39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 39:69–73

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور چمکے زمین اپنے رب کے نور سے اور لادھریں دفتر اور حاضر آئیں پیغمبر اور گواہ اور فیصلہ ہو ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور پورا ملے ہر جی کو جو اس نے کیا اور اس کو خوب خبر ہے جو کچھ کرتے ہیں

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور ہانکے جائیں جو منکر تھے دوزخ کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں اس پر کھولے جائیں اس کے دروازے اور کہنے لگیں ان کو اس کے داروغہ کیا نہ پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تم میں کہ پڑھتے تھے تم پر باتیں تمہارے رب کی ڈراتے تم کو اس تمہارے دن کی ملاقات سے بولیں کیوں نہیں پر ثابت ہوا حکم عذاب کا منکروں پر

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

حکم ہو وے کہ داخل ہوجاؤ دروازوں میں دوزخ کے سدا رہنے کو اس میں سو کیا بری جگہ ہے رہنے کی غرور والوں کو

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور ہانکے جائیں وہ لوگ جو ڈرتے رہے تھے اپنے رب سے جنت کو گروہ گروہ یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں اس پر اور کھولے جائیں اس کے دروازے اور کہنے لگیں ان کو داروغہ اس کے سلام پہنچے تم پر تم لوگ پاکیزہ ہو سو داخل ہوجاؤ اس میں سدا رہنے کو

(آیت) وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ۔ مراد یہ ہے کہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے وقت سب انبیاء بھی موجود ہوں گے اور دوسرے سب گواہ بھی حاضر ہوں گے۔ ان گواہوں میں خود انبیاء (علیہم السلام) بھی ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے (آیت) جئنا من کل امة بشھید۔ اور فرشتے بھی گواہوں میں ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) معھا سائق و شھید۔ کہ اس میں سائق اور شہید سے مراد فرشتے ہونا (تفسیر در منثور) سورة ق میں مذکور ہے اور ان گواہوں میں امت محمدیہ بھی ہوگی جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) لتکونوا شھداء علیٰ الناس اور ان گواہوں میں خود انسان کے اعضاء وجوارح بھی ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے تکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ بولیں شکر ہے اللہ کا جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کیا ہم کو اس زمین کا گھر لے لیویں بہشت میں سے جہاں چاہیں سو کیا خوب بدلہ ہے محنت کرنے والوں کا

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تو دیکھے فرشتوں کو گھر رہے ہیں عرش کے گرد پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور فیصلہ ہوتا ہے ان میں انصاف کا اور یہی بات کہتے ہیں کہ سب خوبی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا۔

(آیت) نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کے لئے اپنے اپنے مکانات محلات اور باغات تو ہوں گے ہی، ان کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ دوسرے اہل جنت کے پاس ملاقات و تفریح کے لئے جایا کریں، طبرانی۔ ابونعیم اور ضیاء نے سند حسن کے ساتھ حضرت عائشہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے آپ سے اتنی محبت ہے کہ اپنے گھر بھی جاتا ہوں تو آپ ہی کو یاد کرتا رہتا ہوں اور جب تک پھر حاضر خدمت نہ ہوجاؤں مجھے صبر نہیں آتا۔ مگر جب میں اپنی موت کو یاد کرتا ہوں اور آپ کی وفات کو یاد کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیاء کے مقامات عالیہ میں ہوں گے اور اگر جنت میں پہنچ بھی گیا تو کسی نیچے کے درجے میں ہونگا مجھے فکر یہ ہے کہ میں آپ کو کیسے دیکھوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات سن کر کچھ جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ (آیت) ومن یطع اللہ والرسول فاؤلئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقاً۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والے مسلمان انبیاء و صدیقین وغیرہ کے ساتھ ہی ہوں گے۔ اور آیت مذکورہ میں اس کی تشریح ہوگئی کہ ان کو مقامات عالیہ میں بھی جانے کی اجازت ہوگی۔ الحقنا اللہ تعالیٰ بہم بمنہ وکرمہ۔