39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 39:32–35

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس سے زیادہ ظالم کون جس نے جھوٹ بولا اللہ پر اور جھٹلایا سچی بات کو جب پہنچی اس کے پاس کیا نہیں دوزخ میں ٹھکانا منکروں کا

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو لے کر آیا سچی بات اور سچ مانا جس نے اس کو وہی لوگ ہیں ڈر والے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لئے ہے جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس یہ ہے بدلہ نیکی والوں کا

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اتار دے اللہ ان پر سے بڑے کام جو انہوں نے کئے تھے اور بدلے میں دے ان کو ثواب بہتر کاموں کا جو وہ کرتے تھے۔

سارے اعمال مظالم اور حقوق کے بدلے میں دے دیے جاویں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف ایمان رہ جائے گا تو ایمان اس سے سلب نہیں کیا جائے گا بلکہ مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال کر حقوق کی ادائیگی کی جائے گی، جس کے نتیجہ میں یہ گناہوں کا عذاب بھگتنے کے بعد پھر بالآخر جنت میں داخل ہوگا اور پھر یہ حال اس کا دائمی ہوگا۔ صاحب تفسیر مظہری نے فرمایا کہ امام بیہقی نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔ کذب بالصدق اور الذی جاء بالصدق۔ میں صدق سے مراد وہ تعلیمات ہیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں۔ خواہ قرآن ہو یا قرآن کے علاوہ دوسری تعلیمات احادیث اور صدق بہ میں سب مومنین داخل ہیں جو اس کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
Ayahs 39:36–41

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ بس نہیں اپنے بندہ کو اور تجھ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے سوائے ہیں اور جس کو راہ بھلائے اللہ تو کوئی نہیں اس کو راہ دینے والا

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو راہ سمجھائے اللہ تو کوئی نہیں اس کو بھلانے والا کیا نہیں ہے اللہ زبردست بدلہ لینے والا

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور جو تو ان سے پوچھے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں اللہ نے تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو پوجتے ہو اللہ کے سوائے اگر چاہے اللہ مجھ پر کچھ تکلیف تو وہ ایسے ہیں کہ کھول دیں تکلیف اس کی ڈالی ہوئی یا وہ چاہے مجھ پر مہربانی تو وہ ایسے ہیں کہ روک دیں اس کی مہربانی کو تو کہہ مجھ کو بس ہے اللہ اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں بھروسہ رکھنے والے

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

تو کہہ اے قوم کام کئے جاؤ اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں اب آگے جان لو گے

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کس پر آتی ہے آفت کہ اس کو رسوا کرے اور اترتا ہے اس پر عذاب سدا رہنے والا

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے اتاری ہے تجھ پر کتاب لوگوں کے واسطے سچے دین کے ساتھ پھر جو کوئی راہ پر آیا سو اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا سو یہی بات ہے کہ بہکا اپنے برے کو اور تو ان کا ذمہ دار نہیں۔

خلاصہ تفسیر کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ) کیا خدا تعالیٰ (ان کے نزدیک) زبردست (اور) انتقام لینے (پر قدرت رکھنے) والا نہیں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت ناصریت بھی کامل اور بندہ کی صلاحیت منصوریت بھی کامل اور جھوٹے معبودوں کا قدرت ونصرت سے عاجز ہونا بھی ظاہر پھر آپ کو ان باتوں سے ڈرانا حماقت نہیں تو کیا ہے) اور (عجیب بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور نصرت کے مقدمات کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں چنانچہ) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہیں کہیں گے کہ اللہ نے (اس لئے) آپ (ان سے) کہئے کہ بھلا (جب تم اللہ کو تخلیق میں منفرد مانتے ہو تو) یہ بتلاؤ کہ خدا کے سوا جن معبودوں کو پوجتے ہو، اگر اللہ مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے، کیا یہ معبود اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر اپنی عنایت کرنا چاہے تو کیا یہ معبود اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں (آگے ارشاد ہے کہ جب اس تقریر سے اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت ثابت ہوجاوے) تو آپ کہہ دیجئے کہ (اس سے ثابت ہوگیا کہ) میرے لئے خدا کافی ہے توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں (اسی لئے میں بھی اسی پر توکل اور بھروسہ رکھتا ہوں اور تمہارے خلاف وعناد کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ اور چونکہ یہ لوگ ان سب باتوں کو سن کر بھی اپنے خیال باطل پر جمے ہوئے تھے اس لئے آپ کو آخری جواب کی تعلیم ہے کہ) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اگر اس پر بھی تم نہیں مانتے تو تم جانو تم اپنی حالت پر عمل کئے جاؤ میں بھی (اپنے طرز پر) عمل کر رہا ہوں (یعنی جب تم اپنے طریقہ باطل کو نہیں چھوڑتے تو میں طریقہ حق کو کیسے چھوڑوں) سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر (دنیا میں) ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا، اور (مرنے کے بعد) اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا (چنانچہ دنیا میں غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کو سزا ملی اس کے بعد آخرت کا دائمی عذاب ہے۔ یہاں تک تو رسول اللہ ﷺ کو مخالفین کے خوف سے تسلی دی گئی۔ آگے آپ کو جو کفار اور عام خلق خدا کے ساتھ شفقت کی بنا پر ان کے کفر و انکار سے غم ہوتا تھا اس پر تسلی دی گئی کہ) ہم نے یہ کتاب آپ پر لوگوں کے (نفع کے) لئے اتاری جو حق کو لئے ہوئے ہے سو (آپ کا کام اس کو پہنچا دینا ہے پھر) جو شخص راہ راست پر آوے گا تو اپنے نفع کے واسطے اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا اسی پر پڑے گا اور آپ ان پر مسلط (اس طرح) نہیں کئے گئے (کہ ان کی بےراہی کی آپ سے باز پرس ہو تو آپ ان کی گمراہی سے کیوں مغموم ہوتے ہیں) معارف و مسائل اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ۔ اس آیت کا شان نزول ایک واقعہ ہے کہ کفار نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو اس سے ڈرایا تھا کہ اگر آپ نے ہمارے بتوں کی بےادبی کی تو ان بتوں کا اثر بہت سخت ہے اس سے آپ بچ نہ سکیں گے۔ ان کے جواب میں کہا گیا کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ؟ اس لئے بعض مفسرین نے یہاں بندے سے مخصوص بندہ یعنی رسول اللہ ﷺ کو مراد لیا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اور دوسرے مفسرین نے بندہ سے مراد عام لی ہے اور آیت کی دوسری قرات جو عبادہ آئی ہے وہ اس کی موید ہے۔ اور مضمون بہرحال عام ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کے لئے کافی ہے۔ عبرت و نصیحت وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ۔ یعنی کفار آپ کو ڈراتے ہیں اپنے جھوٹے معبودوں کے غصب سے۔ اس آیت کو پڑھنے والے عموماً یہ خیال کر کے گزر جاتے ہیں کہ یہ ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے، جس کا تعلق کفار کی دھمکیوں اور رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے ہے، اس طرح دھیان نہیں دیتے، کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہدایت ہے۔ حالانکہ بات بالکل کھلی ہوئی ہے کہ جو شخص بھی کسی مسلمان کو اس لئے ڈرائے کہ تم نے فلاں حرام کام کیا یا گناہ نہ کیا تو تمہارے حکام اور افسر یا جن کے تم محتاج سمجھے جاتے ہو تم سے خفا ہوجائیں گے اور تکلیف پہنچائیں گے۔ یہ بھی اسی میں داخل ہے اگرچہ ڈرانے والا مسلمان ہی ہو اور جس سے ڈرایا جائے وہ بھی مسلمان ہی ہو۔ اور یہ ایسا عام ابتلاء ہے کہ دنیا کی اکثر ملازمتوں میں لوگوں کو پیش آتا ہے کہ احکام آلٰہیہ کی خلاف ورزی پر آمادہ ہوجائیں یا پھر اپنے افسروں کے عتاب و عقاب کا مورد بنیں۔ اس آیت نے ان سب کو یہ ہدایت دی کہ کیا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کے لئے کافی نہیں، تم نے خالص اللہ کے لئے گناہوں کے ارتکاب سے بچنے کا عزم کرلیا اور احکام خداوندی کے خلاف کسی حاکم و افسر کی پرواہ نہ کی تو خدا تعالیٰ کی امداد تمہارے ساتھ ہوگی۔ زائد سے زائد یہ ملازمت چھوٹ بھی جائے گی تو اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کا دوسرا انتظام کردیں گے۔ اور مومن کا کام تو یہ ہے کہ ایسی ملازمت کو چھوڑنے کی خود ہی کوشش کرتا رہے کہ کوئی دوسری مناسب جگہ مل جائے تو اس کو فوراً چھوڑ دے۔
Ayahs 39:42–45

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ کھینچ لیتا ہے جانیں جب وقت ہو ان کے مرنے کا اور جو نہیں مریں ان کو کھینچ لیتا ہے ان کی نیند میں، پھر رکھ چھوڑتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے اور بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وعدہ مقرر تک اس بات میں پتے ہیں ان لوگوں کو جو دھیان کریں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے پکڑے ہیں اللہ کے سوائے کوئی سفارش والے تو کہہ اگرچہ ان کو اختیار نہ ہو کسی چیز کا اور نہ سمجھ

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

تو کہہ اللہ کے اختیار میں ہے ساری سفارش اسی کا راج ہے آسمان اور زمین میں پھر اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب نام لیجئے خاص اللہ کا رک جاتے ہیں دل ان کے جو یقین نہیں رکھتے پچھلے گھر کا اور جب نام لیجئے اس کے سوا اوروں کا تب وہ لگیں خوشیاں کرنے۔

خلاصہ تفسیر اللہ ہی قبض (یعنی معطل) کرتا ہے ان جانوں کو (جن کا وقت موت آ گیا ہے) ان کی موت کے وقت (مکمل طور پر کہ زندگی بالکل ختم ہوجائے) اور ان جانوں کو بھی جن کو موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت (یہ تعطل بالکلیہ نہیں ہوتا ایک حیثیت حیات کی باقی رہ جاتی ہے مگر ادراک نہیں رہتا اور موت کی صورت میں نہ ادراک رہتا ہے نہ حیات) پھر (اس معطل کرنے کے بعد) ان جانوں کو تو (بدن کی طرف عود کرنے سے) روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو (جو نیند کی وجہ سے معطل ہوگئی تھیں اور ابھی ان کی موت کا وقت نہیں آیا) ایک میعاد معین (یعنی مدت) تک کیلئے آزاد کردیتا ہے (کہ پھر واپس جا کر بدن میں بدستور سابق تصرفات کرنے لگیں) اس (مجموعہ تصرفات آلٰہیہ) میں ان لوگوں کے لئے جو سوچنے کے عادی ہیں (خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بلا شرکت غیرے تمام عالم کے انتظامات کرنے پر) دلائل ہیں (جن سے اللہ کی توحید پر استدلال کرتے ہیں) ہاں کیا (توحید کے دلائل واضحہ قائم ہوتے رہے) ان لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں کو (معبود) قرار دے رکھا ہے جو (ان کی) سفارش کریں گے (جیسا کہ مشرکین اپنے بتوں کے متعلق کہا کرتے تھے (آیت) ھولاء شفعاؤنا عند اللہ) آپ کہہ دیجئے کہ اگرچہ یہ (تمہارے گھڑے ہوئے شفعاء) کچھ بھی قدرت نہ رکھتے ہوں اور کچھ بھی علم نہ رکھتے ہوں (کیا پھر بھی تم یہی سمجھتے چلے جاؤ گے کہ یہ تمہاری سفارش کریں گے۔ کیا اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ شفاعت کے لئے علم اور اس کے مناسب قدرت تو ضروری ہے جو ان میں مفقود ہے۔ یہاں بعض مشرک یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ پتھر کے تراشے ہوئے بت ہمارا مقصود نہیں بلکہ یہ مجسمے اور شکلیں فرشتوں کی یا جنات کی ہیں وہ تو ذی روح بھی ہیں قدرت اور علم بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے اس کے جواب کی یہ تعلیم دی گئی کہ) آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ سفارش تو تمام تر خدا ہی کے اختیار میں ہے (بدون اس کی اجازت کے کسی فرشتے یا بشر کی مجال نہیں کہ کسی کی سفارش کرسکے اور اللہ تعالیٰ کی اجازت شفاعت کے لئے دو شرطیں ہیں ایک شفاعت کرنے والے کا عند اللہ مقبول ہونا، دوسرے جس کی شفاعت کی جائے اس کا قابل مغفرت ہونا۔ اب سمجھ لو کہ مشرکین نے بتوں کو جن کی شکلیں سمجھ کر اختیار کیا ہے اگر وہ جنات و شیاطین ہیں تو دونوں شرطیں مفقود ہیں، نہ شفاعت کرنے والے مقبول عند اللہ ہیں نہ یہ مشرک قابل مغفرت ہیں اور اگر ان شکلوں کو ملائکہ یا انبیاء کی شکلیں قرار دے رکھا ہے تو شفاعت کرنے والوں کے مقبول ہونے کی شرط تو موجود ہوئی، مگر دوسری شرط مفقود ہے کہ ان مشرکین میں صلاحیت مغفرت کی نہیں ہے۔ آگے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ) تمام آسمان و زمین کی سلطنت اسی کی ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ (اسی لئے سب کو چھوڑ کر اسی سے ڈرو اسی کی عبادت کرو) اور (توحید کے دلائل واضحہ قائم ہونے کے باوجود کفار و مشرکین کا حال یہ ہے کہ) جب فقط اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (کہ وہ بلاشرکت غیرے تمام عالم کے سیاہ وسفید کا مالک مختار اور متصرف ہے) تو ان لوگوں کے دل منقبض ہوتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر آتا ہے (خواہ صرف انہیں کا ذکر ہو یا اللہ کے ذکر کے ساتھ، ان کا بھی ذکر ہو) تو اسی وقت وہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ معارف و مسائل موت اور نیند کے وقت قبض روح اور دونوں میں فرق کی تفصیل (آیت) اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا۔ توفی کے لفظی معنے لے لینے اور قبض کرلینے کے ہیں۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ جانداروں کی ارواح ہر حال ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہیں، وہ جب چاہے ان کو قبض کرسکتا ہے اور واپس لے سکتا ہے اور اس تصرف خداوندی کا ایک مظاہرہ تو ہر جاندار روزانہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے کہ نیند کے وقت اس کی روح ایک حیثیت سے قبض ہوجاتی ہے، پھر بیداری کے بعد واپس مل جاتی ہے اور آخر کار ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ بالکل قبض ہوجائے گی پھر واپس نہ ملے گی۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ قبض روح کے معنی اس کا تعلق بدن انسانی سے قطع کردینے سے ہیں، کبھی یہ ظاہراً و باطناً بالکل منقطع کردیا جاتا ہے۔ اس کا نام موت ہے اور کبھی صرف ظاہراً منقطع کیا جاتا ہے۔ باطناً باقی رہتا ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ صرف حس اور حرکت ارادیہ جو ظاہری علامت زندگی ہے وہ منقطع کردی جاتی ہے اور باطناً تعلق روح کا جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے جس سے وہ سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے اور صورت اس کی یہ ہوتی ہے کہ روح انسانی کو عالم مثال کے مطالعہ کی طرف متوجہ کر کے اس عالم سے غافل اور معطل کردیا جاتا ہے تاکہ انسان مکمل آرام پا سکے۔ اور کبھی یہ باطنی تعلق بھی منقطع کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم کی حیات بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ آیت مذکور میں لفظ توفی، بمعنی قبض بطور عموم مجاز کے دونوں معنی پر حاوی ہے۔ موت اور نیند دونوں میں قبض روح کا یہ فرق جو اوپر بیان کیا گیا ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ سونے کے وقت انسان کی روح اس کے بدن سے نکل جاتی ہے مگر ایک شعاع روح کی بدن میں رہتی ہے جس سے وہ زندہ رہتا ہے اور اسی رابطہ شفاعی سے وہ خواب دیکھتا ہے۔ پھر یہ خواب اگر روح کے عالم مثال کی طرف متوجہ رہنے کی حالت میں دیکھا گیا تو وہ سچا خواب ہوتا ہے اور اگر اس طرف سے بدن کی واپسی کی حالت میں دیکھا تو اس میں شیطانی تصرفات ہوجاتے ہیں وہ رویاء صادقہ نہیں رہتا۔ اور فرمایا کہ نیند کی حالت میں جو روح انسانی اس کے بدن سے نکلتی ہے تو بیداری کے وقت آنکھ جھپکنے سے بھی کم مقدار وقت میں بدن میں واپس آجاتی ہے۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

تو کہہ اے اللہ پیدا کرنے والے آسمانوں کے اور زمین کے جاننے والے چھپے اور کھلے کے تو ہی فیصلہ کرے اپنے بندوں میں جس چیز میں وہ جھگڑ رہے تھے

خلاصہ تفسیر آپ (ان کی شدت عناد سے محزون نہ ہو جئے اور اللہ سے دعا میں یہ) کہئے کہ اے اللہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے آپ ہی (قیامت کے روز) اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرما دیں گے جن میں باہم وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یعنی آپ ان معاندین کی فکر میں نہ پڑیئے، بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ خود عملی فیصلہ کردیں گے) اور (اس فیصلہ کے وقت یہ حالت ہوگی) کہ اگر ظلم (یعنی شرک وکفر) کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے (بےتامل) ان کو دینے لگیں (گو مقبول نہ ہو کما فی المائدة (آیت) ماتقبل منھم) اور خدا کی طرف سے ان کو وہ معاملہ پیش آوے گا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا (کیونکہ اول تو آخرت کے منکر تھے پھر اس میں بھی اس کے مدعی تھے کہ وہاں بھی ان کو عزت و دولت ملے گی) اور (اس وقت) ان کو تمام اپنے برے اعمال ظاہر ہوجاویں گے اور جس (عذاب) کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا (یوں تو مشرک غیر اللہ کے ذکر سے مسرور اور صرف اللہ کے ذکر سے نفور رہتا ہے) پھر جس وقت (اس مشرک) آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو (جن کے ذکر سے مسرور ہوا کرتا تھا ان سب کو چھوڑ کر صرف) ہم کو پکارتا ہے (جس سے پہلے نفور تھا) پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو (اس توحید پر جس کا حق ہونا خود اس کے اقرار سے ثابت ہوچکا تھا قائم نہیں رہتا چناچہ اس نعمت کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ یوں) کہتا ہے کہ یہ تو مجھ کو (میری) تدبیر سے ملی ہے (اور چونکہ نسبت حق تعالیٰ کی طرف نہیں کرتا بلکہ اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتا ہے اس لئے توحید پر قائم نہیں رہتا بلکہ اپنے قدیم طریقہ شرک کی طرف عود کر کے غیر اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے۔ آگے حق تعالیٰ اس کے قول انما اوتیتہ کو رد فرماتے ہیں کہ نعمت اس کی تدبیر کا نتیجہ نہیں ہے) بلکہ وہ (نعمت خدا کی دی ہوئی اور اس کی طرف سے انسان کی) ایک آزمائش ہے (کہ دیکھیں اس کے ملنے پر ہم کو بھول جاتا ہے اور کفر کرتا ہے یا یاد رکھتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اسی آزمائش کے لئے بعض نعمتوں میں اسباب و کسب کا واسطہ بھی رکھ دیا ہے۔ اس سے اور زیادہ آزمائش ہوگئی کہ دیکھیں اس ظاہری سبب پر نظر کرتا ہے یا علت حقیقیہ پر) لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) سمجھتے نہیں (اس لئے اس کو اپنی تدبیر کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور مبتلائے شرک رہتے ہیں آگے تفریح ہے کہ) یہ بات (بعض) ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں، جیسے قارون نے کہا تھا (آیت) انما اوتیتہ علیٰ علیم عندی یا جو لوگ منکر صانع کے ہو گزرے ہیں جیسے نمرود و فرعون۔ ظاہر ہے کہ وہ بھی کسی نعمت کی نسبت خدا کی طرف نہ کرتے تھے بلکہ غیر مکتسب اور غیر اختیاری میں بخت و اتفاق کی طرف اور مکتسب و اختیاری میں ہنر اور تدبیر کی طرف نسبت کرتے تھے) سو ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی (اور مانع عن العذاب نہ ہوئی) پھر (مانع نہ ہو سکنے کے بعد واقع للعذاب بھی نہ ہوئی بلکہ) ان کی تمام بد اعمالیاں ان پر آپڑیں (اور سزا یاب ہوئے) اور (زمانہ حال کے لوگ یہ خیال نہ کریں کہ کچھ ہونا تھا اگلوں کے ساتھ ہوچکا بلکہ) ان میں بھی جو ظالم ہیں ان پر بھی ان کی بد اعمالیاں ابھی پڑنے والی ہیں اور یہ (خدا تعالیٰ کو) ہرا نہیں سکتے (چنانچہ بدر میں خوب سزا ہوئی، آگے اس کی دلیل بیان فرمائی کہ بعضے احمق جو نعمت و رزق کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کرتے ہیں تو) کیا ان لوگوں کو (احوال میں غور کرنے سے) یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی بھی کردیتا ہے (اس بسط و قدر) میں (غور کرنے سے) ایمان والوں کے واسطے (کہ اہل فہم ہوتے ہیں اس بات پر) نشانیاں (یعنی دلائل قائم) ہیں (کہ باسط و قابض وہی ہے تدبیر و سوء تدبیر اس میں علت حقیقیہ نہیں، پس ان دلائل کو جو شخص سمجھ لے گا وہ اپنی تدبیر کی طرف نسبت نہ کرے گا بلکہ خدا کے منعم ہونے سے ذہول نہ کرے گا جو سبب ہوگیا تھا ابتلا بالشرک کا بلکہ وہ موحد رہے گا اور مصیبت و راحت میں اس کا حال و قال متناقص و متعارض نہ ہوگا۔ معارف و مسائل (آیت) قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الایة۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے صدیقہ عائشہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز (یعنی تہجد) کو کس چیز سے شروع فرماتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ جب تہجد کی نماز کو اٹھتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللھم رب جبریل ومیکائیل واسرافیل، فاطرالسموات والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون، اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔ قبولیت دعا حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے قرآن کریم کی ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اس کو پڑھ کر آدمی جو دعا کرتا ہے قبول ہوتی ہے۔ پھر یہی آیت بتلائی۔ (آیت) اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الآیة۔ (قرطبی) مشاجرات صحابہ کے متعلق ایک اہم ہدایت حضرت ربیع ابن خیثم سے کسی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے ایک آہ بھری اور اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ (آیت) قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ آلایة۔ اور فرمایا کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے متعلق جب تمہارے دل میں کوئی کھٹک پیدا ہو تو یہ آیت پڑھ لیا کرو۔ روح المعانی میں اس کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ یہ عظیم الشان تعلیم ادب ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔
Ayahs 39:47–52

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر گنہگاروں کے پاس ہو جتنا کچھ کہ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اس کے ساتھ تو سب دے ڈالیں اپنے چھڑوانے میں بری طرح کے عذاب سے دن قیامت کے اور نظر آئے ان کو اللہ کی طرف سے جو خیال بھی نہ رکھتے تھے

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور نظر آئیں ان کو برے کام اپنے جو کماتے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

سو جب آ لگتی ہے آدمی کو کچھ تکلیف ہم کو پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم بخشیں اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت کہتا ہے یہ تو مجھ کو ملی کہ پہلے سے معلوم تھی کوئی نہیں جانچ ہے پر وہ بہت سے لوگ نہیں سمجھتے

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

کہہ چکے ہیں یہ بات ان سے اگلے پھر کچھ کام نہ آیا ان کو جو کماتے تھے پھر پڑگئیں ان پر برائیاں جو کمائی تھیں

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہیں ان میں سے ان پر بھی اب پڑتی ہیں برائیاں جو کمائی ہیں اور وہ نہیں تھکانے والے

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

اور کیا نہیں جان چکے کہ اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اور ماپ کردیتا ہے البتہ اس میں پتے ہیں ان لوگوں کے واسطے جو مانتے ہیں۔

(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)
Ayahs 39:53–54

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

کہہ دے اے بندو میرے جنہوں نے کہ زیادتی کی ہے اپنی جان پر آس مت توڑو اللہ کی مہربانی سے بیشک اللہ بخشتا ہے سب گناہ وہ جو ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا مہربان

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور رجوع ہوجاؤ اپنے رب کی طرف اور اس کی حکم برداری کرو پہلے اس سے کہ آئے تم پر عذاب پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا

خلاصہ تفسیر آپ (ان سوال کرنے والوں کے جواب میں میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو (اور خیال نہ کرو کہ ایمان لانے کے بعد گزشتہ کفر و شرک پر مواخذہ ہوگا سو یہ بات نہیں بلکہ) بالیقین اللہ تعالیٰ (اسلام کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہوں کو (گو کفر و شرک ہی کیوں نہ ہو) معاف فرما دے گا واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے اور (چونکہ اس معافی کی شرط اور طریقہ کفر سے توبہ کرنا اور اسلام لانا ہے، اس لئے) تم (کفر سے توبہ کرنے کے لئے) اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو قبل اس کے کہ (اسلام نہ لانے کی صورت میں) تم پر عذاب (الٰہی) واقع ہونے لگے (اور) پھر (اس وقت کسی کی طرف سے) تمہاری کوئی مدد نہ کی جاوے (یعنی جیسا اسلام لانے کی صورت میں سب کفر و شرک معاف ہوجاوے گا، اسی طرح اسلام نہ لانے کی صورت میں اس کفر و شرک پر عذاب ہوگا جس کا کوئی دفعیہ نہیں) اور (جب یہ بات ہے کہ اسلام نہ لانے کا یہ انجام ہے تو) تم (کو چاہئے کہ) اپنے رب کے پاس سے آئے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کہ کہ تم پر اچانک عذاب آ پڑے اور تم کو (اس کا) خیال بھی نہ ہو (مراد اس سے عذاب آخرت ہے بقرینہ مابعدہ اور اچانک یا تو اس لئے کہا کہ نفخہ اولیٰ میں سب ارواح مدہوش ہوجاویں گی، پھر نفخہ ثانیہ کے بعد ادراک عذاب نازل اچانک ہونے لگے گا اور یا اس لئے کہ جیسا عذاب واقع ہوگا قبل وقوع اس کی حقیقت کا ادراک نہ تھا اور ویسا گمان نہ تھا، گمان کے خلاف واقعہ سامنے آنے کو اچانک سے تعبیر کیا گیا، اور یہ انابت واسلام و اتباع کا حکم اس لئے دیا جاتا ہے کہ) کبھی (کل قیامت کے روز) کوئی شخص کہنے لگا کہ افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی (یعنی اس کی اطاعت میں جو مجھ سے تقصیر ہوئی) اور میں تو احکام خداوندی پر ہنستا ہی رہا یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) مجھ کو ہدایت کرتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا (مگر ہدایت ہی سے محروم رہا اس لئے یہ تمام تر تقصیر و کوتاہی ہوئی جس میں معذور ہوں) یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش میرا (دنیا میں) پھرجانا ہو وے پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں۔ (اور دوسرے قول میں جو یہ کہا گیا تھا کہ اگر مجھے ہدایت کی جاتی تو میں بھی متقی ہوجاتا۔ آگے اس کے جواب میں فرمایا ہے) ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچی تھیں سو تو نے ان کو جھٹلایا اور (جھٹلانا کسی شبہ سے نہ تھا بلکہ) تو نے تکبر کیا اور (یہ بھی نہ ہوا کہ دوسرے وقت دماغ درست ہوجاتا بلکہ) کافروں میں (ہمیشہ) شامل رہا (اور اس لئے تیرا یہ کہنا غلط ہے کہ مجھے ہدایت نہیں پہنچی اور (آگے مصر علی الکفر و تائب عن الکفر کی سزا و جزا کا مختصراً ذکر فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر) آپ قیامت کے روز ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے۔ جنہوں نے خدا پر جھوٹ بولا تھا۔ (اس میں دو امر آگئے جو بات خدا نے کہی مثل شرک وغیرہ اس کو یہ کہنا کہ خدا نے کہی ہے اور جو بات خدا نے کہی، جیسے قرآن اس کو یہ کہنا کہ خدا نے نہیں کہی ہے) کیا ان متکبرین کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔ (جو کہ عناداً واستکباراً تکذیب کریں) اور جو لوگ (شرک و کفر سے) بچتے تھے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کامیابی کے ساتھ (جہنم سے) نجات دے گا ان کو (ذرا) تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (کیونکہ جنت میں غم نہیں ہے)۔ معارف و مسائل (آیت) قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا الایہ۔ سعید بن جبیر حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے قتل ناحق کئے اور بہت کئے اور زنا کا ارتکاب کیا اور بہت کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا لیکن فکر یہ ہے کہ جب ہم اتنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے اب اگر مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہماری توبہ قبول ہو سکے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ (ذکرہ البخاری بمعناہ۔ قرطبی) اس لئے خلاصہ آیت کے مضمون کا یہ ہوا کہ مرنے سے پہلے پہلے ہر بڑے سے بڑے گناہ یہاں تک کہ کفر و شرک سے بھی جو توبہ کرلے قبول ہوجاتی ہے۔ اور سچی توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس لئے کسی کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ یہ آیت گناہ گاروں کے لئے قرآن کی سب آیتوں سے زیادہ امید افزاء ہے۔ مگر حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ سب سے زیادہ رجاء وامید کی یہ آیت ہے (آیت) ان ربک لذو مغفرہ للناس علیٰ ظلھم۔
Ayah 39:55

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور چلو بہتر بات پر جو اتری تمہاری طرف تمہارے رب سے پہلے اس سے کہ پہنچے تم پر عذاب اچانک اور تم کو خبر نہ ہو

(آیت) وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ۔ اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ سے مراد قرآن ہے اور پورا قرآن احسن ہی ہے اور قرآن کو اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اس اعتبار سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ جتنی کتابیں تورات، انجیل، زبور، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ ان سب میں احسن واکمل قرآن ہے۔ (قرطبی)۔
Ayahs 39:56–58

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہیں کہنے لگے کوئی جی اے افسوس اس بات پر کہ میں کوتاہی کرتا رہا اللہ کی طرف اور میں تو ہنستا ہی رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھ کو راہ دکھاتا تو میں ہوتا ڈرنے والوں میں

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کہنے لگے جب دیکھے عذاب کو کسی طرح مجھ کو پھرجانا ملے تو میں ہوجاؤں نیکی والوں میں

(آیت) اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى سے مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ تک۔ کی تین آیتوں میں اسی مضمون کی تشریح و تاکید ہے، جو اس سے پہلے کی تین آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے مجرم کافر عاجز کو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اگر وہ توبہ کرلے گا تو اللہ اس کے سب پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔ ان تقول نفس سے تین آیتوں میں یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ یہاں تک کفر و شرک کو بھی توبہ سے معاف فرما دیتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ توبہ کا وقت مرنے سے پہلے ہے، مرنے کے بعد قیامت کے روز کوئی توبہ کرے یا اپنے کئے پر حسرت کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بعض کفار فجار قیامت کے روز مختلف تمنائیں کریں گے۔ کوئی تو اظہار حسرت کرے گا کہ افسوس میں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوتاہی کی تھی۔ کوئی وہاں بھی اپنا الزام تقدیر پر ڈال کر بچنا چاہے گا وہ کہے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی متقیوں میں داخل ہوتا، مگر خدا نے ہی ہدایت نہ کی تو میں کیا کروں۔ کوئی یہ تمنا کرے گا کہ کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو میں سچا پکا مسلمان بنوں، اور اللہ کے احکام کی پوری اطاعت کروں۔ مگر اس وقت کی یہ حسرتیں اور تمنائیں کسی کے کام نہ آئیں گی۔ یہ تین قسم کی تمنائیں ہوسکتا ہے کہ مختلف لوگوں کی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تینوں تمنائیں یکے بعد دیگرے ایک ہی جماعت کے کفار کی طرف سے ہوں، کیونکہ آخری قول جس میں دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا ہے اس کے ساتھ آیت میں مذکور ہے کہ وہ عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہوگا۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں قول مشاہدہ عذاب سے پہلے کے ہیں کہ قیامت کے روز اول ہی اپنے عمل کی تقصیرات کو یاد کر کے کہیں گے، يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ پھر عذر اور بہانے کے طور پر کہیں گے کہ ہم تو معذور تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہدایت کردیتا تو ہم بھی مطیع و فرمانبردار اور متقی ہوجاتے۔ مگر جب اس نے ہدایت ہی نہ کی تو ہمارا کیا قصور ہے، پھر جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو یہ تمنا ہوگی کہ کاش دنیا میں دوبارہ بھیج دیئے جاویں۔ حق تعالیٰ نے ان تینوں آیتوں میں بتلا دیا کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت بہت وسیع ہے، مگر وہ جبھی حاصل ہو سکتی ہے کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلو۔ اس لئے ہم ابھی بتلائے دیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ تم مرنے کے بعد پچھتاؤ اور آخرت میں اس طرح کی فضول حسرت و تمنا میں مبتلا ہو۔
Ayahs 39:59–61

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

کیوں نہیں پہنچ چکے تھے تیرے پاس میرے حکم پھر تو نے ان کو جھٹلایا اور غرور کیا اور تو تھا منکروں میں

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور قیامت کے دن تو دیکھے ان کو جو جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر کہ ان کے منہ ہوں سیاہ کیا نہیں دوزخ میں ٹھکانا غرور والوں کا

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور بچائے گا اللہ ان کو جو ڈرتے رہے ان کے بچاؤ کی جگہ نہ لگے ان کو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں۔

(آیت) بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا۔ اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اگر اللہ ہدایت کردیتا تو ہم متقی ہوجاتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پوری ہدایت کردی تھی اپنی کتابیں اور آیتیں بھیجی تھیں۔ اس لئے ان کا یہ کہنا غلط اور لغو ہے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت نہیں کی۔ ہاں ہدایت کرنے کے بعد نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ بلکہ بندہ کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جس راستے حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندہ کا امتحان تھا، اس پر اس کی کامیابی یا ناکامی موقوف تھی جس نے اپنے اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ بنانے والا ہے ہر چیز کا اور وہ ہر چیز کا ذمہ لیتا ہے

خلاصہ تفسیر اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے، اسی کے اختیار میں کنجیاں ہیں آسمان و زمین کی۔ یعنی ان سب چیزوں کا موجد و خالق بھی وہی ہے اور ان کو باقی رکھنے والا، حفاظت کرنے والا بھی وہی ہے۔ جو مفہوم ہے لفظ وکیل کا۔ اور ان سب مخلوقات میں تصرفات و انقلابات بھی اسی کا کام ہے۔ یہ مفہوم ہے (آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کا۔ کیونکہ جس کے ہاتھ میں خزانوں کی کنجیاں ہوتی ہیں، وہ ہی عادتاً ان میں تصرفات کا مالک ہوتا ہے۔ اور جب ساری کائنات کا خالق بھی بلاشرکت غیرے وہی ہے، محافظ بھی وہی ہے، مالک تصرفات کا بھی وہی ہے تو عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور سزا وجزا کا مالک بھی وہی ہونا چاہئے جو خلاصہ ہے توحید کا۔ اور چونکہ ان سب مقدمات کو یہ مشرکین بھی تسلیم کرتے تھے تو ان پر لازم تھا کہ عقیدہ توحید کو بھی تسلیم کریں، اس لئے فرمایا) جو لوگ (اس پر بھی) اللہ کی آیتوں کو (جو توحید اور جزا و سزاء کے مضمون پر مشتمل ہیں) نہیں مانتے وہ بڑے خسارے میں رہیں گے (اور یہ لوگ خود تو کفر و شرک میں ملوث تھے ہی اب ان کا حوصلہ یہاں تک بڑھا کہ آپ کو بھی اپنے طریقہ پر لانے کے لئے فرمائش کرتے ہیں سو) آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو (مذکورہ دلائل سے توحید کا مکمل ثبوت اور کفر و شرک کا ابطال ہوجانے کے بعد) پھر بھی تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کے لئے کہتے ہو (اور آپ سے کفر و شرک کا صادر ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ) آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ (ہر امتی کو پہنچا دیں) اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا کام سب غارت ہوجاوے گا اور تو خسارہ میں پڑے گا۔ (اس لئے تو کبھی شرک کے پاس نہ جانا) بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرنا اور (اسی کا) شکر گزار رہنا (اور جب انبیاء (علیہم السلام) کو جن میں آپ بھی داخل ہیں توحید کا حق ہونا اور کفر و شرک کا باطل ہونا بذریعہ وحی ثابت ہوچکا اور وہ اس پر مامور کئے گئے کہ دوسرے کو بھی اس عقیدے کی ہدایت کریں تو ان مشرکین کا آپ سے کفر و شرک کی توقع رکھنا بجز حماقت کے اور کیا ہوسکتا ہے) اور (افسوس ہے کہ) ان لوگوں نے خدائے تعالیٰ کی عظمت وقدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھا، حالانکہ ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوئے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں، وہ پاک اور برتر ہے ان کے شرک سے۔
Ayahs 39:63–66

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اس کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی اور جو منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں ٹوٹے میں پڑے

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

تو کہہ اب اللہ کے سوائے کس کو بتلاتے ہو کہ پوجوں اے نادانو !

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور حکم ہوچکا تجھ کو اور تجھ سے اگلوں کو کہ اگر تو نے شریک مان لیا تو اکارت جائیں گے تیرے عمل اور تو ہوگا ٹوٹے میں پڑا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

نہیں بلکہ اللہ ہی کو پوج اور رہ حق ماننے والوں میں

معارف و مسائل (آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ مقالید جمع مقلاد یا مقلید کی ہے جو قفل کی کنجی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا دراصل یہ لفظ فارسی زبان سے معرب کیا گیا ہے۔ فارسی میں کنجی کو کلید کتے ہیں۔ معرب کر کے اس کو اقلید بنایا گیا پھر اس کی جمع مقالید لائی گئی (روح) کنجیوں کا کسی کے ہاتھ ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو خزانے نعمتوں کے مستور ہیں، ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے۔ کہ جب چاہے جس کو چاہے جس قدر چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ اور بعض روایات حدیث میں کلمہ سوم یعنی سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر لاحول ولا قوة الا باللہ العلیٰ العظیم کو مقالید السموٰت والارض فرمایا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص صبح و شام یہ کلمہ پڑھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کے خزانوں کی نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ ان روایات کو ابن جوزی نے موضوع کہہ دیا ہے، مگر دوسرے محدثین نے احادیث ضعیفہ قرار دیا ہے جن کا فضائل اعمال میں اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ (روح المعانی)
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور نہیں سمجھے اللہ کو جتنا کچھ وہ ہے اور زمین ساری ایک مٹھی ہے اس کی دن قیامت کے اور آسمان لپٹے ہوئے ہوں اس کے داہنے ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بتلاتے ہیں۔

(آیت) وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ۔ قیامت کے روز زمین کا اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہونا اور آسمانوں کا لپیٹ کر اس کے داہنے ہاتھ میں ہونا اسلاف متقدمین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں میں ہیں۔ مگر مضمون آیت متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت بجز خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ عام لوگوں کو اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش بھی ممنوع ہے بس اس پر ایمان لانا ہے کہ جو کچھ اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق اور صحیح ہے۔ اور چونکہ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے لئے مٹھی اور داہنے ہاتھ کا ہونا معلوم ہوتا ہے جو اعضاء وجوارح جسمانی ہیں اور اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے، اس کی طرف آیت کے خاتمہ میں اشارہ کردیا کہ ان الفاظ کو اپنے اعضاء پر قیاس مت کرو، اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ اور علماء متاخرین نے اس آیت کو ایک تمثیل و مجاز قرار دے کر یہ معنے بیان کئے کہ کسی چیز کا مٹھی میں ہونا اور داہنے ہاتھ میں ہونا کنایہ ہوتا ہے اس پر پوری طرح قبضہ وقدرت سے یہی مکمل قبضہ وقدرت مراد ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور پھونکا جائے صور میں پھر بیہوش ہوجائے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر پھونکی جائے دوسری بار تو فوراً وہ کھڑے ہوجائیں ہر طرف دیکھتے

خلاصہ تفسیر اور (قیامت کے روز جس کا اوپر ذکر آیا ہے) صور میں پھونک ماری جاویگی جس سے تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جاویں گے (پھر زندہ تو مر جاویں گے اور مردوں کی روحیں بےہوش ہوجاویں گی) مگر جس کو خدا چاہے (وہ اس بےہوشی اور موت سے محفوظ رے گا) پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونک ماری جاویگی تو دفعتاً سب کے سب (ہوش میں آ کر ارواح کا تعلق ابدان سے ہو کر قبروں سے نکل) کھڑے ہوجاویں گے۔ (اور) چاروں طرف دیکھنے لگیں گے (جیسا کہ حادثہ غریبہ کے وقوع کے وقت عادت طبعی ہے) اور (پھر حق تعالیٰ حساب کے لئے زمین پر اپنی شان کے مناسب نزول و تجلی فرما دیں گے اور) زمین اپنے رب کے نور (بےکیف) سے روشن ہوجاوے گی اور (سب کا) نامہ اعمال (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جاوے گا۔ اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جاویں گے (گواہ کا مفہوم عام ہے جس میں پیغمبر بھی داخل ہے اور فرشتے بھی اور امت محمدیہ بھی اور اعضاء وجوارح بھی، جس کی تفصیل آگے معارف کے ضمن میں آتی ہے) اور سب (مکلفین) میں (حسب اعمال) ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جاوے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (کہ کوئی نیک عمل جو بشرائطہ واقع ہوا ہو چھپا لیا جائے یا کوئی بدعمل بڑھا دیا جاوے) اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاوے گا (اعمال نیک میں بدلہ کے پورا ہونے سے مقصود کمی کی نفی ہے اور اعمال بد میں پورا ہونے سے مقصود زیادتی کی نفی ہے) اور وہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے (پس اس کو ہر ایک کے موافق جزا دے دینا کچھ مشکل نہیں) اور (بیان اس بدلہ کا جو نتیجہ فیصلہ کا ہے یہ ہے کہ) جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف گروہ گروہ بنا کر (دھکے دے کر ذلت و خواری کے ساتھ) ہانکے جاویں گے (گروہ گروہ اس لئے کہ اقسام و مراتب کفر کے جدا جدا ہیں۔ پس ایک ایک طرح کے کفار کا ایک ایک گروہ ہوگا) یہاں تک کہ جب دوزخ کے پاس پہنچیں گے تو (اس وقت) اس کے دروازے کھول دیئے جاویں گے اور ان سے دوزخ کے محافظ (فرشتے بطور ملامت کے) کہیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی لوگوں سے (جن سے استفادہ تمہارے لئے مشکل نہ تھا) پیغمبر نہ آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے وہ کافر کہیں گے کہ ہاں (رسول بھی آئے تھے اور انہوں نے ڈرایا بھی) لیکن عذاب کا وعدہ کافروں پر (جن میں ہم بھی داخل ہیں) پورا ہو کر رہا (یہ اعتذار نہیں بلکہ اعتراف ہے کہ باوجود ابلاغ کے ہم نے کفر کیا اور کافروں کے لئے جو عذاب موعود تھا وہ ہمارے سامنے آیا واقعی ہم مجرم ہیں، پھر ان سے) کہا جاوے گا (یعنی وہ فرشتے کہیں گے) کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو (اور) ہمیشہ اس میں رہا کرو غرض (خدا کے احکام سے) تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے۔ (پھر اس کے بعد وہ جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور دروازے بند کردیئے جاویں گے۔ کما قال تعالیٰ (آیت) انھا علیھم موءصدة، یہ تو کفار کا حال ہوا) اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے (جس کا ابتدائی مرتبہ ایمان ہے پھر آگے اس کے مختلف درجات ہیں) وہ گروہ گروہ ہو کر (کہ جس مرتبہ کا تقویٰ ہوگا اس مرتبہ کے متقی ایک جگہ کردیئے جائیں گے اور) جنت کی طرف (شوق دلا کر جلدی) روانہ کئے جاویں گے یہاں تک کہ جب اس (جنت) کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے (پہلے سے) کھلے ہوئے ہوں گے (تا کہ ذرا بھی دیر نہ لگے اور نیز اہل اکرام کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسا مہمان کے لئے عادت ہے کہ پہلے سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ کماقال تعالیٰ (آیت) مفتحة لھم الابواب) اور وہاں کے فرشتے (فرشتے) ان سے (بطور اکرام وثناء کے) کہیں گے کہ السلام علیکم تم مزہ میں رہو سو اس (جنت) میں ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہوجاؤ (اس وقت اس میں داخل ہوجاویں گے) اور (داخل ہو کر) کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہم کو اس سر زمین کا مالک بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں (یعنی ہر شخص کو خوب فراغت کی جگہ ملی ہے خوب کھیل کھیل کر چلیں پھریں، بیٹھیں، اٹھیں قیام کے طور پر تو اپنی ہی جگہ میں اور سیر کے طور پر دوسرے جنتی کے درجہ میں بھی) غرض (نیک) عمل کرنے والوں کا اچھا بدلہ ہے (یہ جملہ خود اہل جنت کا ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو دونوں امکان میں) اور (آگے اجلاس سے اخیر فیصلہ تک کے اسی مضمون کو مختصر اور پرشوکت الفاظ میں بطور تلخیص کے فرماتے ہیں کہ) آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ (نزول اجلاس للحساب کے وقت) عرش کے گردا گردا حلقہ باندھے ہوں گے اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے اور تمام بندوں میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جاوے گا اور (اس فیصلہ کے ٹھیک ہونے پر ہر طرف سے جوش کے ساتھ یہی خروش ہوگا اور) کہا جاوے گا کہ ساری خوبیاں خدا کو زیبا ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے (جس نے ایسا عمدہ فیصلہ کیا پھر اس نعرہ تحسین پر دربار برخاست ہوجاوے گا) معارف و مسائل (آیت) فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ۔ صعق کے لفظی معنے بےہوش ہونے کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ اول بےہوش ہوجائیں گے پھر سب مر جائیں گے اور جو پہلے مر چکے ہیں ان کی روحیں بےہوش ہوجائیں گی۔ (کمانی بیان القرآن من سورة النمل۔ عند ابن کثیر مثلہ) اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ۔ میں درمنثور کی روایات کے مطابق چار فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت ہیں اور بعض روایات میں جملة العرش بھی اس میں داخل ہے۔ ان کے استثناء کا مطلب یہ ہے کہ نفخ صور کے اثر سے ان کو موت نہیں آئے گی مگر اس کے بعد ان کو بھی موت آجائے گی اور سوائے ایک ذات حق سبحانہ وتعالیٰ کے کوئی اس وقت زندہ نہیں رہے گا۔ ابن کثیر نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان سب میں بھی سب سے آخر میں ملک الموت کو موت آوے گی۔ سورة نمل میں بھی ایک آیت اسی کی مثل گزری ہے۔ اس میں صعق کے بجائے فزع کا لفظ آیا ہے وہاں بھی اس کی کچھ تفصیل گزری ہے۔