Ayahs 25:37–42خلاصہ تفسیر
اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام کے سفر میں) اس بستی پر ہو کر گزرتے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تھے (مراد قریہ قوم لوط کا ہے) سو کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے (پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے کہ کفر و تکذیب کو چھوڑ دیں جس کی بدولت قوم لوط کو سزا ہوئی سو بات یہ ہے کہ عبرت نہ پکڑنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس قریہ کو دیکھتے نہ ہوں) بلکہ (اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ) یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے (یعنی آخرت کے منکر ہیں اس لئے کفر کو موجب سزا ہی قرار نہیں دیتے اور اس لئے ان کی ہلاکت کو کفر کا وبال نہیں سمجھتے بلکہ امور اتفاقیہ میں سے سمجھتے ہیں یہ وجہ عبرت نہ پکڑنے کی ہے) اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ کیا یہی (بزرگ) ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے (یعنی ایسا غریب آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس مالدار ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں البتہ) اس شخص (کی جادو بیانی اس غضب کی ہے کہ اس) نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر (مضبوطی سے) قائم نہ رہتے (یعنی ہم تو ہدایت پر ہیں اور یہ ہم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا اللہ تعالیٰ ان کی تردید کے لئے فرماتے ہیں کہ یہ ظالم اب تو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور ہمارے پیغمبر کو گمراہ بتلا رہے ہیں) اور (مرنے کے بعد) جلدی ہی ان کو معلوم ہوجاوے گا جب عذاب کا معائنہ کریں گے کہ کون شخص گمراہ تھا (آیا وہ خود یا نعوذ باللہ پیغمبر، اس میں ان کے بیہودہ اعتراض کے جواب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبوت اور مالداری میں کوئی جوڑ نہیں مالدار نہ ہونے کے سبب نبوت سے انکار جہالت و گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر دنیا میں جو چاہیں خیال پکا لیں مگر قیامت میں سب حقیقت کھل جاوے گی) اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے سو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (مطلب یہ کہ آپ ان کی ہدایت نہ ہونے سے مغموم نہ ہوجئے کیونکہ آپ ان پر مسلط نہیں کہ خواہی نخواہی ان کو راہ پر لاویں اور نہ ہدایت کی ان سے توقع کیجئے کیونکہ نہ یہ حق بات کو سنتے ہیں نہ عقل ہے کہ غور کریں) یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں (کہ وہ بات کو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں) بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں (کیونکہ وہ احکام دین کے مکلف نہیں تو ان کا نہ سمجھنا مذموم نہیں اور یہ مکلف ہیں پھر بھی نہیں سمجھتے، پھر یہ کہ وہ اگر معتقدان ضروریات دین کے نہیں ہیں منکر بھی تو نہیں اور نہ تو منکر ہیں اور رویت میں ان کی گمراہی کا منشاء بھی بیان کردیا کہ کسی شبہ و دلیل سے ان کو اشتباہ نہیں ہوا بلکہ اتباع ہویٰ اس کا سبب ہے۔
معارف و مسائل
قوم نوح ؑ کے متعلق یہ ارشاد کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ پہلے رسول نہ ان کے زمانے میں تھے نہ انہوں نے جھٹلایا، تو منشاء اس کا یہ ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ کو جھٹلایا اور چونکہ اصول دین سب انبیاء کے مشترک ہیں اس لئے ایک کو جھٹلانا سبھی کے جھٹلانے کے حکم میں ہے۔
اَصْحٰبَ الرَّسِّ ، رس لغت میں کچے کنویں کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم اور کسی صحیح حدیث میں ان لوگوں کے تفصیلی حالات مذکور نہیں۔ اسرائیلی روایات مختلف ہیں۔ راجح یہ ہے کہ قوم ثمود کے کچھ باقی ماندہ لوگ تھے جو کسی کنویں پر آباد تھے (کذا فی القاموس والدر عن ابن عباس) ان کے عذاب کی کیفیت بھی قرآن میں منصوص اور کسی صحیح حدیث میں بھی مذکور نہیں (بیان القران)
Ayahs 25:43–44خلاف شرع خواہشات کی پیروی ایک قسم کی بت پرستی ہے
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ ، اس آیت میں اس شخص کو جو اسلام و شریعت کے خلاف اپنی خواہشات کا پیرو ہو یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو معبود بنا لیا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خلاف شرع خواہشات نفسانی بھی ایک بت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے پھر استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (قرطبی)
Ayahs 25:45–46خلاصہ تفسیر
اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے (جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے اس وقت کھڑی ہوئی چیزوں کے) سایہ کو کیونکر (دور تک) پھیلایا ہے (کیونکہ طلوع کے وقت ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا (یعنی آفتاب کے بلند ہونے سے بھی نہ گھٹتا اس طرح پر کہ اتنی دور تک آفتاب کی شعاعوں کو نہ آنے دیتا کیونکہ آفتاب کی شعاعوں کا زمین کے حصوں پر پہنچنا بارادہ حق ہے نہ کہ بالاضطرار مگر ہم نے اپنی حکمت سے اس کو ایک حالت پر نہیں رکھا بلکہ اس کو پھیلا ہوا بنا کر) پھر ہم نے آفتاب کو (یعنی اس کے افق کے قریب ہونے اور پھر افق سے بلند ہونے کو) اس (سایہ کی درازی و کو تاہی) پر (ایک ظاہری) علامت مقرر کیا (مطلب یہ کہ اگرچہ روشنی اور سایہ اور ان کے گھٹنے بڑھنے کی اصل علت حق تعالیٰ کا ارادہ اور مشیت ہے، آفتاب یا کوئی دوسری چیز موثر حقیقی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پیدا ہونے والی چیزوں کے لئے کچھ ظاہری اسباب بنا دیئے ہیں اور اسباب کے ساتھ ان کے مسببات کا ایسا رابطہ قائم کردیا کہ سبب کے تغیر سے مسبب میں تغیر ہوتا ہے) پھر (اس تعلق ظاہری کی وجہ سے) ہم نے اس (سایہ) کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا (یعنی جوں جوں آفتاب اونچا ہوا وہ سایہ زائل اور معدوم ہوتا گیا اور چونکہ اس کا غائب ہونا محض قدرت الٰہیہ سے بلا شرکت غیرے ہے اور عام لوگوں کی رویت سے غائب ہونے کے باوجود علم الٰہی سے غائب نہیں ہے اس لئے یہ فرمایا گیا کہ اپنی طرف سمیٹ لیا) اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ کی چیز اور نیند کو راحت کی چیز بنایا اور دن کو (اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے گویا) زندہ ہونے کا وقت بنایا اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کرنے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کریں اور ہم اس (پانی) کو (بقدر مصلحت) ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ غور کریں (کہ یہ تصرفات کسی بڑے قادر کے ہیں کہ وہی مستحق عبادت ہے) سو (چاہئے تھا کہ غور کرکے اس کا حق ادا کرتے لیکن) اکثر لوگ بغیر ناشکری کئے نہ رہے (جس میں سب سے بڑھ کر کفر و شرک ہے لیکن آپ ان کی اور بالخصوص اکثر کی ناشکری سنا کر یا دیکھ کر سعی فی التبلیغ سے ہمت نہ ہاریئے کہ میں تنہا ان سب سے کیسے عہدہ برآ ہوں گا بلکہ آپ تنہا ہی اپنا کام کئے جائیے کیونکہ آپ کو تنہا ہی نبی بنانے سے خود ہمارا مقصود یہ ہے کہ آپ کا اجر اور قرب بڑھے) اور اگر ہم چاہتے تو (آپ کے علاوہ اسی زمانہ میں) ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے (اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے) سو (اس نعمت کے شکریہ میں) آپ کافروں کو خوشی کا کام نہ کیجئے (یعنی کافر تو) اس سے خوش ہوں گے کہ تبلیغ نہ ہو یا کمی ہوجائے اور ان کی آزادی سے تعرض نہ کیا جاوے) اور قرآن (میں جو دلائل حق کے مذکور ہیں جیسا اسی مقام پر دلائل توحید کے ارشاد ہوئے ہیں ان) سے ان کا زور شور سے مقابلہ کیجئے (یعنی عام اور مکمل دعوت و تبلیغ کیجئے، یعنی سب سے کہیئے اور بار بار کہیئے اور ہمت قوی رکھئے جیسا اب تک آپ کرتے رہے ہیں اس پر قائم رہئے۔ آگے پھر بیان ہے دلائل توحید کا) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو (صورة) ملایا جن میں ایک (کا پانی) تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک (کا پانی) شور تلخ ہے اور (باوجود اختلاط صوری کے حقیقتہ) ان کے درمیان میں (اپنی قدرت سے) ایک حجاب اور (اختلاط حقیقی سے) ایک مانع قوی رکھ دیا (جو خود خفی غیر محسوس ہے مگر اس کا اثر یعنی امتیاز دونوں پانی کے مزہ میں محسوس اور مشاہد ہے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقیٰ کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ۔ دنیا میں جہاں جس جگہ شیریں پانی کی نہریں چشمے سمندر کے پانی میں گرتے ہیں وہاں اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ میلوں دور تک میٹھا اور کھاری پانی الگ الگ چلتے ہیں، دائیں طرف میٹھا بائیں طرف تلخ کھاری یا اوپر نیچے شیریں اور تلخ پانی الگ الگ پائے جاتے ہیں (حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ارکان سے چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبین بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطلم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے۔ کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا، اھ، اور مجھ سے باریسال کے بعض طلباء نے بیان کیا کہ ضلع باریسال میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں، ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آجکل مقیم ہے (ڈابھیل سملک ضلع سورت) سمندر وہاں سے تقریباً دس بارہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر کی ندیوں میں برابر مد و جزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے بکثرت ثقافت نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر کھاری رہتا ہے نیچے میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں میٹھا باقی رہ جاتا ہے۔ واللہ اعلم، ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باوجود بھی کسی طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں) اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے (یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا (چناچہ باپ دادا وغیرہ شرعی خاندان اور ماں، نانی وغیرہ عرفی خاندان ہیں جن سے پیدائش کے ساتھ ہی تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں پھر شادی کے بعد سسرالی رشتے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ دلیل قدرت بھی ہے کہ نطفہ کیا چیز تھا پھر اس کو کیسا بنادیا کہ وہ اتنی جلد خون والا ہوگیا اور نعمت بھی ہے کہ ان تعلقات پر تمدن اور امداد باہمی کی تعمیر قائم ہے) اور (اے مخاطب) تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے اور (باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایسا کامل ہے جیسا بیان ہوا اور یہ کمالات مقتضی ہیں کہ اسی کی عبادت کی جاوے مگر) یہ (مشرک) لوگ (ایسے) خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں (جو عبادت کرنے پر) نہ ان کو کچھ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ (درصورت عبادت نہ کرنے کے) اور کو کچھ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور کافر تو اپنے رب کا مخالف ہے (کہ اس کو چھوڑ کر دوسرے کی عبادت کرتا ہے اور کفار کی مخالفت معلوم کرکے آپ نہ تو ان کے ایمان نہ لانے سے غمگین ہوں کیونکہ) ہمنے آپ کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ (ایمن والوں کو جنت کی) خوشخبری سنائیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کرکے فکر میں پڑیں کہ جب یہ حق تعالیٰ کے مخالف ہیں تو میں جو حق تعالیٰ کی طرف دعوت کرتا ہوں اس دعوت کو یہ لوگ خیر خواہی کب سمجھیں گے بلکہ میری خود غرضی پر محمول کرکے التفات بھی نہ کریں گے تو ان کے گمان کی کیونکہ اصلاح کی جاوے تاکہ مانع مرتفع ہو۔ سو اگر آپ کو ان کا یہ خیال قرینہ سے یا زبانی گفتگو سے معلوم ہو تو) آپ (جواب میں اتنا) کہہ دیجئے (اور بےفکر ہوجائے) کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی معاوضہ (مالی یا جاہی) نہیں مانگتا ہاں جو شخص یوں چاہے کہ اپنے رب تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے (تو البتہ میں یہ ضرور چاہتا ہوں چاہے اس کو معاوضہ کہو یا نہ کہو) اور (نہ اس مخالفت کفار کو دریافت کرکے ان کی ضرر رسانی سے اندیشہ کیجیئے بلکہ تبلیغ میں) اس حی لایموت پر توکل رکھئے اور (اطمینان کے ساتھ) اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیئے اور (نہ مخالفت سن کر تعجیل عقوبت کی اس خیال سے تمنا کیجئے کہ ان کا ضرر دونوں کو نہ پہنچ جاوے کیونکہ) وہ (خدا) اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی (طور پر) خبردار ہے (وہ جب مناسب سمجھے گا سزا دیدے گا۔ پس ان جملوں میں رسول اللہ ﷺ سے حزن و فکر اور خوف کو زائل فرمایا ہے آگے پھر توحید کا بیان ہے) وہ ایسا ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے جس کا بیان سورة اعراف کے رکوع ہفتم کے شروع آیت میں گزر چکا) وہ بڑا مہربان ہے سو اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنا چاہیئے (کہ وہ کیسا ہے کافر مشرک کیا جانیں اور اس معرفت صحیحہ کے نہ ہونے سے شرک کرتے ہیں کما قال اللہ تعالیٰ وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ) اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو (بوجہ جہل وعناد کے) کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے (جس کے سامنے ہم کو سجدہ کرنے کو کہتے ہو) کیا ہم اس کو سجدہ کرنے لگیں گے جس کو تم سجدہ کرنے کے لئے ہم کو کہو گے اور اس سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے (لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو محاورات اور بول چال میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس کی بھی مخالفت کر بیٹھے) وہ ذات بہت عالیشان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور (ان ستاروں میں سے دو بڑے نورانی اور فائدہ بخش ستارے بنائے یعنی) اس (آسمان) میں ایک چراغ (یعنی آفتاب) اور نورانی چاند بنایا (شاید آفتاب کو سراج بوجہ تیزی کے کہا) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے بنائے (اور یہ سب کچھ جو دلائل توحید اور اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے) اس شخص کے (سمجھنے کے) لئے (ہیں) جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہئے (کہ اس میں سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں) ورنہ
اگر صد باب حکمت پیش ناداں بخوانی آیدش بازیچہ در گوش
معارف و مسائل
مخلوقات الٰہیہ میں اسباب و سببات کا رشتہ اور ان سب کا قدرت حق کا تابع ہونا
مذکور الصدر آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بندوں پر اس کے انعامات و احسانات کا ذکر ہے جس سے حق تعالیٰ کی توحید اور استحقاق عبادت میں اس کے ساتھ کسی کا شریک نہ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ، دھوپ اور چھاؤں دونوں ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر انسانی زندگی اور اس کے کاروبار نہیں چل سکتے۔ ہر وقت ہر جگہ دھوپ ہی دھوپ ہوجائے تو انسان اور ہر جاندار کے لئے کیسی مصیبت ہوجائے۔ یہ تو ظاہر ہے اور سایہ کا بھی یہی حال ہے کہ اگر ہر جگہ ہر وقت سایہ ہی رہے کبھی دھوپ نہ آوے تو انسان کی صحت و تندرستی نہیں رہ سکتی، اور بھی ہزاروں کاموں میں خلل آئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں نعمتیں اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمائیں اور انسانوں کے لئے ان کو موجب راحت و سکون بنایا۔ لیکن حق تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے اس دنیا میں پیدا ہونے والی تمام اشیاء کو خاص خاص اسباب کے ساتھ مربوط کردیا ہے کہ جب وہ اسباب موجود ہوتے ہیں تو یہ چیزیں موجود ہوجاتی ہیں جب نہیں ہوتے تو یہ چیزیں بھی نہیں رہتیں۔ اسباب قوی یا زیادہ ہوتے ہیں تو ان کے مسببات کا وجود قوی اور زیادہ ہوجاتا ہے، وہ کمزور یا کم ہوتے ہیں تو مسببات بھی کمزور یا کم ہوجاتے ہیں۔ غلہ اور گھاس اگانے کا سبب زمین اور پانی اور ہوا کو بنا رکھا ہے روشنی کا سبب آفتاب مہتاب کو بنا رکھا ہے۔ بارش کا سبب بادل اور ہوا کو بنا رکھا ہے اور ان اسباب اور ان مرتب ہونے والے اثرات میں ایسا مستحکم اور مضبوط ربط قائم فرما دیا ہے کہ ہزاروں سال سے بغیر کسی ادنی فرق کے چل رہے ہیں۔ آفتاب اور اس کی حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے دن رات اور دھوپ چھاؤں پر نظر ڈالو تو ایسا مستحکم نظام ہے کہ صدیوں بلکہ ہزاروں سال میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ نہ کبھی آفتاب و ماہتاب وغیرہ کی مشینری میں کوئی کمزوری آتی ہے، نہ کبھی ان کو اصلاح و مرمت کی ضرورت ہوتی ہے جب سے دنیا وجود میں آئی ایک انداز ایک رفتار سے چل رہے ہیں حساب لگا کر ہزار سال بعد تک کی چیزوں کا وقت بتلایا جاسکتا ہے۔
سبب اور مسبب کا یہ مستحکم نظام جو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی عجیب و غریب شاہکار اور اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی برہان قطعی ہے اس کے استحکام ہی نے لوگوں کو غفلت میں ڈال دیا کہ ان کی نظروں میں صرف یہ اسباب ظاہرہ ہی رہ گئے اور انہی اسباب کو تمام چیزوں اور تاثیرات کا خالق ومالک سمجھنے لگے۔ مسبب الاسباب کی اصلی قوت جو ان اسباب کی پیدا کرنے والی ہے وہ اسباب کے پردوں میں مستور ہوگئی۔ اس لئے انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں انسان کو بار بار اس پر تنبہ کرتی ہیں کہ ذرا نظر کو بلند اور تیز کرو، اسباب کے پردوں کے پیچھے دیکھو کون اس نظام کو چلا رہا ہے، تاکہ حقیقت تک راہ پاؤ۔ اسی سلسلے کے ایہ ارشادات ہیں جو آیات مذکورہ میں آئے۔ آیت اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ میں غافل انسان کو اس پر تنبیہ کیا گیا ہے کہ تو روزانہ دیکھتا ہے کہ صبح کو ہر چیز کا سایہ جانب غرب دراز ہوتا ہے، پھر وہ گھٹنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ نصف النہار کے وقت معدوم یا کالعدم ہوجاتا ہے پھر زورال کے بعد یہی سایہ اسی تدریجی رفتار کے ساتھ مشرق کی جانب میں پھیلنا شروع ہوتا ہے۔ ہر انسان اس دھوپ اور چھاؤں کے فوائد ہر روز حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ یہ سب کچھ آفتاب کے طلوع ہونے پھر بلند ہونے پھر غروب کی طرف مائل ہونے کے لازمی نتائج وثمرات ہیں، لیکن آفتاب کے کرہ کی تخلیق پھر اس کے ایک خاص نظام کے تحت باقی رکھنے کا کام کس نے کیا، یہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا اس کیلئے دل کی آنکھیں اور بصیرت درکار ہے۔
آیت مذکورہ میں یہی بصیرت انسان کو دینا مقصود ہے کہ یہ سایوں کا بڑھنا گھٹنا اگرچہ تمہاری نظروں میں آفتاب سے متعلق ہے مگر اس پر بھی تو غور کرو کہ آفتاب کو اس شان کے ساتھ کس نے پیدا کیا اور اس کی حرکت کو ایک خاص نظام کے اندر کس نے باقی رکھا، جس کی قدرت کاملہ نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ ہی درحقیقت اس دھوپ چھاؤں کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اگر وہ چاہتا تو اس دھوپ چھاؤں کو ایک حالت پر قائم کردیتا جہاں دھوپ ہے وہاں ہمیشہ دھوپ رہتی، جہاں چھاؤں ہے ہمیشہ چھاؤں رہتی مگر اس کی حکمت نے انسانی ضروریات فوائد پر نظر کرکے ایسا نہیں کیا وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا کا یہی مطلب ہے۔
انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے سایہ کے واپس لوٹنے اور گھٹنے کو آیت مذکورہ میں اس عنوان سے تعبیر فرمایا ہے کہ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا، یعنی پھر سایہ کو ہم نے اپنی طرف سمیٹ لیا، یہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور جہت اور سمت سے بالاتر ہے، اس کی طرف سایہ کا سمٹنا، اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس کی قدرت کاملہ سے یہ سب کام ہوا۔
Ayah 25:47رات میں نیند اور دن میں کام کی تخصیصات بھی بڑی حکمت پر مبنی ہیں
وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا، اس آیت میں رات کو لباس کے لفظ سے تعبیر فرمایا کہ جس طرح لباس انسان کے پورے بدن کا ساتر ہے اسی طرح رات ایک قدرتی پردہ کی چادر ہے جو پوری کائنات پر ڈال دی جاتی ہے۔ سباتا، سبت سے مشتق ہے جس کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں۔ سبات وہ چیز ہے جس سے کسی دوسری چیز کو قطع کیا جائے۔
نیند کو اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ہے کہ دن بھر کی محنتوں کا تکان اور کمزوری اس سے قطع ہوجاتی ہے۔ افکار و خیالات منقطع ہو کر دماغ کو آرام ملتا ہے اس لئے سبات کا ترجمہ راحت کا کیا جاتا ہے۔ معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ہم نے رات کو ایک چھپانے والی چیز بنایا پھر اس میں انسان اور سارے جانداروں پر نیند مسلط کردی جو ان کے آرام و راحت کا سامان ہے۔
یہاں کئی چیزیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ نیند کا راحت ہونا بلکہ راحت کی جان ہونا تو ہر شخص جانتا ہے مگر انسانی فطرت یہ ہے کہ روشنی میں نیند آنا مشکل ہوتا ہے اور آبھی جائے تو جلد آنکھ کھل جاتی ہے۔ حق تعالیٰ نے نیند کے مناسب رات کو تاریک بھی بنایا اور ٹھنڈا بھی۔ اسی طرح رات خود ایک نعمت ہے اور نیند دوسری نعمت، اور تیسری نعمت یہ ہے کہ سارے جہان کے انسانوں جانوروں کی نیند ایک ہی وقت رات میں جبری کردی۔ ورنہ اگر ہر انسان کی نیند کے اوقات دوسرے انسان سے مختلف ہوتے تو جس وقت کچھ لوگ سونا چاہتے دوسرے لوگ کاموں میں مصروف اور شور شغب کا سبب بنے رہتے۔ اسی طرح جب دوسروں کے سونے کی باری آتی تو اس وقت کام کرنے والے چلنے پھرنے والے ان کی نیند میں خلل انداز ہوتے۔ اس کے علاوہ ہر انسان کی ہزاروں حاجتیں دوسرے انسانوں سے وابستہ ہوتی ہیں باہمی تعاون و تناصر اور کاموں میں بھی شدید حرج ہوتا کہ جس شخص سے آپ کو کام ہی اس کے سونے کا وقت ہے اور جب اس کے جاگنے کا وقت آئے گا تو آپ کا سونے کا وقت ہوگا۔
اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لئے کسی بین الاقوامی معاہدہ سے کام لیا جاتا کہ سب لوگ اپنے سونے کا وقت ایک ہی مقرر کرلیں، اول تو ایسا معاہدہ اربوں کروڑوں انسانوں میں ہونا آسان نہ تھا پھر اس پر کار بند رکھنے کے لئے ہزاروں محکمے کھولنے پڑتے اس کے باوجود عام قانونی اور معاہداتی طریقوں سے طے ہونے والی چیزوں میں جو خلل ہر جگہ رشوت، رعایت وغیرہ کے سبب پایا جاتا ہے وہ پھر بھی باقی رہتا۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے نیند کا ایک وقت جبری طور پر مقرر کردیا ہے کہ ہر انسان اور ہر جانور کو اسی وقت نیند آتی ہے کبھی کسی ضرورت سے جاگنا بھی چاہے تو اس کے لئے مشکل سے انتظام کرپاتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
اسی طرح وّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا، میں دن کو نشور یعنی زندگی فرمایا کیونکہ اس کا مقابل یعنی نیند ایک قسم کی موت ہے اور اس زندگی کے وقت کو بھی سارے انسانوں میں جبری طور پر ایک کردیا ہے ورنہ کچھ کارخانے اور دکانیں دن کو بند رہتیں، رات کو کھلتیں، اور جب وہ کھلتیں تو دوسری بند ہوجاتیں۔ اس لحاظ سے دونوں میں کاروباری مشکلات پیش آتیں۔
جس طرح رات کو نیند کے لئے مخصوص فرما کر ایک بڑا انعام حق تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح دوسری ضروریات زندگی جو باہم اشتراک چاہتی ہیں ان کے لئے بھی تقریبی طور پر ایسے ہی متحد اور مشترک وقت مقرر کردیئے۔ مثلاً بھوک اور کھانے کی ضرورت صبح شام ایک امر مشترک ہے سب کو ان اوقات میں اس کی فکر ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سب ضروریات کی فراہمی ہر ایک کے لئے آسان ہوجاتی ہیں کھانے کے ہوٹل اور دکانیں ان وقتوں میں تیار کھانے سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر گھر میں یہ اوقات کھانے کی مصروفیت کے لئے متعین ہیں۔ یہ تعیین کی بڑی نعمت ہے جو حق تعالیٰ ہی کی حکمت بالغہ نے فطری طور پر انسان کی طبیعت میں رکھ دی ہے۔
Ayah 25:48وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا، طھور کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ کا صیغہ ہے۔ طہور اس کو کہا جاتا ہے خود بھی پاک ہو اور دوسری چیزوں کو بھی اس سے پاک کیا جاسکے۔ حق تعالیٰ نے پانی کو یہ خاص صفت عطا فرمائی ہے کہ جیسے وہ خود پاک ہے اس سے دوسری ہر قسم کی نجاست حقیقی و معنوی کو بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اور جس پانی کو آدمی استعمال کرتے ہیں وہ عموماً وہی ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے کبھی بارش کی صورت میں کبھی برف اور اولے کی صورت میں۔ پھر وہ ہی پانی پہاڑوں کی رگوں کے ذریعہ قدرتی پائپ لائن کی صورت میں ساری زمین پر پھیلتا ہے جو کہیں خود بخود چشموں کی صورت میں نکل کر زمین پر بہنے لگتا ہے۔ کہیں زمین کھود کر کنویں کی صورت میں نکالا جاتا ہے یہ سب پانی اپنی ذات سے پاک اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا ہے اس پر قرآن و سنت کی نصوص بھی ناطق ہیں اور امت کا اجماع بھی۔
یہ پانی جب تک کثیر مقدار میں ہو، جیسے تالاب، حوض، نہر کا پانی اس میں کوئی نجاست بھی گر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا اس پر بھی سب کا اتفاق ہے بشرطیکہ پانی میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو اور اس کا رنگ ذائقہ، بو متغیر نہ ہو، لیکن تھوڑا پانی ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس مسئلہ میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے اسی طرح پانی کی کثیر و قلیل کی مقدار معین کرنے میں اقوال مختلف ہیں۔ تفسیر مظہری اور قرطبی میں اس جگہ پانی سے متعلق تمام مسائل تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں اور یہ مسائل عام کتب فقہ میں بھی مذکور ہیں اس لئے یہاں نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 25:49وَّنُسْقِيَهٗ مِمَّا خَلَقْنَآ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيْرًا، اناسی، انسی کی جمع ہے اور بعض نے فرمایا کہ انسان کی جمع ہے۔ آیت میں یہ بتلایا ہے کہ آسمان سے نازل کردہ پانی سے اللہ تعالیٰ زمین کو بھی سیراب کرتا ہے اور جانوروں کو بھی اور بہت سے انسانوں کو بھی۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جس طرح جانور سب کے سب اس پانی سے سیراب ہوتے ہیں اسی طرح انسان بھی سبھی اس پانی سے فائدہ اٹھاتے اور سیراب ہوتے ہیں۔ پھر ان میں یہ تخصیص کہ بہت سے انسانوں کو سیراب کیا اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ بہت سے انسان اس سیرابی سے محروم اور الگ ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں بہت سے انسانوں سے وہ جنگل کے رہنے والے لوگ مراد ہیں جن کا عموماً گزارہ بارش کے پانی پر ہوتا ہے۔ شہری آبادی والے تو نہروں کے کناروں پر کنوؤں کے قریب آباد ہوتے ہیں بارش کے منتظر نہیں رہتے۔
Ayahs 25:50–51وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ ، مطلب آیت کا یہ ہے کہ بارش کو ہم بدلتے اور پھیرتے رہتے ہیں کبھی ایک شہر میں کبھی دوسرے میں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جو لوگوں میں شہرت ہوتی ہے کہ اس سال بارش زیادہ ہے اس سال کم ہے یہ حقیقت کے اعتبار سے صحیح نہیں بلکہ بارش کا پانی تو ہر سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکساں نازل ہوتا ہے البتہ حکم الٰہی یہ ہوتا رہتا ہے کہ اس کی مقدار کسی شہر بستی میں زیادہ کردی کسی میں کم کردی۔ بعض اوقات کمی کرکے بستی کے لوگوں کو سزا دینا اور متنبہ کرنا ہوتا ہے اور بعض اوقات زیادتی بھی عذاب بن جاتی ہے۔ تو یہی پانی جو خالص رحمت ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہیں ان کے لئے اسی کو عذاب اور سزا بنادیا جاتا ہے۔
Ayah 25:52جہاد بالقرآن یعنی قرآن کی دعوت کو پھیلانا جہاد کبیر ہے
وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا، یہ آیت مکی ہے جبکہ احکام کفار سے قتال و جنگ کے نازل نہیں ہوئے تھے اسی لئے یہاں جہاد کو بہ کے ساتھ مقید کیا گیا، بہ کی ضمیر تو قرآن کی طرف راجع ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کے ذریعہ مخالفین اسلام سے جہاد کرو بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ اس جہاد کا حاصل اس کے احکام کی تبلیغ اور خلق خدا کو اس کی طرف توجہ دینے کی ہر کوشش ہے خواہ زبان سے ہو یا قلم سے دوسرے طریقوں سے اس سب کو یہاں جہاد کبیر فرمایا ہے۔
Ayah 25:53وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا، لفظ مرج آزاد چھوڑ دینے کے معنے میں آتا ہے اسی وجہ سے مرج چراگاہ کو کہتے ہیں جہاں جانور آزادی سے چلیں پھریں اور چریں۔ عذب میٹھے پانی کو کہا جاتا ہے۔ فرات خوش ذائقہ اور خوشگوار ملح نمکین اجاج تیز وتلخ۔
حق تعالیٰ نے اپنے فضل اور حکمت بالغہ سے دنیا میں دو طرح کے دریا پیدا فرمائے ہیں۔ ایک سب سے بڑا بحر محیط جس کو سمندر کہتے ہیں اور زمین کے سب اطراف اس میں گھرے ہوئے ہیں ایک چوتھائی کے قریب حصہ ہے جو اس سے کھلا ہوا ہے اس میں ساری دنیا آباد ہے۔ یہ سب سے بڑا دریا بتقاضائے حکمت سخت نمکین تلخ اور بدمزہ ہے۔ زمین کے آباد حصے پر آسمان سے اتارے ہوئے پانی کے چشمے، ندیاں نہریں اور بڑے بڑے دریا ہیں یہ سب میٹھے خوشگوار اور خوش ذائقہ ہیں۔ انسان کو اپنے پینے اور پیاس بجھانے اور روز مرہ کے استعمال میں ایسے ہی شیریں پانی کی ضرورت ہے جو حق تعالیٰ نے زمین کے آباد حصہ میں مختلف صورتوں میں مہیا فرما دیا ہے۔ لیکن بحر محیط سمندر اگر میٹھا ہوتا تو میٹھے پانی کا خاصہ ہے کہ بہت جلد سڑ جاتا ہے۔ خصوصاً سمندر جس میں خشکی کی آبادی سے زیادہ دریائی انسانوں جانوروں کی آبادی بھی ہے جو اس میں مرتے ہیں وہیں سڑتے اور مٹی ہوجاتے ہیں اور پوری زمین کے پانی اور اس میں بہنے والی ساری گندگیاں بھی بالآخر سمندر میں جاکر پڑتی ہیں۔ اگر یہ پانی میٹھا ہوتا تو دو چار دن میں ہی سڑ جاتا۔ اور یہ سڑتا تو اس کی بدبو سے زمین والوں کو زمین پر رہنا مصیبت ہوجاتا۔ اس لئے حکمت خداوندی نے اس کو اتنا سخت نمکین اور کڑوا اور تیز بنادیا کہ دنیا بھر کی گندگیاں اس میں جا کر بھسم ہوجاتی ہیں اور خود اس میں رہنے والی مخلوق بھی جو اسی میں مرتی ہے وہ بھی سڑنے نہیں پاتی۔
آیت مذکورہ میں ایک تو اس انعام و احسان کا ذکر ہے کہ انسان کی ضرورت کا لحاظ فرما کردو قسم کے دریا پیدا فرمائے۔ دوسرے اس قدرت کاملہ کا کہ جس جگہ میٹھے پانی کا دریا نہر سمندر میں جاکر گرتے ہیں اور میٹھا اور کڑوا دونوں پانی یکجا ہوجاتے ہیں وہاں یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ دونوں پانی میلوں دور تک اس طرح ساتھ لگے ہوئے چلتے ہیں کہ ایک طرف میٹھا، دوسری طرف کڑوا اور ایک دوسرے سے نہیں ملتے، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کوئی آڑ حائل نہیں ہوتی۔
Ayahs 25:54–56وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا، نسب اس رشتہ اور قرابت کو کہا جاتا ہے جو باپ یا ماں کی طرف سے ہو، اور صہر وہ رشتہ وتعلق ہے جو بیوی کی طرف سے ہو جس کو عرف میں سسرال بولتے ہیں۔ یہ سب تعلقات اور قرابتیں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں جو انسان کو خوشگوار زندگی کے لئے لازمی ہیں، اکیلا آدمی کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔
Ayahs 25:57–58قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا، یعنی تمہیں ایمان کی دعوت اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے اور دنیا وآخرت میں تمہارے لئے فلاح کی کوشش کرنے میں میرا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ میں اپنی اس محنت کا تم سے کوئی اجر و معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا فائدہ اس کے سوا نہیں کہ جس کا جی چاہے اللہ کا راستہ اختیار کرلے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص راہ پر آجاوے تو فائدہ اسی کا ہے اس کو اپنا فائدہ قرار دینا پیغمبرانہ شفقت کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے فائدہ ہی کو اپنا فائدہ سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی بوڑھا ضعیف باپ اولاد کو کہے کہ تم کھاؤ پیو اور خوش رہو، یہی میرا کھانا پینا اور خوش رہنا ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کو اپنا فائدہ اس لحاظ سے فرمایا ہو کہ اس کا ثواب آپ کو ملے گا جیسا کہ احادث صحیحہ میں آیا ہے کہ جو شخص کسی کو نیک کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور وہ اس کے کہنے کے مطابق نیک عمل کرے تو اس کے عمل کا ثواب خود کرنے والے کو بھی پورا پورا ملے گا اور اتنا ہی ثواب ہدایت کرنے والے شخص کو بھی ملے گا۔ (مظہری)
Ayah 25:59فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا، یعنی آسمانوں زمینوں کو پیدا کرنا پھر اپنی شان کے مطابق ان پر جلوہ افروز ہونا سب اللہ رحمن کا کام ہے اس کی تصدیق و تحقیق مطلوب ہو تو کسی باخبر سے پوچھیے، باخبر سے مراد حق تعالیٰ یا جبریل امین ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ کے علماء ہوں جن کو اپنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس معاملہ کی اطلاع ملی ہے۔ (مظہری)
Ayah 25:60قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ، لفظ رحمن عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی سب عرب جانتے تھے مگر یہ لفظ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہ بولتے تھے اسی لئے یہاں یہ سوال کیا کہ رحمن کون اور کیا ہے۔