25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمعارف القرآن

Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو لوگ شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ

دسویں صفتوَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ ، یعنی یہ لوگ جھوٹ اور باطل کی مجلسوں میں شریک نہیں ہوتے۔ سب سے بڑا جھوٹ اور باطل تو شرک و کفر ہے اس کے بعد عام جھوٹ اور گناہ کے کام ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ایسی مجلسوں میں شرکت سے بھی گریز کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد مشرکین کی عیدیں اور میلے ٹھیلے ہیں حضرت مجاہد اور محمد بن حنفیہ نے فرمایا کہ اس سے مراد گانے بجانے کی محفلیں ہیں۔ عمرو بن قیس نے فرمایا کہ بےحیائی اور ناچ رنگ کی محفلیں مراد ہیں۔ زہری، امام مالک نے فرمایا کہ شراب پینے پلانے کی مجلسیں مراد ہیں (ابن کثیر) اور حقیقت یہ ہے کہ ان اقوال میں کوئی اختلاف نہیں، یہ ساری ہی مجلسیں مجلس زور کی مصداق ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کو ایسی محفلوں ہی سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ لغو و باطل کا بالقصد دیکھنا بھی اس کی شرکت کے حکم میں ہے۔ (مظہری) اور بعض حضرات مفسرین نے لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ میں یشہدون کو شہادت بمعنے گواہی سے لیا ہے اور معنی آیت کے یہ قرار دیئے کہ یہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ جھوٹی گواہی کا گناہ کبیرہ اور وبال عظیم ہونا قرآن و سنت میں معروف و مشہور ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت انس کی روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹی گواہی کو اکبر کبائر فرمایا ہے۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ جس شخص کے متعلق ثابت ہوجائے کہ اس نے جھوٹی شہادت دی ہے تو اس کو چالیس کوڑوں کی سزا دی جائے اور اس کا منہ کالا کر کے بازار میں پھرایا جائے اور رسوا کیا جائے پھر طویل زمانے تک قید میں رکھا جائے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ و عبدالرزاق۔ مظہری) گیارہویں صفتوَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا یعنی اگر لغو اور بیہودہ مجلسوں پر کبھی ان کا گزر اتفاقا ہوجائے تو وہ سنجیدگی اور شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں یہ لوگ جس طرح بقصد و ارادہ شریک نہیں ہوتے اسی طرح اگر کہیں اتفاقی طور پر ان کا کسی ایسی مجلس پر گزر ہوجاوے تو اس فسق و فجور اور گناہ کی مجلس پر سے شرافت کے ساتھ گزرے چلے جاتے ہیں۔ یعنی ان کے اس فعل کو برا اور قابل نفرت جانتے ہوئے۔ نہ گناہوں میں مبتلا لوگوں کی تحقیر کرتے ہیں اور نہ خود اپنے آپ کو ان سے افضل و بہتر سمجھ کر تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود کا اتفاق سے ایک روز کسی بیہودہ لغو مجلس پر گزر ہوگیا تو وہاں ٹھہرے نہیں گزرے چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ معلوم ہوا تو فرمایا کہ ابن مسعود کریم ہوگئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں بیہودہ مجلس سے کریموں شریفوں کی طرح گزر جانے کا حکم ہے (ابن کثیر)
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان کو سمجھایئے ان کے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر

بارہویں صفتوَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا یعنی ان مقبول بندوں کی یہ شان ہے کہ جب ان کو اللہ کی آیات اور آخرت کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ ان آیات کی طرف اندھے بہروں کی طرح متوجہ نہیں ہوتے بلکہ سمیع وبصیر انسان کی طرح ان میں غور کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ غافل اور مغفل لوگوں کی طرح ایسا معاملہ نہیں کرتے کہ انہوں نے سنا ہی نہیں یا دیکھا ہی نہیں۔ اس آیت میں دو چیزیں مذکور ہیں ایک آیات الہیہ پر گر پڑنا یعنی اہمتام کے ساتھ متوجہ ہونا یہ تو امر محمود و مقصود اور بہت بڑی نیکی ہے۔ دوسرے اندھے بہروں کی طرح گرنا کہ قرآن کی آیات پر توجہ تو دیں مگر یا تو اس پر عمل کرنے میں معاملہ ایسا کریں کہ گویا انہوں نے سنا اور دیکھا ہی نہیں اور یا آیات قرآن پر عمل بھی کریں مگر ان کو اصول صحیحہ اور تفسیر صحابہ وتابعین کے خلاف اپنی رائے یا سنی سنائی باتوں کے تابع کر کے غلط عمل کریں یہ بھی ایک طرح سے اندھے بہرے ہو کر گرنے کے حکم میں ہے۔ احکام دین کا صرف مطالعہ کافی نہیں بلکہ اسلاف کی تفسیر کے مطابق سمجھ کر عمل کرنا ضروری ہے آیات مذکورہ میں جس طرح اس امر کی سخت مذمت ہے کہ آیات الہیہ کی طرف توجہ ہی نہ دیں، اندھے بہروں کا سا معاملہ کریں، اسی طرح اس کی بھی مذمت ہے کہ توجہ تو دیں اور عمل بھی کریں مگر بےسمجھے بےبصیرتی کے ساتھ اپنی رائے سے جس طرح چاہیں عمل کرنے لگیں۔ ابن کثیر نے ابن عون سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر میں کسی مجلس میں پہنچوں جہاں لوگ سجدہ میں پڑے ہوں اور مجھے معلوم نہیں کہ کیسا سجدہ ہے تو کیا میں بھی ان کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوجاؤں۔ حضرت شعبی نے فرمایا نہیں۔ مومن کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ بےسمجھے کسی کام میں لگ جائے بلکہ اس پر لازم ہے کہ بصیرت کے ساتھ عمل کرے۔ جب تم نے وہ آیت سجدہ نہیں سنی جس کی بناء پر یہ لوگ سجدہ کر رہے ہیں اور تمہیں ان کے سجدہ کی حقیقت بھی معلوم نہیں تو اس طرح ان کے ساتھ سجدہ میں شریک ہونا جائز نہیں۔ اس زمانے میں یہ بات تو قابل شکر ہے کہ نوجوان اور نو تعلیم یافتہ طبقہ میں قرآن پڑھنے اور اس کے سمجھنے کی طرف کچھ توجہ پیدا ہوئی ہے اور اس کے تحت وہ بطور خود قرآن کا ترجمہ یا کسی کی تفسیر دیکھ کر قرآن کو خود سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر یہ کوشش بالکل بےاصول ہے۔ اس لئے قرآن کو صحیح سمجھنے کے بجائے بہت سے مغالطوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔ اصول کی بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی معمولی سے معمولی فن بھی نری کتاب کے مطالعہ سے کسی کو معتدبہ نہیں حاصل ہوسکتا جب تک اس کو کسی استاد سے نہ پڑھے۔ معلوم نہیں قرآن اور علوم قرآن ہی کو کیوں ایسا سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے خود ترجمہ دیکھ کر جو چاہے اس کی مراد متعین کرلے۔ یہ بےاصول مطالعہ جس میں کسی ماہر استاد کی رہنمائی شامل نہ ہو یہ بھی آیات الہیہ پر اندھے بہرے ہو کر گرنے کے مفہوم میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم کی توفیق بخشیں۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک اور کر ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا

تیرہویں صفتوَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا، اس میں اپنی اولاد اور ازواج کے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ ان کو میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے سے مراد حضرت حسن بصری کی تفسیر کے مطابق یہ ہے کہ ان کو اللہ کی اطاعت میں مشغول دیکھے یہی ایک انسان کے لئے آنکھوں کی اصلی ٹھنڈک ہے اور اگر اولاد و ازواج کی ظاہری صحت و عافیت اور خوش حالی بھی اس میں شامل کی جائے تو وہ بھی درست ہے۔ یہاں اس دعا سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے مقبول بندے صرف اپنے نفس کی اصلاح اور اعمال صالحہ پر قناعت نہیں کرلیتے بلکہ اپنی اولاد اور بیبیوں کی بھی اصلاح اعمال و اخلاق کی فکر کرتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسی کوشش میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی صالحیت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا رہے۔ اس آیت کے اگلے جملے میں دعا کا یہ جز بھی ہے وّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا یعنی ہمیں متقی لوگوں کا امام اور پیشوا بنا دے، اس میں بظاہر اپنے لئے جاہ و منصب اور بڑائی حاصل کرنے کی دعا ہے جو دوسری نصوص قرآن کی رو سے ممنوع ہے جیسے قرآن کا ارشاد ہے تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا، یعنی ہم نے دار آخرت کو مخصوص کر رکھا ہے ان لوگوں کے لئے جو زمین میں اپنا علو اور بڑائی نہیں چاہتے اور نہ زمین میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے بعض علماء نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر شخص اپنے اہل و عیال کا قدرتی طور پر امام و پیشوا ہوتا ہی ہے اس لئے اس دعا کا حاصل یہ ہوگیا کہ ہمارے اولاد اور اہل و عیال کو متقی بنا دیجئے اور جب وہ متقی ہوجاویں گے تو طبعی طور پر یہ شخص متقین کا امام و پیشوا کہلائے گا جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں اپنی بڑائی کی دعا نہیں بلکہ اولاد و ازواج کے متقی بنانے کی دعا ہے اور حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ اس دعا میں اپنے لئے کوئی ریاست و امامت اور پیشوائی طلب کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصود اس دعا کا یہ ہے کہ ہمیں ایسا بنا دیجئے کہ لوگ دین و عمل میں ہماری اقتدا کیا کریں اور ہمارے علم و عمل سے ان کو نفع پہنچے تاکہ اس کا ثواب ہمیں حاصل ہو اور حضرت مکحول شامی نے فرمایا کہ دعا کا مقصود اپنے لئے تقوی کا ایسا اعلی مقام حاصل کرنا ہے کہ دنیا کے متقی لوگوں کو بھی ہمارے عمل سے فائدہ پہنچے۔ قرطبی نے یہ دونوں قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ان دونوں کا حاصل ایک ہی ہے کہ ریاست و امامت کی طلب جو دین کے لئے اور آخرت کے فائدہ کے لئے ہو وہ مذموم نہیں بلکہ جائز ہے اور آیت لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا میں اس ریاست و اقتدار کی خواہش کی مذمت ہے جو دنیوی عزت و جاہ کے لئے ہو۔ واللہ اعلم۔ یہاں تک عباد الرحمٰن، یعنی مومنین کاملین کی اہم صفات کا بیان پورا ہوگیا، آگے ان کی جزا اور آخرت کے درجات کا ذکر ہے۔
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان کا بدلہ ملے گا کوٹھوں کے جھروکے اس لئے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئیں گے ان کو وہاں دعا اور سلام کہتے ہوئے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

سدا رہا کریں ان میں خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ رہنے کی

اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ ، غرفہ کے لغوی معنی بالاخانہ کے ہیں۔ جنت میں مقربین خاص کے لئے ایسے غرفات ہوں گے جو عام اہل جنت کو ایسے نظر آئیں گے جیسے زمین والے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ (رواہ البخاری و مسلم وغیرھما۔ مظہری) مسند احمد، بیہقی، ترمذی، حاکم میں حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایسے غرفے ہوں گے جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ، یہ غرفے کن لوگوں کے لئے ہیں۔ آپ نے فرمایا، جو شخص اپنے کلام کو نرم اور پاک رکھے اور ہر مسلمان کو سلام کرے اور لوگوں کو کھانا کھلائے اور رات کو اس وقت تہجد کی نماز پڑھے جب لوگ سو رہے ہوں (مظہری) وَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا یعنی جنت کی دوسری نعمتوں کے ساتھ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوگا کہ فرشتے ان کو مبارکباد دیں گے اور سلام کریں گے۔ یہاں تک مومنین مخلصین کی خصوصی عادات و اعمال اور ان کی جزا وثواب کا ذکر تھا، آخری آیت میں پھر کفار و مشرکین کو عذاب سے ڈرا کر سورت کو ختم کیا گیا ہے۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

تو کہہ پرواہ نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مٹھ بھیڑ۔

قُلْ مَا يَعْبَؤ ُ ا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاۗؤ ُ كُمْ ، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں زیادہ واضح اور سہل وہ ہے جس کو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی وقعت و حیثیت نہ ہوتی اگر تمہاری طرف سے اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا نہ ہوتا۔ کیونکہ انسان کی تخلیق کا منشاء ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے جیسے دوسری آیت میں ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ، یعنی میں نے انسان اور جن کو اور کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا بجز اس کے کہ وہ میری عبادت کریں۔ یہ تو ایک عام ضابطہ بیان ہوا کہ بغیر عبادت کے انسان کی کوئی قدر و قیمت اور وقعت و حیثیت نہیں ہے اس کے بعد کفار و مشرکین جو رسالت اور عبادت ہی کے منکر ہیں ان کو خطاب ہے فَقَدْ كَذَّبْتُمْ ، یعنی تم نے تو سب چیزوں کو جھٹلا ہی دیا ہے اب تمہاری کوئی وقعت اللہ کے نزدیک نہیں فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا یعنی اب یہ تکذیب و کفر تمہارے گلے کا ہار بن چکے ہیں اور تمہارے ساتھ لگے رہیں گے یہاں تک کہ جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا کر کے چھوڑیں گے۔ ونعوذ باللہ من حال اہل النار۔ تم بحمد اللہ سبحانہ تفسیر سورة الفرقان یوم الاحد الثالث عشر من صفر المظفر 1391 ھ وباتمامہ تم بعون اللہ وکرمہ الحزب الرابع من الاحزاب السبعۃ القرانیہ واللہ سبحانہ وتعالی ارجو و اسال اتمام الباقی وما ذلک علی اللہ بعزیز۔