15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 15:40–43

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے چن لیا ہوگا،1

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا ہاں (ایمان و اطاعت کا) یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے،

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک میرے خاص بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چل سکے گا، سوائے ان بہکے ہوئے لوگوں کے، جو خود ہی تیرے پیچھے چل پڑیں گے،

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کا ٹھکانا یقنی طور پر جہنم ہے،2

36۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے استثناء کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس نے اپنے چیلنج سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا استثناء کرتے ہوئے کہا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا ‘ کہ ان پر میرا زور نہیں چل سکے۔ یہ ترجمہ ہے " مخلصیں " کا یعنی لام کے زبر کے ساتھ۔ اور دوسری قراءت اس میں " مخلصین " کی بھی ہے۔ یعنی لام کی زیر کے ساتھ، جس کے معنی ہیں خالص کرنے والے۔ یعنی جو اپنے عقائد اور اعمال کو خالص کرنے والے ہوں گے ہر طرح کے شرک اور ریاء ونمود کے شوائب سے۔ اور یہ دونوں مطلب درست اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے نظم قرآن کی جامعیت کے۔ سو صدق و اخلاص کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے جو کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ایسی خاص عنایات کا مستحق بناتی ہے جس سے وہ ابلیس کے وار سے اور اس کے اغواء واضلال سے محفوظ رہتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات کے علاوہ یہاں پر بھی بعد کی آیت کریمہ میں اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی۔ یعنی میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان گمراہوں کے جو خود ہی تیرے پیچھے چل پڑیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ابلیس لعین نے (الاعبادک منہم المخلصین) کے اس استثناء سے اس حقیقت کو ظاہر اور واضح کردیا کہ میری ان فتنہ سامانیوں سے تیرے ایسے خاص بندے محفوظ رہیں گے۔ ان پر ان کا کوئی اثر نہیں چلے گا اور ایسے خوش نصیب میرے اس ابلیسی جال میں پھنسنے سے بچے رہیں گے جن کو تونے اپنی توحید اور یاد آخرت پر قائم رہنے کے لیے خاص کرلیا ہوگا۔ ان کے علاوہ وہ تمام لوگ میرے اس جال میں پھنس کر اور الجھ کر رہیں گے جو تیری یاد اور فکر آخرت سے غافل ہو کر خواہشات نفس اور ہواوہوس کے بندے بن کر رہیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:44

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

جس کے ساتھ دروازے ہیں، ان میں ہر ایک دروازے کے لئے ایک حصہ ہے طے شدہ،

37۔ جہنم کے ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مقرر ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس کے پیروکاروں کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا جس کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے کے لیے ایک حصہ ہوگا طے شدہ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اپنے اپنے عمل و کردار کے مطابق اس سے داخل ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو شیطان کے ایسے پیروکاروں نے اس کی پیروی میں ایسے دروازے سے بہرحال داخل ہونا ہوگا۔ اس سے بچنے کی ان کے لیے کوئی سورت ممکن نہ ہوگی۔ (ابن کثیر، المراغی، وغیرہ) اور جہنم کے ان دروازوں سے بعض نے اس کے مختلف طبقات مراد لیے ہیں۔ اور وہ ہیں جہنم پھر لظی پھر حطمہ پھر جحیم پھر ہاویہ۔ ان میں سے سب سے اوپر والاطبقہ گناہ گاراہل ایمان کے لیے ہوگا۔ دوسرا یہود کے لیے تیسرا انصاری کے لیے۔ چوتھا صائیبین کے لیے۔ پانچواں مجوس کیلئے۔ چھٹامشرکین کے لیے اور ساتواں منافقین کے لیے۔ سو جہنم سب سے اوپر ہوگا۔ پھر بعد والے طبقات اس کے نیچے ہوں گے۔ قالہ ان جریح (المراغی، المعارف اور الفتح وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہی ابن عباس سے مروی ہے لیکن اس کی تائیدوتصدیق میں کوئی مرفوع حدیث یا اثر موجود نہیں۔ جس کا اس طرح کے غیبی علوم و حقائق پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ غیبی حقائق کا علم اور اس تک رسائی نوروحی اور ارشاد الہی کے بغیرممکن نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے شیطان کے پیروکاروں کے انجام کو واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر ابلیس کی راہ پر چلیں گے ان کے لیے دوزخ اور اس کے درجات ہیں۔ خواہ ایسے بدبختوں کا تعلق انسانوں سے ہو یا جنوں سے۔ اور خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے جس میں ان سب کو بہرحال داخل ہونا ہوگا۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:45–46

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

(اس کے برعکس) پرہیزگار لوگ یقینی طور پر عظیم الشان جنتوں اور چشموں میں ہوں گے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاؤ تم ان میں ہر طرح کی سلامتی اور پورے امن (و سکون) کے ساتھ

38۔ پرہیزگاروں کے حسن انجام کا ذکر وبیان : سودوزخیوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے پرہیزگاروں کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پرہیزگار لوگ یقینی طور پر عظیم الشان جنتوں میں ہوں گے، یعنی وہ خوش نصیب جنہوں نے کفر و شرک اور معصیت وغیرہ ہراس چیز سے پرہیز کیا ہوگا جو خدا وندقدوس کی ناراضگی کا باعث بنتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور جن عظیم الشان جنتوں اور چشموں سے ان کو نوازا جائے گا وہ ایسے عظیم الشان ہوں گے کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے ان سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 39۔ اہل جنت کے لئے دائمی امن و سلامتی کی خوشخبری : سو ان سے فرمایا جائے گا کہ داخل ہوجاؤتم ان میں ہر طرح کی سلامتی اور امن کے ساتھ کہ اب نہ تو تمہیں موت آئے گی اور نہ ہی یہ نعمتیں زائل ہونگی کہ یہ " دارالخلود " اور اس کی یہ نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہونگی۔ اور چونکہ یہ عطاء وبخشش اس ذات اقدس واعلی کی طرف سے ہوگی جو کہ اکرم الاکرمین اور وہاب مطلق ہے۔ جل وعلاشانہ اس لئے وہ ان نعمتوں کو عطاء فرمانے کے بعد پھر کبھی چھینے گا نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اب تم اے اہل جنت پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ ان سے متمتع و مستفید ہوتے رہو۔ اللہم شرفنا بھا واجعلنا من اھلہا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ سو تقوی و پرہیزگاری باعث نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے۔ جس کا تقوی جس قدر بلند ہوگا وہ اسی قدر فائز المرام ہوگا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 15:47

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور نکال دیں گے ہم ان کے سینوں سے جو بھی کوئی کھوٹ (کھپٹ دنیاوی زندگی میں ان کے دلوں میں) رہا ہوگا وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر (نہایت سکون و اطمینان سے) بیٹھے ہوں گے،

40۔ جنتیوں کے سینوں کی صفائی کا ذکر و بیاں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت کے سینوں کو صاف کردیا گیا ہوگا، چناچہ ہر قسم کے غل وغش حقدوحسد اور کھوٹ کھپٹ سے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف طور پر فرمایا گیا اور نکال دیں گے ہم جو بھی کوئی کھوٹ کھپٹ ان کے سینوں میں ہوگا۔ تاکہ وہاں ان کے سینوں میں کوئی ایسی کدورت باقی نہ رہ جائے جو ان کے لئے کسی بھی طرح کی خلش کا باعث ہو۔ جیسا کہ جنگ جمل اور صفین میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان باہمی جنگ وجدال کی صورت میں بتقاضائے بشریت ہوگئی تھی۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں امید رکھتا ہو کہ میں اور عثمان اور طلحہ وزبیر انہیں لوگوں میں سے ہوں گے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، مدارک التنزیل وغیرہ) اور حضرت ربعی بن خراش حضرت علی ؓ سے یہی بات نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں اس موقعہ پر بنوہمدان کے ایک شخص نے کھڑے ہوکرکہا " اللہ اعدل من ذالک یا امیر المومنین " یعنی " امیرالمومنین اللہ اس سے کہیں زیادہ عدل وانصاف والا ہے کہ وہ ایسا کرے " تو اس پر حضرت علی ؓ نے ایک ایسی زور کی چیخ ماری کہ مجھے ماری کہ مجھے یوں لگا کہ پورا محل اس سے ہل گیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اگر ہم بھی اس کے مصداق نہیں تو پھر اور کون ہوگا ؟ اذا لم نکن نحن فمن ھم ؟ (ابن کثیر، ابن جریر اور مراغی وغیرہ) ۔ اور اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایات موجود ہیں۔ 41۔ جنت کے باسیوں کی باہمی بودوباش سچے بھائیوں کی طرح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ باہم بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے، اور اس طرح وہ باہمی دید زیارت اور گفتگو سے اپنے سرور کو دوبالا کررہے ہوں گے۔ اور اس طرح باہم بیٹھنا ہی بڑے سرور وانبساط اور سکون واطمینان کا ثبوت ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین۔ روایات میں ورارد ہے کہ ان کے وہ تختے " سرر " ایسے عظیم الشان اور بےمثال قسم کے ہوں گے کہ یہ جدھر بھی پھرنا چاہیں گے وہ ان کو لے کر خود بخود ادھرہی پھرجائیں گے اور آپ میں چلتے پھرتے باتیں اور ملاقاتیں کرتے یہ لوگ ایک دوسرے کی طرف پشت نہیں کریں گے۔ (المراغی وغیرہ) سبحان اللہ۔ کیا شان ہوگی ان کی اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے دلوں کو چونکہ ہر قسم کے کھوٹ کھپٹ سے پاک صاف کردیا گیا ہوگا اس لئے وہ آپس میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے آمنے سامنے جنت کے عظیم الشان تختوں پر فروکش ہوں گے۔ جن لوگوں کے دلوں میں نفسیاگی کدروتیں ہوتی ہیں وہ اگر کسی مجلس میں اکٹھے مل بھی جائیں تو بھی ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن اللہ سے ڈرنے والوں کا معاملہ الگ اور ان کی صفت وشان اس سے مختلف ہوتی ہے کہ ان کی دلوں میں اول تو نفسیاتی کدروتیں پیدا ہی نہیں ہوتیں۔ اور اگر کبھی پیدا ہو بھی جائیں تو کشف حقائق کے بعد وہ دور ہوجائیں گی اللہ تعالیٰ ان کے اثرات سے بھی ان کے دلوں کو پاک صاف کردے گا جس کے نتیجے میں وہ باہم شیروشکر ہو کر ایک ہوجائیں گے۔ تاکہ کسی کے قلب وباطن میں کوئی خلش اور بوجھ باقی نہ رہے۔ والحمد اللہ جل وعلا۔
Ayahs 15:48–49

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

انھیں نہ تو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی انھیں وہاں سے کبھی نکالا جائے گا،3

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

خبر کردو (اے پیغمبر ! ) میرے بندوں کو، کہ بیشک میں بڑا ہی درگزر کرنے والا، انتہائی مہربان ہوں،

42۔ اہل جنت کے لئے دائمی سکون وقرار کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی ان کو کبھی وہاں سے نکالا جائیگا۔ کہ وہاں اس کی نعمتیں دائمی اور وہاں کا قیام ابدی ہوگا۔ اور یہ سب لطف وکرم اور انعام واحسان ہوگا اس اکرم الاکرامین کی طرف سے جس کے کرم کی نہ کوئی حد ہوگی نہ انتہاء۔ سبحانہ وتعالیٰ اس لئے وہ اپنے ان خوش نصیب بندوں کو جنت کی ان سدابہار نعمتوں سے نوازنے کے بعد کبھی محروم نہیں کرے گا۔ اور یہ خوش نصیب خلود ودوام کی اس نعمت اور اس کی لذت آفرینی کو ہمیشہ محسوس کریں گے۔ سو ان کے لیے وہاں خلود ہوگا بلازوال۔ اور کمال ہوگا بلانقصان اور فوز و فلاح ہوگی بلاحرمان۔ اللہم شرفنا فھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔
Ayahs 15:50–51

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا ہی (سخت اور) دردناک عذاب ہے،

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انھیں ذرا ابراہیم کے مہمانوں کا قصہ بھی سنا دو

43۔ خوف ورجاء دونوں کی ضرورت : پس تم میری بخشش و رحمت کی امید بھی رکھو اور ہمیشہ رکھو، اور میری پکڑ اور عذاب کا خوف بھی اور ہمیشہ کے لئے کہ ایمان خوف ورجاء ہی کے درمیان ہے۔ پس اس کی رحمت و عنایت اور بخشش پر تکیہ کرکے عمل سے لاپرواہی برتنا بھی غلط ہے اور اس کی گرفت وپکڑ اور اس کے عذاب کا پورا خوف اور ڈر بھی۔ جیسا کہ اسلاف کرام کا اسوہ تھا۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے متعلق تصور کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ بڑا ہی درگزر فرمانے والا انتہائی مہربان بھی ہے اور اس کا عذاب بھی بڑا ہی دردناک عذاب ہے پس نہ تو کسی کو اس کی ڈھیل سے دھوکے میں پڑنا چاہئے اور نہ کبھی اس طرح کے کسی مغالطے میں مبتلا ہونا چاہئے کہ اس کے یہاں نیک وبد یکساں اور ایک برابر ہیں۔ اور نہ ہی اس کی گرفت وپکڑا اور اس کے عذاب سے بچنا اور بےفکر ہونا چاہئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب کہ وہ ان کے پاس آئے اور انھیں سلام کہا، تو ابراہیم نے ان سے کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگ رہا ہے،

45۔ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان جب ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا، مگر ابراہیم (علیہ السلام) ان سے ڈر گئے، سو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگ رہا ہے کہ آپ لوگ بھی اوپرے چوپرے ہیں۔ اور آئے بھی ہیں بےوقت اور بن پوچھے۔ اور پھر کھانا بھی نہیں کھاتے۔ پتہ نہیں کون ہیں کس لئے اور کس نیت سے آئے ہیں ؟ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختارکل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا عقیدہ ہے۔ ورنہ ابوالانبیاء حضرت براہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو نہ تو ان فرشتوں سے گھبرانے کی کوئی ضرورت تھی اور نہ اس طرح کی بات کرنے کی، سو اس قصے اور اس ارشاد ربانی سے اہل بدعت کے ایسے شرکیہ عقائد کی جڑ نکل جاتی ہے۔ والحمد للہ۔ سو اختیار کلی اور علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے اسمیں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 15:53–55

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ڈرئیے نہیں ہم تو آپ کو خوشخبری سنانے آئے ہیں ایک ایسے عظیم الشان لڑکے کی، جو کہ بڑا علم والا ہوگا،1

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم مجھے اس بڑھاپے میں یہ خوشخبری سنا رہے ہو ؟ سو یہ کیسی خوشخبری تم مجھے سنا رہے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو آپ کو سچی خوشخبری سنا دی ہے، لہذا آپ ناامید نہ ہوں

46۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے خوشخبری در خوشخبری : سو انہوں نے آنجناب کو بیٹے سے سرفرازی کی خوشخبری دی، اور وہ بھی ایسے عظیم الشان بیٹے سے سرفرازی کی جو علیم ہوگا۔ اور وہ بھی اس پیرانہ سالی میں۔ سو کتنی بڑی خوشخبری ہے یہ جو کئی خوشخبریوں پر مشتمل ہے۔ سو انہوں نے کہا کہ یہی خوشخبری ہم آپ کو سنانے آئے ہیں۔ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند نے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے یہاں پر تکلا چلایا ہے کہ " اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو رب نے علوم خمسہ دئیے ہیں کہ باعلام الہی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہاں بیٹا ہوگا " حالانکہ یہاں پر اس بارے نصوص صریحہ موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اسی کام کے لئے مامور فرمایا تھا۔ سو اس پر قیاس کی عمارت کھڑی کرکے دوسروں کے لیے علوم خمسہ ثابت کرنے کی آخر کیا تک ہوسکتی ہے ؟ اور پھر یہ تو ایک جزئی واقعہ ہے۔ اس سے کلی حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے ؟ جب کہ کلی کے ایک فرد کے منتفی ہوجانے سے بھی کلیت کا انتقاء لازم آجاتا ہے۔ اور یہاں ایک نہیں کتنے ہی ایسے امور ہیں جو اس خیال و عقیدہ کی نفی کرتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان علوم خمسہ کی غیر اللہ سے نفی پر قرآن وسنت کی بیشمار اور صاف وصریح نصوص موجود ہیں۔ تو پھر ان کے کسی کیلئے ثابت ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ان فرشتوں کا یہ قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی شان رحمت و عنایت کا ایک واضح ثبوت اور کھلا مظہر تھا کہ اس میں آنجناب کے لیے کئی خوشخبریاں کی جانی تھیں۔ والحمد اللہ جل وعلابکل حال من الاحوال
Ayahs 15:56–57

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

ابراہیم نے فرمایا (یہ تو محض تعجب کی بناء پر ہے، ورنہ) کون ہے جو ناامید ہو اپنے رب کی رحمت سے، بجز گمراہوں کے،2

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر پوچھا اچھا تو تمہاری اصل مہم کیا ہے، اے فرستادگان الٰہی ؟3

47۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام : سو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون مایوس ہوسکتا ہے۔ تو پھر میں اس واہب مطلق جل جلالہ۔ کی رحمت و عنایت سے مایوس ونا امید کیسے ہوسکتا ہوں ؟ سو میں اس کی قدرت و عنایت سے مایوس نہیں۔ بلکہ مجھے اس کی قدرت و عنایت پر پورا یقین و اعتماد ہے کہ وہ قادر مطلق جب ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرنے پر قادر ہے تو پھر اس کے لیے بڑھاپے میں کسی کو اولاد سے نوازنا کیونکر اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ بلکہ میں تو صرف عالم اسباب کے اعتبار سے اپنے تعجب کا ذکر اور اظہار کرتا ہوں۔ (المراغی اور البیضاوی وغیرہ) سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ بیٹے سے سرفرازی کی یہ بشارت من جانب اللہ ہے تو آپ کی زبان مبارک سے بےساختہ یہ کلمات نکلے جس سے اس جذبہ شکروسپاس کا بھی اظہار ہوتا ہے جو اس بشارت کے بارے میں اطمینان حاصل ہوجانے کے بعد آپ کے اندر پیدا ہوا۔ اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے اس بارے جو سوال کیا تھا وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے مایوسی کی بناء پر نہیں تھا بلکہ وہ محض ظاہری اسباب کی نامساعدت کی بناء پر تھا۔ اور مزید برآن آپ نے یہ تصریح بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس وہی لوگ ہوتے ہیں جو گمراہ ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
Ayah 15:58

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ہمیں تو دراصل بھیجا گیا ہے ایک مجرم قوم کی طرف،4

48۔ فرشتوں کی اصل مہم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک مجرم قوم کی طرف، یعنی قوم لوط کی طرف جس نے اپنے جرم کا پیمانہ لبریز کردیا ہے۔ اور وہ ایسی مجرم قوم ہے کہ اب اس کا تعارف ہی اسی وصف جرم سے کرایا جاتا ہے۔ سو ہمیں دراصل اسی مجرم قوم کا کام تمام کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے کہ اب ان کی مدت مہلت ختم ہوچکی ہے۔ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب بیٹے کی خوشخبری سے متعلق مطمئن ہوگئے تو آپ کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ محض ایک بیٹے کی خوشخبری کے لیے فرشتوں کی پوری ایک جماعت کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے اصل مہم کوئی اور ہے۔ اس لئے آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری اصل مہم کیا ہے اے فرستادگان خدا ؟ تو اس کے جواب میں فرشتوں نے اپنے اصل مہم کے اظہار وبیان کے لیے کہا کہ ہمیں دراصل حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس مجرم قوم کی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا ہے جن کی خرمستی اب اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ ان کی مدت مہلت اب ختم ہوگئی ہے اور ان کے آخری انجام کا وقت آگیا ہے۔ جس کے انہوں نے اب ہمکنار ہو کر رہنا ہے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 15:59

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

بجز لوط والوں کے کہ ان سب کو ہم نے بچالینا ہے

49۔ آل لوط سے مقصودومراد ؟ : جس میں آپ کے گھر والے بھی آجاتے ہیں اور آپ کے ایماندار پیروکار بھی (صفوۃ التفاسیر اور المراغی وغیرہ) سو ان کو ہم اس عذاب سے بچا لیں گے کہ ہمیں ان کی نجات و حفاظت کے انتظام کا حکم ہوا ہے۔ سو پیغمبر کی اطاعت و اتباع ذریعہ نجات ہے اور ان کا انکاروتکذیب باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے اصل حقیقت واضح کری کہ ہمیں دراصل قوم لوط کے عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے تو اس سے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ تشویش پیدا ہوگئی کہ لوط اور ان کے آل و اتباع کا کیا بنے گا ؟ تو فرشتوں نے آنجناب کی اس تشویش کو دور کرنے کے لیے اس کی تصریح کردی کہ ان سب کو ہم اس عذاب سے بچائیں گے کہ بچانے والے تو بہرحال ہم ہی ہیں، سب ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو حاجت روا ومشکل کشاسب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayahs 15:60–62

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے ان کی بیوی کے کہ اس کے بارے میں ہم نے طے کرلیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی،5

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب آپہنچے وہ فرشتے لوط والوں کے پاس،

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو اس نے کہا کہ آپ لوگ تو بالکل اجنبی لگتے ہیں،

50۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ لوط (علیہ السلام) کے آل اور ان کے متعلقین سب کو ہم بچا لیں گے، بجز لوط کی بیوی کے، کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہلاک ہو کر اپنے کیفر کردار کو پہنچے گی کہ وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی۔ معلوم ہوا کہ جب تک اپنا عقیدہ و ایمان درست نہ ہو تو پھر پیغمبر کے ساتھ تعلق داری بھی کچھ کام نہیں آسکتی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ ہمارے دور اور ہمارے ملک کے کچھ کلمہ گو مشرکوں اور اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور نہ ہی ہدایت سے نوازکرراہ راست پر لے آنا اور دلوں کو بدل دینا ان کے بس واختیار میں ہوتا ہے۔ ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا یہ حال ومآل نہ ہوتا۔ اور وہ مرتے دم تک کفر پر قائم نہ رہتی۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ والاللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور نورحق و ہدایت سے نوازنا اور سرفراز فرمانا اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کون کس لائق ہے ؟ اسی کے مطابق وہ معاملہ فرماتا ہے۔ اور یہ شان اس کے سوا کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 15:63–64

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا (کہ نہیں ہم آدمی نہیں) بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ کچھ لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے تھے،

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم تو آپ کے پاس سچا حکم لے کر آئے ہیں، اور یقیناً ہم بالکل سچے ہیں،

52۔ فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) سے اظہار حقیقت اور افشائے راز : سو جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں۔ لہذا آپ ہماری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ یہ لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ہم تو آپ کے پاس وہ کچھ لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اور جس کے لئے یہ جلدی مچایا کرتے تھے اور جس کو یہ لوگ ایسے ہی دھمکی قرار دیا کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اب اس عذاب کا وقت آچکا ہے اور ہم ان لوگوں کے لئے اسی عذاب کو واقع کرنے کے لیے آئے ہیں تاکہ یہ اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہیں جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنایا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے اپنی اصل حقیقت اور اصل مہم کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم آدمی نہیں فرشتے ہیں۔ اور ہم وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے آپ اپنی قوم کو ڈراتے رہے ہیں لیکن وہ برابر شک ہی میں پڑے رہے پس ہمیں بشر سمجھ کر کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے۔ اس میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayah 15:65

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

لہذا آپ نکل جائیں (یہاں سے) رات کا کچھ حصہ رہے، اپنے تعلق داروں کو ساتھ لے کر، اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں، تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھیے، اور چل نکلو تم سب جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے،

53۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو فرشتوں کی ہدایت : کہ اب چونکہ اس بدبخت قوم پر عذاب آیا چاہتا ہے۔ لہذا آپ اپنے متعلقین سمیت رات کے پچھلے حصے میں یہاں سے نکل جائیں۔ تاکہ آپ سب اس عذاب سے محفوظ رہیں اور یہ لوگ اپنے کئے کا پھل پائیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے پیاروں کا کسی قوم اور علاقے کے اندر موجود ہونا وہاں کے لوگوں کے لیے امن و سلامتی کا سبب ہوتا ہے۔ اور ان کا وہاں سے نکل جانا ان کے لیے نکال ووبال کا پیش خیمہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ خاص کر حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ کہ ان کا وجود سراپا رحمت ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ جب کسی قوم کو مبتلائے عذاب کرنا چاہتے ہیں۔ تو اپنے ان پاکیزہ بندوں کو وہاں سے نکال لیتے ہیں۔ بہرکیف فرشتوں کی طرف سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ راتوں رات اپنے اہل و عیال اور دوسرے متعلقین سمیت یہاں سے نکل جائیں اور جہاں کے لیے آپ کو حکم کیا جاتا ہے آپ وہاں چلے جائیں کہ صبح ہوتے ہی اس بستی پر عذاب الہی آدھمکنے والا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 54۔ اپنے متعلقین کے پیچھے چلنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ ان کے پیچھے پیچھے چلیں تاکہ اس طرح آپ ان کی حفاظت و نگرانی کرسکیں، اور ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہنے پائے اور حضرت امام الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام۔ غزوات وغیرہ میں عموما پیچھے ہی رہا کرتے تاکہ کمزروں اور ضیعفوں کی خبر گیری کرسکیں۔ (ابن کثیر، وغیرہ) بہرکیف آپ ان کی خبرگیری کے لیے ان کے پیچھے پیچھے رہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی کسی غرض کے لیے پیچھے رہ جائے اور وہ عذاب کی لپیٹ میں آجائے (المراغی وغیرہ) کہ عام قاعدہ اور ضابطہ یہی ہے کہ راعی اپنے گلے کے پیچھے پیچھے ہی چلا کرتا ہے تاکہ کوئی بھیڑ ریوڑ سے الگ ہو کر کسی بھیڑیے کا شکار نہ ہوجائے۔ 55۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو خاص مقام تک چلنے کی ہدایت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ تم چلو جہاں جانے کے لیے تم کو حکم دیا جارہا ہے یعنی ملک شام کی طرف، قالہ ابن عباس ، (صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) یعنی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھنا کہ جس ملک پر رب کا عذاب آنے والا ہے اس کو کیا دیکھنا۔ اس لیے اب یہاں سے سیدھے ملک شام کی طرف چل پڑو۔ (تفسیر المراغی) بہرکیف فرشتوں کی طرف سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ ہدایت بھی فرمائی گئی کہ جدھر جانے کے لیے آپ لوگوں کو ہدایت کی جارہی ہے اس کے لیے چل نکلوں۔ اور آپ میں سے کوئی اس بستی کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے جس سے نکلنے کا حکم ہوا ہے۔ یہ انسانی فطرت اور اس کی طبیعت کا ایک عام تقاضا ہے کہ انسان کسی جگہ سے نکلتے ہوئے اس کی طرف مڑ مڑ کر دیکھتا ہے۔ جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس کو اس کے ساتھ طبعی انس اور لگاؤ ہے۔ سو ایسا انس ولگاؤ عام حالات میں تو ایک فطری اور طبعی چیز ہے لیکن جس بستی کے لیے اتمام حجت کے بعد عذاب الہی کا فیصلہ ہوچکا ہے اس کو کیا دیکھنا۔ اہل ایمان کو تو اس سے اس طرح دامن جھاڑ کر نکلنا چاہئے کہ دل کے لگاؤ کا کوئی شائبہ بھی باقی نہ رہے۔
Ayahs 15:66–69

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو یہ بات قطعی طور پر واضح کردی تھی کہ یقیناً جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی ان (بدبخت لوگوں) کی صبح ہوتے ہی،

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور آپہنچے اس دوران شہر کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے،1

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے (بڑے درد بھرے انداز میں ان سے) کہا کہ (بھائیو) یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہذا تم (ان کو پریشان کرکے) مجھے بےآبرو نہ کرو،

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو،2

56۔ قوم لوط کے بدبختوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور آپہنچے اسی دوران شہر کے لوگ خوشیاں مناتے، بدنیتی اور برے ارادے سے کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ کہ وہ منحوس اور بدبخت قوم من حیث المجموع اس خلاف وضع فطری فعل کی عادی مجرم تھی جس کو زبان پر لاتے ہوئے بھی ایک شریف الطبع انسان کو سخت گرانی ہوتی ہے۔ مگر اس کو کیا کہیے گا کہ اس خبیث عمل کو جس کو زبان پر لانا ایک شریف الطبع انسان کو گوارا نہیں اس کو کچھ ہی عرصہ قبل بیسویں صدی عیسوی کے مادی ترقی کے چکاچوند کردینے والے اس دور میں نام نہاد جمہوریت کی چیمپئین مانی جانے والی برطانوی سرکار نے اپنی پارلیمنٹ میں اس عمل خبیث کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بل پیش کیا، جس کو تالیوں کی گونج میں بھاری اکثریت سے پاس کرالیا گیا۔ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نورحق و ہدایت سے محرومی کے بعد انسان ذلت و تباہی کے کس قدر عمیق اور مہیب گڑھے میں گرجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ بدبخت قوم حضرت لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں سن کر کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی۔ روایات کے مطابق اس کی خبر ان لوط کی بیوی نے دی تھی۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) " مدینہ " سے یہاں مراد سدوم کی بستی ہے، یہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچ گئے اپنی بدنیتی اور خبث باطن کی بناء پر۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

انہوں نے (پوری ڈھٹائی اور بدبختی سے) کہا، کیا ہم نے تمہیں روکا نہیں دنیا بھر کے لوگوں (کی مہمان نوازی کا دم بھرنے) سے،3

57۔ قوم لوط کے تمردوسرکشی کی انتہاء اور اس کی عبرتناک انجام : سو انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس دلیل کے جواب میں کہا کہ ہم نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا مگر تم نے ہماری بات نہ مانی۔ اور آج پھر ان خوبصورت لڑکوں کو اپنے گھر مہمان بنا کر ٹھہرالیا۔ سو اگر تم ہمارے کہنے کے مطابق اور ہمارے روکنے کے بعد ان مہمانوں کو اپنے یہاں پر ٹھہراتے تو یہ نوبت نہ آتی اور آج تمہیں اپنے ان مہمانوں کی بناء پر اس طرح رسوائی اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لہذا اس رسوائی اور فضیحت کا سبب تم خود ہو۔ سو اس سے اس منحوس قوم کے تمرد اور اس کی سرکشی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور جب کسی قوم کی تباہی کا وقت آچکا ہوتا ہے تو اس کے لچھن اسی طرح کے ہوجاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس طرح ایسی قوم اپنے عمل و کردار سے واضح کردیتی ہے کہ اب اس کا وجود ہر خیر سے عاری اور محروم ہوگیا ہے۔ لہذا اب اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا۔ سو ایسے میں اس طرح کی قوم کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے اور وہ قصہ پارینہ اور دوسروں کے لیے ہمیشہ کے لیے درس عبرت بن جاتی ہے۔ جیسا کہ قوم لوط کیساتھ ہوا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قوموں کے عروج وزوال کا انحصار ان کے اخلاق و کردار پر ہوتا ہے۔ وہ اخلاقی برتری ہی سے ترقی اور عروج پاتی ہیں اور اخلاقی تنزلی ہی سے تباہ ہوتی ہیں۔
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوط نے کہا یہ میری (قومی) بیٹیاں (جو تمہارے گھروں میں) موجود ہیں، اگر تمہیں کچھ کرنا ہے (تو ان سے جائز طریقے سے اپنا مطلب پورا کرلو) ،4

58۔ (ھولآء بناتی) کا مطلب ؟ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےبسی کا عالم : یعنی (بناتی) سے یہاں پر مراد آپ کی قومی بیٹیاں ہیں، کیونکہ نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کے لوگ اس کی روحانی اولاد۔ آیت کریمہ کا یہ مفہموم سلف وخلف میں سے بہت سے حضرات اہل علم نے لیا ہے کہ آیت کریمہ میں وارد لفظ (بناتی) سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قومی بیٹیاں تھیں۔ یعنی ان بدفطرت لوگوں کی وہ بیویاں جو کہ ان کے گھروں میں موجود تھیں، نہ کہ آپ کی حقیقی اور صلبی بیٹیاں۔ جبکہ دوسرا قول اس ضمن میں حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ لفظ (بناتی) کو اپنے ظاہر اور متبادر معنی و مفہوم پر ہی رکھا جائے۔ اور اصل یہی ہے کہ قرآنی الفاظ و کلمات کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جائے۔ الا یہ کہ کوئی صارف اور مانع پایا جائے۔ سو یہ کوئی پیشکش نہیں تھی جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف سے ان لوگوں کو کی گئی ہو۔ بلکہ یہ ان بد فطرت لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری شکل تھی جو ممکن ہوسکتی تھی کہ اگر ان میں شرافت وانسانیت کی کوئی رمق بھی موجود ہوئی تو یہ ضرور اپنے برے ارادے سے باز آجائینگے۔ اسی لئے سورة ہود میں اس کے بعد فرمایا گیا (الیس منکم رجل رشید ؟ ) " کیا تم میں کوئی بھی بھلے مانس انسان موجود نہیں ؟ " مگر اس پر بھی جب ان لوگوں کے دل نہ پسیجے اور انہوں نے اس پر بھی صاف طور پر کہہ دیا کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور یہ کہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ (مالنا فی بناتک من حق وانک لتعلم مانرید) تو اس سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ یہ لوگ گندگی کے ایسے کیڑے بن گئے ہیں جن کو پاکیزگی سے اب کوئی تعلق اور لگاؤنہیں رہ گیا۔ اس لیے ان کے وجود کو مٹا کر صفحہ ہستی کو ان کے غلاظت ونجاست سے پاک کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ ان کا جرم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ سو اس سے جہاں ایک طرف ان لوگوں کی خباثت ونجاست طبع آشکارا ہوجاتی ہے وہاں دوسری طرف اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی عاجزی، تواضع، بیکسی، بےبسی اور شان مہمان نوازی بھی اسی طرح ظاہر ہوتی ہے اسی لیے حضرات محققین نے کہا ہے کہ یہ دوسرا قول و احتمال پہلے سے ابلغ ہے۔ سو اس اعتبار سے یہ قول ابلغ تو واقعی ہے لیکن کچھ دوسرے اعتبارات کی بناء پر ہمارے نزدیک راجح قول پہلا ہے یعنی یہ کہ (بناتی) سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قومی بیٹیاں تھیں نہ کی حقیقی اور صلبی بیٹیاں۔ اور اس کی وجوہ ہم اس سے پہلے سورة ہود وغیرہ میں بیان کرچکے ہیں۔ سو اس کے لیے سورة وغیرہ کے حواشی پر نظر ڈال لی جائے اور ان دونوں قولوں میں سے جو بھی مراد لیا جائے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ تو عالم غیب ہوتا ہے اور نہ مختار کل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس حد تک پریشانی لاحق نہ ہوتی۔ سو اس سے اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیاری کلی جیسے شرکیہ عقائد کی جڑ نکل جاتی ہے۔ اللہ کرے اس سے ان کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ راہ حق پر آجائیں۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(مگر) تمہاری عمر کی قسم وہ لوگ اپنی مستی میں بالکل مدہوش ہوئے جا رہے تھے

59۔ اتمام حجت اور عذاب الہی کا وقوع۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس درد سوز بھری اپیل کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنی بدمستی میں اندھے ہورہے تھے۔ تو ان کے لیے عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس موقعہ پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی عمر مبارک کی قسم کا آپ ﷺ کا ایک منفرد اکرام واعزاز ہے جس سے آپ کو نوازا گیا۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ " عمر " اور " عمر " زبر اور پیش کے ساتھ دونوں ایک معنی و مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ سو اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی عمر اور حیات طیبہ کی قسم کھائی گئی ہے جو کہ ایک ایسا عظیم الشان اور منفرد وامتیازی وصف ہے۔ جو کہ آپ ﷺ کے سوا پورے بنی نوع انسان میں اور کسی کو نصیب نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ حق بھی آنجناب ہی کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جو رحمت وفیض آپ ﷺ کے ذریعہ خلق خدا کو نصیب ہوا ہے وہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور سے نہ کبھی ملا ہے نہ قیامت تک ملنا ممکن ہے۔ علیہ افضل الصلوۃ واتم التسلیمات۔ اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی نہ سنا نہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کی زندگی کی قسم کھائی ہو سوائے آنحضرت ﷺ کے (ابن کثیر، محاسن التاویل، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر اوراقسام القرآن لابن القیم (رح) وغیرہ وغیرہ ) ۔ بہرکیف قسم کھا کر فرمایا گیا کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے ہورے تھے۔ سو اس کے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کررہے۔ اور اپنے مرگھٹ پر وہ خود پہنچ گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:73–74

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

آخرکار دن چڑھتے ہی آپکڑا ان کو اس ہولناک آواز نے (جو ان کی تباہی کیلئے مقدر ہوچکی تھی) ،

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

سو پلٹ کرکے رکھدیا ہم نے اس (بستی) کو، اور برسادی اس پر بارش کھنگر کے پتھروں کی،

60۔ بدبختوں پر نزول عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار دن چڑھتے ہی ان کو آپکڑا اس ہولناک آواز نے جو ان کے عذاب کے لیے مقرر ہوگئی تھی، کیونکہ " مشرقین " بنا ہے " اشراق " سے۔ جو کہ ماخوذ ہے " شرق الشمس " سے۔ جس کے معنی سورج کے چڑھنے اور طلوع ہونے کے آتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد طلوع فجر ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ان کا یہ عذاب طلوع فجر سے شروع ہو کر طلوع شمس تک ممتد ہوگیا تھا۔ سو اس قصے میں تنبیہ ہے کفار قریش اور دوسرے تمام کفار و مشرکین کیلئے کہ تکذیب حق کے جس جرم کی پاداش میں یہ لوگ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچے وہ دوسرے تمام منکرین و مکذبین کو بھی لاحق ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے ایک ہے۔ (ابن کثیر، ابن جریر، فتح القدیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور کشاف وغیرہ) بہرکیف اس بدبخت قوم کو پہلے ہولناک آواز کے ذریعے ہلاکت کے گھاٹ اتارا گیا اور پھر ان کی اس بستی کو جس میں یہ رہتے بستے تھے ایسے تہ وبالا کردیا کہ اس کا اوپر کا تختہ نیچے اور نیچے کا اوپر کردیا گیا۔ اور ان پر پتھروں کی ہولناک بارش برسا دی گئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (معارف اور المراغی وغیرہ)
Ayah 15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں (عقل و) فراست والوں کیلئے،

61۔ فہم و فراست رکھنے والوں کے لیے بڑی بھاری نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں عقل و فراست رکھنے والوں کے لیے یعنی ان کیلئے جو نگاہ عبرت و بصیرت سے کام لیتے ہیں اور ان آثار و نشانات کو دیکھ کر وہ حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرتے ہیں کہ ایسے لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور وہ صحیح نتائج اخذ کرنے کے لیے اپنی بصیرت اور بصارت دونوں سے صحیح کام لیتے ہیں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا دیکھنا محض حیوانی آنکھوں سے دیکھنا ہوتا ہے اور بس۔ اس لیے وہ صحیح نتائج اخذ واعتبار سے عاری رہتے ہیں۔ اور متوسم یعنی صاحب فراست ایک طرف تو نورباطن سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے (ترمذی، ابن کثیر وغیرہ) اور دوسری طرف وہ صحیح غور و فکر سے کام لیتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ صحیح حق و حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ اور مہالک وغوائل سے بچ کر حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحول، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 15:76

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

بیشک یہ بستی واقع ہے ایک (کھلی اور) عام گزرگاہ پر،

62۔ معذب قوموں سے درس عبرت لینے کی تحریک و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ بستی کھلی شاہراہ پر واقع ہے اور اپنی زبان بےزبانی سے گزرنے والوں کو دعوت غور و فکر دے رہی ہے۔ مگر غفلت کی ماری دنیا ہے کہ وہ اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں کررہی۔ اور وہ یہ نہیں سوچتی کہ یہ کون لوگ تھے جو اس طرح لقمہ اجل بنے اور اس ہولناک انجام و تباہی سے دوچار ہوئے۔ ان کا یہ انجام کیوں ہوا اور اس میں ہمارے لیے کیا درس عبرت ہے اگر یہ لوگ ایسا سوچتے تو ان کو ایسے درس ہائے عبرت و بصیرت ملتے جس سے ان کو نور حق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہوتی۔ مگر غفلت نے ان کو اس سے محروم کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:77–79

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں بڑی بھاری نشانی (اور سامان عبرت و بصیرت) ہے ایمان والوں کیلئے

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور أیکہ والے (شعیب کی قوم کے لوگ) بھی بڑے ظالم تھے،

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

سو ہم نے ان سے بھی (آخرکار) انتقام لیا، اور یہ دونوں ہی قومیں (اور ان کے کھنڈرات) واقع ہیں ایک کھلی شاہراہ پر،

63۔ غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دل ودماغ کی دنیا ایمان و یقین کے نور سے منور ومعمور ہوتی ہے۔ ورنہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایسی تباہ شدہ بستیوں کے آثار و کھنڈرات کو محض ظاہری آنکھوں سے اور حیوانوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ وہاں پر پکنک کرتے، خرمستیاں کرتے، فوٹوگرافی کرتے اور اس طرح سبق لینے کی بجائے الٹامزید غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس قسم کے واقعات کو یونہی قدرتی حوادث قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں اور اس کی وہ طرح طرح کی مادی توجیہات کرنے لگتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایمان و یقین سب خوبیوں کی اصل اور اساس ہے جبکہ اس سے محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ہر خیر سے محرومی ہے۔ نیز اس میں ایمان والوں کے لیے یہ عظیم الشان نشانی بھی ہے کہ راہ حق میں آزمائشیں اگرچہ آتی ہیں لیکن بالآخر خداوندقدوس کی رحمت و عنایت کے سزاوار وہی ٹھہرتے ہیں جو حق وصواب پر مستقیم اور ثابت قدم رہتے ہیں اور ان کے دشمن آخر کار مٹ کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔