24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد، اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ کی حکومت ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہی تک پھرجانا ہے

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تجھ کو (دلائل اور مشاہدہ سے) معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (خواہ قالاً جو بعض مخلوقات میں مشاہد بھی ہے خواہ حالاً جو کل مخلوقات میں بدلالت عقل معلوم ہے) اور (بالخصوص) پرند (بھی) جو پر پھیلاے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں (کہ ان کی دلالت علی وجود الصانع اور زیادہ عجیب ہے کہ باوجود ان کے ثقل اجسام کے پھر فضاء میں رکے ہوئے ہیں اور) سب (پرندوں) کو اپنی اپنی دعا (اور التجاء اللہ سے) اور اپنی تسبیح (و تقدیس کا طریقہ الہام سے) معلوم ہے اور (باوجود ان دلائل کے پھر بھی بعضے توحید کو نہیں مانتے تو) اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے (اس انکار و اعراض پر ان کو سزا دے گا) اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں (اب بھی) اور (انتہا میں) اللہ ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے (اس وقت بھی حاکمانہ تصرف اسی کا ہوگا چناچہ حکومت کا ایک اثر بیان کیا جاتا ہے وہ یہ کہ اے مخاطب) کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ (ایک) بادل کو (دوسرے بادل کی طرف) چلتا کرتا ہے (اور) پھر اس بادل (کے مجموعہ) کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہ بہ تہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس (بادل) کے بیچ میں سے نکل (نکل کر) آتی ہے اور اس بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں میں سے اولے برساتا ہے پھر ان کو جس (کی جان پر یا مال) پر چاہتا ہے گراتا ہے (کہ اس کا نقصان ہوجاتا ہے) اور جس سے چاہتا ہے اس کو ہٹا دیتا ہے (اور اس کے جان و مال کو بچا لیتا ہے اور) اس بادل (میں سے بجلی بھی پیدا ہوتی ہے اور ایسی چمکدار کہ اس بادل) کی بجلی کی چمک کی یہ حالت ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس نے اب بینائی کو اچک لیا (یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے تصرفات میں سے ہے اور) اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے (یہ بھی منجملہ تصرفات الہیہ کے ہے) اس (سب مجموعہ) میں اہل دانش کے لئے استدلال (کا موقع) ہے (جس سے مضمون توحید اور مضمون لہ ملک السموت والارض پر استدلال کرتے ہیں) اور اللہ (ہی کا یہ تصرف بھی ہے کہ اس) نے ہر چلنے والے جاندار کو (بری ہو یا بحری) پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان (جانوروں) میں بعضے تو وہ (جانور) ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں (جیسے سانپ مچھلی) اور بعضے ان میں وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں (جیسے انسان اور پرندے جبکہ ہوا میں نہ ہوں) اور بعضے ان میں وہ جو چارے (پیروں) پر چلتے ہیں (جیسے مواشی، اسی طرح بعضے زیادہ پر بھی اصل یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے بناتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پورا قادر ہے (اس کو کچھ بھی مشکل نہیں۔) معارف و مسائل كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ ، شروع آیت میں یہ فرمایا ہے کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر مخلوق اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تبسح و تقدیس کرنے میں مشغول ہے۔ اس تسبیح کا مفہوم حضرت سفیان نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز آسمان، زمین، آفتاب و ماہتاب اور کل سیارے اور ستارے اور زمین کے عناصر آگ، پانی، مٹی، ہوا سب کو خاص خاص کاموں کے لئے پیدا فرمایا ہے اور جس کو جس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے وہ برابر اس پر لگا ہوا ہے اس سے سر مو خلاف نہیں کرتا۔ اسی اطاعت وانقیاد کو ان چیزوں کی تسبیح فرمایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان کی تسبیح حالی ہے مقالی نہیں۔ ان کی زبان حال بول رہی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو پاک و برتر سمجھ کر اس کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ زمحشری اور دوسرے مفسرین نے فرمایا کہ اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے اندر اتنا فہم و شعور رکھا ہو جس سے وہ اپنے خالق ومالک کو پہچانے اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ ان کسی خاص قسم کی گویائی عطا فرمائی ہو اور خاص قسم کی تسبیح و عبادت ان کو سکھا دی ہو جس میں وہ مشغول رہتے ہیں آخری جملے كُلٌّ قَدْ عَلِمَ میں اسی مضمون کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور نماز میں ساری مخلوق لگی ہوئی ہے مگر ہر ایک کی نماز اور تسبیح کا طریقہ اور صورت مختلف ہے۔ فرشتوں کا اور طریقہ، انسان کا دوسرا، اور نباتات کسی اور طرح سے عبادت نماز و تسبیح ادا کرتے ہیں جمادات کسی اور طریق سے، قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے بھی اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے جس میں ارشاد ہے (آیت) اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کو ہدایت دی۔ وہ ہدایت یہی ہے کہ وہ ہر وقت حق تعالیٰ کی اطاعت میں لگی ہوئی اپنی مفوضہ ڈیوٹی کو پورا کر رہی ہے اس کے علاوہ اس کی اپنی ضروریات زندگی کے متعلق بھی اس کو ایسی ہدایت دے دی ہے کہ بڑے بڑے عقلاء کی عقل حیران ہوجاتی ہے۔ اپنے رہنے بسنے کے لئے کیسے کیسے گھونسلے اور بل وغیرہ بناتے ہیں اور اپنی غذا وغیرہ حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی تدبیریں کرتے ہیں۔
Ayahs 24:43–45

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کہ اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر ان کو ملا دیتا ہے پھر ان کو رکھتا ہے تہ بر تہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے ابھی اس کی بجلی کی کوند لے جائے آنکھوں کو

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ بدلتا ہے رات اور دن کو اس میں دھیان کرنے کی جگہ ہے آنکھ والوں کو

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا ہر پھرنے والے کو ایک پانی سے پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے۔

مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا یہاں سماء سے مراد بادل ہے اور جبال سے مراد بڑے بڑے بادل ہیں اور برد اولے کو کہا جاتا ہے۔
Ayahs 24:46–49

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے اتاریں آیتیں کھول کھول کر بتلانے والی، اور اللہ چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور لوگ کہتے ہیں ہم نے مانا اللہ کو اور رسول کو اور حکم میں آگئے پھر پھرجاتا ہے ایک فرقہ ان میں سے اس کے پیچھے اور وہ لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو بلایئے اللہ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکایئے تب ہی ایک فرقہ کے لوگ ان میں منہ موڑتے ہیں

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو تو چلے آئیں اس کی طرف قبول کر کر

خلاصہ تفسیر ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل (ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو اور صاحب حق اس منافع سے درخواست کرے کہ چلو جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے چلیں اس موقع پر یہ سرتابی کرتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ آپ کے اجلاس میں جب حق ثابت ہوجاوے گا تو اسی کے موافق آپ فیصلہ کریں گے جیسا عنقریب آیت وَاِذَا دُعُوْٓا میں اس موقع کا یہی بیان آتا ہے اور تخصیص ایک فریق کی باوجودیکہ تمام منافقین ایسے ہی تھے اس لئے ہے کہ غریب غرباء کو باوجود کراہت قلبی کے صاف انکار کرنے کی جرأت و ہمت نہیں ہوا کرتی یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کو کچھ وجاہت اور قوت حاصل ہو) اور یہ لوگ بالکل ایمان نہیں رکھتے (یعنی دل میں تو کسی منافق کے بھی ایمان نہیں مگر ان کا تو وہ ظاہری ملمع شدہ ایمان بھی نہ رہا جیسا اس آیت میں ہے وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ اور اس آیت میں ہے قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ اور بیان اس حکم عدولی کا یہ ہے کہ) یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کے (اور ان کے خصوم کے) درمیان میں فیصلہ کردیں تو ان میں کا ایک گروہ (وہاں حاضر ہونے سے) پہلو تہی کرتا ہے (اور ٹالتا ہے اور یہ بلانا اگرچہ رسول ہی کی طرف ہے مگر چونکہ آپ کا فیصلہ حکم خداوندی کی بناء پر ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھی نسبت کردی گئی غرض جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہے تب تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے) اور اگر (اتفاق سے) ان کا حق (کسی دوسرے کے ذمہ ہو) تو سر تسلیم خم کئے ہوئے (بےتکلف آپ کے بلانے پر) آپ کے پاس چلے آتے ہیں (کیونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہاں حق کا فیصلہ ہوگا اس میں ہمارا فائدہ ہے۔ آگے ان لوگوں کے اعراض اور حاضر نہ ہونے کی وجہ و اسباب چند احتمالات کے طور پر بیان کر کے اور سب احتمالات کی نفی اور ایک احتمال کا اثبات ہے) آیا (اس اعراض کا سبب یہ ہے کہ) ان کے دلوں میں (کفر یقینی کا) مرض ہے (یعنی ان کو اس کا یقین ہے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں) یا یہ (نبوت کی طرف سے) شک میں پڑے ہیں (کہ رسول نہ ہونے کا یقین تو نہیں مگر رسول ہونے کا بھی یقین نہیں) یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرنے لگیں (اور ان کے ذمہ جو حق ہے اس سے زائد دلا دیں، سو واقعہ یہ ہے کہ ان اسباب میں سے کوئی بھی سبب) نہیں (ہے) بلکہ (اصلی سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ (ان مقدمات میں) برسر ظلم (ہوتے) ہیں (اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے کہ ہم ہار جاویں گے اور باقی اسباب سابقہ سب منفی ہیں) مسلمانوں (کی شان اور ان) کا قول تو جب ان کو (کسی مقدمہ میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے یہ ہے کہ وہ (خوشی خوشی) کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے (تمہارا کلام) سن لیا اور (اس کو) مان لیا (اور پھر فوراً چلے جاتے ہیں یہ ہے علامت اس کی کہ ایسوں کا آمنا اور اطعنا کہنا دنیا میں بھی صادق ہے) اور ایسے (ہی) لوگ (آخرت میں میں بھی) فلاح پائیں گے اور (ہمارے یہاں کا تو قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے بس ایسے لوگ بامراد ہوں گے اور (نیز ان منافقین کی یہ حالت ہے کہ) وہ لوگ بڑا زور لگا کر قسمیں کھایا کرتے ہیں کہ واللہ (ہم ایسے فرمانبردار ہیں کہ) اگر آپ ان کو (یعنی ہم کو حکم دیں (کہ گھر بار سب چھوڑ دو) تو وہ (یعنی ہم) ابھی (سب چھوڑ چھاڑ) نکل کھڑے ہوں آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) فرمانبرداری کی حقیقت معلوم ہے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے (اور اس نے مجھ کو بتلا دیا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤ ْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ اور) آپ (ان سے) کہئے کہ (باتیں بنانے سے کام نہیں چلتا کام کرو یعنی) اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو (آگے اللہ تعالیٰ اہتمام شان مضمون کے واسطے خود ان لوگوں کو خطاب فرماتا ہے کہ رسول کے اس کہنے کے اور تبلیغ کے بعد) پھر اگر تم لوگ (اطاعت سے) روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ (رسول کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ) رسول کے ذمہ وہی تبلیغ (کا کام) ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے۔ (جس کو وہ کرچکے اور سبکدوش ہوگئے) اور تمہارے ذمہ وہ (اطاعت کا کام) ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے (جس کو تم نہیں بجا لائے پس تمہارا ہی ضرر ہوگا) اور اگر (روگردانی نہ کی بلکہ) تم نے ان کی اطاعت کرلی (جو عین اطاعت اللہ ہی کی ہے) تو راہ پر جا لگو گے اور (بہرحال) رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (آگے تم سے باز پرس ہوگی کہ قبول کیا یا نہیں۔)
Ayahs 24:50–51

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں روگ ہے یا دھوکے پڑے ہوئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ بےانصافی کرے گا ان پر اللہ اور اس کا رسول کچھ نہیں وہی لوگ بےانصاف ہیں

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات یہی تھی کہ جب بلایئے ان کو اللہ اور رسول کی طرف فیصلہ کرنے کو ان میں تو کہیں ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور وہ لوگ کہ انہی کا بھلا ہے

معارف و مسائل یہ آیات ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ طبری وغیرہ نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص بشر نامی تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کے متعلق جھگڑا اور خصومت تھی۔ یہودی نے اس کو کہا کہ چلو تمہارے ہی رسول سے ہم فیصلہ کرا لیں مگر بشر منافق ناحق پر تھا یہ جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس مقدمہ گیا تو آپ حق کے موافق فیصلہ کریں گے اور میں ہار جاؤں گا اس نے اس سے انکار کیا اور آنحضرت ﷺ کے بجائے کعب بن اشرف یہودی کے پاس مقدمہ لے جانے کو کہا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آیت اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ الآیتہ میں جو ان کے دلوں میں کفر یقینی کا مرض یا نبوت میں شک ہونے کی نفی کی گئی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ یہ کفر یقینی یا شک ان کے دربار نبوی میں مقدمہ لانے سے گریز کرنے کا سبب نہیں اگرچہ کفر و شک کا ہونا منافقین میں ثابت اور واضح ہے مگر مقدمہ نہ لانا اصل میں اس سبب سے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حق کا فیصلہ ہوگا تو ہم ہار جائیں گے۔
Ayahs 24:52–54

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور ڈرتا رہے اللہ سے اور بچ کر چلے اس سے سو وہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تو حکم کرے تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ حکمبرداری چاہئے جو دستور ہے، البتہ اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا اور اگر اس کا کہا مانو راہ پاؤ، اور پیغام لانے والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر۔

فوز و فلاح کے لئے چار شرطیں وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ اس آیت میں چار چیزیں بیان کر کے فرمایا ہے کہ جو ان چار چیزوں کے پابند ہیں وہ ہی بامراد اور دین و دنیا میں کامیاب ہیں۔ ایک واقعہ عجیبہ تفسیر قرطبی میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت فاروق اعظم کا نقل کیا جس سے ان چاروں چیزوں کے مفہوم کا فرق اور وضاحت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے اچانک ایک رومی دہقانی آدمی بالکل آپ کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا انا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ، حضرت فاروق اعظم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو کہا میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا ہوں۔ حضرت فاروق اعظم نے پوچھا کیا اس کا کوئی سبب ہے اس نے کہا ہاں۔ بات یہ ہے کہ میں نے تورات، انجیل، زبور اور انبیاء سابقین کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر حال میں ایک مسلمان قیدی قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا وہ سنی تو معلوم ہوا کہ اس چھوٹی سی آیت نے تمام کتب قدیمہ کو اپنے اندر سمو لیا ہے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ فاروق اعظم نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے ؟ تو اس رومی دہقان نے یہی آیت مذکورہ تلاوت کی اور اس کے ساتھ اس کی تفسیر بھی عجیب و غریب اس طرح بیان کی کہ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ فرائض الہیہ کے متعلق ہے۔ وَرَسُوْلَهٗ سنت نبوی کے متعلق ہے وَيَخْشَ اللّٰهَ گزشتہ عمر کے متعلق ہے وَيَتَّقْهِ آئندہ باقی عمر کے متعلق ہے۔ جب انسان ان چار چیزوں کا عامل ہوجائے تو اس کو اولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ کی بشارت ہے اور فائزہ وہ شخص ہے جو جہنم سے نجات پائے اور جنت میں اس کو ٹھکانا ملے۔ فاروق اعظم نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ (کے کلام میں اس کی تصدیق موجود ہے آپ) نے فرمایا ہے اوتیت جوامع الکلم یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے جامع کلمات عطا فرمائے ہیں جن کے الفاظ مختصر اور معانی نہایت وسیع ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

وعدہ کرلیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں انہوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا ان کو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو اور جما دے گا ان کے لئے دین ان کا جو پسند کردیا ان کے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے میں امن، میری بندگی کریں گے شریک نہ کریں گے میرا کسی کو اور جو کوئی ناشکری کرے گا اس کے پیچھے سو وہی لوگ ہیں نافرمان

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰة اور حکم پر چلو رسول کے تاکہ تم پر رحم ہو

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

نہ خیال کر کہ یہ جو کافر ہیں تھکا دیں گے بھاگ کر ملک میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ بری جگہ ہے پھرجانے کی۔

خلاصہ تفسیر (اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں (یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے نور ہدایت کا کامل اتباع کریں) ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرماوے گا جیسا ان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی (مثلاً بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں پر غالب کیا پھر ملک شام میں عمالقہ جیسی بہادر قوم پر ان کو غلبہ عطا فرمایا اور مصر و شام کی حکومت کا ان کو وارث بنایا) اور (مقصود اس حکومت دینے سے یہ ہوگا کہ) جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے) ان کے لئے پسند کیا ہے (یعنی اسلام جیسا کہ دوسری آیت میں ہے رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) اس کو ان کے (نفع آخرت کے) لئے قوت دے گا اور (ان کو جو دشمنوں سے طبعی خوف ہے) ان کے اس خوف کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں (اور) میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں (نہ جلی نہ خفی جس کو ریاء کہتے ہیں۔ یعنی یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کا مشروط ہے دین پر پوری طرح ثابت قدم رہنے کے ساتھ اور یہ وعدہ تو دنیا میں ہے اور آخرت میں ایمان اور عمل صالح پر جو جزائے عظیم اور دائمی راحت کا وعدہ ہے وہ اس کے علاوہ ہے) اور جو شخص بعد (ظہور) اس (وعدہ) کے ناشکری کرے گا (یعنی دین کے خلاف راستہ اختیار کرے گا) تو (ایسے شخص کے لئے یہ وعدہ نہیں کیونکہ) یہ لوگ نافرمان ہیں (اور وعدہ تھا فرمانبرداروں کے لئے اس لئے ان سے دنیا میں بھی وعدہ حکومت دینے کا نہیں ہے اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے) اور (اے مسلمانو جب ایمان اور عمل صالح کے دنیوی اور دینی فوائد سن لئے تو تم کو چاہئے کہ خوب) نماز کی پابندی رکھو اور زکوة دیا کرو اور (باقی احکام میں بھی) رسول ﷺ کی اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر (کامل) رحم کیا جائے (آگے کفر و معصیت کا انجام ذکر کیا گیا ہے کہ اے مخاطب) کافروں کی نسبت یہ خیال مت کرنا کہ زمین (کے کسی حصہ) میں (بھاگ جاویں گے اور ہم کو) ہرا دیں گے (اور ہمارے قہر سے بچ جاویں گے نہیں بلکہ وہ خود ہاریں گے اور مقہور و مغلوب ہوں گے۔ یہ تو نتیجہ دنیا میں ہے) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ معارف و مسائل شان نزول قرطبی نے ابوالعالیہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نزول وحی اور اعلان نبوت کے بعد دس سال مکہ مکرمہ میں رہے تو ہر وقت کفار و مشرکین کے خوف میں رہے پھر ہجرت مدینہ کا حکم ہوا تو یہاں بھی مشرکین کے حملوں سے ہر وقت کے خطرہ میں رہے کسی شخص نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ کبھی ہم پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم ہتھیار کھول کر امن و اطمینان کے ساتھ رہ سکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت جلد ایسا وقت آنے الا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (قرطبی و بحر) حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا وعد ہے۔ جو اس نے امت محمدیہ سے ان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی تورات و انجیل میں فرمایا تھا۔ (بحر محیط) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا کہ آپ کی امت کو زمین کے خلفاء اور حکمراں بنایا جائے گا اور اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو غلاب کیا جائے گا اور مسلمانوں کو اتنی قوت و شوکت دی جائے گی کہ ان کو دشمنوں کا کوئی خوف نہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ اس طرح پورا فرما دیا کہ خود آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں مکہ، خیبر، بحرین اور پورا جزیرة العرب اور پورا ملک یمن آنحضرت ﷺ ہی کے ذریعہ فتح ہوا اور ہجر کے مجوسیوں سے اور ملک شام کے بعض اطراف سے آپ نے جزیہ وصول فرمایا اور شاہ روم ہرقل نے اور شاہ مصر و اسکندریہ مقوقس اور شاہان عمان اور بادشاہ حبشہ نجاشی وغیرہ نے آنحضرت ﷺ کو ہدایا بھیجے اور آپ کی تعظیم و تکریم کی۔ پھر آپ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر ابوبکر خلیفہ ہوئے تو وفات کے بعد جو کچھ فتنے پیدا ہوگئے تھے ان کو ختم کیا اور بلا وفارس اور بلاد شام و مصر کی طرف اسلامی لشکر بھیجے اور بصری اور دمشق آپ ہی کے زمانے میں فتح ہوئے اور دوسرے ملکوں کے بھی بعض حصے فتح ہوئے۔ حضرت صدیق اکبر کی وفات کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اپنے بعد عمر بن خطاب کو خلیفہ بنانے کا الہام فرمایا۔ عمر بن خطاب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے نظام خلافت ایسا سنبھالا کہ آسمان نے انبیاء (علیہم السلام) کے بعد ایسا نظام کہیں نہ دیکھا تھا ان کے زمانے میں ملک شام پورا فتح ہوگیا اسی طرح پورا ملک مصر اور ملک فارس کا اکثر حصہ انہیں کے زمانے میں قیصر و کسری کی قیصری اور کسروی کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد خلافت عثمانی کا وقت آیا تو اسلامی فتوحات کا دائرہ مشارق و مغارب تک وسیع ہوگیا۔ بلاد مغرب، اندلس اور قبرص تک اور مشرق اقصی میں بلاد چین تک اور عراق، حراسان اہواز سب آپ کے زمانے میں فتح ہوئے اور صحیح حدیث میں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے پوری زمین کے مشارق و مغارب سمیٹ کر دکھائے گئے ہیں اور میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں تک پہنچے گی جو مجھے دکھائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ خلافت عثمانیہ کے دور ہی میں پورا فرما دیا (یہ سب مضمون تفسیر ابن کثیر سے لیا گیا ہے۔) اور ایک حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی اس کی مراد خلافت راشدہ ہے جو بالکل نبی کریم ﷺ کے نقش قدم پر قائم رہی اور حضرت علی مرتضی تک چلی کیونکہ یہ تیس سال کی مدت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے تک پوری ہوئی۔ ابن کثیر نے اس جگہ صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میری امت کا کام چلتا رہے گا جب تک بارہ خلیفہ رہیں گے۔ ابن کثیر نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ حدیث بارہ خلیفہ عادل اس امت میں ہونے کی خبر دے رہی ہے جس کا وقوع ضرروی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب مسلسل اور متصل ہی ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ کچھ وقفوں کے بعد ہوں۔ ان میں سے چار تو یکے بعد دیگرے ہوچکے جو خلفاء راشدین تھے پھر کچھ وقفہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز ہوئے ان کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ایسے خلیفہ ہوتے رہے اور تاقیامت رہیں گے آخری خلیفہ حضرت مہدی ہوں گے۔ روافض نے جن بارہ خلفاء کو متعین کیا ہے اس کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں بلکہ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جن کا خلافت سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان سب کے درجات برابر ہوں اور سب کے زمانے میں امن و سکون دنیا کا یکساں ہو۔ بلکہ اس وعدہ کا مدار ایمان و عمل صالح پر استقامت اور مکمل اتباع پر ہے اس کے درجات کے اختلاف سے حکومت کی نوعیت و قوت میں بھی فرق و اختلاف لازمی ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں جب اور جہاں کوئی مسلمان عادل اور صالح بادشاہ ہوا ہے اس کو اپنے عمل و صلاح کے پیمانے پر اس وعدہ الہیہ کا حصہ ملا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ یعنی اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی۔ آیت مذکورہ سے خلفاء راشدین کی خلافت اور مقبولیت عند اللہ کا ثبوت یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل بھی ہے کیونکہ جو پیش گوئی اس آیت میں فرمائی گئی تھی وہ بالکل اسی طرح پوری ہوئی۔ اسی طرح یہ آیت حضرات خلفاء راشدین کی خلافت کے حق و صحیح اور مقبول عنداللہ ہونے کی بھی دلیل ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ اپنے رسول اور اس کی امت سے فرمایا تھا اس کا پورا پورا ظہور انہیں حضرات کے زمانے میں ہوا۔ اگر ان حضرات کی خلافت کو حق و صحیح نہ مانا جائے جیسے روافض کا خیال ہے تو پھر قرآن کا یہ وعدہ یہ کہیں پورا نہیں ہوا اور روافض کا یہ کہنا کہ یہ وعدہ حضرت مہدی کے زمانے میں پورا ہوگا ایک مضحکہ خیز چیز ہے اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ چودہ سو برس تو پوری امت ذلت و خواری میں رہے گی اور قرب قیامت میں جو چند روز کے لئے ان کو حکومت ملے گی وہی حکومت اس وعدہ سے مراد ہے معاذ اللہ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وعد اللہ تعالیٰ نے جن شرائط ایمان و عمل صالح کی بنیاد پر کیا تھا وہ شرائط بھی انہیں حضرات میں سب سے زیادہ کامل و مکمل تھیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا پورا انہیں کے عہد میں پورا ہوا ان کے بعد نہ ایمان و عمل کا وہ درجہ قائم رہا نہ خلافت و حکومت کا وہ وقار کبھی قائم ہوا۔ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، لفظ کفر کے لغوی معنے ناشکری کے اور اصطلاحی معنے ایمان کی ضد ہیں۔ یہاں لفظی معنے بھی مراد ہو سکتے ہیں اور اصطلاحی بھی، معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ اپنا یہ وعدہ پورا کر دے، مسلمانوں کو حکومت قوت اور امن وا طمینان اور دین کو استحکام حاصل ہوجائے اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کرے یعنی اسلام سے پھرجائے یا ناشکری کرے کہ اس اسلامی حکومت کی اطاعت سے گریز کرے تو ایسے لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں۔ پہلی صورت میں ایمان ہی سے نکل گئے اور دوسری صورت میں اطاعت سے نکل گئے کفر اور ناشکری ہر وقت ہر حال میں گناہ عظیم ہے مگر اسلام اور مسلمانوں کی قوت و شوکت اور حکومت قائم ہونے کے بعد یہ چیزیں دوہرے جرم ہوجاتی ہیں اس لئے بَعْدَ ذٰلِكَ سے موکد فرمایا گیا۔ امام بغوی نے فرمایا کہ علماء تفسیر نے کہا ہے کہ قرآن کے اس جملے کے سب سے پہلے مصداق وہ لوگ ہوئے جنہوں نے خلیفہ وقت حضرت عثمان غنی کو قتل کیا اور جب وہ اس جرم عظیم کے مرتکب ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے مذکورہ انعامات میں بھی کمی آگئی آپس کے قتل و قتال سے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے اور بعد اس کے کہ سب آپس میں بھائی بھائی تھے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن سلام کا یہ خطبہ نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرت عمثان کے خلاف ہنگامہ کے وقت دیا تھا۔ خطبہ کے الفاظ یہ ہیں۔ " اللہ کے فرشتے تمہارے شہر کے گرد احاطہ کئے ہوئے حفاظت میں اس وقت سے مشغول تھے جب سے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری تھا۔ خدا کی قسم اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو یہ فرشتے واپس چلے جاویں گے اور پھر کبھی نہ لوٹیں گے۔ خدا کی قسم تم میں سے جو شخص ان کو قتل کر دے گا وہ اللہ کے سامنے دست بریدہ حاضر ہوگا اس کے ہاتھ نہ ہوں اور سمجھ لو کہ اللہ کی تلوار اب تک میان میں تھی، خدا کی قسم اگر وہ تلوار میان سے نکل آئی تو پھر کبھی میان میں نہ جاوے گی۔ کیونکہ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ستر ہزار آدمی مارے جاتے ہیں اور جب کسی خلیفہ کو قتل کیا جاتا ہے تو پینتیس ہزار آدمی مارے جاتے ہیں۔“ (مظہری) چنانچہ قتل عثمان غنی سے جو باہمی خونریزی کا سلسلہ شروع ہوا تھا امت میں چلتا ہی رہا ہے اور جیسے اللہ تعالیٰ کی نعمت استخلاف اور استحکام دین کی مخالفت اور ناشکری قاتلان عثمان نے کی تھی ان کے بعد روافض اور خوارج کی جماعتوں نے خلفاء راشدین کی مخالفت میں گروہ بنا لئے۔ اسی سلسلے میں حضرت حسین بن علی کی شہادت کا عظیم حادثہ پیش آیا۔ نسال اللہ الھدایۃ و شکر نعمتہ
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اجازت لے کر آئیں تم سے جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے یہ تین وقت بدن کھلنے کے ہیں تمہارے، کچھ تنگی نہیں تم پر اور نہ ان پر ان وقتوں کے پیچھے، پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے کے پاس یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے ،

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب پہنچیں لڑکے تم میں کے عقل کی حد کو تو ان کو ویسی ہی اجازت لینی چاہئے جیسے لیتے رہے ہیں ان سے اگلے، یوں کھول کر سناتا ہے اللہ تم کو اپنی باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے ،

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (تمہارے پاس آنے کے لئے) تمہاری مملوکوں کو اور جو تم میں حد بلوغ کو نہیں پہنچے ان کو تین وقتوں میں اجازت لینا چاہئے (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے) جب دوپہر کو (سونے لیٹنے کیلئے) اپنے (5 ائد) کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے) نماز عشاء کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں (یعنی یہ اقوات چونکہ عام عادت کے مطابق تخلیہ اور آرام کے ہیں، جس میں آدمی بےتکلفی سے رہنا چاہتا ہے اور تنہائی میں کسی قوت اعضائے مستورہ بھی کھل جاتے ہیں، یا کسی ضرورت سے کھولے جاتے ہیں اس لئے اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں کو اور اپنے نابالغ بچوں کو سمجھاو کہ بےاطلاع اور بغیر اجازت لئے ہوئے ان اوقات میں تمہارے پاس نہ آیا کریں اور) ان اوقات کے علاوہ نہ (تو بلا اجازت آنے دینے اور منع نہ کرنے میں) تم پر کوئی الزام ہے اور نہ (بلا اجازت چلے آنے میں) ان پر کچھ الزام ہے (کیونکہ) وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس (پس ہر وقت اجازت لینے میں تکلیف ہے اور چونکہ یہ وقت پردے کے نہیں ہیں اس لئے ان میں اپنے اعضاء مستورہ کو چھپائے رکھنا کچھ مشکل نہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے (اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے اور جس وقت تم میں کے (یعنی احرار میں کے) وہ لڑکے (جن کا اوپر حکم آیا ہے) حد بلوغ کو پہنچیں (یعنی بالغ یا قریب بہ بلوغ ہوجاویں) تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینا چاہئے جیسا ان سے اگلے (یعنی ان سے بڑی عمر کے) لوگ اجازت لیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے اور (ایک بات یہ جاننا چاہئے کہ پردہ کے احکام میں شدت فتنہ کے خوف پر مبنی ہے جہاں فتنہ کا عادة احتمال نہ ہو مثلاً جو) بڑی بوڑھی عورتیں جن کو (کسی کے) نکاح (میں آنے) کی امید نہ ہی ہو (یعنی وہ محل رغبت نہیں رہیں یہ تفسیر ہے بڑی بوڑھی ہوے کی) ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے (جس سے چہرہ وغیرہ چھپا رہتا ہے غیر محرم کے روبرو بھی) اتار رکھیں بشرطیکہ زینت (کے مواقع) کا اظہار نہ کریں (جن کا ظاہر کرنا غیر محرم کے سامنے بالکل ناجائز ہے پس مراد اس سے چہرہ ہتھیلیاں اور بقول بعض دونوں قدم بھی، بخلاف جو ان عورت کے کہ بوجہ احتمال فتنہ اس کے چہرہ وغیرہ کا بھیپردہ ضروری ہے) اور (اگرچہ بڑی بوڑھی عورتوں کے لئے غیر محرموں کے سامنے چہرہ کھولنے کی اجاتز ہے لیکن) اس سے بھیا تیاط رکھیں تو ان کے لئے اور زیادہ بہتر ہے (کیونکہ اول تو ”ہر گندہ پرے راگندہ خورے“ مثل مشہور ہے دوسرے بالکل ہی بےپردگی کا سدباب مقصود ہے) معارف و مسائل شروع سورت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ سورة نور کے بیشتر احکام بےحیائی اور فواحش کے انسداد کے لئے آئے ہیں اور انہیں کی مناسبت سے کچھ احکام اب معاشرت اور ملاقات باہمی کے بھی بیان ہوئے ہیں۔ پھر عورتوں کے پردے کے احکام بیان کئے گئے۔ اوقات میں استیذان کا حکم۔ آداب معاشرت اور ملاقات باہمی کے آداب اس سے پہلے اسی سورت کی آیت 72، 82، 92 میں احکام استیان کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں کہ کسی سے س ملاقات کو جاؤ تو بغیر اجازت لئے اس کے گھر میں داخل نہ ہو۔ گھر زنانہ ہو یا مردانہ آنے والا مرد ہو یا عورت سب کے لئے کسی کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت کو واجب قرار دیا گیا ہے مگر یہ احکام استیذان اجانب کے لئے تھے جو باہر سے ملاقات کے لئے آئے ہوں۔ آیات مذکورہ میں ایک دوسرے استیذان کے احکام کا بیان ہے جن کا تعلق ان اقارب اور محارم سے جو عموماً ایک گھر میں رہتے اور ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں اور ان سے عورتوں کا پردہ بھی نہیں ایسے لوگوں کے لئے بھی اگرچہ گھر میں داخل ہونے کے وقت اس کا حکم ہے کہ اطلاع کر کے یا کم از کم قدموں کی آہٹ کو ذرا تیز کر کے یا کھاسن کھنکار کر گھر میں داخل ہوں اور یہ استیذان ایسے اقارب کے لئے واجب نہیں مستحب ہے جس کو ترک کرنا مکروہ تنزیہی ہے تفسیر مظہری میں ہے ثمن ارادالخول فی بیت نفسہ وفیہ محرماتہ یکوہ لہ الدخول فیہ من غیر استیذان تنزیھا لاحتمال رویت واحدة منھن عریانتہ وھواحمتال ضعیف و مقتضاہ التنزہ (مظہری) یہ حکم تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے کا تھا لیکن گھر میں داخل ہو کر پھر یہ سب ایک جگہ ایک دوسرے کے سامن رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں ان کے لئے تین خاص اوقات میں جو انسان کے خلوت میں رہنے کے اوقات ہیں ایک اور استیذان کا حکم ان آیات میں دیا گیا ہے وہ تین اوقات صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو آرام کرنے کے وقت اور عشاء کی نماز کے بعد کے اقوات ہیں۔ ان میں محارم اور اقارب کو یہاں تک کہ سمجھدار نابالغ بچوں اور مملوکہ لونڈیوں کو بھی اس استیذان کا پابند کیا گیا ہے کہ ان تین اوقات خلوت میں ان میں سے بھی کوئی کسی کی خلوت گاہ میں بغیر اجازت کے نہ جائے کیونکہ ایسے اوقات میں ہر انسان آزاد بےتکلف رہنا چاہتا ہے زائد کپڑے بھی اتار دیتا ہے اور کبھی اپنی بیوی کے ساتھ بےتکلف اختلاط میں مشغول ہوتا ہے ان اوقات میں کوئی ہوشیار بچہ یا گھر کی کوئی عورت یا اپنی الاد میں سے کوئی بغیر اجازت کے اندر آجائے تو بسا اوقات وہ ایسی حالت میں پائیگا جس کے ظاہر ہونے سے انسان شرماتا ہے اس کو سخت تکلیف پہنچے گی اور کم از کم اس کی بےتکلفی اور آرام میں خلل پڑنا تو ظاہر ہی ہے۔ اس لئے آیات مذکورہ میں ان کے لئے خصوصی استیذان کے احکام آئے ہیں کہ ان تین وقتوں میں کوئی کسی کے پاس غبیر اجازت کے نہ جائے۔ ان احکام کے بعد پھر یہ بھی فرمایا کہ لیس علیکم ولاعلیھم جناح بعدھن، یعنی ان وقتوں کے علاوہ کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک دوسرے کے پاس بلا اجازت جایا کریں کیونکہ وہ اوقات عموماً ہر شخص کے کام کاج میں مشغول ہنے اور اعضائی مستورہ کر چھپائے رہنے کے ہیں جن میں عادة آدمی بیوی کیساتھ اختلاط بھی نہیں کرتا۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں بالغ مرد و عورت کو استیذان کا حکم دینا تو ظاہر ہے مگر نابالغ بچے جو شرعاً کسی حکم کے مکلف نہیں انکو بھی اس حکم کا پابند کرنا بظاہر اصول کے خلاف ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس کے مخاطب دراصل بالغ مرد و عورت ہیں کہ وہ چھوٹے بچوں کو بھی سمجھا دیں کہ ایسے وقت میں بغیر پوچھے اندر نہ آیا کرو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ بچوں کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں تو نماز سکھاؤ اور پڑھنے کا حکم دو اور دس سال کی عمر کے بعد ان کو سختی سے نماز کا پابند کرو نہ مانیں تو مار کر نماز پڑھاؤ۔ اسی طرح اس استیذان کا اصل حکم بالغ مرد و عورت کو ہے اور مذکورہ جملے میں جو یہ الفاظ ہیں کہ ان وقتوں کے علاوہ دوسرے اوقات میں نہ تم پر جناح ہے کہ ان کو بلا اجازت آنے دو اور نہ ان پر کوئی جناح ہے کہ وہ بلا اجازت آجائیں اس میں اگرچہ لفظ جناح آیا ہے جو عموماً گناہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر کبھی مطلاقً حرج اور مضائقہ کے معنے میں بھی آتا ہے یہاں لا جناح کے معنی یہی ہیں کہ کوئی مضائقہ اور تنگی نہیں ہے اس سے بچوں کے مکلف اور گناہگار ہونے کا شبہ ختم ہوگیا ہے۔ (بیان القرآن) مسئلہ۔ آیت مذکورہ میں جو الذین ملکت ایمانکم کا لفظ آیا ہے جس کے معنے مملوک غلام اور لونڈی دونوں پر حاوی ہیں۔ ان میں مملوک غلام جو بالغ ہو وہ تو شرعاً اجنبی غیر محرم کے حکم میں ہے۔ اس کی آقا اور مالک عورت کو بھی اس سے پردہ کرنا واجب ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے اس لئے یہاں اس لفظ سے مراد لونڈیاں یا مملوک غلام جو بالغ نہ ہو وہ ہے جو ہر وقت گھر میں آنے جانے کے عادی ہیں۔ مسئلہ۔ اس میں علماء و فقہاء کا اختلاف ہے کہ یہ خاص استیذان اقارب کے لئے واجب ہے یا استحبابی حکم ہے اور یہ کہ یہ حکم اب بھی جاری ہے یا منسوخ ہوگیا۔ جمہور فقہاء کے نزدیک یہ آیت محکم غیر منسوخ ہے اور حکم وجوب کے لئے ہے مردوں کے واسطے بھی عورتوں کے واسطے بھی (قرطبی) لیکن یہ ظاہر ہے کہ اس کے وجوب کی علت اور وجہ وہ ہے جو اوپر بیان ہوچکی ہے کہ ان تینا وقات میں عام آدمی خلوت چاہتا ہے اور اس میں بسا اوقات اپنی بیوی کے ساتھ بھی مشغول ہوتا ہے بعض اوقات اعضائی مستورہ بھی کھلے ہوتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ اس کی احتیاط کرلیں کہ ان اوقات میں بھی اعضائی مستورہ کو چھپانے کی عادت ڈالیں اور بیوی سے اختلاط بھی بجز اس صورت کے نہ کریں کہ کسی کے آنے کا احتمال نہ رہے جیسے عموماً یہی عادت بن گئی ہے تو اس صورت میں ان پر یہ بھی واجب نہیں رہتا کہ اپنے اقارب اور بچوں کو استیذان کا پابند کریں اور نہ اقارب پر واجب رہتا ہے۔ البتہ اس کا مستحسن اور مستحب ہونا ہر حال میں ہے۔ مگر عام طور پر عمل اس پر زمانہ دراز سے متروک سا ہوگیا ہے۔ اسی لئے حضرت ابن عباس نے ایک روایت میں تو اس پر بڑی شدت کے الفاظ استعمال فرمائے اور ایک روایت میں عمل نہ کرنے والے لوگوں کا کچھ عذر بیان کردیا۔ پہلیر وایت ابن کثیر نے بسند ابن ابی حاتم یہ نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ تین آیتیں ایسی ہیں جن پر لوگوں نے عمل کو چھوڑ ہی دیا ہے۔ ایک یہی آیت استیذان یا یھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم جس میں اقابر اور نابالغ بچوں کو بھی استیذان کی تعلیم ہے دوسری آیت وذا حضرالقسمة الوالقربی ہے جس میں تقسیم میراث کے قوت وارثوں کو اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر مال وراثت تقسمی کرنے کے وقت کچھ ایسے رشتہ دار بھی موجود ہوجاویں جن کا ضابطہ میراث سے کوئی حصہ نہیں ہے تو ان کو بھی کچھ دے دیا کرو کہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔ تیسری آیت ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ہے جس میں بتلایا ہے کہ سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ آدمی ہے جو سب سے زیداہ متقی ہو اور آج کل لوگ معزز مکرم اس کو سمجھتے ہیں جس کے پاس پیسہ بہت ہو جس کا مکان کوٹھی بنگلہ شاندار ہو۔ بعض روایات کے الفاظ اسمیں یہ بھی ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ تین آیتوں کے معاملہ میں لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے اور پھر فرمایا کہ میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی اس کا پابند کر رکھا ہے کہ ان تین وقتوں میں بغیر اجازت میرے پاس نہ آیا کرے۔ دوسری روایت ابن ابی حاتم ہی کے حوالہ سے حضرت عکرمہ سے یہ منقول ہے کہ دو شخصوں نے حضرت ابن عباس سے اس استیذان اقارب کے متعلق سوال کیا کہ اس پر لوگ عمل نہیں کرتے تو ابن عباس نے فرمایا ان اللہ ستیریجب الستر یعنی اللہ بہت ستر رکھنے والا ہے اور ستر کی حفاظت کو پسند فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت معاشرت بہت سادہ تھی نہ لوگوں کے دروازوں پر پردے تھے نہ گھر کے اندر پردہ دار مسہریاں تھیں اس وقت کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آدمی کو نوکریا بیٹا بیٹی اچانک آجاتے اور یہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ مشغول ہوتا، اس لئے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں تین وقتوں میں استیذان کی پابندی لگا دی تھی اور اب جن کہ دروازوں پر پردے اور گھر میں پردہ دار مسریاں ہونے لگیں اس لئے لوگوں نے یوں سمجھ لیا کہ بس یہ پردہ کافی ہے اب استیذان کی ضرورت نہیں (ابن کثیر نے یہ روایت نقل کر کے فرمایا ہے ھذ اسناد صحیح الی ابن عباس) بہرحال حضرت ابن عباس کی اس دوسری روایت سے اتنی بات نکلتی ہے کہ جب اس طرح کے واقعات کا ندیشہ نہ ہو کہ آدمی بیوی کے ساتھ مشغول یا اعضائی مستورہ کھولے ہوئے ہو اور کسی کے آنے کا احتمال ہو ایسے حالات میں کچھ مساہلت ہے۔ لیکن قرآن نے پاکیزہ معاشرت کی تعلیم دی ہے کہ کوئی کسی کی آزادی میں خلل انداز نہ ہو سب آرام و راحت سے رہیں جو لوگ اس طرح کے استیذان کا گھر والوں کو پابند نہیں بناتے وہ خود تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں، اپنی ضرورت و خواہش کا کام کرنے میں تنگی برتتے ہیں۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو بیٹھ رہی ہیں گھروں میں تمہاری عورتوں میں سے جن کو توقع نہیں رہی نکاح کی ان پر گناہ نہیں کہ اتار رکھیں اپنے کپڑے یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے ان کے لئے اور اللہ سب باتیں سنتا جانتا ہے۔

عورتوں کے احکام پردہ کی تاکید اور اس میں سے ایک اور استثناء اس سے پہلے عورتوں کے حجاب اور پردہ کے احکام دو آیتوں میں مفصل آ چکے ہیں اور ان میں دو استثناء بھی ذکر کئے گئے۔ ایک استثناء، ناظر یعنی دیکھنے والے کے اعتبار سے، دوسرا استثناء منظور یعنی جس کو دیکھا جائے اس کے اعتبار سے۔ ناظر کے اعتبار سے تو محارم کو اور اپنی مملوکہ کنیزوں نابالغ بچوں کو مستثنی کیا گیا تھا اور منظور یعنی جس چیز کو نظروں سے چھپانا مقصود ہے اس کے اعتبار سے زینت ظاہرہ کو مستثنی کیا گیا جس میں اوپر کے کپڑے برقع یا بڑی چادر باتفاق مراد ہیں اور بعض کے نزدیک عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں بھی اس استثناء میں داخل ہیں۔ یہاں اگلی آیت میں ایک تیسرا استثناء عورت کے شخصی حال کے اعتبار سے یہ کیا گیا کہ جو عورت بڑی بوڑھی ایسی ہوجاوے کہ نہ اس کی طرف کسی کو رغبت ہو اور نہ وہ نکاح کے قابل ہو تو اس کے لئے پردہ کے احکام میں یہ سہولت دے دیگئی ہے کہ اجانب بھی اس کے حق میں مثل محارم کے ہوجاتے ہیں جن اعضاء کا چھپانا اپنے محرموں سے ضرروی نہیں ہے اس بوڑھی عورت کے لئے غیر مردوں غیر محرموں سے بھی ان کا چھپانا ضروری نہیں۔ اس لئے فرمایا والْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ الآیتہ، جس کی مختصر تفسیر اوپر گزر چکی ہے مگر ایسی بڑی بوڑھی عورت کے لئے بھی ایک قید تو یہ ہے کہ جو اعضاء محرم کے سامنے کھولے جائیں یہ عورت غیر محرم کے سامنے بھی کھول سکتی ہے بشرطیکہ بن سنور کر زینت کر کے نہ بیٹھے۔ دوسری بات آخر میں یہ فرمائی وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ، یعنی اگر وہ غیر محرموں کے سامنے آنے سے بالکل ہی بچیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہیں ہے اندھے پر کچھ تکلیف اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائی کے گھر سے یا اپنی بہن کے گھر سے یا اپنے چچا کے گھر سے یا اپنی پھوپھی کے گھر سے یا اپنے ماموں کے گھر سے یا اپنی خالہ کے گھر سے یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے، نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ آپس میں مل کر یا جدا ہو کر پھر جب کبھی جانے لگو گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے اپنی باتیں تاکہ تم سمجھ لو۔

خلاصہ تفسیر (اگر تم کسی اندھے لنگڑے بیمار غریب کو اپنے کسی عزیز یا ملاقاتی کے گھر لے جا کر کچھ کھلا پلا دو ، یا خود کھا پی لو تو جب یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ عزیز ملاقاتی ہمارے کھانے اور کھلانے پر راضی ہوگا اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی تو ان صورتوں میں) نہ تو اندھے آدمی کے لئے کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے آدمی کے لئے اور نہ بیمار آدمی کے لئے کچھ مضائقہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے اس بات میں (کچھ مضائقہ ہے) کہ تم (خواہ خود یا تم مع ان معذورین کے سب) اپنے گھروں سے (جن میں بی بی، اولاد کے گھر بھی آگئے) کھانا کھلاؤ یا (ان گھروں میں جن کا ذکر آگے آتا ہے کھالو، یعنی نہ تم کو خود کھانے میں گناہ ہے اور نہ ان معذورین کو کھلانے میں۔ اسی طرح تمہارے کھلا دینے سے ان معذورین کو بھی کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں اور وہ گھر یہ ہیں۔ مثلاً) اپنے باپ کے گھر سے (کھالو کھلا دو) یا اپنی ماؤں کے گھر سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (پھر اس میں بھی) کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ پھر (یہ بھی معلوم کر رکھو کہ) جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے لوگوں کو (یعنی وہاں جو مسلمان ہوں ان کو) سلام کرلیا کرو (جو کہ) دعا کے طور پر (ہے اور) جو خدا کی طرف سے مقرر ہے اور (بوجہ اس پر ثواب ملنے کے) برکت والی (اور بوجہ مخاطب کا دل خوش کرنے کے) عمدہ چیز ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے (اپنے) احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (اور عمل کرو)۔ معارف و مسائل گھروں میں داخل ہونے کے بعد کے بعض احکام اور آداب معاشرت پچھلی آیتوں میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے استیذان کرنے کا حکم آیا ہے۔ اس آیت میں وہ احکام و آداب مذکور ہیں۔ جو اجازت ملنے پر گھر میں جانے کے بعد مستحب یا واجب ہیں۔ اس آیت کا مفہوم اور اس میں مذکورہ احکام کو سمجھنے کے لئے پہلے ان حالات کو معلوم کرلینا مناسب ہے جن میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی عام تعلیمات میں حقوق العباد کی حفاظت و رعایت کے لئے جتنی تاکیدات آئی ہیں ان سے کوئی مسلمان بیخبر نہیں۔ کسی دوسرے کے مال میں بغیر اس کی اجازت کے کوئی تصرف کرنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کی صحبت کے لئے ایسے خوش نصیب لوگوں کو چن لیا تھا کہ وہ اللہ و رسول کے فرمان پر ہر وقت گوش برآواز رہتے اور ہر حکم کی تعمیل میں اپنی پوری توانائی صرف کرتے تھے۔ قرآنی تعلیمات پر عمل اور اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی صحبت کیمیا اثر سے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی جماعت تیار کردی تھی کہ فرشتے بھی ان پر فخر کرتے ہیں۔ دوسروں کے مال میں ان کی مرضی و اجازت کے بغیر ادنی قسم کا تصرف گوارا نہ ہونا کسی کو ادنی سی تکلیف پہنچانے سے پرہیز کرنا اور اس میں تقوی کے اعلی معیار پر قائم ہونا سبھی صحابہ کا وصف تھا۔ اسی سلسلے کے چند واقعات عہد رسالت میں پیش آئے جن کی وجہ سے آیت مذکورہ کے احکام نازل ہوئے۔ حضرات مفسرین نے یہ سب واقعات لکھے ہیں کسی نے ان میں سے کسی کو شان نزول قرار دیا کسی نے کسی دوسرے واقعہ کو مگر صحیح بات یہ ہے کہ ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں، یہ مجموعہ واقعات ہی اس آیت کا شان نزول ہے۔ واقعات یہ ہیں۔ (1) امام بغوی نے حضرت سعید بن جبیر اور ضحاک ائمہ تفسیر سے نقل کیا ہے کہ دنیا کی عرف عام اور اکثر لوگوں کی طبائع کا حال یہ ہے کہ لنگڑے لولے اندھے اور بیمار آدمی کے ساتھ بیٹھ کر کھانے سے گھن کرتے ہیں اور ناپسند کرتے ہیں۔ حضرات صحابہ میں سے جو ایسے معذور تھے ان کو یہ خیال ہوا کہ ہم کسی کے ساتھ کھانے میں شریک ہوں گے تو شاید اس کو تکلیف ہو اس لئے یہ لوگ تندرست آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شرکت سے گریز کرنے لگے۔ نیز نابینا آدمی کو یہ بھی فکر ہوئی کہ جب چند آدمی کھانے میں شریک ہوں تو تقاضائے عدل و مروت یہ ہے کہ کوئی شریک دوسرے سے زیادہ نہ کھائے سب کو برابر حصہ ملے اور میں نابینا ہونے کی وجہ سے اس کا اندازہ نہیں کرسکتا ممکن ہے کہ میں دو رسوں سے زیادہ کھا لوں اس میں دوسروں کی حق تلفی ہوگی۔ لنگڑے آدمی نے خیال کیا کہ عام تندرست لوگوں کی طرح بیٹھ نہیں سکتا دو آدمی کی جگہ لیتا ہوں، کھانے پر دوسروں کے ساتھ بیٹھوں گا تو ممکن ہے ان کو تنگی اور تکلیف پیش آئے، ان کی اس غایت احتیاط میں ظاہر ہے کہ خود ان کو تنگی اور تکلیف پیش آتی تھی اس لئے یہ آیت نازل ہوئی جس میں ان کو دوسروں کے ساتھ مل کر کھانے کی اجازت اور ایسی دقیق احتیاط کو چھوڑنے کی تلقین فرمائی جس سے تنگی میں پڑجائیں اور بغوی نے بروایت ابن جریر حضرت ابن عباس سے ایک دوسرا واقعہ نقل کیا ہے جو واقعہ مذکورہ کا دوسرا رخ ہے وہ یہ کہ قرآن کریم کی جب یہ آیت نازل ہوئی لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ یعنی نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر۔ تو لوگوں کو اندھے، لنگڑے بیمار لوگوں کے ساتھ مل کر کھانے میں یہ تردد پیش آنے لگا کہ بیمار تو عادة کم کھاتا ہے، نابینا کو کھانے کی چیزوں میں یہ امتیاز نہیں ہوتا کہ کون سی چیز عمدہ ہے لنگڑے کو اپنی نشست ہموار نہ ہونے کے سبب کھانے میں تکلف ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ یہ لوگ کم کھائیں ہمارے پاس زیادہ آجائے تو ان کی حق تلفی ہوئی کیونکہ مشترک کھانے میں سب کا حصہ مساوی ہونا چاہئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس تعمق اور تکلف میں پڑنے سے ان کو آزاد کردیا گیا کہ سب مل کر کھاؤ معمولی کمی بیشی کی فکر نہ کرو اور سعید بن مسیب نے فرمایا کہ مسلمان جب کسی جہاد و غزوہ کے لئے جاتے تو اپنے گھروں کی کنجیاں ان معذوروں کے سپرد کردیتے تھے اور یہ کہہ دیتے تھے کہ گھر میں جو کچھ ہے وہ تم لوگ کھا پی سکتے ہو۔ مگر یہ لوگ اس احتیاط کی بنا پر ان کے گھروں میں سے کچھ نہ کھاتے کہ شاید ان کی منشاء کے خلاف ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مستند بزار میں بسند صحیح حضرت عائشہ سے بھی یہی مضمون نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں تشریف لے جاتے تو عام صحابی کی دلی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سب آپ کی رفاقت میں شریک جہاد ہوں اور اپنے مکانوں کی کنجیاں ان غریب معذورین کے سپرد کردیتے تھے اور ان کو اجازت دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے آپ ہمارے گھروں میں جو کچھ ہے کھا پی سکتے ہو مگر یہ لوگ غایت تقوی سے اس اندیشہ پر کہ شاید ان کی یہ اجازت بطیب خاطر نہ ہو اس سے پرہیز کرتے تھے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آیت مذکورہ میں جو لفظ صَدِيْقِكُمْ کا آیا ہے یعنی اپنے دوست کے گھر سے بھی کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ حارث بن عمرو کے واقعہ میں نازل ہوا کہ وہ کسی جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے گئے اور اپنے دوست مالک بن زید کو اپنے گھر اور گھر والوں کی نگرانی سپرد کردی۔ جب حارث واپس آئے تو دیکھا کہ مالک بن زید بہت ضعیف کمزور ہو رہے ہیں وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے گھر سے کچھ کھانا آپ کے پیچھے مناسب نہیں سمجھا (یہ سب روایات تفسیر مظہری میں ہیں) اور صاف بات یہی ہے کہ اس قسم کے تمام واقعات اس آیت کے نزول کا سبب ہوئے ہیں۔ مسئلہ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ جن گھروں میں سے بغیر اجازت خاص کے کھانے پینے کی اجازت اس آیت میں دی گئی ہے اس کی بناء اس پر ہے کہ عرب کی عام عادت کے مطابق ایسے قریبی رشتہ داروں میں کوئی تکلف بالکل نہ تھا ایک دوسرے کے گھر سے کچھ کھاتے پیتے تو گھر والے کو کسی قسم کی تکلیف یا ناگواری نہ ہوتی تھی بلکہ وہ اس سے خوش ہوتا تھا۔ اسی طرح اس سے بھی کہ وہ اپنے ساتھ کسی معذور بیماری مسکین کو بھی کھلا دے۔ ان سب چیزوں کی گو صراحۃً اجازت نہ دی ہو مگر عادةً اجازت تھی اس علت جواز سے ثابت ہوا کہ جس زمانے یا جس مقام میں ایسا رواج نہ ہو اور مالک کی اجازت مشکوک ہو وہاں بغیر صریح اجازت مالک کے کھانا پینا حرام ہے۔ جیسا کہ آج کل عام طور پر نہ یہ عادت رہی نہ کوئی اس کو گوارہ کرتا ہے کہ کوئی عزیز قریب ان کے گھر میں جو چاہے کھائے پئے یا دوسروں کو کھلائے پلائے اس لئے آج کل عام طور پر اس اجازت پر عمل کرنا جائز نہیں بجز اس کے کہ کسی دوست عزیز کے متعلق کسی کو یقینی طور پر یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اس کے کھانے پینے یا دو رسوں کو کھلانے پلانے سے کوئی تکلیف یا ناگواری محسوس نہ کرے گا بلکہ خوش ہوگا تو خاص اس کے گھر سے کھانے پینے میں اس آیت کے مقتضی پر عمل جائز ہے۔ مسئلہ مذکورہ بیان سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا بلکہ حکم اول سے آج تک جاری ہے البتہ شرط اس کی مالک کی اجازت کا یقین ہے جب یہ نہ ہو تو وہ مقتضائے آیت میں داخل نہیں ہیں۔ (مظہری) مسئلہ اسی طرح اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ حکم صرف ان مخصوص رشتہ داروں ہی میں منحصر نہیں بلکہ دوسرے شخص کے بارے میں اگر یہ یقین ہو کہ اس کی طرف سے ہمارے کھانے پینے اور کھلانے پلانے کی اجازت ہے وہ اس سے خوش ہوگا اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی تو اس کا بھی یہی حکم ہے (مظہری) احکام مذکورہ کا تعلق ان کاموں سے ہے جو کسی کے گھر میں باجازت داخل ہونے کے بعد جائز یا مستحب ہیں ان کاموں میں بڑا مسئلہ کھانے پینے کا تھا اس کو پہلے ذکر فرمایا۔ دوسرا مسئلہ گھر میں داخل ہونے کے آداب کا یہ ہے کہ جب گھر میں باجازت داخل ہو تو گھر میں جو مسلمان ہوں ان کو سلام کرو۔ آیت عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ سے یہی مراد ہے کیونکہ مسلمان سب ایک جماعت متحدہ ہیں۔ احادیث کثیرہ صحیحہ میں مسلمان کے باہم ایک دوسرے کو سلام کرنے کی بڑی تاکید اور فضیلت آئی ہے۔