Ayah 15:8064۔ حجر والوں کے جرم انکاروتکذیب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حجروالوں نے بھی جھٹلایا رسولوں کو کہ ایک رسول کی تکذیب سب کی تکذیب ہے کہ سب انبیائے کرام کی دعوت اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے ایک ہی تھی۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) " حجر " ایک بستی کا نام ہے جو کہ مدینہ اور شام کے درمیان واقع تھی۔ اور آج کل اس کو مدائن صالح بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بستی قوم ثمود کا مسکن تھی جو اپنے دور کی بڑی تمدن اور ترقی یافتہ قوم تھی، اس کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے ان کی تکذیب ہی کی۔ جس کے نتیجے میں آخرکار اس قوم کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:81–8365۔ آیات الہی سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ،۔ والعیاذ باللہ : ؎ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی اپنی نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے روگردانی ہی برتتے گئے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کررہے ہم نے بہرحال ان کو حق کو واضح کرنے والی نشانیاں دی تھیں، مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی بناء پر حق کو مان کے نہ دیا اور وہ برابر روگردانی ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ کررہے اپنے آخری انجام کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک کی نشانیوں سے اعراض برتنے اور روگردانی کرنے کا آخری نتیجہ اور انجام ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " آیات " یعنی نشانیوں کے عموم میں عقلی و فطری دلائل بھی شامل اور داخل ہیں اور حسی معجزات بھی۔ اور حسی معجزات میں سے ایک بڑا معجزہ اور نشانی ناقہ صالح بھی ہے جس کا ذکرخود قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے ان کو اس کے علاوہ اور بھی مختلف معجزات دیے گئے ہوں لیکن قرآن حکیم میں ان کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ان کی طرف صرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہاں پر مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان لوگوں کے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تمام معجزات و دلائل ان کے لیے بےسود اور بےاثر ہی رہے اور یہی نتیجہ وانجام ہوتا ہے عناد وہٹ دھرمی کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:8467۔ محض مادی ترقی عذاب الہی سے نہیں بچا سکتی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے کچھ کام نہ آسکی ان کی زندگی بھر کی کمائی عذاب الہی اور اس کی گرفت سے چھڑانے کے سلسلے میں۔ پس مادی ترقی کو سب کچھ سمجھ لینا اور اسی پر مست ومگن ہوجانا دراصل پیش خیمہ ہوتا ہے بڑی ہولناک تباہی اور خوفناک انجام کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ اصل چیز جس پر سب دارومدار ہے وہ ایمان و عقیدہ کی دولت اور عمل و کردار کی وہ پونجی ہے جس پر فرد وملت سب کی صلاح و فلاح کا مدارو انحصار ہے۔ جو کہ موقوف ومنحصر ہے نوروحی و ہدایت پر۔ بہرکیف اس بدبخت قوم پر اس کی تکذیب وانکار کے نتیجے میں آخرکار ہولنا اور تباہ کن عذاب آکر رہا جس سے ان کو ان کے پیغمبر نے خبردار کیا تھا۔ جس سے یہ لوگ ہمیشہ کے لیے مٹ مٹاگئے اور قصہ پارینہ بن کر رہ گئے۔ اور اپنی جس صناعی کاریگری اور مادی ترقی پر ان کو ناز تھا وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکی۔ اور یہ صرف اسی بدبخت قوم کے ساتھ کے ساتھ خاص یا اسی پر منحصر نہیں بلکہ ہمیشہ رہا اور آج تک موجود ہے۔ اور اس کے مختلف نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے سامنے آتے ہیں۔ مگر ان سے عبرت کوئی نہیں پکڑتا۔ الا ماشاء اللہ۔
Ayahs 15:85–8668۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس کائنات کو مگر حق کے ساتھ۔ اور بڑا اور بنیادی مقصد اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق کا یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اور اس میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کو اور اس کی عظمت شان اور وسعت رحمت کو پہچانے۔ اور دل وجان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور حیات مستعار کی فرصت محدود کو اس کی عبادت و بندگی میں صرف کرکے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ہونے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی دائمی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا سامان کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحول۔
Ayahs 15:87–8870۔ (سبع مثانی) سے مقصود و مراد ؟۔ ایک قول کے مطابق (سبع مثانی) سے مراد " سبع طوال " یعنی " سات بڑی سورتیں " ہیں یعنی بقرہ، ال عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف، اور یونس۔ یہ قول ابن مسعود ابن عمر، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ کا ہے۔ پھر اس میں آگے " سبع طوال " کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ چناچہ ایک قول یہ ہے کہ جس کے مطابق ساتویں سورت اس میں سورة توبہ ہے۔ اور انفال اس کے ساتھ شامل ہے۔ دوسرے قول کے مطابق اس میں توبہ کی بجائے سورة یونس شامل ہے بہرکیف (سبع مثانی) سے مراد اس قول کے مطابق یہ سات سورتیں ہیں، جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو نماز وغیرہ میں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ اور صحیح بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ سو اس سے اگرچہ یہ متعین اور واضح ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے لیکن یہ حصر کے طور پر نہیں فرمایا گیا۔ پس اس سے اس بات کی نفی لازم نہیں آتی کہ " سبع طوال " بھی اس میں داخل ہوں۔ کیونکہ " سبع مثانی " کا جو معنی سورة فاتحہ میں پایا جاتا ہے وہ ان مختلف سورتوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ، معارف، محاسن التاویل اور جامع البیان وغیرہ)
Ayah 15:8974۔ پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : چناچہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے کھول کر حق اور حقیقت سے۔ اور وہ میں کرچکا۔ آگے اس کو منوالینا اور تم کو راہ راست پر لے آنا نہ میرے ذمے ہے نہ میرے بس میں۔ یہ حق تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ سو پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ ہوتا ہے۔ یعنی پیغام حق پہنچا دینا اور حق کو ان کے سامنے پوری طرح واضح کردینا ہے۔ تاکہ جس نے ماننا ہو وہ مانے اور جو نہ مانے وہ اپنے انجام کو پہنچ کررہے۔ سو دلوں کو پھیر دینا اور حق بات منوا لینا نہ پیغمبر کے بس میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ تو اللہ پاک کی شان اور اسی کا کام ہے۔ کہ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل کی کیفیت اور نیت کیا ہے، کون کس لائق ہے، سو وہ اپنے اسی کمال علم وحکمت اور مشئت مطلقہ کے تقاضوں کے مطابق ہر کسی سے معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ (المعارف، المراغی، وغیرہ )
Ayahs 15:90–9275۔ منکریں و مکذبین کے لیے بڑی تنبیہ : سو اس میں یہ تنبہیہ ہے کہ موجودہ دور کے منکرین پر بھی عذاب اسی طرح آسکتا ہے جیسا کہ پہلوں پر آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے ایک ہے۔ اور جس جرم کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا تھا آج اسی کے مرتکب یہ لوگ ہورہے ہیں، پس ان کو سنبھل جانا چاہئے اور اپنی روش بدل لینی چاہیے۔ یہ (کما انزلنا) کی تفسیر کا ایک احتمال ہے۔ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ نے اپنے ترجمہ کے اندراسی کو اختیار فرمایا ہے، جب کہ اس میں دوسرا احتمال جس کو دوسرے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے یہ بھی کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا جس طرح کہ ہم نے اس سے پہلے ان مقتسمین یعنی حصے بخیے کرنے والوں پر اپنا قرآن اتارا تھا۔ جنہوں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی یہود، جنہوں نے اپنے قرآن یعنی تورات کو ورقے ورقے کر رکھا تھا، جیسا کہ سورة انعام میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا الآیہ (الانعام : 91) کہ تم لوگ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کچھ اوراق واجزاء کو ظاہر کرتے اور بہت سوں کو چھپا دتے ہیں جیسا کہ سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض الآیہ (البقرۃ : 85) یعنی کیا تم لوگ کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو ؟ اسی لئے اس میں یہ قول و احتمال بھی موجود ہے کہ یہ تنبیہہ جو آج تم لوگوں کو کی جاری ہے ویسی ہی تنبیہ ہے جو اس سے پہلے ان حصے بخیے کرنے والوں یعنی یہود کو کی جاچکی ہے انہوں نے جو انجام دیکھا وہ تمہارے سامنے ہے اب تم اپنے بارے میں خود سوچ اور دیکھ لو کہ تم کونسی راہ اپناتے ہو اور کس انجام کے مستحق بنتے ہو ؟ سو اس میں ہر دور کے کفار و منکرین کے لیے بڑی تنبیہ تہدید ہے کہ ہو باز آجائیں۔ ورنہ ان کا بھی وہی حشر ہوسکتا ہے جو پہلوں کا ہوچکا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:93–9577۔ سب کی باز پرس کی قطعیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حلف وقسم کی قطعیت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی قسم ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان کے ان کاموں کے بارے میں جو یہ کرتے رہے تھے تاکہ یہ اپنے کئے کرائے کا صلہ وبدلہ پاس کیں۔ پس آپ ﷺ کو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے اور صحیح طور پر نمٹ لیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ جلد ہی اپنے کیفر کردار کو پہنچ کررہے۔ فالحمد للہ والعیاذ بہ جل وعلا۔ ابوالعالیۃ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب بندوں سے دو باتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔ ایک یہ کہ وہ کس کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ اور دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ) سو اس طرح معاملہ پوری طرح واضح ہوجائیگا۔
Ayah 15:9678۔ شرک کے گھناؤنے پن اور پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا ذکر وبیان : سو ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جس حق اور ہدایت سے آپ کو نوازا گیا ہے اس کو آپ بلاکم وکاست آگے پہنچا دیں، اور مشرکین تمہارے خلاف جو بکواس کریں ان کا کوئی نوٹس نہ لیں، ان سے ہم خود نمٹ لیں گے، عنقریب ان کو خود معلوم ہوجائے گا کہ آپ کا پیغام سراسر حق اور سچ تھا اور کفرانکار کی جس راہ پر یہ چل رہے ہیں اس کا نتیجہ وانجام سراسر ہلاکت و تباہی ہے، سو یہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی معبود قرار دیتے ہیں بڑے ہی خسارے اور ہلاکت و تباہی کی راہ پر چل رہے ہیں اور مزید یہ کہ یہ لوگ حق اور اہل حق کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اور اس طرح یہ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں حضور ﷺ کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ ان لوگوں کی سرکشی صرف آپ ہی تک نہیں بلکہ یہ بدبخت تو حضرت حق جل مجدہ کی جناب اقدس واعلیٰ میں بھی سخت گستاخی کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ لوگ دوسرے خود ساختہ معبود ٹھہراتے ہیں۔ سو جو لوگ حضرت حق جل مجدہ کی شان اقدس واعلی میں بھی اس طرح کی کوئی گستاخی سے نہیں چوکتے ان سے کسی خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 15:97–9879۔ پیغمبر کے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ آپ کا سینہ تنگ ہورہا ہے ان لوگوں کی باتوں سے جو یہ حق اور اہل حق کے خلاف بنا رہے ہیں کہ یہ انسانی فطرت وجبلت کا تقاضا ہے کہ جہاں ایک طرف سراسر نصیحت وخیر خواہی اور اخلاص وللہیت ہو اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں انکار وبے قدری اور ناشکری و شرانگیزی اور فتنہ سامانی ہو۔ تو اس سے صدمہ اٹھانا اور دل گیر ہونا ایک طبعی امر ہے لیکن اس کے باوجود آپ صبر وضبط ہی سے کام لیں، اور ان لوگوں کی دکھ دہ اور دلآزار باتوں کی بناء پر غمگین اور دل گیر نہ ہوں۔ اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک ہی کے حوالے کردیں۔ وہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ اور ایسے طور پر نمٹے گا کہ ہر ذی حق کو اس کا پورا حق ملے جائے گا اور عدل وانصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہوجائیں گے۔ اور اسی سے حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق کی حکمت پوری ہوسکے گی۔
Ayah 15:9980۔ رب کی تسبیح وتحمید کا حکم وارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تسبیح کرتے رہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ سو اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہر غم کا علاج ہے، اسی لئے آنحضرت ﷺ کو اس کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس سے آپ کے سب غم غلط ہوجائیں گے اور سب تنگیاں دور ہوجائیں گی۔ اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی مشکل پیش آتی تو نماز کی طرف جلدی فرماتے " اذا حزبہ امر فزع الی الصلاۃ " (ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن، مدراک التنزیل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشادربانی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تسبیح اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہر درد کی دوا اور ہر غم کا علاج ہے۔ لیکن افسوس کہ دنیا اس سے غافل وبے خبر ہے الا ماشاء اللہ۔ فسبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔
81۔ یقین سے مراد موت : یعنی (یقین) کے لفظ سے یہاں پر موت مراد ہے۔ جبکہ جمہور مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور امام بخاری (رح) جیسے کبار محدثین کرام نے بھی (یقین) سے یہاں پر موت ہی مراد لی ہے۔ (ملاحظہ ہو، ابن کثیر، ابن جریر محاسن التاویل، روح المعانی، جامع البیان، معارف القرآن، صفوۃ التفاسیر، قرطبی، صحیح بخاری وغیرہ) پس روافض وغیرہ اہل زیغ وضلال اس لفظ (یقین) سے جو اور معانی اور مطلب نکالتے اور بیان کرتے ہیں وہ غلط اور ان کی اپنی زہنی ایچ اور اختراع ہے کہ مردود ہے۔ اور موت کو یقین کے لفظ سے جو تعبیر فرمایا گیا وہ اس لئے کہ موت ایک ایسی اٹل اور یقینی حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ منکروں اور دہریوں کو بھی اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔ فایاک نسال اللہم حسن الختام وعلی افضل الکلام، وان تمیتنا علی احسن الاحوال، وعلی ماتحب وترضی من الاقوال والافعال، انک انت الحنان المنان، وارحم بنامنا لانفسنا، وصل اللہم وسلم علی حبیک المجتبی ونبیک المصطفی، الذی اخرجتنا بہ من الظلمت الی النور، وھدیتنا بہ الی دارالسلام، وعلی الہ الاطہار، واصحابہ الکرام، وانا عبدک العاصی ولرحمتک الراجی محمد اسحاق خان (عفا اللہ عنہ وعافاہ) الساکن بمنطقۃ ام ھریر۔ دبی متحدہ عرب امارات، والحمد للہ رب العالمین۔ الذی لا تتم الصالحات الا بتوفیق منہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔