Ayahs 14:44–4588۔ لوگوں کے انذار کا حکم وارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرتے رہوتم لوگوں کو اس دن سے جس دن کو پہنچ کررہے گا ان پر وہ عذاب جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے اور جس جیسا دوسرا کوئی عذاب نہیں ہوگا، اس سے ان لوگوں کو خبردار کرتے رہو، تاکہ یہ اس سے بچنے کی فکروکوشش کریں، قبل اس سے کہ عمررواں کی یہ فرصت محدود ومعدود تمام ہوجائے، اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل جائے، کہ پھر اس کے ملنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ۔ اور جن لوگوں نے اس دن اور اس میں آنے والے اس عذاب سے بےفکر و لاپرواہ ہوکر زندگی گزاری ہوگی، تو وہ ایسے ہولناک خسارے میں پڑجائیں گے، جس کی تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، سو وہ خسارہ انتہائی ہولناک اور خساروں کا خسارہ ہوگا،۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
89۔ ظالموں کی فریاد والتجاء کا ذکر وبیان :
سو اس یوم عظیم میں وہ لوگ جو اڑے رہے ہوں گے اپنے ظلم و سرکشی پر اپنے خالق ومالک کی مقرر فرمودہ حدود کو توڑ کر، اور کفر و شرک اور عدوان و سرکشی کا ارتکاب کرکے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے ظالم اور سرکش لوگ اس روزہ رہ کر افسوس کریں گے اور سراپا عجزونیاز بن کر اپنے خالق ومالک سے کی دعاء اور درخواست کریں گے کہ ان کا معاملہ مؤخر کیا جائے ایک اجل قریب تک، مگر کہاں اور کیونکر ؟ اس کا موقع تو بہرحال ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، اور اس کا وقت بہرکیف گزرچکا ہوگا، اب نہ گزرا ہوا وقت واپس آئے گا اور نہ ہی ان کو کسی طرح کی کوئی مہلت دی جائیگی۔
90۔ منکرین کی طرف سے قبول حق اور اتباع رسل کے وعدے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز منکرین حق رہ رہ کر کہیں گے اور وعدے کرینگے کہ ہمیں قریب کی ایک مدت تک مہلت دی جائے تاکہ ہم تیری دعوت کو قبول کریں اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں اور اس طرح ایک نئی زندگی گزار کر، آخرت کی سدا بہار کامیابی حاصل کرسکیں، لیکن اب اس کا معوقع کہاں وانی لہم التناوش من مکان بعید ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس ہولناک دن اور اس کے عذاب سے خبردار کرتے رہو تاکہ یہ اس انتہائی یاس وحسرت سے بچ سکیں، مگر ظالم اور بےانصاف دنیا ہے کہ پھر بھی دعوت حق و ہدایت پر کان نہیں دھرتی۔
91۔ منکرین کی ہلاکت و تباہی کا سبب ان کی غفلت و لاپرواہی۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان منکرین کی عرض والتجاء کے جواب میں ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ انہی تباہ شدہ بستیوں اور ہلاک ہونے والی قوموں کے ٹھکانوں میں رہتے بستے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے تمہیں ان قوموں کے سبق آموز اور عبرتناک حالات و واقعات بھی سنائے تاکہ تم سبق لو اور عبرت پکڑو مگر سبق لینے اور عبرت پکڑنے کی بجائے تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں یہاں سے ہٹ کر کہیں جانا ہی نہیں، بلکہ ہمیشہ یہیں اور انہی مزوں کے اندر رہنا ہے، اور قیامت، آخرت، حساب کتاب، اور جزاوسزا کی باتیں یونہی مولویوں اور واعظوں وغیرہ کی باتیں ہیں اور بس۔ والعیاذ باللہ اور اہل حق کی دعوت و تذکیر کے جواب میں تم لوگ پختہ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ نے مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ نہیں اٹھانا، سو تم نے حضرات انبیاء ورسل کی دعوت کو سن کر نہ دیا، اور تم اس کو ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوئے، یہاں تک کہ تم اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہے، سو اب تم اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتو اور بھگتتے ہی رہو۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 14:4694۔ حق اور اہل حق کے خلاف منکرین کی چالوں کا ذکر وبیان : س
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ماضی کے ان لوگوں نے پورے زور سے چلیں اپنی چالیں، یعنی حق اور اہل حق کے خلاف تاکہ اس طرح وہ حق کے نور کو مٹا دیں، لیکن ان کے لئے یہ کہاں اور کیسے ممکن ہوسکتا تھا، جب کہ حق کا محافظ ونگہبان اللہ تعالیٰ خود ہے، یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف : 8) سو اس طرح وہ لوگ حق کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے کہ سورج کسی کے مونہوں کی پھونکوں سے بھلا تھوڑا ہی بجھ سکتا ہے لیکن اپنے اس طرز عمل اور اپنے خبث باطن کی بناء پر انہوں نے اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ضرور ڈال دیا، اور وہ منکر اور حق دشمن لوگ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہے مگر تم لوگوں نے اس سے بھی کوئی سبق نہ لیا اور تم نے آنکھیں نہ کھولیں، یہاں تک کہ تم لوگ اپنے آخری انجام کو پہنچ کررہے۔
95۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی اور سب پر حاوی :
سوماضی کی ان منکر اور حق دشمن قوموں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اگرچہ حق اور اہل حق کے خلاف ایسی سخت اور خوفناک چالیں چلیں تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے کھسک جائیں، مگر ان کی وہ چالیں حق کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، کیونکہ اللہ ہی کے پاس تھیں ان سب کی چالیں۔ کہ وہ گھیرے میں لئے ہوئے ہے اپنے علم محیط اور قدرت کاملہ سے، ان کو بھی اور ان کے سب مکروفریب کو بھی، پھر اس کے مقابلے میں ان لوگوں کی کسی چال کی کامیابی کا کیا سوال ؟ اور ان کی ایسی تمام چالوں کا ریکارڈ بھی اس وحدہ لاشریک کے پاس موجود ہے، جس کے مطابق ان لوگوں نے اپنے کیے کرائے کا صلہ وبدلہ بھی بہرحال پانا ہے، سو اہل کفر وباطل حق کے خلاف اپنی کافرانہ اور باغیانہ چالوں سے حق کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے، البتہ اپنے جرم بغاوت اور سرکشی کا اور پکا کرتے ہیں۔
96۔ منکرین کی سازشوں کی ہولناک کا ذکر وبیان :
سوان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں، ان کی قوت و تاثیر کی بناء پر اور ان کے اسباب و وسائل کے اعتبار سے، مگر اس کے باوجود اللہ پاک کے حفظ و عنایت کی بناء پر اہل باطل کی یہ چالیں حق اور اہل حق کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں، یہ اس آیت کریمہ کا ایک مطلب ہوا، جب کہ دوسرا مطلب اس آیت کریمہ کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ حق اور حقیقت کے پہاڑوں جیسے قوی اور مضبوط دلائل کو ہلا دیں، یعنی " وان کان " میں واقع کلمہ " ان " وصلیہ نہیں نافیہ ہے (روح، ابن کثیر، ابو السعود، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ وغیرہ) سو آیت کریمہ کے یہ دونوں مطلب بن سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح اور نہایت ہی وقیع ہیں اور ان کان کے کلمات کریمہ میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں، بہرکیف غلبہ حق ہی کا ہے اور حفظ وامان اللہ ہی کا ہے سبحانہ وتعالیٰ ، فایاہ نسال ان یشرفنا بہ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 14:4797۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت و امداد قطعی طور پر حق اور صدق :
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی نصرت وامید کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے،۔ پس تم کبھی یہ گمان بھی نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے والا ہے، یعنی دنیا میں ان کی نصرت و امداد کے وعدوں، اور آخرت میں انہیں درجات عالیہ سے نوازنے کے وعدوں کے، نیز ان کے اعداء کے دنیا میں ذلیل وخوار ہونے کے اور آخرت میں واصل بجہنم ہونے کے وعدوں کے، سو اس کے سب ہی وعدے بہرحال پورے ہوں گے، کسی بھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی، بیچ میں جو ابتلاء و آزمائش کے دورآتے ہیں وہ سب عارضی اور اس کی حکمت کا تقاضا ہیں، جن کا احاطہ وہی وحدہ لاشریک کرسکتا ہے البتہ ایک بڑی حکمت اس سے یہ وابستہ ہوتی ہے کہ اس سے کھرے کھوٹے میں تمیز ہوجاتی ہے، نیز اہل ایمان کے درجات بلند ہوتے ہیں وغیرہ، بہرکیف انجام کار غلبہ حق اور اہل حق ہی کا ہوگا، سو اس میں اہل ایمان کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے، (المراغی وغیرہ) اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وانت اتقوی المتعال۔
98۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت وپکڑ سے تنبیہ وتحذیر :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی زبردست، پورا انتقام لینے والا ہے، سو وہ بدلہ لیتا ہے اپنے پیاروں کا اپنے دشمنوں سے، نیز اپنے احکام و فرامین کے توڑنے کا انتقام، اس جرم کے مرتکب باغیوں اور سرکشوں سے،۔ والعیاذ باللہ۔ اور چونکہ وہ عزیز و غالب ہے اس لئے کوئی اس کی گرفت وپکڑ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا، جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کے یہاں ہوتا ہے، سو وہ بدلہ لے گا تاکہ مجرم اپنے کیفر کردار کو پہنچ سکے اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، پس اس کی شان امہال و تاخیر سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اس نے بدلہ و انتقام بہرحال لینا ہے اور ظالموں سے مظلوموں کی داد رسی ضرور کرنی چاہئے، سبحانہ وتعالیٰ ، پس کافروں کو جو ڈھیل مل رہی ہے اس کے بارے میں وہ کبھی یہ خیال نہ کریں کہ یہ ان کے لئے بہتر ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں ان کے گلوں میں پھندا کسا جارہا ہے، ان کے لئے بہرحال رسوا کن عذاب ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیرالانفسہم ج انما نملی لہم لیزدادو اثماج ولہم عذاب مھین (ال عمران : 178) نیز ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ کبھی یہ سوچیں کہ وہ ہماری گرفت وپکڑ سے نکل گئے وہ اس بل بوتے کے مالک نہیں ہوسکتے کہ کبھی بھی ہمیں اپنی گرفت وپکڑ سے عاجز کردیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس امر کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ولا یحسبن الذین کفرواسبقو انہم لایعجزوں (الانفال : 59) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 14:48–4999۔ یوم حساب کی تذکیر ویاد ہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو اس ہولناک دن کو جس روز تبدیل کردیا جائے گا، آسمانوں اور زمین کو اور سب لوگ نکل کھڑے ہوں کے اس اللہ کے سامنے جو کہ یکتا اور سب پر غالب ہے سو روز اس طرح ایک اور جہان کو نئے قوانین اور نوامیس کے تحت وجود میں لایا جائے گا، جس کے آسمان و زمین دائمی ہوں گے اور جہاں کی نعمتیں بھی ابدی ہوں گی اور وہاں کے عذاب بھی دائمی، تاکہ ہر کوئی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاس کے، نیکی کا بدلہ جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں جعلنا اللہ من اھلیا اور برائی کا بدلہ دوزخ کے ہولناک عذابوں کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا بہرحال ہو کر رہے گا، تاکہ اس طرح ہر کوئی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ پا سکے، اور عدل وانصاف کے تقاضے اپنی بھرپور، آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں، واضح رہے کہ تبدیلی کی سو صورتیں ہوتی ہیں ایک اصل اور ذات کی تبدیلی، جیسے کہ ایک مکان توڑ کر دوسرا مکان بنادیا جائے، اور دوسرے صفات کی تبدیلی، جیسے مکان تو باقی رہے پر اس کی مرمت وغیرہ کے ذریعے اس کے ڈھانچے میں تبدیلی کردی جائے یہاں چونکہ تبدل کا لفظ فرمایا گیا ہے اس لیے اس میں ان دونوں ہی صورتوں کا احتمال موجود ہے، ایک یہ کہ زمین و آسمان کی موجودہ شکل اور ہئیت کو بدل کر ان کو ایک نیاوجود دے دیا جائے گا اور دوسرے یہ کہ ان کو یکسر ختم کرکے نئے سرے سے پیدا کیا جائیگا، حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین سے دونوں ہی قول مروی ہیں اور آثار و روایات میں بھی دونوں کا احتمال موجود ہے، (ابن جریر، ابن کثیر، معارف القرآن اور فتح القدیر، وغیرہ) اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا، واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ انک انت السمیع القریب المجیب یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 14:50100۔ دوزخیوں کے لباس تارکول کے۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لباس تارکول کے ہوں گے جس سے دوزخ کی آگ ان کو لپک پکڑے گی، اور یہ تارکول دراصل ان کے اپنے اسی کفر و شرک اور دوسرے جرائم کی ظاہری اور حسی شکل میں ہوگی، جسے انہوں نے دنیا کی زندگی میں اپنائے رکھا تھا، کہ یہ دنیا دراصل عالم مجاہدہ ہے، اور آخرت عالم مشاہدہ، آج اس دنیا میں نیک وبدجو بھی اعمال کئے جارہے ہیں ان کی اپنی خاص شکلیں اور اثرات ہیں، آج تو بتقاضاء وابتلا واختبار مخفی ومستور ہیں، لیکن کل قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا دن ہوگا، اس میں یہ سب اپنی اصل شکل میں ظاہر ہو کر سب کے سامنے آجائینگے سو ان کے کفر و شرک کا وہ باطنی اور معنوی لباس جو انہوں نے خود اپنائے رکھا تھا، وہ تارکول کی شکل میں ان کے جسموں پر تن جائے گا جس سے نکلنے اور خلاصی پانے کی پھر ان کے لئے کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال۔
Ayah 14:51101۔ قیام قیامت تقاضاء عدل وانصاف :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کی کمائی کا صلہ وبدلہ ملے، تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں، کہ پورا بدلہ انسان کو اپنے کیے کرائے کا آخرت کے اس لامحدود جہاں ہی میں مل سکے گا کہ دنیا میں اتنی گنجائش ہی نہیں، یہاں اگرچہ انسان کو اپنے نیک و بدعمل کا بدلہ کبھی کبھی اور کچھ نہ کچھ مختلف شکلوں میں ملتا رہتا ہے لیکن وہ نہایت محدود اور ضمنی نوعیت کا ہوتا ہے، اصل اور پورا بدلہ انسان کو بہرحال وہیں ملے گا، نیکی کا بھی اور برائی کا بھی۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ من کل سوء وشرء ایک تو اس لیے کہ دنیا میں اتنی گنجائش ہے ہی نہیں کہ اس میں انسان کو اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ مل سکے، اور دوسرے اس لیے کہ دنیا اصل میں دارالجزاء نہیں دار العمل ہے، یہاں پر انسان کو عمل کی آزادی ملی ہوئی ہے کہ وہ اپنے ارادہ واختیار سے جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اس کا صلہ وبدلہ اس کو آخرت کے اس یوم جزاء ہی میں ملے گا اور وہیں مل سکے گا جو اس دنیا کے بعد آئے گا پس اسی یوم عظیم کے تقاضوں کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے وباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلی مایحب ویرید۔
Ayah 14:52102۔ قرآن حکیم کا اولین مقصد انذار :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جائے، یعنی تاکہ ان کو خبردار کیا جائے ان کے مآل اور انجام سے، تاکہ اس طرح وہ اس کی روشنی میں اپنے انجام کی فکر کرسکیں، اور برے انجام سے بچ سکیں، اور حیات دنیا کی اس محدود و مختصر فرصت کو ضائع نہ ہونے دیں وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی، سو اس کتاب حکیم کے ذریعے لوگوں کو ان کے مال وانجام سے خبردار کرنا قدرت وہ عظیم الشان احسان ہے جس جیسا دوسرا کوئی احسان ہوسکتا ہی نہیں، کہ اس علم وآگہی کے بغیر انسان اپنے مقصد حیات سے بیخبر طرح طرح کے اندھیروں میں محو ومستغرق اور خسارہ در خسارہ کا شکار رہتا ہے، اور وہ نرا حیوان بن کر رہ جاتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گمراہ ہوجاتا ہے اور سب نیچوں سے نیچ (اسفل السافلین) بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم اپنے نومبین کے ذریعے اس کو حق و ہدایت کی روشنی سے سرفراز و فیضیاب کرتا ہے اور اس کے دل ودماغ کو منور کرکے، اور اس کو حیوانیت محضہ کے قصر مذلت سے نکال کر ان عظمتوں اور رفعتوں سے ہم کنار و بہرہ ور کرتا ہے جن سے سرفرازی کے بعدیہ ساری خلائق کا مسجود ومطاع بن جاتا ہے، اور اس کو حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر ڈال دیتا ہے جس پر چل کر یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا اہل اور مستحق ہوجاتا ہے، اور اس کا وجود ہدایت اور خیرکاوجود بن جاتا ہے۔
103۔ قرآن حکیم کی اساسی تعلیم توحید خدوندی :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ معبود برحق یک ہی ہے، یعنی صرف اللہ وحدہ لاشریک سو یہ ہے وہ اہم اور بنیادی نکتہ جس پر مدارو انحصار ہے سب معاملے کا یعنی اس انسان کے اندریہ ایمان و یقین راسخ ہوجائے کہ عبادت و بندگی اور اس کی ہر شکل صرف اور صرف ایک اللہ ہی کے لئے ہو اور بس کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، پس توحید خداوندی اصل اور اساس ہے سارے دین حنیف کی اور اسی پر مدارو انحصار اس کی تمام ترتعلیمات مقدسہ کا، پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اس کی ہر شکل وصورت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس میں کسی بھی اور کو کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں شریک وسہیم ماننا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے اور یہ بغاوت اور ناقابل معافی جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
104۔ درس عبرت لینا عقل خالص کا تقاضا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ سبق حاصل کریں عقل خالص رکھنے والے اور وہ سبق لیں کہ ہم کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ اور کہاں جارہے ہیں ؟ ہمارا یہ آنا اور جانا کیوں ہے ؟ ہمارا مقصد وجود کیا ہے ؟ اور اس کو کس طرح پورا کیا جاسکتا ہے ؟ جس نے ہمیں پیدا کیا وہ کون ہے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق ہیــ ؟ اور جب ان تمام بنیادی سوالوں کا جواب قرآن حکیم کے سوا اور کہیں سے بھی نہیں مل سکتا، اور یقینا نہیں مل سکتا تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب حکیم قدرت کا کتنا بڑا عظیم احسان ہے، پس صدق دل سے اسی کی طرف راہنمائی حاصل کریں، یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا، پس جو لوگ قرآنی ہدایت سے محروم ہیں، اور وہ اس سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ عقل مند نہیں ہیں، خواہ دنیاوی اعتبار سے وہ کتنے ہی عروج پر کیوں نہ ہوں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین وبھذا القدر نکتفی من تفسیر سورة ابراہیم، والحمد اللہ ربی العالمین الذی لاتتم الصالحات الا بتوفیق منہ جلاوعلا۔