Ayahs 40:36–43(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند تعمیر بنا لے وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتا۔ مگر اپنے لوگوں کو بیوقوف بنانے اور دکھانے کے لئے یہ حرکت کی تھی۔ پھر کسی صحیح اور قوی روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ ایسا کوئی محل عالیشان بلند تعمیر ہوا یا نہیں۔ قرطبی نے نقل کیا ہے کہ یہ بلند تعمیر کرائی گئی تھی جو بلندی پر پہنچتے ہی منہدم ہوگئی۔
دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس مولانا محمد یعقوب صاحب کے شاگرد خاص میرے والد ماجد مولانا محمد یٰسین صاحب نے اپنے استاد موصوف سے نقل کر کے فرمایا کہ اس قصر بلند کے منہدم ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی آسمانی عذاب آیا ہو بلکہ ہر تعمیر کی بلندی اس کی بنیادوں کے تحمل پر موقوف ہوتی ہے اس نے کتنی بھی گہری بنیاد رکھی ہو مگر ایک حد تک ہی گہری ہوگی جب اس کے اوپر تعمیر چڑھاتا ہی چلا گیا تو لازم تھا کہ جب اس کی بنیادوں کے تحمل سے زیادہ ہوجائے تو منہدم ہوجائے اس سے فرعون و ہامان کی دوسری بےوقوفی ثابت ہوئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 40:44(آیت) فَسَتَذْكُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَكُمْ ۭ وَاُفَوِّضُ اَمْرِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ۔ یہ مومن آل فرعون کا آخری کلام ہے جو اپنی قوم کو حق کی طرف بلانے کے سلسلے میں کیا گیا جس میں اظہار ہے کہ آج تو تم میری بات نہیں مانتے مگر جب عذاب تمہیں آپکڑے گا تو اس وقت تم کو میری بات یاد آئے گی۔ مگر اس وقت کا یاد آنا بےکار ہوگا۔ اور اب جبکہ اس طویل مکالمہ اور نصیحت و دعوت کے ذریعہ اس مومن آل فرعون کا ایمان ان لوگوں پر ظاہر ہوگیا تو فکر ہوئی کہ اب یہ لوگ ان کے درپے ہوں گے، اس لئے فرمایا کہ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگران و محافظ ہے۔ امام تفسیر مقاتل نے فرمایا کہ ان کے گمان کے مطابق قوم فرعون ان کے درپے ہوئی تو یہ پہاڑ کی طرف بھاگ نکلے۔ اور ان کی گرفت میں نہ آسکے جس کا ذکر اگلی آیت میں اس طرح آیا ہے۔
Ayah 40:45فوقہ اللہ سیات ما مکروا وحاق بال فرعون سوء العذاب۔ یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی بری تدبیروں کے شر سے بچا لیا مگر خود قوم فرعون سخت عذاب میں پکڑی گئی۔ مولائے کریم نے مومن آل فرعون کو دنیا میں اول تو آل فرعون کو ان کے خلاف تدبیروں سے بچایا جس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں۔ مگر الفاظ قرآن سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قتل کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لئے قوم فرعون نے بہت سی تدبیریں کی تھیں اور جب پھر قوم فرعون غرق ہوئی تو اس بندہ مومن کو حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ نجات دی گئی اور آخرت کی نجات تو ظاہر ہی ہے۔
Ayah 40:46(آیت) اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّ آ وَيَوْمَ تَـقُوْمُ السَّاعَةُ ۣ اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ آل فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں کی شکل میں ہر روز صبح اور شام دو مرتبہ جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور جہنم کو دکھلا کر ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارا ٹھکانہ یہ ہے۔ (اخرجہ عبدالرزاق وابن ابی حاتم، مظہری)
اور صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو عالم برزخ میں صبح و شام اس کو وہ مقام دکھلایا جاتا ہے جہاں قیامت کے حساب کے بعد اس کو پہنچنا ہے اور یہ مقام دکھلا کر روزانہ اس سے کہا جاتا ہے کہ تجھے آخر کار یہاں پہنچنا ہے۔ اگر یہ شخص اہل جنت میں سے ہے تو اس کا مقام جنت اس کو دکھلایا جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہے تو اس کا مقام جہنم اس کو دکھلایا جائے گا۔
عذاب قبر
یہ آیت دلیل ہے عذاب قبر کی اور حدیث کی روایات متواترہ اور اجماع امت اس پر شاہد ہیں، جن کو احقر نے ایک مستقل رسالہ بنام السیر بعذاب القبر میں جمع کردیا ہے۔ مع آیات متعلقہ کے یہ رسالہ احکام القرآن حزب سادس کا جز ہو کر بزبان عربی شائع ہوگیا۔
Ayahs 40:47–50خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی پیش نظر رکھنے کے قابل ہے) جبکہ کفار دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی تابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی متبوعین سے جن کا وہ دنیا میں اتباع کیا کرتے تھے) کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جز ہٹا سکتے ہو (یعنی جب دنیا میں تم نے ہمیں اپنا تابع اور پیرو بنا رکھا تھا تو آج تمہیں ہماری مدد کرنا چاہئے) وہ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی دوزخ میں ہیں (یعنی ہم اپنا ہی عذاب کم نہیں کرسکتے تو تمہارا کیا کریں گے) اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا (اب اس کے خلاف کرنے کی کس کو مجال ہے) اور (اس کے بعد) جتنے لوگ دوزخ میں ہوں گے (یعنی بڑے اور چھوٹے تابع اور متبوع سب مل کر) جہنم کے موکل فرشتوں سے (درخواست کے طور پر) کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے (یعنی عذاب کے بالکل ہٹ جانے یا ہمیشہ کے لئے کم ہوجانے کی امید تو نہیں، کم از کم ایک روز کی تو کچھ چھٹی مل جایا کرے) فرشتے کہیں گے کہ (یہ بتلاؤ) کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر معجزات لے کر نہیں آتے رہے (اور دوزخ سے بچنے کا نہیں بتلاتے رہے تھے) دوزخی کہیں گے ہاں آتے تو رہے تھے (مگر ہم نے ان کا کہنا نہ مانا (آیت) بلی قدجاءنا نذیر فکذبنا) فرشتے کہیں گے کہ تو پھر (ہم تمہارے لئے دعا نہیں کرسکتے کیونکہ کافروں کے لئے دعا کرنے کی ہم کو اجازت نہیں ہے) تم ہی (اگر جی چاہے تو خود) دعا کرلو، اور (تمہاری دعا کا بھی کچھ نتیجہ نہ ہوگا کیونکہ) کافروں کی دعا (آخرت میں) محض بےاثر ہے (کیونکہ آخرت میں کوئی دعا بغیر ایمان کے قبول نہیں ہو سکتی اور ایمان کا موقع دنیا ہی میں تھا وہ تم کھو چکے اور یہ جو کہا کہ ”آخرت میں“ اس سے فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں تو کافروں کی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے، جیسا کہ سب سے بڑا کافر ابلیس کی سب سے بڑی دعا قیامت تک زندہ رہنے کی قبول کرلی گئی)۔
Ayahs 40:51–55خلاصہ تفسیر
ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں (جیسا اوپر موسیٰ ؑ کے قصہ سے معلوم ہوا) اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو کہ نامہ اعمال لکھتے تھے اور قیامت کے روز اس بات کی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے عمل تبلیغ کیا اور کفار نے عمل تکذیب، غرض وہ فرشتے گواہی کے لئے) کھڑے ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے، وہاں کی مدد کا حال ابھی کفار کے معذب بالنار ہونے سے معلوم ہوچکا ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی جس دن کو ظالموں (یعنی کافروں) کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی (یعنی اول تو کوئی معتدبہ معذرت نہ ہوگی اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرح ہوئی تو وہ نافع نہ ہوگی) اور ان کے لئے لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس عالم میں خرابی ہوگی (پس اس طرح آپ اور آپ کے اتباع بھی منصور ہوں گے اور مخالفین ذلیل و مقہور ہوں گے تو آپ تسلی رکھئے) اور (آپ کے قبل) ہم موسیٰ ؑ کو ہدایت نامہ (یعنی توریت) دے چکے ہیں اور (پھر) ہم نے وہ کتاب بنی اسرائیل کو پہنچائی تھی کہ وہ ہدایت اور نصیحت (کی کتاب) تھی، اہل عقل (سلیم) کے لئے (بخلاف بےعقلوں کے کہ وہ اس سے منتفع نہ ہوئے۔ اسی مثل موسیٰ ؑ کے آپ بھی صاحب رسالت و صاحب وحی ہیں اور اسی طرح مثل بنی اسرائیل کے آپ کے متبعین آپ کی کتاب کی خدمت کریں گے اور جیسے ان میں اہل عقل تصدیق کرنے والے اور متبع تھے اور بےعقل لوگ منکر و مخالف اسی طرح آپ کی امت میں بھی دونوں طرح کے لوگ ہوں گے) سو (اس سے بھی) آپ (تسلی حاصل کیجئے اور کفار کی ایذواؤں پر) صبر کیجئے بیشک اللہ کا وعدہ (جس کا اوپر لننصر الخ میں ذکر ہوا ہے بالکل) سچا ہے اور (اگر کبھی کمال صبر میں کچھ کمی ہوگئی ہو جو حسب قواعد شرعیہ واقع میں تو گناہ نہیں، مگر آپ کے رتبہ عالی کے اعتبار سے وجوب تدارک میں مثل گناہ ہی کے ہے، اس کا تدارک کیجئے وہ تدارک یہ ہے کہ) اپنے (اس) گناہ کی (جس کو مجازاً آپ کی شان عالی کے اعتبار سے گناہ کہہ دیا گیا ہے) معافی مانگئے اور (ایسے شغل میں لگے رہیئے کہ غمگین و خریں کرنے والی چیزوں کی طرف التفات ہی نہ ہو، وہ شغل یہ ہے کہ) شام اور صبح (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیئے (یہ مضمون تو آپ کی تسلی کے متعلق ہوگیا، آگے منکرین و مجادلین پر توبیخ اور رد ہے یعنی) جو لوگ بلا کسی سند کے ان کے پاس موجود ہو، خدا کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں (ان کو کوئی وجہ اشتباہ کی نہیں ہے کہ وہ جدال کا سبب ہو بلکہ) ان کے دلوں میں نری بڑائی (ہی بڑائی) ہے کہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں (اور وہ بڑائی سبب جدال کا ہے کیونکہ وہ اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اتباع سے عار آتا ہے وہ خود اوروں ہی کو اپنا تابع بنانے کی ہوس رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو یہ بڑائی نصیب نہ ہوگی بلکہ جلد ہی ذلیل و خوار ہوں گے۔ چناچہ بدر وغیرہ میں مسلمانوں سے مغلوب ہوئے) سو (جب یہ خود بڑائی چاہتے ہیں تو آپ سے حسد و عداوت سب کچھ کریں گے لیکن) آپ (اندیشہ نہ کیجئے بلکہ ان کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہیئے، بیشک وہی ہے سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا (تو وہ اپنی صفات کمال سے اپنی پناہ میں آئے ہوئے لوگوں کو محفوظ رکھے گا یہ جدال تو آپ کو رسول ماننے میں تھا۔ آگے ان کا جدال قیامت کے متعلق مع رد مذکور ہے یعنی وہ لوگ جو آدمیوں کے دوبارہ پیدا ہونے کے منکر ہیں بڑے کم عقل ہیں، اس واسطے کہ) بالیقین آسمانوں اور زمین کا (ابتداً) پیدا کرنا آدمیوں کے (دوبارہ) پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے (جب بڑے کام پر قدرت ثابت ہوگئی تو چھوٹے پر بدرجہ اولیٰ ثابت ہے اور یہ دلیل ثبوت کے لئے کافی شافی ہے) لیکن اکثر آدمی (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کیونکہ وہ غور ہی نہیں کرتے اور بعضے ایسے بھی ہیں جو غور بھی کرتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں، اس طرح قرآن کو سننے والوں کی دو قسم ہوگئیں، ایک اس کو سمجھنے اور ماننے والے یہ صاحب بصیرت اور صاحب ایمان ہیں۔ دوسرے نہ سمجھنے اور نہ ماننے والے یہ مثل نابینا اور بد عمل کے ہیں) اور (ان دونوں قسموں کے آدمی یعنی ایک) بینا (دوسرا) نابینا اور (ایک) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور (دوسرے) بدکار باہم برابر نہیں ہوتے (اس میں آپ کی تسلی بھی ہے کہ ہر قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں، سب کیسے سمجھنے لگیں اور منکرین پر عذاب قیامت کی وعید بھی ہے کہ ہم سب کو برابر نہ رکھیں گے۔ آگے منکرین کو یعنی ان لوگوں کو جو مثل نابینا کے اور بدعمل ہیں بطور التفات کے زجر ہے فرماتے ہیں کہ) تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو (ورنہ اعمیٰ اور بدعمل نہ رہتے۔ اور قیامت کے متعلق جدال کا جواب دے کر آگے اس کے واقع ہونے کی خبر دیتے ہیں کہ) قیامت تو ضرور ہی آ کر رہے گی اس (کے آنے) میں کسی طرح کا شک ہے ہی نہیں مگر اکثر لوگ (بوجہ عدم تدبر فی الدلائل کے اس کو) نہیں مانتے اور (ایک جدال ان کا توحید میں تھا کہ خدا کے ساتھ شریک کرتے تھے آگے اس کے متعلق کلام ہے یعنی) تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ (غیروں کو حوائج کے لئے مت پکارو بلکہ) مجھ کو پکارو میں (باستثناء نامناسب معروض کے) تمہاری (ہر) درخواست قبول کروں گا (دعا کے متعلق آیت قرآنی (آیت) فیکشف ماتدعون الیہ ان شاء کا یہی مطلب ہے کہ نامناسب درخواست و دعا کو رد کردیا جاوے گا) جو لوگ (صرف) میری عبادت سے (جس میں مجھ سے دعا مانگنا بھی داخل ہے) سرتابی کرتے ہیں (اور غیروں کو پکارنے اور ان کی عبادت کرتے ہیں، حاصل یہ ہوا کہ جو لوگ توحید سے اعراض کر کے شرک کرتے ہیں) وہ عنقریب (مرتے ہی) ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
معارف و مسائل
(آیت) اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کیا کرتے ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مدد بمقابلہ مخالفین اور اعداء کے مقصود ہے۔ اکثر انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق تو اس کا وقوع ظاہر ہے مگر بعض انبیاء (علیہم السلام) جیسے یحییٰ و زکریا و شعیب (علیہم السلام) جن کو دشمنوں نے شہید کردیا یا بعض کو وطن چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کرنا پڑی جیسے ابراہیم ؑ اور خاتم الانبیاء ﷺ ان کے متعلق شبہ ہوسکتا ہے۔
ابن کثیر نے بحوالہ ابن جریر اس کا جواب دیا ہے کہ آیت میں نصرت سے مراد انتصار اور دشمنوں سے انتقام لینا ہے خواہ ان کی موجودگی میں ان کے ہاتھوں سے یا ان کی وفات کے بعد۔ یہ معنی تمام انبیاء و مومنین پر بلا کسی استثناء کے صادق ہیں جن لوگوں نے اپنے انبیاء کو قتل کیا پھر وہ کیسے کیسے عذابوں میں گرفتار کر کے رسوا کئے گئے، اس سے تاریخ لبریز ہے۔ حضرت یحییٰ ، زکریا اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قاتلوں پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا جنہوں نے ان کو ذلیل و خوار کر کے قتل کیا۔ نمرود کو اللہ نے کیسے عذاب میں پکڑا۔ عیسیٰ ؑ کے دشمنوں پر اللہ تعالیٰ نے روم کو مسلط کردیا۔ جنہوں نے ان کو ذلیل و خوار کیا اور پھر قیامت سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ ان کو دشمنوں پر غالب فرمائیں گے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کو تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں ہی کے ہاتھوں زیر کیا ان کے سرکش سردار مارے گئے۔ کچھ قید کر کے لائے گئے، باقی ماندہ فتح مکہ میں گرفتار کر کے لائے گئے جن کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا۔ آپ کا کلمہ دنیا میں بلند ہوا اور وہی سب ادیان پر غالب آیا، پورے جزیرة العرب پر آپ کے زمانے ہی میں اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔
(آیت) وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ۔ یعنی جس دن کھڑے ہوں گے گواہ، مراد یوم قیامت ہے، وہاں تو انبیاء و مومنین کے لئے نصرت الٰہیہ کا خصوصی ظہور ہوگا۔
Ayahs 40:56–59(آیت) اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی آیات میں بغیر کسی حجت و دلیل کے جدال کرتے ہیں، اور مقصد دراصل اس دین سے انکار کرنا ہے جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے۔ یہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور اپنی بےوقوفی سے یوں سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ بڑائی ہمیں اپنے مذہب پر قائم رہنے سے حاصل ہے، اس کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ ریاست و اقتدا نہ رہے گا۔ قرآن کریم نے فرما دیا کہ مّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ یعنی وہ اپنی مزعومہ بڑائی عظمت اور ریاست کو اسلام لائے بغیر نہ پاسکیں گے۔ البتہ اسلام لے آئے تو عزت و عظمت ان کے ساتھ ہوتی۔ (قرطبی)
Ayah 40:60(آیت) وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ
دعا کی حقیقت اور اس کے فضائل و درجات اور شرط قبولیت
دعا کے لفظی معنے پکارنے کے ہیں اور اکثر استعمال کسی حاجت و ضرورت کے لئے پکارنے میں ہوتا ہے۔ کبھی مطلق ذکر اللہ کو بھی دعا کہا جاتا ہے۔ یہ آیت امت محمدیہ کا خاص اعزاز ہے کہ ان کو دعا مانگنے کا حکم دیا گیا۔ اور اس کی قبولیت کا وعدہ کیا گیا۔ اور جو دعا نہ مانگے اس کے لئے عذاب کی وعید آئی ہے۔
حضرت قتادہ نے کعب احبار سے نقل کیا ہے کہ پہلے زمانے میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی، کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا تھا کہ آپ دعا کریں میں قبول کروں گا۔ امت محمدیہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ حکم تمام امت کے لئے عام کردیا گیا۔ (ابن کثیر)
حضرت نعمان بن بشیر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان الدعاء ھو العبادة۔ یعنی دعا عبادت ہی ہے اور پھر آپ نے استدلال میں یہ آیت فرمائی۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ
(رواہ الامام احمد والترمذی و النسائی و ابوداؤد وغیرہ۔ ابن کثیر)
تفسیر مظہر میں ہے کہ جملہ ان الدعا ھو العبادة میں بقاعدہ عربیت (قصر المسند علی المسند الیہ) یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ دعا عبادت ہی کا نام ہے یعنی ہر دعا عبادت ہی ہے اور (قصر المسند الیہ علی المسند کے طور پر) یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ہر عبادت ہی دعا ہے۔ یہاں دونوں احتمال ہیں۔ اور مراد یہاں یہ ہے کہ دعا اور عبادت اگرچہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے دونوں جدا جدا ہیں مگر مصداق کے اعتبار سے دونوں متحد ہیں کہ ہر دعا عبادت ہے اور ہر عبادت دعا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عبادت نام ہے کسی کے سامنے انتہائی تذلل اختیار کرنے کا اور ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو کسی کا محتاج سمجھ کر اس کے سامنے سوال کے لئے ہاتھ پھیلانا بڑا تذلل ہے جو مفہوم عبادت کا ہے۔ اسی طرح ہر عبادت کا حاصل بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور جنت اور دنیا اور آخرت کی عافیت مانگنا ہے۔ اسی لئے ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص میری حمد و ثنا میں اتنا مشغول ہو کہ اپنی حاجت مانگنے کی بھی اسے فرصت نہ ملے ہیں اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۔ (یعنی اس کی حاجت پوری کر دوں گا) (رواہ اجزری فی النہایہ) اور ترمذی و مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ من شغلہ القرآن عن ذکری ومسئلتی اعطیتہ افضل ما اعطی السائلین۔ یعنی جو شخص تلاوت قرآن میں اتنا مشغول ہو کہ مجھ سے اپنی حاجات مانگنے کی بھی اسے فرصت نہ ملے تو میں اس کو اتنا دوں گا کہ مانگنے والوں کو بھی اتنا نہیں ملتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر عبادت بھی وہی فائدہ دیتی ہے جو دعا کا فائدہ ہے۔
اور عرفات کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عرفات میں میری دعا اور مجھ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی دعا (یہ کلمہ ہے) لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شئی قدیر۔ (رواہ ابن ابی شیبہ۔ مظہری)
اس میں عبادت اور ذکر اللہ کو دعا فرمایا ہے، اور اس آیت میں عبادت بمعنے دعا کے ترک کرنے والوں کو جو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے وہ بصورت استکبار ہے یعنی جو شخص بطور استکبار کے اپنے آپ کو دعا سے مستغنی سمجھ کر دعا چھوڑے یہ علامت کفر کی ہے۔ اس لئے وعید جہنم کا استحقاق ہوا۔ ورنہ فی نفسہ عام دعائیں فرض و واجب نہیں، ان کے ترک سے کوئی گناہ نہیں۔ البتہ باجماع علماء مستحب اور افضل ہے۔ (مظہری) اور حسب تصریح احادیث موجب برکات ہے۔
فضائل دعا
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ کوئی چیز مکرم نہیں۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ حاکم عن ابی ہریرة)
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الدعاء مخ العبادة یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی عن انس)
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سوال اور حاجت طلبی کو پسند کرتا ہے اور سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ سختی کے وقت آدمی فراخی کا انتظار کرے۔ (ترمذی عن ابن مسعود)
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے اپنی حاجت کا سوال نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کا اس پر غضب ہوتا ہے۔ (ترمذی۔ ابن حبان۔ حاکم)
ان سب روایات کو تفسیر مظہری میں نقل کر کے فرمایا کہ دعا نہ مانگنے والے پر غضب الٰہی کی وعید اس صورت میں ہے کہ نہ مانگنا تکبر اور اپنے آپ کو مستغنی سمجھنے کی بنا پر ہو جیسا کہ آیت مذکورہ ان الذین یستکبرون کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دعا سے عاجز نہ ہو کیونکہ دعا کے ساتھ کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔ (ابن حبان۔ حاکم عن انس)
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (حاکم فی المستدرک عن ابی ہریرة)
حدیث۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے لئے دعا کے دروازے کھول دیئے گئے اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھل گئے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا اس سے زیادہ محبوب نہیں مانگی گئی کہ انسان اس سے عافیت کا سوال کرے۔ (ترمذی۔ حاکم عن ابن عمر) لفظ عافیت بڑا جامع لفظ ہے، جس میں بلا سے حفاظت اور ہر ضرورت و حاجت کا پورا ہونا داخل ہے۔
مسئلہ
کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا مانگنا حرام ہے وہ دعا اللہ کے نزدیک قبول بھی نہیں ہوتی۔ (کما فی الحدیث عن ابی سعید الخدری)
قبولیت دعا کا وعدہ
آیت مذکورہ میں اس کا وعدہ ہے کہ جو بندہ اللہ سے دعا مانگتا ہے وہ قبول ہوتی ہے مگر بعض اوقات انسان یہ بھی دیکھتا ہے کہ دعا مانگی وہ قبول نہیں ہوئی۔ اس کا جواب ایک حدیث میں ہے جو حضرت ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان جو بھی دعا اللہ سے کرتا ہے اللہ اس کو عطا فرماتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو، اور قبول فرمانے کی تین صورتوں میں سے کوئی صورت ہوتی ہے ایک یہ کہ جو مانگا وہی مل گیا، دوسرے یہ کہ اس کی مطلوب چیز کے بدلے اس کو آخرت کا کوئی اجر وثواب دے دیا گیا۔ تیسرے یہ کہ مانگی ہوئی چیز تو نہ ملی مگر کوئی آفت و مصیبت اس پر آنے والی تھی وہ ٹل گئی۔ (مسند احمد۔ مظہری)
قبولیت دعا کی شرائط
آیت مذکورہ میں تو بظاہر کوئی شرط نہیں۔ یہاں تک کہ مسلمان ہونا بھی قبولیت دعا کی شرط نہیں ہے۔ کافر کی دعا بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ ابلیس کی دعا تا قیامت زندہ رہنے کی قبول ہوگئی۔ نہ دعا کے لئے کوئی وقت شرط نہ طہارت اور نہ باوضو ہونا شرط ہے۔ مگر احادیث معتبرہ میں بعض چیزوں کو موانع قبولیت فرمایا ہے۔ ان چیزوں سے اجتناب لازم ہے جیسا کہ حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی بہت سفر کرتے اور آسمان کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یا رب یا رب کہہ کر اپنی حاجت مانگتے ہیں مگر ان کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، ان کو حرام ہی سے غذا دی گئی تو ان کی دعا کہاں قبول ہوگی۔ (رواہ مسلم)
اسی طرح غفلت و بےپروائی کے ساتھ بغیر دھیان دیئے دعا کے کلمات پڑھیں تو حدیث میں اس کے متعلق بھی آیا ہے کہ ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ (ترمذی عن ابی ہریرة)
Ayahs 40:61–63خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (نفع کے) لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو (دیکھنے کے لئے) روشن بنایا (تا کہ بےتکلف معاش حاصل کرو) بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے (کہ ان کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایت فرمائی) لکن اکثر آدمی (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے (بلکہ الٹا شرک کرتے ہیں) یہ اللہ ہے تمہارا رب (جس کا ذکر ہوا نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے) وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (بعد اثبات توحید کے) تم لوگ کہاں (شرک کر کے) الٹے چلے جا رہے ہو (اور مخاطبین کی کیا تخصیص ہے جس طرح تعصب وعناد سے یہ الٹے چلے جا رہے ہیں) اسی طرح وہ (پہلے) لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی (تکوینی و تنزیلی) نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے اللہ ہی ہے جس نے زمین کو (مخلوق کا) قرار گاہ بنایا اور آسمان کو (اوپر سے مثل) چھت (کے) بنایا، اور تمہارا نقشہ بنایا، سو عمدہ نقشہ بنایا (چنانچہ انسان کے اعضاء کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں اور یہ مشاہد و مسلم ہے) اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں (پس) یہ اللہ ہے تمہارا رب سو بڑا عالی شان ہے اللہ جو سارے جہان کا پروردگار ہے وہی (ازلی ابدی) زندہ (رہنے والا) ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو تم (سب) خالص اعتقاد کر کے اس کو پکارا کرو (اور شرک نہ کیا کرو) تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ آپ (ان مشرکوں کو سنانے کے لئے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کردی گئی ہے کہ میں ان (شرکاء) کی عبادت کروں جن کو خدا کے علاوہ تم پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی نشانیاں آچکیں (مراد دلائل عقلیہ و نقلیہ ہیں مطلب یہ کہ شرک سے مجھے ممانعت ہوئی ہے) اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں (صرف) رب العالمین کے سامنے (عبادت میں) گردن جھکا لوں (مطلب یہ کہ مجھ کو توحید کا حکم ہوا ہے) وہی ہے جس نے تم کو (یعنی تمہارے باپ کو) مٹی سے پیدا کیا پھر (آگے ان کی نسل کو) نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے (جیسا کہ سورة حج میں بیان ہوا ہے) پھر تم کو بچہ کر کے (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر (تم کو اور زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور کوئی کوئی تم میں سے (ان عمروں سے یعنی جوانی اور بڑھاپے سے) پہلے ہی مر جاتا ہے (یہ تو سب کا الگ الگ حال ہوا کہ کوئی جوان ہوا کوئی نہ ہوا کوئی بوڑھا ہوا کوئی نہ ہوا) اور (یہ امر آئندہ سب میں مشترک ہے کہ تم میں سے ہر اک کو ایک خاص عمر دیتا ہے) تاکہ تم سب (اپنے اپنے) وقت مقرر (مقدر) تک پہنچ جاؤ (پس یہ امر کلی ہے اور جزئیات مختلفہ سب اسی کلی کے جزئی ہیں) اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ان امور میں غور کر کے خدا تعالیٰ کی توحید کو) سمجھو وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کو (دفعتاً) پورا کرنا چاہتا ہے سو بس اس کی نسبت (اتنا) فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے۔
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کاملہ کے چند مظاہر پیش کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔
(آیت) جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا۔ غور کیجئے کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقات انسان بلکہ جانوروں تک کے لئے فطری طور پر نیند کا ایک وقت معین کردیا۔ اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لئے مناسب بنادیا۔ اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی ہے ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لئے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے اوقات مقرر کرتا ہے۔ اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی۔ اور ہر انسان اپنی نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا۔ کیونکہ انسان کی حاجتیں باہم ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام مختل ہوجاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہوجاتے جن کا تعلق جاگنے والوں سے ہے اور صرف انسانوں کی نیند کا وقت متعین ہوتا۔ بہائم اور حیوانات کی نیند کے اوقات دوسرے ہوتے تو بھی انسانی کاموں کا نظام مختل ہوجاتا۔
Ayahs 40:64–68(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک پھل سے طرح طرح کے کھانے اور اچار، مربے، چٹنی تیار کرتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayahs 40:69–71خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں (کی حالت) کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں (حق سے) کہاں پھرے چلے جا رہے ہیں، جن لوگوں نے اس کتاب (یعنی قرآن) کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی (جھٹلایا) جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا (اس میں کتب و احکام و معجزات سب داخل ہوگئے کیونکہ مشرکین عرب اور کسی پیغمبر کو بھی نہ مانتے تھے) سو ان کو ابھی (یعنی قیامت میں کہ قریب ہے) معلوم ہوا جاتا ہے جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور ان (طوقوں میں) زنجیریں (پروئی ہوئی ہوں گی، جن کا دوسرا سرا فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا اور ان زنجیروں سے) ان کو گھسیٹتے ہوئے کھولتے پانی میں پہنچائیں گے۔ پھر یہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے، پھر ان سے پوچھا جاوے گا کہ وہ (معبود) غیر اللہ کہاں گئے جن کو تم شریک (خدائی) ٹھہراتے تھے (یعنی تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے) وہ کہیں گے کہ وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے، بلکہ (سچ بات تو یہ ہے کہ) ہم اس کے قبل (دنیا میں جو بتوں کو پوجتے تھے تو اب معلوم ہوا کہ) کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے (یعنی معلوم ہوا کہ وہ لا شی محض تھے ایسی بات غلطی ظاہر ہونے کے وقت کہی جاتی ہے جیسے کوئی شخص تجارت میں خسارہ اٹھائے اور اس سے پوچھا جاوے کہ تم فلاں مال کی تجارت کیا کرتے ہو اور وہ کہے کہ میں تو کسی کی بھی تجارت نہیں کرتا یعنی جب اس کا ثمرہ حاصل نہ ہو تو یوں سمجھنا چاہئے کہ گویا وہ عمل ہی نہ ہوا، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو غلطی میں پھنسائے رکھتا ہے (کہ جس چیز کے لا شی وغیر نافع ہونے کا وہاں خود اقرار کریں گے، آج یہاں ان کی عبادت میں مشغول ہیں ارشاد ہوگا کہ) یہ (سزا) اس کے بدلہ میں ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے اور اس کے بدلہ میں کہ تم اتراتے تھے (اور اس کے قبل ان کو حکم ہوگا) کہ جہنم کے دروازوں میں گھسو (اور) ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہو سو متکبرین (عن آیات اللہ) کا وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (اور جب ان سے اس طرح انتقام لیا جاوے گا) تو آپ (چندے) صبر کیجئے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پھر جس (عذاب) کا (مطلقاً) ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں (کہ کفر موجب عذاب ہے) اس میں سے کچھ تھوڑا سا (عذاب) اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (یعنی آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے) یا (اس کے نزول کے قبل ہی) ہم آپ کو وفات دے دیں (پھر خواہ بعد میں نزول ہو یا نہ ہو) سو (دونوں احتمال ہیں کوئی شق ضروری نہیں لیکن ہر حال اور ہر احتمال پر) ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہوگا (اور اس وقت بالیقین ان پر عذاب واقع ہوگا) اور (اس بات کو یاد کر کے بھی تسلی حاصل کیجئے کہ) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے جن میں بعضے تو وہ ہیں کہ ان کا قصہ ہم نے آپ سے (اجمالاً وتفصیلاً) بیان کیا ہے اور بعضے وہ ہیں جن کا ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا اور (اتنا امر سب میں مشترک ہے کہ) کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بدون اذن الٰہی کے ظاہر ہو سکے (اور امت کی ہر فرمائش پوری کرسکے۔ سو بعضے اس لئے بھی ان کی تکذیب کرتے رہے، اسی طرح یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ تسلی رکھئے اور صبر کیجئے) پھر جس وقت اللہ کا حکم (نزول عذاب کے لئے) آوے گا، (خواہ دنیا میں یا آخرت میں لقولہ تعالیٰ (آیت) فاما نرینک بعض الذین نعدھم الخ) تو ٹھیک ٹھیک (عملی) فیصلہ ہوجاوے گا اور اس وقت اہل باطل خسارہ میں رہ جاویں گے۔
Ayahs 40:72–73معارف و مسائل
يُسْحَبُوْنَ فِي الْحَمِيْمِ ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ۔ حمیم کھولتا ہوا گرم پانی ہے۔ اس آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اہل جہنم کو پہلے حمیم میں ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد جحیم یعنی جہنم میں اور بظاہر اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کسی جگہ ہے۔ سورة صفت کی آیت (آیت) ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کسی جگہ ہے اہل جہنم کو اس کا پانی پلانے کے لئے لایا جائے گا۔ پھر جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔ اور بعض آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ حمیم بھی جحیم ہی میں ہے جیسے (آیت) ھذہ جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا وبین حمیم ان۔ اس میں تصریح ہے کہ حمیم بھی جہنم کے اندر ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد وتعارض نہیں۔ جہنم ہی کے بہت سے طبقات ہوں گے جن میں قسم قسم کے عذاب ہوں گے۔ انہیں میں ایک طبقہ حمیم کا بھی ہوسکتا ہے جس کو بوجہ ممتاز اور الگ ہونے کے جہنم سے خارج بھی کہا جاسکتا ہے اور چونکہ یہ بھی ایک طبقہ جہنم ہی کا ہے اس لئے اس کو جہنم بھی کہا جاسکتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل جہنم زنجیروں میں جکڑے ہوئے کبھی کھینچ کر حمیم میں ڈال دیئے جاویں گے کبھی جحیم میں۔
Ayah 40:74(آیت) قَالُوْا ضَلُّوْاعَنَّا۔ یعنی جہنم میں پہنچ کر مشرکین کہیں گے وہ بت اور شیاطین جن کی ہم عبادت کیا کرتے تھے آج غائب ہوگئے۔ مراد یہ ہے کہ ہمیں نظر نہیں آ رہے اگرچہ وہ بھی جہنم کے کسی گوشہ میں پڑے ہوں جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے ان کا جہنم میں ہونا ثابت ہے۔ ، (آیت) انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔