40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 40:75–76

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ بدلہ اس کا جو تم اتراتے پھرتے تھے زمین میں ناحق اور اس کا جو تم اکڑتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ دروازوں میں دوزخ کے سدا رہنے کو اس میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور والوں کا

(آیت) بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ۔ تفرحون۔ فرح سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں خوش ہونا اور مسرور ہونا۔ اور تمرحون، مرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اترانا اور مال و دولت پر فخر و غرور میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق میں تعدی کرنا۔ مرح تو مطلقاً مذموم اور حرام ہے اور فرح یعنی خوشی میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر معاصی سے لذت حاصل کرنا اور ان پر خوش ہونا یہ تو حرام و ناجائز ہے اور اس آیت میں یہی فرح مراد ہے جیسے قارون کے قصہ میں بھی فرح اسی معنے میں آیا ہے (آیت) لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین۔ یعنی بہت خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ خوش ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور دوسرا درجہ فرح کا یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر ان پر خوشی و مسرت کا اظہار کرے، یہ جائز بلکہ مستحب اور مامور یہ ہے۔ ایسی ہی فرح کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا۔ (آیت) فبذلک فلیفرحوا۔ یعنی اس پر خوش ہونا چاہئے۔ آیت مذکورہ میں مرح کے ساتھ کوئی قید نہیں مطلقاً سبب عذاب ہے اور فرح کے ساتھ بغیر الحق کی قید لگا کر بتلا دیا کہ ناحق اور ناجائز لذتوں پر خوش ہونا حرام اور حق و جائز نعمتوں پر بطور شکر کے خوش ہونا عبادت اور ثواب ہے۔
Ayahs 40:77–78

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر اگر ہم دکھلاویں تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم ان سے کرتے ہیں یا قبض کرلیں تجھ کو ہر حالت میں ہماری ہی طرف پھر کر آئیں گے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجے ہیں بہت رسول تجھ سے پہلے بعضے ان میں وہ ہیں کہ ہم نے سنایا تجھ کو ان کا احوال اور بعضے ہیں کہ نہیں سنایا اور کسی رسول کا مقدور نہ تھا کہ لے آتا کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے پھر جب آیا حکم اللہ کا فیصلہ ہوگیا انصاف سے اور ٹوٹے میں پڑے اس جگہ جھوٹے۔

(آیت) فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ الآیة۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ خوشی کے ساتھ اس کے منتظر تھے کہ کافروں کو عذاب ملے۔ اس لئے آپ کی تسلی کے لئے اس آیت میں یہ فرمایا کہ آپ ذرا صبر کریں، اللہ نے جو وعدہ ان کے لئے عذاب کا کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ خواہ آپ کی حیات ہی میں یا آپ کی وفات کے بعد۔ کافروں کے عذاب کا انتظار بظاہر شان رحمة اللعالمین کے منافی ہے لیکن مجرمین کو سزا دینے سے مقصد غیر مجرم مومنین کو جن پر ظلم کیا گیا تھا تسلی دینا ہو تو مجرموں کو سز ا، شفقت و رحمت کے منافی نہیں۔ کسی مجرم کو سزا دینا کسی کے نزدیک بھی رحمت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔
Ayahs 40:79–82

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنا دیئے تمہارے واسطے چوپائے تاکہ سواری کرو بعضوں پر اور بعضوں کو کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور ان میں تم کو بہت فائدے ہیں اور تاکہ پہنچو ان پر چڑھ کر کسی کام تک جو تمہارے جی میں ہو اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں پھر کون کون سی نشانیوں کو اپنے رب کی نہ مانوں گے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا پھرے نہیں وہ ملک میں کہ دیکھ لیتے کیسا انجام ہوا ان سے پہلوں کا وہ تھے ان سے زیادہ اور زور میں سخت اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے ہیں زمین پر پھر کام نہ آیا ان کے جو وہ کماتے تھے

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان کو) کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (اس لئے بنائے) تاکہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے (جیسے کسی سے ملنے کے لئے جانا، تجارت کے لئے جانا وغیرہ وغیرہ) اور (سوار ہونے میں کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں بلکہ) ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو (اور ان کے علاوہ) تم کو اپنی (قدرت کی) اور نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے۔ (چنانچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے) سو تم اللہ کی کون کون سی نشانوں کا انکار کرو گے (اور یہ لوگ جو بعد قیام دلائل بھی توحید کے منکر ہیں تو کیا ان کو شرک کے وبال کی خبر نہیں اور) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں (اس شرک کی بدولت) ان کا کیسا انجام ہوا (حالانکہ) وہ لوگ ان سے (عدد میں بھی) زیادہ تھے اور قوت اور نشانیوں میں (بھی) جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں (مثل عمارات وغیرہ) بڑھے ہوئے تھے سو ان کی (یہ تمام تر) کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی (اور عذاب الٰہی سے نہ بچ سکے) غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے (اس) علم (معاش) پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا (یعنی معاش کو مقصود سمجھ کر اور اس میں جو ان کو لیاقت حاصل تھی، اس پر خوش ہوئے اور معاد کا انکار کر کے اس کی طلب کو دیوانگی اور اس کے انکار پر وعید عذاب سے تمسخر کیا) اور (اس کے وبال میں) ان پر وہ عذاب آ پڑا جس کے ساتھ تمسخر کرتے تھے، پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے (اب) ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے سو ان کا یہ ایمان لانا نافع نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ (کیونکہ وہ ایمان اضطراری ہے اور بندہ مکلف ہے ایمان اختیاری کا) اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت (یعنی جبکہ ایمان نافع نہ ہوا) کافر خسارہ میں رہ گئے (پس ان مشرکین کو بھی یہ سمجھ کر ڈرنا چاہئے، ان کے لئے بھی یہی ہوگا پھر کچھ تلافی نہ ہو سکے گی)
Ayahs 40:83–84

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پھر جب پہنچے ان کے پاس رسول ان کے کھلی نشانیاں لے کر اترانے لگے اس پر جو ان کے پاس تھی خبر اور الٹ پڑی ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے

معارف و مسائل (آیت) فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ۔ یعنی ان عاقبت نااندیش منکرین کے پاس جب اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل واضحہ توحید و ایمان کو لے کر آئے تو یہ لوگ اپنے علم کو انبیاء کے لائے ہوئے علم سے بہتر اور حق سمجھ کر انبیاء کے کلام کا رد کرنے لگے۔ یہ علم جس پر کفار خوش اور مگن تھے اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کے علوم کو رد کرتے تھے۔ یا تو ان کا جہل مرکب تھا کہ ناحق اور باطل کو حق و صحیح سمجھ بیٹھے تھے۔ جیسے یونانی فلاسفہ کے بیشتر علوم و تحقیقات جو الہیات سے متعلق ہیں اسی نمونہ کی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کو جہل مرکب تو کہہ سکتے ہیں۔ ان کا نام علم رکھنا علم کی توہین ہے۔ یا پھر ان کے اس علم سے مراد دنیا کی تجارت، صنعت وغیرہ کا علم ہے جس میں یہ لوگ فی الواقع ماہر تھے۔ اور قرآن کریم نے ان کے اس علم کا ذکر سورة روم کی آیت میں اس طرح فرمایا ہے (آیت) یعلمون ظاہراً من الحیوة الدنیا وھم عن الآخرة ھم غفلون۔ یعنی یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی اور اس کے منافع حاصل کرنے کو تو کچھ جانتے سمجھتے ہیں، مگر آخرت جہاں ہمیشہ رہنا ہے اور جہاں کی راحت و کلفت دائمی ہے اس سے بالکل جاہل و غافل ہیں۔ اس آیت میں بھی اگر یہی علم ظاہر دنیا کا مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ چونکہ قیامت اور آخرت کے منکر اور وہاں کی راحت و کلفت سے جاہل و غافل ہیں۔ اس لئے اپنے اسی ظاہری ہنر پر خوش اور مگن ہو کر انبیاء کے علوم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ (مظہری)
Ayah 40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ منکر۔

(آیت) فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ۔ یعنی عذاب سامنے آنے کے بعد یہ لوگ ایمان کا اقرار کر رہے ہیں مگر اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔ حدیث میں ہے کہ یقبل اللہ توبة العبد مالم یغرغر (ابن کثیر) یعنی اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ اس وقت سے پہلے پہلے قبول کرتے ہیں، جس وقت نزع روح اور غرغرہ موت سامنے آجائے، اسی طرح پر عذاب آسمانی کے سامنے آجانے کے بعد کسی کی توبہ اور ایمان قبول نہیں ہوتا۔ اللھم انا نسئلک العفو والعافیة والتوبة قبل الموت والیسر والمعافاة عند الموت والمغفرة والرحمة بعد الموت ببرکة آل حم و صلی اللہ تعالٰ علی النبی الکریم۔ تمت سورة المومن بحمد للہ تعالیٰ و عونہ للثالث عشرمن ربیع الآخر 1329 ھ یوم السبت فلہ الحمد اولہ و آخرہ وظاہرہ و باطنہ