Ayahs 14:19–2036۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کا مطلب ؟ اور اہل بدعت کی ایک تحریف کی ترید :
یعنی کیا تم غور نہیں کرتے، اور سبق نہیں لیتے، یعنی دیکھنے سے یہاں پر ظاہری آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں، بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے جو کہ عبارت ہے غور و فکر سے، یعنی تم سوچو اور غور کرو کہ آسمان و زمین کی یہ حکمت بھری کائنات جس ذات اقدس واعلی نے پیدا فرمائی ہے، وہ کیسی عظمت والی ذات ہے، اور اس عظیم مخلوق میں جابجاپھیلے بکھرے ان عجائب وغرائب اور دلائل قدرت کو دیکھو، اور ان میں غور و فکر سے کام لو، جو کہ اپنے خالق ومالک کی عظمت اور وحدانیت کی گواہی دے رہے ہیں، کیا یہ سب کچھ عبث وبے کار ہوسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں، تو پھر مخلوق سے اس کے خالق کی عظمت اور اس کے حق کو پہچانو اور صدق دل سے اس کے آگے جھک جاؤ اور جب آسمان و زمین کی اس حکمت بھری کائنات کی تخلیق و ایجاد، اور اس کے تصرف و تدبیر میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ تو اس طرح آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان کائنات اپنی زبان حال سے حضرت حق جل مجدہ کے وجود باجود کا بھی پتہ دیتی ہے اور اس کی عظمت شان، وحدانیت، مطلقہ، رحمت عامہ، اور عنایت شاملہ، کا بھی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بعث بعد الموت پر بھی دلالت کرتی ہے، بہرکیف الم تر میں خطاب عام ہے اور ہر مخاطب کو دعوت فکر دی جارہی ہے خواہ براہ راست ہو، خواہ بالواسطہ، یعنی یہ کہ خطاب تو اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے، لیکن اصل مقصود و مخاطب آپ کی امت کا ہر ایسا فرد ہے جو خطاب کے لائق ہو اور رؤیت (دیکھنے) سے مرادقلبی رؤیت ہے، یعنی سوچنا اور غور و فکر سے کام لینا، سو آیت کریمہ کا یہی مفہوم تمام ثقہ مفسرین کرام نے مرادلیا ہے، بطور نمونہ ملاحظہ ہو، طبری، قرطبی، ابوالسعود دروح، جامع محاسن، خازن ابن کثیر، فتح القدیر، اور تحریر وتنویرلابن عاشور، وغیرہ وغیرہ، پس اس سے اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا یہ نتیجہ نکالنا کہ حضور نے ہر چیزکو پیدا ہوتے دیکھا موصوف کی اپنی اختراع اور ایجادبندہ ہے، جو کہ سلف خلف کے جمہورمفسرین کرام میں سے کسی بھی ثقہ مفسر سے ثابت و منقول نہیں، اور مصوف نے اس کا ارتکاب اپنی طبعی افتاد کے مطابق اور اپنے شرکیہ عقائد کی آبیاری کے لیے کیا، واضح رہے کہ الم ترکایہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا، اولم یر الذین کفروا ان السموات والارض کانتارتقا ففتقنھما (الایۃ) (الانبیاء۔ 30) نیزجیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اولم یرالذین کفروا ان اللہ خلق السموات والارض ولم یعی بخلقہن بقدر علی ان یحی الموتی (الایۃ) (الاحقاف : 33) وغیرہ میں ہے (ابن کثیر وغیرہ) سو جس طرح ان آیات کریمہ میں اہل بدعت کی یہ شرکیہ منطق نہیں چل سکتی، اسی طرح زیر بحث اس آیت کریمہ میں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی، ان لوگوں کا اس طرح کہنا تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 14:2137۔ قیامت کے روز کفارکاباہم مکالمہ اور ان کے پیشواؤں کا اپنی گمراہی کا اقرار و اعتراف :
یعنی برزواماضی مضارع اور مستقبل کے معنی میں ہے، کہ ضعفاء اور مستکبرین کا یہ مکالمہ ومناظرہ ابھی ہوا نہیں بلکہ قیامت میں ہوگا، لیکن چونکہ اس کا وقوع نہایت یقینی اور انتہائی قطعی ہے، اس لیے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور یہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے، برزوا " براز " سے ماخوذ ومشتق ہے اور براز اس کھلے میدان کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز کسی کو چھپانے والی موجود نہ ہو، (محاسن التاویل وغیرہ) سو جب پوری مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر حشر کے اس کھلے میدان میں جمع ہوگی جس کی کوئی نظیرومثال اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہوسکتی، تو اس وقت یہ چیلے اپنے بڑوں سے یوں کہیں گے جس کے جواب میں ان کے بڑے اور گرو کہیں گے کہ ہم جب خود ہدایت پر نہیں تھے تو تم کو کیا بتاتے، سو اس طرح وہ اپنی گمراہی کا صاف وصریح طور پر اقرار و اعتراف کریں گے،
38۔ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومی و فساد کی جڑ بنیاد :
یعنی وہ بڑے تھے نہیں، بلکہ یونہی بڑے بنے ہوئے تھے اور خواہ مخواہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ اور زعم فاسد میں مبتلا تھے، اور اسی استکبار اور اپنی مزعومہ بڑائی کے گھمنڈ کی بناء پر وہ حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، اور ان کے اتباع اور چیلے بھی انہیں کے ڈگر پر چلتے تھے، سو استکبار وتکبر وہ جڑ بنیاد ہے خرابی و فساد کی جو انسان کو حق و ہدایت کے نور سے محروم کردیتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ان کفار و منکرین کے وہ گروجو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے، اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونے ہونے کے باعث وہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے، جس کے نتیجے میں وہ نور حق و ہدایت سے محرومی کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوئے، وہ اس روز اپنے ان پیروکاروں سے جن کو انہوں نے طرح طرح کے دھوکوں اور مغالطوں میں پھنسا کر اپنے پیچھے لگا رکھا تھا، اس روز وہ ان کو یہ ٹکا ساجواب دے کرمایوسی کے ہولناک گڑھے میں ڈال دیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت دیتے، لیکن جب اللہ نے ہمیں گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیا تو ہم تمہیں کیا ہدایت دیتے ؟
39۔ منکرین کا اپنے پیروؤں کو جواب کہ اگر ہم ہدایت پر ہوتے تو تم کو بھی دیتے :
لیکن جب ہم اپنی بدنصیبی اور بدکرداری کی وجہ سے نور حق و ہدایت سے خود ہی محروم تھے، تو تمہیں کیا راہ دکھاتے، اور اب تمہارے کس طرح کچھ کام آسکتے ہیں، سو اس میں جہاں ان کی طرف سے اپنی محرومی کا برملا اعلان ہوگا، وہاں اس میں شدید حسرت و ندامت کا اظہار بھی ہوگا، اور ان کے جواب سے ان کے ان اتباع واذناب اور چیلوں چانٹوں کی حسرت اور ان افسوس میں اور اضافہ ہوگا، سو حضرت حق جل مجدہ نے یہ سب کچھ اس دنیا میں پیشگی بتادیا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے مجھے خبر نہ تھی، ان تقولوا ماجآءنا من بشیر ولانذیر، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا کہ اس کتاب حکیم کو نازل فرما کر رب ذوالجلال نے کتنا احسان فرمایا۔ الحمد رب العالمین، بہرکیف قرآن حکیم نے کفار و مشرکین وغیرہ اہل باطل کا میدان حشر کا یہ مکالمہ اور ان کی یہ توتکار اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما دی تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے ورنہ اپنے اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائے اور کل قیامت کے یوم حساب میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا۔
40۔ دنیاوی زندگی کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو :
روایات میں ہے کہ دوزخی آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اہل جنت نے اپنے رونے دھونے اور آہ وبکاء سے جنت کی نعمتوں سے سرفرازی حاصل کرلی، تو آؤ ہم بھی ایسے ہی کریں، چناچہ وہ اس کے لیے خوب روئیں گے، اور چیخیں چلائیں گے، کہ اللہ ہمیں دوزخ کے اس عذاب سے نجات دے دے، پھر کتنا وہ روئیں گے اور کس قدر چیخیں چلائیں گے، اس کا کچھ انداز مقاتل کی اس روایت سے کیا جاسکتا ہے، جس میں بتایا گیا کہ وہ پانچ سو سال تک روتے رہیں گے، مگر کچھ حاصل نہ ہوسکے گا، پھر کہیں گے کہ اہل جنت نے زندگی بھر، صبر واستقامت سے کام لیا، تو جنت میں داخل ہوگئے، آؤتوہم بھی ایسے ہی کریں، پھر وہ پانچ سو برس تک صبر کریں گے، مگر اس سے بھی جب کچھ فائدہ نہ ہوسکے گا، تو اس وقت وہ کہیں گے کہ ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں، یا صبر و برداشت سے کام لیں، ہمارے بچنے اور نجات پانے کی بہرحال اب کوئی صورت نہیں، (طبری، روح، ابن کثیرزاد المسیر، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر اور فتح القدیر وغیرہ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں نصیب ہے کتنی عظیم دولت ہے جس سے قدرت نے ہمیں نوازا ہے کہ اس میں ایک لمحہ بھی اللہ کے خوف سے رونا کام دے گا، جب کہ آخرت میں صد ہاصد سال کی گریہ وزاری سے بھی کچھ نہیں بن سکے گا، نیز اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنے محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو دنیاوی زندگی کی اس متاع گرانمایہ کو بےکار اور لایعنی کاموں میں ضائع کردیتے ہیں، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ متاع عمر کی اس عظیم الشان دولت کو وہ گناہوں اور خدائے پاک کی ناراضگی کے کاموں میں صرف کرتے ہیں اور وہ بھی اس طور پر ان کو اپنے اس ہولناک خسارے کا شعور و احساس ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 14:2241۔ دوزخ میں شیطان کا خطاب اپنے پیروکاروں سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فیصلہ چکا دیا جائے گا یعنی عملی اور آخری طور پر کہ جنتی جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوجائیں گے (جعلنا اللہ منہم) اور دوزخیوں کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا، جس کا یہاں تصور بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس وقت شیطان دوزخ میں پڑے اپنے ان اشقیاء اور بدبخت ساتھیوں، دوستوں کو خطاب کرکے یہ زوردار تقریر سنائے گا جس سے ان کے باطن اور بھی جلیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ روایات میں وارد ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں شیطان کو کو سیں گے اور اس کو برا بھلا کہیں گے کہ اسی نے ہمیں اس ہولناک انجام سے دوچار کیا تو اس وقت شیطان آگے کہ ایک پتھر پر کھڑا ہوکریہ تقریر کرے گا، (قرطبی، معارف ابن کثیر وغیرہ) سو اس طرح ابلیس کے پیروں کاروں کے دلوں میں جو گزرے گی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
42۔ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اس وقت اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ یقینا اللہ نے تم سے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل سچا وعدہ ہے، کہ نجات ان پر ایمان لانے، ان کی اتباع و پیروی، اور ان ہی کی پیش کردہ تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے، اور یہ کہ جنہوں نے صدق و اخلاص کے ساتھ انبیاء ورسل کی پیروی کی ان کے لیے جنت کی سدا بہار نعمتیں ہیں اور جنہوں نے ان کا انکار کیا، اور ان کی تعلیمات و ہدایت سے روگردانی اور سرکشی برتی ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) تو پھر تم لوگوں نے اللہ کے وعدے سے منہ موڑ کر میری پیروی کیوں کی تھی ؟
43۔ ابلیس کا ہر وعدہ قطعی طور پر جھوٹا۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اس موقع پر اپنے پیروکاروں کی تذلیل اور تقبیح مزید کے لئے ان سے کہ گا اور صاف وصریح طور پر کہے گا کہ میں نے تم لوگوں سے جھوٹے وعدے کیے تھے، کہ یہ آخرت واخرت کچھ نہیں، جنت دوزخ وغیرہ ایسے ہی خیالی اور ہوائی باتیں ہیں، پس یہ دنیا ہی دنیا اور اسی کے مزے ہیں اور بس، چاردن کی چاندنی پھر اندھیری رات، اور اگر بالفرض آخرت اور اس کا حساب کتاب ہوا بھی، تو وہاں بھی کامیابی تمہاری ہی ہوگی کہ تم کو یہ دنیا جو ملی ہوئی ہے اور یہ کہ تمہارے یہ ساختہ پرداختہ طرح طرح کے معبود اور قسما قسم کی سرکاریں تمہارا کام بنانے کے لیے کافی ہیں، پس تم ان کا دامن تھام لو، کسی کا لڑ پکڑ لو، اور پھر مزے کرو، کسی کی پرواہ مت کرو، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ۔
44۔ ابلیس کے پیروں کاروں کی ایک اور تذلیل :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اس موقع پر اپنے پیروں کاروں سے مزید کہے گا کہ میرا تم لوگوں پر کسی طرح کا کوئی زور نہیں تھا، نہ حکومت و سلطنت کے اعتبار سے، نہ دلیل وبرھان کے لحاظ سے، نہ میرے پاس کوئی فوج تمہیں رام کرنے کے لیے موجودتھی، اور نہ کسی طرح کی کوئی پولیس، بس ایک دعوت اور ترغیب تھی جس سے میں نے کام لیا، اور تم لوگوں نے خود آگے بڑھ کر اس کو اپنایا اور قبول کیا، جبکہ حضرات انبیاء و رسل کی دعوت تو تم لوگوں کو وہ اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کے لئے دے رہے تھے، وہ ٹھوس دلائل اور براہین پر مبنی تھی مگر تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کر اور اس سے منہ موڑ کر میری دعوت کو اپنایا، جو تم لوگ حق و صداقت کی دعوت کو قبول کرنے والے تھے ہی نہیں، تم تو اپنی نفسانی خواہشات کے پیرو تھے قصور تم لوگوں کا خود اپنا تھا نہ کہ میرا، تو پھر تم مجھے ملامت کیوں اور کیسے کرتے ہو ؟
45۔ ابلیس کے پیروکاروں کے جرم کی نشاندہی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اپنے پیروکاروں سے اس موقع پر مزید کہے گا کہ تم لوگوں نے برضاء ورغبت میری بات مان لی، آخرکیوں ؟ تم نے ایسے کیوں کیا ؟ اور اللہ کے احکام و فرامین کو پس پشت ڈال کر، اور اس کے وعدوں اور وعیدوں کو بھول کر میری باتوں کو مانا کیوں ؟ میرا تم پر کیا زور تھا اور تمہارے لیے اس میں مجبوری کیا تھی ؟ میں نے محض تم لوگوں کو صرف دعوت دی اور بس، اور اپنے القاء شیطانی اور وسوسہ اندازی کے سوا تم پر میرا کوئی زور نہیں تھا۔ تو پھر تم لوگوں نے آخرمیری بات مانی کیوں ؟ اور میری پیروی کیوں کی جبکہ اصل صورت یہ تھی کہ اللہ نے تم لوگوں سے سچے وعدے کیے تھے اور اس کے برعکس میرے سب وعدے جھوٹے تھے، اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا، تو پھر اس سب کے باوجود تم نے میری پیروی کیوں کی ؟ سو اس سے ابلیس کے پیروکاروں کے جرم کی تصریح اور اس کی نشاندہی کردی گئی کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کے پرستار اور ابلیس کے پیروکار تھے اس لیے نورحق و ہدایت سے محروم رہے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
46۔ ابلیس کے پیروکار خود ملامت کے مستحق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اس موقع پر اپنے پیروکاروں سے مزید کہے گا کہ تم میری ملامت اور برائی مت کرو بلکہ تم لوگ خود اپنے ہی کو ملامت کرو کہ قصور میرا نہیں، تمہارا اپنا ہے، تم نے جو کیا، اپنی رضا رورغبت، اور اپنی خوشی واختیار سے کیا، اپنے رب کے اوامرو ارشادات سے منہ موڑا اور حضرات انبیاء ورسل کی پاکیزہ ہستیوں کی سچی دعوت کو قبول نہ کیا، اور ان کی ہدایات وتعلیمات سے منہ موڑ کر تم نے میری پیروی کی اور راح حق و ہدایت کو چھوڑ کر تم نے میرے طریقے کو کیوں اپنایا، پس تم اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتو، کہ یہ سب کچھ تمہارے کیے کرائے کا نتیجہ ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
47۔ ابلیس کا مشرکین کے شرک سے قطعی اور صریح طور پر انکار :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس اس روز اپنے پیروکاروں سے مزید کہے گا کہ میں قطعی طور پر منکر ہوں اس شرک کا جو تم نے مجھے شریک ٹھہراکر کیا اور حق کے مقابلے میں۔ میری بات مان کر کیا، سو اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ پاک کے احکام کے خلاف، اور بلاچوں وچراں اور بغیر کسی سندودلیل کے کسی کی بات ماننا، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، دراصل اس کو اللہ پاک کے حق اطاعت و بندگی میں شریک ٹھہرانا ہے۔ اگرچہ وہ اس کو برا کہتا بلکہ لعنت بھی بھیجتاہو، اسی لئے اس کو شیطان کی بندگی قراردیا گیا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا الم اعہد الیکم بینی ادم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدو مبین (یسین : 60) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان کے شرک سے اس انکار کا مطلب ان سے اظہار بیزاری ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، (تفسیرالمراغی وغیرہ)
Ayah 14:2348۔ مدارنجات ایمان صادق اور عمل صالح :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ داخل کردیا گیا ہوگا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے، ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی، سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ مدارنجات دراصل یہی دو چیزیں ہیں، ایمان صادق اور عمل صالح، اور بس، خواہ ایسا شخص کوئی بھی ہو، قوم یا رنگ ونسل، وغیرہ کا اس میں کوئی دخل اور سوال نہیں، کیونکہ یہ چیزیں انسان کے بس اور اس کے اختیار میں نہیں، اور غیراختیاری چیزیں معیار و مدار فضیلت نہیں سکتی، پس معیار فضیلت اور مدار نجات دو ہی چیزیں ہیں جو کہ انسان کے اپنے ارادہ واختیار پر مبنی و موقوف ہیں، یعنی ایمان صادق اور عمل صالح اللہ نصیب فرمائے اور ایسا کہ جو اس کو پسند ہو اور جس سے وہ راضی ہوجائے، سبحانہ وتعالیٰ ۔
49۔ خلود و دوام جنت کی ایک خاص اور امتیازی نعمت :
سوخلودودوام اور ہمیشہ رہنے کی یہ نعمت اللہ پاک کی ایک خاص عنایت ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا، نہ تو ان کو وہاں سے کبھی نکالا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا یمسھم فیھا نصب وما ہم منھا بمخرجین (الحجر : 48) اور نہ ہی کبھی اہل جنت خود وہاں سے نکلنا چاہیں گے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا : خالدین فیھا لایبغون عنھا حولا (الکہف : 108) اللہم اجعلنا من اھلھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین، جبکہ اس دنیا میں ایسا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے کہ یہاں کا رہنے والا یہ انسان بھی فانی اور اس کی ہر نعمت وعیش بھی عارضی اور فانی، سو اصل زندگی اور اصل عیش آخرت ہی کی ہے، اللہ نصیب فرمائے۔
50۔ جنت میں اہل جنت کی باہمی دعا " سلام " ہوگی :
یعنی وہ جب اس میں ایک دوسرے سے ملیں گے توسلام کہ کر اور سلامتی کی دعاء دے کرملیں گے، جیسا کہ آج دنیا میں بھی ایسے ہی ہے کہ مسلمان باہم ملتے وقت ایک دوسرے کو سلام کہہ کرملتے ہیں چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر ملتے وقت ان کی باہمی دعاء سلام ہوگی، آپس میں ایک دوسرے کی طرف سے بھی، فرشتوں کی طرف سے بھی، اور رب غفورورحیم کی طرف سے بھی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا سلام قولا من رب الرحیم کہ وہ جگہ ہی امن و سلامتی کی جگہ ہوگی اور اس کا نام ہی دارالسلام ہوگا، اور جب وہ جنت کے دروازے پر پہنچے گے تو فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے ان کو سلام کہیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا، سلام علیکم طبتم، جنت میں فرشتے ان پر ہر طرف سے سلام کرتے ہوئے داخل ہوں گے، والملئکۃ یدخلون یدخلون علیہم من کل باب سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار۔ اللہ نصیب فرمائے۔
Ayah 14:2451۔ پاکیزہ کلمے کی عظیم الشان مثال کا ذکر وبیان :
یعنی کلمہ توحید و ایمان کی، جس کی جڑیں مومن صادق کے دل کے اندر اتری ہوئی ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں اور ایسی گہری اور اس قددر مضبوظ اور پختہ کہ جب تک دل باقی ہے کوئی ان کو اس سے نکال نہیں سکتا، سو توحید خداوندی اور ایمان و یقین کی دولت کا عکاس و علمبردار یہ پاکیزہ کلمہ جو مومن صادق کے قلب طاہر کی ارض طیبہ میں جاگزین ہوتا ہے۔ مومن کو ایسا پاکیزہ انسان بنا دیتا ہے کہ اس کا دل پاک، اس کی زبان پاک، اس کا جسم پاک، اس کا لباس پاک، اس کا رہن سہن پاک، اور اس کا کھانا پینا پاک، سبحان اللہ کیسا عظیم الشان کلمہ ہے یہ، سو اس عظیم الشان اور انقلاب آفرین کلمہ کی عظمت شان کو واضح کرنے کے لیے جو عظیم الشان مثال دی گئی اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی کسی عظیم الشان مثال بیان فرمائی، کہ اس کی مثال ایک ایسے پاکیزہ درخت کی سی ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر اتری ہوئی ہوں، اور اس کی شاخیں آسمان میں پہنچی ہوئی ہوں، اور وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتاہو، سو یہی مثال ہے کلمہ طیبہ کے بےمثال درخت کی جس کے پاکیزہ پھلوں سے بندہ مومن ہر وقت مستفید و متمتع ہوتا رہتا ہے اور پاکیزہ کمائی کرتارہتا ہے، والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 14:2552۔ شجرۃ طیبہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے شجرۃ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت کی تمثیل بیان فرمائی گئی ہے کہ کلمہ توحید کی مثال ایک ایسے عظیم الشان اور پاکیزہ درخت کی سی ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر گہری اتری ہوئی ہوں اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوں۔ جو اس کی انتہائی عظمت کی بھی دلیل ہے، اور اس کی انتہائی قوت کی بھی، اور اس کی بھی کہ اس کا پھل ہر قسم کے قاذورات اور ان کے شوائب و اثرات سے بھی پاک، صاف اور محفوظ ہوتا ہے، اور ایسے درخت کا پھل نہایت لذیذ بھی ہوتا ہے، اور انتہائی پاکیزہ اور معیاری بھی، سو شجرہ ایمان کا ثمرہ اور اس کا پھل بھی ایسی ہی بےمثال اور پاکیزہ درخت (شجرئہ طیبہ) سے سرفرازی اور اس کی آبیاری کے لیے ہر ممکن اور بھر پور کوشش کرے، اور پھر اس کی حفاظت اور آبیاری کا بھی ہمیشہ خیال رکھے، کہ یہ ایسی عظیم الشان دولت ہے جس جیسی دوسری کوئی دولت ہو ہی نہیں سکتی، کہ یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد دولت۔
53۔ شجرہ طیبۃ کی بارآوری وپھلداری متواتر و لگاتار :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے اذن وحکم سے۔ سو یہی شان شجرہ توحید و ایمان کی کہ اس کی برکتیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔ کبھی ختم نہیں ہوتی، مومن صادق ہر وقت اس کی لذتوں سے شادکام بھی ہوتا رہتا ہے، اور آخرت کے لئے کمائی بھی کرتارہتا ہے، اس کے اعمال صالحہ آسمان کی طرف چڑھتے رہتے ہیں، اور اس کے سبب سے اس پر ادھر سے برکتوں پر برکتیں بھی نازل ہوتی رہتی ہیں، بخلاف کافر و مشرک کے، کہ اس کانہ کوئی عمل اوپر چڑھتا اور شرف قبولیت پاتا ہے، اور نہ کوئی خیروبرکت اس کے لیے وہاں سے نازل ہوتی ہے، سو کلمہ طیبۃ یعنی کلمہ ایمان دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ وضامن اور تمام خوبیوں اور خصال حمیدہ کی اصل اصیل اور اساس متین ہے، اور مومن صادق اس کی خیرات و برکات سے ہمیشہ متمتع و مستفید اور اس کی لذتوں سے شاد کام ہوتا رہتا ہے، بقول شاعر ہر لحظہ مومن کی نئی شان نئی آن، عام طور پر حضرات مفسرین کرام شجرہ طیبہ کا مشبہ بہ تلاش کرنے کے سلسلہ میں طرح طرح کے تکلفات سے کام لیتے ہیں حالانکہ بات سیدھی اور صاف ہے کہ کلمہ طیبہ کے جس شجرہ طیبہ کے مثال یہاں بیان فرمائی گئی ہے اس کی دوسری کوئی مثال سرے سے ہے ہی نہیں، بلکہ وہ اپنی مثال آپ اور ایک منفرد وبے مثال درخت ہے، سو آیت کریمہ میں یہ نہیں ارشاد فرمایا گیا کہ خارج میں اس طرح کا اور اس شان کا حامل کوئی درخت موجود ہے، بلکہ یہ فرمایا گیا کہ اس طرح اور اس شان کا ایک درخت ہو، اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی کوئی درخت ہے ہی نہیں سوائے شجرہ توحید کے، اس لیے خارج میں اس طرح کا کوئی درخت تلاش کرنے اور اس کو مشبہ بہ قرار دینے کی ضرورت ہی نہیں، ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اپنے ترجمہ میں اس کی رعایت رکھی ہے والحمد للہ بہرکیف ایمان و یقین اور توحید خداوندی کا عکاس و آئینہ دار یہ کلمہ طیبہ ایک ایسا پاکیزہ اور بےمثال درخت ہے جوہر موسم میں اور ہر حال میں پھل دیتا ہے جبکہ دنیا کے دوسرے درختوں کا حال یہ ہے کہ ان کے پھل خاص خاص موسموں میں پائے جاتے ہیں اور بس، جبکہ کلمہ طیبہ و ایمان کا شجرہ طیبہ ہر موسم میں ہر حال میں اور ہر وقت پاکیزہ پھل دیتا ہے اور مومن صادق اس سے برابر مستفید ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 14:2654۔ شجرہ خبیثہ کی تمثیل کا ذکر وبیان :
سوتوحید کے شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت کی تمثیل کے بعداس کے کفر و شرک کے کلمہ خبیثہ کی تمثیل پیش فرمائی گئی ہے، جس کی اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ کفر و شرک کے شجرہ خبیثہ کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں ہوسکتا، کہ کفر وباطل کے شجرہ خبیثہ کا وجود وکیان کسی حجت وبرہان پر نہیں محض ادہام وظنون پر قائم ہوتا ہے، جو کہ حق کی چوٹ پر تے اور ضرب لگتے ہی۔ ھبآء منثوراہو جاتا ہے اور کلمہ خبیثہ چونکہ کلمہ طیبہ کے بالمقابل اور اس کی ضد ہے، اس لئے یہ کفر وباطل کی ہر شکل وصورت کو عام وشامل ہے، خواہ وہ کفر و شرک ہو، یا دہریت ولامذہبیت، یا الحادوزندقہ، یا کوئی ایسا خود ساختہ طریقہ وتخیل، یا نظام عمل، جو دین حق اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے طریقہ کے خلاف ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف کفر وباطل کے شجرہ خبیثہ کی کوئی جڑ بنیاد نہیں ہوسکتی اور اس سے یہ اندازہ بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اہل کفر وباطل جو اس کلمہ خبیثہ کے علمبردار ہوتے ہیں وہ کتنے بےوزن اور بےحقیقت ہوتے ہیں، ایسوں کو دلوں کا کوئی سکون وقرار نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 14:2755۔ اہل ایمان کے لئے دنیا میں بھی ثابت قدمی :
کہ وہ راہ حق و صواب پر قائم اور ثابت قدم رہتے ہیں، اور زیغ وضلال کے جھگڑوں سے محفوظ رہتے ہیں، اور ہر فیصلہ کن مرحلے پر اس ایمان کی برکت اور اپنے رب کی عنایت و توفیق سے وہ صحیح فیصلہ کرتے ہیں اور ان کا رب ان کے ایمان کی برکت سے ان کی صحیح راہنمائی فرماتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ان الذین امنو وعملوالصالحات یہدیہم ربہم بایمانہم تجری من تحتہم الانہار فی جنات النعیم (یونس : 9) یعنی بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے ان کا رب ان کی راہنمائی فرمائے گا ان کے ایمان کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں، یہاں تک کہ وہ نعمتوں بھری ان جنتوں سے سرفراز ہوجائینگے جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی، سو نور ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔
56۔ اور ان کے لئے آخرت میں بھی ثابت قدمی :
جس کا سب سے پہلا اور اہم مرحلہ برزخ کا مرحلہ ہے، جہاں منکرونکیر کے سوالات کے جواب میں وہ صحیح جواب دے گا، اور ثابت قدم رہے گا، جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث میں اس کی تصریح و تفصیل موجود ہے (بخاری کتاب التفسیر، سورة ابراہیم، اور مسلم کتاب الجنتہ وصفۃ نعیمہا واھلہا)
57۔ ظالموں کے لئے محرومی اور ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ گمراہی (کے ہولناک گڑھے) میں ڈال دیتا ہے ظالموں کو، ان کے ظلم وعدوان کی بناء پر کہ وہ حق سے منہ موڑ کر ظلم کرتے ہیں، اپنے خالق ومالک کے حق میں، کہ وہ اس کی عبودیت و بندگی سے منہ موڑ کر بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنا تے ہیں، نیز وہ ظلم کرتے ہیں اس کائنات کے حق میں جس میں وہ رہتے بستے ہیں، کہ اس کی بیشمار نعمتوں سے لگاتار اور طرح طرح مستفید ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود اس واہب مطلق کے حضور جھکنے اور اس کا حق شکرادا کرنے کی بجائے کفر وانکار کا طریقہ اپناتا ہیں، جس نے ان کو محض اپنے فضل وکرم سے ان نعمتوں سے نوازا ہے، نیز وہ ظلم کرتے ہیں خود اپنی جانوں پر، کہ ایک تو وہ اس طرح اپنی فطرت کو بدلتے اور مسخ کرتے ہیں، اور دوسری طرف راہ حق کے مقابلے میں کفر وباطل کو اپنا کر وہ خود اپنے لئے دوزخ کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
58۔ اللہ جو چاہے کرے، سبحانہ وتعالیٰ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک و مختار بھی اور اپنی کائنات میں بلاشرکت غیرے حاکم و متصرف بھی، پس وہ جو چاہے کرے لیکن چونکہ وہ حکیم وعلیم بھی ہے، اس لیے اس کا ہرحکم کامل علم اور نہایت حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان اور صفت ہے کہ وہ عزیز وقہار ہونے کے ساتھ ساتھ رحمن ورحیم اور حلیم و کریم بھی ہے، سبحانہ وتعالیٰ سو اس کائنات میں اسی کی مشیت ومرضی چلتی ہے وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، کوئی نہیں جو اس کی مشیت میں رکاوٹ بن سکے اور اس کے آگے دم مارسکے، سبحانہ وتعالیٰ ، پس مشیت اسی وحدہ لاشریک کی مشیت ہے۔
Ayahs 14:28–2959۔ کفران نعمت کے ظلم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا، یعنی توحید اور حق و ہدایت کی اس عظیم الشان نعمت کو جس جیسی دوسری کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی، اور جس سے حضرت حق جل مجدہ نے نبی رحمت کی بعثت کے ذریعے ان کو نوازا، مگر انہوں نے اس کو اپنا کر اور اس کی قدر کرکے دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور رہنے کی بجائے الٹا اس کا کفر وانکار کیا اور اس طرح انہوں نے دارین کے اس خسران کو اپنایا، جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان ظالموں نے اللہ پاک کی اس عظیم الشان نعمت کو جو ان دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرور و ہمکنار کرنے والی تھی، اس سے منہ موڑ کر اور اس کا انکار کرکے انہوں نے اپنے دارین کی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا، سو یہ کتنی بڑی شقاوت و بدبختی ہے کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے منہ موڑ کر دنیا وآخرت کی ہلاکت و تباہی کو گلے لگایا جائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 14:3061۔ مشرکوں کے شرک کا ذکر وبیان :
یعنی توحید کی اس عظمت شان کے باجود لوگوں نے اللہ وحدہ لاشریک کے طرح طرح کے شریک ٹھہرالیے، کہ فلاں سے فلاں ہماری حاجت پوری ہوتی ہے، فلاں سے فلاں کام بنتا ہے، وغیرہ وغیرہ چناچہ مشرکین مکہ نے بیت اللہ شریف کے اندر تین سو ساٹھ بت بنا رکھے تھے، تاکہ ہر کام کے الگ معبود ہو، اور ہر روز ایک نئے معبود کے سامنے جھکیں، اور آج کلمہ گو مشرک نے بھی طرح طرح کی سرکاریں گھڑ رکھی ہیں، کانواں والی سرکار، بلیوں والی سرکار، اور کمبل والی سرکار وغیرہ وغیرہ، اور یہ کہ کہیں نوکری ملتی ہے، کہیں اولاد ملتی ہے، کہیں باؤلے کتے کے کاٹے کا علاج ہوتا ہے، اور کہیں پیٹ کے درد کا، کہیں خارش کا، اور کہیں کسی بیماری کا، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کوئی پوچھے کہ آخرتم لوگوں کے پاس اس کی سند اور دلیل کیا ہے ؟ تو یہ آئیں بائیں شائیں کرکے رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
62۔ شرک کا نتیجہ وانجام راہ حق و ہدایت سے محرومی۔ والعیاذ باللہ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ پاک کے لئے طرح طرح کے شریک گھڑ لئے تاکہ اس طرح یہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خود ساختہ معبودوں کا نتیجہ وانجام دنیا کو اللہ کی راہ سے بہکانا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ یہ لام عاقب وانجام کے لئے ہے، یعنی اس شرک اور ان کے ساختہ پرداختہ من گھڑت معبودوں اور طرح طرح کی خود ساختہ سرکاروں کا نتیجہ وانجام یہی ہوتا ہے، کہ لوگ اللہ کے راستے سے ہٹ کر اور بھٹک کر جگہ جگہ گرتے اور طرح طرح ذلیل ہوتے ہیں، اور ظاہر کے کہ جب ان کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بناء پر ان کے کام اس طرح کی ان خود ساختہ معبودوں اور فرضی سرکاروں سے بنتے ہیں، تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کے حضور جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہے، چناچہ آج بھی آپ کو جاہل مسلمانوں کے اندر کتنے ہی ایسے نمونے ملیں گے، جو صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہم نے توفلاں سرکار کا کالر پکڑ رکھا ہے، اور ہم اسی سے وابستہ اور ان کے دامن گرفتہ ہیں، ہمیں کسی کی پرواہ نہیں، وہ ہمارے سب کام خود ہی بنادیں گے، اور اسی بناء پر ان میں کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جو نماز روزہ جیسے فرائض تک کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لام ایسے ہی ہے جیسے لدواللموت وابنوا للخراب میں ہے (المراغی، فتح القدیر، وغیرہ) یعنی تم لوگ جنم لو موت کے لئے اور تعمیر کرو ویرانی اور تباہی کے لئے یعنی تمہاری زندگی کا نتیجہ وانجام موت ہے اور تمہاری تعمیر کا انجام تباہی اور ویرانی ہے، یعنی آخر کار ایسا بہرحال ہو کر رہے گا، اس سے کسی کے لئے کوئی مفر ممکن نہیں۔
63۔ دنیاوی زندگی کے مزے محض چند روزہ :
چنانچہ متکبروں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کچھ مزے کرلو اور فائدے اٹھا لو کہ آخر کار تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے، پس دنیاوی زندگی کی چند روزہ فرصت میں کچھ فائدے اٹھا لو، ان دنیاوی فوائد اور منافع سے جو شرک وبت پرستی کے اس کاروبار سے آج تمہیں حاصل ہورہے ہیں، سو اس لوگوں کے کاروبار چلتے ہیں، نذرانے ملتے ہیں، لوگ جھک جھک کر ان کو سلام کرتے ہیں، بلکہ ان کے آگے سجدے تک کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ مگر یہ سب کچھ آخر کب تک ؟ یہ سب کچھ تو محض اس دنیاوی زندگی کی، چند روزہ فرصت کا سامان عیش ہے اور بس، اور جن بدنصیبوں کو اس چند روزہ عیش کے بعد دوزخ کی ہولناک آگ میں جلنا ہوگا ان سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے، سو اس ارشاد ربانی میں منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑ دینے والی دستک ہے تاکہ وہ باز آجائیں، اپنی غفلت بھری تباہ کن روش سے قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔
64۔ کفرو شرک کا لازمی نتیجہ وانجام دوزخ ،۔ والعیاذ باللہ۔
جس کا مستحق تم لوگوں نے اپنے آپ کو خود بنادیا ہے، سو تم چاہو یا نہ چاہو، بہرکیف تمہارا انجام یہی ہے اے منکرو ! کہ جس کفر و شرک اور انکاروسرکشی میں تم لوگ مبتلا ہو اس کا انجام بہرحال یہی ہے، سو اس میں ان منکرین کے لئے بڑی سخت تنبیہ اور تذکیر ہے کہ تم لوگ ہوش میں آجاؤ اور اپنی روش کی اصلاح کرلو، ورنہ اس ہولناک عذاب کے لئے تیار ہوجاؤ، کہ دوزخ کا عذاب بڑا ہی سخت اور انتہائی ہولناک ہے اور ایسا اور اس قدر کہ کفر و شرک والے کبھی اس سے چھٹکارا نہیں پاس کیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ان عذابھا کان غراما، سو کفر وانکار، اور شرک وبت پرستی کا انجام بڑا ہی برا اور انتہائی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال۔
65۔ ایماندار بندوں کے لئے خاص خطاب و ہدایت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہہ میرے خاص بندوں سے یعنی یہ اضافت و تشریف واختصاص کی ہے کہ جو خاص میرے بندے ہیں، نہ کہ وہ جو دنیا اور درہم ودنیار کے بندے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو میرے ان خاص بندوں سے کہہ دو کہ وہ حیات دنیا کی اس فرصت محدود میں یہ اور یہ کام کریں، تاکہ اس طرح عمررواں کی اس فرصت محدود کو اس کے صحیح مصرف میں صرف کریں اور اس سے آخرت کی اپنی حیات ابدی کے لئے تیاری کرسکیں، سو یہ نماز قائم کریں جو کہ رب کی رضاء اور اس کے قرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے ہماری راہ میں خرچ کریں۔
66۔ اللہ کے خاص بندوں کی صفت انفاق کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خرچ کریں ہمارے دیئے ہوئے میں سے ہماری رضاء کے لئے کہ یہ مالی اور عملی شکر ہے ہماری بخشی ہوئی نعمتوں کا، سو خرچ کریں جتنا ہوسکے اور ہماری راہ میں ہماری رضا کے لئے خرچ کریں جب بھی موقع ملے، اور جہاں بھی، اور جیسے بھی موقع ملے، سو انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی ایک خاص صفت ہے، اور وہ اپنے مالوں کو اللہ تعالیٰ ہی کا دیا بخشا جانتے ہیں۔ اور اس میں دوسروں کا حق سمجھتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، وفی اموالہم حق للسائل والمحروم۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضاء و خوشنودی کے لئے حسب موقع پوشیدہ طور پر بھی خرچ کرتے ہیں اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر بھی، اور اس طرح وہ اپنے مالوں کو دنیا وآخرت دونون کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید، حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وانت العزیز الوھاب۔
Ayah 14:3167۔ آخرت کے لئے تیاری نزول موت سے قبل :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خرچ کرتے ہیں اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے جس میں کچھ کام نہیں آسکے گا سوائے اپنے ایمان وعمل کے، سو اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے جو کرنا ہے کرلو، جو کمانا ہے کمالو، کہ پھر اس کا موقع ملنے والا نہیں، اپنے کیے کرائے کے سوا کچھ بھی کام نہیں آسکے گا، کہ اس یوم عظیم میں نہ کسی طرح کی کوئی خریدوفروخت ہوگی اور نہ کوئی دوست نوازی کام آئے گی، بس اپنا ہی ایمان وعمل کام آئے گا، اور بس۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید، حال من الاحوال۔
Ayahs 14:32–3368۔ اللہ کی نعمتوں کا تقاضادل وجان سے اس کے آگے جھک جانا :
سو زمین و آسمان کی یہ پوری کائنات جہاں ایک طرف اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے، وہاں دوسری طرف یہ اس کی بےپایاں رحمت کا ایک زندہ جاوید ثبوت بھی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے تم لوگ یہ اندازہ کرسکتے ہو کہ کس قدر قادر مطلق اور کتنا مہربان ہے تمہارا وہ رب ذوالجلال جس نے یہ سب کچھ تمہیں محض اپنے کرم اور احسان سے عطا فرمایا، اس کا تقاضا ہے کہ تم لوگ دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک جاؤ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس کے مطیع فرمان رہو، کہ یہ اس کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں تمہارا بھلا بھی ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید، حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ
69۔ عبادت و بندگی اللہ تعالیٰ ہی کا حق :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ سب کچھ اسی کی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ کا نتیجہ وثمرہ ہے، جس میں دوسری کوئی بھی ہستی اس کی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے، سو اسی وحدہ لاشریک نے انسان کے لیے زمین کا یہ عظیم الشان اور بےمثال بچھونا بچھایا، اور آسمان کی اس عظیم الشان اور بےمثال چھت کو ان کے سروں پر نہایت ہی پر حکمت طریقے سے تن دیا، اور اسی نے نہایت پر حکمت طریقے سے پانی کے اس عظیم الشان اور بےمثال جوہر مابہ الحیاۃ کو اتارا، جس سے ہر جاندار کی زندگی وابستہ ہے، اور اسی نے پانی کے اس جوہر عظیم کے ذریعے طرح طرح کی پیدواریں نکالیں، اور ان میں سے کسی بھی چیز میں اور کسی کا کوئی عمل دخل نہیں، تو پھر اس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے کہ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 14:3471۔ انسان کی ہر ضرورت کی تکمیل کا سامان :
سو اس قادر مطلق رب ذوالجلال والا کرام نے انسان کی ہراس ضرورت کی تکمیل کا از خود انتظام فرمایا جو اس زندگی کے لیے ناگزیرتھی، سو کتنی ہی ایسی نعمتیں ہیں جو انسان کی ذات اور اس کے جسم کے اندر موجود ہیں اور کتنی ہی ایسی ہیں جو اس کے جسم کے باہر اس پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں، جن سے انسان طرح طرح سے اور ہمیشہ مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور اس واہب مطلق جل جلالہ نے انسان کو یہ سب کو یہ سب کچھ از خود اور انسان کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر عطا فرمایا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تم کو عطا فرمایا وہ سب کچھ جس کا تم نے اس سے سوال کیا " اپنی زبان حال سے، چناچہ انسان کو اس واہب مطلق نے اس نے جسم کے اندر، اور اس کے باہر ان بےحد وحساب اور عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں اس سے بڑھ کر ایک نعمت ہے، اور جن کا احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، اور جو نعمتیں انسان اس سے اپنی زبان قال سے مانگتا ہے، ان میں بھی جو اس کے لائق ہوتی ہیں وہ بھی وہ اس کو عطا فرماتا ہے اور انسان کے احاطہ تصور و ادراک سے بھی کہیں بڑھ کر عطا فرماتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو ایسے رب رحمن ورحیم سے منہ موڑنا اور اس کے حق اور شرف و بندگی سے منہ موڑنا کس قدر ظلم اور کتنی بری ناانصافی ہے، واقعی انسان یعنی وہ انسان جو حق و ہدایت کی روشنی سے محروم ہے بڑا ہی ظالم اور سخت ناشکرا ہے جو اس رب ذوالجلال کے حق اطاعت و عبادات سے منہ موڑتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الظلم والکفر بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 14:35–3672۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء بت پرستی سے بچاؤکے لیے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء میں اپنے سے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب بچا دے مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی بت پرستی (کی نجاست ولعنت) سے کہ تیری توفیق و عنایت کے بغیر کوئی بھی نہیں بچ سکتا، سبحان اللہ کیا شان ہے تفویض ورضاء کی، کہ ابو الانبیاء رئیس الموحدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے بت شکنی کے سلسلہ میں بےمثال تاریخ رقم کی، وہ بھی اپنے رب سے بت پرستی سے بچنے کی اد طرح دعاء فرماتے ہیں، علیہ وعلی نبینا اطیب الصلوۃ والتسلیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان پیغمبر کا بھی یہ حال ہے تو پھر ہماوشما کو اس بارے کس قدر وفکر واحتیاط کی ضرورت ہے ؟ وباللہ التوفیق اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 14:37–3876۔ وادیء غیر زرع کی آبادی کے مقصد کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بےآب وگیاہ بستی یعنی وادی غیرزرع میں بسایا یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اور جو ان کی نسل میں آگے پیدا ہوں گے ان کو (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اسی وادی غیرذرع میں بیت اللہ کے پاس بسایا اور ان کے بارے میں اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کیا، تاکہ اس طرح اس کی آبادی کا سامان ہو، اور اس طرح ایک نئی دنیا کی داغ بیل پڑے جس طرح کہ فی الواقع بعد میں ہوا اور وہ وادی غیر ذی زرع یعنی بےآب وگیاہ بستی پورے عالم اسلام کا عظیم الشان اور بےمثال مرکز بن گئی جو آج تک قائم ہے اور انشاء اللہ تاقیام قیامت قائم رہے گا۔ والحمد اللہ الذی بیدہ تصریف الامور۔
Ayah 14:3980۔ حاجت رواومشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے :
حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ سب تعریفیں اور تمام شکر وسپاس اس اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے مجھے بڑھاپے میں اولاد سے نوازا، جو کہ بچے ملنے کا وقت نہیں ہوتا، کہ بقول حضرت ابن عباس ؓ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت آپ کی عمر ننانوے برس تھی، اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ایک سو بارہ برس، سبحان اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسی عظیم الشان ہستی جو ابو الانبیاء اور امالموحدین کے لقب سے مشہور و معروف ہے، اور جن جیسی امتیازی شان اور خصوصیات کی حامل دوسری کوئی بھی شخصیت پوری تاریخ انسانیت میں پیدا ہی نہیں ہوئی، وہ بھی حاجت روا ومشکل کشا نہیں۔ اور وہ بھی اولاد جیسی نعمت کے لیے عمر بھر رب تعالیٰ کی عنایت ہی کی منتظر و محتاج رہی، تو پھر کیا کہیے گا کہ ان کلمہ گو مشرکوں کے شرکاء جنہوں نے جگہ جگہ اور طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشاگھڑ رکھے ہیں، اور جو کہتے ہیں کہ ہمیں اولادیں انہیں سرکاروں اور انہیں فقیروں، اور ملنگوں سے ملتی ہیں، اور اسی بناء پر وہ ان آستانوں کے چکر لگاتے، وہاں سجدے تک کرتے ہیں، اور وہ اپنی اولادوں کے نام بھی حضور بخش، پیر بخش، علی بخش، حسین بخش، علی داد، پیراں دتہ، اور نیازعلی، وغیرہ وغیرہ جیسے شرکیہ نام رکھتے ہیں، ان میں سے جو جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، ان کے شرک میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم الذی لا الہ الا ہو، بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ اور آپ کے اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ حاجت روا مشکل کشاسب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اولاد دنیا دوسری کسی بھی نعمت سے سرفراز فرمانا اللہ ہی کی شان اور اسی وحدہ لاشریک کا اختصاص ہے، حضرات انبیاء ورسل جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج اور اسی کے حضور سب دعاء وسوال دراز کرنے والی ہیں۔
81۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ ہی کی بخشش وعطاء ہیں :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ سب شکر وسپاس اس اللہ کے لیے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹوں سے نوازا، جن کی عظمت شان اور جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعدجتنے بھی انبیاء کرام آپ کی نسل ہی سے تشریف لائے وہ سب کے سب انہی دو فرزندان گرامی کی اولاد میں آئے حضرت خاتم الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے باقی سب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے، سو اولاد کی نعمت اور وہ بھی بیٹوں کی صورت میں، اور بیٹے بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر بیٹے اور وہ بھی بڑھاپے کے اس دور میں جو کہ اولاد کے حصول کا دور نہیں ہوتا نعمت در نعمت کی ایک عظیم الشان اور مفرد مثال ہے اسی لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس منفرد نعمت کی یاد سے سراپا شکروسپاس بن کر اپنے رب کی حمد وثناء سے رطب اللسان ہوجاتے ہیں اور یہی ہے صحیح طریقہ کہ بندہ شکر ونعمت سے شرشار ہو کر اپنے رب کے حضور دل وجان سے جھک جائے کہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندے پر حق بھی اور اسی میں اس کا بھلا بھی ہے، دنیا وآخرت کے دونوں جہانوں میں، وباللہ التوفیق۔
82۔ اللہ بڑا ہی سننے اور قبول کرنے والا ہے دعاؤں کو :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مزید کہا کہ بیشک میرا رب بڑا ہی سننے والا ہے (ہر کسی کی) دعا کو اور اس ارشاد میں تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف " ان " تاکید کے لیے " لام " تاکید کے لیے اور لفظ " سمیع " میں تاکید و مبالغہ الگ، اور پھر " جملہ اسمیہ " کی تاکید الگ، اس طرح تاکید در تاکید سے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و عنایت سے سب کی دعاء سنتا اور قبول فرماتا ہے، مگر اس سب کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ وہ ہماری نہیں سنتا بلکہ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد ربانی سے ایسے تمام مشرکانہ فلسفوں اور من گھڑت مفروضوں کی جڑ کٹ جاتی ہے والحمد للہ جل وعلا۔
Ayahs 14:40–4183۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان :
سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے اپنے لیے بھی اور اپنی اولاد کے لیے بھی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب بخشش فرمادے میری بھی اور میری اولاد کی بھی کہ یہ سب عقیدہ و ایمان کی دولت سے سرفراز ہو کر تیرے بن جائیں، کہ ایمان وعمل کی یہی پونجی وہ پونجی ہے جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے اللہم فشرفنا بہ وزدنا منہ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعاء سے ایک بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ مختار کل ہوتا ہے نہ حاجت روا ومشکل کشا جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے بلکہ اس کا اصل کام دعا کرنا اور اپنے خالق ومالک کے حضور میں دست سوال دراز کرنا ہوتا ہے اور بس، آگے دعا کو قبول کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں اور اسی کی مشیت ومرضی پر موقوف ہوتا ہے، وہ جس جس کی دعاء چاہئے اور جب چاہے قبول فرمالے اور جس کی چاہے نہ قبول کرے، جیسے بہت سے انبیاء کرام کی دعاؤں کو اس نے قبول نہیں فرمایا جس کی خود قرآن حکیم میں بہت سی مثالیں موجود ہیں اور دوسری بات حضرت ابراہیم کے عمل سے یہ ملتی ہے کہ انسان اپنی اولاد کے لیے بھی دعا مانگے اور تیسری بات یہ کہ انسان پہلے اپنے لیے دعا مانگے اور پھر دوسروں کے لیے کہ وہ محض خود بھی دعا کا بہرحال محتاج ہے۔
Ayah 14:4286۔ ظالموں کو ڈھیل اور مہلت کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا اور انما کے کلمہ حصر کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ ظالموں کو ڈھیل دی جارہی ہے ایک بڑے ہی ہولناک دن کے لئے یعنی یوم حساب کے لیے کہ فیصلہ کا دن وہی ہے، جس میں ہر شخص اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پائے گا، جب کہ یہ دنیا بدلے کی نہیں عمل کی جگہ ہے، کہ یہ درالعمل ہے نہ کہ دارالجزاء یہاں عمل ہے اور وہاں اس کا صلہ وبدلہ، اس لیے اس دنیا میں اگر ظالموں کو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا ایسے لوگ یونہی چھوٹ جائیں گے نہیں اور ہرگز نہیں۔
Ayah 14:4387۔ یوم حساب کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ سر اٹھائے اس طرح دوڑے چلے جارہے ہوں گے کہ ان کی نگاہیں ان کی طرف پلٹ بھی نہیں سکیں گی، شدت ہول کی بناء پر، کہ وہ بڑا ہی شدید اور انتہائی ہولناک دن ہوگا، اور اس روز لوگوں کے دل ودماغ، عقل وفہم اور فکر و ادراک سے خالی عالی وعاری ہوکراڑے جارہے ہوں گے (مراغی، روح معارف وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لوگ قبروں سے نکل نکل کر دوڑے جارہے ہوں گے، سر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔