ہے "۔ یعنی جدائی کے جس وقت کے بارے میں ہمارے درمیان بات طے ہوگئی تھی وہ اب آن پہنچا ہے۔ اس لئے اب ہم ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ حضرت خضر کی زندگی کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے اہل علم اور صوفیاء کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ لیکن محققین کا قول اس کے خلاف ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ حضرت خضر بھی عام لوگوں کی طرح اپنے وقت پر وفات پاچکے ہیں۔ کیونکہ ان کے زندہ رہنے کا قول سورة آل عمران کی آیت نمبر 81 یعنی ۔ { وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیِّیْنَ } ۔ کے مقتضا کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس ارشاد ربانی کے مطابق حضرت خضر کے لئے اگر وہ زندہ ہوتے یہ ضروری تھا کہ وہ حضو ۔ ر ﷺ ۔ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ پر ایمان لاتے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی بات ثابت نہیں۔ نیز یہ قول اس مشہور حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں حضور نے فرمایا تھا " لَا یَبْقٰی عَلٰی رَاْسِ مِأَۃِ سَنَۃٍ مِمَّنْ ھُوَ عَلٰی ظَہْرِ الاَرْض مِنْ لیلتہ تلک " (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اوکما قال (علیہ السلام) ۔ یعنی آج روئے زمین پر جو لوگ موجود ہیں ایک صدی گزرنے پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ جب حضرت امام بخاری ۔ (رح) ۔ سے کسی نے حضرت الیاس اور خضر۔ (علیہما السلام) ۔ کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہیں ؟ تو آپ (رح) نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ وہ کس طرح زندہ ہوسکتے ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے کچھ ہی قبل یہ ارشاد فرمایا تھا۔ پھر آپ نے یہی حدیث پیش فرمائی۔ نیز قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَمَا جَعَلَنا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَإِنْ مِّتَّ فَہُمْ الْخٰلِدُوْنَ } (الانبیائ : 34) یعنی " آپ سے قبل ۔ اے پیغمبر !۔ ہم نے کسی بھی انسان کو خلود و دوام کی زندگی نہیں بخشی " سو حیات خضر کا مسئلہ اگرچہ اختلافی ہے اور دونوں قول اہل علم کے یہاں پائے جاتے ہیں مگر محققین کا قول یہ ہے کہ وہ اب زندہ نہیں۔ بلکہ عام انسانوں کی طرح وہ بھی اپنے وقت پر انتقال فرما گئے۔ اور یہی قول ہمارے نزدیک بھی راحج ہے۔ اور جن احادیث و روایات میں ان کی زندگی و بقا کا ذکر و ثبوت ملتا ہے وہ ضعیف الاسناد اور کمزور ہیں۔ جیسا کہ محقق ابن کثیر۔ (رح) ۔ وغیرہ حضرات نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس بارے فرمایا کہ ایسی روایات میں کوئی بھی صحیح نہیں۔ نیز آپ (رح) نے تاریخ البدایہ والنہایہ میں ایسی تمام احادیث و روایات کو جمع کرنے کے بعد کہا کہ ان میں جو احادیث و روایات مرفوعاً بیان کی جاتی ہیں وہ سب نہایت ضعیف ہیں۔ اور اس حد تک کہ وہ سند نہیں بن سکتیں اور ان سے استدلال صحیح نہیں۔ اور علامہ ابو الفرج ابن الجوزی ۔ (رح) ۔ نے تو اپنی کتاب " عجلۃ المنتظر فی شرح حالۃ الخضر " میں ایسی تمام روایات کے بارے میں فرمایا کہ یہ تمام موضوع اور من گھڑت ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آپ (رح) نے علم جرح و تعدیل کے اصول کے مطابق ان تمام روایات اور ان کی اسانید کی پورے علمی انداز میں چھانٹ پھٹک کی۔ رہ گئیں صوفیائے کرام کی حکایات و روایات اور ان کے قصص و مکاشفات تو وہ شرعی طور پر سند نہیں بن سکتیں ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالی ۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جواہر القرآن، اضواء البیان وغیرہ وغیرہ) ۔ والحمد للہ تبارک وتعالی -
Ayahs 18:79–81

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

سو وہ کشتی جو تھی، اس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ کچھ غریب لوگوں کی تھی جو (اس کے ذریعے) اس سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ میں اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ ان کے آگے ایک ایسا (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔5

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

رہا وہ لڑکا تو اس کا قصہ یہ تھا کہ اس کے والدین ایماندار تھے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ بڑا ہو کر ان کو بھی سرکشی اور کفر میں مبتلا نہ کردے،

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا رب انھیں اس کے بدلے میں ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں بھی اس سے بہتر ہو اور محبت میں بھی اس سے کہیں بڑھ کر ہو،6

123 لفظ وراء کا معنیٰ و مطلب ؟ : لفظ وراء ویسے تو اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنیٰ " اَمام " یعنی " آگے " کے بھی آتے ہیں اور " خلف " " پیچھے " کے بھی۔ (مدارک وغیرہ) ۔ مگر یہاں پر عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس کو " اَمام " یعنی " آگے " کے معنیٰ میں ہی لیا ہے۔ یعنی ان مسکینوں کے آگے جدہر یہ جا رہے تھے ایک ایسا ظالم بادشاہ تھا جو اپنی کسی جنگی مہم کے لیے یا یوں ہی ظلم کی بنا پر ایسی ہر کشتی کو چھین لیتا تھا جو کہ صحیح وسالم ہوتی تھی۔ تو اس بناء پر حضرت خضر نے ان کی کشتی کا پھٹہ اکھاڑ دیا تاکہ ان کی وہ کشتی جو کہ ان مسکینوں کا واحد ذریعہ معاش تھی اس ظالم کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اور اس طرح یہ لوگ اس کے ظلم سے بچ جائیں اور اپنے اس ذریعہ معاش سے محروم نہ ہوجائیں۔ بعد میں اس میں یہ لوگ وہ پھٹہ خود ہی لگا دیں گے۔ اس طرح حضرت خضر نے ان کے ساتھ ایک بڑی نیکی کی تھی اور ان مسکینوں کی اس کشتی کا پھٹہ نکال کر اس کو ناکارہ اور بیکار بنا دینے کے اپنے فعل کی وجہ بیان کر کے اصل حقیقت کو ظاہر کردیا۔ سو اس سے یہ درس عظیم ملتا ہے کہ اگر دنیا میں مسکینوں غریبوں اور نیک لوگوں کو کوئی مالی یا معاشی نقصان پہنچتا ہے تو اس نقصان کے اندر انہی کا کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ اس پر صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہیں۔ اور اس بات کا یقین رکھیں کہ حق تعالیٰ کا کوئی فیصلہ بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی ان حکمتوں اور مصلحتوں کا احاطہ کرنا کسی بشر کے لیے ممکن نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ فکر و نظر اور عقیدئہ وعمل کی صحیح راہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

رہی وہ دیوار تو اس کا معاملہ بھی یہ تھا کہ وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے محض اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں جوان ہو کر اپنی قوتوں کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ خود نکال لیں1 اور یہ سب کچھ میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا، سو یہ ہے حقیقت ان سب باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا

125 دیوار کی اصلاح و مرمت کی حکمت کا بیان : سو اس بارے حضرت خضر نے کہا کہ " وہ دیوار اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اور اس کے نیچے ان دونوں کا ایک خزانہ مدفون تھا۔ اور ان دونوں کا باپ ایک نیک شخص تھا "۔ ظاہر اور متبادر تو اس سے یہی ہے کہ اس باپ سے مراد ان کا حقیقی باپ تھا۔ اور اسی نے یہ خزانہ دفن کیا تھا۔ جیسا کہ بعض علماء نے کہا۔ مگر بعض روایات کے مطابق یہ شخص ان کا دور کا باپ اور ان کا جدِّ امجد تھا۔ جس کی ساتویں پشت میں یہ لڑکے پیدا ہوئے تھے۔ اور بعض میں دسویں پشت کہا گیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نیکی اور ان کی صالحیت ان کی اولاد کے کام آتی ہے اگرچہ اتنی دورجا کر ہو۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، کبیر اور جامع البیان وغیرہ) ۔ اور اسی سے مفہوم مخالف کے طور پر یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ماں باپ کے برے اعمال کے نتائج بھی بعض اوقات بلکہ بسا اوقات ان کی اولاد کو بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام شافعی (رح) نے ایک موقع پر فرمایا کہ زنا ایک قرض ہے جو آدمی کو یا پھر آگے اس کی اولاد کو چکانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ بھی ایک طبعی اور منطقی امر ہے کہ انسان اچھائی یا برائی کا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ دراصل اپنے عمل سے ایک پودا لگاتا ہے۔ خیر کا پودا خیر ہوگا اور شر کا پودا شر۔ اور پودے آگے پھل دینے کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی پودا دو تین ماہ میں پھل دیتا ہے، کوئی پانچ چھ ماہ میں، کوئی سال دو سال میں اور کوئی پچاس ساٹھ سالوں میں وغیرہ وغیرہ۔ پس انسان اپنے عمل کے پودے کا پھل کبھی خود کھائے گا، کبھی اس کی اولاد کھائے گی اور کبھی اس کی آگے والی نسلیں۔ سو نیکی کا نتیجہ و انجام بہرحال نیک ہے اور برائی کا برا ۔ والعیاذ باللہ ۔ 126 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو حضرت خضر نے ان رازہائے سربستہ سے پردہ اٹھانے کے بعد صاف اور صریح طور پر کہا کہ " یہ سب کچھ میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا "۔ بلکہ اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد کے مطابق ہی کیا ہے۔ کیونکہ محض اپنی رائے سے کسی کے جان و مال میں ہاتھ ڈالنا جائز نہیں ہوسکتا۔ پس نہ میں عالم غیب ہوں اور نہ مختار کل۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے حکم کا پابند ہوں۔ اس کی طرف سے جب اور جو حکم ملتا ہے میں اسی کی پابندی کرتا ہوں اور بس۔ پس اس سے اہل بدعت اور ان کے بڑے تحریف پسندوں کی خود ساختہ منطق کی ساری عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے خضر نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اسی کے حکم وارشاد سے تھا۔ میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا۔ اور پھر حضرت موسیٰ سے کہا کہ یہ حقیقت ہے ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔ صحیح بخاری میں ہمام عن ابی ہریرۃ کی سند سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خضر کو خضر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ خشک زمین پر بیٹھے تو وہ سبزے سے لہلہا اٹھے (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ بہرکیف حضرت خضر نے تصریح کردی کہ ان میں سے کوئی بھی کام میں نے محض اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد سے تھا کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے (اے پیغمبر) ذوالقرنین کے بارے میں تو ان سے کہو کہ میں تم کو سنائے دیتا ہوں اس کا کچھ حال،

127 قصہ ذوالقرنین کا کچھ ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں اس کا کچھ حال تم لوگوں کو سنائے دیتا ہوں۔ نہ کہ سب کا سب اور پورا قصہ۔ کیونکہ قرآن حکیم کوئی قصوں کہانیوں یا تاریخ و جغرافیہ کی کتاب نہیں کہ پورا قصہ بیان کرے۔ بلکہ یہ کتاب عظیم کتاب ہدایت ہے۔ جس کا اصل مقصد بندوں کو راہ راست سے نوازنا اور ان کو اپنے خالق ومالک سے ملانا ہے۔ اس لئے اس میں قصے کا صرف وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جو کہ اس کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہو۔ اور اس اعتبار سے ضروری و مفید ہو۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہنا چاہیئے کہ اس ذوالقرنین سے مراد یونان کا وہ سکندر نہیں جس کو سکندر مقدونی اور سکندر رومی بھی کہتے ہیں۔ اور جس نے فارس کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان پر بھی حملہ کیا تھا۔ اور وہ دارا کو قتل کر کے اس کے ملک پر قابض ہوگیا تھا۔ جس کا گزر تین سو سال قبل مسیح میں ہوا تھا اور اس نے سکندریہ کا شہر آباد کیا تھا۔ سو قرآن حکیم میں مذکور ذوالقرنین سے مراد یہ سکندر مقدونی نہیں۔ جیسا کہ کئی اہل علم کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ سکندر مشرک اور آتش پرست انسان تھا۔ جبکہ قرآن حکیم میں مذکور سکندر ایک نیک شخص اور صالح مومن تھا۔ بلکہ بعض نے اس کو نبی بھی قرار دیا ہے۔ لہذا اس سے مراد وہ دوسرا سکندر ذوالقرنین ہے۔ جو کہ سکندر مقدونی سے بھی کوئی دو ہزار سال قبل حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے زمانے میں گزرا۔ جس نے روایات کے مطابق حضرت ابراہیم کے ساتھ بیت اللہ کا طواف بھی کیا تھا۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر اور اپنی تاریخ البدایہ والنہایہ میں اس بات کو بڑے پُر وثوق طریقے سے بیان فرمایا ہے۔ قرطبی (رح) نے بھی سہیلی سے یہی نقل کیا ہے۔ سو اخبار و روایات کی روشنی میں ظاہر یہی ہے کہ ذوالقرنین دو تھے۔ ایک حضرت ابراہیم کے زمانے میں ۔ اور وہی یہاں مراد ہے ۔ اور دوسرا حضرت عیسیٰ کے قریب کے زمانے میں۔ (کبیر، قرطبی، جامع البیان، فتح القدیر اور معارف القرآن وغیرہ) ۔
Ayahs 18:84–85

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور اس کو ضرورت کے مطابق ہر قسم کے ساز و سامان سے نوازا تھا2

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے (پہلے مغرب کی طرف) ایک مہم کا سامان کیا،3

128 ذو القرنین کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور اس کو ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا۔ یعنی ان ذرائع و وسائل کی فراہمی جو نظام مملکت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اس کو ضرورت کے مطابق ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا "۔ یعنی { کل شیء } کا عموم اپنے ظاہر پر نہیں۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو دنیا بھر کی ہر چیز دی گئی تھی کہ ایسا نہ تھا اور نہ ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں جن کی سکندر کو اپنی حکمرانی کے لئے ضرورت تھی۔ اور یہی بلاغت کا ایک معروف ضابطہ و اصول اور اسلوب بھی ہے اور عقل و نقل کا تقاضا بھی۔ اسی لئے کہا جاتا ہے " عُمُوْمُ کُلِّ شَیْئٍ مَا یُنَا سِبُہ " یعنی " ہر چیز کے عموم سے مراد وہی مفہوم ہوتا ہے جو اس کے مناسب ہو "۔ سو حضرت ذوالقرنین کو اپنی حکومت چلانے اور اپنی فتوحات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جس علم و حکمت، زور و قوت، اسباب اقتصاد و معیشت اور سامان حرب و ضرب وغیرہ کی ضرورت تھی وہ سب ہم نے ان کو بہم پہنچا دیا تھا۔ اور ان کو اپنی قدرت و عنایت کی بناء پر اس سے نواز دیا تھا۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اور حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کو ذو القرنین اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ظاہری اعتبار سے دنیا کے دونوں کونوں یعنی مشرق و مغرب تک پہنچ گیا تھا۔ اور مشرق سے لے کر مغرب تک کی دنیا کا فرمانروا اور بادشاہ بن گیا۔ اور ظاہری اور باطنی دونوں علوم کی روشنی سے منور و مالامال ہوگیا۔ (فتح الباری جلد 6 صفحۃ 272 وعمدۃ القاری جلد 7 صفحۃ 327 وغیرہ) ۔ والحمد للہ جل وعلا فانہ ہو الوہاب سبحانہ وتعالی -